Translater
10 اکتوبر 2024
صرف کسی سرکار کی تنقید پر کیس نہیں ہوسکتا !
سپریم کورٹ کا یہ ریمارکس صحافت کررہے لوگون کے لئے سکون دہ ہوسکتے ہیں کہ سرکار کی تنقید کرنا صحافیوں کا حق ہے ۔سپریم کورٹ نے جمعہ کو کہا کہ صحافیوں کے حقوق کو دیش کے آئیں 19(1) کے تحت تشریح کی گئی ہے ۔ایک صحافی کی تحریر کو سرکار کی تنقید کی شکل میں مان کر اس کے خلاف مجرمانہ کیس درج نہیں کئے جانے چاہیے ۔یہ ریمارکس دیتے ہوئے عدالت عظمیٰ نے اتر پردیش کے صحافی ابھیشیک اپادھیائے کو گرفتاری سے انترم راحت دی ہے ۔ساتھ ہی ہدایت دی ہے کہ ریاستی انتظامیہ ان کے تحریروں کے سلسلے میں کوئی سزا لائق کاروائی نہیں کرے گا ۔جسٹس رائے اور جسٹس این بی این بھٹی کی بنچ نے صحافی ابھیشیک اپادھیائے کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے یہ حکم صادر کیا ۔عرضی میں اپادھیائے نے اترپردیش پولیس کے ذریعے ان کے خلاف ایف آئی آر کو مسنوخ کرنے کی درخواست کی ہے ۔بنچ نے عرضی پر اترپردیش سرکار کو نوٹس جار ی کیا ۔اس معاملے کی اگلی سماعت 5 نومبر کو ہونی ہے ۔اپنے مختصر حکم نے بنچ نے صحافت کی آزادی کی سمت میں کچھ دلائل آمیز تبصرے کئے بنچ نے کہا جمہوری ملکوں میں اپنے نظریات رکھنے کی آزادی کا احترام کیا جاتا ہے ۔صحافیوں کے حقوق کو بھارت کے آئیں کی آرٹیکل 19(1 ) کے تحت تشریح کی جاتی ہے ۔صرف اس لئے کہ ایک صحافی کی تحریر سے سرکار کی نکتہ چینی کی شکل میں محض ایک بے دلیل ہے ۔مصنف کے خلاف مجرمانہ معاملہ نہیں لگایا جانا چاہیے ۔دراصل سرکاروں کو اپنی تنقید پسند نہیں ہے ۔اگر پچھلے کچھ برسوں میں سرکاریں اسے لے کر کئی طرح سے سخت نظر آنے لگی ہیں ۔سرکار کے خلاف اخباروں میں خبریں ،آرٹیکل یا کوئی آئیڈیا لوجی تبصرہ کرنے پر کوئی صحافیوں کو ٹارچر کرنے کے واقعات سامنے آئے ہیں ۔یہاں تک کہ کچھ صحافیوں پر غیر قانونی سرگرمی اژالہ ایکٹ کے تحت بھی مقدمہ درج کئے گئے ۔جس میں ضمانت ملنا مشکل ہوتی ہے ۔اس دفعہ کے تحت کئی صحافی اب بھی سلاخوں کے پیچھے ہیں ۔کچھ معاملوں میں پہلے ہی سپریم کورٹ کہہ چکی ہے کہ سرکار کی تنقید ملک کی بغاوت نہیں مانا جاسکتا ۔مگر کسی سرکار نے اسے سنجیدگی سے نہیں لیا ۔کسی دیش کی صحافت کتنی آزاد ہے اور کتنے ہمت کے ساتھ اپنے اقتدار اعلیٰ کی تنقید کر پارہی ہے اس سے اس دیش کی خوشحالی کا بھی پتہ چلتا ہے ۔یہ بے وجہ نہیں ہے کہ پچھلے کچھ برسوں میں عالمی خوشحالی انڈیکس میںبھارت مسلسل نیچے کھسکتا گیا ہے ۔سوال یہ بھی ہے کہ سرکار عزت مآب سپریم کورٹ کی نصیحت کو کتنی سنجیدگی سے لیتی ہے اور آزاد صحافت کرنے کی اجازت دیتی ہے ؟
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں