Translater
15 دسمبر 2021
سعودی عرب نے تبلیغی جماعت کو دہشت گردی کا دروازہ قرار دیا!
سعودی عرب نے تبلیغی جماعت کو سماج کے لئے خطرہ اور دہشت گردی کے انٹری دروازوں میں سے ایک بتاتے ہوئے اس پر پابندی لگا دی ہے ۔سعودی اسلامی امور کے وزیرڈاکٹر عبداللہ لطیف الشیخ نے انٹرنیٹ میڈیا پر یہ بات ڈکلیئر کی ہے انہوں نے مساجد کے اماموں سے بھی کہا کہ وہ نماز جمعہ کے دوران تقریر میں لوگوں کو تبلیغی جماعت سے دور رہنے سے آگاہ کرین ۔واقف کاروں کا خیال ہے کہ سعودی عرب کے ذریعے پابندی لگائے جانے کے بعد تبلیغی جماعت دنیا بھر سے آہستہ آہستہ سمٹنے لگے گی ۔چونکہ اسے سب سے زیادہ مالی مدد خلیجی ممالک کے ادارو سے ملا کرتی تھی ۔اسلام کی شدھی کرن کے نام پر تقریباً سو سال پہلے بھارت میں شروع کی گئی اس تحریک کے خلاف کئی اور دیش بھی اہم قدم اٹھا سکتے ہیں ۔حالانکہ پاکستان ، بنگلہ دیش ،ملیشیا ،انڈونیشیا جیسے ملکوں کو ایسا کرنے میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے چونکہ وہاں تبلیغیوں کی بڑی تعداد ہے ۔سعودی عرب کے اسلامی امور وزارت نے ٹوئیٹ کیا ہے کہ سرکار نے اماموں کو بھی ہدایت دے دی ہے کہ وہ لوگوں کو یہ بتائیں کہ تبلیغی جماعت کس طرح سے سماج کے لئے خطرہ ہے ۔وزیرالشیخ نے یہ بھی ہدایت دی کہ اس تنظیم کو گمراہ کرنے اور بھٹکانے والا اورخطرناک ڈکلیئر کیا جاناچاہیے ۔دعوو¿ں کے برعکس یہ تنظیم دہشت گردی کا ایک انٹری گیٹ ہے ۔تبلیغی جماعت و دعویٰ کی کامیوں کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا جانا چاہیے کہ سماج کے لئے کتنی خطرناک ہے اور ایک بیان جاری کرکے یہ بھی بتایا جائے کہ سعودی عرب میں ان تنظیموں کے ساتھ کسی بھی طرح کے تعلق رکھنا ممنوع ہے ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں