آر پار کی لڑائی!

مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی اور مرکزی سرکار کے بیچ اکثر ٹکراؤ دیکھنے کو ملتا ہے لیکن اس بار مغربی بنگال اسمبلی کا چناؤ ہے اور یہ لڑائی اب آر پار کی بنتی نظر آرہی ہے ۔وائس چانسلروں کی تقرری سے لے کر گورنر کے کردار اور ایس آئی آر تک دونوں کے بھید کئی بار آمنے سامنے آچکے ہیں لیکن اب جو لڑائی ہے وہ آر پار کی لگتی دکھائی دے رہی ہے ۔اس بار فلیش پوائنٹ پر پہنچتی نظر آرہی ہے ۔ممتا بنرجی لمبے عرصہ سے مرکزی ایجنسیوں - ای ڈی ، سی بی آئی اور دیگر کو سیاسی ہتھیار کی شکل میں استعمال کرنے کا الزام لگاتی رہی ہیں ۔ٹی ایم سی کا دعویٰ ہے کہ یہ ایجنسیاں بھاجپا سرکار کے اشاروں پر کام کررہی ہیں ۔خاص کر چناؤ سے پہلے ۔مثال کے لئے حال ہی میں ای ڈی کی چھاپہ ماری کےد وران ممتا بنرجی کی سرگرمی کو لیا جاسکتا ہے لیکن پالیٹیکل کنسلٹنگ فرم آئی -پیک اور اس کے چیف پرتیک جین کے ٹھکانوں پر ای ڈی کے چھاپوں کی وجہ سے جو ٹکراؤ چل رہا ہے اس نے مرکز اور ریاستی ایجنسیوں کو بھی آمنے سامنے لادیا ہے ۔ای ڈی کا الزام ہے کہ ممتا نے اس کی کاروائی میں رکاوٹ ڈالی اور بنگال پولیس ان کی سرکار کی ہدایت پر منی لانڈرنگ جانچ کو ناکام کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔وہیں ممتا کا الزام ہے کہ مرکزی سرکار اور اس کی ایجنسیاں سیاسی دباؤ بنانے کی کوشش کرنے میں لگی ہوئی ہیں ۔ممتا کا دعویٰ ہے کہ ای ڈی نے چھاپہ مار کر ثبوت نہیں بلکہ ان کی پارٹی کی چناوی سیاست سے متعلق دستاویز اٹھانے کی کوشش کی ۔ممتا کا چھاپہ کے دوران پہنچ کر کچھ فائلوں کو زبردستی ای ڈی افسران کے ہاتھ سے چھیننے کا بھی الزام لگا ہے ۔ای ڈی نے اس معاملہ میں وزیراعلیٰ ، پولیس چیف و دیگر کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی ہے اور اب یہ معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ گیاہے جہاں ابتدائی سنوائی بھی ہو گئی ہے ۔اس میں پہلے ای ڈی کولکاتہ ہائی کورٹ بھی گئی تھی جہاں 14 جنوری کو سماعت ہونی ہے وہیں ممتا کا کہنا ہے کہ وہ سی ایم کی حیثیت سے نہیں ،بلکہ ترنمول کانگریس کے چیف کے طور پر موقع پر پہنچی تھیں ۔حالانکہ یہ بھید کرنا مشکل ہے کہ وہ کب پارٹی چیف ہیں اور کب سرکار کی چیف ۔ممتا نے ای ڈی کی چھاپہ ماری کو سیاسی رنجش بتاتے ہوئے نہ صرف سڑک پر اتر کر احتجاج کیا ،بلکہ مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ پر بھی سنگین الزام لگائے ممتا کے بھتیجے اور ٹی ایم سی کے قومی جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی نے بھی کہا کہ ایجنسیاں ہتھیار بند ہیں اور ان کے سہارے بھاجپا چناؤ میں ہیر پھیر کی کوشش کررہی ہیں ۔مغربی بنگال میں اسمبلی چناؤ کا وقت جیسے جیسے قریب آرہا ہے ،سیاسی اتھل پتھل کی صورتحال سنگین ہوتی جارہی ہے ۔اب تو یہ سوال بھی اٹھنے لگا ہے کہ کیا ریاست صدر راج کی سمت میں بڑھ رہی ہے ؟ یہ سوال اس لئے بھی باجواز ہے کہ حالیہ برسوں میں ممتا اور مرکزی ایجنسیاں ،گورنر اور فیڈرل ڈھانچہ سے جڑے اشوز پر بار بار چنوتیاں کھڑی کی ہیں ۔مرکز اور اپوزیشن پارٹیوں والے راجیوں کے بیچ ان بن کی پرانی تاریخ ہے لیکن بنگال میں مگر یہ زیادہ مشتعل نظر آتا ہے تو وجہ ہے کہ دونوں طرف سے طاقت بڑھانے اور کنٹرول کی کوشش ہے ۔یہ کسی سے چھپا نہیں ہے بی جے پی مغربی بنگال میں اپنی حکومت چاہتی ہے اور اس کے لئے سام ،دا م، ڈنڈ ،بھید سبھی ہتھکنڈے اپنا رہی ہے ۔مشکل یہ بھی ہے کہ مغربی بنگال میں ڈبل انجن کی سرکار نہیں ہے وہیں وہاں کی افسر شاہی پر ممتا کا کنٹرول ہے اس لئے صرف اپنی ایجنسیوں کا استعمال کررہی ہے ۔آئینی اداروں کے بیچ اس طرح کی لڑائی کسی کے مفاد میں نہیں ہے لیکن لگتا یہ ہے کہ ممتا آر پار کی لڑائی کے موڈ میں ہے ۔ (انل نریندر)

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

’وائف سواپنگ‘ یعنی بیویوں کی ادلہ بدلی کامقدمہ

سیکس ،ویڈیو اور وصولی!

’’مجھے تو اپنوں نے لوٹا غیروں میں کہاں دم تھا۔۔ میری کشتی وہاں ڈوبی جہاں پانی بہت کم تھا‘‘