Translater
12 اگست 2020
کورونا انفیکشن رکتا نظر نہیں آرہا
تما م اقدامات ااور احتیاط و سختی کے باوجود کورونا انفیکشن کے معاملے رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں اور بھارت میں کورونا کا قہر انتہا پر ہے ۔روزانہ 60سے65ہزار کے قریب مریض سامنے آرہے ہیں ۔پیر کے روز بھارت میں کورونا کے 62064نئے مریض سامنے آئے اس طرح مریضوں کی کل تعداد 22لاکھ کو پار کر گئی ہے ۔اور ٹھیک ہونے والے مریضوں کی تعداد بھی بڑھ کر 15.35لاکھ ہو گئی ہے ۔یہ معلومات وزارت صحت نے دی ہے ۔جبکہ وائرس انفیکشن سے 1007مریضوں کی موت ہونے یہ تعداد44386ہو گئی ہے ۔وزارت کا کہنا ہے کہ فی الحال 634945مریض زیر علا ج ہیں ۔بہتر امبولینس سرویسز اور دیکھ بھال کے کام پر توجہ دینے سے قابل قدر نتیجے ملے ہیں ۔اورپچھلے 24گھنٹوں میں ریکارڈ 54859مریض ٹھیک ہوئے ہیں اور مریضوں کی ٹھیک ہونے کی شرح 70فیصد پہنچ گئی ہے ۔یہ سب تو ٹھیک ہے لیکن جس رفتار سے بھارت میں کورونا متاثرین کی تعداد روزانہ سامنے آرہی ہے اس سے تو ہم کورونا مریضوں کی تعداد میں دنیا میں نمبر ون دیش نہ بن جائے ۔اس میں کوئی دو رائے نہیں ہو سکتی کہ انفیکشن تیزی سے دیش میں پاﺅں پھیلا رہا ہے ۔اور مرنے والوں کی تعداد بھی اسی حساب سے بڑھ رہی ہے لیکن زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ اب یہ وائرس ان لوگوں کو اپنا شکار بنا رہا ہے جو زیادہ چوکس اور گائڈ لائنس کی تعمیل کرتے ہیں ہم نے کئی ایسے مریضوں کے بارے میں سنا ہے جو ہر طرح سے احتیاط برط رہے ہیں گھر سے باہر نہیں نکل پار ہے ہیں ان کو بھی یہ منحوس کورونا ہو گیا ہے ۔اس سے بھی ستر فیصد بچنے کا فارمولہ نہیں ہو سکتا ۔آپ بے شک گھر پر بیٹھے ہیں لیکن آپ کو کوئی سامان باہر سے منگایا تو بس آپ کا کام ہو گیا ۔اب تو سیاستداں بھی اس کی زد میں آرہے ہیں ۔اترپردیش کی کیبنٹ وزیر سمیت کئی ااور وزراءاور نیتاﺅں کو کورونا انفیکشن ہونے سے موت کی دہشت ستانے لگی ہے ۔کیونکہ مریض بڑھتے جا رہے ہیں ۔لہذا صرف یہ کہہ دینے سے پریشانیاں دور نہیں ہونگی کیس زیادہ ہونے سے مریض بڑھ رہے ہیں ۔یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ کی ہم سرکار کے ان قواعد اور ہدایتوں کی تعمیل اچھی طرح سے کر رہے ہیں یا نہیں جس سے کورونا انفیکشن کو روکا جا سکے ۔آج کل روزانہ ہم اخباروں میں پڑھ رہے ہیں پولیس بغیر ماسک جانے والوں کا چالان کاٹ رہی ہے ۔جانتے ہوئے بھی لوگ بنا ماسک میں گھومتے ہوئے نظر آتے ہیں کئی جگہوں پر سماجی دوری کی بھی تعمیل نہیں ہو رہی ہے ۔بے شک کورونا سے لڑنے کے لئے کارگر انتظامات کئے جا رہے ہیں ۔اسپتالوں میں بہتر سہولیات مل رہی ہیں ۔لیکن جب تک عوام سنجیدگی اور پابندی سے کورونا ہدایتوں کی تعمیل نہیں کرتی تب تک وائرس بڑھنے کا یہ سلسلہ رکنے والا نہیں حکومت اپنی طرف سے سب کچھ کر رہی ہے ۔جب تک گائڈ لائنس کی تعمیل نہیں کروگے یہ رکنے والا نہیں ہے ۔
(انل نریندر)
11 اگست 2020
سعودی عرب نے دیا پاکستان کو تگڑا جھٹکا!
