Translater

04 اگست 2020

پھر آمنے سامنے ایل جی اور سی ایم

راجدھانی دہلی میں کورونا انفیکشن کی بڑھتی رفتار کے درمیان ایک بار پھر دہلی کے ایل جی اور وزیر اعلیٰ اروند کجریوال سرکار کے درمیان تکرار بڑھے گی اور دونوں طرف سے تلواریں کھنچ گئی ہیں ۔کیونکہ ایل جی نے کجریوال سرکار کے ایک اہم فیصلے کو 24گھنٹے کے اندر مسترد کر دیا ۔جس کے تحت انلاک 3میں ہوٹل اور ہفتہ واری بازار کےلئے تجرباتی طور پر پھر سے کھولنے کا فیصلہ کیا تھا جس پر انہوںنے روک لگا دی ۔اس قدم کے پیچھے دہلی میں بڑھتے کورونا وائرس کے مریضوں کو بتائی جا رہی ہے ۔ایل جی کا کہنا ہے کہ صورتحال نازک ہے اورخطرہ دور نہیں ہوا ہے ۔اسی کے پیش نظر یہ فیصلہ لیا گیا ہے ۔انلاک 3کے لئے گائڈ لائن جاری کرتے ہوئے کجریوال سرکار نے دہلی میں ہوٹلوں کو کھولنے کا فیصلہ لیا تھا ۔1اگست سے سات دن کے لئے تجرباتی بنیاد پر ہفتہ واری مارکیٹ کو کھولنے کی اجازت دی گئی تھی اور اگر لوگوں نے سماجی دوری بنائے رکھی اور کورونا کی کوئی خبر نہیں آئی تو اس کو لگاتار بنائے رکھنا تھا ۔لیکن 24گھنٹے کے اندر ہی کجریوال کے اس اہم فیصلے کو ایل جی نے خارج کر دیا ۔جس سے دونوں میں ٹکراﺅ بڑھ گیا تھا ۔ایل جی نے دہلی پولیس کے تجویز کردہ وکیلوں کے پینل کو منظوری دی تھی لیکن کجریوال کیبنٹ نے اسے مسترد کر دیا ۔ایل جی پینل نے اپنے مخصوص اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے اس پینل کو منظوری دینے کا فیصلہ کیا تھا ان دونوں مسئلوں کو لے کر دونوں میں ٹکراﺅ بڑھے گا دیکھتے ہیں کہ کون صحیح ہے ؟ایل جی یا کجریوال سرکار۔ (انل نریندر)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...