Translater

17 اکتوبر 2026

اپوزیشن کا سپریم مارچ!

لوک سبھا میںاپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی اورمختلف اپوزیشن لیڈروں نے بھارت کے چیف جسٹس، جسٹس سوریہ کانت سے ملاقات کا وقت مانگاتھا لیکن چیف جسٹس نے ملنے سے انکار کردیا۔اپوزیشن لیڈروں نے چیف جسٹس کو خط بھیج کر کہا کہ وہ ان سے مل کر چنائو کمیشن اور مبینہ ووٹ چوری سمیت کئی اشوز پر اپنی تشویشات ان کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں۔ چیف جسٹس نے اس ملاقات کو ٹھکراتے ہوئے کہا کہ جن اشوز کو لیکر ملاقات کی درخواست کی گئی ہے ان سے جڑے معاملہ پہلے سے ہی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہیں۔ایسے معاملوں پر الگ ملاقات کرنا عدلیہ تقاضوں کے مطابق نہیں ہوگا۔ چیف جسٹس نے اپوزیشن لیڈروں کو مشورہ دیا کہ وہ ایک عرضی دائر کردیںاس پروہ سماعت کریںگے۔ چیف جسٹس کی اس تجویز پر رائے زنی کرتےہوئے تمام اپوزیشن لیڈ پیر کو ایک مارچ کرتے ہوئے سپریم پہنچے۔ 12اکتوبر کو یہ مارچ کیا گیا۔اتفاق سے مجھے اس جلوس کو دیکھنے کا موقعہ ملا۔ ہوا یوں کہ میں تقریباً تین بجے اپنے دفتر پرتاپ بھون ،بہادرشاہ ظفر مارگ جا رہا تھا، جب ہم انڈیا گیٹ پر پہنچے تو تلک مارگ کا راستہ بند تھامجبوراً ہمیں وہاں سے نکل کر منڈی ہائوس مارگ کے راستے جانا پڑا۔ منڈی ہائوس پہنچنے پر میں نے دیکھا کہ وہ پوری طرح گھرا ہوا ہے۔ وہاں سینکڑوں مظاہرین پہنچے ہوئے تھے۔ وہاںسے لیڈی ارون کالج والاتلک برج تک کا روڈ بلاک تھامجبوراً ہم بارہ کھمبا روڈ سے جانے لگے۔ بارہ کھمبا روڈ پر بھی سینکڑوں لوگ سڑک پر تھے۔ ان میں زیادہ تر وکیل تھے وہ پہلے سے کھڑے تھے یا سڑک پر بیٹھے تھے۔ انہوں نے میری گاڑی کو راستہ دیا اور بھیڑ میں میں للت ہوٹل ہوتے ہوئے دفتر پہنچا۔میں نے اپنی زندگی میں اتنی بھیڑ ایک بار پہلے دیکھی تھی جب رام لیلا گرائونڈ میں انا آندولن ہوا تھا لیکن بعد میں میں نے ٹی وی پر بھیڑ دیکھی تو میں حیران ہوگیا۔ دہلی میں برسوں بعد ایسی بھیڑ دیکھی۔ یہ بھیڑ کوئی کرائے پر لائے گئے لوگ نہیں تھے، جو بسوں میں  دبائو کے چلتے آنے پر مجبور ہوئے۔بھیڑ میںبزرگ ، درمیانی عمر کے لوگ، لڑکے لڑکیاں سبھی طرح کے لوگ تھے جو اپنے پیسوں سے ، اپنی مرضی سے اس مارچ میں شامل ہوئے۔ پولیس نے بھی اس مرتبہ بہت کنٹرول، سمجھداری سے کام کیا۔انہوں نے کہیں بھی کسی طرح کی زور زبردستی نہیںکی۔ بھیڑ اتنی تھی کہ راہل گاندھی، پرینکا کی جان کو خطرہ ہوسکتا تھا۔ حالانکہ ان کو زیڈ پلس سکیورٹی ملی ہوئی ہے جس میں 41 سے 50 سکیورٹی ملازم ہوتے ہیں۔ اس دن مشکل سے چار پانچ ہی نظر آئے۔ راہل ۔ پرینکا کو تھوڑا اپنی حفاظت پر بھی دھیان دینا ضروری ہے۔ایسی بے کنٹرول بھیڑ میں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ خیر! 11 اپوزیشن لیڈروں نے ایس آئی آر بڑے سطح پر نام کاٹنے اور گڑ بڑی کے الزام لگاتے ہوئے مشترکہ عرضی دائر کی۔اس میں چنائو کمیشن ، سی ای سی، گیا نیش کمار اور دونوں الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو، وویک جوشی فریق بنائے گئے ہیں۔ووٹ چوری کو لیکر دہلی کی سڑکوں پر سات دن سے مظاہرے جاری ہیں۔ اس سے پہلے بارہ کھمبا روڈ سے اپوزیشن کا سپریم کورٹ کی جانب مارچ شروع ہوا تو راہل گاندھی نےاکھلیش یادو، تیجسوی یادو، سپریا سلے سمیت کئی دوسرے لیڈروں کو بھی بلایا ۔ ایس آئی آر رضاکار نیہاوہرہ بھی ذاتی طور پر موجود تھی۔مارچ کے دوران راہل گاندھی پیدل آگے بڑھنے کے لئے نکلے تو ان کے آس پاس لوگوں کی بھیڑ جمع ہوگئی۔ جس سے کچھ دیر تک دھکا مکی جیسی حالت بن گئی۔بھیڑ کو کنٹرول کرنا چیلنج بن گیا۔اس سے بڑی بدقسمتی کیا ہوگی کہ دیش میں ایک اہم مسئلہ پر لوگوں کو سڑکوں پر آنے کے لئے مجبور ہونا پڑ رہا ہے اور کوئی جوابدہی کو تیار نہیں تو اب ایک ہی راستہ انصاف کے لئے بچتا ہے وہ ہے سپریم کورٹ کو دروازہ اور یہی اپوزیشن نے کیا۔ سپریم کورٹ میں انصاف کا دروازہ کھٹکھٹایا۔
(انل نریندر)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپوزیشن کا سپریم مارچ!

لوک سبھا میںاپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی اورمختلف اپوزیشن لیڈروں نے بھارت کے چیف جسٹس، جسٹس سوریہ کانت سے ملاقات کا وقت مانگاتھا لیکن چیف جسٹ...