Translater

15 اگست 2020

امریکہ میں کھلا کمل!

امریکہ میں نائب صدد کے عہدے کےلئے ہندوستانی خاتون کملا ہیرس بطور امیدوار چنی گئی ہیں امریکی ڈیموکریسی اور سیاست میں اس قدم کو میل کا پتھر مانا جا رہا ہے ۔محترمہ کملا ہیرس اس عہدے کی ریس میں شامل ہونے والی سیاہ فام خاتون ہیں اگر وہ امریکہ کی نائب صدر چنی جاتی ہیں تو وہ اور بھی کئی ریکارڈ بنائیں گی اور وہ پہلی خاتون ہوں گی جو ملک کی نائب صدر کا عہدہ سنبھالیں گی بلکہ پہلی ہندوستانی امریکی اور افریقی امریکی بھی ہوں گی ۔55سالہ کملا ہیرس کے والد افریقی ہیں ۔ان کی ماں ہندوستان کی ریاست تمل ناڈو سے تعلق رکھتی تھیں جن کی 2009میں موت ہو چکی ہے ۔فیصلے کے بعد ہیرس حمایتیوں نے کمپین شروع کر دی ہے جس کا نام ہے امریکہ میں کھلا کنول ،)لوٹس بلوم ان دی یو ایس(اس مہم کا اعلان کرنے کے بعد ملک گیر طور سے با قاعدہ کمپین شروع ہو گئی ہے ۔جوائے بیڈین کے اس فیصلے کی ہندوستانی امریکی فرقہ نے کافی تعریف کی ہے پینسکو چیف رہ چکی اندرا نومی نے اسے بے حد اچھا فیصلہ بتایا اس کے علاوہ انڈیا پوسٹ کے بانی رنگا سوامی نے اسے ہندوستانیوں کے لئے ایک فخر کا لمحہ بتایا ہے ۔کملا نے ٹوئٹ کیا ہے کہ امریکی سیاست میں سیاہ فام خواتین کو مناسب نمائندگی نہیں ملی ہے اب امریکہ کو بدلنے کا وقت آگیا ہے ۔امریکہ میں مین اسٹریم کے میڈیا نے لکھا ہے کہ کملا ہیرس کو نائب صدر کے عہدے کا امیدوار بنایا جانا ایک تاریخی قدم ہے ۔اور میڈیا نے فیصلے کا خیر مقدم کیا جیسے کہ براک اوبامہ کو 2008میں صدارتی عہدے کا امیدوار بنائے جانے پر کیا تھا ۔واضح ہو کہ کملا ہیرس کا بھارت سے گہرا رشتہ ہے وہ ہندوستانی نژاد امریکی شہری ہیں ان کے ناناپی وی گوپالن ایک مجاہد آزادی اور جنتا کے سیوک تھے ان کی ماتا شیامہ گوپالن ہیرس کی پیدائش تمل ناڈو کے چنئی شہر میں ہوئی تھی ۔کملا نے اپنا گریجویشن دہلی یونیورسٹی سے پورا کیا اس کے بعد انہوںنے یونیورسٹی آف کیلفورینا برکلے سے پی ایچ ڈی کی ۔انہوںنے جمائکہ کے باشندے ڈونیڈ ہیرس سے پیار کی شادی کی تھی ۔کملا کے والد ڈونلڈ ہیرس اسٹین فورڈ یونیورسٹی میں لیکچرار تھے ۔کملا کی ماں شیامہ ہیرس کا دیہانت ہو گیا تھا امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیڈین کے اس فیصلے پر حیرانی ظاہر کی ہے انہوںنے وائٹ ہاﺅس میں میڈیا سے کہا کہ ہم دیکھیں گے کہ وہ کیسے کام کرتی ہیں ۔انہوںنے شروعات میں بے حد خراب مظاہرہ کیا تھا اب وہ کئی چیزوں کو لے کر سرخیوں میں تھیں اس لئے مجھے بیڈن کے ذریعہ ان کا انتخاب کرنے پر تھوڑا تعجب ہو رہا ہے ۔نائب صدر کے عہدے کے لئے کسی خاتون امیدوار کو نامزد کرنے کا وعدہ کیا تھا ۔مئی میں گورے افسر کے ہاتھوں مارے گئے جارج پلائڈ کی موت کے بعد ان پر سیاہ فام خاتون کو چننے کا دباﺅ پڑنے لگا سیاہ فام لوگوں کے خلاف پولیس کے برتاﺅ کو لے کر افریقی امریکیوں کی ٹرمپ کے خلاف ناراضگی ہے ۔اس لئے برڈین میں کملا پر داﺅں لگا کر ایک تیر سے دو نشانے لگائے ہیں ۔کملا ہیرس کے اس عہدے کے لئے انتخاب کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں اور کملا کو مبارکباد دیتے ہیں ۔ (انل نریندر)

کیا قانون بیٹیوں کو ان کا حق دلا سکتا ہے؟

یہ کسی سے پوشیدہ نہیں کہ تمام دعووں و قوانین کے باوجود خواتین کو برابری سے نہیں دیکھا جاتا مرد اکثریتی ملک میں خواتین کو اپنی حق کے لئے ہر سطح پر لڑنا پڑتا ہے ۔گھرمیں جب بچہ پیدا ہونا ہوتا ہے تو ماں باپ یہی امید کرتے ہیں کہ بیٹا ہو مگر بیٹی ہو تو اس کو ایک بوجھ سمجھا جاتا ہے ۔آج بھی حمل میں بچے کے مارے جانے کی خبریں آتی رہتی ہیں ۔والد کے املاک میں بیٹے کے برابر بیٹی کو بھی حق ملنا چاہیے اسے لے کر ہمارے سماج میں ایک طرح سے منفی نظریہ رہا ہے ۔حالانکہ قانون کے مطابق قریب 15سال پہلے بیٹیوں کو والد کی وراثت میں بیٹوں کے برابر حق یقینی بنایا گیا تھا لیکن اب بھی اسے لے کر کہیں نہ کہیں تنازعہ جاری تھا اب دیش کی 74ویں یوم آزادی سے ٹھیک پہلے منگل کے روز سپریم کورٹ نے اس سلسلے میں بڑا فیصلہ دے دیا ہے اور اسے ایک طرح سے ساری الجھنیں دور ہو گئی ہیں ویسے تو ہندو عورتوں کو والد کی پراپرٹی پیدائشی حق ہے ۔لیکن ہندو جانشین ترمیم قانون 2005کے قانون میں عمل میں آنے کے بعد ہی مل گیا تھا اس معاملے میں بڑی عدالت کا یہ فیصلہ 2005کے قانون کی ہی توسیع سوال آخر یہ ہے کہ سپریم کورٹ کو 2005کے قانون میں ترمیم کرنے کی ضرورت پڑی ؟حقیقت میں بڑی عدالت کے ہی دو متاضاد فیصلوں کے بعد اُٹھے پیچدگی کو دور کرنے کے لئے یہ فیصلہ دینا پڑا اب سپریم کورٹ کے تین ججوں کی بنچ نے اس متضاد فیصلوں پر روک لگاتے ہوئے صاف کیا ہے کہ مشترکہ ہندو خاندان کی پراپرٹی میں بیٹی کا یکساں حق ہوگا بھلے ہی 2005کے قانون کے عمل میں آنے سے پہلے ہی اس کے والد کی موت ہو گئی ہو ۔حقیقت میں ہندو سماج پراپرٹی کا مسئلہ بہت پیچیدہ رہا ہے ۔عورتوں کو والد کی پراپرٹی میں حق اس لئے نہیں دیا گیا تھا کہ سماجی سسٹم کے تحت یہ مانا جاتا تھا کہ بیٹیوں کا حصہ اسے شادی کے وقت جہیز میں دے دیا گیا ہے اور جب شادی ہو گئی تو وہ دوسرے گھر کی بہو بن گئی ۔اس لئے والد کی پراپرٹی پر اس کا کوئی حق نہیں رہتا آج عدالتوں میں کئی شادی شدہ خوشحال عورتیں اپنے والد کی پراپرٹی میں حق کے لئے بھائیوں کے خلاف لڑ رہی ہیں پتا کے گھر کے ساتھ اس کا صرف جذباتی تعلق رہ جاتا تھا اب مسئلہ یہ ہے کہ والد کی پراپرٹی پر قانونی طور پر بیٹی کا حق بھلے ہی ہو لیکن عام طور پر آج بھی پرانا چلا آرہا ہے ۔کہ والد کی پراپرٹی پر لڑکوں کا ہی حق رہتا ہے اس پورے مسئلے کے سماجی پہلو پر بھی غور کرنا ضروری ہوگا والد کے کنبے کی جتنی ذمہ داری ہوتی ہے اس کو بھی لڑ کے کو ہی پوری کرنی ہوتی ہے ۔مگر بد قسمتی سے والد کوئی قرضہ اپنے اوپر چھوڑ جاتا ہے تو اسے ادا کرنے کا کام بھی بیٹا ہی کرتا ہے ۔اس لئے جانشینی کے مسئلے پر لڑکوں کی شکایت یہی رہتی ہے کہ خرچ تو وہ برداشت کرتے اور پراپرٹی لڑکی لینے چلی آتی ہے ایسی صورت میں لڑکی کے ساتھ برابر سامان کا بٹوارہ لڑکوں کو تکلیف ضرور دیتا ہے جب تک اس کا سماجی حل نہیں نکلتا تب تک اس قانون سے بہت زیادہ توقع نہیں کی جاسکتی ۔74ویں یوم آزادی پر ہم تمام ملک کے شہریوں کو مبارکباد دیتے ہیں ۔ (انل نریندر)

14 اگست 2020

منچلوں کی وجہ سے طالبہ کی سڑک حادثہ میں موت!

ایک بے حد تکلیف دہ واقعہ میں ایک بہت ہونہار و نوجوان لڑکی ایک سڑک حادثہ میں موت ہو گئی بے حد غریب خاندان کی لڑکی شوکشا کو امریکہ میں 3.80کروڑ روپئے کی اسکوالر شپ ملی تھی 20اگست کو اس کی امریکہ واپسی کی فلائٹ تھی وہ امریکہ کے بیٹسن کالج میں اسکوالر شپ پر بی بی اے کر رہی تھی لڑکی شوکشا کی سڑک حادثے میں نہیں بلکہ منچلوں کے سبب موت ہو گئی اس کے والد جتندر بھاٹی نے الزام لگایا کہ بلٹ پر سوار دو لڑکوں نے دو کلو میٹر تک اس کا پیچھا کیا اور چھیڑ خانی کی پیر کو ان دونوں نے اپنے ماما کے اوشنگ آباد گڑھ مکتیشور میں مینی ہائی وے پر جا رہی تھی شویکشا کے ساتھ سڑک پر بائک سوار منچلوں نے چھیڑ چھاڑ شروع کر دی پہلے تو ان لڑکوں نے ان کی بائک کو اوور ٹیک کر کے اچانک بریک لگا دی چھیڑ چھاڑ سے بچنے کی کوشش میں شویکشا بائک سے گر گئی موقعہ پر ہی موت ہو گئی لڑکی کے ماما سمت نے بتایا کہ حادثہ کی اطلاع کے باوجو د پولیس آدھے گھنٹے بعد پہنچی دوسری طرف ایس پی سٹی اتل کمار شری واستو نے بتایا کہ طالبہ واردات کے وقت رشتہ دار نے چھیڑ چھاڑ جیسی کوئی واردات نہیں بتائی تھی ۔پولیس نے لڑکی کے والد جتیندر بھاٹی کی تحریر پر دیر رات دو نا معلوم بلیٹ سواروں پر اور اورنگ آباد پولیس سی او لائن راگوندر مشرا کی رہنمائی میں ٹیم صبح ہی دادری پہنچ گئی انہوںنے پولیس کو دی گئی تحریر میں بتایا کہ ان کی بیٹی ،بھائی ستندر اور بھتیجے نگم بھاٹی کے ساتھ اپنے ماما کے گھر جا رہی تھی اسی دوران اورنگ آباد علاقہ کے چروٹا مصطفی آباد کے پاس بلیٹ سوار وں نے جان بوجھ کر لڑکی کی بائک کو اوور ٹیک کیا اور اچانک بریک لگانے سے اس کی گاڑی کا بیلنس بگڑ گیا بیٹی کے سر پر سنگین چوٹیں آئی تھیں جس کے چلتے اس کی موت ہوگئی ۔تھانہ انچارج سبھاش سنگھ نے بتایا کہ نا معلوم بائک سوار لوگوں کے خلاف دفعہ 279,304Aاور موٹر ویکل ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے ۔ملزمان کی تلاش جاری ہے ۔پولیس نے ابتدائی جانچ میں کسی چھیڑ چھاڑ سے انکار کیا ہے ۔اب ایس آئی ٹی ٹیم کی جانچ کی بنیاد پر آگے کی کارروائی ہوگی ۔وجہ کچھ بھی رہی ہو لیکن افسوسناک ہے ایک ہونہار طالبہ جس کے سامنے پوری زندگی پڑی ہو اس کی اس طرھ سے اچانک موت ہو جائے بہت افسوسناک ہے ۔شویکشا امریکہ میں چار سال کا کورس کرنے گئی تھی۔اس کے والد چائے کی دکان کرتے ہیں امریکہ سے آکر متوفی لڑکی بھارت میں کوئی بڑا بجنس کرنا چاہتی تھی بھگوان اس کی آتما کو شانتی دے۔ (انل نریندر)

وسندھرا راضی نہیں تھیں ،اس لئے خالی گیا بھاجپا کا وار!

راجستھان میں قریب 31دنوں سے چلا آرہا سیاسی بحران فی الحال ٹلتا نظر آرہا ہے ۔باغی ہوئے سچین پائلٹ کی دہلی میں راہل گاندھی اور کانگریس جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی سے دو دو مرتبہ ملاقات کے بعد نہ صرف راجستھان کی اشوک گہلوت سرکار پر چھایا سیاسی بحران ٹل گیا ہے اور پارٹی میں بڑی پھوٹ کا اندیشہ غلط ثابت ہو گیا ہے ۔42سالہ سچین پائلٹ نے 12جولائی کو اچانک وزیر اعلیٰ گہلوت کے خلاف بغاو ت کا بگل پھونکتے ہوئے دعوی کیا تھا کہ ان کی سرکار اقلیت میں آگئی ہے لیکن وہ 19سے زیادہ ممبر ان نہیں اکھٹا کر پائے بے شک بھاجپا اس کھیل میں براہ راست طور سے شامل نہیں تھی لیکن پائلٹ پر وہ داﺅں تب نہ لگائی جب وہ گہلوت سرکار گرانے کی پوزیشن میں ہوتے اس لئے اس لحاظ سے دیکھیں تو فوری طور پر گہلوت سرکار بچ گئی ہے ۔دوسری جانب پائلٹ کا کہنا ہے کہ کانگریس اعلیٰ کمان نے ان کی بات ہمدردانہ طریقے سے سنی اور ان کے ممبران کی شکایتوں کو سننے کے لئے احمد پٹیل،کیسی وینو گوپال،اور پرینکا کی رہنمائی میں ایک تین نفری کمیٹی بھی بنائی گئی ہے ۔حیرانی اس بات کو لے کر ہے کہ یہ کام پہلے ہی کر لیا ہوتا تو مہینے بھر چلی سیاسی اتھل پتھل کی نوبت نہیں آتی ۔ویسے تو پارٹی میں دو گروپ بنانا اپنے آپ میں مضحکہ خیز بات ہوتی ہے ۔مگر راجستھان کے موجودہ حالات اس ناطے سے زیادہ موضوع بحث رہے کہ کانگریس اعلیٰ کمان پورے نتائج سے شروعاتی بحران کے وقت لا پرواہ دکھائی دی ۔اس پورے پس منظر میں راجستھان میں بی جے پی کی زمینی حقیقت اور طاقتور سابق وزیر اعلیٰ وسندھرا راجے سندھیا کا بھی اہم رول رہا ہے ۔سچین اور باغی ممبران کے ٹوٹ کے معاملے میں حکمراں پارٹی نے بی جے پی کو ذمہ دار مانتے ہوئے چنی ہوئی سرکار گرانے کی سازش کرنے کا الزام لگایا۔لیکن بی جے پی سرکاری طور سے یہی ظاہر کرتی رہی اس کا کانگریس کے بحران سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔اور نہ ہی وہ اسمبلی میں طاقت آزمائی کی خواہش مند ہے ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق بی جے پی کے پاس کوئی متبادل نہیں تھا ۔کیونکہ اس سے راجستھان کے پاور ہاﺅس وسندھرا راجے سندھیا نے خاموشی اختیار کی ہوئی ہے ۔اور انہوںنے گہلوت سرکار کو گرانے کے لئے باغی ممبران کے ساتھ کوئی منسوبہ بنانے سے انکار کر دیا بی جے پی کی ایک میٹنگ کو مجبوراََ منسوخ کر دیا گیا تھا ۔جس میں انہیں حصہ لینا تھا راجستھان میں ایسا کوئی منسوبہ وسندھرا کے تعاون کے بغیر بی جے پی کچھ نہیں کر سکتی تھی ۔اس لئے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ وسندھرا راجے راجستھان میں کسی سرکار کی تبدیلی کے معاملے میں راضی نہیں تھیں اس لئے بی جے پی کا وار خالی چلا گیا ۔اب بغیر ایک لمحہ گنوائے کانگریس کی لیڈر شپ کو دیگر ریاستوں میں بھی اپنے کیل کانٹے درست کرنے کی سخت ضرورت ہے ۔کئی نوجوان لیڈر پارٹی چھوڑ چکے ہیں اس ناطے سے اعلیٰ کمان کو زیادہ سرگرم اور سخت اتفاق رائے کے ساتھ تنظیم کو مضبوطی دینے کی حکمت عملی بنانی ہوگی اگر اب بھی کانگریس نہیں جاگی تو بھگوان ہی بچائے ۔تازہ حالات راجستھان میں تیزی سے بدل رہے ہیں ۔آج سے اسمبلی کا سیشن شروع ہو رہا ہے ۔جس میں بھاجپا گہلوت سرکار کے خلا ف تحریک عدم اعتماد لا سکتی ہے ۔فی الحال تو گہلوت سرکار کو جیون دان مل گیا ہے ۔ (انل نریندر)

13 اگست 2020

پہلے ڈونر لاﺅ پھر ملے گا پلازمہ!

دیش کے پہلے پلازمہ بینک کو کھلے ہوئے کئی ہفتے گزر چکے ہیں دو جولائی کو وزیر اعلیٰ اروند کجریوال نے وسنت کنج کے آئی ایل بی ایس میں پلازمہ بینک کا آغاز کیا تھا لیکن اس میں پلازمہ لینے والوں کی تعداد ضرور بڑھ رہی لیکن دینے والوں کی نہیں ایسے میں پلازمہ بینک میں پلازمہ کی کمی نہ ہو اس لئے ایک سسٹم بنایا گیا ہے جس کے تحت اب جس اسپتال کو اپنے کورونا مریض کے لئے پلازمہ درکار ہوگا اُس کو پہلے پلازمہ ڈونر بھی بھیجنا ہوگا ڈونر کسی بھی بلڈ گروپ کا ہو سکتا ہے ۔جب پلازمہ بینک میں ڈونر پلازمہ دے گا اس کے بعد اسپتال کے ذریعہ مجاز شخص یا مریض خود کے خاندان کو پلازمہ دیا جائے گا۔ایل بی ایس اسپتال کے ڈائرکٹر ڈاکٹر ایس کے سرین نے بتایا کہ پلازمہ لینے والوں اسپتالوں کے لئے اب رپلیس منٹ ڈونر دینا ہوگا جو اسپتال پلازمہ لینے کے لئے کسی کو بھیجے گا اس کے بعد اس کے ساتھ خون دینے والا بھی بھیجنا ہوگا ۔اس بات سے ظاہر ہے کہ جو لوگ بڑی تعداد میں پلازمہ دینے کے لئے نہیں پہنچ رہے ہیں یہ چنتا کی بات ہے ۔ڈاکٹر سرین کہتے ہیں کہ سال 1962میں جب چین سے لڑائی ہوئی تھی تب نہرو جی نے لوگوں کو خون دینے کی اپیل کی تھی ۔اس کے بعد خون دینے والوں کی لائنیں لگ گئیں ۔جو لوگ آج پلازمہ دینے سے کترا رہے ہیں ہزاروں لوگ پلازمہ کی خاطر کورونا سے ٹھیک ہو چکے ہیں ۔اِدھر اسپتال میں بلڈ لینے کے شعبے کی چیف ڈاکٹر مینو باجپائی کہتی ہیں کہ ابھی تک پلازمہ بینک سے 300سے زیادہ مریضوں کا پلازمہ جا چکا ہے لیکن ابھی تک اتنے لوگ بھی خون دینے نہیں آئے انہوںنے بتایا کہ پلازمہ بینک میں ڈونر کو خون دینے کے لئے فون کرتے ہیں تو وہ نہیں آتے اسپتال کے ایک دوسرے ڈاکٹر شانو دوبے کہتے ہیں کہ یہاں روزانہ تقریباکچھ پلازمہ ڈونر اپنی مرضی سے آتے ہیں جبکہ آدھے پلازمہ لینے کے بدلے ڈونر آتے ہیں ۔پلازمہ بینک میں پلازمہ کی کمی کے چلتے اسپتالوں کے لئے بدلے میں ڈونر بھیجنا ضروری کر دیا گیا ہے ۔تاکہ پلازمہ کا اسٹاک بنائے رکھا جا سکے ۔جو شش و پیج کے چلتے پلازمہ دینے کے لئے آگے نہیں آرہے ہیں دوسری طرف ایسے لوگ بھی ہیں جو تین مرتبہ خون دے چکے ہیں جب ان سے پوچھا گیا کہ خون دان کرنے کے بعد کیسا لگتا ہے تو وہ بولے کورونا یودھا جیسے ۔ (انل نریندر)

کشمیر میں سیاسی قتلوں کو روکنا بڑی چنوتی

تمام کوششوں کے باوجود کشمیر وادی میں سیاسی ورکروں کے قتل کا سلسلہ رک نہیں رہا ہے ،سیاسی قتل کے تحت بھلے ہی بھاجپا ورکروں و سرپنچوں و مقامی لیڈروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے لیکن دہشتگردوں کے ذریعہ قومی دھارا سے جڑے سیاسی نیتاﺅں کے قتل کی وادی کشمیر میں لمبی تاریخ رہی ہے اب تک جتنی بھی حکومتیں یا انتظامیہ رہے کم و بیش ہر دور میں سیاسی ورکر دہشتگردوں کے نشانے پر رہے ہیں ۔نئے ایل جی منوج سنہا کے سامنے سب سے بڑا چیلنج ان سیاسی قتلوں پر لگام لگانا ہوگا ۔جموں و کشمیر میں بی جے پی لیڈروں پر حملوں کا سلسلہ رک نہیں رہا ہے ۔وسطی کشمیر کے بڑگام میں ہوئے حملے میں زخمی بی جے پی نیتا و او بی سی مورچہ کے ضلع صدر عبدالحمید نظر زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسے بی جے پی نیتا اس حملے سے ناراض پارٹی لیڈروں کے استعفی کا سیلاب سا آگیا ہے ۔اوراب تک جو خبریں آئی ہیں نو لیڈروں نے اور ورکروں نے ہائی کمان کو استعفیٰ بھیج دئے ہیں ۔وہیں پچھلے مہینے بی جے پی ورکر وسیم باری اور ان کے والد و بھائی کے ساتھ شمالی کشمیر کے بانڈی پورہ علاقے میں آتنکی حملے میں ہلاک کر دئے گئے تھے ۔بی جے پی کے کئی لیڈروں نے بار بار اپنے لیڈروں کی حفاظت کی مانگ کی ہے ۔جموں و کشمیر میں بی جے پی کے نائب صدر سیفی یوسف کا کہنا ہے کہ ان کے جسم پر چار گولیاں داغی گئی تھیں جس وجہ سے ان کو شدید نقصان ہوا ہم اپنے پارٹی وکروں کے ساتھ کھڑے ہیں لیکن جو دل بدلی کے لئے استعفیٰ دے رہے ہیں وہ موقع پرست اور بے بھروسہ ہیں ۔ساﺅتھ کشمیر کے پلوامہ میں دیر شام دہشتگردوں نے پنچایت کے نمائندے کو نشانہ بنایا اسی طرح ترال علاقے میں پی ڈی پی سے وابسطہ جیتندر سنگھ کو گھر پر حملہ کر کے نقصان پہنچانے کی کوشش کی اُدھر بڈگام میں اتوار کو عبد النظر کی موت ہوئی کچھ مہینے پہلے ہی پارٹی میں شامل ہوئے تھے ۔دہشتگردوں نے سرپنچ کو نشانہ بنایا تھا ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آڈیو اور ویڈیو کے ذریعہ ان تمام لوگوں کو تمام سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکی دی جا رہی ہے جو سیکورٹی فورس سرکاری نوکری،یا بھاجپا سے جڑے ہیں ۔یہی وجہ بتائی گئی ہے کہ ابھی حالیہ دنوں میں ان دھمکیوں سے گھبرا کر مقامی نیتا اور ورکر پارٹی سے استعفیٰ دینے لگے ہیں ۔کہا جا رہا ہے کہ جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370و 35اے کو ختم کئے جانے کے سبب وادی میں موجود ملک دشمن طاقتیں اور سرحد پار بیٹھے ان کے پاکستانی آقا پوری طرح سے بوکھلائے ہوئے ہیں ۔اس لئے وہ تیزی سے قتلوں کو انجام دے رہے ہیں ۔ (انل نریندر)

12 اگست 2020

ایودھیا بھاجپا کی ووٹوں کی بھی فصل ہے

ایودھیا صرف آستھا و شردھا کا مرکز نہیں ہے بلکہ یہ ووٹوں کی فصل کے لئے کھاد پانی کا کام بھی کرتا ہے ۔بھاجپا کو اقتدار تک پہنچانے میں ایودھیا کے رام مندر اشو کا اہم کردار رہا ہے اور مندر تعمیر کام کا آغاز ہو جانے سے ریاست کی سیاست میں بھاجپا کو مقبولیت ملی ہے ۔لیکن حملے کی دھار اب پہلے جیسی نہیں ہے ۔بھاجپا کے لئے ووٹوں کا پولورائزیشن کرانے کی چنوتی ہوگی تو اپوزیشن پارٹیوں کے سپنے اس کو روکنے کے ہوں گے رام مندر کے شیلا نیاس پر سپا ،بسپا و کانگریس کا جیسا رخ رہا ہے اس سے بھاجپا کو حملہ آور ہونے کا موقعہ شاید ہی ملے کچھ نیتاﺅں نے رام مندر ٹرسٹ میں پس ماندہ ااور غیر فہرست ذاتوں کے لوگوں کی شرکت نہ ہونے پر سوال کھڑے کر کے مستقبل میں سیاست کے سمت کے اشارے بھی دے دئے ہیں اپوزیشن کو رام مندر مسئلے پر بھاجپا کی کاٹ کے لئے عوامی سروکاروں سے جڑنا ہوگا مذہبی بنیاد پر پولارائزیشن نہ ہو اس کے لئے انہیں حکمت عملی بنانی ہوگا ۔سپا کے قومی جنرل سیکریٹری و چیف ترجمان راجیندر چودھری کہتے ہیں کہ رام آستھا اور شردھا کا معاملہ ہے بھاجپا کو ان پر سیاست نہیں کرنی چاہیے آج اترپردیش میں کسان نوجوان طالب علم کاروباری ،سبھی پریشان ہیں ۔حکومت کورونا کنٹرول کرنے میں ناکام رہی ہے ۔معیشت زمیں پر آگئی ہے ۔کسانوں کی زمین کو سرمایہ داروں کو سونپنے کی سازش چل رہی ہے ان سبھی اشوز پر بھاجپا و اس کی سرکار کی گھیرا بندی کی جائے گی جس ایودھیا و رام مندر اشو کو لے کر بھاجپا نے سیاسی سیڑھیاں چڑھیں اس کا عزم پورا کرنا ہے ۔پانچ اگست کو وزیر اعظم نے بھومی پوجن اور مندر کے کام کا آغاز کیا ہے ۔اس کے لئے کورونا ماحول کے باوجود بھاجپا نے ایودھیا سمیت دیش بھر میں جشن جیسا ماحول بنایا اس سے بھگوا خیمے کی اس اشو پر سیاسی توقعات کو بھی سمجھا جا سکتا ہے ۔ظاہر ہے ڈھیڑھ سال بعد اترپردیش میں اسمبلی چناﺅ ہونے ہیں ان میں بھاجپا رام مندر کی تعمیر کا سیاسی فائدہ لینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گی اس کی کوشش چناﺅ میں فرقہ وارانہ بنیاد پر پولارائزیشن کرنے کی ہوگی ایسے میں نظریں اپوزیشن پارٹیوں کی حکمت عملی پر ہوگی و بھاجپا کے منصوبوں کی کاٹ کر پاتے ہیں یا نہیں ووٹوں کا پولارائزیشن روک پاتے ہیں یا نہیں ۔ (انل نریندر)

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...