Translater

A K Antony لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
A K Antony لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

18 جولائی 2012

سرکار میں نمبر2-کی لڑائی کھل کر سامنے آئی

میں نے اسی کالم میں لکھا تھا کہ مسٹر پرنب مکھرجی کے یوپی اے سرکار سے رخصت ہونے کے بعد سے اس منموہن سنگھ سرکار کو چلانا انتہائی مشکل ہوجائے گا۔ پرنب دا اس حکومت کے سنکٹ موچک تھے وہ ہر سیاسی مسئلے کا حل نکال لیا کرتے تھے۔ اب منموہن سرکار کو پرنب بابو کی کمی محسوس ہوگی۔ یہ سلسلہ شروع ہوبھی گیا ہے۔ یوپی اے سرکار میں نمبر دو کا معاملہ الجھ گیا ہے۔ یوپی اے سرکار میں نمبردو کی حیثیت رکھنے والے پرنب مکھرجی کے صدر کے عہدے کے امیدوار بننے کے بعد ان کی کرسی کے لئے جنگ چھڑ گئی ہے۔ پرنب کے سرکار سے باہر جانے کے بعد راشٹروادی کانگریس پارٹی کے چیف شرد پوار کی جگہ وزیر دفاع اے کے انٹونی کو وزیر اعظم کے بعد نمبردو کی جگہ دینے کا اشو یوپی اے اتحاد میں رسہ کشی کا سبب بن گیا ہے۔ بہت غور و فکر کے بعد منہ کھولنے والے مراٹھا سردار شرد پوار نے نائب صدر چناؤ کے لئے بلائی گئی میٹنگ سے دور رہ کر اپوزیشن کو یوپی اے کے اتحاد پرسوال اٹھانے کا ایک اور موقعہ دے دیا ہے۔ این سی پی کا کہنا ہے کہ وزیر ذراعت شرد پوار یوپی اے I اورII میں کیبنٹ کی سینیرٹی میں پرنب مکھرجی کے بعد وہ آتے تھے۔ مکھرجی کے سرکار سے استعفیٰ دینے کے بعد نمبردو کی حیثیت انہیں ملنی چاہئے۔ مکھرجی کے استعفے کے بعد ہوئی کیبنٹ کی میٹنگ میں شردپوار کو وزیر اعظم کی بغل میں بٹھایاگیا۔ پی ایم او کی وزرا کی سیریز والی ویب سائٹ سے بھی ان کا نام دوسرے نمبر پر تھا مگر بعد میں ویب سائٹ سے فہرست ہٹا دی گئی۔ ادھر میٹنگ کے دو دن بعد کیبنٹ میں وزرا کی سینیرٹی کے زمرے میں تبدیلی کرتے ہوئے وزیر دفاع اے کے انٹونی کو سرکار میں نمبردو بنا دیا گیا ہے۔ اس کے احتجاج میں این سی پی نے سنیچر کو نائب صدر کا امیدوار طے کرنے کیلئے بلائی گئی یوپی اے کی میٹنگ میں حصہ لینے سے منع کردیا۔ این سی پی کے ایک سینئر لیڈر کے مطابق آزادی کے بعد یہ پہلا موقعہ ہے جب کیبنٹ میں سینیرٹی میں تبدیلی کی گئی ہے۔ اس نیتا نے کہا کہ این سی پی ایسی پارٹی نہیں ہے جو چھوٹے چھوٹے اشوز پر ہنگامہ کرتی آئی ہے لیکن ایسا رویہ ہماری بے عزتی ہے اور ہم یہ بے عزتی برداشت کرنے کو قطعی تیار نہیں ہیں۔ این سی پی نے کبھی بھی اس سے پہلے کیبنٹ میٹنگ کا بائیکاٹ کیا ہے یہ پہلا موقعہ ہے اور وجہ ہے شرد پوار کی بے عزتی۔ اپوزیشن نے اسے یوپی اے میں بکھراؤ کا ایک اور اشارہ دے دیا ہے۔ بھاجپا سکریٹری جنرل مختار عباس نقوی نے کہا کہ کانگریس اتحادی دھرم کی تعمیل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ صدارتی چناؤ کے بعد یوپی اے ٹوٹ جائے گا اور دیش کو وسط مدتی چناؤ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ شیو سینا لیڈر سنجے راوت نے کہا کہ شرد پوار کا تجربہ اور سینیرٹی پرنب مکھرجی کے برابر ہے۔این سی پی کے ایک نیتا نے کہا کہ اس مسئلے پر رسمی خانہ پوری سے پارٹی اپنی طرف سے کانگریس سے کوئی بات نہیں کرے گی لیکن جو ہوا وہ بیحد اعتراض آمیز ہے۔

10 اپریل 2012

آخر کتنے دن کی جنگ لڑ سکتی ہے ہماری فوج؟



Published On 10 March 2012
انل نریندر
فوج کی دوٹکڑیوں کے ذریعے 16-17 جنوری میں دہلی کی طرف بڑھنے کو لیکر خبریں پہلے سے ہی پک رہی تھیں اور اس کی بھنک فوجی سربراہ جنرل وی کے سنگھ کو بھی تھی۔ یہ مارچ میں ہی ایک انگریزی رسالے کو دئے ان کے انٹرویو سے پتہ چلتا ہے۔ انہوں نے کہا تھا مان لیجئے ہماری ایک کور یا ڈویژن یا برگیڈ پریکٹس کررہی ہے تو کوئی کہے گا کہ اوہ۔۔۔ انہوں نے پریکٹس کی۔ یہ پریکٹس نہیں تھی وہ کچھ اور کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے کہا اب آپ اس میں ایک خبر بنائیں گے ان دنوں کئی لوگ غلط مطلب سے خبریں بنانا چاہتے ہیں۔ ادھر انگریزی اخبار دی گارڈین نے دعوی کیا ہے کہ فوج کے دہلی کوچ کی خبر کے پیچھے ایک مرکزی وزیر کا ہاتھ ہے۔ وزیر کا نام نہیں بتایا لیکن یہ کہا گیا ہے کہ وزیر کے قریبی رشتے دار کا تعلق دفاع خرید سے جڑی لابی کا ہے اوریہ لابی دونوں وزیر دفاع اے کے انٹونی اور فوجی سربراہ جنرل سنگھ سے پریشان تھی۔ آرمز لابی انٹونی کے اس لئے خلاف تھی کیونکہ انٹونی ایک ایماندار وزیر ہیں جو خرید میں کوئی گڑ بڑی نہیں ہونے دینا چاہتے۔ انٹونی کی بھرشٹاچار کے خلاف مہم سے ہتھیار سپلائر،ان کے ایجنٹ ، غیرملکی کمپنیاں اور فوج کا ایک طبقہ خلاف ہے اور یہ چاہتے ہیں کہ انہیں وزارت دفاع سے ہٹایا جائے۔ پچھلے ماہ ہی انٹونی نے چھ اسلحہ کمپنیوں کو بین کیاتھا۔ان میں چار غیر ملکی کمپنیاں (اسرائیلی ملٹری انڈسٹری، سنگاپور ٹکنالوجی کارپوریش ڈیفنس(روس) اور ایک سوئٹزرلینڈ کی کمپنی شامل ہے۔ جنرل وی کے سنگھ کے خلاف یہ سازش (اگر سازش تھی) اس لئے رچی گئی کیونکہ وہ دفاعی سودوں میں کمیشنوں کا دھندہ نہیں چلنے دے رہے تھے۔ کوچ کی خبر کو لاک کرنے کے پیچھے جنرل کے خلاف سیاسی پارٹیوں کو اکٹھا کرنا تھا۔فوجی سربراہ کاوقار بگاڑنے اور فوجی ٹریننگ سے جڑی سرگرمیاں ٹھپ کرنا بھی ایک مقصد ہوسکتا ہے۔ بھرشٹاچار کے الزاموں سے فوجی خرید کی رفتار کم ہوئی ہے۔ اگر بغاوت کے ڈر سے سینا کی ٹریننگ ایکسرسائز کی آزادی چھینی تو فوج کی صلاحیت متاثر ہوگی۔
ہندوستانی برّ ی فوج کی صلاحیت کا سوال جنرل وی کے سنگھ نے پردھان منتری کو لکھے اپنے خط میں اٹھایا تھا۔ اب ایک نیوز چینل میں اپنی رپورٹ میں فوج کے پاس گولہ بارود کی کمی کی بھیانک تصویر پیش کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جنگ ہونے کی حالت میں فوج کے پاس صرف 10دنوں تک لڑنے کے لئے گولہ بارود موجود ہے۔ پہلی بار نہیں جب اس طرح کی خبریں آئی ہیں فوج کافی پہلے سے سیاسی رہنماؤں کو آگاہ کرتی آرہی ہے کہ اس کے پاس جنگ کے لئے گولہ باری جیسی ضروری اشیاء ،ضروری سطح سے کافی نیچے پہنچ گئی ہے۔کسی خطرے کا سامنا کرنے کی حالت میں فوج کی تیاریوں کو لیکر کیگ کی رپورٹ نے بھی سوال اٹھائے ہیں۔ خطرے کی گھنٹی 125ایم ایم ٹینک کے لئے گولہ بارود ضروری سطح سے کافی کم ہے۔ 16 ہزار راؤنڈ کے لئے روس سے گولہ بارود ملنے کا انتظار ہے۔122 ایم ایم ہائی اینرجی ریڈیوز چارج 1.27 دن تک چل پائیں گے۔ او ایف بی کے ذریعے مہیا کرائے گئے گولہ بارودوں میں کافی خرابی پائی گئی۔ سرکار کا دعوی ہے کہ جنگ ہونے پر فوج کے پاس 30 دنوں تک لڑنے کے لئے واجب مقدار میں گولہ بارود ہے۔گولہ بارود کی اس کمی کی بڑی وجہ گھوٹالوں کے چلتے کئی دفاعی کمپنیوں پر روک لگانا بھی ہے۔ کیگ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کئی توپوں میں دوسری عالمی جنگ کے زمانے کی تکنیک کا استعمال ہورہا ہے۔ اگر کوئی 16-17جنوری کی خبر اور اس کے بعد ہو رہی خبروں کو تفصیل سے پڑھ لے تو اسے ماننا ہوگا کہ حالت بیحد تشویشناک ہے۔ یہ نتیجہ بھی نکلتا ہے کہ آزاد بھارت کے اتہاس میں فوج اور سرکار کا تعلق سب سے نچلی سطح پر ہے۔
A K Antony, Anil Narendra, Daily Pratap, General V.k. Singh, Indian Army, Vir Arjun

06 اپریل 2012

ڈریس ریہرسل یا وارننگ و سازش؟

امسال جنوری کے مہینے میں کیا ہندوستانی بری فوج کے کچھ لوگوں نے حکومت کے خلاف بغاوت کی تیاری کرلی تھی؟ ان فوجی ٹکڑیوں تختہ پلٹ کی نیت سے کیا باقاعدہ دہلی کو گھیرنے کے لئے مہم آگے بڑھا دی تھی؟ یہ ہیں کچھ برننگ سوال جو بدھوار کی صبح سے ہی راجدھانی میں موضوع بحث بنے رہے۔ دراصل انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس کے بدھوار کے شمارے میں ایک سنسنی خیز انکشاف سے ہلچل مچ گئی۔ ایڈیٹر شیکھر گپتا کی لکھی اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کس طرح16-17جنوری کی رات حصار اور آگرہ سے فوج کی دو بڑی ٹکڑیاں دہلی کے لئے کوچ کرکے آگے بڑھی تھیں۔ تمام گولہ بارود سے مسلح انفینٹری برگیڈ کی ٹکڑیاں دہلی کے ایک دم قریب پہنچ گئی تھیں۔ کسی طرح صورتحال پر قابو پایا گیا۔ فوج کی حصار33 ویں ڈویژن کی ٹکڑی بہادر گڑھ آکر رک گئی اور یہاں سے آگے نہیں بڑھی۔ دوسری ٹکڑی آگرہ سے (12 ڈویژن) گولہ بارود اور ٹینکوں کے ساتھ پالم کے پاس آکر رک گئی۔ کیا یہ اتفاق تھا کے 16 جنوری کو ہی بری فوج کے جنرل وی کے سنگھ اپنی عمر کے معاملے کو لیکر سپریم کورٹ گئے تھے۔ انڈین ایکسپریس کی اس رپورٹ سے دہلی کے سیاسی گلیاروں میں ہلچل مچ گئی۔ ہلچل کہنا غلط ہے بلکہ کھلبلی بہتر لفظ ہوگا۔ سیاستدانوں کے خبر سنتے ہی طوطے اڑ گئے۔ سرکار کی جیسا کے عادت و مجبوری ہوتی ہے نہ رپورٹ کو سرے سے مسترد کیا اور نہ رپورٹ کو مانا کے بٹالینیں آگرہ اور حصار سے بہادر گڑھ اور پالم تک تو آئی تھیں لیکن یہ بھی کہا ہے کہ بری فوج کی سرگرمیاں عام ہیں۔ حالانکہ سرکار یہ نہیں بتا پارہی ہے کہ بری فوج نے ڈیفنس وزارت کی جانکاری میں لائے بغیر دہلی کے لئے کوچ کیوں کیا؟ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے بدھوار کو کہا یہ رپورٹ ڈر پیدا کرنے والی ہے۔ ایسی رپورٹ پر زیادہ توجہ نہیں دی جانی چاہئے۔ فوج کے چیف اور سرکار کے درمیان جاری رسہ کشی کے سوال پر وزیر اعظم نے کہا کے فوج کے چیف کا عہدہ بہت بڑا ہے۔ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم ایسا کچھ نہ کریں جس سے اس کے وقار پر آنچ آتی ہو۔
وزیر دفاع اے کے انٹونی نے فوج کی طرف سے کسی قسم کے تخت پلٹ کے ڈر کو پوری طرح سے بکواس قراردیا۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ فوج ایسا کچھ نہیں کرے گی جس سے ڈیموکریسی کمزور ہو۔ انٹونی کے مطابق فوج کی دیش بھکتی پر سوال نہیں اٹھنے چاہئیں۔ ڈیفنس وزارت کے ترجمان نتانشو نے بتایا کہ فوج اس قسم کی مشقیں کرتی رہتی ہے اور سابق بری فوج کے جنرل وید پرکاش ملک نے کہا میں تو اسے ایک مضحکہ خیز رپورٹ ہی کہہ سکتا ہوں۔ یہ کسی کی شرارت لگتی ہے۔ میرا خیال ہے فوج کی مشقیں یومیہ ٹریننگ کا حصہ تھیں اور ڈیفنس وزارت کو اسے نوٹیفائی کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ سابق فوج کے چیف ایڈمرل پرکاش کا تبصرہ تھا صحافت کی یہ ایک بڑی ہی غیر ذمہ دارانہ مثال ہے۔ مجھے تعجب نہیں ہے کہ اس رپورٹ کو چھاپنے کا مقصد کیا ہوسکتا ہے۔ سابق ایئر فورس کے چیف ایئرمارشل ایس پی تیاگی نے کہا کہ رپورٹ پوری طرح غلط ہے اتنی ہی مضحکہ خیز۔ میں اس کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہوں گا۔
سی ادے بھاسکرجو ڈیفنس اسٹڈیز اینڈ انالسٹ ہیں کا کہنا تھا کہ جس طرح فوج نے دہلی کی طرف بڑھنے کے بارے میں خبر چھپی ہے اس سے اس کو مایوسی اور تشویش ہوئی ہے۔ جیسا کے فوج کی کوئی تختہ پلٹ کی اسکیم تھی۔ انڈین ایکسپریس کے ذریعے دی گئی یہ خبر غلط نہیں ہے۔ کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ فوجی ٹکڑیوں کی اس دن حرکت نہیں تھی۔ سبھی اسے جنرل مشقیں بتا رہے ہیں۔ یہ رپورٹ تشویش کا باعث ضرور بنتی ہے۔ ہمارے مطابق انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے بھروسے پر سوال نہیں اٹھایا جاسکتا۔ نہ تو شیکھر گپتا ایسی سنسنی خیز خبریں پھیلانے والے صحافی ہیں اور نہ ہی اخبار اتنا غیر ذمہ دار ہے، تو پھر 17-16 جنوری کو کیا ہوا؟ ایک ٹکڑی کے مشقیں کرنے کی بات سمجھ میں آتی ہے لیکن ایک دن دو مختلف شہروں سے تقریباً ایک ہی وقت دو ٹکڑیوں کی نقل و حرکت پر سوالیہ نشان کھڑے ہوتے ہیں۔ رپورٹ میں کافی چھان بین کی گئی ہے ان کا نتیجہ یہ ہے کہ جنرل وی کے سنگھ ایک ایماندار اور وفادار افسر ہیں یہ بات ثابت ہوچکی ہے۔ کیا یہ ایک ڈریس ریہرسل تھی؟ ویسے بھارت جیسے دیش میں سیاسی تختہ پلٹنا آسان نہیں۔ تختہ پلٹ کی کوئی بھی کوشش بری فوج کے دہلی ایریا کمانڈر کی جانکاری میں لائے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتی۔
اگر بری فوج کوئی مشقیں کررہی ہے تو یہ دہلی ایریا کمانڈر کو پتہ ہونا چاہئے۔اس لئے دہلی کے ایریا کمانڈر سے اس بارے میں پوچھ تاچھ کی جانی چاہئے۔دیش میں کہیں بھی کسی طرح کی مشقیں کی جاتی ہیں تو اس کی پہلے سے جانکاری نہ صرف ڈیفنس وزارت کو ہونی چاہئے بلکہ سول حکام کو بھی پتہ ہونا چاہئے تاکہ عام زندگی متاثر نہ ہو۔ انڈین ایکسپریس کی اس رپورٹ سے ایک بات اور سامنے آئی ہے وہ یہ کہ فوج اور یوپی اے سرکار میں بھاری اختلافات ہیں۔ فوج میں اس سرکار کو لیکر بہت زیادہ مایوسی کا ماحول ہے۔ فوج اس لئے بھی ناراض ہے کے دہلی میں بیٹھے سرکاری بابو فوجی سامان کی سپلائی پر لاپروائی برتتے ہیں جس کی وجہ سے فوج کی اہلیت متاثر ہورہی ہے اور یہ سرکار گھوٹالوں سے نمٹنے میں اپنا سارا وقت گذار رہی ہے۔ دوسرے لفظوں میں سرکار دیش کی سلامتی سے سمجھوتہ کررہی ہے۔ اس مسئلے کے دونوں پہلو ہیں۔ فوج کی یہ سرگرمی عام اس لئے ہے کہ فوجی ڈویژن کی ہر تیسرے ماہ مشقیں ہوتی رہتی ہیں اور اس کی سرکار کو جانکاری دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ فوجی مشق کے کلنڈر میں اس بارے میں اطلاع درج تھی۔ 26 جنوری کی وجہ سے دہلی میں کئی ڈویژن پہلے سے ہی تعینات تھیں۔ ایک چھوٹی ٹکڑی سے تو دہلی پر قبضہ نہیں ہوسکتا۔ دوسری طرف یہ عام اس لئے ہے کے فوجی ڈویژن کے ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں جانے پر اطلاع دینی پڑتی ہے۔
عام طور پر مشق کے لئے دہلی کو نہیں چنا جاتا۔ 26 جنوری کی وجہ سے دہلی میں فوج کی موجودگی کے باوجود مشقوں کی اسکیم کیوں بنی؟ متعلقہ ڈویژن کے سینئر افسران نے اس کی حساسیت کو کیوں نہیں سمجھایا پہچانا؟ ایسے بہت سے سوال ہیں جن کا جواب آنے والے دنوں میں ملے گا۔ ہمارا تو یہ خیال ہے کہ 16 جنوری کی یہ موومنٹ عام مشقیں نہیں تھیں ہو سکتا ہے کہ سوئی حکومت کو جگانے کے لئے یہ جھٹکا دیا گیا یا پھر یہ کسی بڑے کام کے لئے ڈریس ریہرسل تھی۔
A K Antony, Anil Narendra, Coup, Daily Pratap, General V.k. Singh, Manmohan Singh, Vir Arjun

