Translater

14 جون 2012

پینیٹا کی وارننگ سے بوکھلایا پاکستان

پاکستان کو دی گئی اب تک کی سب سے سخت وارننگ میں امریکہ نے گذشتہ جمعرات کو کہا کہ پاکستان کی جانب سے آتنک وادیوں اور خاص کر خطرناک حقانی نیٹورک کو محفوظ پناہ گاہ مہیا کرائے جانے کی وجہ سے اس کا صبر جواب دے گیا ہے۔ یہ وارننگ امریکہ کے وزیر دفاع لیون پینیٹا نے دی ہے جو افغانستان میں اچانک دورہ پر پہنچے۔ انہوں نے کہا افغانستان میں جب تک امن کا قیام مشکل ہے جب تک پاکستان میں محفوظ پناہ گاہیں رہیں گی۔ حقانی نیٹورک کو نشانہ بناتے ہوئے پینیٹا نے کہا یہ بڑی تشویش کا موضوع ہے کہ سرحد کے اس پار حقانی نیٹورک سرگرم ہے۔ پاکستان کو سرحد کے اس پار ہماری سکیورٹی فورس پر حملہ کرنے والے آتنک وادیوں پر کارروائی کرنی ہے۔ پینیٹا نے اپنے ایشیا کے دورے کے آخری مرحلے میں افغانستان کا دورہ کیا۔ اس کے تحت پینیٹا نے ویتنام سے لیکر بھارت تک دورہ کیا لیکن انہوں نے پاکستان کا دورہ نہیں کیا۔ یہ دونوں ملکوں کے درمیان بڑھی کشیدگی اور تلخی کا واضح اشارہ ہے۔ پینیٹا نے یہ بھی کہا پاکستان میں آتنک وادیوں کے خلاف ڈرون حملے جاری رہیں گے۔ پینیٹا کے اس وارننگ کا پاکستان میں سخت رد عمل ہوا ہے۔ وارشنگٹن میں پاکستانی سفیر شیری رحمان نے کہا کہ پینیٹا کے تبصرے سے باہمی اختلافات کو دور کرنے کا امکان کم ہوگا۔ شیری کا کہنا ہے کہ امریکی انتظام کی جانب سے اس طرح کے پبلک بیان کو پاکستان نے بہت سنجیدگی سے لیا ہے۔ اس سے رشتوں کو بہتر بنانے کے عمل میں رکاوٹ پڑے گی۔ جس سے تعطل ختم کرنے میں لگے لوگوں کے پاس کوئی چارہ نہ بچے گا۔ پاکستان کی بوکھلاہٹ کا اسی سے پتہ چلتا ہے کہ اخبار ڈان نے اپنے اداریہ میں لکھا ہے امریکہ پاکستان رشتوں میں پیوند لگانے کی کوششیں جاری ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے امریکی وزیر دفاع لیون پینیٹا کے ان بھڑکیلے بیانات کو صحیح ٹھہرایا جائے جوانہوں نے حال ہی میں پاکستان کے معاملے میں دوسرے ممالک کی راجدھانیوں میں دئے ہیں۔ انہوں نے کابل میں کہا کہ امریکہ کا اب صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا ہے۔ وہیں نئی دہلیوہ معقول جگہ نہیں تھی جہاں امریکہ پاکستان کشیدگی پر کھل کر بحث ہو یا آپریشن اسامہ کی جانکاری پاکستان سے چھپانے پر کوئی مذاق کیا جائے۔ وہ بھی تب جب ہندوستان کو ایشیا میں نئی امریکی فوجی ڈپلومیسی کا اہم سانجھے دار بتایا جارہا ہے۔ پینیٹا نے جس طرح کے الفاظ استعمال کئے اور اس کے لئے جن ٹھکانوں کو چنا ان سے ہماری فوج میں امریکیوں کے تئیں تلخی بڑھے گی۔ غلط جگہ پر پینیٹا کے غلط بیانوں نے کٹر پسند جماعتوں کو ہندوستانی امریکی مخالفت کے لئے بھڑکانے کا کام کیا ہے۔ امریکہ اب پاکستان کے اندر چھپے آتنک وادیوں اور ان کے ٹھکانوں پر ڈرون حملے کرنے لگا ہے۔ ماہ جون میں امریکہ نے تین ڈرون حملے کئے ہیں ان میں ایک القاعدہ کا دوسرے نمبر کا سرغنہ الیبی مارا گیا ہے۔ پینیٹا کی واضح وارننگ کے بعد پاکستان کے اندر ڈرون حملے اور تیز ہوں گے اور امریکہ کی بوکھلاہٹ بڑھے گی۔صدر براک اوبامہ اس وقت دوہرے دباؤ میں ہیں۔ ایک طرف تو انہیں افغانستان سے 2014ء تک امریکی فوجیوں کو نکالنا ہے اور دوسری طرف اوبامہ کو دوبارہ صدارتی چناؤ جیتا ہے۔ ان وجوہات سے آنے والے مہینوں میں امریکی کارروائی تیز ہوگی۔ پاکستان کے لئے یہ چنوتی سے بھرا دور ہوگا۔ وہ اس بڑھتی کشیدگی کو کیسے ہینڈل کرتا ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ (انل نریندر)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...