Translater

21 مارچ 2026

نیتن یاہو کی سازشوں کا نتیجہ !

اگر ایران اسرائیل امریکہ جنگ پھیلتی جارہی ہے تو اس کی سب سے بڑی وجہ نتین یاہو کی سازشیں ہیں ۔یہ ساری کری کرائی نتین یاہو کی ہے ۔28 فروری کو سب سے پہلا کام نیتن یاہو نے یہ کیا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور سپریم فوجی کمانڈر و خفیہ چیف وغیرہ کو شہید کر دیا ۔نیتن یاہو یہیں نہیں رکے انہوں نے اگلا نشانہ بنایا ایران کے سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی کو مارڈالایہ اس لئے بھی کیا کہ تاکہ اس لیڈر کو راستے سے ہٹاد یاجائے جو ایک اصلاح پسند ،لائق اور بیچ بچاؤ کرکے اس جنگ کو کسی طرح روکنے میں مدد کر سکتا تھا اور یہی نیتن یاہو نہیں چاہتے تھے ۔لاریجانی ایران کے نمبر 2 کے لیڈر تھے ۔یہ ٹرانزیشنل کونسل کے ذریعے دیش چلارہے تھے ۔ایران کے آئین کی آرٹیکل 111 کے مطابق سپریم لیڈر کی موت یا نااہلیت کی صورت میں ایک کونسل دیش چلاتی ہے لیکن لاریجانی ان سب کے اوپر تھے ۔ایران کی ریوولیوشنری گارڈ کور یعنی فوج بھی ان کے حکم کو مانتی تھی ۔پارلیمنٹ کے سابق چیئرمین اور سینئرپالیسی مشیر کےطور پر علی لاریجانی کو ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ نیوکلیائی مذاکرات حکمت عملی پر سورگیہ مرحمو آیت اللہ علی خامنہ ای کو صلاح دینے کے لئے معمول کیا گیا تھا۔علی لاریجانی کے قتل کے ساتھ ساتھ نیتن یاہو نے جنرل غلام رضا سلیمانی کو بھی مار ڈالا۔ریولیوشنری گارڈ کی بسیط فوج کےوہ چیف تھے ۔دراصل نیتن یاہو نے سوچا تھا اگر وہ ایران کی ٹاپ لیڈر شپ کو ختم کر دیں گے تو جنگ جیتنے میں آسانی ہو جائے گی ۔ایران بکھر جائے گا لیکن اس کا ہوا الٹا ۔ایرانی عوام ہمدردی میں سڑکوں پر اتر آئی جو آیت اللہ نظام سے ناراض تھی وہ ہی نظام کی حمایت میں اتر گئی ۔نیتن یاہو کو شاید اس کا اندازہ بھی نہیں تھا کہ ایران کی ٹاپ لیڈر شپ اگر ختم ہو جائے گی تو اتنی جلدی اس کا متبادل سامنےآکر مورچہ سنبھال لے گاجب اسرائیل نے دیکھا کہ یہ تو معاملہ الٹا ہو گیا تو اس نے نئی سازش رچی ۔اس درمیان یہ اشارے بھی آنے لگے کہ امریکی صدر گھریلو دباؤ کے سبب اس جنگ سے ہٹنے کی تیاری کررہا ہے تو نیتن یاہو پریشان ہو گئے۔ یاد رہے کہ جب پچھلے سال جب 12 دن جنگ چلی تھی تو سب سے پہلے اسرائیل نے حملہ کیا تھا بعد میں اس نے امریکہ کو زبردستی اس جنگ میں شامل ہونے پر مجبور کیا تھا ۔اب بازی ہاتھ سے نکلتے دیکھ نیتن یاہو نے ایک نئی اور نہایت خطرناک چال چلی اس نے بغیر امریکہ سے پوچھےا یران کے سب سے بڑے اینرجی اداروں میں سے ایک بشر میں واقع اصلومیہ گیس پلانٹ (ساؤتھ پارس )پر حملہ کر دیا ۔اس ہوئے واقعہ سے ایران کو بھڑکنا فطری ہی تھا اس نے خلیج میں موجود تیل اور گیس کے کارخانوں کی سیٹلائٹ فوٹیج جاری کر زون بنا دئیے کہ ان علاقوں کو فوراً خالی کریں اسرائیلی حملے کے جواب میں قطر کے راس لافان کی ایل این جی پی گیس فیلڈ پر حملہ کر دیا یہ قطر کی اہم ایل این جی پروسیسنگ کارخانہ ہے ۔اور دیش کا اینرجی نیٹورک کا اہم مرکز ہے ۔سعودی عرب نے کہا کہ حالانکہ انہوں نے کئی ایرانی میزائلوں کو تباہ کر دیا لیکن اس کے تیل بھنڈار کے اسٹوریج پر بھی کچھ نقصان ہوا ہے ۔ رہی سہی کسر ایران کے ذریعے ہرمز اسٹیج کوبند کرکے پوری کر دی ۔ہرمز اسٹریٹ دنیا کے سب سے اہم سمندری کمرشیل راستوں میں سے ایک ہے ۔ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ماناہے اور لکھا کہ اسرائیل اس بات کو ضروری اور قیمتی ساؤتھ پارس فیلڈ پر کوئی اور حملہ نہیں کرے گا ۔کیا یہ بیان ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو سنانے کے لئے دیا تھا ؟ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جنگ کو آگے بڑھانے کے لئے نیتن یاہو اپنی سازشوں سے باز نہیں آرہے ہیں ۔

17 مارچ 2026

جنگ کے لمبا کھچنے کا امکان

ایران -امریکہ اور اسرائیل کی جنگ 28 فروری کو ایران پر حملے سے شروع ہوئی تھی ۔امریکہ اسرائیل کو امید تھی کہ یہ جنگ چند دن چلے گی اور ایران اپنے گھٹنوں پر آجائے گا ۔انہیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ ایران اتنا جوابی حملہ کرے گا اور یہ جنگ اتنی لمبی کھچے گی ۔ایران امریکہ -اسرائیل کو منھ توڑ جواب دے رہا ہے ۔ایران کے نئے آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پہلے پیغام میں ہی صاف کر دیا کہ ایران جھکنے والانہیں ہے ۔خامنہ ای کا پہلا پیغام ایرانی ٹی وی پر نشر ہوکرتے ہوئے اینکر نے پڑھ کر سنایا ۔خامنہ ای نے پیغام میں اسٹریٹ آف ہرمز کی ناکابندی جاری رکھنے اور کناب اسکول کے بچوں سمیت شہید ہوئے لوگوں کے خون کا بدلالینے پر زور دیا ۔امریکہ اور اسرائیل کے ایران کے ساتھ چل رہی جنگ کاذکر کرتے ہوئے خامنہ ای نے مسلسل حملے جار ی رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے آگے کہا کہ دیگر مورچوں کو کھولنے پر بھی غور کیاجارہا ہے ۔اس کے علاوہ انہوں نے یمن میں ایران کے ساتھیوں لبنان میں حزب اللہ اور عراق میں مزاہمت کاروں کی تعریف کی ہے ۔خامنہ ای کا یہ پیغام ان کی صحت اور جسمانی حالت کو دیکھ کر چل رہی قیاس آرائیوں کے درمیان آیا ہے ۔ادھر امریکہ نے ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اور ان سے وابستہ کئی سینئرحکام کے بارے میں جانکاری دینے پر بڑی حمایت کا اعلان کیا ہے ۔امریکی خارجہ محکمہ کے روارڈ فار جسٹس کے تحت ان لوگوں کے بارے میں ٹھوس جانکاری دینے والوں کوزیادہ سے زیادہ ایک کروڑ ڈالر تک کا انعام دیاجاسکتا ہے ۔یہ قدم ایران کی فوجی اور سیکورٹی ڈھانچہ سے جڑے نیٹورک پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کی شکل میں دیکھاجارہا ہے ۔امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے کہا کہ ایران کے لیڈروں کو مارنا سمان کی بات ہے۔ انہوں نے جمعہ کو کہا کہ ہم ایران کے دہشت گردانہ حکومت کو فوجی ،اقتصادی او ر د یگر طور سے پوری طرح تباہ کررہے ہیں ۔وہ 47 برسوں سے بے قصوروں کو مارررہے ہیں اور اب میں انہیں ماررہاہوں۔ ایسا کرنا سمان کی بات ہے ۔امریکی صدر نے ادھر دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج نے ایران کے کھرک آئی لینڈ پر بڑے حملے کئے اور فوجی اڈوں کو تباہ کر دیا ۔ٹرمپ نے دعویٰ کیا یہ امریکہ -اسرائیل کا ایران پر اب تک کا سب سے بڑا حملہ ہے ۔ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکہ نے ایران کے اس حکمت عملی جزیرہ پر بڑے ہوائی حملے میں فوجی اڈوں کو پوری طرح تباہ کر دیا ہے ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران اب پوری طرح کمزورہوچکا ہے اور سمجھوتہ چاہتا ہے لیکن ایسے سمجھوتہ نہیں ہوگاجسے وہ قبول کریں ۔ساتھ ہی ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ہرمز آبی بندرگاہ میں جہازوں کی آمد ورفت روکنے کی کوشش کی گئی تو امریکہ تیل اسٹرکچر پر حملہ نہ کرنے کا فیصلہ بدل سکتا ہے ۔افواہیں تو یہ بھی ہیں کہ ٹرمپ اب امریکی بری سینا کو بھی ایران میں اتارنے کی کوشش کررہے ہیں ۔بتادیں کہ کھرگ آئی لینڈ سے ایران کا بہت بڑا حصہ دوسرے دیشوں پر تھوپاجاتا ہے ۔امریکہ اپنی مرین کارپ کے ذریعے کھرگ آئی لینڈ رپ زبردستی قبضہ کرنے کا پلان بنارہا ہے خبر تو یہ بھی ہے کہ اس کی تکمیل کے لئے امریکہ نے 2500 مرین ایران کی طرف روانہ بھی کر دئیے ہیں ادھر ایران نے بھی اپنے حملے تیز کر دئیے ہیں لبنان سے حزب اللہ نے نارتھ اسرائیل پر تابڑ توڑ حملے شروع کر دئیے ہین اور اسرائیل نے بھی زبردست جوابی کاروائی کی ہے ۔اسرائیل نے لبنان میں بھاری تباہی مچائی ہے ۔اس بڑھتی جنگ سے عالمی تیل مارکیٹ کو بھی لے کر تشویش بڑھ گئی ہے ۔اینرجی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھلے ہی تیل سہولیات کو سیدھا نشانہ نہیں بنایاگیا ہو لیکن فوجی حملوں کا اثر ایکسپورٹ سسٹم پر پڑ سکتا ہے ۔جنگ لمبی کھچنے کی امریکہ نے خلیجی سیکٹر میں تو بے چینی بڑھائی ہی ہے ۔ساتھ ہی پورے دیش میں اس کو لے کر ٹنشن بڑھا دی ہے ۔ (انل نریندر)

14 مارچ 2026

نیتن یاہو نے ٹرمپ کو برا پھنسایا!

ایران جنگ کے بعد دنیا بھر میں ماہرین اب یہ بات کرنے لگے ہیں کہ اصل میں اسرائیل نے اپنے مفادات کے لئے امریکہ کو بری طرح پھنسا دیا ہے یعنی کہ نیتن یاہو نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ایسا پھنسایا ہے کہ اب انہیں پیچھے ہٹنے کا بہانہ مل رہا ہے ۔نہ صرف امریکہ کو ہی پھنسایا ہے بلکہ خلیجی ممالک کے دیگر عرب ملکوں کو بھی پھنسا دیا ہے ۔اس سے آہستہ آہستہ خلیج میں امریکہ کے معاون ساتھی دیش بھی اس سے ناراض ہو رہے ہیں ۔امریکہ میں ہوئے حالات کہہ رہے ہیں کہ امریکی عوام اس ایران جنگ کو غیر ضروری مان رہی ہے ،جو امریکہ پر بری طرح سے مالی بوجھ بڑھائے گی ۔امریکہ اور اسرائیل کے ذریعے مل کر ایران کے خلاف چھیڑی گئی جنگ کو لے کر کئی تجزیے سامنے آرہے ہیں ۔جنگ اب 15ویں دن میں داخل ہو چکی ہے اسرائیل نے امریکہ کو ایسا پھنسایا ہے کہ ٹرمپ کو سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ آگے کیا کریں؟ تجزیہ نگار کہہ رہے ہیں کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو نے امریکی مفادات کے بجائے اسرائیل کے مخصوص مقاصد کو پورا کرنے کے لئے امریکہ کو جنگ میں کھینچ لیا ۔کئی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اسرائیل نے ایران کے نیوکلیائی پروگرام کو خطرے کی شکل میں پیش کر ٹرمپ کو جنگ میں الجھا دیا ہے ۔حقیقت میں اسرائیل کے مفادات کہیں اور ہیں ۔وہ اس جنگ کے ذریعے سب کو دھمکانا چاہتا ہے ۔حقیقت میں اسرائیل کا اس حملے کے ذریعے اہم مقصد ایران کے ساتھ امریکی حکمت عملی میں رخنہ ڈالنا اور غزہ میں اسرائیلی کاروائیوں سے عالمی توجہ بھٹکانا تھا ۔نیتن یاہو کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ ان پر چل رہے کرپشن کے مقدموں سے اسرائیلی عوام کی توجہ بھی ہٹانا ۔امریکی صدر ٹرمپ کو اسرائیل کی کاروائی میں کریڈٹ لینے کی چاہت نے پھنسایا ہے ۔شروع میں الگ تھلگ رہنے والے ٹرمپ ایران پر حملے سے بچتے رہے لیکن نیتن یاہو کے پاس پتہ نہیں ٹرمپ کی کون سی خفیہ کنجی ہے کہ نہ چاہتے ہوئے بھی ٹرمپ نے ایران جنگ چھیڑ دی ۔مجبوری میں ٹرمپ اب دعوے کررہے ہیں کہ ہم ایران کے آسمان پر مکمل کنٹرول رکھتے ہیں ایسے دعوے کررہے ہیں کہ جو اسرائیل کی جارحانہ جارحیت کو بڑھاوا دے رہاہے وہ زبردستی امریکہ کے ساتھ لمبی کروائی میں جھونک رہا ہے ۔جو امریکی مفادات کو نقصان پہنچائیں گے ۔دراصل امریکہ ایران کا صحیح تجزیہ نہیں کرپایا ۔اسرائیل اور امریکہ نے سوچا تھا کہ ایران جلد ی ٹوٹ جائے گا لیکن ایرانی میزائلوں کے حملوں اور درپردہ گروپوں کی سرگرمی نے لڑائی کو زونل بنا دیا۔ سپریم لیڈر اور ایران کے رہبر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل جیسے قدموں نے نہ صرف دنیا کے شیعہ مسلمانوں کو متحد کیا بلکہ تمام سنی بھی امریکہ اسرائیل کے خلاف ہو گئے ہیں ۔امریکی ٹھکانوں پر یہ پورے وسطی ایشیا میں عرب ملکون کے اوپر ایران تابڑ توڑ حملے کررہا ہے ۔امریکہ کے 17 فوجی اڈوں کو تباہ کر دیا ہے اور اسرائیل کا تو یہ حال ہے کہ وہاں کے اخبار یروشلم پوسٹ نے اعتراف کیا ہے کہ 11 دن کی لڑائی میں اسرائیل پر 9115 میزائل ،راکٹ حملے ہوئے ہیں اور وہاں کی انشورنش کمپنیوں پر جو معاوضہ کے دعوے ہوئے ہیں ان میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی حزب اللہ حملوں سے 6586 عمارتیں تباہ ہو گئی ہیں اب آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ایک عمارت میں کتنے لوگ رہتے ہوں گے جو یاتو مارے گئے یا پھر زخمی ہوئے ۔اسرائیل میں 1485 گھروں کو تباہ کر دیا گیا ہے ۔1044 کارخانے بھی تباہ ہو گئے ہیں بتادیں کہ اسرائیل میں نقصان کی خبروں پر سنسر لگا ہوا ہے اس لئے صحیح پتہ نہیں چل پارہا ہے کہ اصل میں کتنا نقصان ہوا ہے ۔یہ تو یروشلم پوسٹ کے دعووں کا حوالہ ہے ۔ٹرمپ اب باہر نکلنے کے راستے تلاش رہے ہیں ۔ (انل نریندر)

12 مارچ 2026

خامنہ ای کبھی مرتے نہیں ہیں!

ایران نے اپنا سپریم لیڈر چن لیا ہے ۔آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے نئے سپریم لیڈر چنے گئے ہیں ۔دنیا کے خود ساختہ بادشاہ سلامت ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران کا اگلا سپریم لیڈر کون ہوگا ؟ یہ میں ان ۔۔۔۔ایران نے ٹرمپ کو منہ توڑ جواب دیا ہے اور صاف بتادیا ہے کہ ایران ٹرمپ ،نیتن یاہو کے سامنے جھکنے والانہیں ہے ۔ایران کے سرکاری میڈیا نے بتایا کہ اسمبلی آف ایکسپرٹس 88 ممبری دھارمک ادارہ ہے جس کی ذمہ داری سپریم لیڈر کو چننے کے ادارے کے ایک بیان کو ایرانی ٹی وی پر اینکر نے پڑھ کر سنایا ۔بیان میں کہا گیا ہے کہ جنگ میں بےحد سنگین حالات اور ہمارے ادارے کے خلاف دشمنوں کی سیدھی دھمکیوں کے باوجود اور اسمبلی آف ایکسپرٹس کے سچیوالے کے دفاتر پر بم باری سے اس کے کئی ملازمین اور سیکورٹی ٹیم کے ممبران شہید ہو جانے کے باوجود اسلامی نظام کی قیادت کے انتخاب اور اس کے اعلان کی کاروائی ایک پل کے لئے بھی نہیں رکی ۔اس کے بعد اینکر نے ایک نعرہ لگایا -اللہ اکبر ،اللہ اکبر خامنہ ای ہی رہبر ۔امریکی اسرائیل ہوائی حملوں میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کے بعد کئی لوگوں کو اندیشہ تھا کہ ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای بھی مارے گئے ہیں ۔کئی دنوں تک مجتبیٰ کے بارے میں کوئی خبر نہیں آئی لیکن تین مارچ کو ایران کے سرکاری میڈیا نے بتایا مجتبیٰ زندہ ہیں اور انہیں ایران کا سپریم لیڈر چن لیا گیا ہے ۔ بتادیں کہ مجتبیٰ خامنہ ای نے تو کبھی کوئی پبلک بیان دیا کوئی سرکاری عہدہ سنبھالانہ کوئی انٹرویود یا ان کی بہت کم تصویریں اور ویڈیو نشر ہوئے ہیں۔ امریکی سفارتی دستاویز میں انہیں پردے کے پیچھے اصلی طاقت بتایا گیا تھا۔ ان کو حکومت کے اندر ایک اہل اور مضبوط لیڈر ماناجاتا ہے ۔8 ستمبر 1969 کو ایران کے نارتھ ایسٹ شہر یشہد میں پیدا مجتبیٰ ، امام علی خامنہ ای کے چھ بچوں میں دوسرے مقام پر ہیں ۔میڈیا کے مطابق 17 سال کی عمر میں مجتبیٰ نے ایران -عراق جنگ کے دوران فوج میں خدمات انجام دی تھیں ۔مدرسوں کے انتظام میں آیت اللہ کی ڈگری ہونا اور مذہبی اسلامی کلاسز کو پڑھانا کسی شخص کی کافی صلاحیت اور علم کا ثبوت ماناجاتا ہے ۔یہ مستقبل میں نیتا چنے جانے کی ضروری شرطوں میں سے ایک ہے ۔الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جیسے ہی نام کا اعلان ہوا ،ایران کی فوج ،اسلامی ریبولیوشنری گارڈ کور (آئی آر جی سی )اور سیاسی لیڈروں نے فوراً مجتبیٰ خامنہ ای کے تئیں وفاداری کا حلف لیا ۔آئی آر جی سی نے بیا ن جاری کرتے ہوئے کہا کہ ہم نئے لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کے حکم کی تعمیل کرنے خود کو قربان کرنے کے لئے تیار ہیں ۔فوج کی سرکردہ لیڈر شپ نے بھی اپنی پوری وفاداری کا وعدہ کیا ہے ۔ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے سب سے طاقتور عہدہ سنبھالتے ہی ایران نے اسرائیل پر میزائلوں سے حملہ کیا ۔مانا یہ پہلے سے طے تھا کہ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت سے بھی اس کی حکمت عملی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی بلکہ یوں کہیں کہ ایران اب اور طاقت سے حملہ کرے گا ۔یہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت میں اس جنگ کی زبردست نئی میزائلوں سے حملہ کیا ۔دیکھنا یہ ہے کہ کیا آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کے اس فتویٰ کو بدلیں گے جس میں کہا گیا تھا کہ ایران کوئی نیوکلیائی ہتھیار نہیں بنائے گا؟ (انل نریندر)

10 مارچ 2026

ایران حملے کی قیمت ؟

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف تو نیتن یاہو کے اکسانے پر جنگ شروع تو کر دی لیکن انہیں شاید یہ اندازہ نہیں تھا کہ یہ لڑائی لمبی اور مہنگی پڑ سکتی ہے ۔جو لڑائی چار دن میں ختم ہونے کی پیشگوئی کی جارہی تھی وہ آج دسویں دن بھی ختم ہونا تو دور کی بات ہے یہ بڑھتی جارہی ہے ۔یہ امریکہ کو دونوں فوجیوں کی موت اور مالی تنگی کی مار جھیلنی پڑرہی ہے جس کا اس نے کبھی اندازہ نہیں لگایا ہوگا ۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اب اشارہ دیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی یہ لڑائی چار پانچ ہفتے تک چل سکتی ہے ۔واشنگٹن میں موجود تھنک ٹینک سی ایس آئی ایس اور کرسپارک کے ذریعے کئے گئے تجزیہ کے مطابق ایران کے خلاف آپریشن ایپک تھیوری کے تحت جنگ کے پہلے 100 گھنٹوں میں امریکہ کو تقریباً 3.7 ارب ڈالر (قریب 31 ہزار کروڑ روپے ) خرچ اٹھانا پڑرہا ہے ۔رپورٹ کے مطابق جنگ کے شروعاتی 100 گھنٹوں میں امریکہ کا اوسط خرچ تقریباً 891 ملین ڈالر یومیہ یعنی قریب 90 کروڑ ڈالر روز رہا ہے ۔شروعاتی مرحلے میں سب سے زیادہ خرچ مہنگی میزائلوں ، ہتھیاروں اور بموں کے استعمال پر ہوا ہے ۔اس لئے شروعاتی دنوں میں لاگت سب سے زیادہ ہے ۔تھنک ٹینک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 1.7 ارب ڈالر جیسے ایئر ڈیفنس انٹرسپٹرس سسٹم پر خرچ کئے گئے ہیں جبکہ 1.5 ارب ڈالر میزائلوں اور دیگر جارحانہ ہتھیاروں پر خرچ کئے گئے ہیں اس کے علاوہ 125 ملین ڈالر جنگی جہازوں اور ہوائی آپریشن کے چلانے پر خرچ کئے گئے ہیں ۔سی ایس آئی ایس کے مطابق خرچ میں سے صرف تقریبا200 ملین ڈالر ہی پہلے سے امریکی ڈیفنس بجٹ میں شامل تھے جبکہ قریب 3.5ارب ڈالر کا خرچ فاضل ہوا ہے ۔جس کے لئے الگ سے فنڈ کی ضرورت پڑ سکتی ہے ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکی ڈیفنس وزارت کو جلد ہی جنگ جاری رکھنے کے لئے مزید بجٹ کی مانگ کرنی پڑ سکتی ہے ۔اس کے علاوہ قطر ،جارڈن ،یو اے ای میں جو ایئر ڈیفنس کے راڈار اور دیگر مشینری جو تباہ ہوئی ہے جن کی قیمت اربوں ڈالر میں ہے کا تو حساب ہی نہیں ہے ۔رپورٹوں کے مطابق اندازہ کے مطابق جنگ کے پہلے 100 گھنٹوں میں امریکہ نے 2000 سے زیادہ طرح کے ہتھیار اور میزائلوں کا استعمال کیا ہے ۔ان ہتھیاروں کے اسٹاک کو 2 بار بھرنے میں تقریباً 3.1 ارب ڈالر خرچ ہو سکتے ہیں ۔تھنک ٹینک نے اپنے تجزیہ میں کہا ہے کہ جنگ کا انسانی نقصان بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے ۔ایران میں ہی تقریباً 1500 سے زیادہ لوگوں کی موت ہوچکی ہے ۔ان میں 180 چھوٹی بچیاں بھی شامل ہیں جن کے اسکول پر امریکہ نے بحرین سے بم مارا ۔امریکہ کے کتنے فوجی مرے ہیں یہ تعداد بہت زیادہ ہوسکتی ہے ۔امریکہ نے فی الحال 6-7 فوجیوں کے مرنے کی تصدیق کی ہے ۔لیکن ایرانی دعویٰ کررہے ہیں یہ تعداد سینکڑوں میں ہے ۔خرچ کے علاوہ ، کویت میں فرینڈلی فائر کے واقعہ میں 3 امریکی اور 1 ایف -15 امریکی جنگی جہاز گر گئے ۔ بتادیں کہ ایک ایف -15 جو انتہائی جدید اس فائٹر جیٹ کی قیمت تقریباً 800 کروڑ روپے ہے ۔ایران پر حملہ کرتے وقت امریکہ اور ڈونلڈ ٹرمپ نے شاید یہ سوچا بھی نہیں ہوگاکہ یہ جنگ اسے کتنی مہنگی پڑے گی ۔ لڑائی لمبی کھچنے سے اور ایرانی جوابی کاروائی سے ٹرمپ کی نیند اڑی ہوئی ہے ۔آئے دن وہ دھمکیوں پر اتر آتے ہیں ۔ٹرمپ تو پھنس گئے ہیں لیکن باہر کیسے نکلیں انہیں سمجھ نہیں آرہا ہے۔خرچ کےعلاوہ اندرونی سیاسی دباؤ ،ایپسٹین فائل ، ساتھ ہی عرب ممالک کا دباؤ یہ سب امریکہ ٹرمپ پر بھاری پڑرہا ہے۔ پریشان ہو کر ٹرمپ کوئی ایسا قدم نہ اٹھا لیں جس سے پوری دنیا سکتے میں آئے؟ (انل نریندر)

06 مارچ 2026

جنگ تم شروع کرو گے ختم ہم کریں گے!

