Translater

03 اپریل 2022

بینکنگ فراڈ کی وجہ سے روزانہ 100 کروڑ کا نقصان ہوتا ہے۔

بینک فراڈ کی وجہ سے ملک کو پچھلے سات سالوں میں روزانہ 100 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ تاہم، اس نقصان کی رقم سال بہ سال کم ہو رہی ہے۔ ریزرو بینک کے مطابق ملک میں بینکنگ فراڈ کے 83 فیصد معاملے صرف پانچ ریاستوں میں ہیں۔ مہاراشٹر اس میں 50 فیصد کے ساتھ سرفہرست ہے، جب کہ دہلی دوسرے نمبر پر ہے۔ اس کے بعد سب سے زیادہ بینکنگ فراڈ تلنگانہ، گجرات اور تمل ناڈو جیسی ریاستوں میں ہوتے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق یکم اپریل 2015 سے 31 دسمبر 2021 تک تمام ریاستوں میں تقریباً 2.5 لاکھ کروڑ روپے کے بینکنگ فراڈ ہوئے۔ ان میں سے ان پانچ ریاستوں کا حصہ 2 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ یعنی 83 فیصد ہے۔ آر بی آئی نے بینکنگ فراڈ کو آٹھ زمروں میں تقسیم کیا ہے۔ تاہم وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات کی رپورٹنگ اور روک تھام کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔ اس کی وجہ سے بینکنگ فراڈ کے معاملات ہر سال کم ہو رہے ہیں۔دھوکہ دہی کے زیادہ تر واقعات قرض دینے میں ہوتے ہیں۔ ایسے معاملات میں یا تو قرضہ معیار سے زیادہ دیا جاتا ہے یا سیکیورٹی نہیں رکھی جاتی۔ امریکہ میں، کریڈٹ سے متعلق معاملات میں ہر روز ایک تشخیص ہوتا ہے، جو ہندوستانی بینکوں میں نہیں ہوتا ہے۔ اس کے لیے بینکوں کو ایک خصوصی ٹیم تشکیل دینی چاہیے۔ (انل نریندر)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...