Translater

19 جنوری 2021

ریلائنس نے کرناٹک کے کسانوں سے ایم ایس پی سے زیادہ قیمت پردھان خریدا

زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کے درمیان کرناٹک سے ایک خبر آئی ہے کہ ریلائنس انڈسٹری لمیٹڈ کی معاون کمپنی ریلائنس ریٹیل لمیٹڈ نے سنگھنور میں واقع ایگرو کمپنی کے ذریعے کرناٹک کے1100 کسانوں سے ایم ایس پی سے زیادہ قیمت یعنی 1000روپے فی کنٹل دھان خریدنے کیلئے ایک معاہدے پر دستخط کئے ہیں ۔کمپنی کے ایک افسر نے بتایا کہ کسانوں سے دھان کی 1100روپے فی کنٹل کی خرید پر بڑی راحت دی ہے ۔کرناٹک میں اے پی ایم سی کے بعد کسی بڑی کارپوریٹ کمپنی اور کسانوں کے درمیان پہلی مرتبہ اس طرح کا سودہ ہوا ہے ۔کمپنی نے سونامنسوری دھان کیلئے 1950روپے فی کنٹل قیمت کی پیش کش کی ہے ۔جو سرکار کے تئیں ایم ایس پی ریٹ 1868روپے سے 82روپے زیادہ ہے ۔ہیلتھ فارمرس پروڈوسنگ کمپنی کے منیجنگ ڈائرکٹر ملک ارجن نے بتایا کہ سنگھنور میں حال ہی میں ترمیم شدہ کرناٹک ایگری کلچر مارکیٹنگ کمیٹی ایکٹ 2020کے تحت کسانوں سے یہ سودا ہوا ہے اس قانون کے تحت کسانوں کو اپنی پروڈکٹس سرکار منڈیوں کے علاوہ کہیں بھی بیچنے اور ایم ایس پی سے بھی زیادہ قیمت پرفروخت کرنے کی آزادی ملتی ہے کیوں کہ معاہدے پر دستخط ہو چکے تھے اس لئے کسانوں نے پچھلے اتوار تک ریلائنس ریٹیل کو قریب 100ٹن چاول دے دیا ہے فی 100روپے کے ٹرانجکشن پر ایم ایف پی سی کو 1.5فیصد کا کمیشن ملا ہے ۔اس کے برعکس دیش کے سب سے امیر بجنس مین مکیش امبانی کی کمپنی ریلائنس انڈسٹریز نے پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ مین دائر ایک عرضی میں کہا تھا کہ دیش میں ابھی جن تین زرعی قوانین کو لیکر بحث چھڑی ہوئی ہے ان کے ساتھ اس کا (کمپنی کا )کوئی لینا دینا نہیں ہے اس نے یہ بھی کہا اسے اس قانون سے کسی طرح کا کوئی فائدہ نہیں پہونچ رہاہے ریلائنس انڈسٹریز نے ہائی کورٹ کو بتایا کہ ان تین قوانین کے ساتھ ریلائنس کا نام جوڑنا صرف اور صرف ہمارے کاروبار کو نقصان پہوچانے اور بدنام کرنے کی ناپاک کوشش ہے ۔کمپنی نے عدالت کو یقین دلایا تھا کہ وہ کارپوریٹ یا ٹھیکہ کی کھیتی نہیں کرتی اس نے کارپوریٹ یا ٹھیکہ پر زرعی اجناس کے لئے پنجاب یا ہریانہ یا دیش کے کسی بھی حصہ میں درپردہ یا غیر بالواسطہ طور پر زرعی زمین کی خرید نہیں کی ہے ۔غذائیت و مسالے ،پھل ،سبزیاں اور روز مرہ کے استعمال کی اجناس کا اپنے اسٹور کے ذریعے فروخت کرنے والی اس ریٹیل یونٹ کسانوں سے سیدھے طور پر غذائیت کی خرید نہیں کرتی ہے ۔کمپنی نے کہا کسانوں سے غیر مناسب فائدہ حاصل کرنے کے لئے ہم نے کبھی طویل میعاد تک سودا نہیں کیا ہے ہم نے نا ہی کبھی کوئی کوشش کی ہے کہ ہمارے سپلائی کردہ کسانوں سے طے قیمت سے کم خردی کریں ۔ہم ایسا کبھی نہیں کریں گے تو سوال یہ ہے کہ ریلائنس نے جو موقف پنجاب و ہریانہ کورٹ میں رکھا ہے اس کے برعکس کرناٹک میں کسانوں سے سیدھا سودا کیا ہے ۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ریلائنس نے ہائی کورٹ میں غلظ حلف نامہ دیا؟ یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ریلائنس زراعت سیکٹر میں انٹری کر چکی ہے یہ ہی تو کسانون کو ڈر ہے کہ کارپوریٹ زراعت سیکٹر کو اپنے قبضہ میں کرنا چاہتے ہیں اس لئے سرکار ان تینوں قوانین کو واپس نہیں لے رہی ہے ۔ (انل نریندر)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...