کشمیر ی مسئلے پر اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی دو حصوں میں بانٹ دینے کی دھمکی دینا پاکستان کو مہنگا پڑ گیا سعودی عرب نے پاکستان کو ادھار تیل دینا بند کر دیاہے ۔پاکستان اب گڑ گڑا رہا ہے لیکن سعودی عرب کوئی توجہ نہیں دے رہا ہے دونوں ملکوں کے درمیان اس بارے میں 3.2ارب ڈالر کے معاہدے کی معیاد دو مہینے پہلے ہی ختم ہو چکی ہے دی ایکسپریس ٹیون میں جمع کو شائع رپورٹ میں سعودی عرب نے نومبر 2018میں پاکستان کی باہری خطے کی پریشانی دور کرنے کے لئے 6.2ڈالر سے 3.2ارب ڈالر کچے تیل کی سہولت اسی پیکج کا حصہ ہے ۔پاکستان نے سعودی عرب سے اس معاہدے کو آگے بڑھانے کی درخواست کی لیکن ابھی تک اس کا اسے جواب نہیں ملا ہے ۔مالی بدحالی سے لڑ رہے پاکستان نے دیوالیہ ہونے سے بچنے کے لئے 2018میں سعودی عرب سے قریب 46ہزار کروڑ روپئے کا قرض لیا تھا جس میں پاکستان کو 24ہزار کروڑ روپئے کا تیل دینے کی بھی سہولت دی گئی تھی یہ میعاد دو مہینے پہلے ہی ختم ہو چکی ہے اب معاہدے کی تجدید نہیں ہوئی ۔پاکستان نے سعودی عرب سے لئے قرض میں ایک ارب ڈالر یعنی قریب ساڑھے سات ہزار کروڑ روپئے کی قسط و قت سے چار مہینے پہلے ہی دے دی تھی اس کے لئے اسے چین سے ادھار لینا پڑا تھا اب وہ باقی قرض چکانے کے لئے چین کی طرف دیکھ رہا ہے پچھلے دنوں پاکستان کے وزیر خارجہ شان محمود قریشی نے ایک ٹی وی پروگرام میں سعودی عرب کو دھمکی دے ڈالی تھی کہ اگر سعودی عرب نے او آئی سی کے وزیر خارجہ کی ہنگامی میٹنگ نہیں بلائی تو پاکستان خود یہ میٹنگ بلا سکتا ہے ۔وزیر اعظم عمران خان یہ درخواست کرنے کے لئے مجبو رہو جائیں گے کہ وہ ان اسلامی ملکوں کی میٹنگ بلائیں جو کشمیر ی مسئلے پر ہمارا ساتھ دینے کو تیار ہیں دنیا کے سب سے بڑے اسلامک ملکوں کی انجمن او آئی سی پاکستان کی درخواست کو کئی بار مسترد کر چکا ہے ۔کشمیر ہتھیانے کے لئے پاکستانی فوج چار بار حملہ کر چکی ہے اب اس نے تین دہائی سے بھارت کے خلاف در پردہ جنگ چھیڑی ہوئی ہے ۔5اگست 2019میں بھارت نے جموں کشمیر کا اسپیشل درجہ ختم کرکے اسے دو ریاستوں میں بانٹ دیا تھا عمران سرکار تبھی سے اس مسئلے کو اوآئی سی کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش میں ہے لیکن اس کی حمایت نا ملنے کی ایک بڑی وجہ پاکستان اور ترکی کے درمیان بڑھتی قربت ہے جس سے سعودی عرب چڑھا ہوا ہے در اصل ترکی کے صدر اردغان سعودی عرب کو ٹکر دے کر سنی مسلم دیسوں کو رہنما بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں سعودی عرب کو بھلا یہ کیسے منظور ہو سکتا ہے ؟
(انل نریندر)
پائلٹ نے طیارے کو بچانے کےلئے بہت کوشش کی !
وندے بھارت مشن کی اڑان سے وطن لوٹ رہے کئی لوگوں کے لئے یہ سفر موت کا قہر بن کر سامنے آیا۔بھاری بارش کے درمیان لنڈنگ کرنے کی کوشش میں جہاز حادثہ نے کئی سوال تو کھڑے کر دئیے ہیں لیکن ائیر پورٹ حکام کے حوالے سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ اس افسوس ناک پرواز کے کمانڈر ڈی وی ساٹھے نے طیارے کو بچانے کی آخری سانس تک کوشش کی لیکن اپنی جان دے کر بھی طیارے کے زیادہ تر مسافروں کی جان بچانے میں کامیاب رہے ۔جان گنوانے والے پائلٹ کیپٹن دیپک ساٹھے اور کو پائلٹ اکھلیش کمار تھے سابق ائیر فور س آفیسر نے آخری وقت تک جہاز کو بچانے کی پوری کوشش کی وہ 1981میں ائیر فورس میں بھرتی ہوئے تھے اور 2003میں اسکوائڈر لیڈر کی شکل میں رٹائر ہوئے تھے ۔ان کو اسکواڈ آف اونر سے بھی نوازا گیا تھا وہ گوئنگ 737بھی اڑا چکے ہیں میڈیا رپورٹ کے مطابق پائلٹ نے لنڈنگ سے پہلے آسمان میں کئی چکر لگائے اور طیارے کوبچانے کی بھی کوشش کی مگر آخری وقت میں اترنا ہی پڑا بھار ی جمع پانی اور پھسلن کی وجہ سے حادثہ ٹالا نہیں جا سکا ۔ایک مسافر ریاو¿ نے بتایا کہ میں پچھلی سیٹ پر تھا اچانک زور کا جھٹکا لگا ایک دوسری مسافر فاطمہ نے بتایا کہ جہاز بہت تیزی سے زمین سے ٹکر ا کر تیزی سے دوڑاتا چلا گیا بہر حال ڈی جی سی اے نے حادثہ کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے ہم تمام مرنے والوں کو سردھانجلی دیتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ووہ اپنے پیارے لوگوں کو جانے کا صدمہ برداشت کر پائیں گے ۔
(انل نریندر)
نربھیا کیس میں پھانسی سے نہیں رکی درندگی!
پچھم وہار ویسٹ علاقے میں ایک لڑکے کی حیوانت کا معاملہ سامنے آیا ہے ۔نربھیا کانڈ کے بعد بھی حیوانیت کے معاملے رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں ۔امید تھی کہ نربھیا کے گنہگاروں کو پھانسی پر لٹکانے کا کچھ تو اثر ہوا ہوگا لیکن بدقسمتی سے لگتا ہے کہ زیادہ اثر نہیں ہوا ۔حیوانیت کی شکارہوئی 13سالہ بچی کی حالت ابھی بھی بے حدنازک بنی ہوئی ہے جس کی وجہ سے اس کا بیان نہیں لیا جا سکا ۔بچی کے جسم پر ملزم کی حیوانیت صاف جھلکتی ہے اس کے جسم پر کیچی سے حملے اور جگہ جگہ سے دانت سے کاٹنے کے نشان ملے ہیں یہ نشان صاف بتاتے ہیں کہ معصوم بچی کے ساتھ جنسی زبردستی بھی کی گئی ہے حالانکہ ڈی سی پی باہری دہلی ڈاکٹر ایکتھام کا کہناہے کہ اس معاملے میں فی الحال پاسکو ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے میڈیکل رپورٹ میں آگے کی کاروائی ہوگی ۔پچھم وہار ویسٹ پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیاہے وہ منگول پوری کا باشندہ ہے پتہ چلا ہے کہ وہ گھروں میں نقب زنی کیا کرتا تھا واردات والے دن بھی اس گھر کو کھالی سمجھ کر اندر گھنسا تھا لیکن اندر لڑکی کو دیکھ کر اس سے بدتمیزی شروع کر دی ۔جب لڑکی نے احتجاج کیا تو ملزم نے اس پر تاوڑتوڑ حملہ کر دیا اور اسے مرا ہوا سمجھ کر بھاگ گیا ۔پتہ چلا ہے کئی سال پہلے بھی ایک گھر میں واردات کرنے پہونچا تھا تب اس نے ایک عورت کو مار ڈالا تھا جوائنٹ سی پی سالنی سنگھ نے بتایا کہ اس ملزم کو گرفتار کرنے کے لئے آو¿ٹر ڈی سی پی کی نگرانی میں پولیس کی 20ٹیمیں بنائی گئیں تھیں جنہوں نے 100سے زیادہ سی سی ٹی وی فوٹیز دیکھنے کے بعد ملزم کشن کو گرفتار کیا ۔پولیس نے پہلے ہی پاسکو اقدام قتل سمیت الگ الگ دفعات میں مقدمہ درج کر لیا ہے بتادیں 4اگست کی شام ویسٹ تھانہ علاقے کے تین مزلہ مکان کے کمرے میں موجود لڑکی پر حملہ کیا تھا جیسے تیسے لڑکی پڑوسی تک پہونچی جس کے پاس معاملے کی اطلاع پولیس کو دےدی گئی ۔پولیس نے موقع واردات پر پہونچ کر سنجے گاندھی اسپتال میں داخل کرایا جہاں سے اسے ایمس میں بھیج دیا گیا ۔پولیس نے اتنے کم وقت میں درندے کو گرفتار کر لیا اس کے لئے مبارک باد کے مستحق ہیں ۔جوائنٹ سی پی سالنی سنگھ و ڈی سی پی ڈاکٹر اکان و تمام ٹیم کی سراہنا ہونی چاہیے لیکن اب دیکھنا یہ ہوگا کہ سنجے کو کتنی جلدی پھانسی پر لٹکایا جائےگا ؟نربھیا جیسا کیس اب نہیں ہونا چاہیے ۔
(انل نریندر)
09 اگست 2020
آستھا :بی او کے جا کر لائے پوتر مٹی !
رام جنم بھومی میں بیٹھے رام للا بھومی پوجن میں ایک ہزار پوتر مقامات سے مٹی لائی گئی انہیں میں سے ایک جگہ پاکستانی مقبوضہ کشمیر(پی او کے)میں واقع شاردا پیٹھ ہے یہاں سے پوتر مٹی لائی جانے کی کہانی بھی دلچسپ ہے پو او کے میں ہندوستانی شہریوں کو جانے کی اجاز ت نہیں ہے اس لئے چین کے پاس پورٹ پر ہندوستانی میاں بیوی سے ہانگ کانگ کے راستے سے منگوایا گیا۔ کرناٹک کے باشندے وینکٹیشن رمن اور ان کی اہلیہ چین میں رہتے ہیں ۔سیو شاردا پیٹھ ان سے رابطہ قائم کیا اور پی او کے میں ہندوستانیوں کے جانے پر پابندی کے رہتے وینکٹیشن اور انکی بیوی چینی پاسپورٹ پر پی او کے بھیجا گیا اور یہ دونوں راجدھانی مظفرآباد پہونچے اور وہاں سے شاردا پیٹھ گئے پھر وہاں کا پرساد و مٹی لیکر ہانگ کانگ کے راستے ہوتے ہوئے دلی آگئے اور اس میاں بیوی نے سیو شاردا پیٹھ کو ممبر کو مٹی اور پرساد سپرد کیا انہوں نے بتیا کہ وہ شاردا پیٹھ کے چیف پجاری اروندپنڈت کی ہدایت پر اجودھیا گئے شرما اپنے ساتھ کرناٹک کے انجنا پروت کا بھی جل لائے یہیں ہنمان جی کا جنم استھا ن مانا جاتا ہے انہوں نے بتایا کی کونکن سے بھی پوتر جل لایا گیا ۔ سری لنکا اور نیپال سے بھی پوتر مٹی استعمال کی گئی مقبوضہ کشمیر میں واقع پیٹھ کشمیری پنڈتوں کے لئے تین مشہور پوتر مقامات میںسے ایک ہے ۔ یہ نیلم ندی کے کنارے پر بنا ہے بھارت کے علاقے اوری قریب 70کلومیٹر دور ہے۔ جے شری رام!