02 مارچ 2012

چین کو دیا انٹونی نے کرارا جواب



Published On 2 March 2012
انل نریندر

چین بھارت سے ٹکر لینے سے باز نہیں آتا، کچھ نہ کچھ شوشہ چھوڑتا رہتا ہے۔ تازہ قصہ ہندوستان کے وزیر دفاع اے کے انٹونی کے دورہ اروناچل پردیش کو لیکر ہے۔ اروناچل پردیش پر دعوی جتاتے ہوئے چین نے پھر ہندوستان کو آنکھیں دکھانے کی کوشش کی ہے۔اس مرتبہ ڈریگن وزیر دفاع اے کے انٹونی کے دورہ اروناچل پردیش سے لیکر بوکھلا گیا ہے۔ اس نے ہندوستان کو کھلے عام آگاہ کیا ہے کہ بھارت کو ایسے کسی بھی قدم سے بچنا چاہئے جس سے سرحدی تنازعہ مزید پیچیدہ ہونے کا اندیشہ ہو۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ہانگلی نے سرحدی علاقوں میں امن اور استحکام بنائے رکھنے کے لئے بھارت سے چین کے ساتھ مل کر کام کرنے کوکہا ہے۔ چین کی سرکاری ایجنسی ژنہوا کے مطابق انہوں نے کہا کہ سرحدی تنازعے پر چین اپنے موقف پر قائم ہے اور اس کا نظریہ بالکل صاف ہے۔ دراصل اروناچل جنوبی تبت کا حصہ ہونے کا دعوی کررہا ہے۔ چین کسی بھی سینئر ہندوستانی سرکاری نمائندے کی ریاست کے دورہ پر اپنا اعتراض جتا رہا ہے۔ وہ اروناچل کے لوگوں کو ویزا دینے سے بھی انکار کرتا رہا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ دونوں ملکوں کے مخصوص نمائندوں کے درمیان سرحدی تنازعے پر بات چیت کے 15 دور ہوچکے ہیں۔ جنوری سے جون2010 میں سکم سے لگے علاقے میں چینی فوج نے 65 بار ہندوستانی علاقے میں گھس پیٹھ کی کوشش کی۔ حالانکہ حکومت ہند نے ہمیشہ تنازعے کو ٹھنڈا کرنے اور اسے ہل کرنے کی کوشش کی ہے لیکن اس بار ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ وزیر دفاع اے ۔ کے انٹونی نے چین کو منہ توڑ جواب دیا ہے۔ ایسی زبان چین سمجھ سمجھتا ہے۔ اے ۔ کے انٹونی نے چین کو اس اشو کو لیکر پیر کو کھری کھوٹی سنائی۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی رائے زنی بیحد افسوسناک اور قابل اعتراض ہے۔ چین کے اس رویئے پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے وزیر دفاع اے ۔ کے انٹونی نے کہا کشمیر کی طرح ہی اروناچل بھی بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے اور بطور وزیر دفاع وہاں جانا ان کا حق اور فرض ہے۔ ایک پروگرام سے نمٹنے کے بعد اخبار نویسوں کے سوالوں کے جواب میں وزیر موصوف نے کہا کہ وہ اروناچل پردیش کی یوم تاسیس کی 25 ویں سالگرہ پر منعقدہ تقریب میں حصہ لینے گئے تھے اور یہ ان کا حق بنتا ہے۔ وزیر دفاع نے کہا مجھے یہ رد عمل دیکھ کر کافی حیرانی ہوئی ہے اس طرح کا تبصرہ عام طور پر افسوسناک ہی مانا جاتا ہے اور اس پر انہیں اعتراض ہے۔ ایتوار کو بنگلورو سے وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے چین کے رد عمل پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا تھا کہ اروناچل پردیش بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے اور اس معاملے میں اسے دخل اندازی نہیں کرنی چاہئے۔ وزارت خارجہ کے اعلی ذرائع نے تو بیجنگ کو یہ کہہ کر پیغام دیا کہ اروناچل میں جنتا نے ہندوستانی لیڈروں کو جمہوری طریقے سے ہوئے چناؤ میں ووٹ دیا ہے اس میں اپنے آپ میں ہی بیجنگ کو جواب دیکھ لینا چاہئے۔ چین کو کھری کھوٹی سناتے ہوئے وزیر دفاع نے نیوکلیائی آبدوز کو ہندوستانی بحریہ میں شامل کرنے پر اعتراض جتا رہے پاکستان کو بھی دو ٹوک انداز میں جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اپنی سلامتی کے لئے اپنی فوجی صلاحیت بڑھا رہا ہے نہ کہ اس کا ارادہ کسی سے ٹکراؤ کا ہے۔ ابھرتے سلامتی پس منظر میں بھارت ہر ضروری فوجی قدم اٹھائے گا۔ ہم وزیر دفاع اے ۔ کے انٹونی کے چین اور پاکستان دونوں کو دو ٹوک جواب دینے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ امید کرتے ہیں کہ مستقبل میں بھی ایسا ہی ہوگا تاکہ چین کو سمجھ میں آجائے کہ وہ اب بھارت کو اتنی آسانی سے نہیں ڈانٹ سکتا۔
A K Antony, Aksai Chin, Anil Narendra, China, Daily Pratap, Sikkim Chief Minister, Vir Arjun

10 جون 2011

انا کااعلان، انٹونی کی وارننگ


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
10 جون 2011 کو شائع
انل نریندر
بدھوار کا دن سیاسی سرگرمیوں سے بھرا رہا۔ ادھر راج گھاٹ پر انا ہزارے اعلان جنگ کررہے تھے تو ادھر نئی دہلی کے پریس کلب میں وزیر دفاع اے کے انٹونی نے یہ کہہ کرکہ یہ شفافیت کا انقلاب ہے جو اب رک نہیں پائے گا، سب کو چونکا دیا۔ بابا رام دیو اور انا ہزارے کی تحریکوں کا ہی اثر ہے کہ منموہن سنگھ سرکار کے اتنے سینئر وزیر ، 10 جن پتھ کے قریبی اے کے انٹونی جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ بلا شبہ یقینی طور سے بغیر صلاح مشورے کے نہیں کہا ہوگا۔ پھر حکومت کا ایک ایسا وزیر ایسی وارننگ کس کو دے رہا ہے؟ کیا یہ اپنی ہی حکومت کو تو نہیں خبردار کررہا ہے؟ یا پھر انا کی تحریک اور مطالبات کی ہوا نکالنے کیلئے یہ سب ہورہا ہے؟ انا ڈر گئے ہیں۔ انا کا انشن ہر لحاظ سے ہٹ رہا۔ گاندھی وادی لیڈر انا ہزارے نے رام لیلا میدان میں بابا رام دیو کے حمایتیوں پر ہوئے لاٹھی چارج کے احتجاج میں بدھ کے روز راج گھاٹ پر اپنے ایک روزہ انشن کے اختتام پر جنتا کو اپیل کی کہ وہ آگے کی لڑائی کے لئے اپنے کو مضبوط کریں۔ انہوں نے کہا پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں لوکپال بل پاس نہ ہونے کی صورت میں 16 اگست سے جنتر منتر پر پہلے سے بڑی تحریک شروع کی جائے گی۔ انشن کے اختتام پر انا ہزارے نے خاص طور سے وزیر داخلہ پی چدمبرم کے اس بیان کی سخت تنقید کی جس میں کہا گیا کہ میڈیا کا ایک طبقہ بدعنوانی کے خلاف تحریک کو بڑھا چڑھا کر اور فائدے کے لئے کوریج کررہا ہے، جس سے پارلیمانی اقدار کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ ہم چدمبرم صاحب کو بتانا چاہتے ہیں کہ میڈیا اپنا کردار نبھا رہا ہے۔ میڈیا عوام کی آواز اور نبض ہے۔ آج بھارت کے عوام بدعنوانی اور کرپشن سے پریشان ہیں۔ اسے سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ وہ اپنی ناراضگی کیسے ظاہر کرے؟ چناؤ دور ہیں۔ حکمراں پارٹی پارلیمنٹ کے اندر نمبروں کے جوڑ توڑ کر سبھی اشو پر پانی پھیر رہی ہے۔ جب جنتا کی پکار پارلیمنٹ نہیں سنے گی تو جنتا سڑکوں پر اترے گی اور اسی لئے چاہے بابا رام دیو کا انشن ہو یا پھر انا ہزارے کا، انہیں زبردست حمایت مل رہی ہے۔ چدمبرم صاحب آپ کے سینئر ساتھی اے کے انٹونی خود کہہ رہے ہیں کہ اب یہ انقلاب نہیں رکے گا؟ میڈیا کو قصوروار ٹھہرانا چھوڑیئے، اپنے اندر جھانکئے اور دیکھئے جنتا میں پیدا بے چینی کو کم کیسے کیا جائے۔
انا ہزارے ایک ذمہ دار اورگاندھی وادی لیڈر ہی اور ان کی باتوں کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔ انا نے ایک سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ ایک وزیر نے انہیں مارنے کیلئے 30 لاکھ روپے کی سپاری بھی دی لیکن وہ اس سے پریشان ہونے والے نہیں۔ انا کے الزام کی جانچ ہونی چاہئے۔ کون تھا وہ وزیر جس نے سپاری دی؟ انا نے یہ بھی کہا کہ سرکار عوام کی سیوک ہوتی ہے جو جنتا کی حمایت کے سبب بنی بیٹھی ہے۔ اب اسے بتانے کا وقت آگیا ہے کہ اصل مالک کون ہے، اور کون سیوک ہے۔ یوپی اے سرکار پر چوطرفہ دباؤ بڑھتا جارہا ہے اور جیسے انٹونی نے کہا کہ اب یہ انقلاب رکنے والا نہیں۔
Tags: A K Antony, Anil Narendra, Anna Hazare, Baba Ram Dev, Congress, Corruption, Daily Pratap, P. Chidambaram, Vir Arjun

طالبہ کے پتا کا حملہ آور گرفتار !

کاکروچ جنتا پارٹی کے جنتر منتر پر مظاہرہ کے دوران ایک دلت نابالغ طالبہ کے والد پر قاتلانہ حملہ کے الزام میں خودساختہ اپنے آپ کو ہندو وادی و...