Translater

15 اپریل 2015

یمن جنگ میں پاکستان کا غیر جانبدار رہنے کا صحیح فیصلہ

سعودی عرب اور اس کے اتحادی ملک میں ایران حمایتی شیعہ باغیوں پر ہوائی حملے کررہے ہیں۔بیشک ہوائی حملے ہورہے ہیں لیکن حوثی لڑاکو نے یمن کے زیادہ تر حصوں پر قبضہ کرلیا ہے۔دو ہفتے گزر گئے ہیں لیکن سعودی عرب کی رہنمائی والا اتحاد حوثی باغیوں کے کنٹرول والے علاقے کو آزاد کرانے میں ناکام رہا ہے۔ باغیوں کا اثر بڑھتا چلا جارہا ہے اور ان کے بڑھتے اثر کے سبب صدر ابدربو منصور حادی کو دیش چھوڑ کر بھاگنا پڑا ہے۔ اس معاملے میں تہران اور باغی دونوں انکار کرتے ہیں کہ ایران انہیں ہتھیار دے رہا ہے۔ حوثیوں اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کے وفاداروں سمیت دیگر اتحادیوں پر مسلسل ہورہے حملے بھی باغیوں کو ادن کی طرف بڑھنے سے نہیں روک پا رہے ہیں۔ اس درمیان سعودی عرب نے پاکستان سے فوجی مدد مانگی ہے اور اپنے فوجیوں کو یمن میں لڑنے کے لئے اپیل کی ہے۔ سعودی عرب نے پاکستان سے کہا تھا کہ وہ یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف 10 ملکوں کی طرف سے چلائی جارہی مہم کیلئے فوجی و جہاز اور جنگی بیڑے مہیا کرائے۔ پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف نے اس درخواست پر پاکستانی ممبران پارلیمنٹ و پاک فوج کی رائے مانگی تھی۔ گزشتہ پیر کو پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا گیا تھا اور یمن کے حالات و سعودی عرب کی اپیل پر چار دنوں تک بحث چلی ۔ اس کے بعد جمعہ کو اتفاق رائے سے ریزولوشن پاس کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو اس لڑائی میں غیر جانبداری برتنی چاہئے تاکہ وہ اس بحران کو ختم کرنے میں زیادہ سرگرم سفارتی رول نبھا سکے۔پارلیمنٹ میں پاس ہوئے ریزولوشن کا مطلب ہے کہ پاکستان اب یمن کے اندر جنگ میں حصہ نہیں بنے گا۔ ریزولوشن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان کو سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کی حفاظت کیلئے ریاض کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا رہنا چاہئے۔ اس میں سعودی عرب کے تئیں پوری حمایت ظاہر کی گئی۔ پاکستان کو غیر جانبدار رکھنے کیلئے پڑوسی ایران نے اپنے وزیر محمد جواد ظریف کو اسلام آباد بھیجا۔ ظریف نے نواز شریف ، کل فوج کے سربراہ راہل شریف سے ملاقات کی۔
ظریف ایسے وقت میں پاکستان گئے جب دیش کی پارلیمنٹ فوجی لڑاکے یا جنگی جہاز مہیا کرانے کے سعودی عرب کی درخواست پر غور کررہی تھی۔ پاکستان بری طرح سے پھنس گیا ہے ادھر کنواں تو ادھر کھائی۔ سعودی عرب سے اسے اربوں ڈالرہر برس ملتے ہیں، اسے وہ کسی حالات میں ناراض نہیں کرسکتا۔ دوسری طرف ایران ان کا پڑوسی ہے اسے بھی ناراض نہیں کرنا چاہتا اس لئے پاکستان نے بیچ کا راستہ اپنایا ہے اور غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں یہ صحیح بھی ہے پاکستان کو اپنے فوجی یمن میں نہیں بھیجنے چاہئیں۔ کیونکہ نہ تو انہیں وہاں کے زمینی حالات پتہ ہیں اور نہ ہی اسے اس خانہ جنگی کا حصہ بننا چاہئے۔ ہاں ایک اور راستہ ہو سکتا ہے کہ وہ لشکرطیبہ و دیگر جہادی تنظیموں کو یمن میں سعودی اتحاد کے ساتھ لڑنے کو بھیج سکتا ہے۔
(انل نریندر)

10 سال پرانی ڈیزل گاڑیوں پر پابندی کا سوال

دہلی میں خطرناک سطح پر پہنچ چکی ہوائی آلودگی پر روک لگانے کیلئے نیشنل گرین ٹربونل نے پچھلے دنوں دو بڑے فیصلے سنائے۔ پہلا تو این جی ٹی نے دہلی میں 15 سال پرانی سبھی طرح کی گاڑیوں کے چلنے پر روک لگائی اور دوسرا 10 سال پرانی ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں پر بھی پابندی عائد کردی ہے۔ا ب جن کے پاس ڈیزل سے چلنے والی گاڑیاں ہیں وہ لوگ پس و پیش میں ہیں کہ کیا کریں کیا نہ کریں؟ لوگوں کو ڈر ہے کہیں چیکنگ کے چکر میں ان کی گاڑیاں نہ پکڑ لی جائیں۔ پرائیویٹ کے ساتھ ساتھ ڈیزل سے چلنے والی کمرشل گاڑیوں کا استعمال کرنے والے بھی الجھن میں ہیں۔ ایسی سبھی گاڑیاں جو اپنی میعاد سے اب تک10 سال کا وقت پورا کر چکی ہیں اورجو ڈیزل سے چلتی ہیں ان پر یہ پابندی نافذ ہوگی۔ ان میں کمرشل گاڑیاں جیسے ٹرک ،ٹینکر، کنٹینر، ڈمپر، ٹریکٹر ،ٹرالی، مال ڈھونے والی چھوٹی موٹی گاڑیاں، ٹورسٹ بسیں، منی بسیں کے علاوہ ڈیزل سے چلنے والی پرائیویٹ گاڑیاں جیسے ایس یو وی، جیپ، کار وغیرہ بھی شامل ہیں۔ اگر آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ اپنی10 سال پرانی گاڑی میں سی این جی لگوا کر آپ اسے 5 سال اور چلوا لیں گے تو آپ ایسا بھی نہیں کرسکتے۔ کیونکہ دہلی سرکار کا محکمہ ٹرانسپورٹ ڈیزل انجن والی گاڑیوں میں لگی سی این جی کٹ کو منظوری نہیں دیتی اور اسے گاڑی کی آر سی پر درج نہیں کرتا۔اگر آپ نے کہیں سے کٹ لگوا بھی لی تو غیر قانونی مانا جائے گا۔ قومی گرین ٹریبونل(این جی ٹی) کے اس فیصلے کی مخالفت شروع ہوگئی ہے۔ اس فیصلے کے خلاف ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن نے پیر کی آدھی رات سے پورے این سی آر میں چکا جام کرنے کی وارننگ دی تھی اور کہا تھا کہ ڈیزل والی گاڑیوں پر پابندی کی وجہ سے مختلف ضروری خدمات میں استعمال ہونے والی گاڑیاں زد میں آئیں گی۔