پاکستان میں امریکہ ایران کے درمیان باہمی بات چیت میں تہران کی فریز پڑے 6 ارب ڈالر کی جائیداد کو جاری کرنا ایک اہم اشو ہے یہ پیسہ ابھی قطر میں جمع ہے ۔میڈیا رپورٹ کے مطابق ایک ایرانی ذرائع نے بتایا کہ قطر سمیت بیرون ممالک میں ضبط اثاثوں کو جاری کرنا اور محفوظ تبادلہ لین دین طے کرنے سے سیدھے طور سے وابستہ ہے ۔6 ارب ڈالر کی یہ رقم پہلے 218 میں روکی گئی تھی ۔واشنگٹن و تہران کے درمیان قیدیوں کی ادلابدلی کے معاہدے کے تحت اسے 2023 میں فریز کیا گیا تھا ۔لیکن 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حماس کے حملے کے بعد بائیڈن انتظامیہ نے اثاثوں کو پھر سے فریز کر دیا تھا ۔ادھر امریکہ نے ایران کے اس دعوے کو مسترد کردیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ اسلا م آباد مذاکرات میں ضبط اثاثوں کو چھوڑے گا ۔امریکہ نے صاف کہا کہ وہ ایرانی اثاثوں کو واپس نہیں کرے گا اس سے پہلے ایران نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ اس بات پر راضی ہو گیا ہے کہ ضبط اثاثوں کو چھوڑے گا ۔پچھلے کچھ دنوں سے ایک بار پھر جنگ بندی اور امن مذاکرات کی بات ہو رہی ہے ۔دیکھیں امریکہ اور ایران میں کن کن مسئلوں پر سمجھوتہ ہوتا ہے ۔اگر ہوتا بھی ہے ؟
(انل نریندر)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں