Translater

12 مئی 2018

دیکھیں کرناٹک میں اونٹ کس کرونٹ بیٹھتا ہے

کرناٹک اسمبلی چناؤکی کمپین ختم ہوگئی، آج ووٹ ڈالنے کی باری ہے۔ کمپین کی بات کریں تو اتنی خطرناک چناؤ کمپین پہلے کبھی شایدنہیں ہوئی ہوگی۔ کانگریس اور بھاجپا نے کمپین میں ایک دوسرے پر الزام تراشی میں زبان میں کوئی کثر نہیں چھوڑی۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس بار کرناٹک میں کمپین جس سطح پر ہوئی ہے اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئی تو غلط نہیں ہوگا۔ کرناٹک چناؤ میں دونوں کانگریس اور بھاجپا کی اپنی اپنی ساکھ داؤ پر لگ گئی ہے۔ چناؤ سے پہلے آئے بڑے 10 اوپین پول میں سے7 نے کانگریس کو بھاجپا سے زیادہ ووٹ دئے ہیں۔ ان سبھی پول میں کانگریس کو35 سے زیادہ ووٹ ملے ہیں یہ ہی نہیں کانگریس ان 35 برسوں میں ہوئے 8 چناؤ میں صرف 1 چناؤ میں 34 فیصد سے کم ووٹ ملے ہیں۔ کانگریس کو سب سے کم ووٹ 1996 میں 26 فیصد ووٹ اور 34 سیٹیں ملی تھیں۔ ریاست کے پچھلے8 چناؤ میں سے 4 میں کانگریس کو40 فیصد سے زیادہ ووٹ ملے ہیں۔ ایک دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کرناٹک میں پچھلے 35 سال میں یعنی جب سے بھاجپا ریاست میں چناؤ لڑ رہی ہے تب سے اب تک کبھی بھی کانگریس کو بھاجپا سے کم ووٹ نہیں ملے ہیں۔ یہاں تک کہ 2008 میں جب بھاجپا کی ریاست میں پہلی بار سرکار بنی تھی تب بھی کانگریس کو بھاجپا سے قریب ایک فیصدی ووٹ زیادہ ملے تھے۔ 2008 کے اسمبلی چناؤ میں بھاجپا کو33.86 فیصد ووٹ اور 110 سیٹیں ملی تھیں وہیں کانگریس کو 34.76 فیصدی ووٹ اور 80 سیٹیں ملی تھیں۔ کرناٹک میں اسمبلی چناؤ کمپین کے آخری دن کانگریس صدر راہل گاندھی نے تلخ حملہ کرتے ہوئے دعوی کیا کہ بھاجپا ریاست میں کانگریس کے خلاف مقابلہ میں نہیں ہے۔ راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ بینکوں میں جمع 90 فیصدی رقم دیش کے 15 امیر صنعت کاروں کے ہاتھوں میں جارہی ہے۔ ریاست میں موجودہ سدارمیا حکومت اور اس سے پہلے بھی بھاجپا سرکار کے کام کے مقابلہ کی تفصیل ایک گرافک ٹوئٹرپر شیئرکی گئی ہے۔ کانگریس صدر کی جانب سے پوسٹ کئے گئے گرافک میں دعوی کیا گیا ہے کہ سدا رمیا سرکار بھاجپا سرکار کے مقابلے میں کافی آگے ہے۔ بنگلورو میں کپڑا صنعت کی مہلا ملازمین سے بات چیت میں کہا کھان کاروباری ریڈی بندھوؤں میں بھی 35 ہزار کروڑ روپے چرائے ہیں جس سے ہزاروں نوکریاں پیدا ہوسکتی تھیں۔ راہل گاندھی پر تلخ حملہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی بدھوار کو حیرانی جتائی۔ کیا دیش کبھی ایسے غیر سنجیدہ اور نامدار نیتا کو وزیراعظم کے عہدے کے لئے قبول کرے گا؟گاندھی خاندان کو تلخ نشانہ بناتے ہوئے مودی نے کہا انہیں (راہل گاندھی) وزیر اعظم کی کرسی ایک خاندان کے لئے ریزرو ہے اور اس پر کوئی نہیں بیٹھ سکتا۔ انہیں لگتا ہے یہ موقعہ ان کا کنبہ جاتی ہے۔ ایک دن پہلے بنگلورو میں راہل گاندھی نے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ اگر کانگریس 2019 کے چناؤ میں کامیاب ہوتی ہے تو وہ وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے کے لئے تیار ہیں۔ مودی نے کہا صبح سے لیکر شام تک ، سوچے جاگتے ان کے دل میں صرف ایک چیز رہتی ہے وہ ہے وزیر اعظم کی کرسی۔ مودی نے چٹکی لیتے ہوئے کہا کہ راہل گاندھی دن میں ہی خواب دیکھ رہے ہیں۔ کرناٹک میں آج ووٹ پڑنے والے ہیں، دیکھیں کہ اونٹ کس کرونٹ بیٹھتا ہے؟
(انل نریندر)

عہدہ چھوڑنے کے بعد وزیر اعلی بھی عام آدمی ہے

وزیر اعلی اپنی کرسی سے ہٹتے ہی عام آدمی کی کیٹگری میں آجاتا ہے۔ ایسے میں اسے سرکاری رہائشگاہ کیوں چاہئے؟ اس ریمارکس کے ساتھ سپریم کورٹ نے یوپی کے اس قانون کو منسوخ کردیا جس میں سابق وزیر اعلی کو تاعمر سرکاری بنگلہ دینے کی سہولت تھی۔ جسٹس رنجن گگوئی اور جسٹس آر بھانمتی کی بنچ نے تاریخی اور دوررس فیصلہ میں کہا کہ سابق وزیر اعلی عام شہری میں کسی طرح کا امتیاز نہیں ہوسکتا۔ سابق وزیر اعلی اپنے پاس رہے عہدہ کی خصوصیت کی وجہ سے سکیورٹی سمیت دیگر پروٹوکول پانے کا حقدار ہے لیکن عہدہ سے ہٹنے کے بعد بھی سرکاری رہائش گاہ میں رہنے کی اجازت دینا یکسانیت کے آئینی اصول کے خلاف ہے۔ بڑی عدالت نے کہا قدرتی وسائل، سرکار زمین و چیزیں جن میں سرکاری رہائشگاہ بھی آتی ہے پبلک پراپرٹی ہے ، یہ دیش کے لوگوں کی ہے، ریاستوں کو اپنے وسائل کی تقسیم میں انصاف کا خیال رکھنے والی یکسانیت کے اصول کا پابند ہونا چاہئے۔ بنچ نے کہا کہ اترپردیش منتری (تنخواہ بھتہ و قانونی سہولت)1981 ایکٹ شہریوں کا ایک الگ طبقہ تیار کرتا ہے ۔ یہ انہیں سابق پبلک نمائندہ کی بنیاد پر سرکاری املاک کا حقدار بناتا ہے۔ عہدہ چھوڑنے کے بعد بھی انہیں الگ طبقہ کی حیثیت دینا منمانا و امتیاز پر مبنی ہے۔ یہ آئینی تقاضوں کے فیصلے کے برعکس ہے۔ ابھی اترپردیش کے سابق وزیر اعلی این ڈی تیواری، ملائم سنگھ یاو، کلیان سنگھ، راجناتھ سنگھ، اکھلیش یادو اور مایاوتی کو راجدھانی لکھنؤ میں سرکاری بنگلہ ملا ہوا ہے۔ دہلی میں سی ایم کو عہدہ سے ہٹنے کے بعد تین مہینے کے اندر بنگلہ خالی کرنا ہوتا ہے اس کے بعد وہ بازار کی شرح سے کرایہ دیکر چھ مہینے تک اس میں رہ سکتے ہیں۔ دیش کی سبھی سیاسی پارٹیوں کو خود آگے آکر سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کی حمایت کرنی چاہئے اور جتنے بھی سابق وزیر اعلی غیر آئینی سہولیت کا استعمال کررہے ہیں انہیں مرضی سے اسے چھوڑدینا چاہئے۔ دراصل سیاسی طبقہ کا رویہ اور طرز عمل اور کلچر سامنتو کی طرح ہوگیا ہے جو عام جنتا کو پرجا اوراپنے آپ کو حکمراں طبقہ کی طرح مانتا ہے۔ اگست 2016 میں ایک غیر سرکاری تنظیم لوک پرہیری کی مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے اترپردیش کے سابق وزیر اعلی کو سرکاری بنگلہ الاٹ کرنے کی سہولت کو منسوخ کردیا تھا لیکن تب اکھلیش سرکار نے اترپردیش منتری گن قانون 1981 میں ترمیم کرکے سابق وزرائے اعلی کو مخصوص حق دیکر محفوظ کردیا تھا۔ اس ترمیم کو لوک پرہیری نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ عدالت کا یہ فیصلہ دیش کے تمام راجیوں پر لاگو ہوگا۔ راجستھان، بہار، آسام جیسی ریاست بھی اس سے متاثر ہوسکتی ہیں۔ بنگلے جتنی جلدی خالی ہوجائیں اتنا ہی اچھا ہے۔
(انل نریندر)

