یہ بہت تسلی کی بات ہے کہ سپریم کورٹ نے امرناتھ یاتریوں کی موت پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے ایک پینل مقرر کیا ہے۔ جس کا مقصد یاترا کے دوران شردھالوؤں کی بڑھتی موت کی تعداد پر روک لگائی جائے؟ سرکاری اعدادو شمار کے مطابق اس سال98 سے زیادہ اموات ہوچکی ہیں۔ گذشتہ دنوں بھاجپا کا ایک نمائندہ وفد وزیر داخلہ پی چدمبرم سے ملا۔ سشما سوراج، ارون جیٹلی کی نمائندگی میں بھاجپا نے ایک میمورنڈم وزیر داخلہ کو سونپا تھا۔ امرناتھ یاترا کی مدت بڑھائے جانے کا مطالبہ کرتے ہوئے بھاجپا نے الزام لگایا کہ اس بار وہاں تیرتھ یاترا کے دوران ریکارڈ تعداد میں شردھالوؤں کی موتیں ہونے کی وجہ جموں وکشمیرسرکار کی بدانتظامی اور یاترا کا وقت گھٹانا ہے۔ وزیر داخلہ سے ملاقات کے بعد سشما سوراج نے بتایا کہ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے شری امرناتھ شرائن بورڈ میں بابا امرناتھ میں آستھا رکھنے والوں کو ہی جگہ دی جائے۔ انہوں نے کہا ابھی اس بورڈ میں 70 فیصد غیر ہندو ہیں جو اس اصول کے خلاف ہے کہ کسی مذہب خاص کی عقیدت گاہ سے متعلق انتظامیہ بورڈ میں عقیدت رکھنے والے ہی شامل ہونے چاہئیں۔اس مرتبہ امرناتھ یاترا پر گئے شردھالوؤں میں سے 98 افراد کی موت ہوچکی ہے جو بڑی تشویش کی بات ہے۔ اس خوفناک صورتحال کی وجہ یہ ہے کہ بورڈ نے نہ جانے کس وجہ سے اس مرتبہ یاترا کے دنوں کو60 سے گھٹا کر39 کردیا ہے۔ ایک طرف شردھالوؤں کی تعداد بڑھ کر 8 لاکھ ہوگئی ہے تو دوسری طرف یاترا کی میعاد گھٹا دی گئی جس وجہ سے یہ سنگین صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ امرناتھ یاترا کی اس پیچیدہ پہاڑی خطے میں ’’انسانی لائن نظام‘‘ کو بنانے سے بھی حالات بدسے بدتر ہوئے ہیں۔ اس کے چلتے ابھی پہاڑیوں میں بھاری بارش اور زیادہ سردی میں شردھالوؤں کو دو سے پانچ دن تک قطار میں کھڑے رہنا پڑرہا ہے۔ ڈاکٹروں کا بھی کہنا ہے کہ آب و ہوا خراب موسم اور زیادہ اونچائی سے بھی بیماریاں اور فرضی صحت سرٹیفکیٹ اور انتظام میں خرابی اموات میں اضافے کا سبب ہوسکتے ہیں۔جموں و کشمیر سپر اسپیشلٹی ہسپتال شیرِ کشمیر میڈیکل سائنس انسٹیٹیوٹ میں میڈسن کے چیف پرویز کول کا کہنا ہے کہ تیرتھ یاتریوں کی موت میں ممکنہ جو ایک خاص وجوہات ہیں وہ ہیں مقامی آب و ہوا میں تبدیلی اور زیادہ اونچائی پر یاترا کرنے سے پہلے وہاں کی آب و ہوا ٹھیک ٹھاک ہونی چاہئے۔ کول نے کہا تیرتھ یاتری بال تال اور پہلگام سے اٹھتے ہیں اور بغیر کسی مناسب آب و ہوا کے اونچائیوں پر چڑھنا شروع کردیتے ہیں۔ زیادہ اونچائی کی وجہ سے بیماریاں اور اس سے متعلق پریشانیوں سے بچنے کے لئے تیرتھ یاتریوں کے لئے آب و ہوا ٹھیک ہونا چاہئے۔تیرتھ یاتریوں کے لئے طبی سہولیات اور ان کے ٹھہرنے کے کیمپوں کی بھی بھاری کمی ہے۔ درشن کرنے والوں کی سہولت کے لئے پہلگام، چندن واڑی اور بالتال میں بنیادی سہولیات سے آراستہ سفر ہوم بنائے جائیں جس میں شردھالوؤں کے ٹھہرنے کی تمام سہولیات ہوں۔ اس کے علابہ بالتال اور جوناوار میں 20 بستر والے اور یاترا مارگ میں جگہ جگہ چار پانچ چھوٹے دیگر ہسپتال کھولنے ہوں گے۔ امرناتھ یاترا ہندو۔ مسلم اتحادی کی علامت ہے جو جموں و کشمیر کی معیشت کو بھی بڑا یوگدان دیتی ہے اس لئے سلامتی کے نقطہ نظر سے بھی خطرہ رہتا ہے۔ امید ہے کہ امرناتھ یاتریوں کو اور محفوظ بنانے پر سرکار پوری توجہ دے گی، ہر ہر مہادیو۔
Translater
28 جولائی 2012
راجستھان ۔ہریانہ کے بعد اب دہلی میں بھی گٹکھے پر پابندی
دہلی میں جلد ہی گٹکھے پر پابندی لگائے جانے کی بات نے ہزاروں کروڑ روپے کے گٹکھا بازار میں ہلچل پیدا کردی ہے۔ بلیک کرنے والوں نے تین دنوں کے اندر گٹکھے کو اصل قیمت سے دوگنے دام پر پہنچا دیا ہے۔ خوردہ میں ایک روپے کا بکنے والا گٹکھا 2 روپے میں بک رہا ہے۔ راجستھان اور ہریانہ میں گٹکھے پر پابندی لگ چکی ہے اب افواہ ہے کہ دہلی میں بھی جلد گٹکھے پر پابندی لگنے والی ہے۔ حالت یہ ہے سینسیکس کی طرح ایک دن میں کئی بار گٹکھے کے دام بڑھ رہے ہیں۔ سینسیکس میں تو گراوٹ بھی درج ہوتی ہے لیکن گٹکھا بازار میں تو گراوٹ کی بات تو دور اس میں تیزی ہی آرہی ہے۔ ایک دن میں کئی بار قیمتیں بڑھنے سے گٹکھا کھانے والوں کا تمباکو سے نہیں بلکہ دام سن کر سر چکرا رہا ہے۔ حالانکہ سادا پان مسالہ اپنے دام پر بدستور بک رہا ہے۔ بازار میں یکم اگست سے گٹکھے پر پابندی لگانے کی بات آگ کی طرح پھیل گئی ہے۔ پان فروش کو ایجنسی سے ہی پرنٹ ریٹ سے کہیں زیادہ پیسے میں گٹکھا مل رہا ہے۔ جس میں صبح شام تبدیلی ہورہی ہے۔ حالت یہ ہے کہ سیلس مین رات میں گٹکھا خریدنے پر کچھ اور صبح میں اسی گٹکھے کے دام بڑھ جاتے ہیں۔ دام بڑھنے کی وجہ سے خریدار سے بھی کھٹ پٹ ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے گٹکھا جیسی چیز کو بلیک کیا جارہا ہے۔ راجدھانی میں گٹکھے کی بکری پر جلدی پابندی لگ سکتی ہے۔ دہلی سرکار آئندہ کیبنٹ میں اس سلسلے میں ایک بل لانے کی تیاری کررہی ہے۔ دراصل دہلی میں بک رہے کئی نامی گرامی کمپنیوں کے گٹکھے میں نکوٹین پائی گئی ہے۔ یہ انکشاف دہلی کے غذائی پروسیسنگ محکمے نے ایک جانچ میں کیا ہے۔ فوڈ اینڈ سیفٹی ایکٹ کے تحت بغیر وارننگ کے نکوٹین والی چیز بیچنے پر 2 لاکھ روپے کا جرمانہ یا چھ مہینے سے لیکر عمر قید ہوسکتی ہے۔ دہلی کے وزیر صحت اشوک والیہ نے بتایا جانچ کے دوران گٹکھے میں نکوٹین پائی گئی ہے۔