Translater

08 مارچ 2012

مایا کے خلاف نگیٹو ووٹ اور اکھلیش یادو کی آندھی



Published On 8 March 2012
انل نریندر
پانچ ریاستوں میں ہوئے اسمبلی انتخابات کے نتائج آچکے ہیں ان میں نئی تاریخ رقم کی گئی ہے۔ اسباب کے لمبے چوڑے تجزیئے ہونے لگے ہیں۔ موٹے طور پر جو اہم وجہ مجھے لگی وہ کچھ اس طرح ہے۔ پہلے ہم بات کرتے ہیں اترپردیش کی۔یہاں چناؤ سب سے زیادہ اہمیت کے حامل تھے۔ سائیکل نے ہاتھی کو پست کردیا۔ سماجوادی پارٹی کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ تھی مایاوتی حکومت کے خلاف ناراض ووٹ ۔ یوپی کی عوام نے طے کردیا تھا کہ مایاوتی کی بسپا سرکار کو ہرانا ہے اور سامنے متبادل کی شکل میں اس کوسپا کے نوجوان لیڈر اکھلیش یادو نظر آئے۔ اکھلیش یادو ریاست کے عوام کی نبض کو سمجھنے میں کامیاب رہے۔ انہوں نے جی توڑ محنت کی اور زمین پر چلنے والے اکھلیش نے ایک نئی امید کی کرن پیدا کی۔ محنت تو راہل گاندھی نے بھی کم نہیں کی تھی ۔ انہوں نے بھی دو مہینے سے یوپی بھر میں خاک چھانی۔ 20 سے زیادہ ریلیاں کیں لیکن جنتا ایسا نیتا چاہتی تھی جس کے پاس وہ چاہ کر اپنی نالی، بجلی، پانی کے مسئلے کو سامنے رکھ سکے۔ وہ ہر بات راہل سے آکر دہلی میں نہیں کہہ سکتے تھے۔ راہل کی کڑی محنت پر یوپی کانگریس یونٹ نے پانی پھیردیا۔ چناوی ماحول تو راہل نے بنا دیا لیکن فصل کاٹنے کے لئے تنظیم تیار نہیں تھی۔ کوئی بوتھ کمیٹی نہ تھی اور نہ ہی ضلع کمیٹی ۔ جن مسلمانوں کو خوش کرنے کے لئے کانگریس نے ہر ہتھکنڈہ اپنا یا انہوں نے ملائم کی جھولی میں جانا بہتر سمجھا۔ مسلم ووٹ سپا ۔ کانگریس اور بسپا میں بنٹا یکمشت کسی کو نہیں گیا لیکن اکثریت سپا کے ساتھ گئی۔ مایاوتی اپنی ہار کے لئے خود ذمہ دار ہیں۔ ان کا تاناشاہی طریقہ عوام کو نہیں بھایا۔ مہارانیوں کی طرح ان کے برتاؤں سے خود ان کے پارٹی والے دکھی تھے۔ مجھے نہیں لگتا کہ دلت ووٹ بھی پوری طرح سے بسپا کو ملا۔ آخر وہ ووٹ دیتے بھی کیوں؟ جن دلتوں کی بہبود کے لئے مایاوتی اقتدار میں آئیں اسی دلت کو کالج میں ایک کلرک کی نوکری لینے کے لئے چار لاکھ روپے رشوت دینی پڑتی تھی۔ لوگ بھوکے مر رہے تھے اور بہن جی ہاتھی بنوانے میں لگی ہوئی تھیں۔ پچھلے پانچ سالوں میں نہ تو کسی کالج میں چناؤ ہوا اور نہ ہی بلدیاتی اداروں کے چناؤ ہوئے۔ سارا چناوی عمل ٹھپ ہوکر رہ گیا۔ نوجوانوں میں بہن جی کے تئیں ناراضگی تھی۔ کسانوں کی زمین بلڈروں کو اونے پونے بھاؤ میں لٹا دی اور پیسہ بنانے کی فیکٹری بن گئی۔ بہوجن سماج پارٹی کے خلاف لوگوں کا متبادل کیا تھااسی لئے انہوں نے دوسری لیڈر شپ کی لائن کے لیڈر کو کڑا کرنے کی کوشش کی اور کوئی نوجوان چہرہ تھا ان کے پاس پیش کرنے کو۔ متبادل کے طور پر ریاست کی عوام کو اکھلیش یادو کی شکل میں نظر آیا۔ نیتا جی (ملائم) شاید اپنے بلبوتے پر یہ چناؤ نہ جیت پاتے۔ آج بھی ان کے غنڈے راج کو کوئی نہیں بھولا۔ 2007ء میں ان کا اسی طرح صفایا ہوا تھا کیونکہ ہر تھانے میں ہر گاؤں میں تحصیل میں ملائم کھڑا ملا۔ دراصل سپا کے ورکر اقتدار میں آنے سے سبھی ملائم بن جاتے ہیں اور وہاں غنڈہ راج آ جاتا ہے۔ اسی سے ناراض عوام نے مایاوتی کو موقعہ دیا تھا۔ اکھلیش یادو کے لئے یہ سب سے بڑی چنوتی ہوگی اپنے ورکروں پرلگام رکھنا۔ پارٹی کے برسر اقتدار آتے ہی دو مقامات پر تو گولی چل چکی ہے، مارپیٹ ہوچکی ہے۔ یوپی کی عوام نے یہ ثابت کردیا ہے کہ سیاستدانوں سے زیادہ وہ پالیسیوں کو ترجیح دیتی ہیں۔ بھاجپا کو یہ ہی حکمت عملی مار گئی۔ اس بار یوپی کا سارا چناؤ خود آر ایس ایس نے لڑا۔ سنجے جوشی، نتن گڈکری نے امیدواروں سے لیکر ریلیوں تک سب کچھ سنگھ کے اشاروں پر کام کیا۔ سنگھ نے کہا کے اڈوانی سمیت کسی بڑے نیتا ہو دہلی گجرات سے نہیں بلانا اور نہ بلایا گیا۔ اوما بھارتی کو زبردستی لا کر یوپی کے نیتاؤں میں گھمسان کردیا۔ بھاجپا اس چناؤ میں ایک بٹی ہوئی پارٹی کی طرح اتری اور اس کا نتیجہ سامنے ہے۔ اس چناؤ میں بھاجپا کی اتنی ہار نہیں ہوئی ہے جتنی سنگھ کی ہوئی ہے۔ بھاجپا تو پہلے سے بھی زیادہ گر گئی ہے۔
اسی حکمت عملی اور غلط پالیسیوں کی وجہ سے اتراکھنڈ میں بھاجپا کو ہار کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ اتراکھنڈ کی بدقسمتی دیکھئے وہاں رمیش پوکھریال نشنک چناؤ جیت گئے جنہیں کرپٹ ہونے کے الزام میں وزیر اعلی کے عہدے سے ہٹایا گیا تھا اور بھون چندر کھنڈوری جو وزیر اعلی تھے چناؤ ہار گئے جن کی ایماندار ساکھ پر بھاجپا نے داغ لگادیا تھا۔ اس سے تو شاید بہترہوتا نشنک کو ہی وزیر اعلی بنائے رکھتے اور چناؤ سے تین مہینے پہلے انہیں ہٹا کر پارٹی کو نقصان پہنچ گیا۔ چناؤ میں شخصیت کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ پنجاب میں پرکاش سنگھ بادل اور کیپٹن امریندر سنگھ آمنے سامنے تھے جہاں بادل انتہائی ملنسار ، عوام کے دکھ درد میں ساتھ دینے والے ہیں وہیں کیپٹن کا مہاراجہ اسٹائل نہیں بدلا۔ انہوں نے وہی شاہی انداز میں چناؤ لڑا جب جنتا کو بادل اور امریندر میں سے ایک کو چننے کا موقعہ ملا تو انہوں نے بادل کو ترجیح دی۔ پنجاب میں اکالیوں کے خلاف ماحول تھا لیکن کانگریس اس کا فائدہ نہیں اٹھا پائی۔ 44 سال میں یہ پہلا موقعہ ہے کے حکمراں پارٹی محاذ پھر سے چناؤ جیتا ہے۔ اترپردیش اسمبلی کے چناؤ نتیجے خاص کر اکثریت کا دعوی کرنے والی کانگریس کے لئے بیحد مایوس کن اور پریشانی کا باعث ہیں۔ پارٹی کو کہا ں تو دگوجے سنگھ جیسے بڑبولے نیتا 125 سیٹوں کا دعوی کرتے نہیں تھکتے تھے۔ کانگریس کو صرف وہاں28 ہی سیٹیں مل سکی ہیں۔ اگر لوک سبھا چناؤ میں22 سیٹیں جیتنے والی اس پارٹی کا تجزیہ تھا تو اس کی بنیاد پر اسے 100 سیٹیں ملنی چاہئے تھیں۔ اتحادی راشٹریہ لوکدل جس نے مغربی اترپردیش میں آندھی آنے کا دعوی کیا تھا کل 9 سیٹیں ہی جیت سکی جو پچھلی جیت سے کم ہیں۔ چناؤ میں کانگریس کی خراب کارکردگی کی حد تو تب ہوگئی جب ان کے گڑھ کہے جانے والے سونیا گاندھی کے پارلیمانی حلقے رائے بریلی میں کانگریس سبھی پانچوں سیٹیں ہار گئی جبکہ اس چناؤ میں اپنی پوری طاقت جھونکنے والے جنرل سکریٹری راہل گاندھی کے پارلیمانی حلقے والے ضلع امیٹھی میں کانگریس پانچ میں سے تین سیٹیں گنوا بیٹھی۔ امیتا سنگھ جیسی قد آور لیڈر امیٹھی میں ہار گئی۔ تمام ڈرامے کرنے کے باوجود سلمان خورشید اپنی بیوی لوئس خورشید کی ضمانت نہیں بچا سکے۔ چناؤ میں اپنے بڑ بولے پن کے لئے سرخیوں میں بنے رہے مرکزی وزیر فولاد بینی پرساد ورما کے بیٹے راکیش ورما دریا باد چناؤ دوڑ میں تیسرے نمبر پر رہے۔ ویسے اگر سرکردہ لیڈروں کی ہار کی بات کریں تو بھاجپا کا حشر بھی کانگریس جیتا ہی رہا۔ سوائے اوما بھارتی کے چناؤ میدان میں اترے سبھی دھرندر چناؤ ہار گئے۔ بھاجپا پردیش پردھان سوریہ پرتاپ شاہی سابق اسپیکر راجہ پتی رام ترپاٹھی اور قومی نائب صدر کلراج مشر ودھان منڈل کے لیڈر اوم پرکاش سنگھ اور سابق پردیش پردھان کیسری ناتھ ترپاٹھی کو بھی ہار کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ اترپردیش کے چناؤ میں عوام کا ان پارٹیوں کو مسترد کرنا ان کے لئے ایک سبق مانا جائے گا۔
Akhilesh Yadav, Anil Narendra, Bahujan Samaj Party, Congress, Daily Pratap, Elections, Mayawati, Mulayam Singh Yadav, Rahul Gandhi, Samajwadi Party, Uttar Pradesh, Vir Arjun

07 مارچ 2012

اور اب سب کی نظریں دہلی میونسپل چناؤ پر لگیں



Published On 7 March 2012
انل نریندر
حالانکہ دہلی میونسپل کارپوریشن کے چناؤ پانچ ریاستوں میں اسمبلی چناؤ جیسی اہمیت تو نہیں رکھتے لیکن پھر بھی دیش کی قومی راجدھانی دہلی ہونے کے ناطے میونسپل کارپوریشن کے چناؤ اہمیت کے حامل ہیں۔ پانچ ریاستوں کے چناؤ نتائج کے بعد اب سب کی نگاہیں بلدیاتی اداروں کے آنے والے انتخابات پر لگی ہیں۔ راجدھانی میں پیر سے چناؤ ضابطہ لاگو ہوگیا ہے۔ اس کانفاذ ہوتے ہی نئے پروجیکٹوں کا اعلان یا افتتاحی پروگراموں پر روک لگ گئی ہے۔ حالانکہ چناؤکا نوٹی فکیشن19 مارچ سے لاگو ہوگا۔ اسی کے ساتھ کاغذات نامزدگی شروع ہوجائے گی۔ یہ چناؤ ضابطہ 17 اپریل تک نافذ العمل رہے گا۔ خیال رہے کہ 17 اپریل کو ایم سی ڈی چناؤ کے ووٹوں کی گنتی ہوگی اسی کے ساتھ ڈیڑھ ماہ سے نافذ چناؤ ضابطہ ختم ہوجائے گا۔ سرکاری ایجنسیوں یا عوام کو لبھانے والے پروجیکٹوں کو منظوری نہیں دی جاسکتی۔ چناؤ ضابطے کے تحت ریاستی چناؤ کمیشن پیسہ، طاقت اور شراب مافیہ کے بیجا استعمال کے علاوہ راجدھانی کی املاک پر پوسٹر بینر چپکانے پر بھی نظر رکھے گا۔ دہلی میں قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ دوسری جانب چناؤ کی تاریخ کے اعلان سے پہلے ہی راجدھانی میں عوامی مفاد کی اسکیموں کے اعلان کی جھڑی لگ گئی تھی۔محض تین دنوں کے اندر سینکڑوں کروڑ روپے کی اسکیموں کو ایم سی ڈی نے ہری جھنڈی دی۔ محض جمعہ اور سنیچر کو ہی ایم سی ڈی کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے 200 کروڑ روپے سے زائد کی اسکیموں کو منظوری دی۔ چناؤ کے عین موقعے پر 11500 سلائی مشین تقسیم کرنے کی اسکیم کو ہری جھنڈی دی گئی۔ اس کے علاوہ سنیچر کو اسٹینڈنگ کمیٹی کے میٹنگ میں 60 سے زیادہ اسکیمیں منظور کی گئیں ساتھ ہی ایتوار کو دہلی کی میئر پروفیسر رجنی ابی کی جانب سے سبھی اخبارات میں ایم سی ڈی کی کامیابیوں کو لیکر بڑے بڑے اشتہارات جاری کئے گئے۔ جہاں بھاجپا کے لئے یہ چناؤ ایک چنوتی ہوں گے کے وہ ایم سی ڈی میں پھر کمل کھلائے، وہیں دہلی کی وزیر اعلی شیلا دیکشت کا وقار بھی ان ایم سی ڈی چناؤ سے براہ راست وابستہ ہے۔ دہلی میونسپل کارپوریشن کے چناؤ کو لیکر سیاسی پارٹیاں جو بھی حکمت عملی بنا لیں لیکن چناؤ میں خاص اشو دہلی سرکار ہی رہے گی۔ کانگریس جہاں اپنی سرکار کے 13 سال کی کامیابیوں کو بھنانے پر توجہ دے گی وہیں بھاجپا سرکار کی ناکامی اور کرپشن کا اشو بنائے گی۔دونوں پارٹیوں کے لیڈر مانتے ہیں کہ چناؤ میں اشو دہلی سرکار کی ناکامیاں ہی رہیں گی۔ دہلی حکومت کی آج کی تاریخ میں سب سے بڑا کارنامہ دہلی میونسپل کارپوریشن کو تین حصوں میں تقسیم کرانا اور خواتین کا ریزرویشن 33 فیصدی سے بڑھا کر50 فیصدی کرنے کو بتاتی ہے۔ وہیں کانگریس کے ذریعے فراہم کی گئی سہولیات کو بھی بھنانے کی پارٹی کوشش کرے گی۔ وہیں بھاجپا مسلسل وزیر اعلی پر گھوٹالوں کو لیکر جارحانہ رہی۔ ساتھ ہی قانون و نظم کا اشو بھی بھاجپا ضرور اچھالے گی۔ پچھلے دنوں بھاجپا کے پردیش پردھان وجیندر گپتا کے ذریعے شروع کی گئی جن سمپرک یاترا خاصی خامیاب رہی۔ ان کے نشانے پر دہلی سرکار اور وزیر اعلی شیلادیکشت دونوں ہی رہے۔ اپنی 15 دن کی یاترا میں انہوں نے دہلی سرکار کی ناکامیوں کو پانی پی پی کر کوسا۔ ویسے بھاجپا نیتا بھی مانتے ہیں پارٹی کی چاہے جتنی بھی شیلا دیکشت برائی کرلیں لیکن ایم سی ڈی بٹوارے کی چال پارٹی پر بھاری پڑ سکتی ہے۔ پانچ ریاستوں کے انتخابات بھی ضرور تھوڑا بہت اثر ایم سی ڈی کے چناؤپر ڈالیں گے۔ بھاجپا بہت حوصلہ افزا ہے کانگریس کا حوصلہ تھوڑا کمزور ضرور ہوگا۔ دیکھیں ایم سی ڈی چناؤ پرچار کے دوران کیا کیااشو اٹھتے ہیں؟
Anil Narendra, Daily Pratap, Delhi, Elections, MCD, Vir Arjun

06 مارچ 2012

کشواہا کی گرفتاری کیا کانگریس کی حکمت عملی کا حصہ ہے؟



Published On 6 March 2012
انل نریندر
اترپردیش چناؤ کے آخری مرحلے کی پولنگ کے آخری بٹن دبنے کے ساتھ ہی سی بی آئی نے این آر ایچ ایم گھوٹاے میں ملزم سابق وزیر بابو سنگھ کشواہا کوگرفتار کرنے کے وقت کو لیکر ضرور حیرانی ہوئی ہے۔ سی بی آئی اور کانگریس کی یہ حکمت عملی کسیبھی شخص کی سجھ سے پرے ہے۔ یہ گرفتاری محض جانچ کی کارروائی کا حصہ ہے۔ کشواہا کے ساتھ ہی بسپا کے ودھان پریشد کے ممبر رام پرساد جیسوال بھی اسی گھوٹالے میں گرفتار کرلئے گئے ہیں۔ دونوں کو پوچھ تاچھ کے لئے سی بی آئی دہلی ہیڈ کوارٹر میں بلایا اور قریب چار گھنٹے تک گہری پوچھ تاچھ کے بعد جب افسران نے انہیں گرفتار ہونے کی خبر دی تو کشواہا کے چہرے پر مایوسی دوڑ گئی۔ کشواہا کی گرفتاری سے لگتا ہے کانگریس کے اقتدار سنگرام کا نیا حصہ ہے۔ سیدھے سیدھے کہیں تو مایاوتی کے لئے یہ ایک بڑا اشارہ ہے۔ انہیں خوش کرنے کی کوشش بھی اور نتیجے کے نمبر گڑبڑانے کا ہتھیار بھی۔گرفتاری کو اسی انداز میں دیکھا جانا چاہئے اور اسی طرح ہی پوری چناؤ مہم میں کانگریس نے جس طرح پھوکے پھوکے پاؤں چلے اس کے نیتا ریزرویشن کا جھنجھنا دکھا کر مسلمانوں کو آزماتے رہے۔ چناؤ کمیشن تک کو نظر انداز کرتے رہے، تہائی اکثریت کے دعوؤں کے درمیان صدر راج کا خوف دکھاتے رہے۔ کشواہا کی گرفتاری اسی کڑی کا حصہ ہے اور ویسا ہی یہ داؤ ہے۔ بسپا کے لئے ساتھ آنے کی درپردہ دعوت بھی لیکن اس وارننگ کے ساتھ ان کا مہرہ انہی کے خلاف چل سکتا ہے۔ دیش کی سیاست کی سب سے بڑی اہم ریاست اترپردیش کا تاج ہتھیانے کیلئے کانگریس کی کوئی بھی نیت کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ وہ ہر طرح کا متبادل کھلا رکھنا چاہتی ہے۔ دو کشتیوں میں سوار ہوکر چلنے سے بھی اسے کوئی پرہیز نہیں۔ سپا کو انگوٹھا دکھا کر کانگریس کا دامن تھامنے والے دل بدلو سماج وادیوں کا طاقتور طبقہ کسی بھی قیمت پر ملائم سنگھ یادو کے ساتھ دوستی نہیں ہونے دینا چاہتا۔ انہیں مایاوتی کو ساتھ لینے میں کوئی پریشانی نہیں نظر آتی۔ کانگریس کی جانب سے وزیر اعظم کے خودساختہ دعویدار بینی پرساد ورما اس کی اپنی طرف سے پیشکش کرچکے ہیں۔ اپنے پرانے ساتھی ملائم کو آڑے ہاتھوں لینے کا وہ کوئی موقعہ نہیں چھوڑتے لیکن حال ہی میں چونکایا مایاوتی کی تعریف کرکے۔ ساتھ ہی آف دی ریکارڈ یہ بھی کہا چناؤ کے بعد سونیا مایاوتی کو بھی چائے پر بلا سکتی ہیں۔ کانگریس صدر سونیا گاندھی کو پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ میں سب سے زیادہ بے صبری یوپی کے نتیجوں سے ہے۔ جہاں پنجاب، اتراکھنڈ ، منی پور اور گووا کو لیکر کانگریس ہیڈ کوارٹر آرہی اطلاعات میں بہت زیادہ فرق نہیں دکھائی دے رہا ہے وہیں اترپردیش کے نتیجوں کو لیکر کانگریس کے اندر بھاری اختلافات ہیں۔ سونیا کے سپہ سالار جو انہیں بتا رہے ہیں اور راہل گاندھی کے سپاہی جو دعوی کررہے ہیں دونوں کے نمبروں میں خاصا فرق ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ہوسکتا کہ راہل گاندھی نے یوپی چناؤ میں بہت محنت کی ہے۔ 200 سے زیادہ ریلیاں روڈ شو کرنا آسان نہیں تھا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ راہل خیمے کا ماننا ہے کانگریس کی سیٹیں بڑھیں گی اور یہ بڑھت 50 سے70 تک ہوسکتی ہے۔ پارٹی کے زیادہ تر لیڈروں اور مرکزی وزراء کی بھی یہ ہی رائے ہے۔ کچھ مایوس کانگریسی اور ایم پی تو پارٹی کو محض 30سے35 سیٹیں ہی دے رہے ہیں۔ راہل خیمے میں ایسے بھی نیتا ہیں جو کہہ رہے ہیں کانگریس اپنی سیٹیں کم سے کم 125 تک پہنچا سکتی ہے۔ دگوجے سنگھ تو کانگریس کی کم سے کم 125 سیٹیں آنے کی شرط لگانے کو بھی تیار ہیں۔وہ کہہ سکتے ہیں کہ اس بارانتخابار میں 15 سے20 فیصدی مزید پولنگ ہوئی ہے۔ اس کا کم سے کم 80 فیصدی سے زیادہ کانگریس کو ملا ہے اور یہ ووٹر راہل گاندھی کی جارحانہ چناؤ مہم اور لوگوں کے درمیان ان کے بھروسے اور ترقی کے ایجنڈے پر ہوئی ہے۔ دگوجے سنگھ بھی یہ کہتے ہیں کہ اس بار یوپی کا ووٹر خاموش رہا ہے کیونکہ اس کے ارد گرد سپا۔ بسپا کے حمایتیوں کا دبدبہ ہے اس لئے اس نے چناؤ میں چپ چاپ پولنگ کی ہے جو نتیجوں کی شکل میں سامنے آئے گا۔ خیر نتیجوں کے لئے زیادہ دیر انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ جلد دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے گا۔ آخر میں ہم چناؤ کمیشن اور ووٹروں کو مبارکباد دینا چاہتے ہیں کہ پانچ ریاستوں اور ڈھائی مہینے طویل چناوی عمل کے دوران بغیر بوتھ پر قبضے اور تشدد یا کسی گڑ بڑی سے پاک چناؤ پر امن طریقے سے مکمل ہوگیا۔ سب سے بڑی بات یہ رہی کہ بغیر کسی اشتعال یا کشیدہ ماحول کے سبھی ریاستوں میں ووٹروں نے ریکارڈ پولنگ کی۔ لوگوں نے پولنگ بوتھوں پر جاکر جمہوریت کے اس مہا پروو کے تئیں نہ صرف اپنی عقیدت جتائی بلکہ چناؤ کو بہت دلچسپ بھی بنا دیا۔
Anil Narendra, Babu Singh Kushwaha, Bahujan Samaj Party, BJP, CBI, Daily Pratap, NRHM, Vir Arjun

روس میں پتن کا جیتنا ہی سب سے اچھا متبادل ہے



Published On 6 March 2012
انل نریندر
ایتوار کو روس میں صدارتی عہدے کے لئے پولنگ ہوئی۔ اس چناؤ میں موجودہ صدر پتن کے علاوہ چار دیگر امیدوار میدان میں تھے۔ ولادیمیر پتن 2000ء میں پہلی بار صدر چنے گئے تھے۔ انہوں نے اپنے دو عہد پورے کرلئے ہیں اور پھر روسی قانون کے تحت انہوں نے صدارتی عہدہ چھوڑا تھا۔ اس درمیان دامیتری میدوف نے صدر کا عہدہ سنبھالا تھا اور پتن خود وزیر اعظم بن گئے تھے۔ 59 سالہ پتن جو کبھی روسی خفیہ ایجنسی کے جی بی کے جاسوس تھے، کا صدر بننا اب یقینی لگتا ہے۔ مانا جارہا ہے کہ پتن دو تہائی اکثریت سے جیتیں گے لیکن اس بار کا عہد پہلے کے عہد سے زیادہ چیلنج بھرا ہونے کا امکان ہے۔ کیونکہ پچھلے کچھ دنوں سے روس میں ناراضگی کی لہر جاری ہے۔ پتن کے خلاف جگہ جگہ مظاہرے ہوئے ہیں حالیہ دنوں میں پارلیمانی چناؤ میں گڑ بڑی کے الزامات اور ان کی حکومت کے خلاف وسیع پیمانے پرمظاہرے ہوئے ہیں۔ پولیس بھی چناؤ کے بعد کسی طرح کی گڑ بڑی سے نمٹنے کے لئے تیاری کررہی ہے۔ امریکہ کے گھٹتے رتبے و اقتصادی بحران کا شکار یوروپ کے ساتھ نیٹو دنیا اپنی چمک تیزی سے کھوتی جارہی ہے۔ دنیا کی مشرقی ایشیا بحری خطے کی طرف کھسک رہی ہے۔ اسی پس منظر سے ایک پائیدار روس پورے خطے کو تقویت فراہم کرسکتا ہے۔ پتن نے روس کو مضبوط کیا اور آہستہ آہستہ لائن سے اتری روسی گاڑی کو کچھ حد تک واپس لائن پر لانے میں کامیابی پائی ہے۔ بھارت کے لئے بھی ایک مضبوط روس اس کے مفاد میں ہوگا۔ صدر پتن کے لئے ایک بہت بڑی چنوتی آبادی میں گراوٹ ہے۔ عالمی بازار میں کچے تیل کی قیمتوں میں اضافے نے پتن کے لئے درد سر بڑھا دیا ہے لیکن اس کی زیادہ تر تشویش آبادی اور شرح پیدائش میں گراوٹ ہے۔ مرد کٹر پسندوں ، مزدوروں میں موت کی شرح سے سیاسی خلاپیدا ہورہا ہے۔ فی الحال پتن نے خاص کر مردو ں میں شراب نوشی کو روکنے کیلئے ایک نئی مہم چلائی ہے۔ انہوں نے ان عورتوں کو خصوصی بھتہ دینے کا اعلان کیا ہے جن کے دو سے زیادہ بچے ہیں۔ پتن کے پیکیج میں سبھی روسی شہریوں کو رہائش اور تعلیم کی بہتر سہولیات فراہم کرنا شامل ہے۔ انہوں نے ایک اسمارٹ آبزرویشن پالیسی اپنانے کی بات کہی ہے جس کے ذریعے بیرون ملک میں مقیم روسی نژاد لوگوں کو مادرِ وطن لوٹنے کے لئے راغب کیا جائے گا۔ مردم شماری کے تازہ نتیجوں میں وزیر اعظم ولادیمیر پتن کے صدر کے عہدے کے لئے ہوئے چناؤ میں دو تہائی ووٹوں سے واضح کامیابی کی بات کہی گئی ہے۔ روس میں چناوی رجحان کے بیحد پختہ جائزہ دینے والی ایک ایجنسی نے بتایا کہ پتن کواس چناؤ میں 63 سے66فیصدی ووٹ مل سکتے ہیں۔ روس اور یوکرین کی سکیورٹی ایجنسیوں نے روس میں ہوئے صدارتی چناؤ میں ولادیمیر پتن کے قتل کی سازش کو ناکام کردیا ہے۔ سماچار ڈیلی ٹیلی گراف کے مطابق سازشی مجرموں کے ایک گروہ کو یوکرین کے شہر اوڈوسو میں حراست میں لیا گیا ہے۔ گروہ صدارتی چناؤ کے ٹھیک بعد ماسکو میں پتن کو قتل کرنے کی سازش رچ رہا تھا۔ بتایا جاتا ہے چیچن باغیوں کے مبینہ سرغنہ ایڈم اوسومیوف نے قبول کیا ہے کہ سازش اسی کے حکم پر رچی گئی جو نارتھ کراکس علاقے میں روس کے عہد کے خلاف تحریک چلا رہی اسلامی سرگرمیوں کے کرتا دھرتا ہیں۔ چینل ون نے اوسویومیوف کو حراست میں لیکر یہ کہتے ہوئے دکھایا گیا ہے کہ آخری مقصد ماسکو کا دورہ اور پتن کا قتل تھا۔ پتن کی کوشش ہے کہ وہ روس کو اس کے تاریخی وقار کو پھر سے بحال کریں۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Russia, Valadimir Putin, Vir Arjun

05 مارچ 2012

Check out Daily Pratap Urdu Newspaper

facebook
51 people like this

Check out Daily Pratap Urdu Newspaper


Hi,

Daily Pratap Urdu Newspaper is inviting you to join Facebook.

Once you join, you'll be able to connect with the Daily Pratap Urdu Newspaper Page, along with people you care about and other things that interest you.

Thanks,
Daily Pratap Urdu Newspaper

To sign up for Facebook, follow the link below:

04 مارچ 2012

چارج شیٹ داخل کرنے میں 17 برس تو فیصلہ آنے میں کتنے برس؟



Published On 4 March 2012
انل نریندر
مشہور چارہ گھوٹالے میں سی بی آئی نے جمعرات کے روز آخر کار عدالت میں ایک چارج شیٹ داخل کردی ہے۔ اس میں سابق وزیر اعلی لالو پرساد یادو اور ایک دوسرے سابق وزیر اعلی جگناتھ مشر ملزم بنائے گئے ہیں۔ یہ چارج شیٹ 1994-96 ء کے درمیان 46 لاکھ روپے کے گھوٹالے کو لیکر ہے۔ ایک موجودہ ایم پی اور ایک سابق ایم پی بھی اس میں ملزم ہے۔ یہ چارج شیٹ بتاتی ہے طاقتور لوگوں کے کرپشن کی جانچ کی رفتار کتنی دھیمی کی جاسکتی ہے۔ اس چارج شیٹ کو داخل کرنے میں ہی تقریباً 17-18 برس لگ گئے تو مقدمہ چلے اور فیصلہ آنے میں کتنا وقت لگے گا آپ خود ہی طے کرلیں۔ اور جب پھر فیصلہ آئے گا تو بڑی عدالتوں میں چیلنج ہوگا اور آخری فیصلہ آتے آتے ایک دور گذر جائے گا۔ کرپشن کے معاموں میں اس لئے ملزمان کو سزا سے ڈر نہیں لگتا کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ آخری فیصلہ آتے آتے عمر ہی گذر جائے گی۔ محکمہ پشوپالن میں پیسے کی گڑ بڑی کا پہلا اندیشہ سی اے جی نے 1985ء میں ظاہر کیا تھا۔ شروع میں یہ گھوٹالہ بڑا نہیں تھا اور اس میں زیادہ لوگ شامل نہیں تھے۔ اگر شروع میں ہی اس پر روک لگ جاتی تو اس کا اتنا بڑا پھیلاؤ نہ ہوتا۔ اس گھوٹالے کو لیکر وارننگ آتی رہی ہیں لیکن انہیں نظرانداز کیا جاتا رہا ہے۔ بہار میں ایک بعد دوسرے وزیر اعلی آتے رہے ہیں اور گھوٹالہ بڑا ہوتا گیا۔ یہ مانا گیا ہے کہ 1995-96 ء تک اس گھوٹالے میں تقریباً10 ارب روپے کی ہیرا پھیری ہوچکی تھی۔ اس کے بعد بھی جانچ کو روکنے کی پوری کوشش کی گئی لیکن پٹنہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کی مداخلت سے یہ معاملہ سی بی آئی کو سونپا گیا اور جانچ رک رک کر ہی صحیح لیکن جاری رہی جو کافی حد تک سیاسی تبدیلی سے وابستہ رہی۔ آزاد ہندوستان میں کرپشن کو روکنے میں کیا کیا رکاوٹیں آتی ہیں اس کی ایک تازہ مثال ہے یہ چارہ کانڈ۔ چارہ گھوٹالے کے دوران وزیر اعلی لالو پرساد یادو کو گھپلے کی جانکاریاں مل رہی تھیں لیکن اس کے باوجود انہوں نے بروقت اسے روکنے میں کوئی کارگر قدم نہیں اٹھایا۔ یہاں تک کے دوسروں کو بھی نہیں اٹھانے دیا۔ ان کے عہد میں ایک ہی دن میں 51 لاکھ روپے سے زیادہ کی ناجائز نکاسی گھوٹالے بازوں نے کی تھی جبکہ جائز نکاسی 1 لاکھ روپے تک کی کرنے کی اجازت تھی۔ اس ناجائز پیسہ نکاسی کے کروڑوں روپے سے بڑے بڑے سیاستدانوں اور افسروں کی ہوائی سہولت، ہوٹل خرچ سمیت دیگر خرچوں کو اٹھایا جاتا تھا۔ گھوٹالوں سے وابستہ سی اے جی رپورٹ دسمبر 1993 میں ملنے کے بعد کسی طرح کی کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ جارکھنڈ کیڈر کے آئی اے ایس افسر امت کھرے نے محکمہ پشو پالن میں کی گئی اقتصادی گڑ بڑیوں کو پکڑا تھا اس وقت وہ چائی باسا کے ڈپٹی کمشنر تھے۔ انہوں نے اس معاملے میں اعلی سطحی جانچ کی سفارش سرکار سے کی تھی۔اس معاملے میں وسیع پیمانے پر جعلی سازی کی گئی۔ سرکار کے محکمہ پشو پالن میں گائے بھیس دھونے یا چارہ لانے والی جن گاڑیوں کے نمبر درج کئے جانچ میں وہ اسکوٹر ،موٹر سائیکل نکلیں۔ ساتھ ہی بڑے پیمانے پر فرضی سپلائی دکھائی گئی۔ قریب 900 کروڑ روپے کے اس گھوٹالے میں سی بی آئی اب تک 350 کروڑ روپے کی املاک ضبط کر چکی ہے۔ زیادہ تر برآمدگی زیورات اور منقولہ غیر منقولہ املاک کے ذریعے سے کی گئی۔ سی بی آئی کو امید ہے کہ یہ برآمدگی قریب 500 کروڑ روپے تک جا سکتی ہے۔ سی بی آئی کا خیال ہے کہ قریب-400 350 کروڑ روپے عیش و آرام میں پھونکے جا چکے تھے۔ اس کا جائزہ اس کی برآمدگی کی شکل میں ممکن نہیں ہے۔ حالانکہ لالو جی اس کانڈ کے پانچ معاملوں میں 244 دن جیل میں رہ چکے ہیں لیکن ان کی مصیبتیں ختم نہیں ہوئیں۔ لالو پرساد یادو سے وابستہ ایک اور دیگر معاملے میں دو مہینے کے اندر رانچی کی ایک عدالت میں فیصلہ آنا ہے۔ عدالت میں لالو سمیت سبھی ملزمان کے بیان درج کرنے کا کام شروع ہوچکا ہے اب صرف بحث باقی ہے۔جگناتھ مشرا اب سیاست سے ریٹائرڈ ہو چکے ہیں اور لالو پرساد یادو کا دور گذر چکا ہے نہ تو وہ بہار میں اور نہ ہی مرکز میں اب ان کی زیادہ اہمیت نہیں ہے اور اس بات کا امکان کم ہی لگتا ہے کہ مستقبل میں ان کا سیاسی قد اونچا ہو پائے گا جتنا وہ پہلے تھے۔ اسی وجہ سے لالو کی سیاست مسلسل کمزور ہوتی گئی اور وہ بدلے زمانے کی آہٹ کو نہیں پہچان پائے۔ شاید لالو پرساد یادو کے خلاف معاملے کے نپٹارے میں اب تیزی آئے، کیونکہ ان کا سیاسی رسوخ گھٹا ہے لیکن ضرورت اس بات کی زیادہ ہے کہ دیش میں کرپشن کو روکنے کے لئے موثر قدم اٹھائے جائیں۔
Anil Narendra, Bihar, CBI, Daily Pratap, Fodder Scam, Lalu Prasad Yadav, Vir Arjun

