Translater

06 جون 2026

آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسوم

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے لئے تین دن کے سرکاری سوگ کا اعلان کیا ہے ۔تین ماہ بعد آیت اللہ خامنہ ای کی آخری رسوم اداکی جائیں گی ۔مشہد قبرستان میں سپرد خاک کئے جائیں گے۔ ایران کی سرکار نے سابق لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے لئے تین دن کےسرکاری سوگ اور آخری رسوم ادائیگی کا اعلان کیا ہے ۔فی الحال تاریخ اعلان نہیں ہوئی ہے ۔آخری رسوم اور خراج عقیدت پروگرام اسلامی کلینڈر کے آخری ماہ ذی الحجہ کے آخر میں ہو سکتی ہے ۔یعنی 15 جون کے آس پاس ۔حکام نے بتایا خامنہ ای کی خواہش کے مطابق انہیں مشہد کے امام رضادرگاہ میں دفنایاجائےگا ۔تہران ، قوم اور مشہد میں پروگرام ہوں گے ۔ان شہروں میں وسیع پیمانہ پر آزادانہ جلوس نکالے جائیں گے اور خراج عقیدت محفلیں منعقد کی جائیں گی ۔ایران کے سرکاری ٹی وی چینل آئی آر آئی بی سی بات چیت میں توکل علی جاوید نے کہا کہ تینوں شہروں میں کروڑ وں لوگوں کے شامل ہونے کی امید ہے ۔تہران کے ڈپٹی میئر محمد امین توکلی جاوید نے کہا کہ ایران کے کئی دیگر صوبے بھی تعزیتی پروگرام منعقد کرنا چاہتے ہیں ۔بتایاجارہا ہے تہران میں ہونے والے بڑے پروگرام کم سے کم 24 گھنٹے چلے گا پھر تہران میں ہی 1.5 کروڑ سے دو کروڑ لوگ اپنے شہید سپریم لیڈر کو آخری خراج عقیدت دینے پہنچ سکتے ہیں ۔اتنی بڑی بھیڑ کو سنبھالنے کے لئے انتظامیہ حفاظت اور ٹریفک اور دیگر ضروری انتظامات کی تیاری کررہا ہے ۔یہ فیصلہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے تین ماہ بعد لیا گیا ہے ۔عام طور پر اسلامی روایت کے مطابق کسی شخص کی آخری رسوم موت کے کچھ دنوں کے اندر ہی اداکر دی جاتی ہیں لیکن ایرانی حکام نے پہلے اس پروگرام کو ٹال دیا تھا پھر پہلے کیوں نہیں ادا کی گئی آخری رسوم؟ آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکی اسرائیلی حملے میں وفات پا گئے تھے ۔ان کی شہادت کے بعد مارچ میں ایران کے حکام نے بیان دیا تھا کہ امکانی بھاری بھیڑ اور انتظامات کو لے کر آرہی دشواریوں سے آخری رسوم فوری ادا کرنا ممکن نہیں ہے ۔ ایران کی سرکاری ایجنسی ارنا کے مطابق سرکاری آخری رسوم جون کے وسط میں ادا کی جائے گی ۔حالانکہ اس کی کوئی پختہ تاریخ اور وقت ابھی حکام نے اعلان نہیں کیا ہے ۔آخری رسوم بہت بڑے پیمانہ پر ہوگی اور اس میں ایران کے ساتھ ساتھ کئی مسلم ممالک سے بھی بڑی تعداد میں لوگ شامل ہوں گے ۔پاکستان ،افغانستان ،بھارت ،بنگلہ دیش سے بھی بڑی تعداد میں لوگوں کے مشہد پہنچنے کی امید ہے ۔آیت اللہ علی خامنہ ای کی رسوم میں کروڑوں لوگ ایک ساتھ اکٹھے ہوں گے ۔یہ بھی خطرہ ہے موقع کا فائدہ اٹھا کر کہیں اسرائیل کوئی الٹی سیدھی حرکت نہ کر دے ۔امریکہ بھی اس موقع کا فائدہ اٹھاسکتا ہے ۔اوپر والاایسے ہونے سے بچائے ۔امید کرتے ہیں اس مقدس موقع کا اسرائیل امریکہ کوئی ناجائز فائدہ نہ اٹھائے گا اور آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسوم میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالے گا ۔خامنہ ای نے 86 سال عمر پائی ہے ۔وہ تین دہائی سے زیادہ عرصہ تک ایران کے سپریم لیڈر رہے ۔آج جو ایران ہے اس کے پیچھے آیت اللہ خامنہ ای کی دور اندیشی اور ان کی پلاننگ یہ تھیں کہ ہم آیت اللہ علی خامنہ ای کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں ۔
(انل نریندر)

04 جون 2026

امریکی ایف -15 گرانے میں چینی میزائل

پچھلے ماہ ساؤتھ مغربی ایران کے اوپر مار گرائے امریکی ایف -15 ای اسٹرائک ایگل کو چین میں بنے میزائل سے نشانہ بنایا گیا تھا ۔امریکہ کی نیوز ایجنسی این بی سی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ یہ ابھی صاف نہیں ہو پایا کہ ایران نے جس میزائل سے ایف -15 میزائل کو گرایا وہ حال ہی میں ملی تھی یا ایران کے پرانے ذخیرے میں شامل تھی ۔امریکی افسر اپریل میں ہوئے اس واقعہ کی ابھی جانچ کررہے ہیں ۔دہائیوں میں پہلی بار کسی امریکی جنگی جہا ز کو دشمن کی گولاباری سے مار گرایا اس وقت ٹرمپ نے کہا تھا کہ جہاز کندھے پر رکھ کر داغی جانے والی میزائل سے حملہ کیا گیا ۔ان ہتھیاروں کو عام طور پر مین -پورٹیبل ایئر ڈیفنس سسٹم کے نام سے جاناجاتا ہے ۔یہ قریب 3 فٹ لمبی اور 40 پاؤنڈ وزن کی ہوتی ہے ایران کے چین سے بنے فوجی ساز وسامان کے استعمال سے امریکہ -چین رشتوں میں ایک نیا باب جڑ گیا ہے ۔
(انل نریندر)

کویت پر کیوں کہرام مچارہا ہے ایران!

ایران نے امریکہ کے جوابی حملے کے احتجاج میں کویت کو نشانہ پر لے لیا ہے ۔کویت پر 72 گھنٹے میں دوبڑے حملے کئے گئے ۔کویت میں امریکہ کے کم سے کم 7 بڑے اڈے ہیں وہیں قریب 13 ہزار امریکی جوانوں کو کویت میں رکھا گیا ہے۔یو اے ای کو چھوڑ کر کویت کیوں ایران کے نشانہ پر آگیا اس کے پیچھے بھی وجہ ہے ۔ایران اس قدر کویت سے ناراض ہے کہ محض 72 گھنٹوں میں اس نےکویت پر ڈرون اورمیزائلوں سے بڑے حملے کئے۔ ایران کا کہنا ہے کہ یہ حملے بدلالینے کے لئے کئے گئے ہیں ۔ایران نے صاف کیا کہ یہ حملے کویت کے رہائشی علاقوں پر نہیں بلکہ کویت میں امریکی فوجی اڈوں پر کئے جارہے ہیں ۔بتادیں کہ اب تک امریکہ سے بدلالینے کے لئے یو اے ای ایران کے نشانہ پر تھا اور ایران نے یو اے ای پر سب سے زیادہ حملے کئے ۔اخبار فائنانشیل ٹائمس کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران جنگ کے دوران تہران نے یو اے ای پر قریب 2400 حملے کئے تھے ۔ایران حالانکہ حال ہی میں ایران کویت کے ٹھکانوں پر حملہ کررہا ہے ۔ایسے میں سوال اٹھ رہا ہے کہ یو اے ای کو چھوڑ کر ایران کویت کو کیوں نشانہ پر لے رہا ہے ۔اس کے پیچھے کئی وجوہات نظر آتی ہیں ۔کویت خلیج فارس کے ایک محاذ پر واقع ہے ۔یہ ایران کے پڑوس میں ہے جو امریکہ کا ساتھی ملک ہے ۔یہاں پر امریکہ کے کئی بڑے فوجی اڈے ہیں ، ان میں کیمپ اور ریفجان کیمپ اور بوہرنگ ارسلم ایئر بیس اہم ہے ۔دی ہل کی رپورٹ کے مطابق کویت میں امریکہ کے 13000 جوان تعینات ہیں ۔یو اے ای کے مقابلے کویت سفارتی طور پر کافی کمزور ہے ۔مئی کے وسط میں ایران نے کویت کے ایک جزیرہ پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تھی ۔حالانکہ تہران کو ناکامی ملی تھی ۔یو اے ای ایران پر حملہ کرنے میں اہل ہے اگر امریکہ کے بدلے ایران یو اے ای پر حملہ کرتا ہے تو ابوظہبی پلٹ وار کرسکتا ہے اس سے خیلجی جنگ میں تیزی آسکتی ہے ۔بات چیت کے درمیان ایران نے نورسک موڈمیں ہے ۔جب سب سے بڑی وجہ ہے کہ حال ہی میں ایران پر جو حملے ہوئے وہ کویت کے امریکی ڈرون سے ہی ہوسکے ۔اس لئے جوابی کاروائی میں ایران نے کویت کو نشانہ پر لے لیا ہے۔
(انل نریندر)

02 جون 2026

اگر روبیو تاریخ جانتے تو فوٹو نہیں کھچواتے ؟

امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیوجب بھارت کے چار روزہ دورہ پر آئے تھے تو بھارت کے وزیراعظم و سرکردہ سفارتکاروں سے تو ملے ہی تھے۔ ساتھ ہی کئی ہندوستانی مشہور سیاحتی مقامات پر بھی گئے ۔انہیں میں سے ایک آگرہ کے تاج محل کا دورہ سوشل میڈیا میں موضوع بحث بنا ۔امریکی وزیرخارجہ نے تاج محل کے سامنے اپنی اہلیہ کے ساتھ یادگاری فوٹو سوشل میڈیا پر شیئر کی ۔یہ فوٹو جلد ہی سوشل میڈیا پر بحث کا مرکز بن گئی ۔اس معاملے نے اس وقت ایک الگ موڑ لے لیا جب حیدر آباد میں قائم ایرانی سفارتخانہ نے روبیو کے تاج محل دورہ پر کھلے طور پر طنز کیا ۔ایرانی قونصل خانہ نے اپنے بیان میں یاد دلایا کہ ان کے مطابق تاج محل مغل بادشاہ (شاہ جہاں) کی ایرانی نژاد بیگم ممتاز محل کی محبت کی نشانی ہے اوراس کی تعمیر میں فارسی فنکاروں کی صلاحیت شامل تھی ۔بیان میں امریکہ کی بھی تنقید کی گئی اور امریکی سرکار پر دہرے اسٹنڈرڈ اپنانے کا الزام لگایا گیا ۔سفارتخانہ نے لکھا : اگر مارکو روبیو کو تاریخ اور فن کی سمجھ ہوتی تو وہ یہاں تصویر کھچوانے کے لئے کھڑے نہیں ہوتے یہ یادگار ایک بادشاہ کی ایرانی اہلیہ کی محبت میں بنایا گیا تھا اور اسے ایرانی آرٹسٹوں کے ٹیلنٹ نے گھڑا تھا آج ان کی سرکار ایرانی تہذیب کو مٹانے کی دھمکی دے رہی ہے ۔اور دوسری تہذیبوں کی بے عزتی کرتی ہے ۔ایرانی طنز کے بعد یہ معاملہ سوشل میڈیا میں تیزی سے وائرل ہوگیا ۔کچھ ماہرین فن نے روبیو کو طنز کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تاریخ کے پش منظر کو سمجھے بنا ایسے مقامات پر تصویریں کھچوانا مناسب نہیں ہے۔ کچھ رائے زنی اس سے بھی آگے بڑھ گئی اور امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے سلسلے میں دیکھاجانے لگا ہے ۔ایک ماہر آثار قدیمہ نے کہا کہ یہ عمارت ایک ایرانی ملکا کے لئے فارسی فنکاروں نے بنائی تھی ۔اور یہ ایک ایسی تہذیب کی علامت ہے جسے ان کی سرکار اس وقت میں خطرے میں ڈال رہی ہے اور ان کا احترام نہیں کررہی ہے ۔بتادیں سنگ مرمر ( جو راجستھان کے مکرانے سے آیا تھا) سے بنا ۔تاج محل دنیا کے سات عجائبوں میں سے ایک ہے ۔جسے مغل بادشاہ شاہ جہاں نے اپنی اہلیہ ممتاز محل کی پیار کی یاد میں 1632 عیسوی میں بنوانا شروع کیا تھا جو 1653 عیسوی صدی میں بن کر تیار ہوا تھا ۔اس کے بنانے والے ہندواسلامی ،مغل سمیت کئی آرٹسٹوں کا فن شامل ہے ۔اس وسیع اور شاندار عمارت کو قریب 20 ہزار مزدوروں نے مغل فنکار استاذ احمد لاہوری کی رہنمائی میں بنایا تھا ۔اس مقبرے کو بنانے میں اس وقت قریب 20 لاکھ روپے خرچ آیا تھا ۔آج کے حساب سے یہ لاگت قریب 827 ملین ڈالر تقریباً 52 عشاریہ 8 ارب روپے ہے ۔اس عمارت کی تعمیر میں تقریباً 28 لاگ الگ طرح کے پتھروں کا استعمال کیا گیا جو ہمیشہ چمکتے رہتے ہیں ۔اس کی دیواروں پر بے حد خوبصورت نقاشی کی گئی ہے ۔تاج محل کو 1983 میں یونیسکو نے عالمی وراثت مقام ڈکلیئر کیا تھا ۔
(انل نریندر)

جنگ بندی کے نام پر دھوکہ؟

کیا امریکہ ایران پر زمینی حملے کی تیاری کررہا ہے اور سیز فائر کے نام پر ایران کو بے وقوف بنارہا ہے ؟ امریکی وارشپ یو ایس ایس تریپولی بیڑے کی...