Translater
25 ستمبر 2022
چیتے تو آ گئے لیکن چنوتیاں کم نہیں!
جنگلی جانوروں کے ماہرین کا خیال ہے کہ مدھیہ پر دیش کے کونو نیشنل بائیولوجیکل پارک میں دیش سے ناپید ہوئے چیتوں کو بسانے کی کئی دہائیوں سے کوششوں کی محنت رنگ لائی جب افریقی ملک نامیبیاسے آٹھ چیتوں کی پہلی کھیپ یہاں پہنچی اس کے پیچھے کئی برسوں کی ریسرچ اور محنت تھی ۔ بھارت اور ساو¿تھ افریقہ کے ماہرین شامل رہے 17ستمبر کو ایک شاندار تقریب میں وزیر اعظم نریندر مودی نے ان چیتوں کو باقاعدہ طور سے پارک میں واقع باڑو میں چھوڑ دیا ۔ لیکن جنگلاتی ماہرین مانتے ہیں کہ صرف اتنا ہی کافی نہیں ہوگا حالاں کہ سبھی چیتوں کی گردنوں میں کالر بیلٹ بندھے ہوئے ہیں اور جنگل میں بھی سی سی ٹی کیمرے اور ڈرون سے بھی ان کی نگرانی جاری ہے ۔فی الحال یہ چیتے کوارنٹائن ہیں اور ایک مہینہ پورا ہونے کے بعد انہیں جنگل میں چھوڑا جائے گا ۔ لیکن اس کے بعد مدھیہ پر دیش کے جنگلاتی عملے اور کونو نیشنل پارک کے حکام کے سامنے کئی چنوتیاں کھڑی ہو جائیں گی ۔ ریاستی حکومت کے چیف جنگل محافظ اور چیف ورلڈ لائف وارڈن جسبیر کہتے ہیں کہ چنوتی اس وقت شروع ہوگی جب ان کا سامنا دوسرے پرندوں چرندوں اور جانوروںسے ہوگا ۔وہ کہتے ہیںکہ ویسے ان کے آنے سے پہلے ہی بہت سارے انتظام ان کے سی سی ٹی وی کیمرے جنگل کے بڑے حصے میںلگا ئے گئے ہیں اور کنٹرولر روم بھی بنا یا گیا ہے یہاں ان پر دن رات نظر رکھی جاتی ہے جب یہ جنگل میں چھوڑ دئے جائیںگے اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کے توجہ ہٹ جائے گی۔ ہر چیتے کی گردن میں کالر لگا ہوا ہے جس سے اس کے ہر پہلو کی نگرانی ہوگی ۔وہیں کچھ جنگلاتی ماہرین کو لگتا ہے کہ کہیں چیتے چھلانگ لگاکر پارک کے آس پاس بسے دیہات میں نہ گھس جائیں ؟ یہ چنوتی اس لئے بڑی ہے کیوںکہ یہ افریقی چیتے ہیں یہ دوسرے ایشائی چیتوں سے تھوڑ ے الگ ہیں ۔ کونو میں تیندو¿ں کی تعدا د بھی کافی زیادہ اور یہاں لکڑ بگھے بھی کافی تعدا دمیں ہیں جو ان چیتوں سے زیادہ طاقتور ہیں اور ان پر حملہ بھی کر دیتے ہیں اس لئے انہیں جنگلی کتوں کے حملوں سے بھی بچانا ہوگا۔ ٹھیک اسی طرح ان کیلئے قدرتی رہائش تیار کی گئی ہے تاکہ انہیں پریشانی نہ ہو ایک دوسرے جنگلاتی ماہر تھاپر کا کہنا ہے کہ ان چیتوں کو جنگل کے آس پاس بہت سارے دشمن ملیں گے ان کے لئے شکار بہت کم ملے گا۔ دوسرا اہم پہلویہ ہے کہ گراس لینڈ کی کمی وہ افریقہ کی مثال دیتے ہیں کہ وہ چیتوں کی تندرستی اس لئے ہے کہ ان کے دوڑنے کیلئے کافی لمبی چوڑی جگہ ہے یہاں ویسا نہیں ہے ۔جنگلی جانوروں کے ڈاکٹر کارتی کین کا اندیشہ ہے کہ افریقہ سے آئے نئے ماحول میں چیتو ںکے درمیان انفیکشن ہو سکتا ہے ۔دیگر طرح کے وائرس کا بھی اندیشہ زیادہ ہوگا ۔ چیتے چوٹ یاوائر س انفیکشن برداشت نہیں کر سکتے ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں