کاکروچ جنتا پارٹی کے جنتر منتر پر مظاہرہ کے دوران ایک دلت نابالغ طالبہ کے والد پر قاتلانہ حملہ کے الزام میں خودساختہ اپنے آپ کو ہندو وادی ورکر بتانے والےملزم سوتنتر بھاردواج کو دہلی پولیس نے جمعہ کو مغربی اترپردیش کے ضلع بلند شہر سے گرفتار کیا۔ لوک تنتر کے خلاف پاسکو ایکٹ کے تحت ایک نئی ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ کچھ گھنٹے پہلے ہی ملزم کی گرفتاری کی مانگ پر کاکروچ جنتا پارٹی، یوتھ کانگریس نے دہلی کے پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے پر مظاہرہ کیا تھا۔ پولیس نے72 گھنٹے میں کارروائی کے بھروسے کے بعد یہ واردات ختم ہوئی۔ طالبہ کا الزام تھا کے 23 جون کوجنتر منتر پر مظاہرے کے دوران اس کے والد سے مار پیٹ کی گئی تھی۔ اس درمین ملزم کا ویڈیو وائرل ہوا جس میں ملزم مبینہ طور پر سر پر حملہ کی بات قبول کرتے ہوئے نظر آیا تھا۔ 7اگست کو سوتنتربھاردواج کے پوٹ کاسٹ کی کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔ اس میں مبینہ طور پر ایک شخص پر حملہ کرنے کی بات کرتے ہوئے دکھائی دیا۔ اس نے دعوی کیا کہ اس نے اس شخص کے سر پر وار کیا تھا، جس کے بعد زخمی شخص کے سر پر ٹانکے لگے تھے۔زخمی شخص نے بتایا کہ اس شخص نے دعوی کیا کہ دہلی کے وزیر کپل شرما کے ایک فون پر پولیس نے اس کے خلاف ساری کارروائی روک دی اور مرکزی وزیر چراغ پاسوان ان کے بھائی کے برابر ہیں اور مودی جی ان کے بڑے بھائی ہیں۔یہ بھی دعوی کیا میرا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتاہے۔اپوزیشن پارٹیوں اور سی جے پی سے جڑے لوگوں نے الزام لگایا کہ سوتنتربھاردواج کو سیاسی سرپرستی ملی ہوئی ہے۔ حالانکہ چراغ پاسوان نے سوتنتر بھاردواج سے خود کو الگ کرلیا اور بھاردواج کے خلاف ان کے نام کا غلط استعمال کرنے کے الزام میں ایف آئی آر درج کروادی۔اس مبینہ ہندوتو حمایتی دعویدار نے شیخی کے چکر میں ایسا بہت کچھ کہہ دیا، جو سراسر کرائم کا اقبال کرنا ہی ہے۔ اس بارے میں وہ بولے کہ لڑکے کے خلاف اے پی ایس ٹی ایکٹ کے تحت معاملہ درج ہوگیا اور ممکن ہے اقدام قتل کا مقدمہ بھی درج ہوجائے۔ دھرم کے نام پر اپنے خیالات اپنی جگہ ہیں لیکن دھرم ایسے بے تکے الفاظ کو قبول نہیں کرتا۔یہ لڑکا جو کھل کر چینلوںمیں دعوی کرتا رہا ہے اس کی ضروری جانچ ہونی چاہئے اور قانونی کارروائی ہونی چاہئے لیکن سوال یہاں یہ اٹھتا ہے کہ اس لڑکے میں ایسی بیہودہ باتیں کرنے کی ہمت کہاں سےآئی؟ اس کو کس کی شے حاصل ہے؟20 جولائی کو جنترمنتر مظاہرے میں مبینہ غنڈے کی حرکت والے لوگ مظاہرے میں کیسے شامل ہوئے؟ انڈین ایکسپریس کی ایک سنسنی خیز رپورٹ میں یہ بتایا گیا ہے کہ چہرہ پہچان سسٹم سے 25 ایسے جرائم پیشہ کے نام سامنے آئے ہیں جو اس وقت تہاڑ جیل میں بند بتائے جاتے ہیں۔ اگر یہ سچ ہے تو یہ کئی سنگین سوال کھڑے کرتا ہے۔ یہ جرائم پیشہ جنتر منتر پر مظاہرے میں کیسے پہنچے؟ سوال تو یہ بھی کیا جارہا ہے کہ سفید کپڑوں میں ہاتھ میں جھنڈے لئے وہ کون لوگ تھے جو طلبہ پر لاٹھیاں برسا رہے تھے؟ ان میں سے یہ سوتنتر بھاردواج بھی ایک تھے۔ اب قانون اپنا کام کرے گا اور امید کی جاتی ہے کہ کوئی سیاسی مداخلت نہیں ہوگی۔
(انل نریندر)