ان چیزوں کی بکری پر پابندی لگانے کے لئے حکومت ایک بل لائے گی۔ پچھلے سال دسمبر اور اکتوبر میں مختلف علاقوں سے گٹکھے کے چھ سیمپل اکھٹے کئے گئے تھے ان میں دلباغ، سنجوگ، سواگت اور شیکھر کمپنیوں کے پروڈیکٹس شامل ہیں۔ دلباغ کے دو پروڈکٹ لئے گئے تھے ان میں سے ایک میں 2.62 اور دوسرے میں 2.17 فیصد نکوٹین پائی گئی تھی۔سنجوگ کھینی میں 1.41 فیصد نکوٹین نکلی۔ دہلی انسٹیٹیوٹ آف فارمیٹیکل اینڈ ریسرچ سینٹر کے پرنسپل پروفیسر ایس ایل اگروال کا کہنا ہے نکوٹین والی چیزوں کے استعمال سے دماغ میں ٹیومر ہوجاتا ہے وہ ڈپریشن میں آسکتا ہے۔اس کے علاوہ جسم میں موجودنسیں جام ہوجاتی ہیں اس سے جسم کے اندر ہونے والی سرگرمیاں مثلاً دل کا دھڑکنا، سانس لینا جیسے عمل سست پڑ جاتے ہیں۔ یہ صحیح ہے گٹکھا صحت کے لئے نقصاندہ ہے لیکن شراب اور سگریٹ پینا تو اور بھی زیادہ نقصاندہ ہوتا ہے۔ صرف قانون بنانے سے بکری نہیں روکی جاسکتی۔ کروڑوں اربوں روپے کی صنعت بھی ہے جس سے سرکار کو بھی کروڑوں کا فائدہ ہوتا ہے۔پھر بھی صارفین کہہ سکتے ہیں کہ آپ کا فرض یہ بتانا ہے کہ یہ نقصاندہ ہے لیکن لینا یا نہ لینا یہ فیصلہ ہم ہی کرسکتے ہیں۔
27 جولائی 2012
کوکراجھار میں نہ رکنے والے تشدد کے پیچھے کیا وجوہات ہیں؟
آسام کے کوکراجھار اور چرانگ ضلعوں میں پچھلے ایک ہفتے سے جاری فساد رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے چرانگ ضلع سے تین اور لاشیں برآمد کی گئی ہیں جبکہ منگل کی رات فسادیوں نے ضلع کے پانچ دیہات میں گھروں کو جلا دیا۔اسی درمیان فوج کے جوانوں نے شورش زدہ علاقے میں فلیگ مارچ کیا۔کوکراجھار اور چرانگ ضلع میں بوڑو قبائل اور غیر قانونی طور سے بنگلہ دیش سے آئے مسلمانوں کے درمیان 19 جولائی کو شروع ہوئے اس جھگڑے میں اب تک 36 لوگ اپنے جان گنوا چکے ہیں جبکہ ایک لاکھ سے زائد لوگ بے گھر ہوچکے ہیں۔ آسام کے فساد کے چلتے شمال مشرقی ریاستوں میں ریل سروس بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ کم سے کم 26 ٹرینوں کو منسوخ کرنا پڑا جبکہ31 ٹرینیں راستے میں ہی مختلف اسٹیشنوں پر روک دی گئی ہیں۔ اس کے چلتے30 ہزار سے زیادہ مسافر راستوں میں اسٹیشنوں پر پھنسے ہوئے ہیں۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے آسام کے وزیراعلی ترون گگوئی کو حالات پر قابو کرنے کے لئے ہر ممکن قدم اٹھانے کو کہا ہے۔ وزیراعظم نے انہیں فون کر کے بات کی اور متاثر افراد کو راحت پہنچانے اور ان کو پھر سے آباد کرنے کے لئے سبھی ضروری قدم اٹھانے کی ہدایت دی ہے۔ اس تشدد کی وجہ ابھی واضح نہیں ہو پائی ہے لیکن ایک رپورٹ کے مطابق 20 جولائی کی رات کو چار بوڑو قبائل کو مسلم اکثریتی گاؤں کوکراجھار ضلع میں تیز ہتھیار سے قتل کردیا گیا جس سے اس پورے علاقے میں پچھلے کئی دنوں سے زمین کو لیکر کشیدگی بنی ہوئی تھی۔ بوڑو لوگوں کا کہنا تھا بنگلہ دیش سے آئے غیر قانونی طریقے سے یہ مسلمان علاقے کی ساری زمین پر زبردستی قبضہ کرتے جارہے ہیں اور سرکار انتظامیہ تماشائی بنی ہوئی ہے۔ آل بوڑو لینڈ ٹیریٹوریل کونسل بہت دنوں سے ان بنگلہ دیشی گھس پیٹھ کے بارے میں خبردار کرتی رہی ہے لیکن ووٹ بینک کی سیاست کے چکر میں حکومت ہند اور آسام حکومت اس بڑھتے مسئلے کو نظر انداز کرتی آرہی ہیں۔ آج آسام کے کچھ حصوں میں بوڑو لوگ اپنے ہی گھر سے بے گھر ہوگئے ہیں کیونکہ ان کی زمینوں پر زبردستی قبضہ کرلیا گیا ہے۔ پچھلے 40 برسوں سے آسام کسی نہ کسی مسئلے کو لیکر لڑائی اور ٹکراؤ کامیدان جنگ بنتا رہا ہے۔ 70 کی دہائی میں آسام گن پریشد نے اپنی کئی مانگوں کو لیکر تب تحریک چلائی تھی۔ مرکز کے اشارے پر سکیورٹی فورس نے پر امن مظاہرین پر بے رحمی سے گولیاں چلائی تھیں۔ آج بھی مرکز اور ریاستی دونوں جگہ کانگریس کا ہی اقتدار ہے لیکن مسئلہ اقتدار بنام جنتا نہ ہوکر جنتا بنام جنتا ہے۔ یا یوں کہیں کہ علاقے کے باشندوں بنام ناجائز گھس پیٹھیوں کے درمیان ہے ۔ یہ صورتحال زیادہ خطرناک ہے۔ بوڑو قبائلیوں اور مسلم تنظیموں کے درمیان شروع ہوئے جھگڑے رکنے کے بجائے آگ کی طرح پھیل رہے ہیں۔ ریاستی انتظامیہ حالات پر قابو پانے میں ناکام ہے۔ مرکز سے نیم فوجی فورس اور فوج تک کی تعیناتی کردی گئی ہے۔ اس کے باوجود فساد رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ اگر جلد سے جلد آگ پر قابو نہیں ہوا تو یہ آگ شمال مشرق کی باقی ریاستوں میں پھیل سکتی ہے ایسے میں وہاں چین اور آئی ایس آئی کے گھس پیٹھیوں کو اپنا کھیل کھیلنے میں آسانی ہوجائے گی۔ دونوں اس علاقے میں کافی دنوں سے سرگرم ہیں اور ایسے ہی موقعے کی تلاش میں ہیں۔ اس لئے مرکز اور ریاستی سرکار کو جلد حل نکالنا ہوگا۔
ہم غریب دیش ہیں پھر بھی سونے کا اتنا لالچ
سونے سے ہندوستانیوں کا لگاؤ سماجی اور تہذیبی روایت کا حصہ ہے۔ جب دیش کو سونے کی چڑیا کہا جاتا تھا تب اس قیمتی دھات کے تئیں دیوانگی سمجھی جاسکتی تھی مگر اب بھارت غریب ملکوں میں شمار ہے ایسے میں گھر پر زیادہ خرچ کرنا شاید ممکن نہ ہو وہ بھی جب اس کی دیش میں کمی ہے اور ہر سال اربوں ڈالر کی غیرملکی کرنسی اس کے منگانے پر خرچ کرنی پڑتی ہے۔ اس سے چالو کھاتے میں مسلسل خسارہ بڑھتا جارہا ہے جس کا سیدھا اثر بھارت کی معیشت پر پڑ رہا ہے۔ صرف ذہنی تشفی کے لئے کئے جانے والے اس خرچ پر لگام لگانے کے لئے ذہنیت بدلنے کی ضرورت ہے۔ بھارتیہ ریزرو بینک (آر بی آئی)کے ڈپٹی گورنر کے سی چکرورتی نے یہ صلاح دی ہے۔ان کے مطابق جب دیش امیر تھا تب سونے کے زیور پہننا تہذیبی روایت اور خوشحالی کی علامت مانا جاتا تھا۔ اس وقت دنیا کی جی ڈی پی میں بھارت کا حصہ 30 فیصد ہوا کرتا تھا مگر اب بھارت غریب ہوگیا ہے۔ ہم غریب ہوگئے ہیں اس لئے ہمیں ذہنیت اور معاشرے کو بدلنا چاہئے۔ اس قیمتی سونے کی دھات کے تئیں اپنی ذہنیت کو بدلنے کے لئے سماجی اور تہذیبی انقلاب کی ضرورت ہے۔ دیش میں سونے کی کل مانگ میں سے90 فیصد زیورات اور بھگوان کو چڑھاوے کی شکل میں استعمال ہوتا ہے۔ مندروں میں دئے جانے والے عطیہ دھارمک جذبات سے جڑے ہیں اور عقیدے کاحصہ ہیں مگر اس کے لئے 22 کیریٹ کا سونا ہی کیوں استعمال کیا جائے؟ اس کے لئے2 کیریٹ کا سونا بھی تو استعمال ہوسکتا ہے۔ زیور آخر زیور ہیں بھلے ہی وہ22 کیریٹ سے بنے ہوں یا 2 کیریٹ سے۔ صحیح معنی میں دیکھا جائے تو موجودہ وقت میں اس کی حقیقت کچھ بھی نہیں ہے کیونکہ سٹے بازی کے چلتے ہی اسکے دام آسام چھورہے ہیں۔اسی وجہ سے اس میں سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے مگر اس سرمایہ کاری سے کچھ واویلے بھی کھڑے ہورہے ہیں۔ ایک دن ایسا بھی آئے گا جب لوگوں کی بھیڑیا چال تھمے گی اور اس کی قیمت چرمراکر نیچے آجائے گی ۔ تب سرمایہ کار کہیں کے نہیں رہیں گے۔ سب سے زیادہ تشویشناک یہ بات ہے کہ اس سونے جیسی پیلی دھات میں امیروں سے زیادہ غریب پیسہ لگا رہے ہیں۔ اسی وجہ سے آر بی آئی نے سونے کے بدلے قرض اور بینکوں کے ذریعے سونے کے سکوں کو بڑھاوا دیا ہے۔ غریب سونا خریدتے ہیں مگر ضرورت پڑنے پر انہیں اسے 30فیصد تک کم قیمت پر گروی رکھنا پڑتا ہے۔ عام لوگوں کا یہ خیال ہے کہ سونے کے زیورات خاندان کے لئے برے وقت میں ایک سکیورٹی کی بات ہے۔ زیور گروی رکھ کر یا بیچ کا گھریلو تنگی سے بچا جاسکتا ہے۔ اس دلیل کو بھی مسترد نہیں کیا جاسکتالیکن عورتوں میں سونے کے زیورات کی چاہت ہمیشہ رہتی ہے یہ ان کا ایک شوق بھی ہے اور ضرورت بھی۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ سونے کی چاہت کو کم کیا جائے اور اس میٹل کی آسام چھوتی قیمت پر بھی قابو کیا جاناچاہئے۔
26 جولائی 2012
کانگریس کس حد تک اتحادی دھرم نبھانے کو تیار ہے؟
یوپی اے سرکار کی مشکلیں تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔ ایک طرف تو سرکار کے اتحادی ساتھیوں نے حکومت اور کانگریس پارٹی کا ناک میں دم کررکھا ہے وہیں دوسری طرف کانگریس کے اندر بھی اب گھمسان مچ گیا ہے۔ راشٹروادی کانگریس پارٹی پہلے سے ناراض چل رہی ہے اور اب تو اس کے لیڈروں نے کانگریس لیڈر شپ کو وارننگ دینا شروع کردی ہے۔ راشٹروادی کانگریس پارٹی نے کانگریس کو وارننگ دی ہے کہ اگر یوپی اے اتحاد کیلئے تال میل کمیٹی اور ساتھیوں کے ساتھ مناسب برتاؤ جیسی ان کی مانگوں کا بدھوار تک کوئی حل نہیں نکلا تو وہ حکومت سے الگ ہوسکتی ہے۔ شرد پوار کی پارٹی نے یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ اگر وہ مرکزی سرکار سے الگ ہوتی ہے تو اس کا اثر مہاراشٹر میں اتحادی حکومت پر بھی پڑے گا کیونکہ ریاست کے لیڈر کانگریس یوپی اے کیبنٹ سے الگ ہونے کے حق میں ہے۔ راشٹروادی کانگریس پارٹی مہاراشٹر میں کانگریس سرکار کے ساتھ پچھلے 13 سال سے اتحادی محاذ میں ہے۔ ابھی اتحادی این سی پی کے ساتھ کانگریس کی تکرار رکی نہیں تھی کہ پارٹی کے اندربھی بغاوت شروع ہوگئی ہے۔ مہاراشٹر کے وزیر اعلی پرتھوی راج چوہان کے خلاف انہی کے ممبران اسمبلی نے ان کی شکایت پارٹی ہائی کمان سے کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چوہان اپنی منمانی کررہے ہیں۔ ولاس راؤ دیشمکھ کے حمایتی 42 ممبران اسمبلی نے ایک شکایتی خط ہائی کمان کو لکھا ہے۔ اس میں پارٹی ہائی کمان سے وزیر اعلی پرتھوی راج چوہان کو فوراً عہدے سے ہٹانے کی مانگ کی گئی ہے۔ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ ادھر شردپوار اینڈ کمپنی بغاوتی تیور دکھا رہی ہے تو ادھر کانگریس پارٹی ممبر اسمبلی بھی اپنے وزیر اعلی کے خلاف چارج شیٹ پیش کررہے ہیں؟شرد پواردباؤ بنانے میں ماہر ہیں اور کانگریس لیڈر شپ میں وہی یہ کام آج کل کررہے ہیں۔ کانگریس کی مشکل یہ ہوتی جارہی ہے کہ پارٹی کو مرکزی اورریاستی سطح پر مسلسل تضادی سیاست سے سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مرکز کی سیاست کہتی ہے کہ اسے اتحادی اور حمایتی پارٹیوں سے اچھے رشتے رکھنے چاہئیں تاکہ منموہن سنگھ سرکار بنی رہے جبکہ اس کی ریاستی یونٹ اس کی خلاف ہے کیونکہ انہیں وہاں اسی سیاسی پارٹیوں سے دو دو ہاتھ کرنے پڑ رہے ہیں جس کو مرکز میں آج کل بیحد دلار مل رہا ہے۔اس میں پہلا نمبر ترنمول کانگریس کے ساتھ ہے۔ دہلی میں کانگریس کو جتنا زیادہ ترنمول کی ضرورت ہے مغربی بنگال کی کانگریس یونٹ کو اتنی ہی نفرت ترنمول سے ہے۔ اسے گذشتہ دنوں ترنمول سے بے عزت ہونا پڑا ہے۔ پردیش کانگریس صدر پردیپ بھٹاچاریہ تو کئی بار کھلے عام کہہ چکے ہیں کہ آخرمرکز میں اقتدار کی خاطر ہم کب تک ترنمول کانگریس ورکروں سے پٹتے رہے ہیں؟ اوپر سے ممتا آئے دن یہ کہتے نہیں تھکتییں کہ کانگریس اس کا ساتھ کل چھوڑتی ہے تو آج چھوڑ دے۔ اب تو ممتا نے کھلے عام یہ اعلان کردیا ہے کہ مغربی بنگال کے آنے والے اسمبلی چناؤ بغیر کانگریس کے ہی لڑے گی۔ پچھلی بار بھی ٹکٹ بٹوارے میں کانگریس کے ترنمول سے بیحد بے عزتی کا سمجھوتہ کرنا پڑا تھا۔ مہاراشٹر میں بھی کانگریس این سی پی کو لیکر یہ ہی دکھڑا رو رہی ہے۔ کہاں تو وہ اقتدار میں برابر کی سانجھے دار ہے اور ملائی دار وزارت این سی پی نے اپنے ہاتھوں میں لئے ہوئے ہیں۔ مہاراشٹر کی کانگریس یونٹ کو یہ لگ رہا ہے کہ گھوٹالے پر گھوٹالے تو این سی پی کررہی ہے اور خمیازہ اسے نہ بھگتنا پڑ جائے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ریاستی یونٹ ایک وائٹ پیپر لانے کا مطالبہ کررہی ہے۔ شرد پوار اینڈ کمپنی کو یہ ڈر ستا رہا ہے کہ اگر کسی قسم کا وائٹ پیپر مہاراشٹر حکومت لیکر آتی ہے تو ان کے گھوٹالوں کا پردہ فاش ہوجائے گا جس کا خمیازہ اسے اسمبلی چناؤ میں بھگتنا پڑے گا۔ پرتھوی راج چوہان ایک ایماندار لیڈر کی ساکھ رکھتے ہیں اور وہ پوار اینڈ کمپنی کے دباؤ یا بلیک میلنگ میں نہیں آنے والے ہیں اس لئے اب پوار کی کوشش ہے کہ چوہان کو ہٹوا ہی دیا جائے۔ اسی طرح اترپردیش کانگریس یونٹ بھی دکھی ہے۔ پردیش کے ایم پی کہہ رہے ہیں کہ مرکزی سرکار دونوں ہاتھوں سے سپا کو پیسہ لٹا رہی ہے۔ اس کا استعمال اس کے ہی خلاف ہونا ہے۔ اگر سپا سے اسی طرح کے رشتے کانگریس نبھاتی رہی تو اگلے چناؤ میں کانگریس کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہوگا۔ 22 کی جگہ وہ دو سیٹوں تک محدود ہوجائے گی۔ کل ملاکر کانگریس ہائی کمان کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ مرکز میں اقتدار کی خاطر وہ ریاستوں میں اپنی یونٹوں کو کتنا نقصان پہنچانے کے لئے تیار ہے۔ ویسے ابھی تک تو کانگریس ہائی کمان کی یہ پالیسی رہی ہے کہ ریاست جائے بھاڑ میں مرکز میں اقتدار بنا رہنا چاہئے۔
کیمیاوی ہتھیار استعمال کرنے کی بشرالاسعد حکومت کی دھمکی
شام کی اندرونی حالت انتہائی دھماکو ہوتی جارہی ہے۔ شام کے صدر بشرالاسعدبھلے ہی اپنی ضد پر قائم رہیں لیکن گذرے دنوں جس طرح ان کے تین سپہ سالار مارے گئے اس سے ان کے حمایتیوں کو بھی اب یہ احساس ہونے لگا ہے کہ اسعد کی حکومت کا خاتمہ قریب ہے۔ آزادشام کا مطالبہ زور پکڑنے لگا ہے۔ آزاد شام فوج نے اعلان کیا ہے کہ جو لوگ ڈکٹیٹر اسعد کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے انہیں دشمن مانا جائے گا اور وہ نئے جمہوری ملک میں ان کا کوئی رول نہیں ہوگا۔ حال ہی میں شام کی راجدھانی دمشق میں ایک بڑی سرکاری عمارت کو نشانہ بنا کر کئے گئے خودکش حملے میں وزیر دفاع جنرل داؤد اور نائب وزیردفاع آصف شوکت کی موت ہوگئی۔ شوکت صدر بشرکے بہنوئی تھے۔ قومی سلامتی چیف حسن ترکمانی بھی ا س حملے میں مارے گئے ہیں۔ اس درمیان امریکی وزیر دفاع لیون پینیٹا نے کہا ہے کہ شام حالات قابو سے باہر ہورہے ہیں۔16 مہینوں سے اسعد حکومت کے خلاف بغاوت جاری ہے یہ پہلا موقعہ ہے کہ جب اتنے اعلی سطح کے لوگوں کو نشانہ بنا کر حملہ کیا گیا۔ ادھر اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں شام کے خلاف مزید پابندیاں لگانے اور خون ریزی روکنے سے متعلق ریزولوشن پر روس اور چین کے ویٹو کرنے کے سبب خارج ہوگیا ہے۔ اس ریزولوشن میں امریکہ ،برطانیہ، فرانس اور جرمنی کو پیش کیا تھا اور دوسرے دس ملکوں نے اس کی حمایت کی تھی۔ پاکستان اور جنوبی افریقہ ووٹنگ سے دور رہے۔ بھارت نے ریزولوشن کے حق میں ووٹ دیا۔ شام میں اسعد حکومت اب اپنے آخری دموں پر ہے۔وہ بوکھلاگئی ہے۔ شام کے وزارت خارجہ کے ترجمان جیہاد چکیانی نے پیر کو یہ دھمکی دے ڈالی اگر شام پر غیر ملکی حملہ ہوتا ہے تو وہ اپنے کمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے گریز نہیں کرے گا۔ان کا کہنا ہے دمشق نے کبھی بھی کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال عام شہریوں کے خلاف نہیں کیا اور نہ کرے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا حکومت شام کے سبھی ہتھیار محفوظ ہیں۔ شام میں تشدد بھڑکنے کے بعد سے ہی یہ خدشہ ظاہرکیا جارہا ہے کہ کیمیاوی ہتھیار یا تو باغیوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں یا پھر سرکار اپنے باغیوں کو دبانے کے لئے بھی ان کا استعمال کرسکتی ہے۔ شام کے پاس بڑی تعداد میں کیمیائی ہتھیار سرین اور تکن اور مسٹڈ گیس ہے۔ اگرچہ ان کی صحیح تعداد پتہ نہیں ہے۔ عرب لیگ نے صدر اسعد کو ملک چھوڑنے کی پیشکش کی تھی جسے اسعد نے مسترد کردیا ہے۔ غور طلب ہے کہ عرب لیگ نے شام کے صدر اسعد سے دیش کو بچانے کی خاطر اپنا عہدہ چھوڑنے کی اپیل کی تھی۔ لیگ نے اسعد کو دیش سے محفوظ نکلنے کا یقین بھی دلایا تھا۔ دوہا میں وزراء خارجہ کی میٹنگ میں ایتوار کو یہ اعلان کیا گیا۔ عرب لیگ نے کہا کہ دیش میں اسعد کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لئے کافی خون بہایا جاچکا ہے۔ ایسے میں بہتر یہ ہی ہوگا کہ اسعد اپنا عہدہ چھوڑدیں۔اب سبھی کو تشویش ہے کہ بوکھلائی اور چوطرفہ گھری اسعد سرکار کیمیاوی ہتھیار استعمال نہ کرے۔ اس کے دوررس مضر نتائج سے پورا دیش اور پڑوسی تک متاثر ہو سکتے ہیں۔ امید کی جانی چاہئے نوبت یہاں تک نہ آئے۔
25 جولائی 2012
آتنکیوں کا فنڈنگ بینک
آتنک وادی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لئے اقتصادی فنڈنگ ضروری ہوتی ہے۔ پیسے سے ہی سارا کام چلتا ہے۔ دہشت گرد تنظیم اپنی یونیٹوں تک پیسہ پہنچانے کے لئے مختلف طریقے اپناتی ہیں۔ ان میں حوالہ اور بینک سب سے زیادہ استعمال کئے جاتے ہیں۔ عام طور پر بینک اپنے کھاتے داروں پر گہری نگاہ رکھتے ہیں لیکن کچھ بینک ہیں جو اپنے ذاتی فائدے کے لئے مبہم کھاتوں کی سرگرمیوں کو نظرانداز کردیتے ہیں کالی کمائی یا مبہم پیسے کے لین دین کوروکنے کے لئے اب بین الاقوامی سطح پر کوششیں ہورہی ہیں۔ سرکاروں کو سمجھ میں آرہا ہے کہ کالی کمائی کا لین دین صرف کاروبار کے لئے نہیں ہورہا ہے بلکہ اس کا تعلق دہشت گردی اور بین الاقوامی جرائم سے بھی ہے۔ امریکہ نے پایا ہے کہ ہانگ کانگ بینک (ایم ایس بی سی) کے ذریعے بھارت سمیت دنیا بھر کے ملکوں تک دہشت گردوں اور منشیات مافیا تک پیسہ پہنچ رہا ہے۔ ایوان بالا سینیٹ کے سب کمیٹی کے چیئرمین سینیٹرکارلیون نے 340 صفحات کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایم ایس بی سی نے اپنے امریکی بینک کے ذریعے خود سے وابستہ دوسرے ملکوں کے بینکوں کے گراہکوں کو ڈالر امریکہ بھیجنے میں مدد دی۔ بینک نے سعودی عرب کے اررجائی بینک کے ساتھ بھی کاروبار کیا ہے۔ اس بینک کے چیف بانی کو پہلے القاعدہ کی سرپرستی حاصل تھی ۔ اس نے سعودی عرب اور بنگلہ دیش کے ان بینکوں کو ڈالراور بینکنگ سروس فراہم کی جو دہشت گردوں کو پیسہ دستیاب کرانے سے جڑے رہے ہیں۔ بینک پر سب سے پہلے شبہ اس وقت ہوا جب2007-08 کے دوران میکسیکو سے وابستہ ایم ایس بی سی سے ایم ایس بی سی امریکہ کو سات ارب ڈالر بھیجے تھے اور دوسرے میکسیکن بینکوں سے یہ رقم دوگنی سے بھی زیادہ تھی اس میں بڑا حصہ ڈرگ اسمگلنگ کا تھا۔ جانچ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایم ایس بی سی لندن میں واقع ہیڈ کوارٹر کے ذریعے میکسیکو، سعودی عرب اور بنگلہ دیش سے اربوں ڈالر کا مبہم کاروبار امریکہ میں آیا۔جنوری 2009 میں ایم ایس بی سی نے اپنی ہانگ کانگ شاخ کو ڈالر کے علاوہ روپیہ ،تھائی اور غیر ملکی کرنسی اررجائی کو سپلائی کرنے کا اختیار دیا۔ 2010ء میں ایم ایس بی سی نے پیسہ ٹرانسفر کرنے کے لئے نئی اسکیم ایم ایس بی ایل فاسٹ کیش لانچ کی۔ اس اسکیم کے تحت سعودی عرب کی راجدھانی ریاض سے پاکستان کے سب سے بڑے بینک حبیب بینک کی کسی بھی شاخ میں پیسہ فوراً ٹرانسفر کیا جاسکتا تھا۔اسکیم کے تحت پیسہ پانے یا بھیجنے والے کا کسی بھی بینک میں کھاتہ ہونا ضروری نہیں تھی۔ امریکی حکومت کافی عرصے سے یہ کوشش کررہی ہے آتنک وادیوں کو ملنے والے پیسے کے ذرائع بند کردئے جائیں۔ ان ذرائع میں حوالہ کاروبار جیسے غیر قانونی دھندے ہیں ساتھ ہی کچھ بینک اور کچھ دیش بھی قصوروار ہیں جہاں اقتصادی قواعد ڈھیلے ہیں۔ کیش چوروں کے لئے جن ملکوں کو سورگ مانا جاتا ہے ان دیشوں میں جو کاروبار ہوتا ہے اس میں صرف ٹیکس بچانے والے صنعت کار ہتھیار ،سوداگر اور کاروباری نہیں ہوتے۔ آتنک وادی اور منظم جرائم پیشہ بھی ہوتے ہیں۔ یہ مانا جاتا ہے کہ داؤد ابراہیم جیسے مافیا کا پیسہ ان ہی راستوں سے بھارت میں آتا ہے اور غیر قانونی دھندوں میں ان کی سرمایہ کاری ہو کر وہ جائز کردیا جاتا ہے۔ اسی طرح ایم ایس بی سی جیسے بینکوں کے افسر بھی زیادہ منافع کے لالچ میں دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کے ذریعے بینک کے غلط استعمال کو نظرانداز کردیتے ہیں۔ اگر بھارت کو بھی دہشت گردی یا منظم جرائم سے موثر ڈھنگ سے نمٹنا ہے تو ضروری ہے کے ایسے قدم بلا تاخیر اٹھائے جائیں جس سے مشتبہ اور غیر قانونی کاروبار پر لگام لگ سکے۔ امریکی حکومت اگر دھمکاتی ہے تو ہم ایم ایس بی سی جیسی تنظیم کے سامنے چپ چاپ سرنڈر کردیتے ہیں اور معافی مانگنے، سزا بھگتنے اور ضروری احتیاطی قدم اٹھانے کو تیار ہوجاتے ہیں۔ وہیں بھارت سرکار کسی غلط کاروبار پر نکیل کسنے کو سوچتی ہے تو اسے یہ ڈر دکھا دیا جاتا ہے کہ اس میں غیر ملکی سرمایہ کاری گھٹ جائے گی۔ بین الاقوامی برادری میں بدنامی ہوگی لیکن ایسے قدم اٹھانے کیلئے بھارت سرکار کو قوت ارادی کا مظاہرہ کرنا ہوگا جو اب تک نظر نہیں آتا۔
کہیں آپ کی جیب میں جعلی نوٹ تو نہیں ہیں؟
کہیں آپ کی جیب میں جو نوٹ ہیں وہ جعلی تو نہیں ہیں کیونکہ پچھلے کچھ برسوں میں دیش میں جعلی نوٹ کا کاروبار کافی بڑھ گیا ہے۔ ریزرو بینک کے مطابق2011-12 میں 24.7 کروڑ روپے کے نقلی نوٹ پکڑے گئے تھے۔ یہ رقم پانچ برس پہلے کے مقابلے پانچ گنا زیادہ ہے۔ اطلاعات حق کے تحت آر ٹی آئی رضا کار سبھاش چندر اگروال کو ریزرو بینک نے بتایا کہ نقلی نوٹ کے چلن کا کوئی اندازہ نہیں ہوتا ہے۔ آر بی آئی کے مطابق جیسے جیسے روپے کی قیمت بڑھتی ہے اسے بنانے کی لاگت گھٹتی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر ایک ہزار روپے کے نوٹ کی اوسط پرنٹنگ لاگت4.06 روپے آتی ہے جبکہ پانچ روپے کے نوٹ کو بنانے میں 50 پیسے لگتا ہے مگر جعلی نوٹ میں لاگت کم آتی ہے کیونکہ اس کا کاغذ خراب ہوتا ہے۔ نقلی نوٹ کو بینک واپس نہیں لیتا ہے اور اگر بینک کوایسے نوٹ مل بھی جاتے ہیں تو انہیں فوراً منسوخ کردیتا ہے۔ پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کا بھارت میں نقلی نوٹوں کو بھیجنے میں بڑا ہاتھ ہے۔ آئی ایس آئی کے اشارے پر جعلی نوٹ کے اسمگلروں کے لئے نیپال محفوظ جگہ بن چکی ہے۔ وہ قریب1740 کلو میٹر میں پھیلی ہند۔ پاک سرحد پر نئے نئے طریقوں سے اس کا دھندہ کرتے ہیں۔ نیپال رائل حکومت میں وزیرجنگلات رہے سلیم میاں انصاری نے اس کی شروعات کی۔2002 میں نیپال میں پاکستانی سفارتخانے کے سکریٹری ارشد چیما کے پاس لاکھوں روپے کے جعلی نوٹ کی برآمدگی کے بعد سلیم میاں اہم سانجھے دار کی شکل میں ابھرا۔ سلیم کی موت کے بعد اس کے بیٹے یونس انصاری نے یہ کاروبار سنبھال لیا۔ ان کا پورا خاندان اس دھندے میں لگا ہوا ہے۔ سلیم میاں کا چھوٹا بھائی ظالم میاں نیپال میں مسلم رائٹس کمیٹی کے چیئرمین کی آڑ میں تو بھتیجہ ظفر انصاری و ناصر میاں بیتیا اور موتیہاری علاقے میں جعلی نوٹوں کا کاروبار کررہے ہیں۔ اب تک جعلی نوٹوں کاو بڑا حصہ براستہ کراچی نیپال پہنچتا تھا۔ اب آئی ایس آئی دوبئی، ملیشیا، ہانگ کانگ، بینک کاک ،کولمبو و ڈھاکہ کے راستے انہیں بھارت میں پہنچا رہے ہیں۔ یہ نوٹ نیپال پہنچانے میں عورتوں اور معذوروں کا استعمال ہوتا ہے۔ پچھلے سال اگست میں نیپال میں اپنی ویل چیئر سے 50 لاکھ روپے کے نقلی نوٹ چھپائے ایک معذور پاکستانی محمد فاروق کو گرفتار کیا گیا تھا۔ پچھلے سال21 دسمبر کو کاٹھمنڈو کے کلکی علاقے کے پاس نیپالی پولیس نے فلپائن کے ایک شہری سمیت تین لوگوں کو ایک کروڑ 25 لاکھ روپے کے جعلی نوٹوں کے ساتھ گرفتار کیا تھا۔ کاٹھمنڈو کے تربھون ہوائی اڈے پر اس سال آدھا درجن غیر ملکی شہری جعلی نوٹوں کے ساتھ پکڑے جا چکے ہیں۔ بھارت سرکار نے نقلی نوٹوں کے پھیلاؤ کو روکنے اور نوٹوں کی عمر بڑھانے کے مقصد سے محصور، کوچی، شملہ، جے پور اور بھوبنیشور میں ایک ارب روپے مالیت کے 10 روپے کے پلاسٹک نوٹ جاری کرنے کا من بنایا ہے۔ بینکوں کو ہدایت دی گئیں ہیں کہ وہ کھڑکی پر آنے والے سبھی نوٹوں کو مشین سے جانچ کے بعد ہی دوبارہ جاری کریں۔ اس سے جعلی نوٹوں کو عام لوگوں سے دوررکھنے میں مدد ملے گی۔
24 جولائی 2012
شرد پوار کی لڑائی نمبردو کی حیثیت کیلئے نہیں ہے
تمام کوششوں کے باوجوداین سی پی اور کانگریس لیڈر شپ کے درمیان پیدا ہوئی سیاسی خلیج دور نہیں ہو پارہی ہے کیونکہ اس مرتبہ این سی پی چیف شرد پوار نے کافی اڑیل رویہ اپنالیا ہے۔ لگتا ہے اب یہ ہے کہ اب شرد پوار اینڈ کمپنی اپنی راہ طے کرچکے ہیں۔ این سی پی کے ترجمان ڈی پی ترپاٹھی کے مطابق این سی پی چیف نے ابھی تک اتنا کھل کر سرکار کے کام کاج کی مخالفت نہیں کی تھی اس لئے مہاراشٹر سرکار کو لیکر دہلی تک تال میل کی سطح پر سب کچھ بہتر نہیں تو این سی پی سرکار سے کنارہ کرنے کا من بنا چکی ہے۔ کیا پوار اس لئے کیبنٹ چھوڑنا چاہتے ہیں کانگریس لیڈر شپ انہیں منموہن سرکار میں نمبر دو کی پوزیشن دینے کو تیار نہیں ہے؟ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تو بہانا ہے اصل میں پوار کا زیادہ جھگڑا مہاراشٹر میں وزیر اعلی پرتھوی راج چوہان کے طور طریقوں کو لیکر ہے۔ کافی دنوں سے پوار اور پرتھوی راج کے درمیان کشیدگی جاری ہے۔ بتایا جاتا ہے پوار اور ان کی پارٹی کے لیڈروں کے مفادات کے خلاف ریاستی حکومت نے جو مہم چھیڑ رکھی ہے اس سے این سی پی خفا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ کیبنٹ میں سینیرٹی میں دوسرے نمبر کی آڑ میں راشٹروادی کانگریس پارٹی این سی پی نے یوپی اے سرکار پر دباؤ بنا کر سرکار سے باہر نکل جانے کی بات تک کہہ ڈالی ہے۔ شرد پوار کی اصل ناراضگی کی وجہ مہاراشٹر میں ہے۔ مہاراشٹر پوار کا اصل گڑھ ہے۔ جب سے پرتھوری راج چوہان وزیر اعلی بنے ہیں تبھی سے کانگریس اور این سی پی میں ٹکراؤ چل رہا ہے۔ پوار اینڈ کمپنی کا الزام ہے کہ کانگریس نے سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت مراٹھ واڑا میں این سی پی کا اثر کم کرنے کے لئے وہاں کی ساری دیہی اسکیموں کوداؤ پر رکھا ہوا ہے۔ مہاراشٹر سرکار خور شری پوار اور ان کی لڑکی سپریا سلے اور پرفل پٹیل کے چناؤ حلقے میں مختلف اسکیموں کو لٹکانے کی سیاست پر چل رہے ہیں۔ مہاراشٹر میں کانگریس این سی پی کی ملی جلی حکومت ہے۔ شرد پوار کے بھتیجے اجیت پوار وزیر مالیات ہونے کے باوجود لاچار مانے جاتے ہیں۔ پرتھوی راج چوہان کی ساری فائلیں دبائے بیٹھے ہیں۔ یہ بھی پتہ چلا ہے کہ شرد پوار کی ناراضگی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ان کے وزیر اعلی کے عہد میں ایک سینچائی اسکیم میں الاٹ بجٹ سے 26 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ خرچ کی جانچ بھی ہے۔ اس پروجیکٹ میں پوار کے رشتے داروں کو ٹھیکے ملے تھے۔ اب اس پروجیکٹ پر ہوئے خرچ کی جانچ کی رفتار کو جہاں پوار سست کرنا چاہتے ہیں وہیں ایک معاملہ مہاراشٹر ہاؤسنگ گھوٹالے سے وابستہ ہے۔ دہلی میں بنے دوسرے مہاراشٹر سدن کی تعمیر کے وقت اس کی اسکیم رقم 52 کروڑ روپے تھی ،آخر میں یہ سدن تیار ہوتے ہوتے اس کی رقم 152 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔ مہاراشٹر سدن گھوٹالے کی جانچ کی مانگ کو لیکر بھاجپا نیتا کرت سمیا نے حال ہی میں صدرسے بھی شکایت کی تھی اس معاملے میں بھی مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلی چھگن بھجبل کے قریبی رشتے داروں کو ٹھیکہ دیا گیا تھا۔ مہاراشٹر سدن میں گھوٹالے کی بات سامنے آنے پر خود صدر نے اپنے کو اس کے افتتاحی پروگرام سے الگ کرلیا۔ شرد پوار کو اندیشہ ہے کہ جس طرح بھاجپا اس مسئلے کو اٹھا رہی ہے اس سے بھی معاملے کی جانچ ہوئی تو ان کی پارٹی کیلئے پریشانی کھڑی ہوسکتی ہے۔پرفل پٹیل پر بھی طرح طرح کے الزام ہیں۔ خود شرد پوار کے وزیر ذراعت کی حیثیت سے غذائی درآمد برآمد کے معاملے بھی تنازعوں میں ہیں اس لئے لڑائی کی جڑ نمبر دو کی حیثیت کی نہیں۔ یہ معاملہ زیادہ سنگین ہے جو اتنی آسانی سے شاید ہی سلجھ پائے۔ دراصل شرد پوار کو اس بات کی فکر ہے کہ کہیں کانگریس لیڈر شپ اس سال کے آخر تک لوک سبھا کے وسط مدتی چناؤ نہ کروالے۔ پھر مہاراشٹر اسمبلی کے چناؤ بھی 2014ء میں ہونے ہیں۔ ویسے لوک سبھا چناؤ اگر اپنے مقررہ وقت اپریل2014ء میں ہوتے ہیں تو مہاراشٹر اسمبلی چناؤ اکتوبر 2014ء میں ہوں گے۔ اگر لوک سبھا چناؤ میں این سی پی کی پوزیشن کمزور ہوتی ہے تو اس کا اثر مہاراشٹر اسمبلی چناؤ پر بھی سیدھا پڑ سکتا ہے۔ سوال تو اب مہاراشٹر میں کانگریس ۔این سی پی اتحاد سرکار کے مستقبل کو لیکر بھی کھڑا ہورہا ہے۔ دوسری طرف شیو سینا میں آئی دراڑ ختم ہوچکی ہے۔ راج ٹھاکرے اور اوددھو ٹھاکرے کے درمیان بھی دوریاں کم ہورہی ہیں۔ اگر شیو سینا ایک ہوجاتی ہے تو شیو سینا ، ایم این ایس اور بھاجپا مہاراشٹر میں کانگریس ۔ این سی پی اتحاد کی چھٹی کر سکتی ہے۔اس لئے معاملہ زیادہ سنگین ہے۔ یہ لڑائی صرف نمبر دو کی حیثیت کی نہیں اس سے زیادہ پیچیدہ ہے۔
آچاریہ بال کرشن کی گرفتاری کے پیچھے اصل مقصد کیا ہے؟
یوگ گورو بابا رام دیو اور انا ہزارے کے کرپشن اور کالی کمائی کے خلاف آئندہ مشترکہ مہم کے ٹھیک پہلے جمعہ کو رام دیو کے خاص ساتھی آچاریہ بال کرشن کو سی بی آئی نے پتنجلی یوگ پیٹھ ہری دوار سے گرفتار کرلیا ہے۔ اس کے خلاف فرضی پاسپورٹ معاملے میں عدالت میں مقدمہ دائر ہونے کے بعد سمن جاری کیا گیا تھا۔ ذرائع نے کہا بال کرشن کو جمعہ کو سی بی آئی کی اسپیشل عدالت میں حاضر ہونا تھا لیکن وہ حاضر نہیں ہوئے اس کے بعد انہیں ہری دوار میں بابا رام دیو کے آشرم سے وہاں موجود لوگوں کی مخالفت کے درمیان گرفتار کیا گیا۔ فرضی پاسپورٹ اور دوہری شہریت اور فرضی ڈگری معاملے میں سی بی آئی نے پچھلے سال 23 جولائی کو ایک ایف آئی آر درج کی تھی۔ اسی مہینے 10 جولائی کو بال کرشن کے خلاف چارج شیٹ داخل کی گئی تھی۔ عدالت میں انہیں پیش ہونے کے لئے20 جولائی تک کا وقت دیا تھا۔ سی بی آئی نے جانچ میں پایا کہ بال کرشن نے اترپردیش کے خرجہ سنسکرت یونیورسٹی کے پرنسپل سے مل کر جعلی سرٹیفکیٹ لیا ، جس سے پاسپورٹ بنوایا۔ دونوں کے خلاف دھوکہ دھڑی سمیت دوسری دفعات میں معاملے درج کئے گئے۔ بال کرشن کے خلاف پاسپورٹ قانون کے تحت بھی معاملہ درج کیا گیا۔ سمپورن آنند سنسکرت یونیورسٹی سے ویریفائی کرنے سے پتہ چلا کہ بال کرشن کا نام ان کے ریکارڈ میں نہیں ہے۔ سی بی آئی نے بال کرشن کو سرٹیفکیٹ میں دئے گئے نام اور سیریل کو ادارے کے ریکارڈ سے ملایا جس میں یہ نمبر کسی دوسرے طالبعلم کا پایا گیا۔ اسی یونیورسٹی کی جعلی ڈگری بال کرشن نے بنوائی تھی۔ بال کرشن کی شہریت کے بارے میں بھی نیپال سے معلومات مانگی گئی ہے لیکن وہاں سے ابھی کوئی جواب نہیں آیا۔ آچاریہ کے حمایتیوں نے ان کی گرفتاری کا دہرہ دون اور ہری دوار میں جم کر احتجاج کیا، نعرے بازی کی اورا ن کی کار کے آگے لیٹ گئے اور پتنجلی پیٹھ کے سامنے ہائی وے جام کردیا۔ پولیس کو حالات سنبھالنے کے لئے طاقت کا استعمال کرنا پڑا۔ آچاریہ بال کرشن کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے بابا رام دیو نے کہا سرکار نے 9 اگست کی تحریک کو کچلنے کے لئے سازش کے تحت آچاریہ کو سی بی آئی کے ذریعے گرفتار کروایا ہے۔ انہوں نے کہا تحریک سے گھبرائی مرکزی حکومت نے آتنک وادیوں کی طرز پر آچاریہ بال کرشن کی گرفتاری کی ہے لیکن اس سے تحریک کمزور نہیں ہوگی۔ جمعہ کی رات سہارا گرین زون میں اخبار نویسوں سے بات چیت میں بابا نے کہا پہلے سی بی آئی کے ذریعے سرکار نے نیپال سرکار پر دباؤ بنایا وہ بال کرشن کو نیپالی شہریت سے متعلق سرٹیفکیٹ دیں لیکن جب نیپال سرکار نے صاف کہہ دیا کہ آچاریہ بال کرشن بھارت کا شہری ہے تو پھر نقلی جرم کی سازش رچی گئی اور اس کو رچ کر بال کرشن کو گرفتار کرلیا۔ رام دیو کا کہنا ہے کہ آئین میں گیانیوں کو بھی پاسپورٹ حاصل کرنے کا حق ہے تو آچاریہ کو پاسپورٹ بنوانے کے لئے فرضی ڈگری حاصل کرنے کے الزام میں بال کرشن کی گرفتاری پر سوال اٹھایا اور پوچھ تاچھ میں رام دیو کی بھی معاشی اور کاروباری سرگرمیوں کے بارے میں بھی سی بی آئی کو مدد ملے گی۔ اس میں جہاں بدلے کی کارروائی کی بو آتی ہے وہیں اصل نشانہ بابا لگتے ہیں۔ بال کرشن تو محض دباؤ بنانے کے لئے ایک مہرہ ہیں۔ انا ہزارے اور بابا رام دیو میں بہت فرق ہے۔ انا ہزارے ایک فقیر ہے جو بہت سادی زندگی بسر کرتے ہیں جبکہ بابا ہائی پروفائل صنعت کار بن گئے ہیں جن کا کروڑوں کا کاروبار ہے اور اربوں کی اسٹیٹ ہے۔ اصل نشانہ تو بابا رام دیو ہی ہیں۔
22 جولائی 2012
کیا راہل گاندھی وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے کیلئے تیار ہیں؟
کانگریس سکریٹری جنرل راہل گاندھی نے جمعرات کو کہا کہ وہ پارٹی اور سرکار میں اب زیادہ سرگرم رول نبھانے کے لئے تیار ہیں لیکن یہ سب کب ہوگا اس بارے میں قطعی فیصلہ کانگریس صدر اور وزیر اعظم کو کرنا ہے۔ راہل گاندھی پچھلے 10 برسوں سے ہندوستانی سیاست میں سرگرم ہیں لیکن انہوں نے یہ پہلی بار کہا ہے کہ وہ اور سرگرم رول نبھانے کو اب تیار ہیں۔ ان کا بیان کانگریس صدر و ان کی والدہ سونیا گاندھی کے یہ کہے جانے کے بعد آیا ہے کہ بڑے رول کے بارے میں فیصلہ راہل کو ہی لینا ہے۔ سال 2014 ء میں ہونے والے عام چناؤ میں وزیر اعظم کی شکل میں راہل کو پیش کرنے کی قیاس آرائیوں کے درمیان کانگریس لیڈروں نے حال کے دنوں میں پارٹی کو قومی دھارا میں لانے کیلئے راہل سے اپیل کی تھی۔ کانگریس سکریٹری جنرل دگوجے سنگھ اور مرکزی وزیر سلمان خورشید یہ مانگ کرچکے ہیں لیکن معاملے نے طول اس وقت پکڑا جب سلمان خورشید نے یہ کہہ دیا کہ راہل سے کوئی باقاعدہ ہدایت نہیں مل رہی ہے اور اب تک راہل کے نظریات اور خیالات کا بہت چھوٹا سا حصہ دیکھنے کو ملا ہے۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یہ معلوم ہے کہ بطور پی ایم ان کی آخری پاری ہے۔ پارٹی میں یہ خیال بن چکا ہے کہ منموہن سنگھ2014ء میں کانگریس کو لوک سبھا چناؤ نہیں جتا سکتے۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے راہل گاندھی کو ایک بار نہیں کئی مرتبہ سرکار میں شامل ہونے کی دعوت دی مگر راہل گاندھی تیار نہیں ہوئے۔ کہا تو یہاں تک جاتا ہے کہ پارٹی کا ایک طبقہ چاہتا ہے راہل گاندھی سیدھے وزیر اعظم کی کرسی سنبھالیں ۔ مگر راہل میں خود اعتمادی کی کمی ہے یا پھر کانگریس کی اس اتحادی سرکار میں مجبوریوں کی وجہ سے راہل اپنے آپ کو بڑے رول کے لئے تیار نہیں کرپا رہے تھے۔ دراصل ہمیں لگتا ہے کہ ان میں خود اعتمادی کی کمی ہے۔ انہوں نے بہار ، اترپردیش، پنجاب میں پارٹی کا چناؤ لڑوایا اور تینوں جگہ کانگریس بری طرح ہار گئی۔ راہل گاندھی کو وزیر اعظم بنانے کی مانگ نئی نہیں ہے ۔ جب سے سونیا گاندھی نے وزیر اعظم کا عہدہ لینے سے انکار کیا ہے اور اپنی جگہ منموہن سنگھ کو وزیر اعظم بنوایا ہے، یہ کہا جاتا رہا ہے کہ راہل گاندھی کو وہ پارٹی کی باگ ڈور سنبھالنے کے لئے تیار کررہی ہیں۔ اس امکان سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ راہل گاندھی کو پارٹی کا ورکنگ صدر یا نائب صدر بنایا جائے۔ اس طرح سونیا گاندھی آہستہ آہستہ پارٹی کی باگ ڈور اپنے صاحبزادے کو سونپنا شرو ع کرسکتی ہیں اور پارٹی کی ایک سرپرستی کی حیثیت سے رہ سکتی ہیں۔ کانگریس کی یہ خوبی ہو یا برائی لیکن اس کی حقیقت یہ ہے کہ نہرو اور گاندھی واد سے وابستہ ہوکر ہی متحد اور مضبوط رہتی ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ سونیا گاندھی کے غیر ملکی ہونے کا اشو بنا کر کانگریس سے الگ ہوئے شردپوار اس یوپی اے اتحادمیں شامل ہوجائیں جس کی صدر سونیا گاندھی ہیں؟ یو پی اے سرکار سب طرح کے کرپشن اور گھوٹالوں میں چاہے آج کتنی ہی پھنسی کیوں نہ ہو لیکن کانگریسیوں کو بھروسہ ہے کہ کانگریس کا آج بھی کوئی متبادل نہیں ہے۔
دراصل ایک عرصے سے کانگریس کسی نہ کسی کرشمے کے سہارے ہی چل رہی ہے۔80 کی دہائی میں ابھری اور بدلتی شکل میں آج بھی جاری زمینی سیاست کے محاوے کانگریسی لیڈروں کی سمجھ میں نہیں آتے۔ گاؤں محلے کی سطح پر نیٹ ورک کھڑا کرنا اور لوگوں کے چھوٹے موٹے کام کرا دینا ان کے معیار سے میل نہیں کھاتا۔ وہ اسے ذات، خطہ یا فرقہ کی اوچھی سیاست بتاتے ہیں۔ حالانکہ بات بڑھ جانے کی امید ہو تو خود ان میں سے کوئی فارمولہ اپنانے سے نہیں ہچکتے۔ ان کی خواہش یہ ہی رہتی ہے کہ ان کے پاس کوئی ایسا کرشمائی لیڈر اور کوئی معجزاتی نظریہ ہو جس کی مدد سے اقتدار پکے ہوئے آم کی طرح ان کے منہ میں ٹپک جائے۔ جس نہرو ۔گاندھی واد پر دیش میں اتنی باتیں ہوتی ہیں اس کی زمین اسی ذریعے سے تیار ہوتی ہے۔
یوپی اے محاذ راشٹرپتی اور نائب صدر کے چناؤ میں بیشک این ڈی اے پر نمبروں میں بھاری پڑ جائے لیکن اس سے زمینی حقیقت کا دور دور کا تعلق نہیں ہے۔ آج یہ نہیں کہا جاسکتا کہ زمینی حقیقت یوپی اے یا کانگریس کے حق میں ہے۔ اس لئے اگر راہل گاندھی کوئی بڑا رول سنبھالتے ہیں تو ان کا پہلا بڑا کام 2014ء کے لوک سبھا چناؤ کے لئے تنظیم کو کارگر ڈھانچہ دینے کا ہوگا۔ راہل گاندھی یوپی اے سرکار میں چاہے جتنی بڑی ذمہ داری سنبھال لیں لیکن مہنگائی ، بے روزگاری ،ترقی اور مفاد عامہ سے وابستہ دیگر مورچوں پر یہ سرکار اپنے بچے دو سوالوں میں ایسا کوئی معجزہ شاید ہی کر پائے جو 2014ء میں لوگوں کو اس کی واپسی کے لئے پولنگ بوتھوں پر لائن لگانے کو مجبور کردے۔
یہ ایک پائیدار جمہوریت اور اپنے سیاستدانوں سے صبرو تحمل اور نرم گوئی اور دور اندیشی ہونے کی مانگ کرتا ہے۔ 2009ء کے عام چناؤ میں راہل جب اترپردیش میں 22 ایم پی بالکل ہوا کی طرح نکل آئے تھے تو یہ ان کی اسی الگ ساکھ کے ذریعے حاصل کئے گئے گیم چینر کردار کے ذریعے ممکن ہوا تھا۔ کانگریس کے اندر بھی راہل گاندھی کو لیڈر شپ سونپنے پر سوال کھڑے ہورہے ہیں۔ کانگریس کے ایک سینئر لیڈر نے کہا کہ ابھی راہل کو پرائمری بنیادی تعلیم تک نہیں ہے اور ایسے میں انہیں دیش کی لیڈر شپ سونپے جانے جیسی بات بچکانی ہی سی لگتی ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ سینئر کانگریسیوں میں راہل کو ذمہ داری سونپنے کو لیکر کوئی جوش نہیں ہے۔ یوپی، بہار ، پنجاب میں راہل پرچار کے دوران پارٹی کی بد سے بدتر حالت کے باوجود ان کا بڑا رول سنبھالنا اب وقت سے پہلے جلد بازی نہ ہوجائے؟ پارٹی کی ایک لابی کی ایک صاف رائے ہے کہ پہلے راہل تنظیم میں بڑی ذمہ داری لیں اور سرکار میں کیبنٹ وزیر بن کر سرکار چلانے کا تجربہ لیں۔
راہل گاندھی کی جانب سے خود آگے آکر بڑی ذمہ داری لینے کی بات کرنے کے بعد ان امکانات کو تقویت ملنا فطری ہی ہے کہ وہ2014ء کے لوک سبھا چناؤ میں وزیر اعظم عہدے کے امید وار ہوسکتے ہیں۔ یہ فطری بھی ہے ،لیکن بات تبھی بنے گی جب وہ اگلے چناؤ تک یوپی اے II- کے بچے دو برسوں کی میعاد میں کچھ ٹھوس کام کردکھانے میں کامیاب ہوتے ہیں؟
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
بند-کھلا-بند -ہرمز پر سسپنس
ہرمز جل ڈروم سنٹرل کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ انتہا پر پہنچ رہا ہے ۔امریکہ اور ایران کے بیچ پچھلے قریب 50 دنوں سے جاری کشیدگ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...