دہلی جل بورڈ کے کچھ ٹینکر ڈیزل سے چلتے ہیں ان سے ناجائز کالونیوں میں پانی کی سپلائی کی جاتی ہے۔ پابندی سے جل بورڈ پانی کی سپلائی میں دقت آئے گی۔ اسی طرح دہلی میں یومیہ جمع ہونے والے کوڑے کو لینڈفل سائٹ تک پہنچانے کیلئے ایم سی ڈی شہر میں ڈیزل سے چلنے والے ٹرک ہی استعمال کرتا ہے۔ لینڈ فل سائٹ تک کوڑا پہنچانے میں پریشانی ہوگی۔
ایک طرف پولیس اور ٹرانسپورٹ محکمہ طے میعاد پار کرچکی گاڑیوں کی دھڑپکڑ میں لگے ہیں دوسری طرف ٹرانسپورٹر این جی ٹی کے حکم کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کرنے کی تیاری میں ہیں۔ اس میں دو رائے نہیں کہ اس حکم پر عمل ہونے سے نجی اور کمرشل گاڑی مالکوں کو خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ خاص کر کمرشل گاڑیوں کی جو15 سال کی میعاد کے مطابق چلتی آئی ہیں وہ اس پابندی سے متاثر ہوں گی۔ ان گاڑی مالکوں کی مشکلیں سمجھی جاسکتی ہیں جنہوں نے15 سال کے لئے یکمشت ٹیکس جمع کررکھا ہے۔ ان کی پریشانی یہ بھی ہے کہ نیا ٹرک ابتدائی 10 برس میں بمشکل لاگت نکال پاتا ہے اور اگلے پانچ برسوں میں اس سے ہونے والی کمائی ہی مالکوں کو منافع دیتی ہے۔ اسی طرح مہنگے پیٹرول کی وجہ سے ڈیزل سے چلنے والی پرائیویٹ گاڑیوں کی بکری خوب بڑھی ہے کیونکہ ڈیزل گاڑیوں کی زیادہ قیمت کی وجہ سے ابتدائی برسوں میں ایندھن پر ہورہی بچت کاغذی ہوتی ہے۔ مالک سوچتا ہے کہ بعد کے برسوں میں اس کا فائدہ ملے گا۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ عمر کے بجائے فٹنیس گاڑیوں کو ہٹانے کا پیمانہ ہونا چاہئے۔ اچانک پابندی کے خطرے کا سامنا کررہے ڈیزل مالکوں کو تھوڑی راحت ملی ہے۔ این جی ٹی نے سڑکوں پر چلنے والی 10 سال پرانی ڈیزل گاڑیوں کو ضبط کرنے کے احکامات کو دو ہفتے کے لئے پیر کو ٹال دیا ہے لیکن یہ مسئلے کا حل نہیں ہے۔ خبر ہے کہ ٹرانسپورٹر اب اس حکم کے خلاف سپریم کورٹ جانے کی تیاری کررہے ہیں اور عدالت سے این جی ٹی کے حکم پر 6 ماہ کیلئے التوا کا حکم مانگیں گے۔
(انل نریندر)

14 اپریل 2015

ہند۔ فرانس میں رافیل جنگی جہاز سپلائی سمجھوتہ

ہندوستان کی فضائیہ جدید جنگی جہازوں کی قلت کاسامنا کررہی ہے اب اسکو 18برسوں کے طویل عرصہ کے انتظار کے بعد رافیل جیسے جدید اور اپنے نشانے کو بہتر طریقہ سے نشانہ لگانے کی صلاحیت والے جنگی جہاز فرانس سے ملنے کی امید پیدا ہوگئی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کے دورے کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان 17سمجھوتوں پر دستخط ہوئے۔ فرانس نے ہندوستان میں دو اب ڈالر یورویعنی ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کااعلان کیا ہے اس میں ائرس بنائیں گی۔ فرانس میں وزیراعظم نریندر مودی کا جس طرح سے خیرمقدم اور وہاں کے میڈیا میں ان کے دورے کو اہمیت دی گئی ہے اس سے وزیراعظم کے دنیا کے ملکوں میں بڑھتے قد کاپتہ چلتا ہے۔
رافیل جنگی جہازوں کو خریدنے کاسلسلہ پچھلی یوپی اے حکومت نے شروع کیاتھا۔یہ کہنا مشکل ہے جہازوں کے سودے کو کیاقطعی شکل ملے سکے گی۔ لیکن خوش آئین بات یہ ہے کہ ہندوستانی فضائیہ کی ضرورتوں کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے بھارت کو دوسال میں ہی جنگی جہاز مل جائیں گے۔ لیکن سودے کی مخالفت بھی شروع ہوگئی ہے یہ کسی پارٹی کی طرف سے نہیں بلکہ خود نریندر مودی کی پارٹی بھاجپا کے لیڈر سبرامنیم کی طرف سے کی گئی ہے انہوں نے تو یہاں تک دھمکی دیدی ہے کہ وہ اس سودے کو عدالت میں چیلنج کریں گے ان کی دلیل ہے لیبیا اور مصر میں رافیل جنگی جہاز کھرے نہیں اترے۔ خراب پرفارمنس کی وجہ سے کئی ملکوں کے ساتھ اس کے معاہدے ختم ہوچکے ہیں۔ ساتھ ہی ان جہازوں میں ایندھن کی کھپت بھی زیادہ ہوتی ہے اس لئے اس سودے کو ہری جھنڈی دینے کے خلاف ہیں کیونکہ معاملہ ملکی سلامتی سے وابستہ مسئلہ ہے۔ اگر ڈاکٹر سبرامنیم سوامی کی دلیل صحیح ہے تو اس پر مودی سرکار کو غور کرناچاہئے۔ ڈاکٹر سوامی کی دلیل میں دم اس لئے بھی لگتا ہے کہ فرانس کے ساتھ طویل عرصہ سے ان جہازوں کی خرید کاسودا نہیں ہوپارہا تھا۔ یوپی اے حکومت میں تمام تکنیکی پہلوؤں پر غور کرنے کے بعداسے ائر فورس کے بیڑے میں شامل کرنے کافیصلہ لیاگیا تھا۔ اب این ڈی اے حکومت نے ائر فورس کی فوری ضرورتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے ان کو جلد سے جلد خریدنے کافیصلہ کیا ہے حالانکہ جہازوں کی آمد میں قریب دوسال لگ سکتے ہیں۔ وہیں ڈیفنس ماہرین نے بھی ان جہازوں کی خرید پر تشفی جتائی ہے او رکہا کہ ان کے ائر فورس کے بیڑے میں شامل ہونے سے ائر فورس کی نئی طاقت ملے گی۔
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ فرانس کے ساتھ جو معاہدے ہوئے ہیں ان کے لئے کوئی ایسا سسٹم بنایا جائے تاکہ مختلف ملکوں سے سرکار نے جو معاہدے کئے ہیں ان کے جلد سے جلد نتیجے سامنے آئیں کیونکہ کئی مرتبہ معاہدوں کے عمل میں وقت لگتا ہے لیکن وزیراعظم نریندر مودی کے کام کرنے کے طریقہ سے امید یہی کی جاسکتی ہے فرانس سے جہاز جلدی آئیں گے ہم ڈیفنس طاقت کے اعتبار سے مضبوط ہوں گے۔ وزیراعظم کو جوکامیابی فرانس میں ملی ہے وہ جرمنی اور کینیڈا میں بھی ملے گی۔

دہلی والو ہوشیار۔ سبزی ۔ دودھ کی قلت کاخطرہ

دیش کی راجدھانی او رمرکزی زیر انتظام ریاست دہلی کادنیا کے شہروں میں جب شمار ہوتا ہے تو اس کو سب سے زیادہ آلودہ شہر ماناجاتا ہے۔اس آلودگی کی سب سے بڑی وجہ دہلی میں ہریانہ۔ اترپردیش۔ پنجاب۔ ہریانہ۔ ہماچل وغیرہ پڑوس ریاستوں سے تقریبا ایک سے ڈیڑھ لاکھ پیٹرول ۔ ڈیزل سے چلنے والے ٹرک اور بسیں ۔ کاریں آتی جاتی ہیں ان سے نکلنے والے دھویں سے دہلی کی آب وہوا میں آلودگی سطح بڑھی ہے دہلی کی سابقہ شیلا سرکار نے ڈیزل سے چلنے والے ٹرکوں کو دہلی میں آمدروفت کو رات 9 بجے تک روک لگادی تھی۔ لیکن فیصلہ پر ٹرانسپورٹروں کی مخالفت کی وجہ سے نرمی برتی گئی۔ جس سے راجدھانی میں دن بدن آلودگی سطح بڑھتی جارہی ہے۔ اس سے دہلی کے لوگوں میں دمہ۔ سانس اورکینسر کی بیماریوں میں اضافہ کاخطرہ بڑھ گیا ہے۔ عالمی صحت تنظیم(WHO) نے اس بڑھتی آلودگی پر مرکزی حکومت کو پیش کردہ رپورٹ میں اپنی تشویش جتا چکی ہے۔
اب نیشنل گرین ٹریبونل( ) نے دہلی۔ این سی آر آلودگی سطح کو بھانپتے ہوئے پرانی گاڑیوں پر پابندی کا جواہم فیصلہ کیا ہے۔ یہ لائق خیرمقدم ہے اس نے قواعد کی دھجیاں اڑا رہے ٹرانسپورٹروں اور بلڈروں پر 50ہزار روپے تک کے جرمانے لگانے کابھی حکم دیا ہے۔ اب ٹرانسپورٹ انفورسمنٹ ایجنسیوں کو اس فیصلہ پرتعمیل کرانے کی ذمہ داری ہوگی۔ اس فیصلہ سے دن رات میں ٹرکوں۔ پرانی بسوں کے چلنے سے گھنٹوں مسافروں کو جام کاشکار رہنا پڑتا ہے ان کو راحت ملے گی وہیں دہلی میں بڑھتی آلودگی سطح میں بھی کمی آئے گی۔ جس سے غیرملکی سیاحوں کی تعداد بھی بڑھے گی این جی ٹی کے فیصلہ پر ٹرانسپورٹروں نے سخت ناراضگی جتائی ہے۔ ان کادعوی ہے کہ وہ دہلی کو سبزی۔ پھل۔ دودھ کو ڈھلائی کرتے ہیں۔ 10 سال پرانی گاڑیوں کے چلنے پر پابندی لگنے سے پیر کی آدھی رات سے چکا جام کرنے کااعلان کیا ہے۔ آل انڈیا موٹرس ٹرانسپورٹ کانگریس کے چیئرمین بھیم وادھوا نے دھمکی ہے کہ کوئی بھی گاڑی مال لیکر دہلی میں نہیں آئے گی۔ جس سے دہلی میں دودھ۔ سبزی۔ پھلوں کی قلت کھڑی ہونے سے دام آسمان چھو سکتے ہیں۔ عام لوگوں میں ہائے توبہ مچ سکتی ہے لوگوں کی امکانی پریشانی کو دیکھتے ہوئے مرکزی اورریاستی سرکاریں مسئلہ کاکوئی ایسا حل نکالیں جس سے قومی راجدھانی میں اشیائے ضروریہ کی قلت نہ ہو ساتھ ہی ان ٹرکوں کے مالکان اورڈرائیوروں کی روزی روٹی کو دھکا نہ لگے۔ ٹرانسپورٹرس کو بھی چاہئے کہ وہ این جی ٹی کے فیصلہ پر تعمیل کیخلاف چکا جام جیسی تحریک نہ چھیڑیں اس سے عام آدمی کے ننھے بچوں کو دودھ جیسی ضرورت سے محروم رہنا پڑسکتا ہے۔ این جی ٹی کافیصلہ عام آدمی کی صحت کے لئے فیصلہ حق بجانب ہے لیکن انسان کی زندگی کے پہلو کو بھی سامنا رکھا جاناچاہئے۔ کیونکہ وہ پہلے ہی مہنگائی کی مار سے دوچارہے اشیائے ضروریہ کی قلت سے اس کو آسمان چھوتی قیمتوں پر سامان لینے پر مجبور ہوناپڑے گا۔ سرکار کو اور ٹرانسپورٹروں کو بلا کر ہڑتال ٹلوانے کے لئے کارگر قدم اٹھائے۔

