Translater

29 جون 2016

کشمیر میں سیکیورٹی فورس پر بڑھتے حملے

سرینگر نے باہری علاقے پامپور میں سنیچر کی شام سینٹرل ریزرو پولیس فورس کی بس پر حملے کو ہمیں سنجیدگی سے لینا چاہئے کیونکہ یہ سیکیورٹی فورس پر پچھلے تین برسوں میں سب سے بڑا حملہ تھا۔ سی آر پی ایف کے قافلے پر کئے گئے حملہ میں آٹھ جوانوں کے شہید ہونے سے پورے دیش میں ناراضگی اور افسوس کا ماحول ہے۔ کسی عام آتنکی حملے میں اتنی بڑی تعداد میں سیکیورٹی فورس کے جوان نہیں مرتے۔ دکھ کا پہلو یہ بھی اگر سی آر پی ایف نے خفیہ الرٹ کو سنجیدگی سے لیا ہوتا تو اس حملے میں ہمیں آٹھ جوان نہ گنوانے پڑتے۔ سبھی سیکیورٹی ایجنسیوں کو وقت رہتے مطلع کیا گیا تھا۔ کہ سرینگر سے اننت ناگ کے درمیان خاص کر پامپور اور اونتی پورا تک آتنکی کسی بڑی واردات کو انجام دے سکتے ہیں۔ سنیچر کی صبح یہ الرٹ جاری ہوا تھا۔ اس میں صاف کہا گیا تھاکہ سی آر پی ایف کی گاڑیوں کو آتنکی نشانہ بناسکتے ہیں۔ حملے کی جانچ کررہے ایک افسر کے مطابق آتنکیوں کا نشانہ بنے سی آر پی ایف کی گاڑیوں کے ساتھ مبینہ طور پر کوئی اسکاٹ گاڑی بھی نہیں تھی۔ بے شک جوابی کارروائی میں سیکیورٹی فورس کے جوانوں نے دو آتنکیوں کو ڈھیر کیا ہے اگر حقیقتا دو آتنکی آلٹو کار میں بھاگنے میں کامیاب رہے تو یہ تشویش کی بات ضرور ہے کہا تو یہ بھی جارہا ہے کہ کار میں سوار آتنکی سڑک پر انتظار کررہے تھے۔ لیکن کسی کی نظر ان پر نہیں پڑی۔ لشکر طیبہ کے ترجمان کے ذریعے مقامی خبر رساں ایجنسی کو دیئے گئے بیان میں اس حملے کی ذمہ داری لینا ثابت کرتا ہے کہ ایک بار پھر حملہ کی سازش رچی گئی تھی۔جس ڈھنگ سے مسجد کے پاس ایک موڑ کے قریب یہ حملہ ہوا اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ منظم تھا اس جگہ گاڑیاں دھیمی ہوجاتی ہے۔ آتنکیوں کو یہ جانکاری تھی کہ سی آر پی ایف کے جوان مشق کرنے کے بعد یہی سے لوٹنے والے ہیں آتنکیوں نے بس کے آگے ایک کار کھڑی کردی اور اندھا دھند فائرنگ کرنے لگے۔ بتایا جارہا ہے کہ حملہ آوروں کی زد میں جوانوں کی پانچ بسیں آگئی تھیں۔ ظاہر ہے جوانوں نے دہشت گردوں کا ڈٹ کر سامنا کیا اور دو آتنکیوں کو مار گرانے میں کامیابی حاصل کی۔ اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ پچھلے سال کے مقابلے اس برس اب تک سرحد پار سے دراندازی کے واقعات بڑھے ہیں۔ تمام حقائق آتنکیوں کے خلاف فوری جوابی کارروائی کے علاوہ سیکیورٹی اور خفیہ محاذ پر اور زیادہ چوکسی بھی مانگ کرتے ہیں یہ چوکسی اس لئے بھی ضروری ہے، کیونکہ جلدی ہی امریاترا شروع ہونے والی ہے۔ سرحد پار سے ان دہشت گردو ں کو سخت پیغام دیناضروری ہے۔
(انل نریندر)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...