Translater

30 نومبر 2019

اوم پرکاش چوٹالہ کی رہائی پر فیصلہ محفوظ

دہلی ہائی کورٹ نے جونیر بیسک ٹیچر (جے بی ٹی)بھرتی گھوٹالے میں دس سال کی سزا کاٹ رہے ہریانہ کے سابق وزیر اعلیٰ اوم پرکاش چوٹالہ کی رہائی پر سماعت پوری کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ رکھ لیا ہے جسٹس منموہن اور جسٹس سنگیتا ڈھنگرا سیگل کی بنچ نے سبھی دلیلیں سننے کے بعد فیصلے کو محفوظ رکھا ہے ہائی کورٹ بنچ ہفتے میں کسی بھی دن فیصلہ سنا سکتی ہے 2018میں مرکزی حکومت نے ایک نیا قانون بنایا تھا کہ ساٹھ سال یا اس سے زیادہ عمر کے ایسے قیدیوں جنہوںنے اپنی آدھی سزا پوری کر لی ہے انہیں خصوصی اسکیم کے تحت رہا کیا جائے گا سابق وزیر اعلیٰ اوم پرکاش چوٹالہ نے دہلی ہائی کورٹ میں اسی بنیاد کو لے کر عرضی دائر کی تھی ان کی سزا پوری ہو چکی ہے ۔اور ان کی عمر 84سال ہے اس لئے انہوںنے عدالت سے سزا معافی کی درخواست کی تھی بتا دیں کہ ہریانہ میں 3206ٹیچروں کی اسامیوں کا اشتہار نکلا تھا اپریل 2000میں اتنی اسامیاں شیکھر سبل کو پرائمری ایجوکیشن ڈائر کٹر مقرر کیا گیا تھا لیکن رجنی شیکھر کو عہدے سے ہٹا کر سنجیو کمار کو ڈائرکٹر بنا دیا گیا ۔2000میں بھرتی کی کارروائی پوری ہوئی اور 18ضلعوں میں جے بی ڈی ٹیچر مقرر ہوئے جون 2003میں سنجیو کمار اس معاملے میں دھاندھلی ہونے کا حوالہ دے کر سپریم کورٹ چلے گئے اس نے سی بی آئی جانچ کا حکم دیا ۔مئی 2004میں یہ تحقیقات شروع ہوئی فروری 2005میں سنجیو کمار سے پوچھ تاچھ ہوئی جون 2008میں سی بی آئی کی اسپیشل کورٹ میں چارج شیٹ داخل کی گئی جولائی 2011میں چارج شیٹ پر نوٹس دئے گئے ایک دسمبر 2012میں سماعت پوری ہوئی 16جنوری 2013کو اوم پرکاش چوٹالہ اور ان کے لڑکے اجے چوٹالہ سمیت 55افراد قصوروار قرار دئے گے۔22جنوری 2017کو دس دس سال کی سزا سنائی گئی تب سے ہی چوٹالہ تہاڑ جیل میں سزا کاٹ رہے ہیں جسٹس منموہن اور جسٹس سنگیتا سیگل کی بنچ نے منگل کو معاملے کی سماعت کی جس میں چوٹالہ کے وکیلوں نے دلیل رکھی کہ ان کے موکل کو بزرگی کی اور معزوریت کو خیال رکھا جاے وہیں دہلی ،کی طرف سے دلیل دی گئی کہ یہ کرپشن کا معاملہ ہے اس لئے انہیں کوئی رعایت نہیں ملنی چاہیے جج نے دونوں فریقوں کی دلیلیں سننے کے بعد کورٹ نے فیصلہ محفوظ رکھا ہے اور امکان ہے کہ اگلے ہفتے فیصلہ سنا دے گی ۔اس کے بعد صاف ہو جائے گا کہ چوٹالہ جیل سے رہا ہوں گے یا نہیں اور باقی سزا کاٹنی پڑئے گی واضح ہو کہ جے بی ٹی ٹیچروں بھرتی گھوٹالہ اس وقت کے پرائمری ٹیچر ڈائرکٹر سنجیو کما رنے اجاگر کیا تھا انہوںنے سپریم کورٹ میں اس کے خلاف بھی عرضی دائر کی تھی حالانکہ بعد میں معاملے میں سنجیو کمار کو بھی شامل پایا گیا سی بی آئی کے مطابق سنجیو جی اس گھوٹالے میں ساجھیدار تھے ۔

