Translater
04 اپریل 2021
لاک ڈاو ¿ن کی طرف بڑھتا دیش !
دیش کی کئی ریاستوں میں کورونا وائرس کے معاملے تیزی سے بڑھ رہے ہیں اس بڑھتے خطرہ کو دیکھتے ہوئے مرکزی حکومت نے آگاہ کیا ہے کہ پورادیش خطرہ میں ہے اسی کو دیکھتے ہوئے مہاراشٹر ،اتراکھنڈ سمیت کئی ریاستوں میں سختی بڑھ رہی ہے ۔اس میں نائٹ کرفیو سے لے کر کئی ضلعوں میں لاک ڈاو¿ن تک لگا دیا گیا ہے ۔اگر لاک ڈاو¿ن پھر سے لگانے کی نوبت آئی تو اس کے لئے جنتا ذمہ دار ہو گی مرکزی وزارت صحت کے ایک سروے میں دعویٰ کیاگیا ہے دیش کا ہر دوسرا شخص ماسک کے بغیر گھومتا پایا گیا ہے جبکہ کورونا سے متاثر ایک لاپروا شخص 400 سے زیادہ لوگوں کو انفیکشن پھیلا سکتا ہے بہرحال ریاستوں کے 46 اضلاع کے حکام کی میٹنگ میں ہیلتھ سکریٹری نے آگاہ کیا ہے کہ 90 فیصدلوگ ماسک پہننے کی اہمیت کو جانتے لیکن 44 فیصدی ہی ماسک کا استعمال کرتے ہیں اور بھیڑ میں بلا خوف گھومتے ہیں اس ماہ ان ریاستوں میں کل کورونا کے مریضوں کا 71 فیصد اور موتوں کو 69 فیصد حصہ رہا ہے ۔یہ مرض ایک بار پھر تیزی سے اپنے پاو¿ں پھیلا رہا ہے موت کی شرح بڑھ رہی ہے بھارت ایک سافت جمہوریت ہے جہاں عام طور پر چین جیسی سختی نہیں برتی جاتی لیکن سماج بنا سوچے سمجھے لاپرواہی ،سخصی چناو¿ ابھی تک ہے جب وہ جانے انجانے میں دوسروں کے لئے خطرہ نہ بنیں لہذا سرکار کو فوری طور پر آرڈیننس لا کر سماجی دوری کے قواعد کو سخطی سے نافذکرانا ہوگا ۔بنا ماسک کے پائے گئے شخص پر بڑا جرمانہ ہونا چاہیے ۔ممکن ہو تو ویکسی نیشن بھی آدھار کارڈ کیطرح ضرور کرنا ہوگا کیوں کہ دیش میں 60 ہزار مریض کی طوفانی رفتار سے بڑھتی وبا کے ایک دوسرے دور کو بھارت شاید ہی جھیل پائے ۔لاک ڈاو¿ن سے بچنا ہوگا۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
مہنگی چینی : کیا وجہ اتھنول تو نہیں ؟
بھارت میں چینی کے دام پچھلے ماہ سے تیزی سے بڑھ رہے ہیں ۔ خبر رساں ایجنسی رائٹرس کی ایک رپورٹ کے مطابق صرف اسی ماہ بھارت میں چینی کی قیمتوں م...
-
سرخیوں میں چھائے سہراب الدین شیخ عشرت جہاں معاملہ میں پھنسے گجرات کے آئی پی ایس افسر ڈی جی ونجارا 8 سال کے بعد جمعہ کو اپنی آبائی ریاست گج...
-
کئی دنوں کی قیاس آرائیوں کے بعد آخر کار بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے پانچ نئے پارٹی ریاستی صدور کے ناموں کا اعلان کردیا ہے۔ نو تقرر ریاستی ص...
-
ریت مافیہ کے خلاف مہم چلانے والے ایماندار آئی اے ایس افسر ڈی ۔کے۔ روی کی موت کی گونج کرناٹک اسمبلی سے سڑک تک سنائی دے رہی ہے۔ اپوزیشن پا...
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں