Translater
15 جولائی 2025
کیا ٹرمپ اور نیتن یاہو نے پھر حملے کی تیاری کر لی ہے ؟
نیتن یاہو کے حالیہ امریکی دورہ کے بعد ایران پر پھر حملے کا اندیشہ منڈگیا ہے۔وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کا وہ مقصد پورا ہوگیا ہے لگتا ہے جس کے لئے وہ خاص طور پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملنے امریکہ گئے تھے ۔مانا جارہا ہے کہ ٹرمپ نے اسرائیل کو ایران پر پھر سے حملہ کرنے کی اجازت دے دی ہے ۔سوال یہی ہے کہ کیا نیتن یاہو ایران پر حملے کا دوسرا مرحلہ شروع کرنے جارہے ہیں ؟ ایران پر حملے کا خطرہ اس لئے بڑھ گیا ہے کیوں کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران پر حملہ کرنے کا بلو پرنٹ تیار کر چکے ہیں ۔ایسا امریکی میڈیا بھی دعویٰ کررہا ہے ۔نیتن یاہو جب واشنگٹن گئے تھے تبھی صاف ہو گیا تھا کہ وہ ٹرمپ سے ایران پر حملے کی اجازت لیں گے ۔اب جبکہ نیتن یاہو کا دورہ پورا ہو گیا ہے تو ماناجارہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو ایران پر حملے کے لئے ہری جھنڈی دے دی ہے ۔اس کے اشارے اس بات سے بھی مل رہے ہیں کہ پچھلے کچھ دنوں میں واشنگٹن میں سب کچھ ویسا ہی ہورہا ہے جیسا پچھلی بار حملے سے پہلے ہوا تھا ۔ٹرمپ اور نیتن یاہو میں واشنگٹن دورہ کے دوران دو ایمرجنسی میٹنگیں ہوئیں ایک میں تو ٹرمپ کے ساتھ تمام امریکی فوج کے سربراہ بھی شامل ہوئے تھے ۔یعنی فوجی نظریہ سے بھی حملے کے سارے پہلوو¿ں پر غور ہواہوگا ۔نیتن یاہو کے دورہ کے بعد ٹرمپ نے خفیہ ایجنسیوںکے سربراہوں سے ملے تھے ۔ٹرمپ پچھلی بار ایران پر ہوئے حملے سے پہلے اسی طرح کے پروگرام پر تھے ۔اسرائیل نے جس دن ایران پر حملہ کیا تھا اس دن بھی ٹرمپ نے انٹیلی جینس بریفنگ دی تھی ۔نیتن یاہو کے حملے کا رخ تو اس بات کا اشارہ دے رہا ہے کہ ایران پر حملے کا دوسرا دور کبھی بھی شروع ہو سکتا ہے۔امریکہ اور اسرائیل کے ہمیں دوربارہ جنگ چھڑنے کے پیچھے دو مقصد نظر آتے ہیں ۔پہلا ایران کو ہر حملے میں نیوکلیائی طاقت بننے سے روکنا ہے ۔اور اسی راو¿نڈ میں جب امریکہ B-2 اسٹیلتھ بامبر سے بینکر واٹر بم گرائے تھے تو ایران کے نیوکلیائی کارخانوں کو اتنا نقصان نہیں ہواتھا ماہرین کا دعویٰ تھا کہ ایران نیوکلیائی بم بنانے میں صرف دو تین مہینے پیچھے ہی رہ گیا ۔کہاتو یہ بھی جارہا ہے کہ ایران نے اپنے 400 کلو اینرچ یورونیم کو امریکی حملے سے پہلے ہی کسی محفوظ جگہ پہنچا دیا تھا۔بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران جب تک چاہے کم سے کم 10 نیوکلیائی بم بنا سکتا ہے ۔ٹرمپ نیتن یاہو اس بات ایران کے نیوکلیائی پلانٹس کو ہمیشہ کے لئے ختم کرنا چاہتے ہیں ۔دوسر ا مقصد ایران کو اتنا کمزور کر دیں کہ وہ مشرقی وسطیٰ میں محض ایک بڑا بیج کا اثر دار دیش بن کر رہ جائے ۔تیسرا مقصد ایران سے آیت اللہ علی خامنہ ای عہد کو ہمیشہ کے لئے ختم کرنا ۔اس میں خامنہ ای کا قتل بھی پلان ہے ۔اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس نے ایران کے زیادہ تر یورینیم کا پتہ لگا لیا ہے۔ماناجارہا ہے کہ جنگ بندی کے بعد موساد نے اس لوکیشن کا بھی پتہ لگا لیا ہے جہاں ایران نے اپنا سب سے زیادہ یورینیم چھپایا ہوا ہے ۔ادھر امریکہ اس بات سے بھی بھڑکا ہوا ہے کہ ایران نے اپنے ایٹمی مشن کا معائنہ نہیں کرنے دے رہا ہے۔انٹرنیشنل ایٹامک اینرجی (آئی اے ای اے ) کے چیف رافال گروسی نے ایران کے سبھی ایٹمی مشن کو لے کر کہا ہے کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں ۔ اس بات کے ثبوت تو نہیں ہیں لیکن خطرہ ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتاجارہا ہے ۔گروسی کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ایران اتنا اہل ہو چکا ہے کہ وہ بہت جلد نیوکلیائی تجربہ کر سکتا ہے ۔غیر مصدقہ دعووں میں تو یہاں تک کہاجارہا ہے کہ ایران نے نیوکلیائی بم تیار کر لئے ہیں ۔ادھر ایران بھی اگلے راو¿نڈ کے لئے پوری طرح تیار ہے ۔وہ چنوتی دے رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ اگر اس بار امریکہ اسرائیل نے پھر ایران پر حملہ کیا تو انہیں ایسا سبق سکھایا جائے گا جسے وہ نہیں بھولیں گے۔ہم پوری طاقت سے جواب دیں گے ۔پچھلے 12 دن چلی لڑائی میں ہم نے ثابت کر دیا تھا کہ ہم کتنی تباہی مچا سکتے ہیں ۔اس بار تو ایران زیادہ مضبوط حالت میں نظر آرہا ہے کیوںکہ چین ،روس اور نارتھ کوریا کا بھی اس کو پوری کھلی حمایت مل چکی ہے ۔کل ملا کر صورتحال بہت کشیدہ ہے ۔ہم امید کرتے ہیں اوپر والے سبھی فریقین کو عقل دے تاکہ کہیں تیسری جنگ کی شروعات نہ ہو جائے ۔
(انل نریندر)
12 جولائی 2025
پلوامہ حملہ : ٹیرر فنڈنگ بھی آن لائن!
آتنکوادی پچھلے کچھ برسوں سے اپنی ناپاک سازشوں کو انجام دینے کے لئے روایتی طریقے کے بجائے جدید تکنیک کا سہارا لے رہے ہیں ۔خاص کر انٹرنیٹ کے ذریعے مختلف طرح کی مدد حاصل کرنا ان کے لئے آسان اور اچھا طریقہ بن گیا ہے ۔عالمی دہشت گردی نگرانی ادارہ ایف اے ٹی ایف نے فروری 2019 کے پلوامہ آتنکی حملے اور گورکھ ناتھ مندر میں ہوئی 2020 کے واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ای - کامر س اور آن لائن پیمنٹ سیواو¿ں کا بیجا استعمال دہشت گردی کو مالی مدد کے لئے کیا جارہا ہے ۔اپنے تجزیہ میں ایف اے ٹی ایف نے دہشت گردی کو سرکار کے ذریعے اسپانسر کئے جانے کی بھی نشاندہی کی ہے ۔اور کہا کہ کھلے طور سے دستیاب اطلاع کے مختلف ذرائع اور اس رپورٹ سے نمائندہ وفود کے غور سے اشارہ ملتا ہے ۔ٹیرر فنڈنگ پر نظر رکھنے والی اس عالمی انجمن کی حالیہ رپورٹ نے دہشت گردی کے الگ الگ پہلوو¿ں کی جانب توجہ مرکوز کائی ہے ۔اس میں بتایا گیا ہے کہ کیسے ٹیکنالوجی تک دہشت گرد تنظیموں کو آسانی سے پہنچ رہے ہیں ۔انہیں خطرناک بنا رہی ہیں ۔اس سے نمٹنے کے لئے عالمی سطح پر نئی حکمت عملی کی ضرورت ہو گئی ہے ۔رپورٹ کے مطابق 2019 میں پلوامہ اور 2022 میں گورکھ ناتھ مندر میں ہوئے آتنکی حملے کے لئے آن لائن پلیٹ فارم استعمال کیا گیا۔پلوامہ میں دہشت گردوں نے آئی ای ڈی کا استعمال کیا تھا ۔اور اسے بنانے کے لئے الیومیونیم پاو¿ڈر دیگر جگہ سے خریدا ۔گورکھپور کے گورکھ ناتھ مندر میں ہوئے حملے میں پیسے کا لین دین بھی آن لائن کے ذریعے پہنچایا گیا ۔یہ ہی نہیں آتنکی بچ پانے کا طریقہ بھی انٹرنیٹ سے سیکھ رہے ہیں جو سنگین تشویش کا باعث ہے ۔حالیہ برسوں میں ہوئے کئی آتنکی حملوں کی جانچ میں اس کے ثبوت ملے ہیں ۔اس سے صاف ہے کہ آن لائن سروسز کا بیجا استعمال کس قدر خطرناک شکل لے چکا ہے ۔ایف اے ٹی ایف کے مطابق پلوامہ حملے میں الیومونیم پاو¿ڈر کا استعمال دھماکہ کے اثر کو بڑھانے کے لئے کیا گیا تھا ۔جیش محمد آتنکی تنظیم نے فروری 2019 میں سیکورٹی فورس کے قافلے پر فدائی حملہ کیا تھا ۔لوک سبھا چناو¿ سے کچھ مہینے پہلے ہوئے دھماکے نے سی آر پی ایف کے 40 جوان بلیدان ہوئے تھے۔ایف اے ٹی ایف نے کچھ دن پہلے پہلگام کو لے کر کہا تھا کہ اتنا بڑا آتنکی حملے باہری مالی مدد کے بغیر ممکن نہیں ہوسکے گا ۔اس کی حالیہ رپورٹ اسی بات کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔دہشت گردوں نے اپنے کام کا طریقہ بدل لیا ہے اب وہ انٹرنیٹ کی دنیا کی طرف جارہے ہیں ۔ایف اے ٹی ایف کی اس اپڈیٹ رپورٹ نے سرکاری اسپانسر دہشت گردی کے دعوے پر بھی درپردہ طور سے مہر لگا دی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دہشت گرد اپنے تشدد کے لئے ذمہ دارہیں ۔اور آپریشنس کے لئے ساز وسامان ہتھیار اور یہاں تک کہ تھری ڈی پرنٹنگ ساز وسامان کی خریداری تھی آن لائن سروسز کے ذریعے کررہے ہیں ۔یہ بات صحیح ہے کہ آن لائن خریدار ی کے سسٹم سے لوگوںکو کافی سہولیت ہوئی ہے لیکن اس سہولت کا استعمال خطرناک منصوبوں کو انجام دینے کے لئے نہ ہو اس پر سرکار کی گہری نگاہ رکھنی ہوگی اور ایسے قاعدے بنانے ہوں گے جن سے یہ آ ن لائن سائٹ کی سہولت کا بیجا استعمال نہ کر سکیں ۔اور دہشت گردی پھیلانے میں مدد نہ کر پائیں ۔ساتھ ہی آن لائن سیلس انتظام کرنے والے اسٹیجز کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اس طرح کے سامان کی باقاعدہ طور پر نگرانی کریں تاکہ اس کے بیجا استعمال پر روک یقینی ہو سکے ۔ایف اے ٹی ایف کا یہ انکشاف بھی اہم ہے کہ آتنکی تنظیموں کو کچھ دیشوں کی حکومتوں سے مالی اور دیگر مدد ملتی رہی ہے ۔جن میں ساز وسامان سے متعلق مدد و ٹریننگ بھی شامل ہے ۔بھارت سمیت کئی دیش دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے متحدہ کوششوں پر زور دے رہے ہیں لیکن کچھ چنندہ ملکوں کے ذریعے دہشت گردوں کی مالی کفالت سے اس پر پلیتا لگ رہا ہے ۔دہشت گردی کی اس چنوتی سے نمٹنے کے لئے عالمی سطح پر کوششیں کرنی ہوں گی اس سے پہلے بھی ہم نے دیکھا کہ کس طرح پاک اسپانسر آتنکی واقعات ہمارے خلاف کئے جارہے ہیں ۔یہ بات چھپی نہیں ہے پاکستان دہشت گردوں کی کفالت کرکے انہیں ہتھیار کی طرح استعمال کرتا ہے ۔سرکار کو سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا کہ کیسے ای کامرس کمپنیوں پر پابندی لگائی جائے تاکہ وہ دہشت گردی کو بڑھاوا دینے والی سرگرمیوں کو بند کریں ۔
(انل نریندر)
10 جولائی 2025
رفال گرنے پر چین نے پھیلاہا بھرم!
آپ کو یاد ہوگا کہ بھارت ،پاکستان لڑائی میں پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے بھارت کے کئی جہازوں کو مار گرایا ہے ۔ان میں رفال سخوئی ،اور مگ شامل تھے ۔آپریشن سندور کے دوران کیوں بھارت کے رفال جنگی جیڈ گرے تھے ؟ ایک انٹرویو میں ڈیفنس سکریٹری آر کے سنگھ نے سی این وی سی ٹی وی 18 کو دیے انٹرویو میں کہا آپ نے رفال لفظ بہووچن میں استعمال کیا ہے ۔میں بھروسہ کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ یہ بالکل بھی صحیح نہیں ہے ۔پاکستان کو ہیومن اور فوجی ساز وسامان دونوں سطحوں پر بھارت کا موازنہ میں کئی گنا زیادہ نقصان ہوا ہے اور 100 سے زیادہ دہشت گردمارے گئے ۔وہیں پاکستان کے فوجی چیف جنرل منیر نے کہا بھارت سے فوجی لڑائی کے دوران باہری حمایت ملنے کا دعویٰ حقائق طور سے غلط ہے ۔اب خبر آئی ہے کہ آپریشن سندور کے درمیان ہوئی جھڑپوں کے بعد تیار رفال جیٹ جہازوں کے سلسلے میں غلط فہمی پھیلائی گئی تھی ۔چین نے اس کام پر اپنے سفیر کو تعینات کیا تھا ۔فرانسیسی فوجی حکام اور خفیہ ایجنسیوں کے ذریعے نکالے گئے نتیجہ کی بنیاد پر بتایاجارہا ہے کہ فرانس کے چیف جنگی جہاز کے ساتھ اور فروخت کو نقصان پہنچانے کا بیجنگ پروپیگنڈہ کررہا تھا ۔لگاتار کہہ بھی رہا ہے فرانسیسی خفیہ سروس کی بنیاد پر بتایا کہ چین کے سفارتخانوں میں ڈیفنس حکام نے رفال کی بکری کو متاثر کرنے کے لئے باقاعدہ مہم چلائی گئی ۔اس کا مقصد ان ملکوں کور اضی کرنا تھا جنہوں نے پہلے بھی فرانس سے تیار جنگی جہاز کا آرڈر دے رکھا ہے ۔خاص طور سے انڈونیشیا رفال جہاز نہ خریدنے اور دیگر امکانی خریداروں کو چین میں تیار ایف 10 اور ایف 15- وغیرہ یا ایف 33- جنگی جہاز انتخاب کرنے کے لئے ترغیب دی ۔رافیل سمیت دیگر تمام ہتھیاروں کی بکری فرانس کی ڈیفنس انڈسٹری کا اہم کاروبار ہے ۔جس سے پیرس کے دنیابھر کے دیشوں سے رشتے مضبوط ہوتے ہیں ۔ان میں کیوں کہ ایشیائی ملک بھی شامل ہیں جہاں چین بڑی طاقت بن چکا ہے ۔چین کے مشرقی ایشیا میں مسلسل بڑھتا اثر ہے ۔بھارت پاک لڑائی کے دوران پڑوسی ملک کی ایئر فورس کے ذریعے ہندوستنانی جہازوں کو مار گرانے کا جھوٹا پروپیگنڈہ کیا تھا جن میں چین رافیل جہاز گرائے بتائے گئے ۔فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ اس گمراہ کن پروپیگنڈہ سے رافیل کی پرفارمنس پر سوالیہ نشان لگانے کی کوشش چین نے کی ہے ۔فرانسیسی ایئر فورس کے چیف جنرل ویروم بیلنگر نے کہا کہ انہوں نے صرف تین ہندوستانی جہازوں کو نقصان ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ثبوت دیکھے ہیں ۔ان کے مطابق ان میں ایک رافیل ،ایک سخوئی اور ایک فرانس میں تیار چراغ 2000- جنگی جہاز شامل ہیں ۔فرانس میں آٹھ دیشوں کو رافیل جنگی جہاز بیچے ہیں جن میں سے بھارت پاک لڑائی میں ان جہاز کے گرنے کا پہلا نقصان کا معاملہ سامنے آیا ہے ۔شوشل میڈیا پر وائرل پوسٹ مبینہ طور پر رافیل کے ملبہ سے چھیڑ چھاڑ کی گئی ۔تصویر اے آئی سے بنائے کنٹینٹ اور جنگ کا تجزیہ کرنے والے ویڈیو وغیرہ کی مہم کا حصہ تھا ۔ہماری رائے میں تو بھارت سرکار کو دیش کو اب بتا دینا چاہیے کہ آپریشن سندور کے دوران بھارت کے کتنے جہاز وں کو نقصان ہوا تھا اور یہ کون کون سے جہاز تھے ؟ چھپانے سے افواہ اور پھیلتی ہے اور دشمنوں کو بھرم پھیلانے کا موقع مل جاتا ہے ۔
(انل نریندر)
08 جولائی 2025
پاکستان تو محض مہرا ،سرحد پر کئی دشمن تھے !
آپریشن سندور کے دوران بھارتیہ سینا کو کن کن مشکلوں کا سامنا کرنا پڑا یہ معمہ ابھی بھی آہستہ آہستہ سامنے آرہا ہے ۔آپریشن سندور کی پرتیں کھلنے لگی ہیں ۔بھارت کی فوجی حکمت عملی میں ایک میل کا پتھر بن کر آپریشن سندور ابھرا ہے ۔جو خفیہ جانکاری سے چلے جنگ اور اضافہ پر کنٹرول اور تکنیکی صلاحیت کے بارے میں بیش قیمت سبق دیتا ہے۔یہ بات ڈپٹی چیف آرمی اسٹاف لیفٹننٹ جنرل راہل آر سنگھ نے کہی ہے۔جمعہ کو امریکی ملیٹری ٹیکنالوجی پر فکی کے ایک پروگرام میں اپنے خیالات میں جنرل سنگھ نے اس آپریشن کو بھارت کی یونیفائیڈ فوجی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے صحیح وقت پر لڑائی کو روکنے کے لئے تیار کیا گیا ۔ایک ماسٹر لی اسٹروک بتایا ۔پوز میوٹ باقی وقت 9.44 مکمل پیمانہ پر جنگ کے بغیر حکمت عملی فروغ جنگ شروع کرنا آسان ہے ۔لیکن اسے کنٹرول کرنا بہت مشکل ہے ۔فکی پروگرام سے خطاب میں بھارت اور پاکستان لڑائی کے دوران چین کے رول پر بھی بات کی ۔ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ پچھلے پانچ سال میں پاکستان کو ملنے والا 81 فیصد فوجی ہارڈ ویئر چین سے ہی آیا ۔ان کا کہنا ہے کہ حالیہ لڑائی میں پاکستان کے ساتھ چین کا تو بڑا رول تھا ہی لیکن اس دوران ترکی پاکستان کو دی گئی فوجی مدد کا بھی تذکرہ کیا ۔انہوں نے کہا جنگ کے دوران پاکستان کی جانب سے کئی درون استعمال کئے گئے جو ترکیہ سے آئے تھے ۔وہ کہتے ہیں آپریشن سندور کے بارے میں جو سبق ہے جو ہمیں ضروری سمجھتا ہوں بتانا ۔سب سے پہلے ایک سرحد پر دو دشمن نہیں تھے ۔ہم نے صرف پاکستان کوتو سامنے دیکھا لیکن دشمن اصل میں دو تھے بلکہ اگر کہیں تو تین یا چار تھے ۔پاکستان تو صرف سامنے دکھائی دینے والا مہرہ تھا ۔۔۔ ہمیں چین سے (پاکستان) کو ہر طرح کی مدد ملتی نظر آئی ۔اور یہ کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے چونکہ چین پچھلے پانچ برسوں سے پاکستان کی ہر سیکٹر میں مدد کرتا رہا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ ایک بہت جو چین نے دیکھی وہ یہ کہ اپنے ہتھیاروں کو الگ الگ سسٹم کے خلاف آزما سکتا ہے جیسے ایک طرح سے لیب سے مل گئی ہو ۔اس کے علاوہ ترکیہ نے بھی بہت اہم رول نبھایا جو پاکستان کو ہر طرح سے مدد کررہا تھا ۔ہم نے دیکھا کہ کئی طرح کے درون بھی وہاں پہنچے اور اس کے ساتھ ان کے ٹرینر لوگ بھی تھے ۔جنرل سنگھ نے کہا کہ ایک اور بڑا سبق یہ ہے کہ کمیونیکیشن نگرانی اور فوج اور شہری تال میل اس کی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں جب ڈی جی ایم او لیول کی بات چیت ہو رہی تھی تب پاکستان کہہ رہا تھا کہ ہمیں معلوم ہے کہ آپ کی ایک یونٹ پوری طرح تیار ہے ۔برائے کرم اسے پیچھے کر لیں یعنی چین انہیں لائیو ان پٹ دے رہا تھا اس معاملے میں ہمیں بہت تیزی سے کام کرنا ہوگا ۔میں نے جنرل سنگھ نے کہا کہ ایک طرف بڑا سبق ملا ہے کہ ہمارے پاس مضبوط اور سیف سپلائی چین ہونی چاہیے اسے فوج کے نظریہ سے سمجھاتے ہوئے کہا کہ جو آلات ہمیں اس سال جنوری یا پچھلے سال اکتوبر نومبر تک ملنے چاہیے تھے وہ وقت پر نہیں پہنچ سکے ۔میں نے ڈرون بنانے والی کمپنیوں کو بلایا تھا اور پوچھا تھا کہ کتنے لوگ طے میعاد پر ساز وسامان دے سکتے ہیں تو کئی لوگوں نے ہاتھ کھڑے کر دیے تھے لیکن ایک ہفتہ بعد جب پھر سے بات ہوئی تھی تب بھی کوئی سامنے نہیں آیا ۔اس درمیان کانگریس نیتا جے رام رمیش نے کہا ہے کہ ڈپٹی چیف آرمی اسٹاف لیفٹننٹ جنرل راوت آر سنگھ پبلک اسٹیج سے وہی بات صاف کر دی ہے جو لمبے وقت سے موضوع بحث تھی ۔انہوں نے اپنے ایکس پر لکھا اور بتایا کہ کس طرح چین نے پاکستان ایئر فور س کی غیرمعمولی طریقہ سے مدد کی تھی ۔یہ وہی چین ہے جس نے پانچ سال پہلے لداخ میں پوزیشن کو پوری طرح بدل دیا تھا ۔جنرل سنگھ نے دیش کو آگاہ کیا کہ اگلی لڑائی میں بھارت کو کن کن حالات کا سامنا کرنا پڑے گاجس کے لئے ہمیں تیاری ابھی سے شروع کرنی ہوگی ۔
(انل نریندر)
05 جولائی 2025
ایران کا موساد سے بدلہ!
اسرائیل کے ایران پر حملے کی شروعات کے بعد سامنے آئی رپورٹوں سے صاف اشارہ ملتا ہے کہ جنگ کا مورچہ آسمان نہیں ،بلکہ زمین میں بھی پہلے سے ہی کھل چکا تھا۔کافی ثبوت سے ایران نے گہری خفیہ اور آپریشنل گھس پیٹھ کے ذریعے اسرائیل میں تیاری کررہا تھا ۔حالانکہ ایرانی حکام پہلے بھی یہ اندیشہ جتا چکے ہیں کہ اسرائیل ایرانی سیکورٹی فورسز میں دراندازی کر سکتا ہے ۔لیکن اس پورے واقعہ میں اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کا رول اہم ترین رہا ۔اسرائیل عام طور پر موساد کے کام کاج پر رائے زنی نہیں کرتا اور ایران میں کررہی کاروائیوں میں دوسری خفیہ ایجنسی بھی شامل ہوسکتی ہیں ۔پھر بھی ایسا ماناجاتا ہے کہ موساد نے ایرانی زمین پر حقاق کی پہچان اور کاروائیوں کو انجام دینے میں اہم رول نبھایا ۔کئی میڈیا رپورٹوں اور کچھ اسرائیلی حکام کی رائے زنیوں سے صاف ہوتاہے کہ ایران کے اندر اینٹی - سب مرین سسٹم میزائل گودام ،کمانڈ سنٹرس اور چنندہ ٹاپ ملیٹری اور سائٹس کو نشانہ بنا کر ایک ساتھ اور بے حد ٹھیک حملے کئے گئے۔یہ حملے ان خفیہ سرگرمیوں کے ذریعے ممکن ہو پائے جو لمبے عرصے سے ایران کے اندر سرگرم تھیں ۔اسرائیلی حملوں میں نہ صرف ایران کے فوجی اور نیوکلیائی پلانٹس کو نشانہ بنایا بلکہ دیش کے اندر ان کی خفیہ صلاحیتوں کو بھی سنگین نقصان پہنچایا ۔ادھر ،اسرائیل کے ساتھ زبردست لڑائی کے بعد ایران نے گرفتاریوں اور موت کی سزا دینے کا موساد سے بدلہ لینے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے ۔حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ایجنوں نے ایرانی خفیہ سروسز میں بہت ہی پختہ ڈھنگ سے دراندازی کر لی ہے ۔ان حکام کو اس بات کا پتہ ہے کہ ایران کے ہائی پروفائل لیڈروں کا جس طرح سے قتل ہوا ہے اس میں اسرائیلی فوج کو دی خفیہ ایجنٹوں سے ملی جانکاریوں کا ہاتھ رہا ہوگا ۔اسرائیل نے حالانکہ لڑائی میں ایران کی اسلامی ریوولوشنری گارڈ کور کے کئی سینئر کمانڈروں اور نیوکلیائی سائنس دانوں کو مارڈالاتھا ۔ایرانی حکام نے اسرائیل کے لئے جاسوسی کرنے کے الزام میں تین لوگوں کو پھانسی دے دی ہے ۔تہران نے جنگ بندی کے ایک دن بعد جہاں تین موساد جاسوسوں کو پھانسی دی وہیں فوج نے 700 سے زیادہ ایراقی تعلق رکھنے والے جاسوسوں کو گرفتار کیا ہے ۔اس کے علاوہ ایران نے یہ بھی کہا ہے کہ سیکورٹی ایجنسیوںنے حالیہ ہفتوں میں تہران اور دیگر شہروں میں موساد کے ایجنٹوں کے ذڑیعے کنٹرول کئی زیر زمین ڈرون سروسز کو بھی تباہ کر دیا ہے ۔ان تین موساد ایجنٹوں کی ایرانی شہر ارمیا میں پھانسی دی گئی ۔ایرانی سپریم کورٹ نے ان کی موت کی سزا کو برقرار رکھا تھا جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے یہ لمبی قانونی کاروائی کے بعد ہوا تھا ۔تین لوگوں کی پہچان ادریس علی ،آزاد رضائی اور رسول احمد کی شکل میں ہوئی ہے ۔ان پر الزام تھا کہ تینوں لوگوں نے اسرائیل کی ایجنسی موساد کو مدد کرکے اہم ترین ایرانی ہستیوں کے لئے ایران کے اندر ہی بم اور تباہ کاری اور سامان کی اسمگلنگ کی تھی ۔زمین پر کرپشن فیضاد فل اینرجی اللہ کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈہ چھیڑنے کا الزام لگایا تھا ۔ایرانی ٹی وی رپورٹس کے مطابق عدلیہ ریکارڈ بتاتے ہیں کہ ان افراد نے پڑوسی دیش میں ایک اہم موساد ایجنٹ کے ذریعے سے پینے والی چیزوں کی اسمگلنگ اور اسی کو پلا کر کسی ایرانی شخص کو مار سکتے تھے ۔جیسا میں نے کہا کہ ایران میں موساد سے بدلا لینا شروع کر دیا ہے اور گھر کے اندر دشمنوں کی صفائی شروع کر دی ہے ۔
(انل نریندر)
03 جولائی 2025
ایران اور آئی اے ای اے کے درمیان ٹکراو
ایران اور متحدہ کی نےوکلےائی نگرانی اےجنسی کے درمیان ٹکراو مسلسل بڑھتا جا رہا ہے ۔درمیان کے وزیر خارجہ عباس ارگرامی نے بھروسے کی کمی اور بڑھے کشےدگی کی حوالہ دیتے ہوئے انٹر نیشنل اٹامک اینرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائرکٹر جنرل رفال گروسی کے امکانی دورے سے صاف انکار کر دیا ہے۔انہوں نے بھی صاف کر دیا کہ ایران ایک نیا قانون نافذ کرنے جا رہا ہے،جس میں خاص شرطیں پوری ہونےتک آئی اے ای اے سے اشتراک روکنے کی بات ہے۔ادھر ایران آئی اے ای اے کے چیف کے خلاف ناراضگی کو دیکھتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اسکی مذمت کی ہے اور آئی اے ای اے کے کام کی کھل کر حمایت کی ہے آئی اے ای اے کےلئے ایران کا یہ سخت موقح اسکے نیوکلیئر ہوئے اسرائل اور امریکہ کے حملوں کا ردعمل مانا جا رہا ہے۔جس سے ایران کے آگے کے نیوکلیئر ہونے وابثتہ نگران اور زےادہ پچےدہ ہو سکتی ہے۔آئی اے ای اے چےف رفاعل گروسی نے 24جون کو اےران اور اسرائل کے درمےان جنگ بندی کے اعلان کے بعد عباس اراگامی سے ملنے اور آئی اے ای اے ایران کی بات چےت کی تجوےز دی تھی ۔لےکن اےران کے وزےر خارجہ عباس اراگامی نے 26جون کو سرکاری ٹی بی چےنل اور آر آئی اےن اےن کو دےئے گئے نٹروےو میں کہا کے اس وقت ہمارا بلکل کوئی ارادہ نہیں ہے کہ ہم گروسی کو بلائیں۔ وہ ہمارے نےوکلےائی سسٹموں پر امرےکہ اور اسرائل کے حملوں سے ہوئے نقصان کا اندازہ کرنا چاہتے ہےں۔ انہو ں نے کہا گروسی نے اپنی رپورٹ مےں اےمانداری سے کام نہےں لےا جب ہمارے نےوکلےائی حملہ ہوا تب اےجنسی نے اس حملے کی مذمت تک نہےں کی ۔اراگامی نے یہ بھی بتایا کہ اےران نے آئی اے ای اے کے ساتھ تعون روکنے کےلئے نےا قانون پاس کےا ہے۔ اس معاملے پر اےک بل پارلےمنٹ مےں پاس ہوا ۔گارجن کونسل سے منظوری بھی مل گئی ہے اور اب یہ قانون بن چکا ہے جسے ہمےں قبول کرنا ہوگا۔امرےکہ نے اےران مےں آئی اے ای اے چیف کے خلاف اٹھ رہی آوازوں پر سخت روپ اپناےا ہے وزےر خارجہ مارکو روبےو نے کہا کہ ایران میں آئی اے ای اے کے ڈائرےکٹر جنرل رفال گروسی کی گرفتاری اورپھانسی کے مطالبات نا قابل قبول ہے اور انکی کی مذمت کی جانی چاہئے ہم اےران مےں اےجنسی کی اہم جانچ اور نگرانی کام کی حماےت کرتے ہےں۔بتا دےں بین الا قوامی اےٹمی اینرجی ایجنسی اقوام متحدہ کا اےک ادارہ ہے جسے دنےا مےں آئیٹم فار پےس اےنڈ ڈولپمنٹ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ ےہ نےوکلےائی سےکٹر مےں عالمی اشتراک کا اہم مرکز ہے جو اپنے ممبروں اور پوری دنےا مےں کئی ساجھےداروں کے ساتھ ملکر اےٹمی تکنےکوں کو محفوض ،بھروسے مند اور پورامند استعمال کو فروغ دےتا ہے ۔2018مےں امریکہ کی اس تنظےم سے باہر ہونے کے بعد اور نئی پابندیوں کے بعد ایران نے شرطوں کی تعمےل کم کر دی تھی ۔اس نے ےورےنےم پروسےسنگ کی معاد بڑھا دی امریکہ کے ایران کے نےوکلےائی پلانٹس پر بم باری کے بعد اب ےہ امکان ےقےنی ہے کہ اےران اپنے نےو کلےائی پرورگرام کو آگے بڑھائے گا اور جلد ہی ہمےں ےہ اطلاع مل سکتی ہے کہ ایران اب نیو کلےائی پاور بن گےا ہے اور جس دن یہ اعلان ہوا اسی دن سے پوری دنےا کی سےاست بدل سکتی ہے۔
انل نرےندر
01 جولائی 2025
بھارت میں ایف - 35 بی کا اترنا پراسرار !
کیرل کے ترواننت پورم ہوائی اڈے پر کچھ دن پہلے سنیچر کے روز رات ایک انتہائی جدید ترین برتانوی اسٹیلف فائٹر جیٹ ایف - 35 بی کی ایمرجنسی لینڈنگ نے نہ صرف ہماری سیکورٹی ایجنسیوں کو الرٹ کر دیا ،بلکہ سوشل میڈیا پرقیاس آرائیوں کا بازار بھی گرم کر دیا ۔یہ وہی ایف 35 بی ہے جسے امریکہ کی لاک ہیڈ مارٹن کمپنی نے بنایا ہے اور جو نیٹو ممالک کا حکمت عملی ہتھیار مانا جاتا ہے ۔یہ امریکہ کا سب سے جدید ترین 5ویں جنریشن کا اڈوانس جیٹ جنگی جہاز ہے ،جسے امریکہ بھارت کو بیچنے کی کوشش و دباﺅ ڈال رہا ہے ۔لینڈنگ کی وجہ :اندھن یا تکنیکی گڑبڑی یا پھر بھارت کی جاسوسی ؟شروعاتی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کے جہاز کی اندھن ختم ہونے کے سبب اسے لینڈنگ کرنی پڑی۔لیکن بعد میں سامنے آیا کے ہائیڈرولک سسٹم میں سنگین خرابی آ گئی تھی ۔اور یہ تکنیکی گڑبڑی اتنی سنگین تھی کے جہاز نہیں اڑ سکا ہے ۔اور ابھی بھی ترواننت پورن ہوائی اڈے پر کھڑا ہے رائل نیوی کے جنگی بیڑے ایچ ایم ایس پرنس آف ویلز سے راتوں رات ماہرین کو ہلیکاپٹر کے ذریعہ بھیجا گیا تاکہ مرمت کے بعد فورن اڑان بھر سکے ۔لینڈنگ کے بعد جہاز سے ایک پل کے لئے بھی دور نہیں ہونا چاہتا پائیلٹ جب تکنیکی ٹیم نہیں پہنچی وہ ائر رائڈ پر ہی جہاز کے پا س ایک کرسی پر بیٹھا رہا اس دوران ائر فورس کے انٹی گریٹیڈ ائر کمانڈ اینڈ کنڑرول سسٹم میں جہاز کو ٹریک کرکے اس کی پہچان کر لی ۔اس ایف - 35 بی کو لیکر سوشل میڈیا پر طرح طرح کی سازش کی کہانیاں چلتی رہی کچھ ڈیفنس ماہرین اور ویری فائڈ اکاﺅنڈس کا کہنا ہے کے یہ انڈین ائر فورس سیکیورٹی سسٹم کی پرخ بھی ہو سکتی ہے ۔جیسے یہ دیکھنا کے بھارت کے راڈار کس اسٹیلتھ جہاز کو پکڑ سکتے ہیں یا نہیں؟خاص کر جب تک بھارت میں حال ہی میں آپریشن سندور کے تحت چین اور پاکستان کے پاس آئے ڈرون اور میزائلوں کو روک کر اپنی ائر ڈفینس صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے ۔کیا ایمرجنسی تھی یا ؟اسلی یا کوئی حکمت عملی پلان؟ اس سوال کا کوئی سرکاری جواب اب تک نہیں ملا ہے لیکن بھارت کی چاکسی نے ایک بات تو صاف کی کر دی ہے کی انڈین ائر فورس اور اے ٹی سی کی کارروائی تیز اور پختہ اور پیشہ ور تھی ۔برتانوی باہریا پہلے جیٹ کو ہینگر میں نہیں لے جا نا چاہتی تھی انہیں ڈر تھا کے جیٹ کی تکنیکی جانکاری دوسرے لوگ دیکھ سکتے ہیں ۔دو ہفتہ انکار کے بعد برتانیا نے آخر کا ر پھنسے جہاز کو ترواننت پورم ائر پورٹ کے ہینگر میں لے جانے کی راضامندی دے دی ۔برتانوی نیوی کا ڈر ہے کے کہیں بھارت یا دوسرے دوست ملک (روس)جیٹ کی خاص تکنیک کو نہ دیکھ سکیں اور اسے انالئز کرکے کاپی نہ کرلیں ایف - 35 بی 5 ویں پیڑھی کا امریکی بنایا گیا اسٹیلتھ فائٹر جیٹ ہے اور سب سے ڈولپ ہے ۔تاریخ کا سب سے مہنگا فائٹر جیٹ پروگرام ہے ۔ایف - 35 بی ملٹی رول والا جہاز ہے اس میں ہوائی اور زمینی جنگ میں مدد اور الیکٹرانک جنگ میں مہارت رکھتا ہے ۔یہ الیکٹرنک جنگ خفیہ جانکاری لینے ہوا سے زمین اور ہوا سے ہوا میں ایک ساتھ مشن چلانے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔اس کے سینسیکس سے جمع ہوئی جانکاری اپنی کمان سینٹر کو محفوظ طریقہ سے بھیج سکتا ہے ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
نشانے پر بالی ووڈ ستارے !
بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...