بھنوری دیوی اغوا و قتل معاملے میں چارج شیٹ کیا کہتی ہے؟



Published On 4 March 2012
انل نریندر
سرخیوں میں چھائے رہے بھنوری دیوی قتل کانڈ میں سی بی آئی نے بدھوار کو جودھپور کی عدالت میں چارج شیٹ داخل کردی ہے۔ 97 صفحات کی اس چارج شیٹ میں 50 صفحات میں الزام اور کہانی بیان کی گئی ہے۔ 300 گواہوں کے بیان ہیں اور چارج شیٹ میں 313 دستاویز نتھی کئے گئے ہیں ان میں 93 ثبوتوں کی فہرست بھی لگائی گئی ہے۔ چارج شیٹ میں سابق وزیر مہیپال مدیرنااور ممبر اسمبلی ملکھان سنگھ بشنوئی پر ایک ہی الزامات لگائے گئے ہیں۔ یہ بھی خلاصہ ہوا ہے کہ ملکھان سنگھ کی بہن اندرا نے مدیرنا کی سی ڈی بنوائی تھی۔ مدیرنا قابل اعتراض سی ڈی سے بلیک میل ہورہے تھے۔ ملکھان سنگھ بھنوری کی ایک بیٹی کا والد ہونے اور کھیجڑلی میلے میں پول کھولنے سے پریشان تھے۔ دونوں نے صحیح رام اور سوہن لال کو بھنوری کو ٹھکانے لگانے کا ذمہ سونپا اور اسی سازش میں 1 ستمبر کو اس کا اغوا کیا گیا۔ چارج شیٹ کے مطابق بھنوری دیوی اور سابق وزیر مہیپال مدیرنا کی فحش سی ڈی کے پیچھے سیاسی سازش تھی اور اس پورے معاملے میں ماسٹر مائنڈ اندرا بشنوئی تھی۔ اس نے ہی اپنے بھائی ملکھان سنگھ کو وزیر بنوانے کے لئے یہ سازش رچی تھی۔ غور طلب ہے کہ 1 ستمبر 2011ء کو بھنوری دیوی غائب ہوئی تھی اور ٹھیک 6 ماہ بعد کورٹ میں دوسری چارج شیٹ پیش کی گئی ہے۔ بھنوری اغوا اور قتل معاملے میں مدیرنا ، ملکھان سنگھ سمیت 16 ملزم جیل میں ہیں یہ ملزم سوہن لال، شہاب الدین، بلدیو، صحیح رام، پرس رام، امرچند،امیش رام، کیلاش وغیرہ ہیں۔ان میں اندرا بشنوئی ابھی گرفتار نہیں ہوپائی، وہ چار ماہ سے فرار ہے۔سابق وزیر مہیپال مدیرنا اور ملکھان سنگھ اے این ایم بھنوری دیوی کے ذریعے بلیک میلنگ سے کافی پریشان تھے۔ بدنامی سے بچنے کے ساتھ ہی سیاسی کیریئر کو بچانے کے مقصد سے ان دونوں بڑے لیڈروں نے بھنوری دیوی سے چھٹکارا پانے کے لئے سازش رچی تھی۔ چارج شیٹ کے مطابق ممبر اسمبلی ملکھان سنگھ بھنوری دیوی کی ضرورتوں کو پورا کرتے تھے۔ اسی کڑی میں اس نے بھنوری کی کار جو اس نے3 ستمبر 2009ء کو خریدی تھی ، کی ادائیگی 320594 روپے اپنی طرف سے کی تھی۔ اس کار کو دلانے میں مدیرنا نے بھی مدد کی تھی۔ اسی دن بھنوری نے شکارگڑھ میں ایک پلاٹ بھی خریدا تھا۔ بھنوری دیوی ممبر اسمبلی ملکھان سنگھ کی صرف خاتون دوست بن کر ہی نہیں رہنا چاہتی تھی۔ ایسے میں وہ اپنی چھوٹی لڑکی کا حق پانے میں لگ گئی۔7 ستمبر 2010ء کو بھنوری جودھپور کے اس وقت کے ایس پی دفتر جاپہنچی اور ملکھان سنگھ کو چھوٹی لڑکی کا والد بتاتے ہوئے ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کی اپیل کی تھی۔ لیکن اندرا اسے سمجھا بجھا کر وہاں سے لے گئی۔ پھر بھنوری نے بلیک میلنگ کا دھندہ بڑھا دیا۔ اندرا کے گھر رچی گئی سازش مہیپال مدیرنا اور بھنوری کی فحش سی ڈی مدیرنا کے فارم ہاؤس پر بنائی گئی تھی۔ ٹی وی چینلوں میں اس سی ڈی کو دکھائے جانے سے دونوں خاندانوں میں کھلبلی مچ گئی اور بہت غور و خوض کے بعد بھنوری دیوی کو جان سے مار کر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے معاملے کو دفن کرنے کی حکمت عملی بنائی گئی۔ بھنوری کا اغوا اور بعد میں اس کے قتل کی پوری جانکاری ہونے کے باوجود بھنوری کا شوہر امرچند انجان بنا رہا۔ سازش میں شامل امرچند نے پولیس کے کافی دباؤ ڈالنے پر پہلے گمشدگی اور پھر اغوا کی ایف آئی آر درج کرائی تھی۔ اسے اندیشہ تھا کہ جانچ کے دوران کہیں اس کی اس معاملے میں شمولیت اجاگر نہ ہوجائے۔ اس کہانی میں سبھی موڑ ہیں لو، سیکس، بلیک میلنگ و قتل۔
Anil Narendra, Bhanwri Devi, CBI, Daily Pratap, Mhipal Maderna, Rajassthan, Sex, Sex Scandal, Sexy Photo, Vir Arjun

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...