پچھلے کچھ دنوں کے واقعات سے امید کی جاتی ہے کہ اگلے کچھ دنوں میں امریکہ ایران میں کوئی ڈیل ہو جائے اور جنگ مستقبل میں ہونے سے ٹل جائے ۔جس طرح سے ایران کے وزیرخارجہ عباس عراغچی 48 گھنٹے میں دو مرتبہ اسلام آباد گئے وہاں سے مسقط (عمان) گئے اور وہاں سے ماسکو چلے گئے اس سے لگتا ہے ایران نے ڈیل کی شرطیں طے کر لی ہیں اور ایران بھی امریکہ سے بات چیت کو تیار ہے ۔دوسری جانب امریکی صدر نے بھی تھوڑی نرمی دکھائی اور جنگ بندی کو بے میعاد تک بڑھا دیا ہے اور ایران کے نمائندہ وفد سے اسلام آباد میں اپنے نمائندہ وفد کو بھیجنے کی اجازت دی ۔اس سے صاف ہے کہ ٹرمپ اس جنگ سے ہر حالت میں باہر نکلنا چاہتے ہیں ۔وہ جانتے ہیں کہ وہ یہ جنگ ہار چکے ہیں ۔آگے لڑنے کے لئے نہ تو ان میں مادہ ہے اور نہ ہی جنگ لڑنے کے وسائل ہیں ؟ ٹرمپ کی ایک بڑی مجبوری یہ بھی ہے کہ انہیں دو مئی تک امریکی کانگریس ( پارلیمنٹ ) سے ایران جنگ کو جاری رکھنے کے لئے منظوری بھی لینی ہوگی جو کہ شاید مشکل ہو کیوں کہ امریکہ کے 63 فیصدی شہری ٹرمپ کے اس جنگ کے خلاف ہیں او ر وہ نہیں چاہتے امریکہ اسرائیل جنگ لڑیں ۔اس کے علاوہ امریکی فوج نے صاف کر دیا ہے اس کے پاس اب ہتھیاروں کا ذخیرہ آدھا رہ گیا ہے اور یہ وہ کسی مستقبل کی ایمرجنسی کے لئے رکھنا چاہتاہے اس لئے مجھے نہیں لگ رہا کہ ٹرمپ میں اب مادہ ہے ۔کہ یہ جنگ جاری رکھیں ۔دیکھاجائے تو عد م رضامندی کے بھی دو تین اشوز بچے ہیں ۔ہرمز اسٹیٹ کو کھولنا ،ایران کے نیوکلیئرپروگرام پر کنٹرول اور میزائلوں کو محدود کرنا ،ہرمز پر ٹول لینا ؟ وغیرہ وغیرہ ۔یہی اہم اشو بچے ہیں ۔ایران کے وزیرخارجہ کے اتنی بار اسلام آباد کے چکرلگانا یہ پیغام دے رہا ہے کہ ایران بھی اب کوئی سمجھوتہ چاہتا ہے۔ ٹرمپ کو اپنے اکساوے والے فضول بیان بند کرنے ہوں گے ۔خامخواہ وہ الٹے سیدھے بیان دے کر ماحول خراب کرتے ہیں ۔دو دن پہلے بھی ہوئے جان لیو احملے کا بھی ٹرمپ پر ضروری اثر ہوگا ۔فوجی ٹکراؤ سے دونوں فریق جتنا حاصل کر سکتے تھے وہ کر لیا ہے ۔امریکہ نے جن مقاصد کو لے کر یہ جنگ چھیڑی تھی وہ اب بھی دور ہے اور پتہ نہیں وہ لڑائی سے انہیں پورا کر بھی سکتے ہیں یا نہیں ؟ اسی طرح ایران کو بھی اندازہ ہوگا کہ وہ ٹرمپ کی ضد پر ایک حد تک ہی جھک سکتا ہے ۔ایسے میں ایک ہی راستہ بچا ہے امن ۔تیل اور نیچر ل گیس کو لے کر انٹرنیشنل اینرجی ایجنسی کی بھی وارننگ ان کی سپلائی 2027 تک بھی پوری طرح بحال نہ ہو پائے گی۔ جنگ کے سنگین نتائج کا بس ایک ہی پہلو ہے ۔تعطل لمبا کھچنے سے عالمی مندی آسکتی ہے اور اس کی سب سے زیادہ قیمت عام آدمی کو چکانی پڑتی ہے ویسے بھی جنگ میں بھی مرتا تو عام آدمی ہی ہے چاہے وہ کس بھی دیش کا ہو اس لئے کل ملا کر ڈیل ہو جائے تو اس کا ساری دنیا خیر مقدم کرے گی۔ دیکھیں یہ معجزہ کیا اسلام آباد کر دکھائے گا؟
(انل نریندر)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں