Translater
15 مئی 2025
مان نہ مان میں تیرا مہمان!
بھارت اور پاکستان میں ایک دوسرے کے فوجی اڈوں پر حملے اور نقصان پہنچانے کے دعوے کئے ہیں ۔دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی انتہاپر تھی اسی درمیان امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو اور نائب صدر جے ڈی وینس سرگرم ہوئے انہوں نے بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی اور پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور بھارت کے وزیرخارجہ ایس جے شنکر پاکستان کے فوج کے سربراہ عاصم منیر سے بات چیت کی ۔بھارت کی جانب سے پاکستان کے ساتھ جاری لڑائی کو ختم کرنے کا یہ پہلا اشارہ تھا ۔دوپہر قریب 3.30 بجے پاکستان کے ڈی جی ایم او نے بھارت کے ہم منصب سے فون پر بات کی ۔اس بات چیت میں دونون دیش زمین ،ہوائی اور بحری سیکٹر سے ایک دوسرے کے خلاف فوجی کاروائی روکنے پر رضامند ہوئے ۔اس رضامندی کا حیران کرنے والا اعلان نہ تو بھارت کے وزیراعظم نے کیا اور نہ ہی پاکستان کے وزیراعظم نے یہ اعلان دنیا کے خود ساختہ ٹھیکیدار امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سنیچر کو 15.30 بجے اپنے شوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کئے ایک پوسٹ میں کیا تھا ۔ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ میں آپ دونوں کے ساتھ مل کر یہ پتہ لگانے کے لئے کام کروں گاکہ کیا کشمیر کے سلسلے میں کوئی حل نکالا جاسکتا ہے ۔بھارت اور پاکستان دونوں کے درمیان جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ رات بھرچلی بات چیت میں امریکی ثالثی کا دعویٰ کیا ۔اور بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی ہو گئی ہے میں اسے جنگ بندی ہی کہوں گا کیوں کہ جنگ تو ہوئی نہیں جو تین چار دن چلی اسے لڑائی کہا جائے گا ۔دیش سوال پوچھ رہا ہے کیا صدر ٹرمپ کا دعویٰ صحیح ہے ۔اگر امریکہ نے جنگ بندی رکوانے میں کوئی رول نبھایا تو اس میں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے ۔کیوں کہ ممکن ہے ٹرمپ کے پاس کوئی ایسی خفیہ جانکاری ہو جس سے پتہ لگتا ہو پاکستان نیوکلیائی ہتھیاروں کے استعمال کرنے کی تیار میں ہو ۔ہمیں اعتراض اس بات کا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کون ہوتے ہیں بھارت پاک جنگ بندی کا اعلان کرنے والے وہ بھی جب نہ تو بھارت کی طرف سے اور نہ ہی پاکستان کی طرف سے ایسا کوئی اعلان ہو ا پھر پورا دیش اس سے ناراض ہے کہ ٹرمپ کا یہ کہنا کہ میں دونوں دیشوں کے ساتھ بیٹھ کر کشمیر کا حل بھی نکلوانے کی کوشش کروں گا ۔اس کا کیا مطلب ہے بھارت نے کشمیر مسئلے پر امریکہ کی ثالثی قبول کر لی ہے ؟ بتا دیں کہ نا تو پردھان منتری مودی نے اپنے دیش کے نام خطاب میں اس پر کوئی صفائی دی اور نہ ہی بھارت سرکار نے کسی بھی سطح پر اس کی تردید کی ہے۔پچھلے کئی برسوں سے بھارت کا یہی موقف رہا ہے کہ یہ معاملہ علاقائی ہے جس میں کسی تیسرے ملک کے رول کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی ۔شملہ معاہدے میں اس کا ساتھ ہی ذکر کیا گیا ۔بھارت سرکار کو اس بارے میں صفائی دینی ہوگی ۔ابھی یہ تنازعہ چل رہی رہا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ دھمکیوں پر اتر آئے ہیں ۔انہوں نے پھر دعویٰ کیا بھارت اور پاکستان کے بیچ خطرناک ٹکراو¿ کو روکتے ہوئے جنگ بندی میں مدد کی تھی ۔ٹرمپ نے کہا ہم نے اس میں بہت مدد کی ۔میں نے دونوں ملکوں سے کہا اگر آپ لڑائی روکتے ہیں تو ہم تجارت کریں گے نہیں تو کچھ نہیں ۔ٹرمپ نے آگے کہا کہ اگر دونوں دیش جنگ بندی نہیں کرتے تو دونوں دیشوں سے ٹریڈ بند کردوں گا اور اگر وہ مانتے ہیں تو تجارت بڑھا دوں گا ۔انہوں نے آگے دعویٰ کیا کہ دونوں دیش مان گئے اور جنگ بندی کے لئے راضی ہو گئے ۔قابل ذکر ہے ٹرمپ کا یہ پوسٹ وزیراعظم نریندر مودی کے قوم کے نام خطاب سے ٹھیک ایک گھنٹے پہلے آیا ۔امریکی صدر کو لگتا ہے کہ اگر کوئی رائے نہیں پچھلے تین دن سے لگاتار بھارت کے خلاف پاکستان زہر اگل رہا ہے ۔سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ اتنا کچھ ہونے کے باوجود بھی بھارت نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے ۔بھارت کے سامنے یوکرین جیسے چھوٹے دیش کے وزیراعظم زیلنسکی نے وائٹ ہاو¿س کے اندر ہی ٹرمپ کو ہڑکا دیا تھا ۔اور بھی کئی دیشوں کے سربراہوں نے ٹرمپ کو منھ توڑ جواب دیا لیکن پتہ نہیں بھارت کی کیا مجبوری ہے کہ وہ ایک لفظ امریکہ کے خلاف نہیں نکلتا ۔رہا سوال بھارت - پاک جنگ رکوانے کا تو روس یوکرین جنگ بھی رکوا دیں اور اسرائیل اور حماس جنگ بھی رکواسکتے تھے ۔مان نہ مان میں تیرا مہمان۔
(انل نریندر)
13 مئی 2025
پاکستان کا بھسما سورعاصم منیر!
بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کی رضامندی پانچ بجے ہو گئی ابھی جشن منانا شروع بھی نہیں ہوا تھا کہ اس خودساختہ جنگ بندی کے تین گھنٹے کے اندر پاکستان نے ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں ڈرون حملے شروع کر دئیے اور جنگ بندی کی دھجیاں اڑا دیں ۔پاکستان نے ایسا کیوں کیا ؟ اس پر تجزیہ چل رہا ہے۔لیکن ہمارا خیال ہے کہ اس کے پیچھے اگر کوئی خاص طور پر ذمہ دار ہے تو وہ پاکستان فوج کے سربراہ عاصم منیر اور ان کے فوجی کمانڈر ہیں ۔پاکستان کے اندرونی حالات ٹھیک نہیں ہیں کیا یہ ممکن ہے ۔پاک فوج کے چیف نے اپنی سرکار اور وزیراعظم کے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے حملے جاری رکھے ۔جب پاکستان کے وزیراعظم اور دیگر وزراءنے جنگ بندی کا اعلان کیا تو فوج کے ذریعے اس کی کھلی تلقین کو ظاہر کرتا ہے کہ پاکستانی فوج کے چیف اور وزیراعظم اور ان کی سرکار کے ذمہ دار ان کے فیصلے کو نہیں مانتے ۔دراصل اس لڑائی کے پیچھے عاصم منیر ہی ہیں اس نے اپنی اصلیت پہلگام حملے سے پہلے ہی دکھا دی تھی جب اس نے 17 اپریل کو دی گئی اپنی تقریر میں کہا کہ پاکستان کشمیر سے لے کر طریقہ زندگی تک ہر معاملے میں ہندوو¿ں سے الگ ہے۔اس تقریر میں جنرل منیر نے کہا کہ پاکستان کشمیر کے لوگوں کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑے گا ۔مانا جارہا ہے کہ اسی تقریر کے بعد پہلگام میں حملہ ہوا ۔اس حملے کا سارا کردار منیر کا بنایا ہوا تھا اور اس کو انجام بھی اس نے ہی دلوایا ۔بھارت کو یاد رکھنا چاہیے کہ کشمیر پاکستان کے گلے کی نس نہیں ہے جیسا کہ منیر یقین دلاتے ہیں ۔اصل میں نس تو بلوچستان اور سندھ ہے ۔کشمیر تو بس اس نے نیرٹو بنائے رکھنا چاہتا ہے۔اگر ایسا نا ہوتا تو پہلگام پر حملہ کیوں کرواتا ۔یہاں پر سیاحوں کو نشانہ بنا کر کشمیریوں کی روزی روٹی پر لات مار دی ۔کہا جارہا ہے کہ نومبر 2022 میں فوج کے سربراہ بنے منیر 2025 کے بعد کسی بھی قیمت پر توسیع پانے کی جدوجہد میں لگے ہیں۔بھارت کے ساتھ ایک مختصر اور محدود جنگ یا اس کے خلاف ایک بڑا آتنکوادی حملہ انہیں اسی مقصد تک پہنچا سکتا ہے ۔ظاہر ہے پاکستانی فوج کے خلاف سستی جنگ کے ایک ذریعے کی شکل میں جہاد کا استعمال جاری رکھنے والی ہے ۔پاکستان کے اندرونی حالات ٹھیک نہیں ہیں ۔اس وقت پاکستان میں کئی فیکٹر کام کررہے ہیں۔چین اس کے پیچھے سیدھے طور پر کھڑا ہوتا نہ دکھائی دے لیکن وہ اپنے ہتھیاروں کے ذریعے منیر کی مدد کررہا ہے ۔بھارت پاکستان کے درمیان چھڑی جنگ میں اب کھل کر چینی ہتھیاروں کا استعمال ہورہا ہے ۔جنگی جہازوںسے لیکر سرویلنس ساز و سامان کے ساتھ ساتھ چینی رائفلوں کا بھی بھارت کی سرحد پر استعمال ہورہا ہے ۔پاکستان بھارت کا مقابلہ کرنے کی کوشش میں چین میں تیار ایسے ایچ 15- آرٹیفیشیل کا بھی استعمال کررہا ہے ۔اسی چائنیز بندوق کے سہارے پاکستان کی چوکی اور سرحدی دیہات کو نشانہ بنا رہا ہے ۔دوسرا فیکٹر ہے ترکیہ پاکستان نے بھارت کے الگ الگ حصوں میں بڑے پیمانہ پر ڈرون کا استعمال کیا ہے ۔اور کرررہے ہیں ۔کرنل صوفیہ قریشی نے بتایا کہ پاکستانی فوج نے جمعرات کی رات فوجی بنیادی ڈھانچہ کو نشانہ بناتے ہوئے 300 سے 400 ڈرون چھوڑے ہیں اور ڈرون سے حملے ابھی جار ی ہیں ۔ابتدائی جانچ سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ڈرون ترکیہ کے ڈرون ہیں۔سونوار ڈرون سے ہتھیار لے جانے میں اہل یعنی اہل بے انسان ہوائی گاڑی ہے ۔جسے ترکی نے ڈیزائن اور تیار کیا ہے ۔پتہ نہیں ترکی نے کتنے ہزاروں ڈرون پاکستان کو دیے ہیں ان کا پورا استعمال جنرل منیر بھارت کیخلاف کررہے تھے۔ترکی کی فوجی مدد کے علاوہ ایک تیسرا فیکٹر بھی پاکستان میں کام کررہا ہے وہ ہے حماس کے لڑاکے ۔کشمیر میں دہشت گردی پھیلانے کے لئے اب حماس بھی سرگرم ہے ۔حماس کے تجربہ کار کمانڈر اب جیش محمد کے ساتھ مل کر بھارت پر حملے کررہے ہیں ۔جیش کے چیف جیش کے اثر والے علاقہ میں حماس کے لڑاکے دیکھے گئے ہیں جس طریقہ سے بھارت پر ڈرون سے حملے ہو رہے ہیں اسی طرح حماس اسرائیل میں تاوڑ توڑ حملے کرتارہا ہے ۔ان حملوں کے پیچھے سیدھے سیدھے حماس کا ہاتھ نظر آرہا ہے ۔اس سال 5 فروری کو یوم کشمیر کے موقع پر جیش اور لشکر کے جلسہ میں بھی حماس کا سیاسی چیف بھی نظر آیا تھا ، یہ جلسہ راول کوٹ میں منایا گیا تھا ۔بھارت کے لئے یہ خطرناک اور پریشان کن اشارہ ہے ۔کل ملا کر آج پاکستان میں فوج کے چیف عاصم منیر کی ہی چل رہی ہے یہ پاکستان کے لئے بھسما سور ثابت ہوگا ۔جنگ بندی توڑنے پر بھارت زبردست جوابی کاروائی کرے گا یہ منیر جانتا ہے ۔فوج میں تختہ پلٹ بھی ہوسکتا ہے ۔شہبازشریف کا تختہ پلٹ بھی کر سکتا ہے ۔کچھ بھی ہوسکتا ہے ۔ہمیں 24 گھنٹے چوکس رہنا ہوگا ۔نہ ہم امریکہ پر بھروسہ کریں ۔پاکستان کی بات ہی نہ کریں ۔ہماری فوج منھ توڑ جوا ب دے گی ۔
(انل نریندر)
10 مئی 2025
دنیا نے دیکھا سندور کا شوریہ!
جب پاکستان نے پہلگام کے بیسرن پر بے قصور سیاحوں کابے رحمانہ قتل نام پوچھ کر کیا تھا تو اس کے پیچھے ان کی ناپاک نیت تھی ۔بھارت میں ہندو مسلم بھائی چارے کو بگاڑ دیں ۔دنگے کروا دیں تاکہ دیش ہندو مسلم میں بٹ جائے لیکن ہوا اس کا الٹا ۔آج سار ا دیش ایک ہے اور چاہے وہ سیاسی پارٹیان ہوں بھارت کی تمام جنتا ہو وہ سب اپنی بہادر فوج کے پیچھے چٹان کی طرح کھڑے ہیں اور رہی پاکستان کی تو اسے شاید اب سمجھ میں آرہا ہوگا کہ سندور اجاڑنے کی کتنی بھارت کی یہ قیمت ادا کرنی پڑرہی ہے ۔سب سے پہلے میں اپنے وزیراعظم نریندر مودی کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں کہ انہوں نے صرف ناقابل فراموش ہمت دکھائی ۔ہماری افواج کو جوابی کاروائی کرنے کی کھلی چھوٹ دی بلکہ پوری کاروائی کا نام آپریشن سندور رکھا ۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے پہلگام میں 26 شہریوں کا قتل کر دیا تھا جس میں سبھی مرد تھے اور بہت سے متوفین کی متاثرہ بیویوں کا دھیان رکھتے ہوئے جوابی کاروائی کے لئے سندور آپریشن نام سب سے مفید سمجھا گیا ۔یہ نہ صرف ایک فوجی جوابی کاروائی ہے بلکہ یہ بھارت کی ناری شکتی کے احترام اور سیکورٹی کے تئیں پختگی کی بھی علامت ہے ۔فوجی کاروائی کی پریس بریفنگ کرنے میں بھی خاص خیال رکھا گیا ۔پریس بریفنگ کے ذریعے کرنل صوفیہ قریشی (مسلم ) ونگ کمانڈر ویومیکا سنگھ (ہندو) کو خاص کر چنا گیا تاکہ پوری دنیا کو یہ پیغام جائے کہ بھارت ایک ہے اور ناری شکتی کے ساتھ کھڑا ہے ۔جس کسی نے بھی یہ فیصلہ کیا وہ مبارکباد کا مستحق ہے ۔جب جنگ چھڑتی ہے تو دونوں طرف کے بے قصور شہری مارے جاتے ہیں ۔پاکستان نے جان بوجھ سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت یا یوں کہیں بوکھلاہٹ میں بھارت کے علاقہ پر حملے کئے ہیں جس میں بہت سے بے قصور شہری مارے گئے ہیں ۔لیکن یہ قیمت تو چکانی ہوگی ۔آئے دن ان آتنکی حملوں میں بھی تو بے قصور مارے جاتے ہیں اس لئے بہتر حکمت عملی یہی ہے کہ اس بار دہشت گردی اور ان کے اسپانسروں کو بھی ختم کر دیا جائے ۔کئی آتنکی اڈوں کو تباہ کیا گیا ہے لیکن اصل مسئلہ پاکستانی فوج اور اس کی آئی ایس آئی ہے جب تک ان کو ایسی زبردست چوٹ نہ پہنچائی جائے تب تک یہ مسئلہ نمٹنے والا نہیں ہے ۔ہمیں خوشی ہے کہ بھارتیہ فوج نے پاکستانی فوج کے ڈھانچہ پر سیدھے حملے کئے ہیں اور کئی کو تباہ بھی کر دیا ہے ۔آپریشن سندور کا پہلا نشانہ پاکستان میں جیش محمد ،حزب المجاہدین ،لشکر طیبہ کے ہیڈ کوارٹر اور آتنکی ٹریننگ کیمپ تھے ۔جنہیں تباہ کر دیا گیا ہے ۔اب سارے حملے پاکستانی فوج کے اڈوں پر کئے جارہے ہیں۔غور طلب بات یہ ہے کہ بھارت نے کسی عام شہری یا سول علاقہ پر حملے نہیں کئے ہیں صرف فوجی ٹھکانوں پر آپریشن سندور کے لئے ہندوستانی فوج نے ہر ٹارگٹ کا انتخاب بھروسہ مند خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کیا ۔پہلگام کے 15 دن بعد جوابی کاروائی کر پاکستان کو سدھرنے کا پورا موقع دیا گیا یعنی پاکستان اپنی غلطی کو سدھارے اور اپنی زمین پر پل رہے آتنکیوں کیخلاف کاروائی کا پورا موقع دیا گیا لیکن جب پاکستان نے سدھرنے کی جگہ الٹا دھمکیاں دینی شروع کر دیں تو جواب دینا ضروری ہوگیا۔وزیر دفاع راجناتھ سنگھ سے جب ہندوستانی حملوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہم نے ہنومان کے اس اصول کی تعمیل کی ہے جو انہوں نے اشوک واٹیکا اجاڑتے وقت عمل کیا تھا ۔جن موہے مارا ، تن موہی مارے یعنی صرف انہیں کو مارا ہے جنہو ںنے ہمارے معصوموں کو مارا ہے ۔آج پورا بھارت ایک ہے لڑائی تو فوج لڑتی ہے لیکن پیچھے کھڑا ہوتا ہے پورا ملک ۔آج پورا دیش اپنی بہادر فوج کے پیچھے کھڑا ہے اور اپنے جانبازوں کی بہادری پر سب کو فخر ہے ۔جے ہند!
(انل نریندر)
08 مئی 2025
حملے کی خفیہ معلومات پہلے ہی مل گئی تھی!
پہلگام میں ہوئے بھیانک آتنکی حملے نے پورے دیش کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔اس حملے میں 26 لوگوں کی موت ہوگئی جن میں 25 سیاح تھے اور ایک مقامی مرنے والے سبھی سیاح ہندو فرقہ سے تھے اب اس معاملے میں چوکانے والی معلومات سامنے آئی ہیں کہ سیکورٹی ایجنسیوں کو حملے کا اندیشہ پہلے ہی تھا لیکن لوکیشن اور تاریخ کو لے کر اندازہ غلط ثابت ہوا ۔ہندوستان ٹائمس کی رپورٹ کے مطابق خفیہ بیورو اور دیگر ایجنسیوں نے جموں وکشمیر میں مقامی سیکورٹی حکام کو آگاہ کیا تھا کہ سیاحوں کو نشانہ بنا کر آتنکی حملہ ہوسکتا ہے ۔یہ الرٹ وزیراعظم نریندر مودی کے 19اپریل کو ہونے والے سری نگر دورہ کے پیش نظر کیا گیا تھا ۔اس کے بعد شری نگر اور آس پا س کے علاقوں میں سیکورٹی بڑھا دی گئی تھی خاص کر ان جگہوں پر جہاں سیاح زیادہ آتے ہیں ۔جیسے ڈمی دھام ،نیشنل پارک حالانکہ موسم خراب ہونے کی وجہ سے وزیراعظم کا یہ دورہ منسوخ ہو گیا تھا ۔اس کے ٹھیک بعد دہشت گرد 22 اپریل کو پہلگام میں بیسرن علاقہ میں حملہ کر بیٹھے ۔یہ علاقہ سری نگر سے تقریباً 90 کلو میتر دور ہے اور پورے سال کھلا رہتاہے۔امرناتھ یاترا کے دوران ہی اسے بند کیاجاتا ہے ۔ایک سینئر پولیس افسر نے ہندوستان ٹائمس کو بتایاکہ 10 میں سے 9 بار ایسے الرٹ بے کار جاتے ہیں لیکن اس بار سیاحوں کو لے کر وارننگ صحیح تھی ۔اس سے مشکل حصہ ہوتا ہے کہ ہم صحیح جگہ کی پہچان کریں ۔اس بار وہ غلط ہو گئی ۔انہوں نے تصدیق کی تھی کہ فوج اور سول سیکورٹی فورس کو وزیراعظم کے دورہ کے دوران سری نگر کے قریب کسی سیاح مقام پر حملے کے اندیشہ کو لے کر چوکس رہنے کی ہدایت دی گھی تھی اب جب ہم پیچھے کی طرف مڑ کر دیکھتے ہیں تو یہ صاف ہے کہ دہشت گرد وزیراعظم کا دورہ منسوخ ہونے کا انتظار کررہے تھے۔سب سے بڑی کوتاہی بیسرن علاقہ میں ممکنہ حملے کا اندیشہ نا جتا پانے کی رہی ہے ۔جو سال بھر کھلا رہتا ہے اور صر ف امرناتھ یاترا کے دوران بند ہوتا ہے ۔ایک افسر کے مطابق مقامی دو دہشت گردوں نے سیاحون کو ایک طرف بھگایا جبکہ غیر ملکی دہشت گردوں نے گولیاں چلائیں ۔چونکہ اس مقام پر داخل ہونے اور نکلنے کا ایک ہی ٹکٹ ہوتا ہے ۔سیاحوں کے لئے بھاگنا مشکل ہوجاتا ہے اب جبکہ یہ صاف ہے کہ دہشت گرد علاقہ میں پہلے سے ہی رہ رہے تھے اور اب بھی علاقہ میں سرگرم تھے جو اس موجودگی اور اسکیم کو بھانپنے میں پولیس خفیہ ناکام رہی ۔وقت آگیا ہے کہ اب پاک اسپانسر دہشت گردی کیخلاف فیصلہ کن قدم اٹھایا جائے ۔سارا دیش بھارت کے جوابی کاروائی کا انتظار کررہا ہے ۔بھارت کے لوگوں کا غصہ آسمان پر ہے ۔بھارت نے ابھی تک جو وسیع قدم اٹھائے ہیں ایسا نہیں لگتا عوام میں غصہ کی کسی طرح کی کمی آئی ہے ۔خود وزیراعظم نے بھاجپا لیڈروں نے اور مین اسٹریم میڈیا نے جو ماحول بنایا ہے اس سے یہی توقع ہے کہ پاکستان کو ایسی سزا دی جائے جو سز ا ظاہر ہو اگر ایسا نہیں ہوتا تو جنتا کے بھروسہ کو ٹھینس پہنچے گی اور کہا جائے گا بڑے بڑے دعوے کرنے والے اندر سے کھوکھلے نکلے ۔
(انل نریندر)
06 مئی 2025
کیا کہتے ہیں سابق را چیف دللت !
بھارت کی خفیہ ایجنسی ریسرچ ایند اینالیسس ونگ ( را ) کے سابق چیف اور آئی پی ایس افسر امرجیت سنگھ دللت جو کہ اٹل وہاری واجپائی سرکار میں پی ایم او میں بطور جموں وکشمیر امور کے مشیر رہے نے پہلگام حملے پر بی بی سی سے ایک اہم بات چیت کی ۔آج کے پش منظر میں میرے خیال میں دیش کو کچھ باتوں پر ضرور غور کرنا چاہیے ۔پیش ہے ان کے انٹرویو کے کچھ اہم اقتصابات :دللت نے اپنے کریئر کے شروعاتی برسوں میں بطور جموں وکشمیر امور کے ایڈوائزر کی شکل میں کام کر چکے ہیں اور انہوںنے جموں وکشمیر میں انٹیلی جنس ویورو کا کام بھی دیکھا ہے ۔دللت کہتے ہیں کہ پہلگام میں جو ہوا وہ بہت برا ہوا اور اسے سیکورٹی خفیہ مشینری کی کوتاہی بتایا ہے۔مجھے لگتا ہے کہ پہلگام حملہ ایک سیکورتی ناکامی ہے ۔وہاں کسی قسم کی سیکورٹی ہی نہیں تھی ۔جہاں ہم انٹیلی جینس یا خفیہ مشینری کی بات کرتے ہیں وہاں ہمیں سمجھنا ہوگا کہ کشمیر میں جو سب سے ضروری انٹیلی جینس ہے وہ اب آپ کو کشمیریوں سے ہی ملے گی تو کشمیریوں کو اپنے ساتھ رکھنا بہت ضروری ہے ۔میں کسی کو قصور وار نہیں کہنا چاہتا لیکن جموں وکشمیر میں قانون و نظام کی ذمہ داری تو مرکزی سرکار کے ہاتھ میں ہے ناکہ وہاںکے وزیراعلیٰ کے ہاتھ میں ہے ۔تو مرکزی سرکار کو دیکھنا چاہیے کہ وہاں کے ایل جی کو دیکھنا چاہیے تھا ۔پہلگام حملے سے پہلے جموں وکشمیر میں سیاحوں کی تعدادمیں کافی اضافہ ہوا تھا اور سرکاری اعداد شمار کے مطابق جہاں 2020 میں 24 لاکھ سے زیادہ سیاح آئے تھے ۔وہی سال 2023 کے ختم ہوتے ہوتے یہ تعداد دو کروڑ ایک لاکھ سے پار ہو گئی تھی ۔لیکن کیا انتہا پسند تشدد میں کوئی کمی اائی ہے ۔ساو¿تھ ایشیا ٹورازم پورٹل کے مطابق سال 2012 میں جموں وکشمیر میں عام شہریوں کی موت انتہا پسندوں کے ذریعے تشدد میں ہوئی ،اسی برس 18 سیکورٹی ملازم بھی شہید ہوئے ۔84 انتہا پسند مارے گئے تھے ۔ا س کے مقابلے سال 2023 میں 12 شہریوں کی موت ہوئی اور 23 سکورٹی ملازم مارے گئے ۔87 شدت پسند بھی مارے گئے ۔سال 2024 میں عام شہری سمیت 263 سیکورٹی ملازم اور 69 شدت پسند مارے گئے تھے ۔یعنی حملے جاری تھے۔لیکن سرکار کے بیانوں میں جموںوکشمیر میں شدت پسندی تقریباً ختم ہو گئی ہے کا دعویٰ کیا جارہا تھا ۔ساتھ ہی سیاح ایسے علاقوںمیں بھی جانے لگے جہاں انتظامیہ نے سیکورٹی کا کوئی انتظام ہی نہیں کیا تھا ۔جموں وکشمیر میں پچھلے دو برسوں میں زیادہ حملے ہوئے ہیں ۔ٹور ازم ایک بات ہے اور نارملیسی دوسری چیز ہے ۔جب بھی ہم نے کہا کہ جموں وکشمیر میں حالات ٹھیک ہیں تبھی آتنکی حملے زیادہ ہو گئے ۔جس طرح سیاح بڑھ رہے تھے لوگ اپنی مرضی سے وہاں جارہے تھے تو آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ سرکار کو خطرہ پہلے ہی نظر آجانا چاہیے تھا ۔حملے میں مار ے گئے لوگوں کے عزیزوں نے بتایا کہ پہلگام میں لوگوں کا مذہب پوچھ کر مارا گیا تو دللت نے کہا کہ پہلگام میں جو ہوا وہ ہندو مسلم اشو نہیں ہے ۔نا جموں وکشمیر ہے اور نا ہی بھارت میں کوئی ہندو مسلم سوال ہے ۔بلکہ یہاں ہندو مسلم ایک ہیں ۔یہ پیغام صاف طور پر جانا چاہیے ۔آج خاص طور سے میں کہوں گا کہ کشمیریت کو ہمیں کھونا نہیں چاہیے ۔اسے زندہ رکھنا بہت ضروری ہے ۔
(انل نریندر)
03 مئی 2025
کینیڈا میں خالصتانیوں کی کراری ہار!
جسٹن ٹروڈو بھارت کے خلاف سخت مخالف تھے۔ اقتدار کے لالچ میں اس نے کیا نہیں کیا؟ کبھی بھارت پر من گھڑت الزامات لگائے اور کبھی خالصتانیوں کو اہمیت دی۔ جسٹن ٹروڈو کی وجہ سے بھارت اور کینیڈا کے تعلقات تلخ ہو گئے۔ جسٹن ٹروڈو نے خالصتانیوں کے زور پر بھارت کو آڑے ہاتھوں لیا۔ خالصتانیوں کے مبینہ ماسٹر جگمیت سنگھ نے اس میں بہت مدد کی۔ جسٹن ٹروڈو کی حکومت جگمیت سنگھ کی حمایت پر چل رہی تھی۔ جگمیت سنگھ نے حکومت کی حمایت کے بدلے اپنے خالصتانی ایجنڈے کو پروان چڑھایا۔ لیکن اس کی چالاکی کینیڈا کی نظروں سے نہ بچ سکی۔ جگمیت سنگھ کی پارٹی این ڈی پی یعنی نیو ڈیموکریٹک پارٹی کو کینیڈا میں عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ این ڈی پی کو کل 343 میں سے صرف 7 سیٹیں ملی ہیں۔ این ڈی پی نے قومی پارٹی کی حیثیت سے بھی اپنی حیثیت کھو دی ہے۔ جبکہ گزشتہ انتخابات میں این ڈی پی 25 سیٹیں جیت کر کنگ میکر بن گئی تھی۔ اس وقت کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے این ڈی پی کی حمایت سے چار سال تک حکومت چلائی۔ این ڈی پی کے سربراہ جگمیت سنگھ اپنی روایتی برنابی سنٹرل سیٹ سے الیکشن ہار گئے۔ جگمیت سنگھ اس سیٹ پر تیسرے نمبر پر رہے، جب کہ گزشتہ الیکشن میں انہوں نے 56 فیصد ووٹ شیئر کے ساتھ یہ سیٹ جیتی تھی۔ لیکن اس بار جگمیت کو صرف 27 فیصد ووٹ ملے۔ جگمیت کی پارٹی نے تمام سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑے کیے تھے۔ جیتنے والے پارٹی کے 7 امیدواروں میں سے کوئی بھی ہندوستانی نڑاد نہیں ہے۔ این ڈی پی اپنی سکھ اکثریتی سیٹ بھی نہیں جیت سکی۔ انتخابات میں بھارت مخالف این ڈی پی کے جگمیت سنگھ اور لبرل پارٹی کے رہنما جسٹن ٹروڈو کینیڈا کی سیاست سے باہر ہو گئے ہیں۔ جگمیت نے این ڈی پی صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ جگمیت نے دہشت گرد ہردیپ سنگھ ننجر کے قتل کے معاملے میں ہندوستان کے خلاف کافی زہر اگل دیا تھا۔ جگمیت نے گزشتہ سال ہائی کمیشن سے ہندوستانی سفارت کاروں کو نکالنے کے کینیڈا کے اقدام کی حمایت کی تھی۔ اس بار کینیڈا میں الیکشن جیت کر ریکارڈ 23 ہندوستانی پارلیمنٹ میں پہنچے ہیں۔ پچھلی بار 19 بھارتی ایم پیز نے الیکشن جیتا تھا۔ اس بار لبرل پارٹی سے 13 اور کنزرویٹو پارٹی سے 10 ہندوستانی نڑاد ایم پی جیتے ہیں۔ جہاں تک ہندوستان اور کینیڈا کے تعلقات کا تعلق ہے، یہ یقینی طور پر سابق وزیر اعظم ٹروڈو کے دور سے بہتر ہونے جا رہے ہیں۔ ٹروڈو نے کئی معاملات پر بھارت کے ساتھ تعلقات خراب کرنے کا کام کیا۔ نئے رہنما مارک کارنی نے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے مفادات باہمی اعتماد پر مبنی ہوں گے۔ کارنی کا کہنا ہے کہ ہندوستان-کینیڈا عالمی معیشت کے موجودہ مرحلے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ حکمران لبرل پارٹی کی ایک نئی قیادت کارنی کی شکل میں ابھر رہی ہے۔ جگمیت، جس نے ٹروڈو اور لبرلز کی حمایت کی تھی، کو پسماندہ کر دیا گیا ہے۔ کارنی اور امریکی صدر ٹرمپ کے تعلقات کشیدہ رہے ہیں۔ ٹرمپ نے کینیڈا پر بھاری محصولات عائد کیے جس سے کینیڈا کی معیشت متاثر ہوئی۔ ٹرمپ نے کینیڈا کو امریکہ کی 51 ویں ریاست بنانے جیسی متنازعہ باتیں کہی جس پر کارنی سمیت پورے کینیڈا نے برہمی کا اظہار کیا۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ٹرمپ کی ڈینگ مارنے نے لبرل پارٹی کو دوبارہ اقتدار میں لانے میں کارنی کی مدد کی۔ -انیل نریندر
01 مئی 2025
فوجی اقتصادی ،ڈپلومیسی دباﺅ بنانے کی ضرورت ہے!
یہ لڑائی اب ہندو مسلمان کے درمیان نہیں بلکہ مذہب اور غیر مذہب کے درمیان آر ایس ایس کے صدر ڈاکٹر بھاگوت نے جموں کشمیر پہلگام میں ہوئے آتنکی حملہ پر گہری ناراضگی جتائی ہے ان کا کہنا ہے کے یہ معاملہ ایک گھناﺅنی حرکت تھا ۔،جس میں دہشت گردوں نے نہ صرف بے قصور شہریوں کو مارا بلکہ مذہب کے نام پر بھی قتل کیا ۔ہزاروں فوجیوں یا شہریوں نے کبھی بھی کسی سے ان کا مذہب نہیں پوچھا لیکن دہشت گردوں نے مذہب پوچھ کر لوگوں کا قتل کیا ۔ہندو کبھی ایسا نہیں کرے گا بھاگوت نے اس حملہ پر غصہ اور غم کا اظہار کرتے ہوئے یہ بھی کہا کے راجہ کا فرض ہے عوام کی حفاظت کرنا اور پورا دیش متحد ہے اور جوابی کارروائی کی مانگ کر رہا ہے۔ہمارا خیال ہے کے ہمیں ایسا سخت جواب دینا چاہئے جو دہشت پرست ،پاکستان آتنکوادیوں کو قرارا جواب دے ۔مٹھی بھر آتنکوادیوں یا ان کے کیمپوں کو تباح کرنے سے کچھ نہیں ہوگا ۔ہمیں اس پاک اسپانسر دہشت گردی کی جڑ تک پہنچنا ہوگااور اسے تباح کرنا ہوگا۔دہشت گرد آتنکواد کی جڑ میں پاکستان کی فوج اور اس کی آئی ایس آئی ہے ہمیں ان کے خلاف سخت کارروائی کرنی ہوگی ۔اس پاک ملٹری نیٹورک کو ایسا سخت تماچہ مارنا ہوگا کے وہ آگے سے ایسے حملے کروانے سے پہلے 10 بار سوچے ۔سابق فوج کے سربراہ جنرل رائی چودھری (ریٹائرڈ )پہلگام آتنکی حملہ ہماری خفیہ کی ناکامی کے سبب ہوا اور انہوںنے اس کے لئے اعلیٰ ستح پر جواب دیہی طے کرنے کی مانگ کی ۔دیش کے فوج کے سربراہ رہے رائے چودھری نے پی ٹی آئی - بھاشا سے بات کرتے ہوئے کہا کے مجھے خفیہ ناکامی کا شبہ لگتا ہے اور کسی کو تو اس کوتاہی کےلئے جواب دینا چاہئے ۔پہلگام حملے کے پیچھے پاکستان اور اس کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کا رول اور لشکر طیبہ کی معاون تنظیم و انٹلیجنس فرنٹ نے حملہ کی ذمہ داری لی ہے ۔یہ پوچھے جانے پر کے کیا پاکستان پر بھارت سرکار ڈپلومیٹک پابندی صحیح ہے تو رائے چودھری نے بتایا ڈپلومیٹک قدم اٹھانا قافی نہیں ہے اس لئے جوابی قدم اٹھانے ہوں گے ۔وہ کس شکل میں سامنے آتے ہیں ،یہ تو ہم پر منحصر کرے گا ۔صرف کھانہ پوری کے قدم کافی نہیں ہے ۔ہمیں بھی اسی طرح کی کارروائی کرنی ہوگی ۔میں اسے صرف اسی طرح دیکھتا ہوں ۔ائیر فورس کے سابق چیف رو پ رہا نے پہلگام قتل عام کے پیش نظر پاکستان نواز دہشت گردوں کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کی بات کہی اور پوری و پہلگام حملوں کے بعد گئے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کے بھارت نے اس نظریہ کو ختم کردیا کے دو نیوکلیائی کفیل ملک دیش جنگ نہیں لڑ سکتے ۔انہوںنے مزید کہا کے قانونی جیسے کئی کارروائیاں و متبادل ہیں۔سب سے پہلے بھارت کو پاکستان کے تئیں الگ پالیسی اپنانی چاہئے ۔جس سے پاکستان کو دنیا میں الگ تھلگ کیا جا سکے اور دہشت گردی کے خلاف بھارت کی تشویشات کو تئیں ہمدردی رکھنے والے ملکوں کے ساتھ اتحات بنائیں تاکہ پاکستان کے خلاف کو دنیا میں مخالف رائے عامہ بن سکے ۔بھارت فوجی طور پر کافی طاقتور ملک ہے ہمیں پی او کے کے ساتھ ساتھ پاکستانی فوج کے اہم ترین ٹھکانوں میں دہشت گردی کے کیمپوں اور نیٹورک کو تبح کرنا چاہئے حالانکہ ہمیں دیکھنا ہوگا آج پاکستان بہت کمزور ہو چکا ہے اور مالی طور پر دوالیہ بھی ہو چکا ۔افغانستان اور بلوجستان میں ان کے الگ الگ محاذ کھلے ہوئے ہیں ۔بے شق وہ گھبراہٹ میں نیوکلیائی جنگ کی گیدڑ بھبھکی دے رہا ہوں لیکن فوجی ماہرین کا کہنا ہے کے وہ ایسا نہیں کر سکتا اس نے کارگل جنگ کے دوران بھی ایسی دھمکیاں دی تھی کچھ لوگوں کو خطرہ ہے کہیں چین پاکستان کی طرف نہ آ جائے ایسا نہیں ہوگا ۔چین اوپر اوپر سے دھوڑی دھوڑی مدد کرتا رہے گا لیکن وہ بھارت سے بڑھتی تجارت کو کبھی نظر انداز نہیں کر سکتا اور بیچ میں بھی نہیں کودے گا ۔کل ملاکر بھارت سرکار کو ٹھوس کارروائی کرنی چاہئے ۔پورے دیش کی یہ مانگ ہے پاکستان کی دہشت گردی کو مٹانے میں سب کی ایک رائے ہے ،متحد ہیں ،بس انتظار ہے فیصلہ کن قدم اٹھانے کا ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
نشانے پر بالی ووڈ ستارے !
بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...