11 مئی 2018

مالیا کیس : بھارت سرکار، بینکوں کا شاندار کارنامہ

ہندوستانی بینکوں سے ہزاروں کروڑ روپے لیکر دیش چھوڑ کر بھاگے ہندوستانی صنعتکار سے پیسے کی برآمدگی کے معاملہ میں بھارت سرکار و سرکاری ایجنسیوں کو زبردست کامیابی ملی ہے۔ میں بات کررہا ہوں صنعتکار ،شراب کاروباری وجے مالیا کی۔ برطانوی ہائی کورٹ میں ہندوستانی بینکوں کی طرف سے 1.55 ملین ڈالر یعنی 10 ہزار کروڑ روپے کی وصولی کے معاملہ میں مالیا کے خلاف فیصلہ دے دیا ہے۔ جج اینڈرج ہرشی نے دنیا بھر کی املاک کو ضبط کرنے کے احکامات کو پلٹنے سے انکارکردیا۔ عدالت نے ہندوستانی عدالت کے اس فیصلے کو بھی برقرار رکھا ہے جس میں 13 بینکوں کی کنسورٹیم کو مالیا سے قریب 10 ہزار کروڑ روپے کی وصولی کرنے کا حقدار بتایا گیا ہے۔ ہندوستانی بینکوں کے حق میں آئے فیصلے سے انگلینڈ اور ویلس میں مالیا کی املاک پر بھی ہندوستانی عدالت کا فیصلہ نافذ ہوگا۔ عالمی ضبطی کا حکم بحال رہنے کے بعد مالیا انگلینڈ اور ویلس میں اپنی کسی پراپرٹی کو بیچ یا ٹرانسفر نہیں کرسکے گا، نہ ہی پراپرٹی کی قیمت گھٹا سکے گا۔ جج ہیمشا نے منگلوار کے فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کی اجازت نہیں دی۔ اب مالیا کو کورٹ آف اپیل میں عرضی دائرکرنی ہوگی۔ انگلینڈ کے ہائی کورٹ، کمرشل کورٹ کی کوئین ڈویژن بنچ میں یہ مقدمہ جیتنے والے13 بینکوں میں ایس بی آئی ، بینک آف بڑودہ، کارپوریشن بینک، فیڈرل بینک، آئی ڈی بی آئی بینک، انڈین اوورسیسز بینک ، جموں کشمیر بینک، پنجاب اینڈ سندھ بینک، پنجاب نیشنل بینک، اسٹیٹ بینک اور میسور، یوکو بینک ، یونائیٹڈ بینک آف انڈیا اور جے ایم فائننشیل ایسیٹس ری کنسٹریکشن کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ شامل ہیں۔ مالیا پر الزام لگا تھا کہ اس نے جان بوجھ کر بند پڑی اپنی کنگ فشر ائر لائنس کے لئے قریب 1.4 ارب ڈالر کا قرض لیا تھا۔ جج نے املاک کو دنیا بھر میں ضبط کرنے کے حکم پلٹنے کی مالیا کی مانگ کو خارج کردیا۔ 62 سالہ مالیا برطانیہ میں ہی نہیں بلکہ بھارت میں بھی کئی مقدموں کا سامنا کررہا ہے۔ اس میں دھاندلی اور منی لانڈرنگ کے الزامات سے جڑے معاملے شامل ہیں۔ ایک سال پہلے اسے لندن میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ حوالگی سے بچنے کے لئے ایک دوسری کورٹ میں قانونی لڑائی بھی لڑ رہا ہے۔ لندن کی ایک دوسری عدالت میں وجے مالیا کی حوالگی کا مقدمہ چل رہا ۔مانا جارہا ہے کہ اس فیصلہ سے حوالگی کی کوششوں کو بھی مضبوطی ملے گی۔ اس کیس کے فیصلے کے دور رس اثر ہوں گے۔ اگر مالیا آگے اپیل میں بھی ہار جاتا ہے اور اس کی ریکوری ہوتی ہے تو نہ صرف بھارتیہ بینکوں کے ڈوبے پیسے لوٹنے کی امید جاگتی ہے بلکہ مودی سرکار کا یہ ایک بڑا کارنامہ ہوگا۔ اس سے ہندوستانی بھگوڑوں کو دیش واپس لانے اور ان کے پیسوں کی برآمدگی کا بھی چانس بنتا ہے۔ اس سے یہ بھی پیغام جائے گا کہ پیسوں کی جعلسازی کرکے آپ کہیں نہیں چھپ سکتے۔
(انل نریندر)

سیاحوں کے قتل نے پتھر بازوں کی قلعی کھول دی

جموں و کشمیر کے شوپیاں ضلع میں اسکولی بس پر پتھراؤ کے واقعہ کے چار دن بعد پیر کو پتھربازوں نے سرینگر کے گولمرگ ہائی وے پر ایک گاڑی کو نشانہ بنایا۔ اس میں چنئی کے ایک سیاح کی موت ہوگئی۔ اس حملہ میں ایک مقامی لڑکی بھی زخمی ہوگئی۔ سیاح کی شناخت تھرومنی (22 سال ) کی شکل میں ہوئی جبکہ زخمی لڑکی ہنڈواڑہ کی سبرینا ہے۔ اس سے پہلے بدھوار کو 40سے50 بچوں سے بھری اسکولی بس کو شوپیاں کے جبورا علاقہ میں گھیرکرپتھراؤ کیا گیا۔ ان دونوں واقعات نے صوبے کی سرکار کی پتھر بازوں کو عام معافی دینے کی پالیسی پر سوال کھڑا کردیا۔ ریاست میں ایک سیاح کی موت پہلا واقعہ ہے۔ اس واردات کے بعد کشمیر کے ٹورازم پر برا اثر پڑنے کے علاوہ آنے والے دنوں میں پوتر امرناتھ یاترا پر بھی ایسے حملوں کے اندیشے کے بادل منڈرانے لگے ہیں۔ اس سے وادی میں اپنے ہی اسکولی بچوں کی بس پر پہلی بار کی گئی پتھر بازی میں سیاح کی موت سے خفیہ اور سکیورٹی ایجنسیوں کی بھنویں تن گئی ہیں۔ پتھر بازی کرنے والے کوئی بچے نہیں ہیں سب کے سب ہوش حواس والے بالغ لڑکے ہیں۔ ظاہر ہے یہ دونوں حملہ بزدلانہ اور بغیر ٹارگیٹ کے نہیں تھے۔ ان کا مقصد خاص اقتدار اور سماج کو پیغام دینا تھا۔ پتھر بازوں کے آقا چاہتے ہیں کہ اگر آتنک وادیوں کو مڈ بھیڑ میں مارا گرایا جاتا رہا تو پتھر بازی جاری رہے گی۔ یہ کیا سیدھے سیدھے دہشت گردی کی حمایت نہیں ہے؟ وہ تو چاہتے ہیں کہ کشمیر کی وادیوں میں دہشت بنی رہے اور آتنک وادی سلامت رہیں۔ سیکورٹی ایجنسی یا فورس ان کو سلام کرتی رہے۔ اگر ایسا نہیں ہوا تو وہ کشمیر کو شورش زدہ رہنے کا اظہارپوری دنیا میں کریں گے۔ یہ پیغام اس وقت دیا جارہا ہے جب جموں وکشمیر کی وزیر اعلی محبوبہ مفتی ان پتھر بازوں کو (گمراہ معصوم) مانتے ہوئے انہیں یکمشت معافی دئے جانے اور ان کو بسانے کی وکالت کرتی رہی ہیں۔ معلوم ہو کہ صوبے کی ٹی ڈی پی بھاجپا اتحادی حکومت نے اس سال کے شروع میں قریب5500 پتھر بازوں کو عام معافی دیتے ہوئے ان کے خلاف درج مقدمات کو واپس لیا تھا۔ صوبے کی محبوبہ مفتی سرکار نے یہ خوش آمدی آمیز قدم وادی میں گمراہ نوجوانوں کو قومی دھارا سے جوڑنے کے لئے مرکزی وزارت داخلہ کی رضامندی کے بعد اٹھایا تھا۔ تب صوبے کی سرکار نے یہ کہا تھا کہ پتھر بازی کرتے ہوئے پہلی بار پکڑے جانے والے سبھی پتھر بازوں کو عام معافی دے دی گئی ہے۔ حالانکہ اس وقت بھی گٹھ بندھن سرکار کے اس فیصلے کی چوطرفہ نکتہ چینی کی گئی تھی۔ تب اپوزیشن پارٹیوں کے علاوہ نکتہ چینی کرنے والوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اتحادی سرکار کا یہ قدم مناسب نہیں ہے۔ اس سے پتھر بازوں کو شے ملے گی اور پتھر بازی بڑھے گی۔ شوپیاں کے یہ واقعات اسے ہی ثابت کرتے ہیں۔

(انل نریندر)

10 مئی 2018

وادی میں دہشت گردوں کا صفایا: ماحول کیسے بہتر ہو

پچھلے کچھ مہینوں سے سکیورٹی فورس نے کشمیر وادی میں دہشت گردوں کی پہچان اور ان کا چن چن کر صفایا کرنے کارروائی چلا رکھی ہے۔ اس کارروائی میں انہیں کئی بڑی کامیابی ملی ہیں۔ پچھلے ایک ہفتہ میں شوپیاں میں حزب المجاہدین کے 5 سے زیادہ اور چھتہ بل میں لشکر طیبہ کے 3 دہشت گردوں کا مارا جانا تازہ کڑی ہے۔شوپیاں میں ایتوار کوسکیورٹی فورس نے برہان وانی گینگ کے آخری کمانڈر صدام پیڈر سمیت حزب المجاہدین کے پانچ دہشت گردوں کو مار گرایا۔پیڈر ان دنوں حزب المجاہدین کی رہنمائی کررہا تھا۔ اس کی موت کے بعد سے برہان گینگ کا صفایا ہوگیا ہے۔ 2015 میں برہان گینگ کے 11 دہشت گردوں کی تصویر سوشل میڈیا میں آئی تھی جس سے پوری وادی میں سنسنی پھیل گئی تھی۔ قابل ذکر ہے برہان وانی کی 8 جولائی 2016 کو انکاؤنٹر میں موت ہوگئی تھی۔شوپیاں میں ایتوار کو صبح سویرے مارے گئے دہشت گردوں میں کشمیر یونیورسٹی کا سوشل سائنس کا اسسٹنٹ پروفیسر محمد رفیع بٹ بھی ہے۔ اسے آتنکی بنے محض 36 گھنٹے ہی ہوئے تھے۔ اس طرح ایک مرتبہ پھر وادی میں حزب المجاہدین کی کمر توڑ دی گئی ہے۔ اسے بلا شبہ ہمارے بہادر سکیورٹی جوانوں کی بڑی کامیابی کہا جاسکتا ہے۔ جوائنٹ آپریشن کے دوران دہشت گردوں کو بھگانے کے لئے پتھر بازی کرنے والے پانچ شہری بھی مارے گئے۔ اس سے پہلے ایک اپریل کو ساؤتھ کشمیر میں فوج اور باقی فورس کے آپریشن میں 13 دہشت گردوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا تھا۔ اس دوران پتھر بازی میں 4 شہریوں کی بھی موت ہوگئی تھی۔ جس طرح وادی کے شہری ٹھکانوں سے سکیورٹی فورس کو دہشت گردوں کی چنوتیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا اس سے صاف ہے کہ انہیں پہنچنے والی اقتصادی مدد اور سازو سامان سے متعلق مدد روک پانے میں ہمیں توقع سے زیادہ کامیابی نہیں مل پائی ہے۔ برہان وانی کے مارے جانے کے باوجود کشمیر میں تحریک چھڑچکی تھی اور خاص کر نوجوانوں میں بڑے پیمانے پر حزب المجاہدین کی ممبر شپ لی تھی۔ مہینوں سے وادی میں پتھر بازی اور شہری ناراضگی کا ماحول بن رہا تھا۔ شہری حمایت اور پتھر بازی اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ کچھ عناصر وادی میں حالات سدھرنے نہیں دے رہے ہیں۔ رہ رہ کر دہشت گرد و مقامی نوجوان سکیورٹی فورس کے خلاف سر اٹھاتے رہے ہیں۔ خاص کر ریاست کے جنوبی حصہ میں حالات زیادہ تشویشناک ہیں۔ پتھر بازی اور سکیورٹی فورس پر سب سے زیادہ حملے انہی علاقوں میں ہوتے رہے ہیں۔ حالانکہ سرکار یہ دلیل دیتی ہے کہ دہشت گردی کے واقعات میں حال ہی کے مہینوں میں یہ کمی آئی ہے مگر اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ نوجوانوں میں دہشت گردی کی راہ پکڑنے اور سکیورٹی فورس کے خلاف ماحول بگاڑنے کی کارروائی ابھی تھمی نہیں ہے۔ یہ کام وہاں کی سرکار کو کرنا ہے۔ سکیورٹی فورس یہ نہیں کرسکتی۔ اگر ماحول بہتر نہیں ہوا تو اس کے لئے مفتی سرکار ذ مہ دار ہے۔
(انل نریندر)