12 اپریل 2015

ٹیم کیجریوال اور ٹیم یوگیندر یادو میں آر پار کی لڑائی

بٹوارے کے دہانے پر کھڑی عام آدمی پارٹی کے لیڈروں اور انتظار فی الحال 14 اپریل کی میٹنگ کا ہے۔ آپ کے دونوں گروپوں کی اگلی حکمت عملی میٹنگ اور ملی عوامی حمایت سے طے ہوگی۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ یوگیندر یادو، پرشانت بھوشن اینڈ کمپنی کی کوشش ہے کہ میٹنگ میں پارٹی سے وابستہ پرانے لوگوں کی زیادہ سانجھے داری ہو جبکہ ٹیم کیجریوال کا منصوبہ ہے کہ یوگیندر یادو، پرشانت بھوشن سمیت ان کے ساتھیوں کو میٹنگ سے پہلے باہر کردیا جائے۔ غور طلب ہے کہ یادو اور بھوشن نے 14 اپریل کو آپ کی قومی کونسل کی ایک میٹنگ بلائی ہے۔ فون کرکے ایگزیکٹو کونسل کے ممبروں سے جذباتی اپیل کی جارہی ہے کہ اس میٹنگ سے صاف ہوجائے گا پارٹی میں کون کس کے ساتھ ہے۔ اس دوران پارٹی کے ورکروں میں شش و پنج کی صورتحال پائی جاتی ہے۔وہ کنفیوز ہیں آپ کو دئے عطیہ کا سلسلہ الگ سے شروع ہوگیا ہے۔ لندن کے ایک باشندے کندن شرما کی طرف سے ویگن آر کار کو واپس کرنے کی مانگ کی گئی ہے۔ یہ وہی کار ہے جس میں سوار ہوکر کیجریوال نے چناؤ کمپین چلائی تھی اور وہ49 دن کی اپنی حکومت کے دوران اسی نیلی رنگ کی ویگن آر کار سے دفتر آتے جاتے تھے۔ دہلی اسمبلی چناؤ 2013 ء کے دوران آپ حمایتی کندن شرما نے کیجریوال سے متاثر ہوکر انہیں نیلے رنگ کی ویگن آر کار عطیہ میں دے دی تھی کیجریوال نے اسی کار میں چناؤ مہم چلائی تھی۔ عام آدمی پارٹی میں کئی دنوں سے جاری گھماسان سے ناراض ہوکر کندن شرما نے اپنی گاڑی واپس کرنے کی مانگ کی ہے۔ادھر یوپی کے شہر لکھنؤ سے آپ کے ورکر سنیل کمار لال نے پارٹی کے ’’لوگو‘‘پر دعوی کیا ہے۔ کیجریوال کو بھیجے گئے خط میں سنیل نے کہا ہے کہ پارٹی اس ’’لوگو‘‘ کا استعمال بند کردے جسے ڈیزائن انہوں نے کیا تھا۔ ان کا ’’لوگو‘‘ پارٹی کے لیٹر ہیڈ، جھنڈے، بینر سے ہٹا دیا جائے۔ کیجریوال کے مخالف فریق نے اروند کیجریوال کو ہٹلر بتاتے ہوئے دہلی بھر میں پوسٹر چپکا دئے ہیں۔ بھگت کرانتی سینا کے نام سے جگہ جگہ چپکائے گئے پوسٹر میں کیجریوال کا موازنہ ہٹلر سے کیا گیا ہے۔ پوسٹروں میں لکھا ہے کہ عام آدمی پارٹی میں رہنا رہے تو اروند اروند کہنا ہوگا۔ اس کے علاوہ پوسٹروں میں آپ کی قومی ایگزیکٹو سے نکالے گئے یوگیندر یادو، پرشانت بھوشن، پروفیسر آننت کمار سمیت سبھی لیڈروں کے تئیں ہمدردی جتائی گئی ہے۔
گذشتہ منگل کو عام آدمی پارٹی کی ویب سائٹ پر عجیب نام سے چندہ آیا۔ چندہ دینے والوں کے پتوں کی جگہ پر ’آپ‘ اور کیجریوال کو بے عزت کرنے والے الفاظ لکھے تھے۔ ایسے ناموں سے ملے چندے کی رقم بھی ایک سے تین روپے کے درمیان تھی۔ ہٹلر کاایڈمنسٹریٹر کیجریوال نام سے 1 روپیہ، دیش دروہی کیجریوال سے 1 روپیہ، بے ایمان کیجریوال 1 روپیہ اور دہلی بھاجپا کو 3 تیر نام سے پارٹی کھاتے میں 3 روپے جمع کرائے گئے ہیں۔ یہ سبھی نام پارٹی کی ویب سائٹ پر دیر رات تک موجود تھے۔ اس بارے میں پارٹی کی طرف سے کوئی رائے زنی نہیں کی گئی۔ ادھر ٹیم یوگیندریادو کی کوشش ہے کہ 14 اپریل کی میٹنگ میں کونسل کے ممبران کی اکثریت رہے۔ اس سے آگے کی حکمت عملی ان کے حق میں ہوگی۔ دوسری طرف ٹیم کیجریوال کی کوشش ہے کہ ڈسپلن شکنی کی کارروائی کرتے ہوئے ٹیم یادو کو پارٹی سے باہر کردیا جائے۔ ذرائع کی مانیں تو14 اپریل سے پہلے اس پر فیصلہ ممکن ہے۔ لگتا ہے اب آر پار کی لڑائی ہے اور کیجریوال ہر حال میں پارٹی پر اپنا قبضہ قائم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
(انل نریندر)

ان پراکسی سیکولرسٹوں کیلئے ایک اور سبق!

