Translater

27 اگست 2020

کانگریسی نیتاﺅں کو پارٹی سے زیادہ اپنے مستقبل کی فکر

کانگریس کی ورکنگ کمیٹی سے صاف ہو گیا ہے کہ پارٹی اوپر سے جتنی بھی کمزور نظر آرہی ہے وہ اس سے بھی زیادہ بری حالت میں پہنچ گئی ہے دراصل پارٹی کو جلد بڑی سرجری کی ضرورت ہے کانگریس کا نیا صدر کون ہوگا یہ وقت طے کرئے گا لیکن پارٹی کے اندر مستقل صدر کی مانگ کو لے کر تقریبا دو گروپ بن گئے ہیں پارٹی کے سینئر لیڈر اور نوجوان لیڈر آمنے سامنے آگئے ہیں ایک بڑا طبقہ سینئر لیڈروں کی اس تشویش کو کہ کانگریس لیڈر شپ پر دباﺅ اور اپنے مستقبل کی فکر کے طور پر دیکھ رہا ہے تاکہ تنظیم میں اس کا دبدبہ بنا رہے ۔پارٹی کے نگراں صدر سونیا گاندھی کو لکھے گئے خط پر دستخط کرنے والے زیادہ تر نیتاﺅں کے کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی کے ساتھ زیادہ اچھے تعلقات نہیں رہے ہیں کیونکہ راہل نے پارٹی صدر کے عہدے سے استعفیٰ دینے کے بعد نوجوان لیڈ ر شپ پر زیادہ بھروسہ جتایا ہے ۔راجستھان میں سیاسی بحران میں غلام نبی آزاد اور مکل واسنک کی جگہ اجے ماکن اوررندیپ سورجیوالا پر اعتماد جتایا پارٹی کے نتیاﺅں کے خط کو راہل گاندھی کے خلاف عدم اعتماد کے طورپر بھی دیکھا جا رہا ہے پارٹی نے پچھلے ایک ماہ میں کئی مرتبہ باقاعدہ طور پر دہرایا ہے کہ پوری پارٹی راہل گاندھی کو پارٹی صدر کے طور پر دیکھنا چاہتی ہے ۔یہ خط پارٹی میں اتحاد پر سوال کھڑے کرتا ہے دراصل خط پر دستخط کرنے والے نیتاﺅں کو پارٹی مفاد سے زیادہ اپنے مستقبل کی فکر ہے ۔اس لئے کانگریس کو چھ مہینے اور مل گئے یہ طے کرنے کے لئے کہ پارٹی کا نیا صدر کون ہو سکتا ہے؟اگر یہ امید کی جا رہی ہو کہ اس کے بعد کانگریس کو کوئی ایسا راستہ مل جائے گا جس کے ذریعہ وہ 2024میں مرکز میں اقتدار تک پہنچ پائے گی تو ایسی امید رکھنا بے معنی ہوگا ۔کانگریس بحران کے دور سے گزر رہی ہے اس کے لئے اس کے اندرونی اسباب جتنے ذمہ دار ہیں اس سے زیادہ باہری وجوہات بھی ذمہ دار مانی جا سکتی ہیں ۔سال 2014کے بعد بی جے پی سیاست میں جو تبدیلی آئی ہے اور نریندر مودی اتنے اونچے قد کے ساتھ اپنے آپ کو مضبوط بنا پائے ہیں اس کے بعد تمام اپوزیشن بونی لگنے لگی ہے بہت سے لوگوں کا خیال ہو سکتا ہے کہ یہ ایک نظریہ ہے لیکن سچائی یہ بھی ہے کہ مقابلہ کرشمائی لیڈر شپ سے ہو تو پھر ہار پر بہت تعجب نہیں ہوتا کانگریس کے اندر جو کچھ نیتاﺅں کی ناراضگی ہے اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ پارٹی مسلسل چناﺅ ہار رہی ہے لیکن اس کی وجہ تلاش نہیں کی جا سکی جو دیوار پر لکھی عبارت جیسی دکھائی دے رہی ہے سوال اُٹھتا رہا ہے ہے کہ کیا کانگریس کو گاندھی خاندان سے الگ رکھ کر نہیں دیکھنا چاہیے ،؟بے شک دیکھئے لیکن اس پریوار سے ہٹ کر جو لوگ ہیں بھی ان کی قومی سطح پر کوئی قبولیت نہیں ہے ۔کانگریس کی سپریم کمیٹی سی ڈبلیو سی میں زیادہ تر لوگ وہ ہیں جن کی کوئی بنیاد نہیں ہے اور راجیہ سبھا کی سیاست کرتے ہیں دوسرے ریاست کے لیڈر شپ میں قبو ل نہیں کرئے گی یہ صرف راہل گاندھی ہی ہیں جو صرف مودی کے خلاف لڑ رہے ہیں شاید اگر ان کی من کی ساری ٹیم بنے تو شاید پارٹی میں مضبوطی آجائے لیکن اس کے لئے سرجری کی ضرورت ہے ۔آل انڈیا کانگریس کمیٹی ،ورکنگ کمیٹی کو بھنگ کی جائے اور نئی ٹیم بنائی جائے ۔ (انل نریندر)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

ایران-امریکہ ،اسرائیل جنگ : آگے کیا ہوگا؟

فی الحال 23 اپریل تک جنگ بندی جاری ہے ۔پاکستان دونوں فریقین کے درمیان سمجھوتہ کرانے میں لگا ہوا ہے ۔پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر تہران م...