آمیر اور ناہرگڑھ سمیت درجن بھر قدیمی وراثتوں کا ٹھیکہ

لال قلعہ کو مرکزی سرکار کی جانب سے ڈالمیا گروپ کو دئے جانے کی جو مخالفت ہورہی ہے۔ آئے دن اس فیصلے کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔ حال ہی میں اجے ماکن کی قیادت میں پردیش کانگریس کا مظاہرہ ہوا۔ صدر اجے ماکن نے کہا کہ مودی سرکار کے ذریعے تاریخی لال قلعہ کو سازش کے تحت نجی ہاتھوں میں دیا جانا نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ ہمیں قبول نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کانگریس ورکر علامتی طور پر 5-5 روپے دان پیٹی میں ڈال کر اکٹھا کرکے لال قلعہ کے رکھ رکھاؤ کے لئے مودی جی کو بھیجیں گے۔ اگر ضرورت پڑی تو کانگریس ورکر ہر برس 5 کروڑ روپے اکٹھاکرکے مرکزی حکومت کو دیں گے لیکن مودی سرکار کو لال قلعہ بیچنے نہیں دیں گے۔ ماکن نے کہا مودی سرکار اپنے پروپگنڈہ کے لئے 3 ہزار کروڑ روپے تو خڑچ کرسکتی ہے لیکن دیش کی قدیمی وراثت لال قلعہ کی مرمت و دیکھ بھال کے لئے پانچ کروڑ روپے سالانہ خرچ نہیں کرسکتی۔ ادھر چاندنی چوک سے عام آدمی پارٹی کی ممبر اسمبلی الکا لامبا نے بتایا کہ صرف گیٹ ٹکٹوں سے ہی لال قلعہ میں اینٹری کے لئے سالانہ 18 کروڑ روپے کے ٹکٹ بکتے ہیں۔ دیویا چیتنا کمیٹی کے ساتھیوں نے ہاتھوں میں ڈبے لیکر عام جنتا سے لال قلعہ کو بچانے کے لئے بسوں ،ای۔رکشہ میں بیٹھے مسافروں کے پاس جاکر ایک روپے کا ڈونیشن مانگا۔ مظاہرے کی قیادت کرتے ہوئے سکریٹری راہل شرما نے کہا کہ مرکز ایک طرف راشٹروادی ہونے کی بات کرتا ہے اور دوسری طرف قوم کی وراثت لال قلعہ کو سنبھالنے میں ناکام ہوگیا ہے۔ ہم سرکار کے اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہیں اور سبھی دیش واسیوں سے اپیل کرتے ہیں کہ تاریخی وراثت لال قلعہ کو بچانے کے لئے ایک روپے کا عطیہ دیں۔ اس دان کی راشی کو پردھان منتری ریلیف فنڈ میں بھیجا جائے گا۔ خبر یہ بھی ملی ہے کہ مرکزی سرکار کی گود لی ہیریٹیج یوجنا میں راجستھان کی بھی قریب ایک درجن تاریخی وراثتوں کو پرائیویٹ سیکٹر کو سونپا جائے گا۔ ان میں دنیا کا مشہور آمیر او ر ناہرگڑھ کا قلعہ بھی ہے۔یوجنا کے تحت سال2018 میں 90 سے زیادہ تاریخی وراثتوں کو گود لیا جائے گا۔ ان میں تین کیٹگری بنائی گئی ہیں جن میں گرین، بلیو اور اورینج کیٹگری ہے۔ گرین کیٹگری میں رکھی گئی وراثتیں لینے والوں کو بلیو اور اورینج کیٹگری کی ایک وراثت بھی لینی ہوگی۔ ویسے بلیو اور اورینج کیٹگری کی وراثت ہی کوئی لے یا چاہے تو لے سکتا ہے۔راجستھان میں جو اہم قلعہ پرائیویٹ سیکٹر کو سونپے گئے ہیں ان میں چتوڑ گڑھ کا قلعہ جو دنیا کی مشہور وراثتوں میں شامل ہے۔ پہلے جیسلمیر کا قلعہ یوجنا کے دوسرے مرحلہ میں ناہرگڑھ اور آمیر قلعہ تیسرے مرحلہ میں سونپا جائے گا۔ اورینج کیٹگری میں رکھی گئی وراثتوں میں ڈگ پلیس (بھرت پور) مان گڑھ (الور)، مندور فورٹ (جودھپور) ہیں۔ بھرت پور فورٹ اور گڑھ فورٹ (دھول پور ) محل بادشاہی(پشکر) قابل ذکر ہیں۔
(انل نریندر)

09 مئی 2018

افغانستان میں 7 انجینئروں کا اغوا

خانہ جنگی سے تباہ حال افغانستان کی مدد کرنے اور وہاں ترقی کو رفتار دینے میں لگا بھارت ہمیشہ سے طالبان کی آنکھوں میں کھٹکتا رہا۔ بغلان صوبہ میں ایتوار کو بجلی ٹرانسمیشن لائن لگانے والی ہندوستانی کمپنی کے ای سی کے 8 ملازمین کو مسلح افراد نے اغوا کرلیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق طالبان جنگ باز انہیں سرکاری ملازم سمجھ کر اپنے ساتھ لے گئے۔ ایسوسی ایٹیٹ پریس کے مطابق ان میں 7 ہندوستانی انجینئر شامل ہیں اس کے علاوہ ایک افغان شہری بھی اغوا کیا گیا۔ جس جگہ سے اغوا ہوا وہاں حالیہ دنوں میں طالبان کی طاقت کافی بڑھی ہے۔ مانا جارہا ہے کہ اس اغوا میں بھی طالبان کا ہاتھ ہے۔ افغان چینل تولو نیوز نے اپنے حکام کے حوالہ سے بتایا کہ اغوا بغلان کی راجدھانی پل اے خوچر کے باغ شمائل علاقہ میں ہوا۔ سبھی الیکٹرک انجینئرہیں۔ کے ای سی کو اس علاقہ میں ایک بجلی سب اسٹیشن کو چلانے کاکام ملا ہوا ہے۔ ادھر آر پی جی انٹر پرائز کے چیئرمین ہرش گوئنکا نے انجینئروں کو چھڑانے کے لئے وزیر خارجہ محترمہ سشما سوراج سے مدد مانگی ہے۔ کے ای سی بڑے پیمانے پر بجلی کے سیکٹر میں کام کرتی ہے۔ اس کے افغانستان میں قریب 150 انجینئر و تکنیکی ماہرین مختلف پروجیکٹوں پر کام کررہے ہیں۔ افغانستان میں ہندوستانی ہمیشہ نشانہ پر رہے ہیں۔ پاک حمایتی آتنکی گروپ افغانستان میں بھارت کی موجودگی و ترقی کا کام کرنے سے پریشان رہتا ہے اور یہ گروپ بھارت کو وہاں سے بھگانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ افغانستان بھارت کے لئے ہمیشہ اہم ترین ملک رہا ہے۔ بھارت نے افغانستان کی ہر ممکنہ مدد کی ہے۔ اس کی تعریف امریکہ بھی کرتا ہے۔ بھارت نے افغانستان میں اربوں ڈالر کے ترقیاتی پروجیکٹ شروع کرنے کے ساتھ فوجی تعاون بھی بڑھایا ہے۔ بھارت نے افغانستان کے پارلیمنٹ ہاؤس کے لئے مالی مدد دی تھی اور اس کی تعمیر بھی کروائی تھی۔ حال ہی میں بھارت نے افغانستان کو چار ایم آئی 25 ہیلی کاپٹروں کا تحفہ بھی دیا تھا جبکہ ہر سال سینکڑوں افغان فوجی اور پولیس ملازمین کو بھی ٹریننگ دیتا ہے۔ وہیں طالبان بھارت کی مدد کی مذمت کرتا آرہا ہے۔ جرمنی کی ہائڈل برگ یونیورسٹی میں ساؤتھ ایشیا معاملوں کے ماہر جگفیلٹ وولف کہتے ہیں کہ کابل میں ہونے والے طالبان کے حملہ صرف افغان سرکار کے خلاف نہیں ہوتے بلکہ بھارت کے افغانستان سے باہر رکھنے کی طرف اشارہ ہے۔ پہلے بھی دسمبر 2003 میں ہندوستانیوں کا اغوا ہوا تھا لیکن انہیں بعد میں چھوڑدیا گیا۔ وہیں جولائی 2004 میں تین ہندوستانی ٹرک ڈرائیوروں کا اغوا کرلیا گیا تھا انہیں چھڑانے کے لئے بھارت سرکار کو کافی مشقت کرنی پڑی تھی۔ وہیں اس کے بعد نومبر 2005 میں ساؤتھ ویسٹ افغانستان میں ایک ہندوستانی سمیت تین شہریوں کا اغوا کرلیا تھا۔ ہندوستانی شہری کٹی کی لاش افغانستان کے جنوبی صوبہ میں سڑک کے کنارہ ملی تھی۔ ہم پرارتھنا کے ساتھ امیدکرتے ہیں کہ ان ساتوں ہندوستانیوں کی رہائی جلد ہوگی۔
(انل نریندر)

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...