یہ وارننگ دی تھی آیت اللہ علی خامنہ ای نے شہید ہونے سے پہلے ۔انہوں نے ایک بار نہیں بار بار یہ خبردار کیا تھا اور ساتھ ہی کہا تھا کہ اگر امریکہ -اسرائیل ایران پر حملہ کرتا ہے تو ہم منھ توڑ جواب دیں گے ۔ایسا جواب دیں گے جس کا امریکہ نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوگا ۔اتنا ہی نہیں آیت اللہ علی خامنہ ای نے بھی آگاہ کیا تھا کہ اگر ایران پر حملہ ہوگا تو جوابی کاروائی پورے مشرقی وسطیٰ کے ملکوںمیں امریکی فوجی اڈوں پر بھی ہوگی ۔اور یہ علاقائی جنگ میں بدل جائے گی اس کے جواب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ہم چار دن میں ایران کو گھٹنوں پر لادیں گے ۔اور نیا اقتدار قائم کردیں گے اب جنگ کے 7-8 دن گزر چکے ہیں اب وہی ٹرمپ کہہ رہے ہیں کہ یہ جنگ 4-5 ہفتے کھچ سکتی ہے ۔دراصل امریکہ پھنس گیا ہے طالبان اگر 20 سال بعد بھی لڑائی کے بعد بھی زندہ رہا تو اس کے پیچھے اس کی حکمت عملی اور افغانستان کے جغرافیائی حالات تھے ۔ایران بھی امریکہ کے لئے ایسی ہی چیلنج پیش کرنے والاہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں اپنی فوج بھیجنے سے انکار نہیں کیا ہے لیکن یقینی جانیے اگر امریکی فوجی ایران میں داخل ہوتے ہیں تو ویتنام اور افغانستان کی طرح اسے ذلیل ہو کر بھاگنا پڑ سکتا ہے ۔دہائیوں سے خلیجی ملکوں کو امریکی سیکورٹی کو لے کر بھرم بنا ہوا تھا لیکن آسمان سے برستی ایرانی میزائلوں نے اس بھروسہ کو توڑ دیا ہے ۔ایران نے خلیج کے ملکوں ، یو اے ای ،سعودی عرب اور کویت بحرین میں جم کر میزائلیں برسائی ہیں اور امریکی اڈوں کو تباہ کیا ہے ۔ایرانی حملوں کا مقصد اور پیغام صاف تھا کہ جو دیش امریکی فوج کو حملے کے لئے اپنی زمین دے رہے ہیں انہیں بخشا نہیں جائے گا۔ایران کے وزیرخارجہ عباس افراہیمی نے کہا کہ تہران نے اس علاقہ میں دشمنوں کے فوجی اڈوں پر حملے کرکے شروعات کی ہے وہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جنگ اگلے 4-5 ہفتوں تک اور چل سکتی ہے ۔جس سے مشرقی وسطیٰ میں اور تباہی پھیلنے کے اندیشات بڑھ گئے ہیں ۔آیت اللہ علی خامنہ کے قتل کے بعد مشرقی وسطیٰ کے کئی ملکوں میں صورتحال امریکی ٹھکانوں پر تابڑ توڑ ایرانی حملے ہورہے ہیں اس میں سعودی عرب میں امریکی سفارتخانوں قطر کے العدید ایئر بیس ،بحرین میں امریکی ایئر فورس کے پانچوے بیڑے کے ہیڈ کوارٹر اور دبئی کے کئی ہوٹلوں اور اہم ترین فوجی عمارتوں پر حملے ظاہر کرتے ہیں کہ اب جنگ پورے مشرقی وسطیٰ میں پھیل چکی ہے ۔امریکی سعودیہ کے اکنامک مفادات کو نقصان پہنچانے کے لئے وہاں کی سب سے بڑی آرامکو ریفائنری پر بم برسائے ہیں۔ یہ حملے اتنے خطرناک ہیں کہ امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں اپنے سفارتخانوں کو بند کر دیا ہے ۔اس کے علاوہ امریکہ نے اسرائیل سے اپنے شہریوں کو نکالنے کو لے کر ہاتھ کھڑے کر دئیے ہیں ۔امریکہ اور اسرائیل نے پہلے ہی حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ہلاک کر دیا تھا اور ٹرمپ کو امید تھی کہ سر کاٹنے سے سسٹم گر جائے گا لیکن ہوا الٹا ۔سڑکوں پر بغاوت نہیں ،خامنہ ای کے لئے لاکھوں لوگ ماتم کرتے نظر آئے ۔سڑکوں پر بغاوت نہیں بلکہ ایرانی سرکار کی حمایت کرتے نظر آئے اور انتقام لینے کے ارادے دکھائی دئیے ۔اقتدار ڈہا نہیں بلکہ ایران نے پورے مشرقی وسطیٰ کو ہلا دیا ۔اب ٹرمپ بھی سمجھ گئے ہیں کہ جنگ لمبی چلے گی ۔کچھ ماہرین کا دعویٰ ہے کہ اس جنگ کی تیاری ایران پچھلے 40 سال سے کررہا تھا ۔اور وہ لمبی لڑائی لڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے وہیں دوسری طر ف امریکی فوجیوں کے باڈ ونگ امریکہ پہنچنے لگے ہیں ۔دیکھنا یہ ہوگا کہ اب یہ جنگ کیا رخ اختیار کرتی ہے ؟ اشارہ صاف ہے کہ یہ آگ اور پھیلنے والی ہے اور تباہی ہوگی ۔ (انل نریندر)

03 مارچ 2026

آیت علی خامنہ ای کی شہادت!

میں سب سے پہلے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو اپنی شردھانجلی پیش کرنا چاہتا ہوں ۔دنیا آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کو یاد رکھے گی ۔ان کی بہادری کی مثال شہادت کو ہر ذکر میں چھائی رہے گی ۔وہ یہ جانتے تھے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کے نشانہ پر ہیں اور ان پر کسی بھی لمحے حملہ ہوسکتا ہے پھر بھی وہ تہران چھوڑ کر نہیں بھاگے نہ تو کسی بنکر بین شیلٹر میں گئے اور نہ ہی کسی خفیہ جگہ پر ۔وہ اپنے دفتر میں کا م کرتے ہوئے انہوں نے شہادت کو گلے لگانا چنا۔وہ اپنے دیش کے لئے قربان ہو گئے لیکن دشمن کے سامنے پیٹھ نہیں چھپائی ۔بیشک ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو خامنہ ای کو مار کر وینر ہونے کا دعویٰ کررہے ہوں لیکن انہوں نے خامنہ ای کا قتل کرکےبڑا خطرہ مول لے لیا ہے ۔خامنہ ای کی شہادت نے سارے ایران و اسلامی دنیا کو امریکہ اور اسرائیل کے خلا ف کھڑا کر دیا ہے اس کے نتیجے سامنے آنے بھی لگے ہیں ۔کویت یو اے ای ،قطر، بحرین پر ایرانی میزائلیں گررہی ہیں ۔یو اے ای تو اس آرٹیکل لکھنے تک 167 میزائلیں برسا چکا تھا ۔ایرانی پلٹوار کا قہر سب سے زیادہ یو اے ای پر ٹوٹا ۔یو اے ای کے وزارت دفاع نے کہا ایران کی جانب سے دیش کے کئی حصوں میں اب تک 165 بیلسٹک میزائل ،کروز میزائل اور 541 ایرانی ڈرون سے حملہ کیا جاچکا ہے ان میں سے 506 کو ہوا میں ہی روک کر تباہ کر دیا گیا جبکہ 35 دیش کے علاقہ میں گری ۔دبئی خاص طور پر نشانہ پر ہے کیوں کہ یہاں امریکی کمپنیوں کے ہیڈ کوارٹر ہیں اور ایران امریکہ کی اقتصادی طاقت کو بھاری نقصان پہنچاتا ہے ۔اس لئے وہ ایسی جگہوں پر حملہ کررہا ہے جہاں امریکہ کی سب سے بڑی کمپنیاں موجود ہیں ۔آیت اللہ علی خامنہ ای کی جانب کیسے گئے ؟ یہ سوال سب پوچھ رہے ہیں کیا کوئی موساد - سی آئی اے کا سلیپر ایجنٹ تھا جس نے پختہ جانکاری تھی کہ خامنہ ای اس وقت کہاں ہوں گے اور میٹنگ میں کون کون ہوگا ؟ بغیر کسی پختہ جانکاری کے یہ حملہ ممکن نہیں تھا ۔پھر سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ ایران کے ایئر ڈیفنس سسٹم کیا کررہے تھے ۔وہ اس میزائل یا کروز بموں کو انٹڑ سیپٹ کیوں نہیں کرسکا ۔کیا امریکہ نے ایران کے راڈار حملے سے پہلے ہی جام کر دئیے تھے ۔اسرائیل کے ایک ایف -35 فائٹر جیٹس نے ایران ایئر ڈیفنس کو ٹوہ لیتے ہوئے تہران میں اڈے بیت رہبری پیلیس پر 2000 کلو کے 40 بنکر بسر بم گرائے ۔یہ لیزر - گائیڈ دی ٹرینر ہیں یعنی پیلس کے اندر گراؤنڈ میں بھی چھپے خامنہ ای کو مار گرایاجاسکا ۔اسرائیلی فوج نے ریم پیج ڈیلیزا کروز میزائلوں سے بھی حملہ کیا ۔حملے میں وزیر دفاع عامر ناصر زادہ ،آرمی چیف عامر اور ریویوشنری گارڈس کے چیف محمد پاک پور سمیت تقریباً 40 اعلیٰ افسر اور مذہبی پیشوا مارے گئے ۔ذرائع کے مطابق ان سے تقریباً 15 لوگ خامنہ ای کے پیلیس میں ایک میٹنگ کے لئے جمع ہوئے تھے ۔امریکہ اور اسرائیل چاہتا ہے کہ ایران میں نظام یعنی عہد بدلے ۔دیکھنا یہ ہوگا کہ وہ اپنے اس مقصد میں کتنا کامیاب رہتا ہے ۔فی الحال تو ایران کی بدلے کی کاروائی سے بچنے کی کوشش ہو رہی ہے ۔ایران تہران نے بڑی جوابی کاروائی میں کویت، قطر ،بحرین میں امریکہ کے کئی بڑے ملیٹری اڈوں پر بیلسٹک میزائل داغی ہیں ان میں بھاری نقصان کی خبر آئی ہے۔ سعودی عرب جارڈن میں بھی حملے کی خبر ہے ۔آیت اللہ علی خامنہ ای نے مرنے سے پہلے ہی دوسری لائن کھڑی کرکے گئے تھے ۔ایران میں حملے کے فوراً بعد ہی جوابی کاروائی شروع کر دی ہے ۔دیکھیں یہ جنگ آگے کتنی بڑھتی ہے ۔کہیں یہ تیسری جنگ عظیم کی شکل تو نہیں لیتی ؟ (انل نریندر)

مکہ میں حملہ : پار کی لکشمن ریکھا

مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی پوری دنیا کے لئے خطرہ کا اشارہ ہے ۔ یہ جنگ اب ایسے موڑ پر پہنچ گئی ہے جہاں اگر اس پر روک نہیں لگی تو انہونی ہو ...