Translater

Amar Singh لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Amar Singh لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

20 نومبر 2011

نیتاؤں کے دباؤ کے سبب جانچ ایجنسیوں کی ساکھ پر بٹّہ



Published On 20th November 2011
انل نریندر
ہماری جانچ ایجنسیوں کی جانب سے مختلف معاملوں میں کی گئی جانچ عدالتوں میں ٹک نہیں پارہی ہے۔ اس سے سوال اٹھتا ہے کہ کیا سیاستداں جانچ ایجنسیوں کے معاملوں کی جانچ کو متاثر کرتے ہیں؟ سیاستداں دباؤ کے چلتے چاہے وہ دہلی پولیس ہو یا قومی سراغ رساں ایجنسی (این آئی اے) یا پھر سی بی آئی ہی کیوں نہ ہو۔ پچھلے 15 روز میں کم سے کم چار ایسے معاملے سامنے آئے ہیں جن میں عدالتوں نے ان ایجنسیوں کو پھٹکار لگائی ہے۔ اور ان کے جانچ کرنے کے طریقے اور نتیجوں دونوں پر سوال اٹھائے گئے ہیں۔ پہلا معاملہ مالیگاؤں بم دھماکے کا ہے۔ ایک عدالت نے سال2006ء میں مالیگاؤں بم دھماکے کے معاملے میں9 ملزمان میں سے 7 کورہا کردیا ہے۔ این آئی اے نے کہا کہ سلمان فارسی، شبیر محمد، زاہد اور فاروق گوئی انصاری کو ممبئی کی آرتھر جیل سے رہا کردیا گیا۔ خانہ پوری ہونے کے بعد ایک دیگر ملزم ابرار احمد کو بھی واچکولہ جیل سے چھوڑاگیا۔ معاملے کے دو دیگر ملزمان آصف خان اور محمد علی کو بھی ضمانت مل گئی لیکن انہیں چھوڑا نہیں گیا کیونکہ وہ 2006ء کے ممبئی ٹرین سلسلہ وار دھماکوں میں بھی ملزم ہیں۔ معاملے کی جانچ کررہی قومی سراغ رساں ایجنسی (این آئی اے ) نے رہائی کی مخالفت بھی نہیں کی۔ این آئی اے نے دلیل دی کہ مکہ مسجد بم دھماکے معاملے میں گرفتار سوامی اسیمانند کے انکشاف کے بعد اس نے تازہ ثبوتوں کے علاوہ سابقہ کی جانچ ایجنسی اے ٹی ایس اور سی بی آئی کے ذریعے اکٹھے کئے گئے ثبوتوں کا جائزہ لیا تھا۔ این آئی اے نے کہا کہ ''حقائق اور حالات کی بنیاد پر کافی غور و خوض کے بعد سبھی9 ملزمان کی ضمانت عرضیوں کی مخالفت نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ جنہیں ماضی گذشتہ میں گرفتار کیا گیا تھا اور ملزم بنایا گیا تھا۔''
دوسرا معاملہ سہراب الدین شیخ مد بھیڑ سے متعلق ہے۔ سپریم کورٹ نے سہراب الدین شیخ فرضی مد بھیڑ معاملے میں گجرات کے سابق وزیر داخلہ امت شاہ کے مبینہ کردار پر سی بی آئی کو سخت پھٹکار لگائی ہے۔ سی بی آئی نے کئی گمنام دستاویزات کو شاہ کی پھروتی ریکٹ میں مبینہ کردار سے جڑی شکایتوں کے طور پر پیش کیا۔ ایجنسی کے اس قدم کو عدالت نے کسی کو خوش کرنے کا قدم بتایا۔ جسٹس آفتاب عالم اور جسٹس رنجنا پرکاش دیسائی کی ڈویژن بنچ نے کہا ''یہ سچائی ہے کہ کسی کو خوش کرنے کے لئے اٹھایا گیا قدم ہے جو بالکل غلط ہے۔'' سی بی آئی نے امت شاہ کے خلاف ایسی تقریباً 200 شکایتیں پیش کی تھیں جنہیں دیکھنے کے بعد بنچ نے کہا ''آپ نے (سی بی آئی نے) ہم سے کہا ہے کہ پردیش سرکار نے ان شکایتوں پر کوئی کارروائی نہیں کی۔ ان دستاویزات پر عدالت کی کارروائی نہیں کی جاسکتی۔ یہ شکایتیں پوری طرح سے بکواس لگ رہی ہیں۔'' سی بی آئی نے گجرات اور دیگر عدالتوں کی جانب سے شاہ کو ضمانت دئے جانے کو چیلنج کیا ہے۔ اس عرضی پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ کی بنچ نے کہا ''آپ کو ہمارا سب سے اچھا سراغ رساں مانا جاتا ہے اور اب آپ کو ان خامیوں کا جواب دینا ہوگا۔'' سماعت کے دوران شاہ نے الزام لگایا کہ وہ سیاسی سازش کا شکار ہوئے ہیں اور سی بی آئی نے انہیں اس معاملے میں غلط پھنسایا ہے۔ شاہ کے وکیل رام جیٹھ ملانی نے کہا کہ شاہ سیاسی سازش کا شکار ہوئے ہیں اور سی بی آئی بھی اس کا ایک حصہ ہے۔ تیسرا کیس بھی سی بی آئی سے متعلق ہے ۔ ٹو جی اسپیکٹرم الاٹمنٹ گھوٹالے کی سماعت کررہی خصوصی جج اوپی سینی کی عدالت میں عزت مآب جج موصوفہ نے سی بی آئی سے ثبوتوں کو مٹانے کے لگ رہے الزامات پر جانکاری مانگی ہے۔ سی بی آئی کو23 نومبر تک جواب دینا ہے۔ سی بی آئی کو ملزمان نے یہ کہتے ہوئے کہ الزامات طے کرنے کے حکم میں جو غلطیاں اور تضاد ہیں ،غیر جانبدار سماعت کے لئے ان میں اصلاح کی ضرورت ہے۔ ملزم ونود گوئنکا نے سی بی آئی پر الزام لگایا ہے گواہ کو غیر قانونی طور پر بلا کر ثبوت متاثر کئے جارہے ہیں۔ بدھوار کو گواہی دے رہے ریلائنس افسر اے این سنتھورین نے بتایا تھا کہ اس کے بیان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے۔ گواہ نے دعوی کیا کہ اس نے ہری نائر کے دستخط کی کبھی پہچان نہیں کی تھی۔اس کے باوجود سی بی آئی نے اسے پیش کردیا ہے۔ گوئنکا کے وکیل مجید مینن نے کہا کہ گواہ کی یادداشت تازہ کرنے کے نام پر سی بی آئی کے ذریعے اپنائی گئی کارروائی کے معاملے کو متاثر کرنے کی طرح ہے۔انہوں نے کہا کہ سی بی آئی کو حکم دیا جائے کہ یادداشت تازہ کرنے کے نام پر گواہ یا ثبوتوں کو متاثر نہ کرے۔ چوتھا معاملہ ہماری دہلی پولیس سے متعلق ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے بدھوار کو صاف کیا کہ نوٹ کے بدلے ووٹ معاملہ کرپشن نہیں بلکہ محض ایک اسٹنگ آپریشن تھا۔ عدالت نے کہا ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے جس سے ثابت ہو کہ معاملے کے ملزم تینوں ملزمان نے رشوت مانگی یا لی۔ اتنا ہی نہیں اگر وہ رشوت لیتے تو چپ چاپ لیتے نہ کہ ٹی وی چینل کے سامنے لے کر اسے اس طرح سے پارلیمنٹ میں پیش کرتے۔ وہیں ہماری پارلیمنٹ بالاتر ہے اور پارلیمنٹ کے ذریعے تشکیل جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی نے بھی ثبوت نہ ہونے پر ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ عدالت نے یہ رائے زنی بھاجپا کے موجودہ ایم پی اشوک ارگل اور دو سابق ایم پی پھگن سنگھ کلستے اور مہاویر سنگھ بھگورا سمیت سبھی چھ ملزمان کی ضمانت منظور کرتے ہوئے کی تھی۔جسٹس ایم ایل مہتہ نے اپنے فیصلے میں کہا ایف آئی آر اور چارج شیٹ کا جائزہ لینے سے وہ محسوس کرتے ہیں کہ ممبران پارلیمنٹ و دیگر کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے اس کے علاوہ سی ایف ایس ایل کی رپورٹ سے بھی صاف ہے کہ ٹی وی چینل کی جانب سے اسٹنگ آپریشن کی سی ڈی و آڈیو میں کسی طرح کی چھیڑ چھاڑ نہیں کی گئی ہے کسی بھی ایم پی اور دیگر نے مبینہ طور پر رشوت کی رقم سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ وہیں دوسری طرف بچاؤ فریق کا معاملہ بھی یہی ہے۔ اس ممبر پارلیمنٹ و دیگر ملزمان کا مقصد محض کانگریس اور سماجوادی پارٹی کی ملی بھگت کا پردہ فاش کرنا تھا۔
مندرجہ ذیل معاملوں سے صاف ہے کہ سیاستدانوں کے دباؤ کے سبب ہماری جانچ ایجنسیوں کی ساکھ پر بھی دھبہ لگ رہاہے۔ سیاستداں زبردستی اپنے سیاسی مفاد کے لئے جانچ ایجنسیوں پر ناجائز دباؤ ڈلواکر جھوٹے معاملے بنواتے ہیں جو عدالتوں میں جاکر ٹھہر نہیں پاتے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ یہ سلسلہ چلتا رہے گااور جلد ایک بھی ایجنسی نہیں ہوگی جس کی جانچ پر عوام بھروسہ کرسکے۔
2G, Amar Singh, Anil Narendra, Cash for Vote Scam, CBI, Daily Pratap, delhi Police, NIA, Vir Arjun

29 ستمبر 2011

سدھیندرکلکرنی بھی پہنچے تہاڑ


Published On 29th September 2011
انل نریندر
نوٹ کے بدلے ووٹ معاملے میں خود کوڈگ ڈگی بجانے والے بھاجپا نیتا سدھیندرکلکرنی منگل کے روز خودہی تہاڑ جیل پہنچ گئے۔ دہلی پولیس کی کرائم برانچ کے چارج شیٹ میں اس کانڈ کے ماسٹر مائنڈ بتائے گئے کلکرنی کو عدالت نے یکم اکتوبر تک جوڈیشیل ریمانڈ میں بھیج دیا ہے۔ اب اسی دن ان کی ضمانت پر فیصلہ ہوگا ۔اس معاملے میں عدالت پہلے دوبار ہوئی سماعت میں غیرحاضر رہے کلکرنی کو جسٹس سنگیتا ڈھینگرا سہگل کی عدالت میں پیشگی ضمانت کی عرضی کو لے کر پیش ہوئے ۔انہوں نے دلیل دی کہ وہ اپنی بیٹی کے داخلے کے لئے امریکہ گئے تھے لہذا وہ پہلے کی سماعت کی تاریخ پر نہیں آسکے ۔انہوں نے ملکی مفاد میں ممبران کو رشوت دینے کا معاملہ اسٹینگ کروایا تھا۔ تاکہ لوگوں کو پتہ چل سکے کہ حکومت بچانے کیلئے کیسے ممبران پارلیمنٹ کی خریدوفروخت ہوتی ہے لیکن حکومت اور پولیس نے مجرم کو جیل بھیجنے کے بجائے سچائی ظاہر کرنے والے کو ہی جیل میں ڈال دیا ہے ۔انہوں نے نوٹ کے بدلے ووٹ کے معاملے میں کانگریس لیڈروں کے کرادار کی جانچ ہونی چاہئے جب ہی پتہ چلے گا کہ قصوروار کون ہے کلکرنی اس بارے میں عدالت کے سامنے اپنے وکیل مہی پال سنگھ کے ذریعے ایک عرضی بھی لگائی ہے دائر کردہ درخواست میں ا نہوں نے کہا کہ میرا کردار صرف پول کھولنے والوں تک تھا۔ اور میرا مقصد تیزی سے پھیل رہے کرپشن کو اجا گر کرنا تھا ۔انہوں نے دلیل دی کسی ایسے شخص کو انترم ضمانت دیئے جانے سے انکار کی کوئی وجہ نہیں بنتی جس کی باقاعدہ ضمانت عرضی عدالت میں زیرالتوا ہو اورجیسے جانچ کے دوران گرفتار نہیں کیا گیاہو ۔انہوں نے ذکرکیا کہانہوں نے ہمیشہ جانچ ایجنسی سے تعاون کیا ہے اور جب جب جانچ ایجنسی نے بلایا میں حاضر رہا۔ اب مجھے حراست میں بھیجنے کی کیا ضرورت ہے؟ ادھر ان کی انترم ضمانت درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے سرکاری وکیل راجیو موہن نے کہا کہ اس کافیصلہ صرف نفع ونقصان کی بنیاد پر ہونا چاہئے۔ موہن نے کہاکہ انہوں نے بچاؤ فریق کے وکیل نے انترم ضمانت دینے کے لئے کوئی خاص وجہ نہیں بتائی ہے ۔ادھر ووٹ کے بدلے نوٹ کانڈ کے مجرم سماج وادی پارٹی کے سابق جنرل سکریٹری امرسنگھ کی ضمانت پر فیصلہ بدھوار کو ہونا تھا۔ حالانکہ فیصلہ یہ منگلوار کو کیاجاناتھا لیکن تیس ہزاری کی اسپیشل عدالت نے باقاعدہ عرضی پر فیصلہ ایک دن کے لئے ٹال دیا تھا۔ امرسنگھ فی الحال میڈیکل میں بھرتی ہے جہاں ان کاعلاج جاری ہے۔ نوٹ کے بدلے ووٹ کانڈ میں کلکرنی جیل جانے والے چھٹے ملزم ہیں۔ اس سے پہلے امرسنگھ دوسابق ایم پی جھگن سنگھ ومہاویر بھگوٹا سمیت امرسنگھ کے سابق پرائیویٹ سکریٹری سنجیو سکسینہ اور بھاجپاکے مبینہ ورکر سہیل ہندوستانی کو پہلے ہی تہاڑ جیل میں بھیجا جاچکاہے بھاجپا کے سینئر لیڈر لال کرشن ایڈوانی کے ساتھی رہے ہیں۔ سدھیندر کلکرنی کو جیل بھیجے جانے پر کانگریس کے ترجمان راشدعلوی نے کہا کہ عدالت کے حکم کے بعد یہ صاف ہوگیا ہے کہ نوٹ کے بدلے ووٹ کانڈ کی پوری سازش رچی گئی ہے اور بھاجپا نے دہلی پولیس کے ذریعہ اب تک کی گئی جانچ پر سوال کھڑے کردیئے ہیں۔ بھاجپا کے لیگل سیل ممبر ستیہ پال جین کے مطابق یہ پہلی بار دیکھنے کو مل رہاہے۔ جب پولیس کے ذریعہ کسی معاملے میں شکایت گزار کو ہی گرفتار کیاجارہا ہے۔ جب کہ جن کے خلاف شکایت کی گئی ہے اس کے کسی بھی ممبر کی گرفتاری ہونی تو دور کی بات ہے ان کو بلاکر ان سے پوچھ تاچھ کرنا بھی مناسب نہیں سمجھی۔ یہ نہیں دہلی پولیس نے الٹے ہی جانچ کی کہ ابتدائی مرحلے میں رشوت معاملے کا فائدہ اٹھنے والے لوگوں کو کلین چٹ دے دی۔ میرا چھوٹا سا سوال ہے کہ اس معاملے میں جن لوگوں کو گرفتاری کی گئی ہے توسبھی چاہتے تو رشوت لے کر سرکار کو بچا سکتے تھے اور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوتی۔ لیکن انہوں نے سچ کہنے کی ہمت دکھائی اور رشوت دی جانے کی بات عام کردی۔ سرکار اور پولیس نے انہیں ہی جیل پہنچا دیا۔
Amar Singh, Anil Narendra, Cash for Vote Scam, Daily Pratap, Sudhendra Kulkarni, Vir Arjun

22 ستمبر 2011

رام جیٹھ ملانی کی ’کیش فار ووٹ‘ معاملے میں قلابازی



Published On 22nd September 2011
انل نریندر
نوٹ کے بدلے ووٹ کانڈ میں ملزم امر سنگھ کی پیروی کرتے ہوئے سابق وزیر قانون رام جیٹھ ملانی نے کانگریس لیڈر احمد پٹیل کا نام گھسیٹ کر سنسنی پھیلا دی ہے۔ اس سے پہلے 12 ستمبر کو امر سنگھ کی انترم ضمانت پر بحث کرتے ہوئے جیٹھ ملانی نے پیسے کے ذرائع کا ٹھیکرا بھاجپا کے سر پھوڑنے کی کوشش کی تھی۔ اس وقت انہوں نے کہا تھا کہ پارٹی کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی نے پارلیمنٹ میں اعتراف کیا ہے کہ اسٹنگ آپریشن ان کی اجازت سے کیا گیا اس کا مطلب یہ ہی نکلتا ہے کہ پیسے اسی پارٹی نے دئے ہوں گے۔ عدالت میں جیٹھ ملانی کا کہنا تھا کہ نوٹ کے بدلے ووٹ کا مقصد اس وقت کی منموہن سنگھ سرکار کو بچانا تھا۔ ایسی حالت میں اشارے ملتے ہیں کہ سرکار کے حق میں ووٹ دینے کے لئے احمد پٹیل نے اپوزیشن پارٹیوں کے ممبران پارلیمنٹ کو مبینہ طور سے لالچ دیا۔ جیٹھ ملانی نے کہا کہ وہ یہ نہیں کہہ رہے ہیں اس ثبوت کی بنیاد پر احمد پٹیل کو قصوروار ٹھہرایا جائے لیکن جب آپ اپنی پارٹی کے مفاد کے لئے ممبران کو متاثر کررہے ہیں تو رشوت دینے والے ہی کہلائیں گے۔ ضمانت عرضی پر سماعت کے دوران پہلے رام جیٹھ ملانی کانگریس لیڈر احمد پٹیل کا نام دیا تو دوپہر بعد دوسرے وکیل این ہری ہرن نے سماج وادی پارٹی ایم پی ریوتی رمن سنگھ کا نام لے لیا۔ انہوں نے کہا کیش فار ووٹ کانڈ میں امر سنگھ سے زیادہ ثبوت ریوتی رمن سنگھ کے خلاف موجود ہیں۔ باوجود جانچ ایجنسی نے نہ تو انہیں ملزم بنایا ہے اور نہ ہی معاملے میں گواہوں کی فہرست میں ان کا ذکر کیا ہے۔ چارج شیٹ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 22 جولائی 2008 کو ریوتی رمن سنگھ نے سہیل کو بتایا کہ امرسنگھ اپنے گھر پر بھاجپا ممبران کا انتظار کررہے ہیں۔ اس کے بعد سہیل بھاجپا ممبران اشوک ارگل اور چھگن سنگھ کلستے کو لیکر امرسنگھ کے گھر گیا تھا۔ جب چارج شیٹ میں ان باتوں کا ذکر ہونے کے بعد انہیں نہ تو ملزم بنایا گیا ہے اور نہ گواہ۔ جس پر سرکاری وکیل راجیو موہن نے عدالت کو بتایا کہ ریوتی رمن سنگھ کو صرف اشوک ارگل کے گھر جاتے دیکھا گیا تھا۔ کوئی بات چیت کی ریکارڈنگ نہیں ہے لہٰذا انہیں محض اس بنیاد پر ملزم نہیں بنایا جاسکتا۔ رام جیٹھ ملانی نے اسپیشل جج سنگیتا ڈھینگرا سہگل کے سامنے یہ بھی کہا کہ رشوت لین دین کی جگہ امرسنگھ کا گھر نہیں تھا بلکہ لی میریڈین ہوٹل تھا۔
شری پٹیل کا نام آنے پر کانگریس میں ہلچل کا مچنا فطری ہی تھا لیکن احمد پٹیل نے جہاں جیٹھ ملانی کی دلیلوں پر اسے بے بنیاد اور دھوکہ بتایا اور کہا کہ میں نے اس بارے میں پہلے ہی وضاحت کردی ہے۔ وہیں کانگریس پارٹی کا تبصرہ چونکانے والا ضرور تھا۔ پارٹی نے سارے تنازعے کو بڑی اپوزیشن پارٹی بھاجپا کی جانب موڑنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ بوفورس توپ سودے میں سورگیہ راجیو گاندھی کی لٹیا ڈوبانے میں اہم کردار نبھانے والے فلم اداکار امیتابھ بچن ایک بار پھر وہی کہانی دوہرا رہے ہیں اور نشانے پر سورگیہ راجیو گاندھی کی اہلیہ و کانگریس صدر سونیا گاندھی ہیں۔ انہی کو بدنام کرنے کی ایک بار پھر سازش رچی جارہی ہے۔ کانگریس کی ترجمان رینوکا چودھری نے اشاروں میں کہا امیتابھ بچن ، امر سنگھ سے مل کر لوٹے ہیں تبھی سے ان کا (جیٹھ ملانی ) اور امر سنگھ کا موقف بدلا ہے۔انہوں نے اس سلسلے میں پوچھے گئے سوال کا یہ کہہ کر ڈپلومیٹک جواب دیا کہ ’پران جائے پر بچن نہ جائے‘ غور طلب ہے اس وقت امیتابھ بچن گجرات کے برانڈ امبیسڈر ہیں اور وزیراعلی مودی کے قریبی ہیں۔ دو دن پہلے ہی امیتابھ ایمس جاکر امر سنگھ سے ملے تھے۔ قریب دو گھنٹے کی بات چیت کا کانگریس کے حکمت عملی ساز یہ ہی مطلب نکال رہے ہیں کہ بھاجپا کے نمائندے کی شکل میں انہوں نے کام کیا ہے۔ اور اسی ملاقات کے فوراً بعد امر سنگھ کے وکیل نے قلابازی مارتے ہوئے احمد پٹیل کا نام لے ڈالا۔ حالانکہ سیدھے طور پر رینوکا نے یہ ہی کہا کہ ابھی اس معاملے کی اور بھی پرتیں کھلنا باقی ہیں۔ یہ تو صرف ایک ہی قسط ہے آگے دیکھتے جائیے کہ کیا ہوگا۔ بیچارے امیتابھ بچن نہ تین میں نہ تیرا میں۔ اگر وہ امر سنگھ سے نہیں ملنے جاتے تو جیہ پردہ کھلے عام للکارتی ہیں اور دیکھنے جاتے ہیں تو کانگریس انہیں ساری سازش کے پیچھے شاطر دماغ بتا دیتی ہے جبکہ امر سنگھ اور امیتابھ کی بات چیت میں کہیں ’کیش فار ووٹ‘ کیس کا ذکر تک نہیں ہوا ہوگا۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Vir Arjun, Amar Singh, Ram Jethmalani, Cash for Vote Scam, Congress, BJP, Amitabh Bachchan,

16 ستمبر 2011

تہاڑ جیل میں کیسے گذار رہے ہیں اپنا وقت یہ وی آئی پی قیدی


Published On 16th September 2011
انل نریندر
دہلی کی تہاڑ جیل کا نام وی آئی پی جیل کردینا چاہئے۔پچھلے کچھ دنوں سے یہاں ایک سے ایک بڑا نیتا مہمان بن رہا ہے۔ سلاخوں کے پیچھے امرسنگھ ، اے راجہ، کلماڑی، کنی موجھی جیسے اپنا دن کیسے گذارتے ہیں سنئے ۔ پہلے بات کرتے ہیں امر سنگھ کی۔ امرسنگھ کے لئے جیل کے قاعدے قانون اور روایات طاق پر رکھ دی گئیں۔ صحت کا حوالہ دیکر امرسنگھ کو پیر کی دیر شام آل انڈیا میڈیکل انسٹی ٹیوٹ بھیج دیا گیا۔ قاعدے کے مطابق انہیں پہلے دین دیال اپادھیائے اسپتال بھیجا جانا چاہئے تھا۔ یہ پہلا موقعہ ہے جب کسی قیدی کو علاج کے لئے براہ راست میڈیکل بھیجا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ امر سنگھ کو جیل میں سہولت دینے کو لیکر بڑھتے سیاسی دباؤسے عاجز آکر جیل کے ڈائریکٹر جنرل چھٹی پر چلے گئے ہیں۔ جیل کے ملازم بھی امر سنگھ کے نخروں سے پریشان ہوگئے تھے۔ڈی آئی جی جیل آر این شرما نے بتایا کہ تہاڑ میں کوئی وی آئی پی نہیں ہے۔ سبھی قیدیوں کو برابر حق اور سہولیات ہیں۔دراصل کلماڑی کے ساتھ اپنے دفتر میں چائے پلانے کے چلتے جیل سپرنٹنڈنٹ بھاردواج کوکالا پانی (پورٹ بلیئر) بھیج دیا گیا ہے۔ یہ سختی اسی کا اثر ہے۔ ایک وارڈن مسکراکر کہتا ہے کہ یہ وہی امر سنگھ ہے جنہیں کچھ دن پہلے تک امیتابھ بچن خود گاڑی چلا کر ہوائی اڈے سے اپنے گھر لاتے تھے۔ جنہوں نے اپنے گھر پر کروڑوں روپے کی سجا دھجا کرائی ہوئی تھی۔ وہی امر سنگھ آج 10X15 کے ایک سیل میں زمین پر سو رہے ہیں۔ جس میں ایک چھوٹا سا ٹی وی سیٹ اور پنکھا ہے۔ انہیں جیل سے چار کمبل، دو بیڈ شیٹ، ایک تھالی، کٹوری، چمچ، گلاس اور ایک مٹکا ملا ہوا ہے۔ بڑی پارٹیوں کے درمیان اربوں کھربوں کی سودے بازی کرنے والے امر سنگھ کی جیل میں 1500 روپے وہ بھی جیل کوپن کی شکل میں۔
صبح چھ بجے حاضری کے وقت ایک کے بعد ایک نام پکارے جاتے ہیں۔ امر سنگھ کا نام آتا ہے تو سنتری پکارتا ہے امرسنگھ جی، سریش کلماڑی، اے۔راجہ، کنی موجھی وغیرہ کئی بار خود بغیر نام کے پکارے رجسٹر پر صحیح نشان لگا دیتے ہیں۔ پھر پرارتھنا ’اے مالک تیرے بندے ہم‘ پچھلے 20 سال سے تہاڑ میں روزانہ صبح لتا منگیشکر کی آواز میں یہ پرارتھنا بجتی ہے۔ سبھی قیدی اسے دوہراتے ہیں۔ پھر چائے اخبار پھر کچھ دیر کے لئے ٹی وی ، پھر کچھ کا سیر کرنا، کچھ کا کام سانپ سیڑھی، لوڈو، کیرم اور شطرنج کھیلنا۔ پھر کھانا پینا اور سونا۔ راجہ کی اہلیہ پرمیشوری جمعرات کو ان سے ملنے پہنچیں لیکن کنی موجھی اتنی خوش قسمت نہیں تھیں ان سے ملنے کے لئے ایک تامل کوی نے ایک ممبر پارلیمنٹ کی معرفت عرضی دی تھی، جسے جیل حکام نے نامنظور کردیا۔ اسی طرح جیل نمبر 3 کے گیٹ پر سفید کرتا پائجامہ پہنے درجن بھر سے زیادہ لوگ جمع تھے۔ صبح11 بجے سے دیر شام تک کچھ ممبران اسمبلی اور دیگر خود کو بڑا نیتا بتا رہے تھے۔ ممبر پارلیمنٹ کلستے اور بھگورا سے ملنے مدھیہ پردیش اور راجستھان سے آئے تھے۔ جیل انتظامیہ نے انہیں منظوری نہیں دی تھی۔ جیل کے ترجمان سنیل گپتا بتاتے ہیں ساڑھے بارہ بجے قیدیوں میں صرف دو کے لئے گھر سے کھانا آتا ہے راجہ اور کنی موجھی۔ عدالت نے اس کی خاص اجازت دی ہوئی ہے۔ لیڈیز جیل میں کنی موجھی گھل مل گئی ہیں۔ خاتون سنتری انہیں دیدی کہہ کر بلاتی ہے۔ قاعدے کے مطابق ہفتے میں دو ملاقاتیں ہوسکتی ہیں وہ بھی گھر والوں سے۔ وہی کپڑے لیکر آتے ہیں ،ہفتے بھر کے لئے 1500 روپے دئیے جاتے ہیں۔ ان میں کینٹین سے کچھ پکوان مٹھائی خریدی جاسکتی ہے۔ راجہ ٹی وی چینل اور فلمیں دیکھ کر وقت گذار رہے ہیں۔ شاہد بلوا نے آئی پیڈ، کولر اور نرم تکیہ اور گدا بھی مانگا ہے۔ وہ ہندی فلمیں دیکھ کر وقت کاٹ رہے ہیں۔ ہاں جیل میں سیلون ، کپڑوں پر پریس، ڈرائی کلین اور سامان خریدنے کیلئے کینٹین کی سہولت ہے۔ کوپن کے ذریعے جو چاہے خریدلو۔ کلماڑی نے جھانسی کی رانی سیریل دیکھنے کے لئے ٹی وی مانگا تھا۔ سنتری کہتا ہے کلماڑی گھنٹوں رجسٹر میں کچھ لکھتے رہتے ہیں۔کیا لکھتے ہیں کوئی نہیں جانتا۔ کیا وہ کس کس کو کیا دیا اس کا حساب کتاب لکھ رہے ہیں کیونکہ ان کی یاد داشت آتی جاتی رہتی ہے؟ زیادہ تر وی آئی پی دو مرکزی وزیر، ایک سابق وزیر اعلی، چھ سابق ممبر پارلیمنٹ، دو سابق اعلی افسر،پندرہ صنعت کار زیر سماعت قیدی ہیں۔ ان سے جیل کا کام نہیں کروایا جاتا۔ جس جیل میں رہتے ہیں اس کی صفائی ملازم کرتے ہیں۔ امر سنگھ کے ساتھ تین قیدی اس لئے رکھے گئے ہیں تاکہ وہ پورا دن فنائل سے فرش صاف کرتے رہے ہیں تاکہ امر سنگھ کوکوئی انفیکشن نہ ہو۔ جیل کرمچاری بھی مانتے ہیں ایم پی تو آخر ایم پی ہے۔ باہر چاہے جتنی باتیں بنائی جائیں لیکن ایم پی کا لحاظ کرنا پڑتا ہے ۔تو اس طرح گذر رہی ہے ان وی آئی پی لوگوں کی تہاڑ جیل میں زندگی۔
A Raja, Amar Singh, Anil Narendra, Cash for Vote Scam, Daily Pratap, Kalmadi, kani Mozhi, Tihar Jail, Vir Arjun,

15 ستمبر 2011

کیااڈوانی کی مجوزہ یاترا ایک ماسٹر سٹروک ہوگا



Published On 15th September 2011
انل نریندر
بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر لیڈر83 سالہ شری لال کرشن اڈوانی ایک مرتبہ پھر رتھ یاترا پر نکلیں گے۔ انہوں نے یوپی اے سرکار کے اقتدار میں رہنے کا جواز کھو دینے اور اس کا جن آدیش ختم ہوجانے کا دعوی کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ اس کرپٹ حکومت کے خلاف نومبر سے پہلے ملک بھر میں رتھ یاترا کریں گے۔ ووٹ کے بدلے نوٹ جس طرح سے اس حکومت نے بربادکیا ہے اس کا بھی جنتا میں وہ رتھ یاترا کے دوران پردہ فاش کریں گے۔ بھاجپا کور گروپ کی میٹنگ میں مجوزہ رتھ یاترا پر غور و خوض ہوا۔ یاترا کے دوران تقریباً 6 ہزار کلو میٹر کا سفر طے کیا جاسکتا ہے۔ اڈوانی جی کا نظریہ ہے کہ یاترا کا زور صاف ستھری سیاست اور بہتر انتظامیہ پر ہونا چاہئے جبکہ کچھ بھاجپا نیتاؤں کا نظریہ ہے کہ اسے کرپشن مخالف یاترا ہونا چاہئے کیونکہ پورے دیش میں بدعنوانی کا اشو مرکز بنا ہوا ہے۔پنجاب، اتراکھنڈ، گوا اور اترپردیش جیسی ریاستوں کے کچھ لیڈر چاہتے ہیں کہ یاترا ان ریاستوں سے ہوکر ضرور گذرے کیونکہ ان ریاستوں میں اگلے سال چناؤ ہونے والے ہیں۔ وہیں کچھ لیڈر اس نظریئے سے متفق نہیں نظر آتے۔
اڈوانی جی کی اس مجوزہ یاترا کی حمایت اور تنقید دونوں ہی ہو رہی ہیں۔ پہلے تنقید کی بات کرتے ہیں۔ انا ہزارے اور ان کی ٹیم محسوس کرتی ہے کہ یہ یاترا ان کی تحریک کی اہمیت کم کرنے کے لئے کی جارہی ہے۔ انا نے خود یاترا کو دکھاوا قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ تب تک بھاجپا کی حمایت نہیں کریں گے جب تک وہ پارلیمنٹ میں جن لوکپال بل کی حمایت نہیں کرتی۔ اس کی ریاستی حکومتیں لوکپال کی تقرری کا قانون نہیں بناتیں۔ انا نے ٹی وی چینلوں سے کہا کہ اگر کرپشن کے اشو پر اڈوانی سنجیدہ ہیں تو یاترا کرنے کے بجائے انہیں بھاجپا حکمراں سبھی ریاستوں میں لوک آیکت کی تقرری کے لئے قانون بنانے کو کہنا چاہئے۔ گذشتہ دنوں رالے گن سدھی میں انا کی ٹیم کی ایک اہم میٹنگ ہوئی۔ اس میٹنگ میں میدھا پاٹیکر نے جم کر اڈوانی کی رتھ یاترا کی مخالفت کی ہے۔پاٹیکر نے صاف کہا کہ اڈوانی کی رتھ یاتراکو کسی بھی حالت میں انا ہزارے کی حمایت نہیں ملنی چاہئے۔میدھا پاٹیکر نے آگاہ کیا کہ یہ ایک سیاسی یاترا ہے، جس کا مقصد سیاسی ہے۔ سماجی بھلائی یا کرپشن کو دور کرنا نہیں ہے۔ جہاں تک کانگریس پارٹی کے رد عمل کا سوال ہے وہ اس سے ناخوش ہے۔ ایک نیتا نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ یہ اڈوانی کا ماسٹر سٹروک ہے۔ انا ہزارے کی تحریک کے ٹھیک بعد مرد آہن کہے جانے والے بھاجپا کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی کی رتھ یاترا، عدالت عظمیٰ کے ذریعے نریندر مودی کو دی گئی راحت اور وسط مدتی چناؤ کی افواہوں نے کانگریس کے کان کھڑے کردئے ہیں۔ کرپشن کے اشو پر سرکار دباؤ میں ہے۔ پہلے گاندھی وادی انا ہزارے اور اس کے بعد بھاجپا نیتا ایل کے اڈوانی نے کرپشن کے مسئلے پر ایک رتھ یاترا کی بات کہہ کر حکومت اور کانگریس تنظیم دونوں کے لئے مشکلیں بڑھا دی ہیں۔ کانگریس کو اصلی فکر آنے والے مہینوں میں پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ کی ہے۔ ان میں سب سے اہم اترپردیش ریاست ہے۔ پنجاب اور اتراکھنڈ میں بھی کانگریس اس مرتبہ سرکار کی امیدیں لگائے ہوئے ہے۔ کانگریس کو بڑی پریشانی یہ ہے کہ انا کی تحریک سے جنتا میں یہ پیغام گیا ہے کہ سرکار اور تنظیم ان کو لیکر سنجیدہ نہیں ہے اور یہ پارٹی کے ماتھے پرشکن ڈالنے کے لئے کافی ہے۔ پارٹی کو یہ فکر بھی ستا رہی ہے کہیں انا کی بوئی فصل کو کاٹنے کیلئے اڈوانی نے جو ماسٹر سٹروک کھیلا ہے وہ کامیاب نہ ہوجائے؟ حکومت کے لئے اور کانگریس کے لئے پریشانی میں ڈالنے والے اڈوانی اکیلے نہیں ہے۔ ادھرانا ہزارے بھی گاؤں گاؤں گھومنے کی اسکیم بنا رہے ہیں۔ یوگ گورو بابا رام دیو بھی حکومت سے خفا بیٹھے ہیں اور نئے سرے سے یاترا کرنے جارہے ہیں۔ تینوں کی یاترائیں کرپشن کے اشو پر ہیں، ایسے میں کرپشن کا اشو نہ صرف اسمبلی انتخابات تک زندہ رہے گا بلکہ اگر ان انتخابات میں کانگریس ہار جاتی ہے تو 2014ء میں ہونے والے عام چناؤپر بھی اس کا اثر پڑ سکتا ہے۔ اڈوانی جی بھی یہ ہی چاہتے ہیں سرکار اور پارٹی دونوں پر دباؤ بنا رہے ہیں۔ اڈوانی جی کی اس رتھ یاترا سے بھاجپا کی دوسری صف کے نیتا اندر خانے خوش نہیں ہیں انہیں لگتا ہے اگر2014 ء میں بھاجپا لیڈر شپ والے این ڈی اے کو اقتدار مل جاتا ہے تو ان کا وزیراعظم بننے کا خواب پورا نہیں ہوگا اور اڈوانی بھاجپا کے نمبر ون پسندیدہ شخص ہوں گے جبکہ بھاجپا ورکر اس یاترا سے خوش ہیں اور گرمجوشی سے اس کا استقبال کرے گا۔ یاترا کے دوران ورکر سرگرم ہوجائے گا جو اڈوانی کا ایک مقصد بھی ہے لیکن پارٹی کے اندر رام جیٹھ ملانی جیسے لیڈر بھی موجود ہیں جو یاترا شروع ہونے سے پہلے ہی اس کی ہوا نکالنے میں لگے ہوئے ہیں۔ تہاڑ جیل میں بند امر سنگھ کی پیروی کررہے رام جیٹھ ملانی نے پیر کے روز تیس ہزاری عدالت میں کہا کیونکہ یہ اسٹنگ آپریشن بھاجپا نے کرایا تھا اس لئے ممبران کو دئے گئے پیسے کا انتظام بھی اسی نے کیا ہوگا۔جیٹھ ملانی پہلے بھی بھاجپا کے لئے اس طرح کی دقتیں پیدا کرتے رہے ہیں۔ ٹو جی اسپیکٹرم معاملے میں ایک طرف بھاجپا یوپی حکومت کے خلاف مورچہ کھولے ہوئے ہے تو دوسری طرف جیٹھ ملانی تہاڑ جیل میں بندڈی ایم کے کی راجیہ سبھا ممبر کنی موجھی کی پیروی بھی کررہے تھے۔
ایک طرف تو اڈوانی اس مسئلے کو لیکر سڑکوں پر اترنے کا اعلان کرتے ہیں تو دوسری طرف انہیں کی پارٹی کا ممبر یہ الزام لگا تا ہے کہ ووٹ کے بدلے نوٹ معاملے میں پیسہ بھاجپا نے ہی دیا ہوگا۔ جیٹھ ملانی کی یہ دلیلیں اڈوانی کی یاترا کی دھار کو کمزور کرسکتی ہیں کیونکہ نوٹ کے بدلے ووٹ معاملے میں بھاجپا شروع سے ہی کانگریس یوپی اے سرکار کو کٹہرے میں کھڑا کرتی رہی ہے۔ تہاڑ جیل میں بند اپنے دو سابق ممبران کو بھاجپا ’’وسل بلوور‘‘ بتاتی رہی ہے اور اڈوانی اس معاملے میں کہہ چکے ہیں کہ وہ جیل جانے کو تیار ہیں۔ البتہ مجوزہ رتھ یاترا کا مرکزی نکتہ تو رام مندر ہے اور نہ ہی ہندوتو بلکہ بدانتظامی اور صاف ستھری سیاست کے اشو کو لیکر ہے اور یہ اشو سبھی طبقوں ،مذاہب ،فرقوں کو پسند آئے گا۔ آخر اس یاترا کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ اس کی دو وجوہات نظر آتی ہیں ایک کے بعد ایک گھوٹالوں نے یوپی اے حکومت کو دفاع میں لاکر کھڑا کردیا ہے۔ پھر انا کی تحریک نے اسے گھر گھر کا موضوع بنا دیا ہے۔ سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی ہونے کے ناطے بھاجپا کو لگتا ہے کہ اس ماحول کا سب سے زیادہ فائدہ اسی کو مل سکتا ہے۔ دوسرے ووٹ کے بدلے نوٹ کانڈ میں دہلی پولیس کی کارروائی نے بھاجپا کی بے چینی بڑھا دی ہے۔ اس کے دو سابق ممبران کو عدالت نے تہاڑ بھیج دیا ہے۔ پھر عدالت نے اس معاملے میں اڈوانی کے قریبی رہے سدھیندر کلکرنی کو نوٹس دیا ہوا ہے اور دہلی پولیس نے بھاجپا کے ایک موجودہ ایم پی کے خلاف کارروائی کے لئے لوک سبھا اسپیکر سے اجازت مانگی ہے جبکہ بھاجپا کا دعوی ہے کہ ان کے جن لوگوں کو ملزم بنایا گیا ہے وہ اصل میں تو خریدوفروخت کے ذریعے اکثریت حاصل کرنے کیلئے کانگریس کی سازش کو بے نقاب کرنے میں جٹے ہوئے تھے۔
بھاجپا لیڈرشپ کو یہ محسوس ہوا ہوگا کہ اگر پارٹی اس معاملے میں چپ بیٹھ گئی تو اسے کافی نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اب اپنی سیاسی زندگی کے غروب ہونے کے دہانے پر کھڑے انہیں سینئر عہدے پر پہنچنے کیلئے ایک موقعہ ضرور نظر آرہا ہے۔ اس کے لئے انہیں اپنی پارٹی کو دوبارہ سے زندہ کرنے اور اس میں اصلاح کرنے کی کوشش کرنی ہوگی۔ اڈوانی جی کے لئے سب سے بڑی چنوتی شاید یہ رہے گی کہ وہ بھارت کی جنتا میں یہ بھروسہ پیدا کریں کہ واقعی وہ کرپشن کے خلاف ہے اور وہ پوری ایمانداری سے کرپشن کو دور کرنے کیلئے حمایتی ہے۔ بیشک کچھ داغی لیڈروں کو حال ہی میں ہٹایا گیا ہے لیکن ابھی’’ تھیلی‘‘ لینے والے نیتا پارٹی میں موجود ہیں۔ دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ اڈوانی جیسی صاف ستھری ساکھ والے نیتا بھاجپا میں ضرور ہیں لیکن داغی بھی موجود ہیں۔ اڈوانی جی کو سب سے زیادہ خطرہ اندر سے ہے باہر سے نہیں۔
Amar Singh, Anil Narendra, Cash for Vote Scam, Corruption, Daily Pratap, L K Advani, Rath Yatra, Vir Arjun

26 جولائی 2011

’نوٹ کے بدلے ووٹ‘ معاملے پر امرسنگھ سے لمبی پوچھ تاچھ


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 26th July 2011
انل نریندر
نوٹ کے بدلے ووٹ معاملے میں دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے جمعہ کے روز راجیہ سبھا ایم پی امرسنگھ سے تقریباً ساڑھے تین گھنٹے تک پوچھ تاچھ کی ہے۔ اس معاملے میں پہلے ہی سے گرفتار دو ملزمان سنجیو سکسینہ اور سہیل ہندوستانی سے بھی آمنا سامنا کرایا گیا۔اس تین گھنٹے کی پوچھ تاچھ پر باقاعدہ طور سے دہلی پولیس کی ذریعے کوئی بریفنگ ابھی تک نہیں کی گئی ہے۔ اسلئے اس دوران کیا سوال جواب ہوئے ان کے بارے میں دعوے سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ لیکن اخبارات میں جو رپورٹیں شائع ہوئی ہیں ان سے تھوڑا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ سوالوں کی لائن کیا رہی ہوگی۔ امر سنگھ جمعہ کی صبح ہی 10.45 بجے اپنی مرسڈیز کار میں چانکیہ پوری میں واقع کرائم برانچ کے انٹرسٹیٹ سیل میں پہنچ گئے۔ اور دوپہر تقریباً 12.50 منٹ تک کرائم برانچ کے پولیس افسران امر سنگھ سے پوچھ تاچھ کرتے رہے۔ پھر اسپیشل سیل کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ایل ۔ این راؤ بھی پہنچ گئے۔ راؤ ماضی میں بھی ٹیپنگ معاملے میں امر سنگھ سے پوچھ تاچھ کرچکے ہیں۔ دوپہر دو بجے پوچھ تاچھ ختم ہونے کے بعد وہ میڈیا ملازمین کے سوالوں کا جواب دئے بغیر نکل گئے۔ پولیس کے ذرائع نے بتایا پوچھ تاچھ کے دوران امر سنگھ کا برتاؤ ٹھیک رہا اور وہ خود اعتمادی سے بھرے ہوئے ہے۔افسران نے پوچھ تاچھ کے دوران تقریباً ڈیڑھ بجے سہیل ہندوستان اور امر سنگھ کا آمنا سامنا بھی کرایا۔ امر سنگھ نے سہیل کے ایک کروڑ روپیہ دینے کے الزامات سمیت سبھی الزامات کو مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا سنجیو سکسینہ میرا پرائیویٹ سکریٹری رہ چکا ہے لیکن جب یہ کانڈ ہوا تب وہ ایک بسپا نیتا کا پرائیویٹ سکریٹری تھا۔ ایک شائع رپورٹ کے مطابق امر سنگھ نے سبھی سوالوں کا گول مول انداز میں جواب دیا۔ دہلی پولیس کرائم برانچ نے امر سنگھ کے لئے 15 سوالوں کی فہرست تیار کررکھی تھی۔ پہلا سوال تھا کہ22 جولائی 2008 کو پارلیمنٹ میں لائے گئے ایک کروڑ روپے کے سلسلے میں ایک خاص ٹیلیفون پر بات چیت ہوئی۔ اس نمبر والے شخص کے بارے میں وہ کتنا جانتے ہیں۔ دوسرا سوال ،کچھ کھاتوں کے بارے میں ان سے پوچھا جن سے ’چیک فار ووٹ ‘ کے لئے ایک کروڑ روپے نکالے گئے تھے۔ تیسرا سوال تھا 22 جولائی کوایم پی اشوک ارگل، مہاویر سنگھ بھگوٹا،چھگن سنگھ کلہتے ان کی رہائش گاہ پر آئے تھے یا نہیں؟ چوتھا سوال کہ امر سنگھ نے اپنے پی اے سنجیو سکسینہ کی ملاقات ان تینوں سے کروائی تھی یا نہیں۔ ذرائع کے مطابق امر سنگھ کا ڈرائیور سنجے ان معاملوں میں اہم کڑی ہے جو واردات کے بعد سے ہی غائب ہے۔پانچواں سوال ،کیا امر سنگھ نے 22 جولائی کی صبح سنجے کو سنجیو کے ساتھ فیروز شاہ روڈ بھیجا تھا؟ اگلا سوال ،رشوت کے ایک کروڑ روپے بیگ میں ان کے گھر پرپائے گئے تھے؟ ذرائع نے بتایا سوال نمبر8 کے وہ ایک کروڑ روپے کس کے تھے؟ امر سنگھ نے اس کی جانکاری سے انکار کردیا تو اگلا سوال سنجیو کی پوچھ تاچھ میں آئے اور حقائق پر کیا گیا۔ پولیس نے پوچھا کہ سنجیو نے کہا ہے کہ امر سنگھ کا ڈرائیور اسے لیکر گیا تھا۔ تو آپ کو (امر سنگھ) اس کی جانکاری کیسے نہیں ہے؟ یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ابھی تک پوری طرح لڑکھڑا چکے امر سنگھ سے ہلکا سوال کرتے ہوئے پولیس نے پوچھا کہ وہ سنجیو سکسینہ کو کب سے جانتے ہیں اور اسے واقع سے متعلق کیا کام سونپ رکھا تھا؟ تیرہواں سوال پھر سخت تھا۔ پہلے سوال میں پوچھے گئے فون نمبر پر واپس لوٹتے ہوئے پولیس نے سوال داغا کہ19 اور 21 جولائی 2008 کے دوران اس نمبر پر ان کی کتنی بات ہوئی، اور کس سے ہوئی کیوں اور کیا ہوئی؟ کال تفصیلات کے مطابق امر سنگھ نے اس نمبر پر اس درمیان کئی مرتبہ بات چیت کی۔ پندرواں اور آخری سوال تھا کہ کلستے نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ امر سنگھ نے سنجیو کو ممبران پارلیمنٹ سے ملوایا تھا۔ اس میں کتنی سچائی ہے؟
ادھر شری امر سنگھ سے چانکیہ پوری سیل میں پوچھ تاچھ ہورہی تھی ادھر بہت سے لیڈروں کی سانسیں اٹکی ہوئی تھیں۔ انہیں یہ ڈر ستا رہا تھا کہ پتہ نہیں امر سنگھ کیا کہہ دیں؟ امر سنگھ استادوں کے استاد ہیں۔ وہ اپنے جو بچانے کیلئے انگلی کسی بھی طرف گھما سکتے ہیں۔ خاص کر کانگریسی لیڈروں میں کافی ہلچل رہی۔ پوچھ تاچھ کے بعد کانگریسی نیتا سنجیدہ نظر آئے۔ کل تک کانگریس کے سینئر لیڈر کہہ رہے تھے کہ سہیل ہندوستانی کے بیان پر کانگریس اور امر سنگھ جیسی شخصیت سے پوچھ تاچھ ٹھیک نہیں ہے۔ سہیل بھاجپا کے پٹھو اور دلال ہے۔ پولیس کی پوچھ تاچھ کے بعد ہی پارٹی نیتا احمد پٹیل کو کلین چٹ دے دی ہے۔ سوال کیا جارہا ہے کہ پوچھ تاچھ سے پہلے ہی پولیس نے کسی کو بھی کلین چٹ کس بنا پر دے دی؟ کانگریس کے ترجمان اشوک منو سنگھوی نے کہا کہ اس معاملے میں قانون اپنا کام کررہا ہے کیونکہ معاملہ کورٹ کے سامنے ہے اس لئے پارٹی کی طرف سے رد عمل دینا مناسب نہیں ہے۔ایک دوسرے کانگریسی سینئر لیڈر نے کہا کیا دہلی کو ایک کورٹ نے نوٹ کے بدلے ووٹ میں کانگریس اور سماجوادی پارٹی کے کردار کو بھی مسترد کردیا ہے اس لئے پولیس بہت جلد سچائی تک پہنچ جائے گی۔ یہ پورا کھیل بھاجپا کی طرف سے اسپانسر تھا جس سے کانگریس اور سرکار بدنام ہو۔ دوسری طرف بھاجپا نے دہلی پولیس کے ذریعے عدالت کو یہ بتائے جانے پر کہ معاملے میں کانگریس یا سپا کے کسی نیتا کے شامل ہونے کی بات جانچ میں سامنے نہیں آئی لیکن کہاپولیس کا بیان بے ایمانی کو چھپانے والا اور جانچ کے نام پر دھبہ ہے۔ بھاجپا کے ترجمان پرکاش جاویڈکر نے پولیس جانچ پر سوالیہ نشان کھڑا کرتے ہوئے کہا کہ جب جانچ پوری نہیں ہوئی، معاملے کے متعلق لوگوں کے بیان نہیں ہوئے تو پھر پولیس اس نتیجے پر کیسے پہنچ سکتی ہے کہ پورے معاملے میں فائدہ پانے والی کانگریس یا اس پورے کانڈ کو انجام دینے والی سپا کا اس میں کوئی ہاتھ نہیں ہے۔بھاجپا ترجمان نے کہا کہ اگر جانچ اسی طرح ہونی ہے تو جانچ ایک چھلاوا ہے اور پولیس اپنے سیاسی آقاؤں کے اشارے پر پورے معاملے میں لیپا پوتی کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ جاویڈکر نے کہا کہ پولیس کی جانچ میں تیزی ویسے ہی سپریم کورٹ کے دباؤ کے بعد آئی ہے لیکن لگتا ہے کہ پولیس پوری طرح سے سیاسی دباؤ میں کام کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پولیس معاملے میں ایمانداری اور قاعدے سے جانچ کرے تو 15 دن کے اندر دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔ ویسے بھی معاملہ عدالت میں ہے اور عدالت کو دہلی پولیس کو کنوینس کرنا ہوگا کہ وہ اگر اس نتیجہ پر پہنچی ہے تو کس بنا پر پہنچی ہے؟ پھر عدالت کے موقف پر منحصر کرے گا کہ کیس کس سمت میں چلنا ہے۔ ابھی سے کچھ بھی دعوے سے کہنا شاید غلط ہوگا۔
Tags: Ahmed Patel, Amar Singh, Anil Narendra, BJP, Cash for Vote Scam, Congress, Daily Pratap, delhi Police, Vir Arjun

23 جولائی 2011

کیش فار ووٹ معاملے میں سہیل ہندوستانی کی گرفتاری اہم


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 23th July 2011
انل نریندر
سپریم کورٹ کی سختی کے بعد نوٹ کے بدلے ووٹ معاملے میں دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے بدھ کے روز اس معاملے میں اہم رول نبھانے والے سہیل ہندوستانی کو گرفتار کرلیا۔ بھارتیہ جنتا یوا مورچہ کے ورکر رہ چکے سہیل اس لئے بھی اہم ہیں کیونکہ اس نے سنجیو سکسینہ کے ساتھ مل کر تین بھاجپا ایم پی کو رشوت دینے میں اہم کردار نبھایا تھا۔ کرائم برانچ نے سہیل ہندوستانی کو بدھوار کی صبح پوچھ تاچھ کے لئے بلایا تھا۔ تقریباً 7 گھنٹے تک چلی اس پوچھ تاچھ کے بعد اسے حراست میں لیا گیا۔ سہیل کے رویئے سے پولیس افسران بھی حیران ہیں۔ دراصل اس نے پولیس کے ہر سوال کا حاضری جوابی کے انداز میں جواب دیا۔ اس دوران اس کے چہرے پر کوئی شکن نہیں تھی۔ کرائم برانچ کے ایک افسر نے بتایا کہ ایک گلدستہ لے کر کرائم برانچ کے دفتر میں پہنچے سہیل نے اپنے خاندانی پس منظر اور اس کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ راجستھان کے ٹونک ضلع سے 15 برس پہلے جن پتھ ہوٹل میں آکر رکا تھا۔ اس کے بعد اس نے موتیوں کا کاروبار شروع کیا۔ اس دوران اس کا رابطہ کئی بڑ ے لوگوں و نیتاؤں سے ہوا۔ اسی کے چلتے وہ کچھ برس پہلے بھاجپا کے یوا مورچہ میں شامل ہوا۔ اس کے بعد اس نے پارٹی میں کافی اچھی پکڑ بنا لی۔ پوچھ تاچھ کے لئے جانے سے پہلے سہیل نے کیش فار ووٹ معاملے میں وزیر اعظم منموہن سنگھ و سونیا گاندھی کا نام لیکر انہیں بھی اس معاملے میں گھسیٹنے کی کوشش کی۔ سہیل نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ مجھے امر سنگھ اور احمد پٹیل (سونیا گاندھی کے سیاسی سکریٹری) کے فون آئے تھے۔ وزیر اعظم کے قریبی لوگوں سے اور 10 جن پتھ سے بھی مجھے فون آئے۔ لیکن سہیل نے فون کرنے والوں کے نام نہیں بتائے۔ پوچھ تاچھ میں یہ دعوی کیا کہ اس کا رول اعتماد کے ووٹ کے دوران بی جے پی ایم پی کی خریدو فروخت کی کوشش کا پردہ فاش کرنے تک ہی محدود تھا۔ سہیل ہندوستانی کا اصلی نام سہیل احمد ہے۔ اس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ سیاست کے گلیاروں میں لوگوں سے رابطہ قائم کرنے کیلئے جانا جاتا ہے۔ سابقہ راجستھان سرکار کے کچھ سیاستدانوں سے بھی اس کے اچھے تعلقات بتائے جاتے ہیں۔ اتنا ہی نہیں مدھیہ پردیش سمیت کئی ریاستوں میں سہیل کی اچھی پکڑ بتائی جاتی ہے۔ سہیل کی گرفتاری کے بعد اب اس معاملے میں سماج وادی پارٹی کے سابق سکریٹری جنرل امر سنگھ پر گاج گر سکتی ہے۔ اور تازہ واقع میں دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے امر سنگھ سے پوچھ تاچھ کی ہے۔ وزارت داخلہ نے دہلی پولیس کو امر سنگھ سمیت دو موجودہ اور دو سابق ممبران پارلیمنٹ سے پوچھ تاچھ کی اجازت دے دی تھی۔ وزارت نے یہ فیصلہ بدھوار کی دیر شام وزیر داخلہ پی چدمبرم سے پولیس کمشنر بی کے گپتا کی ملاقات کے بعد کیا ہے۔ پولیس کے ذرائع نے بتایا امر سنگھ کے علاوہ سماجوادی پارٹی کے ایم پی ریوتی رمن سنگھ اور بھاجپا کے سابق ایم پی چھگن سنگھ کلستے اور مہاویر بھگوٹاسے بھی اس معاملے میں پوچھ تاچھ کی جائے گی۔ سہیل نے بتایا تھا کہ امر سنگھ اور احمد پٹیل نے سرکار بچانے کے لئے ان سے رابطہ قائم کیا تھا۔ ان لوگوں نے ان بھاجپا ممبران پارلیمنٹ کی خریدوفروخت کرنے میں مدد کرنے کو کہا تھا جو کمزور یا مجبوری میں پھنسے ہوئے ہوں اور جن کے خلاف کوئی مقدمہ چل رہا ہو۔ اس کے عوض میں ان ممبران پارلیمنٹ کو پانچ کروڑ روپے دئے جائیں گے۔ سرکار بچانے کے عمل میں اس سے کن لوگوں نے رابطہ قائم کیا تھا اس کی پوری تفصیل مل جائے گی۔ اس کے لئے اس کے فون کال ریکارڈ کی جانچ کی جاسکتی ہے۔ پولیس کو اس معاملے میں امر سنگھ کے ڈرائیور سنجے سنگھ کی بھی تلاش ہے جو اب تک پولیس کی گرفت سے باہر ہے۔ راجیہ سبھا کے چیئرمین اور نائب صدر حامد انصاری نے دہلی پولیس کو کیش فار ووٹ معاملے میں جانچ آگے بڑھانے میں ممبران پارلیمنٹ سے ممکنہ پوچھ تاچھ کی اجازت دے دی ہے۔ سیاستدانوں، اقتدار کے گلیاروں اور نامی گرامی ہستیوں کے ارد گرد گھوم کر خدمات دینے میں ماہر سہیل ہندوستانی کی گرفتاری کے بعد اب کئی لیڈروں کو مصیبتیں بڑھ سکتی ہیں، این ڈی اے حکومت کے وقت وزیر اعظم کے دفتر میں خدمات دینے اور بعد میں بھاجپا کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی کے قریبی مانے جانے والے سدھیندر کلکرنی تک اس کی عام پہنچ تھی۔حالانکہ بھاجپا ترجمانوں نے ابھی اس پر کوئی رد عمل تک ظاہر نہیں کیا ہے۔ لیکن اگر یہ معاملہ آگے بڑھتا ہے تو پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں اس مسئلے کا طول پکڑنا یقینی ہے۔ فی الحال بھاجپا اس معاملے کی جانچ اور قصورواروں کو سزا دینے کے بیان تک ہی محدود ہے۔ سہیل ہندوستانی کے ذریعے 12 اگست 2008 کو اس وقت کے لوک سبھا اسپیکر کو لکھے خط کے مطابق اس نے سدھیندر کلکرنی کے ذریعے رکھی گئی تجویز کو مان کر پارلیمنٹ کی مبینہ خریدو فروخت اجاگر کرنے میں تعاون دیا تھا۔ اس کے مطابق کانگریس کے بڑے نیتاؤں کے اشاروں پر سرکار بچانے کی کوشش کی جارہی تھی۔ خط میں بتایا گیا ہے کہ اس کے لئے انڈیا اسلامک سینٹر میں سہیل ہندوستانی نے پہلے سپا کے اس وقت کے ایم پی ادے پرتاپ سنگھ سے رابطہ قائم کیا ، پھر انہیں اپنے پاس اپوزیشن کے ممبران کی فہرست ہونے کی جانکاری دی۔ اور ادے نے اس کے لئے سپا ایم پی کنور ریوتی رمن سنگھ اور راجیہ سبھا میں سپا کے اس وقت کے قومی جنرل سکریٹری امر سنگھ سے رابطہ قائم کرنے کی صلاح دی۔ جاتے جاتے ادے سہیل کا نمبر بھی لیتے گئے۔ اس سے پہلے سہیل ہریانہ کیڈر کے آئی اے ایس افسر اور وزیر اعلی بھوپندر سنگھ ہڈا کے قریبی ایس پی گپتا سے ملا تھا۔ خط کے مطابق گپتا کو بھی سہیل ہندوستانی نے اپوزیشن کے بکاؤ ممبران کی فہرست ہونے کے بارے میں بتایا تھا۔ گپتا نے بھی اس کے بارے میں انہیں وزیر اعلی ہڈا اور کانگریسی لیڈروں سے ملانے کی یقین دہانی کرائی ۔ سمجھا جارہا ہے کہ اس معاملے کودہلی پولیس اور عدالت کے سامنے رکھ کر سہیل ہندوستانی سیاست میں بڑا بھونچال لا سکتا ہے۔ذرائع کے مطابق راجیہ سبھا کے چیئر مین اور لوک سبھا کے اسپیکر دونوں میں دہلی پولیس کو کیش فار ووٹ معاملے کی جانچ آگے بڑھانے کی ہری جھنڈی دکھا دی ہے۔ اس سے صاف ہے کہ آنے والے وقت میں سپا کے ایم پی ریوتی رمن سنگھ اور سابق سکریٹری جنرل امر سنگھ کی مشکلیں بڑھنے والی ہیں۔ اس معاملے میں ابھی بھاجپا ، لیفٹ پارٹی ، جنتا دل (یو) سمیت دیگر پارٹیاں پولیس کی جانچ پر پوری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں ایک بار پھر ’’کیش فار ووٹ‘‘ معاملے کی گونج سنائی دینے کے آثار ہیں۔ اس معاملے میں وزیر اعظم منموہن سنگھ کی پہلے سے گرتی ساکھ اور گرنے کے امکان سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن سارا دارومدار دہلی پولیس کی جانچ اور عدالتوں کے رویئے پر منحصر کرتا ہے۔

21 جولائی 2011

کیش فار ووٹ معاملہ: امر سنگھ پر کستا شکنجہ


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 21th July 2011
انل نریندر
یوپی اے I حکومت کو بچانے کے لئے مبینہ طور سے ممبران پارلیمنٹ کے بارے میں خریدنے کے الزام کی جانچ کے سلسلے میں دہلی پولیس کی جانب سے گرفتار کردہ سنجیو سکسینہ کوپیر کے روز اسپیشل جج سنگیتا ڈھینگراسہگل کی عدالت میں پیش کیاگیا۔ عدالت نے پولیس کو پختہ جانکاری حاصل کرنے کیلئے سکسینہ کو تین دن کے لئے پولیس ریمانڈ میں دے دیا۔ غور طلب ہے کہ یوپی اے I سرکار کے عہد میں جب لیفٹ پارٹیوں کے حمایت واپس لینے کے بعد منموہن سنگھ نے لوک سبھا میں اپنی اکثریت ثابت کی تبھی ممبران کی خریدو فروخت کا الزام لگا تھا۔ اسی کڑی میں 22 جولائی 2008 کو اعتماد کے ووٹ سے ایک دن پہلے 3 بھاجپا ممبران پارلیمنٹ کو مبینہ طور پر ایک کروڑ روپے دئے گئے تھے۔ پولیس نے الزام لگایا ہے کہ 22 جولائی کو سماج وادی پارٹی کے اس وقت کے جنرل سکریٹری امر سنگھ نے بھاجپا ایم پی پھگن سنگھ کلستے اور اشوک ارگل کا سنجیو سے تعارف کروایا تھا۔ دعوی کیا گیا ہے کہ سنجیو سکسینہ سے پارلیمانی کمیٹی کو بھی غلط جانکاری دے کر حقائق سے بھٹکانے کی کوشش کی۔ الزام ہے کہ سنجیو نے ہی بھاجپا ایم پی کو ایک کروڑ روپے دئے تھے۔ اس معاملے میں بھاجپا کے سابق ایم پی مہاویر سنگھ بھگوٹا اور پھگن سنگھ کے بیان درج کئے جاچکے ہیں۔ اشوک ارگل کا بیان لیا جانا ہے۔ ذرائع کے مطابق گرفتاری کے بعد ابتدائی پوچھ تاچھ میں سنجیو سکسینہ نے بغیر کسی جھجھک کے امر سنگھ کے ساتھ اپنے قریبی رشتوں کی بات کہی ہے۔ اس نے پولیس کو بتایا کہ وہ سنگھ کے سکریٹری کی شکل میں کام کرتا تھا۔ وکیل دفاع نے عدالت کو بتایا کہ امر سنگھ کے ڈرائیور سنجے سنگھ کی تلاش جاری ہے۔
سنجے کا بیان اس معاملے میں کافی اہم مانا جاتا ہے کیونکہ وہ ہی اس بات کی تصدیق کرسکتا ہے کہ وہ سنجیو سکسینہ بھاجپا ایم پی کی رہائش گاہ پر ایک کروڑ روپے لیکر دینے گئے تھے۔ امر سنگھ 20 جولائی 2008 کو سنجیو سکسینہ کو اپنا سکریٹری بتاتے ہوئے بھاجپا ایم پی اشوک ارگل سے ملوایا۔ سکسینہ نے لودھی اسٹریٹ میں واقع رہائش گاہ پر ارگل کو ایک کروڑ روپے دئے تھے۔ پھگن سنگھ کلستے اور مہاویر سنگھ بھگوٹا نے بھی سکسینہ کی پہچان کرلی ہے۔ پولیس نے چھان بین کرکے یہ پتہ لگا لیا ہے کہ یہ پیسہ کس کے یوپی کے بینک کھاتے سے نکالا گیا۔ دراصل نوٹوں کی گڈی پر بینک کا لیبل چپکا رہ گیا تھا۔ اب کس کھاتے سے یہ پیسہ نکالا گیا یہ پتہ لگانے کی کوشش جاری ہے۔ 3 کروڑ یکمشت نہیں نکالا گیا یہ تھوڑا تھوڑا کر کے نکالا گیا۔
شری امر سنگھ پر پولیس کا شکنجہ کستا جارہا ہے۔ سنجیو سکسینہ نے تو سیدھا الزام لگا ہی دیا ہے کہ یہ پیسہ امر سنگھ نے انہیں دیا تھا۔ اگر ڈرائیو سنجے بھی مل جاتا ہے اور وہ بھی یہ کہہ دیتا ہے کہ سنجیو سکسینہ ٹھیک کہہ رہے ہیں اور وہ سنجیو کے ساتھ موجود تھا جب بھاجپا کے ایم پی کے لئے ایک کروڑ روپے لے کر گئے تھے، تو معاملہ مزید سنگین ہوجائے گا۔ سرکار اور انتظامیہ نے تو معاملے کو لٹکانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ لیکن جمعہ کے روز سپریم کورٹ نے دہلی پولیس کو کچھ نہ کرنے پر سخت پھٹکار لگائی تھی تب جاکر دہلی پولیس حرکت میں آئی اور سنجیو سکسینہ کی گرفتاری ہوئی۔ یہ معاملہ بہت سنگین بن سکتا ہے۔ اس میں کئی بڑی ہستیاں شامل ہوسکتی ہیں۔ اپنے عہد کے آخری دور میں لڑکھڑانے والی یوپی اے I سرکار کے لئے ایک نیا درد سر کھڑا ہوسکتا ہے۔ اپنے ساتھی رہے سنجیو سکسینہ کی گرفتاری سے بوکھلائے امر سنگھ کانگریس کے حکمت عملی سازوں کو خبردار کیا ہے اگر قانون کے ہاتھ ان تک پہنچے تو وہ سب کا پردہ فاش کردیں گے۔ الزام یہ ہے کہ کانگریس کے کچھ حکمت عملی سازوں کے کہنے پر امر سنگھ نے بھاجپا ممبران پارلیمنٹ کو رشوت دی تھی جنہوں نے اپنی پارٹی کے وھپ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یوپی اے حکومت کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ تب جاکر منموہن سنگھ حکومت بچ پائی تھی۔ لیکن اس جانچ میں تین سال کی ڈھلائی برتنے کے سپریم کورٹ پھٹکار کے بعدپولیس حرکت میں آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق امرسنگھ کانگریس کے رویئے سے ان دنوں خاصے ناراض چل رہے ہیں اور انہیں اس بات کا درد ہے کہ آڑے وقت میں کانگریسی ان سے کام نکلوا لیتے ہیں اور بعد میں بھول جاتے ہیں۔ حال ہی میں امر سنگھ نے کانگریس کے ہی حکمت عملی سازوں کے کہنے پر ٹیم انا ہزارے کے سب سے لائق وکیل شانتی بھوشن اور پرشانت بھوشن کے کچے چٹھے کھولنے میں بھی مدد کی تھی۔ لیکن اس کے بعد بھی قانونی شکنجہ ان کی طرف بڑھتا جارہا ہے۔ اب انہوں نے کانگریس لیڈروں کو صاف وارننگ دے دی ہے کہ اگر دہلی پولیس ان کے دروازے پر چڑھی تو پھر وہ کسی کو بھی نہیں چھوڑنے والے ہیں۔ ان کے پاس جو بھی خفیہ معلومات یا اطلاعات ہیں وہ انہیں عام کردیں گے۔
Tags: Amar Singh, Anil Narendra, Cash for Vote Scam, Congress, Daily Pratap, Samajwadi Party, UPA, Vir Arjun

امریکہ میں 7 جگہ حملے کس نے کئے ؟

امریکہ کے 7 ریاستوں میں ایک کے بعد ایک زبردست اٹیک ہوئے ہیں یہ حملے سیدھے اس لائف لائن پر ہوئے ہیں ،جس کی درد سے عام جنتا کراہ اٹھی ۔اس حملے...