(انل نریندر)

باجوا کو سپریم کورٹ کے نوٹس سے پاکستان میں ہنگامہ

پاکستان کے سپریم کورٹ نے موجودہ فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوا کی معیاد کی توسیع سے جڑے ایک اہم معاملے کی منگلوار کو سماعت کی باجوا کی سروس توسیع کے نوٹیفیکشن پر روک لگا دی اس کا فیصلہ آنے سے پورے پاکستان میں ہنگامہ مچ گیا ،اور امرجنسی کے آثار بن گئے ہیں ۔اس مسئلے میں پاکستان کی بڑی عدالت کا فیصلہ جنرل باجوا کو مزید تین سال اپنے عہدے پر بنے رہنے سے روک سکتا ہے ۔واضح ہو کہ وزیر اعظم عمران خان نے 19اگست کو ایک سرکاری نوٹیفیکشن کے ذریعہ جنرل باجوا کی ملازمت معیاد میں تین سال کی توسیع کر دی تھی ۔اس کے پیچھے انہوںنے علاقائی حفاظت اور ماحول کا حوالہ دیا تھا ،جنرل باجوا دو نومبر کو ریٹائر ہونے والے تھے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسا کی سربراہی والی تین ججوں کی ایک بنچ نے کہا کہ اب بھی وقت ہے سرکار کو اپنے قدم واپس لینے چاہیں ۔اور یہ سوچنا چاہیے کہ وہ کیا کر رہی ہے ؟وہ ایک اعلیٰ افسر کے ساتھ کچھ اس طرح کی چیز نہیں کر سکتی ۔بہرحال عدالت نے معاملے کی سماعت دو دن کے لئے ملتوی کر دی چیف جسٹس آصف سعید کھوسا نے پاک فوج کے چیف کو ایک شٹل کوک کی شکل میں تبدیل کر دیا ہے ۔اس کو لے کر عدالت نے پاک اٹارنی جنرل کو پھٹکار لگائی ساتھ ہی سرکار نے یہ بھی کہا کہ وہ جو کچھ کر رہی ہے اسے پھر سے غور کرے سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر وزیر قانون نسیم کو عمران خان کی ناراضگی جھیلنی پڑی ہے ۔کیبنٹ کی میٹنگ میں عمران خان جم کر برسے اس کے بعد وزیر قانون نے استعفی دے دیا عمران اس بات سے ناراض تھے معاملے میں قانون وزارت کیا کر رہی تھی حالانکہ نسیم بدھ کے روز کورٹ میں پیش ہوئے ۔جنرل باجوا کو ملازمت میں توسیع کے معاملے میں سرکار کا موقوف رکھا وہیں عمران خان کیبنٹ میں شامل 25ممبروں میں صرف گیارہ نے فوج کے چیف باجوا کے معیاد کی توسیع کے حق میں ووٹ دیا تھا ۔جسے اکثریت کا فیصلہ نہیں مانا جا سکتا ۔خیال رہے کہ جنرل باجوا 29نومبر 2016کو پاکستانی فوج کے سولہویں سربراہ مقرر ہوئے تھے سپریم کورٹ کا ان کے معاملے میں یوں فیصلہ دینا دیش میں خاص کر پاکستانی فوج میں تلخ رد عمل ہو سکتا ہے ۔آنے والے دنوں میں تصویر اور صاف ہو یہ بہت بڑا قدم ہے ایسا پاکستان میں کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے فی الحال پاک سپریم کورٹ نے جنرل باجوا کو چھ مہینے کی سروس دینے پر رضا مندی حاصل کر لی ہے ۔

(انل نریندر)

بھاجپا نے برسوں کی کمائی کو ایک منٹ میں گنوا دیا

مہاراشٹر میں ملی مات کے بعد بی جے پی میں واویلہ کھڑا ہو گیا ہے پارٹی کے کئی سینر لیڈر اجیت پوار سے ہاتھ ملانے کے فیصلے پر مخالفت میں کھڑے ہو گئے بھاجپا نیتا اور مہاراشٹر کے سابق وزیر ایکناتھ کھڈسے نے اجیت پوا ر کے ساتھ ہاتھ ملانے کو لے کر بھاجپائی ہائی کمان و سابق وزیر اعلیٰ دیوندر فڑنویس پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ جو ہم نے زندگی بھر کمایا تھا ،شفافیت ،کرپشن کے خلاف لڑتے ہیں لیکن اجیت دادا کے ساتھ ہاتھ ملا کر ہماری پارٹی نے سب کچھ گنوا دیا انہوںنے کہا کہ میری زندگی کے 42سال پارٹی کے لئے کام میں گزرے ہیں ۔پارٹی بڑی ہو اس کے لئے مشکل وقت میں بھی کام کیا ،اور جب اچھا وقت آیا تو مجھے ٹکٹ نہیں دیا گیا ،اس کا دکھ ہوا اور رہے گا بھی ،میں رہوں نہ رہوں میری سرکار آنی چاہیے تھی ،کھڈسے نے اسمبلی چناﺅ کے دوران بھاجپا کے امید کے خراب کارکردگی کو لے کر فڑنویس کو بھی آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ چناﺅ مہم کے دوران ہمارے وزیر اعلیٰ کہتے تھے کہ اتحاد کو 220سے زیادہ سیٹیں ملیں گی ۔لیکن ملی 160۔جنتا نے چناﺅ کے دوران اور چناﺅ کے بعد جو کچھ دیکھا ہے اس کا مطلب جنتا ضرور نکالے گی کھڈسے نے ہائی کمان اور دیوند فڑنویس پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر پارٹی کے سبھی نیتاﺅں کو ساتھ لے کر چناﺅ لڑا ہوتا تو 250سے زیادہ سیٹیں آتیں ۔آج یہ دن دیکھنا پڑتا ہے غور طلب ہے کہ چناﺅ میں پارٹی نے کھڈسے کا ٹکٹ کاٹ کر ان کی بیٹی روہنی کھڈسے کو ٹکٹ دیا تھا وہ بھی اپنی سیٹ نہیں بچا پائیں ۔اگر مجھے یا وینود تاوڑے اور چندر کانت بابون کلے کو لے کر بھاجپا چناﺅ لڑتی تو 25سیٹیں زیادہ آتیں ۔حقیقت میں ایسے فیصلے کسی شخص کی غلطی کا نتیجہ ہوتے ہیں کوئی تنظیم غلطی میں ہوتی ہے تو اس کا نتیجہ نیتاﺅں کو بھگتنا پڑتا ہے ۔کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ریاست کے سینر لیڈروں کا ٹکٹ چناﺅ میں کیوں کاٹ دیا گیا؟اب یہ بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ اکثریت ملنے کے بعد بھی اس کی سرکار نہیں بن پائی تو فڑنویس کے ذریعہ اجیت پوار کو ساتھ ملا کر سرکار بنانے کی کوششوں کو غلط فیصلہ بتایا وہیں جس سینچائی گھوٹالے میں اجیت پوار کا نام ہے اس سے جڑے کاغذات تو ہم نے بیل گاڑیوں میں بھر کر ردی میں بیچ دیے ۔کیونکہ ان دنوں ردی کا بھاﺅ زیادہ تھا ۔مہاراشٹر میں بی جے پی سرکار گرتے ہی پارٹی کے اندر بلیم گیم شروع ہو گیا ہے ۔کھڈسے نے جو الزام آج پارٹی ہائی کمان اور سابق وزیر اعلیٰ پر لگائے ہیں زیادہ تر پارٹی کے سینر لیڈر اور ورکر پوچھ رہے ہیں کہ دیوندر فڑنویس نے اجیت پوار کی کیوں حمایت لی ؟یہ صحیح تھا یا غلط ؟انہوںنے جواب میں کہا کہ میں صحیح وقت پر جواب دوں گا ۔لیکن بی جے پی صدر امت شاہ نے کہا کہ اسمبلی پارٹی کا نیتا ہونے کی وجہ سے بی جے پی نے اجیت پوار پر بھروسہ کیا تھا ۔امت شاہ نے ایک نیوز چینل سے کہا کہ مینڈیٹ کو تلانجلی دکھا کر کٹر مخالف نظریات والی پارٹیاں صرف اقتدار حاصل کرنے کے لئے اکھٹی ہوئی ہیں ۔وزیر اعلیٰ کے عہدے کا لالچ دے کر حمایت لےنا خرید و فروخت نہیں ہے کیا؟انہوں نے ایک سوال کے جواب فی الحال ٹال دیا ۔

(انل نریندر)

29 نومبر 2019

بالا صاحب ٹھاکرے کا سپنا ساکار ہوا

شیو سینا چیف ادھو ٹھاکرے نے جمعرات کی شام مہاراشٹر کے 18ویں وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لے لیا ہے ۔اور ان کی کیبنیٹ کی توثیع 3دسمبر کو ہونے کا امکان ہے ۔وہیں ادھو ٹھاکرے نے پی ایم نریندر مودی کو حلف برداری تقریب میں شامل ہونے دعوت دی ہے ۔پی ایم نے خود ادھو ٹھاکرے کو فون پر مبارکباد دی ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ ادھو ٹھاکرے پانچ سال کے مہاراشٹر کی کمان سنبھالیں گے اگر ایسا ہوا تو اب تک پردے کے پیچھے سے وقتا فوقتا ریاست کے اقتدار میں تعاون دے رہے ٹھاکرے خاندان سے وزیر اعلیٰ بننے والے ادھو پہلے شخص ہوں گے اس سے پہلے ٹھاکرے پریوار ریمورٹ کنٹرول والی سیاست کرتا رہا ہے ۔ادھو چناﺅ کے بعد سے ہی شیو سینا کے لئے وزیر اعلیٰ کا عہدہ لینے کی ضد پر اڑے تھے ان کا کہنا تھا کہ انہوںنے اپنے والد بالا صاحب ٹھاکرے کو شیو سینا کی جانب سے سی ایم وزیر اعلیٰ بننے کا وچن دیا تھا چناﺅ میں انہوںنے بیٹے آدتیہ ٹھاکرے کو پارٹی کا سی ایم امیدوار بتایا تھا تب کسی کو پتہ نہیں تھا کہ سیاست کے اونٹ کس کروٹ لے اور ادھو کو ہی سی ایم کی کرسی پر بٹھا دے گا ذرائع کے مطابق ادھو کے ساتھ دو نائب وزیر اعلیٰ حلف لے سکتے ہیں ؟اگر ایسا ہوا تو این سی پی کی طرف جینت پارٹیل ہو سکتے ہیں ۔میٹنگ میں مہاوکاس اگاڑی کے اعلان کے بعد این سی پی ممبر اسمبلی کے نیتا پارٹیل نے کہا کہ این سی پی چیف شرد پوار کے حکم کے مطابق وہ لیڈر شپ کے لئے ادھو ٹھاکرے کا نام اعلان کر رہے ہیں اس کا سبھی نے عام رائے خیر مقدم کیا پارٹیل نے بتایا کہ مہاراشٹر میں سب سے کم وقت سی ایم کا ریکارڈ دیوندر فڑنیوس کے نام ہے ۔مسلسل سوال اُٹھ رہا ہے کہ سرکار آخر کب تک ٹکے گی ؟جواب یہ ہے کہ ہم نے کم از کم مشترکہ پروگرام طے کیا ہے ۔اس پر چلتے وقت اتحاد پانچ سال ہی نہیں بلکہ پندرہ سال چلے گا وہیں سابق وزیر اعلیٰ دیوندر فڑنویس نے استعفی سے پہلے کہا تھا کہ تین پہیوں کی سرکار زیادہ دن نہیں ٹکے گی ۔ان کی آئیڈیا لوجی اور سمت الگ الگ ہے شیو سینا اقتدار کے لئے لاچار ہو گئی ہے ۔اور سونیا گاندھی کے نام کا حلف لے لیا ،جو لوگ متو شری سے باہر نہیں نکلتے تھے وہ دوسروں کی سیڑھیاں چڑھنے لگے ہیں اُدھر ادھو ٹھاکرے کے بیٹے آدتیہ ٹھاکرے بدھ کے روز دہلی آکر کانگریس صدر سونیا گاندھی و سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ سے ملے ،اور انہیں والد ادھو ٹھاکرے کی حلف برداری تقریب میں شامل ہونے کے لئے مدعو کیا ،سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی ،دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال اور ڈی ایم کے نیتا اسٹالن کو دعوت دی گئی ،لیکن ممتا بنرجی اور اروند کجریوال نے تقریب سے دوری بنائی شیو سینا نیتا ایکناتھ شندے نے ممبئی میں کہا کہ ہم نے حلف برداری تقریب میں امید ہے کہ کانگریس کے کچھ دیگر لیڈر شرکت کریں گے ۔اور حلف برداری تقریب میں کانگریس نیتا ملکہ ارجن کھڑگے ،احمد پٹیل ،اور مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ کملناتھ اور کانگریسی نیتا ابھے شیک منو سنگھوی شامل ہوتے دکھائی دیے ۔حالانکہ شیو سینا کے نیتا ادھو ٹھاکرے نے کانگریس حکمراں وزیر اعلیٰ کو بھی مدعو کیا تھا ۔بہر حال ادھو ٹھاکرے کی حلف برداری کے ساتھ ہی ان کے والد بالا صاحب ٹھاکرے کا سپا ساکار ہو گیا ۔

