امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سربراہ مملکت سے تو بے عزتی سے پیش آتے ہی ہیں لیکن اپنے دیش کے صحافیوں خاص کر خاتون صحافیوں سے کیسے پیش آتے ہیں تازہ واقعہ سے پتہ چلتا ہے ۔ ٹرمپ نے این بی سی جیسے بڑے ٹی وی نیٹور ک سے ایک انٹرویو کے دوران اچانک بات چیت درمیان میں ہی ختم کر دی ۔پروگرام کی میزبان ترشٹن ویلکر بار بار ان کے (ٹرمپ ) کے دعووں پر سوال اٹھارہی تھیں ۔اتوار کو ٹیلی کاسٹ ہوئے پروگرام ’’ میٹ دی پریس‘‘ میںٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ کیلیفورنیا میں چل رہے پرائمری چناؤ سال 2020 کا امریکی صدارتی چناؤ دونوں ہی دھاندلی بھرے تھے ۔جب ویلکر نے چناؤ میں دھاندلی کے دعوے کی حمایت میں ثبوت مانگے تو ٹرمپ نے کہا ’’ مجھے بس دیکھنا اور سننا ‘‘ بھر ہے ۔اس پر ویلکر نے کہا یہ ثبوت نہیں ہے ۔اس کے بعد ٹرمپ نے میڈیا کو بے ایمان ہونے کا الزام لگایا اور انٹرویو ختم کرتے ہوئے کہا ،معاف کیجئے ،اب اسے یہیں ختم کرتے ہیں ۔معاف کیجئے اب اسے یہیں ختم کرتے ہیں ۔میرے لئے بہت ہو گیا اب انٹرویو ختم ہے ۔انٹرویو شروع ہونے کے تقریباً 50 منٹ بعداسے چھوڑ دیا ۔ویلکر کے سوالوں کے جواب میں ٹرمپ نے کہا امریکہ کو ایران کے نیوکلیائی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لئے کاروائی کرنی ضروری تھی اور یہ آخر جنگ نہیں ہوگی ۔ہم وہاں کچھ ماہ کے لئے رہیں گے اور اس کے بعد خطرہ کافی حد تک ختم ہو جائے گا ۔اس کے بعد بات چیت ان دنگوں پر پہنچی اور جب ٹرمپ نے سال 2020 کے چناؤ میں دھاندلی کا اپنا پرانا بغیر ثبوت والاوعدہ دہرایا تو ترسٹن ویلکر نے انہیں چیلنج کیا ۔ٹرمپ نے پھر کیلیفورنیا کے بلدیاتی چناؤ کا ذکر کیا جہاں گورنر سمیت کئی عہدوں کے لئے نومبر میں ہونے والے وسط مدتی چناؤ میں کون سے دو امیدوار ہوں گے ، یہ طے کرنے کے لئے ووٹوں کی گنتی جاری تھی ۔پھر انہوں نے الزام لگایا کہ وہ چناؤ میں دھاندلی کررہے ہیں ۔پلٹ کر ویلکر نے پوچھا کیا آپ کے پاس اس کی حمایت میں کوئی ثبوت ہے ؟ ٹرمپ : مجھے صرف دیکھنا اور سننا ہے ۔ویلکر نے بیچ میں ٹوکا ، لیکن یہ کوئی ثبوت نہیں ہے ۔ ٹرمپ نے ناراضگی سے کہا کہ وہ بے ایمان ہے بالکل آپ کی طرح اس پر ویلکر نے جواب دیا منصفانہ بات کریں تو میں بے ایمان نہیں ہوں لیکن بات چیت جاری رکھیں ۔اس پر ٹرمپ نے کہا یا تو آپ بے ایمان ہیں یا پھر بے وقوف اور یہ کہتے ہوئے ٹرمپ اٹھ گئے اور کہا اسے یہیں ختم کرتے ہیں میرے لئے بہت ہوگیا۔ شکریہ ڈارلنگ ۔آپ کو اپنے پریس کو سدھارنا چاہیے کیوں کہ ایک دیش کبھی مہان نہیں بن سکتا اگر اس کی پریس بے ایما ن ہو ۔ہم اس مہان پترکار کو سلام کرتے ہیں جنہوں نے اپنی بے عزتی کے باوجود ڈٹی رہیں ۔
(انل نریندر)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں