Translater

Rail Minister لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Rail Minister لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

15 جولائی 2012

تتکال ٹکٹوں کے نئے سسٹم سے دلالوں پر روک لگے گی؟

بزنس کی طرح ریل ٹکٹ دلالی کا دھندہ میں راجدھانی میں زوروں پر جاری ہے۔ تمام شکایتوں اور انکشافات کے باوجود ناردرن ریلوے نے پہل کرتے ہوئے ٹکٹ بکنگ کے نئے سسٹم کا اعلان کیا ہے۔ دراصل ان دلالوں کا نیٹ ورک صرف دہلی تک ہی محدود نہیں ہے۔ ان دلالوں کا نیٹ ورک ریلوے کے اندر تک پھیلا ہوا ہے۔ ساتھ ہی دہلی کے باہر بھی ان کے تار جڑے ہوئے ہیں۔ اسی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اپنے اس نیٹ ورک کی بدولت یہ لوگ اپنے اس پیسنجر کے نام پر بھی ٹکٹ انتظام کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں جنہیں ریزرویشن سینٹر پر جانے کے باوجود ناکامی ہاتھ لگتی ہے۔ دلچسپ یہ ہے کہ دلال ٹکٹوں کا ہر سطح پر انتظام کرلیتے ہیں یہاں تک کے شناختی ثبوت نہ ہو تب بھی دلال ٹکٹ کا انتظام کردیتے ہیں بشرطیکہ آپ ٹکٹ کے علاوہ ان کا کمیشن دینے کے لئے راضی ہوجائیں۔ شکایتیں تو یہاں تک ہیں کہ جو سکیورٹی ملازمین ریزرویشن کاﺅنٹر کے آس پاس نگرانی سنبھالے ہوئے ہیں وہ بھی ٹکٹوں کی غیر قانونی بکنگ اور کالا بازار ی میں شامل ہیں۔ بہرحال تتکال ریلوے ٹکٹ بکنگ کا نیا سسٹم نافذ ہوگیا ہے۔ نارمل ریزرویشن صبح 8 بجے سے ملے گا لیکن تتکال کاﺅنٹر10 بجے سے ہی کھلیںگے۔ ریلوے کا خیال ہے اس طرح دلالوں سے نپٹا جاسکے گا۔ دلالوں اور ایجنٹوں کی گڑ بڑی پر لگام لگانے کے تحت ریلوے نے ٹرینوں میںریزرویشن کے تتکال سسٹم کو منگل کے روز سے نافذ کردیا ہے اور اس کا رد عمل ملا جلا ہے۔ جہاں کچھ لوگوں نے نئے سسٹم کی تعریف کی وہیں دیگر کا خیال ہے کہ اس سے بڑا فرق نہیں آئے گا۔ فیملی سمیت دہلی سے کانپور جا رہے ایک مسافر کا کہنا تھا کہ مجھے پہلے کی طرح ریزرویشن سینٹر پر جلدی نہیں جانا پڑا میں صبح 10 بجے سینٹر پر پہنچا اور فارم بھرا اور 25 منٹ کے اندر مجھے ٹکٹ مل گیا۔ وہیں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جنہیں کافی انتظار کے باوجود ٹکٹ نہیں ملا۔ تتکال سسٹم کا موٹے طور پر خیر مقدم کیا جانا چاہئے۔ نئے سسٹم سے دلالی پر تھوڑی روک لگے گی۔ جو پیسنجر تتکال ریزرویشن کرانے کے لئے رات سے ہی آکر کھڑکیوں پر لگ جاتے تھے اس سے انہیں چھٹکارا ملے گا۔ ٹرینوں میں تتکال ریزرویشن کے لئے افراتفری کا ماحول ختم ہوگا۔ ویسے نئے سسٹم کو لے کر یہ اندیشہ ضرور ظاہر کیا جارہا ہے کہ اس سے ریزرویشن مراکز پر لوگوں کے درمیا ن رد عمل کے طور پر غلط فہمی اور افراتفری کا ماحول پیدا ہوسکتا ہے یہ وہیں یہ خطرہ بھی لوگوں کو ستا رہا ہے کہ بکنگ اسٹاف اور غیر قانونی ایجنٹوں اور دلالوں کی ملی بھگت کا کوئی اور نیا طریقہ نکل آئے گا اور عام لوگوں کی مصیبت جوں کی توں بنی رہے گی۔ پھر جن لوگوں کو کچھ زیادہ پیسہ دے کر فون پر ٹکٹ مل جاتے تھے انہیں ریزرویشن کاﺅنٹروں پر جاکر ٹکٹ کی لائن میں لگنے میں دقت ضرور آئے گی۔ جہاں ہم ریلوے کے اس قدم کی تعریف کرتے ہیں وہیں یہ بھی کہنا چاہیںگے نئے سسٹم کو پوری طرح سے کامیاب کرنے میں ابھی اور مشکلیں آئیں گی۔

21 مارچ 2012

ممتا نے ثابت کردیا کہ وہ اپنی ضد کی پکی ہیں!



Published On 21 March 2012
انل نریندر
14مارچ کو دینش ترویدی نے پارلیمنٹ میں ریل بجٹ پیش کیا تھا۔ اس میں انہوں نے مسافر کرایے میں اضافے کی تجویز رکھی تھی۔ اس تجویزکو لے کرترنمول کانگریس کی چیف ممتا بنرجی اتنی خفا ہوئیں کہ انہوں نے ترویدی سے فوراً اپنے عہدہ سے استعفیٰ دینے کو کہہ دیا ۔انہوں نے اعلان کیاکہ ترویدی نے کانگریس کے کچھ لیڈروں سے سانٹھ گانٹھ کرکے مسافروں کا کرایہ بڑھانے کافیصلہ کرلیاہے جب کہ اس بارے میں انہوں نے کسی بھی سطح پر پارٹی سے مشورہ نہیں کیا۔ ایسے میں انہوں نے پارٹی کا اعتماد کھو دیا ہے۔ ناراض ممتا نے اسی دن وزیراعظم کو ایک فیکس پیغام کے ذریعہ کہاتھا کہ دینش ترویدی کی جگہ ان کی پارٹی سے مکل رائے کو وزیرریل بنادیا جائے۔ چاردن کے ہائی وولٹیج ڈرامے کے بعد دنیش ترویدی کو آخر کار استعفیٰ دینا پڑا جو منظور بھی ہوگیا۔ دینش ترویدی نے دراصل وہ کام کیا جو سابق وزیرریل ممتابنرجی خود لالو پرساد یادو کے آٹھ سال وزیررہتے کرایہ نہ بڑھانے کے فیصلہ کی روایات کو ہی توڑدیا۔ویسے دینش ترویدی ویسے ایک اچھے لیڈر ہیں۔ 61سالہ ترویدی ترنمول کانگریس کے قیام کے بعد سے ہی ممتا کے خاص رہے ہیں ان کی وفاداری کی وجہ سے ہی انہیں ممتانے اپنی جگہ مرکزی کیبنٹ وہ جگہ دلادی ہے۔ ممتا نے مغربی بنگال کا وزیراعلی بننے کے بعد وزیرمملکت خاندانی وبہود وصحت سے ترقی کرکے انہیں اپنی جگہ وزیرریل بنوایا ہے ۔ترویدی سیاست کے جرائم کرن کے خلاف برسوں سے لڑرہے ہیں اور انہوں نے کئی مفاد عامہ کی عرضیا بھی دائر کی ۔وہرہ کمیٹی کی وجہ سے ہی اطلاعات حق کاقانون بن سکا۔ یہ کمیٹی ترویدی کی عدالت میں دائر کردہ عرضی کی وجہ سے تشکیل دی گئی تھی۔ اناہزارے کے پچھلے پانچ اپریل کو جنترمنتر پر انشن شروع ہوا تھا۔ تو ترویدی نے انہیں خط لکھ کر عہدہ چھوڑنے کی بھی خواہش جتائی تھی۔ وہ انا ہزارے اور اروندگیجری وال سے بھی وابستہ رہے ہیں۔ان سے دنیش ترویدی نے کہا کہ وہ کرپشن کے خلاف لڑائی کو مضبوطی دینے کو تیار ہے۔ راجیہ سبھامیں دوبار چنے گئے ترویدی نے 2009 کے لوک سبھاچناؤ کے مارکسوادی کے مضبوط امیدوار تارت توپ دار کو بیرک پور سے ہرایا تھا بنیادی طور سے کانگریسی رہے ترویدی وی پی سنگھ کی قیادت والے جنتادل میں بھی شامل ہوئے تھے۔ کولکتہ یونیورسٹی سے بی کام اور ٹیکساس یونیورسٹی سے ایم بی اے پاس ترویدی پائلٹ کابھی لائسنس حاصل کیاتھا۔ دنیش ترویدی کو ریل کا کرایہ بڑھانے میں اپنے بہادرانہ فیصلے کے سبب اپناعہدہ گنوانا پڑا۔ ترویدی نے اپنے ریل بجٹ میں سبھی زمروں کے ریل کرایے میں اضافی کی تجویز رکھی تھی۔ سب سے پہلے اس کی مخالفت انہیں کی پارٹی کے نیتا اور مرکزی وزیر سدیب بند اپادھیائے نے کی تھی۔وزیراعظم اور وزیرخزانہ دونوں نے ہی ممتا کو بہت سمجھانے کی کوشش کی کہ بجٹ اجلاس ختم ہونے دیجئے پھر بدل دیں گے اس کے لئے ممتا تیار نہیں ہوئی۔ چار دنوں تک سیاسی ڈرامہ چلتا رہا۔ اپوزیشن کو بھی ہتھیار مل گیا۔ سرکار کو کٹگھرے میں کھڑے کرنے کا ۔دنیش ترویدی نے بھی کہہ دیا کہ مجھ سے لکھ کر استعفیٰ مانگا جائیگا تب دوں گا ۔ لیکن جب میں ممتا سے ان کی ٹیلی فون پر بات ہوئی تو استعفیٰ دینے کو تیار ہوگئے۔ اس سے ممتا نے ایک بار پھر ثابت کردیا وہ اپنی ضد کی پکی ہیں۔ اور ایک بار وہ جو کچھ ٹھان لے اسے پورا کروا کر ہی مانتی ہے۔ ایسا کرنے کی قیمت چاہے انہیں کچھ بھی چکانی پڑے۔ اب مکل رائے نئے وزیرریلوے بن گئے ہیں۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Mamta Banerjee, Manmohan Singh, Prime Minister, Rail Minister, Vir Arjun

پوتن سے جنگ ختم کرنے کی اپیل

جنگ انسانی تہذیب کی سب سے بڑی ٹریجڈیوں میں سے ایک ہے اور آج ایک نہیں کئی جنگیں چل رہی ہیں ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ جنگ سے مسائل کا حل تو دور ا...