(انل نریندر)

مودی میجک آہستہ آہستہ ڈھلتا جا رہا ہے

2014میں مودی میجک نے پورے دیش میں دھوم مچائی تھی اب وہ آہستہ آہستہ ڈھلتا دکھائی پڑنے لگا ہے ،مودی شاہ کی جوڑی کو چانکیہ جوڑی کہا جاتا تھا جسے ہرانا اگر نا ممکن نہیں تھا تو انتہائی مشکل ضرور کہا جاتا تھا ،ایک کے بعد ایک ریاست بھاجپا کی جھولی سے راجیہ جاتا رہابھاجپا کے ہاتھ سے مہاراشٹراچانک نکلنا غیر معمولی بات نہیں ہے مہاراشٹر دیش کی اقتصادی ریاست ہے اور دیش کے بڑے بڑے صنعتکار یہیں سے آتے ہیں ۔فنڈنگ کا یہ سب سے بڑا صوبہ ہے ۔اور یہ بھاجپا کے ہاتھ سے نکل گیا یہ پارٹی ،مودی شاہ کو بہت بڑا جھٹکا ہے ۔ایک اور ریاست بھاجپا کے ہاتھ سے نکل گئی ہے ۔حالت یہ ہے کہ پچھلے سال کے مقابلے دیش کے کئی راجیہ بھاجپا کے ہاتھوں سے جا چکے ہیں جیسے راجستھان،مدھیہ پردیش،پنجاب،چھتیس گڑھ میں سرکار گنوانے کے بعد اب ایک اور بڑے صوبے مہاراشٹر سے بھی بگھو ا رنگ اتر گیا ہے ۔بھاجپا کا کانگریس مکت بھارت ابھیان ٹائیں ٹائیں فش ہوتا نظر آرہا ہے ۔اگر ایسے ہی چلتا رہا تو لوگ کہنے لگیں گے بھاجپا بھارت مارچ 2018کی بات کریں تو اس دوران بی جے پی دیش کی 21ریاستوں میں حکومت چلا رہی تھی دیش بھر میں ہی ایک طرح سے مودی لہر تھی پھر آیا 2019اوربی جے پی نے لوک سبھا چناﺅ میں 2014سے بھی بڑی کامیابی حاصل کی لیکن اس سے پہلے کئی ریاستوں میں وہ اقتدار گنوا چکی تھی ،اور پھر اس کے بعد یہ سلسلہ جاری رہا راجستھان چھتیس گڑھ اور مدھیہ پردیش جیسی ریاستوں میں دسمبر 2018اقتدار گنوانے کے بعد اب مہاراشٹر بھی اس کے ہاتھ سے پھسل گیا ۔جبکہ ہریانہ میں بھی وہ اپنے دم خم پر اقتدار میں نہیں آسکی ،اسے بی جے پی کی بی ساکھی کا سہارا لینا پڑا پچھلے سال جموں وکشمیر سے لے کر آندھرا پردیش اور اروناچل تک بی جے پی دیش کے سیاسی نقشے سے تیزی سے سمٹی ہے موجودہ حالت کی بات کریں تو اترپردیش واحد بڑی ریاست جہاں وہ اپنے دم پر حکومت کر رہی ہے ۔اس معاملے میں بھاجپا کا تھنک ٹینک خاموش ہے ۔لیکن اس کے اہم چینلوں پر اس کے ترجمان کا جواب نہیں مل رہا ہے ۔چونکہ یہ چینل اس پر خاموش ہیں مہاراشٹر نتائج آنے والی ریاستوں کے چناﺅ پر بھی اثر انداز ہوں گے جھارکھنڈ میں جلد چناﺅ ہونے ہیں امکان تو اس بات کا ہے کہ یہاں بھی بی جے پی اپنے دم پر اقتدار میں نہیں آسکے گی اس کے بعد دہلی اسمبلی چناﺅ آجائے گا دہلی میں تو بھاجپا بری طرح بکھری ہوئی ہے ۔اس لئے اروند کجریوال اور ان کی عام آدمی پارٹی کو ہرانانا ممکن نہیں تومشکل ضرور ہے مہاراشٹر کا چناﺅ نتیجہ ہندوستانی سیاست میں گیم چینجر بن سکتا ہے ۔

(انل نریندر)

28 نومبر 2019

ہانگ کانگ کے طلباءبیجنگ کے سامنے ڈٹے

چھ مہینے سے ہانگ کانگ میں جاری شورش رکنے کا نام نہیں لے رہی ہے ،اب ایک یونیورسٹی میدان جنگ بن گئی ہے ،یونیورسٹی میں جمع جمہوریت حمایتی طلباءمظاہرین نے پولس کو کیمپس میں آنے سے روکنے کے لئے یونیورسٹی کے مین گیٹ پر آگ لگا دی اس کے بعد پولس نے مشتعل طلباءکو روکنے کے لئے مجبوراََ فائرنگ کی حالانکہ پولس کا کہنا ہے کہ اس نے اس کارروائی کے لئے پہلے ہی باربار احتجاجی طلباءکو خبرادار کیا تھا لیکن طلباءمارنے مرنے کو آمادہ ہیں ،اور ہانگ کانگ شہر انتطامیہ اور پولس جمہوریت حمایتوں کے احتجاجی گروپوں کو خاموش کرنے میں ناکام ہو رہی ہے مخالفین کی ابتدائی مانگ کو حکومت نے پانچ مہینے پہلے ہی مان لیا تھا اور اس متنازعہ بل کو واپس لے لیا تھا جس کی وجہ سے مظاہرے ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے ہیں احتجاج کا یہ جذبہ جہاں ہمت اور دلچسپ ہے وہیں یہ ٹریجڈی بھی ثابت ہو سکتی ہے کہ بیجنگ مظاہرین اہم جمہوریت کے تحت چناﺅ کرانے کے لئے گھٹنے ٹیکنے کو تیار نہیں ہے چین نے خبرا دار کیا ہے کہ وہ سرکار کے خلاف ناراضگی بد امنی کو برداشت نہیں کرئے گی بیجنگ سیدھے شورش کو ختم کرنے کے لئے ہانگ کانگ کے واقعات میں مداخلت کر سکتا ہے ۔چین کے صدر شی جنگ پنگ نے اس بہران پر تلخ رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے دیش اور دو نظاموں کو خطرہ ہے ۔1997میں برطانیہ کے ذریعہ ہانگ کانگ کو چین کے حوالے کئے جانے کے بعد یہاں انتظامیہ اس کے نظام کے تحت چل رہا ہے ایسے میں خونی نتائج برآمد ہونے کے اندیشات بڑھتے جا رہے ہیں چین نے جب سے قانون نافذ کرنے کی کوشش کی تب سے ہی ہانگ کانگ میں ہنگامہ مچا ہوا ہے اور تب سے لاکھوں لوگ سڑکوں پر اترے تھے اس کو دیکھتے ہوئے چین سرکار بھی نرم پڑ گئی تھی لیکن اپنی ناکامی قبول کرنے کے بجائے لوگوں کو مانگ اُلٹا پڑ گئی مظاہرین کی مانگ ہے کہ پولس کے برتاﺅ کی آزادانہ جانچ ہو اور ہانگ کانگ میں جمہوری چناﺅ ہو یہ دونوں مانگیں ایسی ہیں جن کا پورا ہونا شاید ہی چین کے لے ممکن نہیں ہو حالیہ دنوں میں مظاہرین اور تحریک کی آگ یونیورسٹی میں بھی پھیل گئی ہے ۔پولس کی کارروائی میں زخمی ایک طالبعلم کی موت کے بعد تشدد بھڑک گیا ہے ۔یونیورسٹی میں جاری احتجاج سے صاف ہے کہ حکام اور بیجنگ میں شہر کے شہریوں کا اعتامد کھو دیا ہے ۔مظاہرین نے اپنی سنگھرش کو سال 1989میں ہوئے جمہوریت حمایتی تحریک کے برابر مان رہے ہیں جس کی وجہ سے تھیانن چوک میں قتل عام ہوا تھا اس کا خوف ابھی بھی مظاہرین پر کوئی نہیں ہے اور وہ اپنا آندولن جاری رکھے ہوئے ہیں ۔حالانکہ ہانگ کانگ کے مظاہرین کو سمجھوتے کی کوشش کرتے رہنی چاہیے اور اس کی ضرورت دن بدن بڑھتی جا رہی ہے ۔

(انل نریندر)

مہاراشٹرپر سپریم کورٹ کا دور رس تاریخی فیصلہ

منگل کے روز یوم آئین تھا ،عزت مآب سپریم کورٹ نے اس تاریخی دن ایک تاریخی فیصلہ دیا ،وہ تھا مہاراشٹر میں دیوندر فڑنویس نے جس طریقہ سے سرکار بنانے کی کوشش کی اور جس ڈھنگ سے ریاستی گورنر نے انہیں طاقت آزمائی کے لئے لمبا وقت دیا اسے سپریم کورٹ نے پلٹ کر ہندوستانی آئین کی حفاظت ہی کی ہے ۔سپریم کورٹ نے جب ایوان میں فلور ٹیسٹ کا حکم دیا ،شاید اس کے بہت پہلے ہی مہاراشٹرکے وزیر اعلیٰ دیوندر فڑنویس کو یہ سمجھ میں آگیا تھا کہ ان کے لے نئی سرکار کے اپنے افسانے کو کسی انجان تک پہچانا اب ممکن نہیں ہے ۔اس لئے انہوںنے استعفی دینے میں ہی بھلائی سمجھی حلف لینے کے محض 28گھنٹے بعد ہی انہوںنے پریس کانفرنس میں اپنے استعفی کا اعلان کر ہی رہے تھے کہ ان کے نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار اس سے پہلے ہی استعفی دے کر ایک مرتبہ پھر پالا بدل چکے تھے ۔مہاراشٹر میں سرکار بنانے کو لے کر مہینے بھر سے جس طرح کی جوڑ توڑ اور اتھل پتھل والی سرگرمی جاری تھی ان پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد شاید ہی اب روک لگے اب نئے اتحاد کے لئے سرکار بنانے کا راستہ صاف ہو گیا ہے ۔سپریم کورٹ کی بنچ نے سارے مخالفتوں کو در کنار کر 27نومبر کو فلور ٹیسٹ کا حکم دیا تھا اس نے صاف کہا کہ ممبران اسمبلی کی حلف کے بعد فورا فلور ٹیسٹ ہونا چاہیے اس کے ساتھ ہی عدالت نے کہا کہ فی الحال یہ انترم حکم ہے ،اس کا مطلب یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں بھی سپریم کورٹ میں اس مسئلے پر سماعت ہو سکتی ہے ۔کورٹ نے اعتماد کے تجویز پر کہی یہ باتیں :اسپیکر کا چناﺅ نہیں ہوگا ،عام طور پر سب سے سینر ممبر اسمبلی ہی پروٹیم اسپیکر ہوتا ہے شام کو پانچ بجے تک فلور ٹیسٹ ہو جانا چاہیے اور اس کا لائیو ٹیلی کاسٹ ہوگا خفیہ ووٹنگ نہیں ہوگی ۔سیکریٹ بلیٹ سے پولنگ سے انکار کر سپریم کورٹ کی ووٹنگ کی کارروائی کو صاف ستھرا رکھنے کی پہل کا خیر مقدم ہے ۔ان شرائط کو رکھنے کے علاوہ مہاراشٹر کے موجودہ سیاسی حالات اور ممبران اسمبلی کو لے کر مچی کھینچ تان پر بھی تلخ ریمارکس دیے ۔جسٹس رمنہ کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ ایک مہینے سے زیادہ کا وقت گزر چکا ہے اور ممبران اسمبلی نے ابھی تک حلف نہیں لیا ہے ۔سرکار بنانے کی ممبران کی خرید و فروخت نہ ہو ۔اس کے لئے ضروری ہے کہ انترم حکم دیا جائے یہی نہیں عدالت نے کہا کہ ممبران اسمبلی اور عدلیہ کو الگ الگ سیکٹروں کا احترام کیا جانا چاہیے عدالتوں کو آخری متابادل کے طور پر ہی دخل دینا چاہیے مہاراشٹر بھی ایک ایسا ہی معاملہ ہے وہاں جو کچھ ہوا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہر گھوٹالہ آخر میں سپریم کورٹ میں آئےیہ صورت کسی طرح بھی ٹھیک نہیں ہے ۔سب سے ضروری یہ سوچنا ہوگا کہ سرکار بنانے کی کارروائی کو کس طرح شفاف بنایا جائے تاکہ یہ معاملہ بار بار نہ اُٹھے بھارت کی سیاست میں ایسا پہلے شاید ہی ہوا ہو جب اسمبلی چناﺅ کے بعد سرکار بنانے کے لئے کسی ریاست میں سیاسی پارٹیوں میں ساری اخلاقیات اور اقدار و روایت کو تار تار کرتے ہوئے اپنی آئیڈیا لوجیوں کو طاق پر رکھ دیا اور عوام کو مینڈیٹ کی توہین کی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں صاف صاف کہا کہ اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں جتنی تاخیر ہوگی اتنا ہی ممبران اسمبلی کی خرید و فروخت بڑھے گی اس لئے بدھوار تک وزیر اعلیٰ اعتماد کا ووٹ حاصل کریں وزیر اعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ دونوں ہی حقیقت سے اچھی طرح واقف تھے ان کے پاس اکثریت ہے یا نہیں اور بدھوار کی شام تک و نمبر نہیں جٹا پائیں گے اس لئے انہوںنے پہلے ہی استعفی دینے میں عافیت سمجھی اقتدارحاصل کرنے کے لئے مہاراشٹر میں جس طرح کا کھیل چلا وہ سیاست میں موقع پرستی اور سودے بازی کی نئی مثال ہے ۔مہاراشٹر معاملے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ گورنر کے ضمیر اور رول پر سوالیہ نشان کھڑے کرتا ہے اس پورے واقعہ نے مہاراشٹر کے گورنر نے بھاجپا کی ہر طرح سے سرکار بنوانے کی کوشش کی ان کے اس ذاتی عمل پر جتنی ملامت کی جائے کم ہے اس مسئلے پر صدر جمہوریہ وزیر اعظم کے ساتھ گورنر کے منصوبوں پر بھی سوالیہ نشان لگتا ہے سپریم کورٹ نے نہ صرف جمہوریت کی حفاظت کی بلکہ یوم آئین پر ایسا فیصلہ سنایا جو مستقبل میں بھی صحیح نظیر بنے گا۔

(انل نریندر)

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...