Translater

05 فروری 2013

وسندھرا کو کمان سونپ کر سنگھ کو پھر بھاجپا نے دی مات

بھارتیہ جنتا پارٹی کے ورکروں کو اس بات کی خوشی ہے کہ آخر کار پارٹی نے وہ فیصلہ لینے شروع کئے ہیں جو اس کے مفاد میں ہے آر ایس ایس کے اشاروں پر ناچنے سے انکار کردیا ہے اور کچھ حد تک اس کونظرانداز بھی کرناشروع کردیا ہے نتن گڈ کری اشو پر کرکری کرانے کے بعد اب سنگھ نے راجستھان میں شریمتی و سندھرا راجے سندھیا معاملے میں بھی مات کھائی ہے راجستھان میں اس سال میں ہونے والے چناؤ سے پہلے ریاستی بھاجپا کی کمان سابق وزیراعلی راجے سندھیا کو سونپ دی گئی ہے۔ وہ ریاست میں مختلف گروپوں میں تال میل بٹیھانے کی کوشش کریں گی وسندھرا راجے کٹر مخالف گلاب چند کٹاریہ کو اپوزیشن کالیڈر بنادیا گیا ہے حالانکہ پارٹی نے ابھی سندھیا کو پردیش پردھان بنانے کااعلان کیا ہے لیکن صاف ہے ان کا رول نہ صرف ٹکٹوں کے بٹوارے میں اہم ہوگا بلکہ وہ پارٹی کی وزیراعلی کے عہدے کے دعوی دار بھی ہوں گی۔ بھاجپا ذرائع کاکہناہے کہ آر ایس ایس کے دباؤ کے باوجود پارٹی نے وسندھرا کو کمان اس لئے سونپی کیونکہ پارٹی نیتاؤں کر لگتا ہے کہ راجستھان میں اگر بھاجپا کو دوبارہ اقتدار میں آنے ہے تو وسندھرا کی رہنمائی میں چناؤ لڑناہوگا۔ اس سے پہلے 2002میں بھی چناؤ سے ایک سال پہلے وسندھرا کو پردھان بنایا گیا تھااور پارٹی نے ان کی رہنمائی میں 2003 کے اسمبلی چناؤ میں کامیابی حاصل کی تھی۔ ذرائع کے مطابق سنگھ چاہتا تھا کہ راجے کو زیادہ چھوٹ نہ دی جائے۔ آر ایس ایس سے تعلق رکھنے والے گلاب چند کٹاریہ اور گھنشیام تیواری ان کی مخالفت کررہے تھے لیکن وسندھرا چاہتی تھی نہ صرف انہیں پردیش پردھان بنایا جائے بلکہ ان کو بطور وزیراعلی پیش کیاجائے جب کہ کٹاریہ گروپ چاہتا تھاکہ راجستھان کے پرانے بی جے پی لیڈروں کوترجیح دی جائے۔ وسندھراکے مخالف گروپ کو ٹکٹوں کے بٹوارے کا اختیار ملا تو ان کے لئے وزیراعلی بننے کا امکان مدھم ہوجاتا۔ ارون جیٹلی کے گھر پر ہوئی میٹنگ میں راجناتھ سنگھ اور دیگر لیڈروں نے یہ فیصلہ سنایا تو گھنشیام کی لابی نے اس کے بعد ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے میٹنگ کا بائیکاٹ کردیا۔ وسندھرا کو اب ایک متوازن ٹیم بنانی ہوگی۔اس میں سنگھ کے قریبی لیڈروں وورکروں کے کرادروں کو بھی نظر انداز نہ کیاجائے ٹکٹ بٹوارے میں وسندھرا اب اپنے زیادہ سے زیادہ حمایتیوں کوٹکٹ دے سکتی ہے۔ کٹاریہ کو لال بتی اور سہولیات تو ملے گی لیکن ان کے کاموں میں ضروری کمی آئے گی وسندھرا کے لئے سب بڑی چنوتی پارٹی میں گروپ بندی سے نپٹنا سبھی فریقین کوساتھ لے کر چلنا اور چناؤی حکمت عملی بنانی ہوگی۔ وسندھرا کے کمان سنبھالنے سے ریاست میں سیاسی تغذیہ بھی بدلیں گے۔ کانگریس تنظیم میں بھی ردوبدل ممکن ہے ۔ تیسرا مورچہ بننے کاامکان بھی بڑھا ہے۔ 
(انل نریندر)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...