(انل نریندر)
کشمیر میں بندوق نہیں روزی روٹی بڑا مسئلہ !
آرٹیکل 370ختم ہونے کے ایک سال بعد کشمیر میں کئی نئے رنگ نظر آنے لگے ہیں اور بڑی تبدیلی کے بعد مقامی سرکار تیزی سے ڈیولپمینٹ کے محذپر لوگوں کے دلوں میں جگہ بنانے کا دعویٰ تو کر رہی ہے لیکن ایک سال بعد بھی کشمیر میں روزی روٹی کا سب سے بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے اور مقامی لوگ روزی روٹی اور روز گار کے سوال کو ترضیح دے رہے ہیں مسلسل گمراہ کن پرو پیگنڈہ کا ایجنڈا چلانے میں لگے پاکستا ن اور علیحدگی پسندوں کو لیکر وادی میں زیادہ تر لوگوں میں اس پر کوئی توضح نہیں دی جا رہی ہے مقامی لوگوں سے بات چیت میںقومی دھار ا کے کشمیروں کا کشمیری نیتاو¿ںسے بیزاری ہوچکی ہے پنچایتوں کے علاوہ کئی سطحوں پر نئی لیڈر شپ ابھر کر سامنے آ رہی ہے۔سرکار سے کئی معاملوں پر عوام کی شکایتیں ہیں آرٹیکل 370کے تئیں لوگوں کا جذبہ برقرار ہے اور وہ دہشت گردی کے خلاف بولنے لگے ہیں پاکستانی دخل کی وجہ سے عام کشمیریوں کو نشانہ بنایا جا رہاہے۔ زیادہ تر مقامی کشمیروں میں کام نہ ملنے کی شکایت ہے بہت سے لوگوں کے آرٹیکل 370کے ختم ہونے سے بحالی مداخلت کا اندیشہ بھی نظر آنے لگا ہے ۔رہایشی پالیشی کو لیکر بھی لوگوں میں کئی سوال اٹھ رہے ہیںلیکن دوسری طرف غیر کشمیری مزدور ریاست میں واپس آنا ایک بھروسے کی کہانی بیان کر رہی ہے کشمیر کے ایک شخص فاروق کا کہنا کہ پاکستان نے ریاست میں آگ لگائی ہے وہ خود تو بھوکھا ننگا ہے ہمیں کیا دے گا ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچوںکو روز گار ملے ادھر حکام کا کہنا کہ پنچایتوں کے ذریعے وسیع پیمانے پر کام کرائے جا رہے ہیں اور یہ صاف پیغام کی ترقی میں اب تک جو کمی رہ گئی تھی وہ پوری کی جائے بہت سے لوگوں نے ریاست میں تبدیلی کو قبول کیا ہے باقی کچھ آنے والے دنون میں فائدہ نظر آئے گا لوگوں سے جڑنے کے لئے بیک ٹو ویلیج ©©©پروگرام کامیاب ہو ا ہے یہ سرکار کا کہنا ہے لیکن اس سے لگتا ہے کی زیادہ تر کشمیری متفق نہیں ہیں ان کے لئے روٹی کپڑا مکان اور روزگا آج بھی سب سے اہم ہے ۔
(انل نریندر)
سوشانت کی موت کا سچ تو سامنے آنا چاہیے!
سپریم کورٹ نے کہا کہ سوشانت سنگھ راجپوت ایک ٹیلینٹ یافتہ ایکٹر تھے اور ان کی موت عام نہیں ہے ۔ ایسے میں سچ سامنے آناضروری ہے۔جسٹس ریسیکیس رائے کی ایک نفری بینچ نے یہ رائے زنی ریا چکرورتی کے ذریعے بہار میں درج مقدمے کو ممبئی ٹرانسفر کرنے کی مانگ والی عرضی پر سماعت کی مانگ کی ہے ۔ بدھ کے روز سرکاری وکیل تشار مہتہ نے بینچ کو بتایا بہار حکومت کی جانب سے سوشانت کی موت کی جانچ سی بی آئی سے کرانے کی مانگ کو مرکزی حکومت نے منظور کردیا ہے ۔ بینچ نے ریا کی عرضی پر بہار پولیس ،مہارشٹر پولیس سوشانت کے کنبے سے تین دن میںجواب مانگا ہے ممبئی پولس کو اب تک کی جانچ سے بھی واقف کرانے کو کہا ہے۔ اب سماعت اگلے ہفتے ہوگی اس درمیان مرکزی حکومت نے سی بی آئی جانچ کے لئے نوٹیفیکشن جاری کردیا ہے ۔ بنیادی سوال : کس ریاست کی پولس کو تفتیش کا اختیار:جسٹس رائے نے کہا سوشانت معاملے میں اس بات کی چان بین ضروری ہے کیا اس موت کے پیچھے کوئی جرم تو نہیں ہے ؟ اس ہائی پروفائل معاملے کو لیکر لوگوں میں اپنی اپنی رائے ہے لیکن ہم قانون کے مطابق چلیں گے اب تک شاید ممبئی پولس نے غیر فطری موت کا مقدمہ درج کیا ہے۔جب کی پٹنہ میں درج ایف آئی آرمیں کئی دوسرے ایشو اٹھائے گئے ہیں ۔ ہمارے سامنے بنیادی ایشو یہ ہے کہ اس معاملے کی تفتیش کا حق کس ریاست کی پولس کو ہے ؟ سپر یم کورٹ نے بہار کی پولس کے ذریعے انکوائری نہ کئے جانے پر ریا کو انترم راہت دینے سے منع کردیا ہے سی بی آئی کے ہاتھ میں سو شانت سنگھ کی خود کشی کی مبینہ گتھی سلجھانے سے ذمہ آتے ہی ممبئی پولس اور سیاسی گلیاروں کے ساتھ ساتھ سرکردہ فلمی ہستیوں کا بیلڈ پریشر ہائی ہو گیا ہے ویسے سی بی آئی کو بھی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ وقت کافی گزر چکا ہے اور ثبوتوں سے چھیڑ چھا ڑ ہو سکتی ہے اب اس معاملے میں اب تک چھپائے راز کو ممبئی پولس کو سامنے لانا ہوگا سی بی آئی جانتی ہے اب تک راز کو راز رہنے دو کے قدم پر وہاںکی پولس چل رہی ہے ۔اس لئے ایس آئی ڈی آئی کے گگن دیپ کی قیادت میں بنی ٹیم جلدسے جلد ریا کے ہر ٹھکانے اور اس کے رشتے داروں اور ا س کی کمپنی سمیت اور کچھ پولس والوں کے یہاں چھاپہ مار کر سی بی آئی ثبوت کے لئے اس واقع سے وابستہ کڑیوں کو جوڑے گی اور پولس والوں سے بھی پوچھ تاچھ کرے گی اور یہ جاننے کو کوشس کرے گی کی اب تک ایف آئی آر کیوں نہیں ہوئی اور بنا فورنسک جانچ کے موقع واردات پار خود کشی کیسے کہی دیا گیا؟ سی بی آئی اس راز کے پیچھے چھپے رازداروں کے نام بھی اگلوانا چاہے گی ساتھ پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر سے بھی پوچھ تاچھ کرے گی ذراعے کے مطابق سی بی آئی کچھ سر کردہ ہستیوںکو بھی پوچھ تاچھ کے لئے طلب کرے گی تاکہ سوشانت سے جڑے معاملے کی گہرائی تک پہنچا جا سکے ۔ ریا کے علاوہ اس کے گھر والوں سے راز اگلوانے کے لئے پوچھ تاچھ کر معاملے کا پتہ لگائے گی ۔
(انل نریندر )
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
نشانے پر بالی ووڈ ستارے !
بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...