ہندوستان کی پانچ ہزار سال پرانی جسمانی، ذہنی اور روحانی روایات یوگ کی اہمیت پر مہر لگا کر امریکہ کی بڑی عدالت نے ثابت کیا ہے کہ اس کا ہندوتو کے فروغ سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔اسکولوں میں اس کے سکھائے جانے سے کسی کی مذہبی آزادی کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔امریکہ کی ایک عدالت نے کہا کہ کیلیفورنیا کے پرائمری اسکول میں یوگ سکھائے جانے سے ہندوتو کی حمایت نہیں ہورہی ہے اور نہ ہی طلبا کی مذہبی آزادی کے حق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ سینڈڈیاگو کی تین نفری اپیلیٹ عدالت نے طلبا کے ماں باپ کی طرف سے دائر کردہ ایک مقدمے پر اتفاق رائے سے یہ فیصلہ سنایا ہے۔ انہوں نے شکایت کی تھی کہ اوٹ پٹانگ یوگ کی تعلیم دے کر انیسیم ضلع کے ایک اسکول میں ہندو اور بودھ مذہب کو فروغ دیا جارہا ہے۔ یوگ کو فروغ دینے والے ایک غیر مفاد کاری گروپ سے تین سال کی گرانڈ ملی ہے اس کے تحت ضلع کے5600 طلبا کو 30 منٹ تک ہفتے میں دو بار یوگ سکھایا جاتا ہے۔ طلبا کے ماں باپ نے دلیل دی تھی کہ اسکول کا یوگ پروگرام روحانیت پر مبنی ہے اور اس لئے غیر آئینی ہے۔ عدالت کے دستاویزات کے مطابق عدالت کو یہ مقرر کرنا ہے کہ اسکول کا یوگ پروگرام جسمانی تعلیمی نصاب کا حصہ ہے یا کیلیفورنیا کے آئین کی خلاف ورزی کرکے مذہب کی نامنظوری کی تصدیق کرتا ہے؟ عدالت نے یوگ کلاسوں کا ویڈیو دیکھا جنہیں روایتی جم کلاسس کے طور پر دکھایا جاتا رہاہے۔ جسٹس سنتھیا ایرون نے کہا کہ ہمارا خیال ہے کہ پروگرام کے مقصد میں سیکولرازم ہے اور اس کا مذہب کو آگے بڑھانے یا روکنے پر ابتدائی اثر نہیں ہے۔ اور ضلع اسکول مذہب میں زیادہ نہیں اچھالتا ہے اس لئے ہمارا نتیجہ یہ ہے کہ نچلی عدالت نے صحیح نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ضلع کا یوگ پروگرام ہماری ریاست کے آئین کی خلاف ورزی نہیں کرتا ہے۔ بھارت اپنی جن تمام خوبیوں کے ساتھ پھر دنیا کی لیڈر شپ کرنے کی ڈگر پر گامزن ہے اس میں یوگ کی شکل میں دنیا کو اس کا اشتراک بہت اہم پہلو ہے۔ آج امریکہ اور یوروپ کے کئی ملکوں کے اسکولوں اور سماجوں میں روایتی جمنگ کے زیادہ فائدے مند متبادل کی شکل میں یوگ کی تعلیم اور چلن بڑھ رہا ہے لیکن بھارت کے خود ساختہ سیکولر نظریہ رکھنے والوں کا نقطہ نظر اتنا اوچھا ہے کہ ان کی آنکھ سے فرقہ پرستی کا چشمہ ہٹتا ہی نہیں ہے۔ آج کی میڈیکل سائنس علاج کے ساتھ یوگ کے استعمال کو ویریفائی کرتی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی ایک اپیل پر دنیا کے 175 ملکوں نے بین الاقوامی دوس منانے کی رضامندی یوں ہی نہیں دے دی۔ لیکن یہ سب دیکھ اور سمجھ پانے کیلئے منفی نظریئے کا چشمہ اتارنا پہلی شرط ہے۔
(انل نریندر)

11 اپریل 2015

تاکہ جہیز انسداد قانون اذیت رکے، بیجا استعمال رکے

یہ اچھی بات ہے کہ مودی حکومت جہیز انسداد قانون میں کچھ ضروری ترمیم کرنے پر غور کررہی ہے۔ یہ وقت کا مطالبہ ہے۔ جب جہیز انسداد قانون بنا تھا تو اس کے پیچھے جہیز کے لالچیوں کو سخت قانون بنا کر بیویوں کو جو مارنے کا سلسلہ چل پڑا تھا اسے روکنا مقصد تھا۔جہیز سے وابستہ قتل تو رکے نہیں لیکن اس قانون کا وسیع پیمانے پر بیجا استعمال ہونا شروع ہوگا۔ فرضی شکایات کے چلتے جہیزاذیت انسداد قانون کے بڑھتے معاملوں کو دیکھتے ہوئے حکومت اس میں ترمیم کرنے جارہی ہے۔ اس سے جہیز ٹارچر انسداد قانون کا بیجا استعمال بند ہوسکے گا اور بے وجہ کوئی جیل نہیں بھیجا جائے گا۔ آپ اگر تہاڑ جیل جائیں تو وہاں پائیں گے جہیز اذیت انسداد قانون کے تحت درجنوں مرد اور عورتیں ، بزرگ بند ہیں ساتھ ہی مقدمے کے دوران میاں بیوی میں سمجھوتے کے ذریعے مسئلے کے حل کا متبادل مہیا کرایا جائے گا۔ ویسے تو اس قانون میں تبدیلی کی پہل تبھی شروع ہوجانی چاہئے تھی جب سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں صاف طور سے یہ کہا تھا کہ یہ قانون غصے والی خواتین کے ہاتھوں میں ایک ہتھیار کی طرح ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں رہ گیا تھا کہ اس قانون کا وسیع پیمانے پر بیجا استعمال ہورہا ہے۔ وزارت داخلہ کے مطابق مرکزی کیبنٹ کی منظوری کیلئے دفعہ498A میں ترمیم کا ڈرافٹ نوٹ تیار کیا گیا ہے۔ آئینی کمیشن و جسٹس ملت کمیٹی کی تجویز کے مطابق عدالت کی رضامندی سے ایسے معاملوں میں سمجھوتہ ہوسکے گا۔ترمیمی بل کا ڈرافٹ تیار کر کیبنٹ کو بھیجے گا۔ اس کرائم کو معاہدہ لائق بنا دیا جائے تو شوہر اور اس کے رشتے داروں کے خلاف جہیز اذیت کے جھوٹے الزامات کے معاملوں میں زبردست کمی آسکتی ہے۔ فی الحال جہیز اذیت انسداد قانون غیر ضمانتی ہے اور اس میں سمجھوتے کی اجازت نہیں ہے۔ ملزم کی فوری گرفتاری ہوتی ہے۔ جھگڑالو فریقین کے درمیان دوبارہ ملن کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔ قصوروار کو تین برس تک کی جیل کی سہولت ہے۔ مجوزہ ترامیم کے مطابق جہیز اذیت کا کیس جھوٹا پائے جانے پر 15 ہزار روپے جرمانہ لگے گا۔ ابھی یہ 1 ہزار روپے ہے۔ جرمانہ ادا کردینے کے بعد کسی ملزم کو جیل جانے سے چھوٹ مل جائے گی اور عدالت کی اجازت سے سمجھوتہ ہونے پر بیوی یا سسرالی فریقین اس پر عمل کرنے پر مجبور ہوں گے۔ اس قانون میں جہاں ضروری ترمیم ضروری ہے وہیں یہ بھی خیال رکھنا ہوگا کہ جہیز ابھی بھی ایک بڑی سماجی برائی بنا ہوا ہے اور لوگوں کے درمیان ایسا پیغام نہیں جانا چاہئے کہ جہیز مانگنے یا اس کے نام پر خواتین کا ٹارچر کرنے والوں کے تئیں کسی طرح کی نرمی برتی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ اس قانون کا جس آسانی کے ساتھ بیجا استعمال ہوتا ہے اس کے انسداد کیلئے بھی موثر قدم اٹھائے جائیں۔ بہت سے ایسے معاملے سامنے آئے ہیں جن میں عورتوں نے شوہر اور سسرال والوں کو تنگ کرنے کیلئے جہیز انسداد قانون کا سہارا لیا ہے۔ جہیز قانون اپنی موجودہ شکل میں ایک ٹارچر قانون بن گیا ہے جس میں انصاف تو کم نا انصافی زیادہ ہورہی ہے۔ اس میں ترمیم انتہائی ضروری ہے۔
(انل نریندر)

نر پیندر مشر ابنام چمت رائے!

شری رام جنم بھومی ٹرسٹ میں چھڑا دے کو لیکر کی گئی چوری کے تنازعہ میں ایک نیا موڑ آگیا ہے ۔ رام مندر ٹرسٹ سے استعفی کے بعد چمت رائے کا ایک نو...