Translater

23 ستمبر 2016

فوج کو جانچ کرنی ہوگی کہ آخر کیمپ کا سکیورٹی گھیرا کیوں ٹوٹا

اڑی آرمی کیمپ پر ہوئے حملہ کا تذکرہ پوری دنیا میں ہورہا ہے وہیں ہمیں یہ بھی سوچنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے کہ خطرناک ہتھیاروں سے مسلح 4 دہشت گردوں نے اڑی میں برگیڈ ہیڈ کوارٹر کے سکیورٹی گھیرے میں آخر اتنی آسانی سے کیسے سیند لگادی؟ فوج کی جانچ ٹیم کے سامنے جو سوال ہیں اس میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ تین طرف سے کنٹرول لائن سے گھرے ہونے کے سبب بھاری سکیورٹی والے فوج کے کیمپ میں یہ آتنکی کیسے گھس آئے؟ یہ کیمپ کنٹروورشیل سرحد سے بمشکل پانچ کلو میٹر دوری پر ہے۔ اس کیمپ میں 6 بہار،10 ڈوگرا کی کمپنی کے جوان ٹھہرے ہوئے تھے۔ اس کیمپ کی سکیورٹی مشینری کی جانچ کرنے سے پہلے ہوئے اس اچانک حملے کے لئے یہ مشینری تیاری نہیں تھی۔ یہ بھی تشویش کی بات ہے کہ اس حملہ کے بارے میں پہلے ہی خفیہ جانکاری و الرٹ ملا تھا اور اس کے باوجود یہ حملہ ہوا، جو چونکانے والا ہے۔ نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) جیش محمد کے ان چار آتنک وادیوں کے سمپل اور ان کے پاس سے ملے سامان کا ڈی این اے ٹیسٹ وغیرہ کررہی ہے جنہیں حملہ کی جگہ کے پاس پیر کو دفنایا گیا۔ یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ فوج کو انہیں اتنی جلدی دفنانے کی کیا ضرورت تھی؟ کیونکہ نہیں ساری دنیا کو ان کی لاشیں دکھائی گئیں؟ بہت سے لوگ اور پاکستان میں توپورے واقعہ پر ہی سوال اٹھ رہا ہے۔ پاک ٹی وی تو یہ بھی کہہ رہا ہے کہ بھارت سرکار کے ذریعے رچا گیا ایک ڈرامہ ہے اور پاکستان کو بلا وجہ بدنام کیا جارہا ہے۔ اگر فوج اتنی جلدی لاشوں کو نہ دفناتی اور ساری دنیا کو ان لاشوں کی تصویر دکھاتی تو پاک کی یہ بکواس سننی نہ پڑتی۔ حملہ پاکستان نے کروایا ہے اس پر کسی کو شبہ نہیں ہوتا۔ ہتھیار ، کھانے کے پیکٹ اور دیگر سامان جو کہ پاکستان سے ملوث ہونے کے ثبوت دئے جارہے ہیں وہ کافی نہیں ہیں۔ ان پاکستانی شہریوں کی پہچان میں ڈی این اے سمپل اہم ثابت ہوں گے اور پاٹھانکوٹ میں ایئر بیس پر آتنکی حملے کے معاملے کی طرح جانچ رپورٹ سے پاکستان پر دباؤ ڈالا جاسکے گا۔ حکام نے کہا مارے گئے چاروں دہشت گردوں کے فوٹو جیش کے ان ان لوگوں کو دکھائے جائیں گے جو بھارت کی جیلوں میں بند ہیں۔ اس طرح دہشت گردوں کی پہچان میں آسانی ہوگی۔ این آئی اے اپنی جانچ میں دو اہم پہلوؤں پر کام کرے گی۔ ایک کے تحت یہ پتہ لگائے گی کے کس طرح فوج کے اہم و حساس ترین آرمی بیس کی سکیورٹی کی ٹوہ لی گئی اور کیا کوئی گھر کا بھیدی دشمن کو اہم جانکاری دے رہا تھا؟ جانچ کے دوسرے پہلو میں حملے کی سازش رچنے والے اور ان کے ہینڈلروں کا پتہ لگائے گا۔ ممکن ہے کہ دہشت گردوں کو لوکل سپورٹ ملی ہو جس کے دم پر یہ دیش میں داخل ہوئے۔ خیرا ین آئی اے اپنا کام کرے گی لیکن فوج کو اپنی جانچ بھی کرانی ہوگی کہ سکیورٹی گھیرا کیسے ٹوٹا؟
(انل نریندر)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

ایران-امریکہ ،اسرائیل جنگ : آگے کیا ہوگا؟

فی الحال 23 اپریل تک جنگ بندی جاری ہے ۔پاکستان دونوں فریقین کے درمیان سمجھوتہ کرانے میں لگا ہوا ہے ۔پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر تہران م...