Translater

Rath Yatra لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Rath Yatra لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

25 نومبر 2011

چدمبرم کا بائیکاٹ سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت ہے


Published On 25th November 2011
انل نریندر
پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس شروع ہوتے ہی پہلے ہی دن سے سیاسی سرگرمی کی آنچ تیزی دکھانے لگی ہے۔ اجلاس کے آغاز میں اور وزیر داخلہ پی چدمبرم کے بائیکاٹ سے لوک سبھا میں لیفٹ پارٹیوں کے نوٹس پر مہنگائی پر ہونے والی بحث میں بھی ایوان کا پارہ گرم ہوگیا۔ بڑھتی مہنگائی کے مسئلے پر اپوزیشن پارٹیوں کے تحریک التوا کے نوٹس پر بحث کے درمیان وزیر خزانہ پرنب مکھرجی نے اعتراف کیا کہ امید کے مطابق نتیجے حاصل نہیں ہوسکے۔ انہوں نے جیسا کہ اب ان کی عادت سی بن گئی ہے مہنگائی کا ٹھیکرہ ڈیمانڈ اور سپلائی میں عدم توازن، ڈالر کے مقابلے روپے کی قیمت میں گراوٹ اور دیگر بین الاقوامی اسباب پر پھوڑدیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی ہے افراط زر شرح مارچ2012ء کے آخر تک 6.7 فیصد تک آجائے گی۔ پرنب دا کے بیان سے اپوزیشن بھڑک اٹھا۔ سابق وزیر خزانہ یشونت سنہا نے پرنب مکھرجی کے بیان کو نمبروں کا کھیل اور جنتا کو مایوس کرنے والا بتاتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر مہنگائی کا یہی حال رہا تو لوگ جلد ہی تشدد پر اتر آئیں گے۔ این ڈی اے ایوان کے پہلے ہی دن یہ اشارہ دے چکا ہے ۔وزیر داخلہ پی چدمبرم کے بائیکاٹ کے اپنے فیصلے پر پوری طرح عمل کریں گے۔ حالانکہ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اپنے وزیر داخلہ کو بچانے کی پوری کوشش کی۔ انہوں نے کہا جہاں تک وزیر داخلہ کے بائیکاٹ کی بات ہے مجھے امید ہے سیاسی پارٹیاں اس طرح کے کسی قدم سے بچیں گی۔ کیونکہ وزیر داخلہ کے بائیکاٹ کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ دوسری طرف این ڈی اے کی جانب سے چدمبرم کے بائیکاٹ کو پوری طرح سے واجب قراردیتے ہوئے بھاجپا نے کہا یہ اپوزیشن کا جمہوری حق ہے۔ ٹو جی اسپیکٹرم معاملے میں وزیر اعظم کے نام لکھے وزیر خزانہ پرنب مکھرجی کے پرچے کو عام ہونے کے پیش نظرایسا کیا جانا فطری قدم ہے۔ بھاجپا کے سینئر لیڈر وینکیانائیڈو نے اخبار نویسوں سے کہا کانگریس ماضی گذشتہ میں جارج فرنانڈیز کے ساتھ ایسا کرچکی ہے جب بے قصور جارج فرنانڈیز کو انہوں نے چھ مہینے تک بولنے نہیں دیا تھا۔ اب یہ ایک اتفاق ہی ہے کہ اگر چدمبرم نے پہل کی ہوتی تو یہ گھوٹالہ روکا جاسکتا تھا۔چدمبر کو بھاجپا ٹوجی گھوٹالے میں اتنا ہی ذمہ دار مانتی ہے جتنا اے راجہ کو۔ اس کا کہنا ہے جب چدمبرم وزیر خزانہ ہوا کرتے تھے اس وقت راجہ جی جو بھی کررہے تھے ۔اس سبھی کے بارے میں نہ صرف چدمبرم کو واقفیت تھی بلکہ انہوں نے راجہ کی حمایت بھی کی تھی۔ انہوں نے راجہ کے اٹھائے گئے اقدامات کو اپنی رضامندی دی اگر وہ چاہتے تو اسی وقت اس گھوٹالے کو ہونے سے روک سکتے تھے۔ بھاجپا نے اپنے الزامات کی بنیاد پر وزارت مالیات کے پچھلے سال وزیر اعظم کے دفتر کو بھیجے گئے اس نوٹ کو بھی جواز بنایا جو اس سال 25 مارچ کو بھیجا گیا تھا۔ اس نوٹ سے صاف ہوجاتا ہے کہ ٹو جی اسپیکٹرم الاٹمنٹ کی نیلامی کے بجائے ''پہلے آؤ پہلے پاؤ'' کی پالیسی بنانے کے لئے بھی وزیر خزانہ کی شکل میں چدمبرم نے اپنی منظوری دی تھی۔ یہ ہی نہیں راجہ نے باقاعدہ چدمبرم کو اس بارے میں خط بھی لکھا اور میٹنگ بھی کی تھی۔ ایسے میں چدمبرم اس گھوٹالے کیلئے اتنے ہی ذمہ دار ہیں جتنے راجہ۔ دراصل چدمبرم کا بائیکاٹ کرکے این ڈی اے ایک تیر سے کئی نشانے لگانے کی کوشش کی ہے۔ حکومت اور چدمبرم کے لئے ایک عجیب و غریب صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ وہیں چدمبرم کو پسند نہ کرنے والے ٹیم انا کے لوگ بابا رام دیو اور تاملناڈو کی چیف منسٹر جے للتا تک نے بھی ایک میسج بھیجا ہے۔ بائیکاٹ کا وقت ماننا پڑے گا کہ اچھا ہے جنتا پارٹی کے صدر ڈاکٹر سبرامنیم سوامی کی اپیل پر یہ معاملہ عدالت میں ہے۔ چدمبرم کی لوک سبھا سیٹ بھی خطرے میں ہے کیونکہ ان کے چناؤ کے خلاف ایک عرضی کا فیصلہ کبھی بھی آسکتا ہے۔ ڈاکٹر سوامی کی ڈیمانڈ پر سی بی آئی کو ٹی جی سے وابستہ کاغذات دینے پڑے ہیں۔ سوامی دعوی کررہے ہیں کہ چدمبرم کو پوری جانکاری تھی اور وہ اسے دستاویزات کے ساتھ ثابت بھی کرسکتے ہیں۔ این ڈی اے نے نہ صرف دباؤ بنایا بلکہ ایک سیاسی پیغام بھی دے دیا ہے۔ بابا رام دیو اور ان کے ساتھ رام لیلا میدان میں بیٹھے لوگوں پر پولیس کارروائی کے پیچھے بھی وزیر داخلہ کا حکم مانا جارہا تھا۔ بابا رام دیو کے حمایتیوں کی طرح ٹیم انا کے بھی کافی لوگ مانتے ہیں کہ انا اور ساتھیوں کی گرفتاری اور اس کے بعد معاملے کو الجھانے میں وزیر داخلہ اور وزیر انسانی وسائل کپل سبل کا خاص رول رہا۔ ادھر تاملناڈو کی وزیر اعلی جے للتا کو اپنی ہی ریاست کے چدمبرم کو ایک آنکھ نہیں بھاتیں۔یہ بھی غور طلب ہے کہ گذشتہ ایتوار کو جے للتا کی پہل پر انا ڈی ایم کے کے تھمبی دورئی رام لیلا میدان میں ایل کے اڈوانی کی ریلی میں آئے تھے۔ اس کے ایک دن بعد چدمبرم کے بائیکاٹ کا فیصلہ ہوگیا۔ جے للتا ممکن ہے مستقبل میں این ڈی اے سے جڑ جائیں۔ کل ملاکر بھاجپا کو لگتا ہے ان کے بائیکاٹ کی پالیسی صحیح سمت میں صحیح قدم ہے۔
2G, A Raja, Anil Narendra, BJP, CBI, Congress, Daily Pratap, Jayalalitha, L K Advani, P. Chidambaram, Rath Yatra, Vir Arjun

23 نومبر 2011

مسلم پرسنل لاء قانون میں اصلاح کی مانگ




Published On 23rd November 2011
انل نریندر
ملک میں مسلم فیملی قانون میں اصلاح اور مسلم نجی قانون سیکشن میں دئے جانے کی مانگ اب زور پکڑ رہی ہے اس لئے بھارتیہ مسلم مہلا تحریک سے جڑی مسلم مہلا شکشا ، سلامتی، روزگار، قانون و صحت کے اشوز پر بیداری لانے و سیاسی چیتنا قائم کرنے میں لگی ہے۔ اب اترپردیش کے کئی شہروں میں بھارتیہ مسلم مہلا آندولن و پرچیہ سنستھا مشترکہ طور سے خواتین کے درمیان جا کر انہیں بااختیار بننے کی راہ دکھارہی ہے دیش میں مسلم خواتین کی حالت ہمیشہ سے بحث کاموضوع رہی ہے۔ مسلم خواتین کی حالت اور مسلم کنبہ قانون میں اصلاح کے امکان پچھلے کافی عرصہ سے مسلم آندولن وپرچیہ سنستھا چلارہی ہے۔ لکھنؤ ، سہارنپور، مظفر نگر سمیت اترپردیش کے کئی مختلف شہروں میں اس منچ کی طرف سے جو اشوز اٹھائے جارہے ہیں ان میں مسلم مہلا اب کافی دلچسپی لینے لگی ہے اب وہ خود چاہتی ہیں کہ ان کی زندگی کے فیصلے خاندانی اشو پر انہیں بھی سہارا ملے تاکہ اپنے فیصلے وہ خود کرسکے۔ بھارتیہ مسلم آندولن اب دیش کے پندرہ راجیوں میں سرگرم ہے اس آندولن سے وابستہ نائش حسن نے بتایا کہ وہ اس مسئلے کو ہرجگہ جا کر مسلم خواتین میں بیداری پیدا کررہی ہے۔ اس تحریک کو گاؤں تک لے جایا گیا ہے۔ قومی سطح پر وہ ایم پی پر دباؤ بنانے کے لئے بیداری وسیاسی چیتنا قائم کرنے کاکام کررہا ہے۔ وہ مانتی ہے کہ کوئی بھی سماج پسماندہ نہیں رہناچاہئے۔ آندولن بھارتیہ آئین کے دائرے میں اپنے اختیارات اور ترقی کی مانگ کو آگے بڑھانے میں بھروسہ رکھتا ہے۔ حسن نے بتایا کہ ایک طرفہ بھارتیہ آئین کی دفعہ 14,14,21,26,29,30 اور350اے ہندوستان کے سبھی شہریوں کے لئے یکساں مواقعوں کا اعلان کرتی ہے۔ ایک طرف قانونی برابری کی بات کرتی ہے تووہی دوسری طرف دیکھاجائے تو ان دفعات کو غیرضروری طورپر عمل میں نہیں لایاجارہا ہے۔ کسی بھی مذہب کے نجی قانون خواتین کو سیکورٹی نہیں دیتے جہاں تک مسلم پرسنل لاء کاسوال ہے وہ ایک آئینی عہد بند نہیں ہے۔ یہ قانون عورتوں کو سیکورٹی نہیں دیتا۔ تین طلاق کے واقعات آئے دن سامنے آتے رہتے ہیں مسلم شادی سیکشن ایکٹ 1939 میں مسلم خواتین کو اختیار تو دیا لیکن مردوں کوایک طرف زبانی تین طلاق کے حق پر پابندی نہیں لگائی۔ جہاں مسلم مرد ثالثی کی کوئی کوشش کئے بغیر اپنی بیوی کو ایک طرفہ طلاق دے سکتا ہے شریعت میں کیا انتظامات کئے گئے ہیں اس سے وابستہ تشریحات کئی بہت سی جانی مانی قانونی ہستیوں نے بھی کی ہے لیکن کوئی آئینی قانون نہیں ہے۔ قانون کی تشریح کب تک قانون نہیں بنتا جب تک اسے پارلیمنٹ پاس نہیں کرتی۔ پارلیمنٹ صرف 1937,1939 و1986 کے قانون کو پاس کیا ہے۔نائش حسن نے بتایا کہ الجرائز میں خاندانی کورٹ 1984 ، مصرمیں یہ شخصی حالات ( ترمیم )قانون 1985 عراق میں شخصی حالات کا قانون (ترمیم) 1987 میں اردن میں شخصی حالات کاقانون 1976 کویت میں 1984 لیبیا میں بھی 1984 وغیرہ کئی ممالک میں نئی ترمیمات ہوئی ہے۔ لیکن بھارت میں ایسانہیں ہوا۔ ملکی مسلم فرقے اور مسلم خواتین کی خراب حالات کو دور کرنے میں بھروسہ کررہی ہے۔ لیکن مسلم پرسنل لاء پر بحث مسلم سماج کے سبھی طبقے دور بھاگتے ہیں اب دیش میں مسلم پرائیویٹ قانون کی دفعہ بنائے جانے کی ہر سطح پر مانگ اٹھائی جائے گی۔ سرکار مسلم خواتین کے لئے بات نہیں کرناچاہتی۔
Anil Narendra, BJP, Daily Pratap, L K Advani, Manmohan Singh, Rath Yatra, Sushma Swaraj, Vir Arjun

جن چیتنا یاترا کا شاندار اختتام




Published On 23rd November 2011
انل نریندر
بھاجپا کے سینئر لیڈر شری لال کرشن اڈوانی میں ماننا پڑے گا غضب کا جذبہ ہے۔ اتنی عمر ہونے پر بھی وہ نوجوانوں سے زیادہ طاقت رکھتے ہیں۔ ایتوار کے روز اڈوانی نے اپنی سات ہزار کلو میٹر 22 ریاستوں،5 مرکزی ریاستوں سے ہوتی ہوئی جن چیتنا یاترا پوری کی۔ دہلی میں ان کاشاندار خیر مقدم ہوا۔رام لیلا میدان یا تو اتنا انا کی تحریک کے وقت بھرا تھا یا پھر جن چیتنا یاترا کے اختتام پر۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ اڈوانی جی کا خیر مقدم کرنے کیلئے آئے تھے۔ ایم سی ڈی چناؤ سے پہلے شری اڈوانی کی جن چیتنا یاترا کے اختتام کو راجدھانی کی بھاجپا سیاست میں طاقت کی آزمائش کے طور پر دیکھا جارہا ہے اور اس پروگرام پر سبھی کی نگاہیں لگی ہوئی تھیں کیونکہ یہاں کا پیغام دور تک جانا تھا۔ دہلی بھاجپا پردھان وجیندر گپتا نے لگتا ہے کہ ایتوار کو یاترا کے اختتام کے لئے اپنی پوری طاقت جھونک دی۔ اس کامیاب پروگرام سے ان کا نجی قد بھی بڑھا ہے۔ بہت کم جذباتی شری اڈوانی یہ کہنے سے اپنے آپ کو نہیں روک پائے کہ دہلی میں اتنا بڑا عوامی سیلاب دیکھ کر میں بہت حیرت زدہ ہوں اور دہلی سرحد سے رام لیلا میدان تک 30 کلو میٹر کے راستے میں جو قابل قدر خیر مقدم ہوا ہے اسے وہ زندگی بھر یاد رکھیں گے۔ اڈوانی جی کا یہ کہنا اپنے آپ میں کئی معنوں میں اور بھی اہم ہے کیونکہ وہ اس وقت پارٹی کے سینئر لیڈر ہیں اور دہلی کے لئے انجام نہیں ہیں۔ ان کی پوزیشن یہاں تک ہے کہ دہلی بھاجپا ہی نہیں منڈل سے لیکر مورچے کے عہدیداران تک کے نام جانتے ہیں۔ کس علاقے میں پوزیشن کیا ہے انہیں آج بھی پتہ ہے۔ اس لئے اگر تیاریوں کو سراہتے ہیں تو وہ صحیح ہیں۔ اڈوانی کی اس طویل یاترا نے تمام دیش میں بھاجپا کے ورکروں کو جگانے میں مدد کی ہے۔ جس طریقے سے دیش کے مختلف حصوں میں جنتا کا سیلاب امڑا ہے مقامی ورکروں اور نیتاؤں نے بہت محنت کی ہے۔ جو لاکھوں ورکر مایوس ہوکر گھر بیٹھ گئے تھے وہ ایک بار پھر سرگرم ہوئے اور سڑکوں پر اتر آئے۔ اڈوانی جی سے میں نے راجستھان کے چورو کے سجان گڑھ ریلی کے بعد پوچھا کہ آپ اتنے ہجوم کا کیا تجزیہ کرتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا آج پورے دیش میں اس منموہن سنگھ کی یوپی اے سرکار کے خلاف بھاری ناراضگی ہے غصہ ہے۔ اس غصے کو وہ ظاہر کرنے کے لئے یہاں اکٹھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے مجھے تاملناڈو، آندھرا پردیش کے فوٹو دکھائے۔ ان ریاستوں میں تو بھاجپا کی زیادہ سے زیادہ سیاسی موجودگی نہیں ہے لیکن یہاں بھی دیکھ کر میں بھی حیران ہوگیا۔ جب میں نے ان سے پوچھا کہ سیاسی طور سے اس یاترا کا بھاجپا کو کیا فائدہ ہونے والا ہے۔ تو ان کا کہنا تھا یہ بھیڑ ضروری نہیں ہمیں سب ووٹ دے ، یہ ایک ماحول دکھاتی ہے۔ باقی چناؤ میں ابھی وقت ہے ہم کوشش کریں گے کہ چناؤ تک یہ اثر بنا رہے۔ اس یاترا سے بھاجپا کی این ڈی اے اتحادیوں کی تعداد بڑھانے کی کوشش رنگ لاتی نظر آنے لگی ہے۔ اڈوانی اپنی یاترا کے لئے این ڈی اے کی پارٹیوں کو ساتھ لانے میں کچھ حد تک کامیاب بھی رہے۔ شرد یادو، نتیش کمار، بادل پریوار تو یاترا میں ساتھ ہی تھا۔ ایتوار کو اختتامی ریلی میں جے للتا نے اپنے نمائندے کو بھیج کر سیاسی اشارہ دے دیا ہے۔ دہلی میں اپنی تقریر میں اڈوانی جی نے کہا یہ یاترا ختم ہوئی ہے لیکن کرپشن کے خلاف جنگ پوری نہیں ہوئی ہے۔ دیش کو تسلی ملنے تک یہ جنگ جاری رہے گی۔ صبح جب میں غازی آباد سے چلا تھا تو کہرا تھا جو خوشگوار موسم کے سبب چھٹ بھی گیا لیکن جو کہرا آج بھارت کی سیاست پر دیش کی اب تک کی سب سے کرپٹ سرکار کی وجہ سے چھایا ہوا ہے وہ موسم کے سبب نہیں ہٹے گا بلکہ وہ جن چیتنا اور عوامی ریفرنڈم سے ہی دور ہوگا۔ کرپشن کے معاملے میں گھری مرکزی سرکار پر دباؤ بنانے کے لئے نئی حکمت عملی کے تحت انہوں نے بھاجپا اتحاد کے سبھی ممبران پارلیمنٹ سے کہا ہے کہ وہ این ڈی اے کے سبھی ایم پی لوک سبھا اسپیکر یا راجیہ سبھا کے چیئرمین کو یہ لکھ کر دیں کہ وہ یہ اعلان کرتے ہیں کہ بھارت کے باہر کسی بھی بینک میں ان کا کوئی ناجائز کھاتا نہیں ہے نہ ہی کوئی ناجائز پیسہ ہے۔ میں اپیل کرتا ہوں کہ ایک ہفتے کے اندر اس طرح کا خط سونپ دیا جائے۔
ایتوار کو رام لیلا میدان میں لوک سبھا میں اپوزیشن کی لیڈر سشما سوراج نے بھی سما باندھ دیا۔ اپنی تقریر میں سشما نے کہا جب پردھان منتری منموہن سنگھ کو کسی بھی معاملے میں کوئی جانکاری نہیں ہے تو وہ کس مرض کی دوا ہیں؟ اور ایسے وزیر اعظم کی رہبری پر ہمیں ملال ہے۔ سبھی معاملوں میں وزیر اعظم اپنے ساتھیوں پر معاملہ ٹال کر بری ہونا چاہتے ہیں۔ گھوٹالہ ہونے پر وہ کہتے ہیں کہ راجہ سے پوچھو اور مہنگائی کے مسئلے پر شرد پوار سے پوچھو۔ جب وزیر اعظم کو کچھ پتہ ہی نہیں تو آخر وہ کس مرض کی دوا ہیں۔ سشما سوراج نے کہا میں نے لوک سبھا میں وزیر اعظم سے ایک نوٹ کے ذریعے سوال کیا تھا کہ ''تو ادھر ادھر کی بات نہ کر یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا۔ مجھے رہزنوں سے گلا نہیں تیری رہبری کا سوال ہے'' اس پر وزیر اعظم نے ایک غیر رسمی شعر کے ذریعے جواب دیا انہوں نے کہا ''لیکن اپنے شعر کا ہی میںآج پردھان نتری کو یہ کہہ کر جواب دیتی ہوں میں بتاؤں کہ قافلہ کیوں لٹا، تیرا رہزنوں سے واسطہ تھااو ر اسی کا ہمیں ملال ہے''۔
Anil Narendra, BJP, Daily Pratap, L K Advani, Manmohan Singh, Rath Yatra, Sushma Swaraj, Vir Arjun

21 اکتوبر 2011

کیا نریندر مودی پارٹی سے اوپر ہوچکے ہیں؟




Published On 21st October 2011
انل نریندر
کچھ وقت پہلے سے گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی اور ان کی پارٹی بھاجپا کے درمیان کچھ حساب کتاب ٹھیک نہیں لگ رہا ہے۔ بھاجپا میں مودی کو لیکردونوں ناراضگی اور علیحدگی پسندی کا جذبہ پیدا ہونے لگا ہے۔ بھاجپا کی لیڈر شپ کا ماننا ہے کہ نریندر مودی کو اب غرور ہوگیا ہے اور وہ اپنے آپ کو پارٹی سے اوپر ماننے لگے ہیں۔ پارٹی نے مودی کو ان کی حیثیت کا احساس کروانا شروع کردیا ہے۔ لال کرشن اڈوانی کی جن چیتنا یاترا پر آنکھیں دکھانے والے نریندر مودی کو اس یاترا میں بالکل نظر انداز کردیا گیا ہے۔ وہ کہیں نظر نہیں آرہے ہیں اور اب اخباروں میں ان کی سرخیاں بھی کم دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ اڈوانی جی نے اپنی یاترا میں بھاجپا کی طرف اور تمام وزیر اعلی کے کام کاج اور کارناموں کا ذکر کیا ہے لیکن انہوں نے ابھی تک کسی بھی بڑے جلسے میں نریندر مودی کا نام تک نہیں لیا ہے۔ یہ ہی اڈوانی پہلے نریندر مودی کو ایک مثالی وزیر اعلی کے طور پر پیش کرتے نہیں تھکتے تھے۔ بھاجپا لیڈر شپ کا خیال ہے کہ مودی کا سیاسی قد کافی بڑا ہوسکتا ہے اور انہیں احساس کرانے کی ضرورت ہے ۔پارٹی ان کی وجہ سے نہیں بلکہ وہ پارٹی سے ہیں۔ اس مسئلے پر اب غور کیا جارہا ہے کہ اگلے سال اترپردیش و دیگر ریاستوں میں اسمبلی انتخابات میں مودی کو پرچار کے لئے نہ بلایا جائے۔ پارٹی کو لگتا ہے کہ وہ اپنی کٹر پسند ہندوتو ساکھ کے سبب اگر مودی پرچار کرتے ہیں تو تمام مسلمان بکھرجائیں گے۔ بھاجپا کا مودی کی وجہ سے اختلاف کرنا شروع کردیں گے۔ بھاجپا کو یہ معلوم ہے ایک بھی مسلمان ووٹ اسے ملنے والا نہیں لیکن وہ یہ بھی نہیں چاہتی کہ بلاوجہ مسلمان پارٹی کے خلاف جارحانہ رویہ اختیارکرلے۔ پارٹی اترپردیش میں پسماندہ اور انتہائی پسماندہ طبقے کو اپنے ساتھ جوڑنے کیلئے نتیش کمار کی مدد لینا بہتر متبادل سمجھنے لگی ہے۔ نتیش کمار نریندر مودی کے کٹر مخالف مانے جاتے ہیں یہ محض اتفاق نہیں کہ مسٹر اڈوانی نے اپنی جن چیتنا یاترا کو بہار سے شروع کیا اور اس یاترا کو ہری جھنڈی بھی نتیش کمار نے ہی دکھائی تھی۔ بہار اسمبلی چناؤ کے دوران بھی انہوں نے مودی کو ریاست میں نہ بھیجنے کی وارننگ دی تھی۔ بھاجپا نے اس پر عمل کیااور نتیجے سب سامنے ہیں۔آج نتیش کمار این ڈی اے کے سب سے طاقتور امیدوار بن کر ابھرے ہیں۔ بھاجپا کو بھی یہ اچھا لگتا ہے کہ وہ این ڈی اے کو آگے بڑھائے اور اس راستے سے وہ اقتدار تک پہنچے۔ مودی کا قد چھوٹا کرنے کے لئے بھاجپا لیڈر شپ اور سنگھ نے مل کر جان بوجھ کر سنجے جوشی کو ذمہ داری سونپی ہے۔ نریندر مودی سنجے جوشی کو بیحد نا پسند کرتے ہیں۔ انہیں تنظیمی سکریٹری کے عہدے سے ہٹوانے میں ان کا بہت اہم کردار رہا۔ ویسے تو لال کرشن اڈوانی بھی سنجے جوشی کو پسند نہیں کرتے کیونکہ جناح معاملے میں سنجے جوشی نے ہی اڈوانی کو پارٹی صدارت سے استعفیٰ دینے کو کہا تھا۔ عام طور پر پردھان اپنا استعفیٰ نائب پردھان کو دیتا ہے لیکن اڈوانی نے اپنا استعفیٰ سنجے جوشی کو بھیجا تھا۔
شری نریندر مودی کی پریشانیاں بڑھتی جارہی ہیں وہ اپنے گھر میں ہی گھرتے جارہے ہیں۔ گجرات دنگوں کے معاملے میں نریندر مودی کو پھنسانے کے لئے جھوٹے ثبوت گھڑنے والے معطل اور پھر گرفتار کئے گئے آئی پی ایس افسر سنجیو بھٹ کو مقامی عدالت نے تمام اختلاف کے باوجود ضمانت دے دی۔ عدالت نے اس معاملے پرشبہ ظاہر کیا جس کے تحت اسے گرفتار کیا گیا۔ رہا ہوتے ہی بھٹ نے مودی پر حملہ بول دیا اور ان کو مجرم بتاتے ہوئے کہا کہ میرے لئے مودی صرف ایک مجرم ہیں جو وزیر اعلی بن گئے ہیں۔ مودی اور ان کے لوگ خود کو بچانے کے لئے میرا قتل کروا سکتے ہیں جیسا کہ ہریند پانڈیہ کا کرایا گیا تھا۔
یہ یقینی ہے کانگریس جو سنجیو بھٹ کو اکسارہی ہے۔ ان کو ضمانت پر چھڑوانے اور باہر آنے کا پورا فائدہ وہ اٹھائے گی۔ حیرانگی تو اس بات پر بھی ہے کہ گجرات کے تین سینئر پولیس افسران نے سنجیو بھٹ کی کھلی حمایت کی ہے۔ 30 ستمبر کو بھٹ کی گرفتاری کے بعد یہ پہلا موقعہ ہے جب افسران بھٹ کے خاندان سے ملنے گھر گئے اور سنجیو کی بیوی شویتا سے ملاقات کی، جو دو گھنٹے چلی۔ شویتا نے بتایا کہ تینوں افسران نے سنجیو کے ساتھ ہورہی نا انصافی پر افسوس ظاہر کیا اور مدد کا یقین دلایا۔ آنے والے دنوں میں لگتا ہے کہ نریندر مودی کی پریشانیاں بڑھنے والی ہیں گھٹنے والی نہیں۔
Anil Narendra, Bihar, BJP, Daily Pratap, Gujarat, L K Advani, Narender Modi, Nitin Gadkari, Nitish Kumar, Rath Yatra, Sanjay Joshi, Sanjeev Bhatt, Vir Arjun

18 اکتوبر 2011

اڈوانی جی کی جن چیتنا یاترا کو لگ رہے ہیں جھٹکے



Published On 18th October 2011
انل نریندر
جن چیتنا یاترا پر نکلے شری لال کرشن اڈوانی کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ یاترا کے آغاز میں ہیں انہیںمشکلوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ کبھی رتھ میں تکنیکی خرابی آجاتی ہے تو کبھی پل سے گذرنے میں اسے دقت آتی ہے۔ جیسے جیسے یاترا آگے بڑھتی گئی نئی نئی مصیبتیں آتی گئیں۔ پہلے مدھیہ پردیش کے ستنا میں یاترا کی اچھی کوریج کے لئے اخبار نویسوں کو لفافے میں پیسے دینے کا معاملہ بے نقاب ہوا۔ اب زمین گھوٹالے میں کرناٹک کے سابق وزیر اعلی یدی یرپا کی گرفتاری سے جن چیتنا یاترا کو جھٹکا لگا ہے کیونکہ اڈوانی جی نے اپنی جن چیتنا یاترا کا مقصد کرپشن کے اشو کو بنایا ہے۔ لہٰذا ان حالات میں پارٹی کی کرکری ہونا فطری ہے۔ بدعنوانی پر سخت رویہ اپنانے کا اشارہ دینے کے لئے پارٹی نے ستنا سے وابستہ مدھیہ پردیش کے پبلک ورکس وزیر یعنی ناگیندر سنگھ پر کڑی کارروائی کا ارادہ بنا لیا ہے۔ صاف ستھری ساکھ رکھنے والے شری اڈوانی اس واقعے سے بہت خفا ہیں۔ اڈوانی جی نے وزیراعلی شیو راج سنگھ چوہان و پردیش چوہان پربھات جھا کو اس کی گہری جانچ کے آدیش دے دئے ہیں۔ان کے غصے کی وجہ بھی ہے کہ مدھیہ پردیش میں یاترا کے دوران بھاری عوامی حمایت ملنے کے باوجود اس واقعے نے سارے جذبے پر پانی پھیردیا ہے۔ اڈوانی جی نے اپنی یاترا میں سب سے زیادہ وقت مدھیہ پردیش کے لئے دیا ہے۔ ریاست میں اس کے لئے زبردست تیاریاں کی گئی ہیں لیکن ابتدا میں ہیں ۔اس واقعے نے سارا مزہ خراب کردیا ہے۔ یاترا کی کوریج کے لئے پیسہ بانٹنے کے الزام میں کٹہرے میں کھڑے پردیش سرکار کے وزیر ناگیندر سنگھ و ممبر پارلیمنٹ گنیش سنگھ نے حالانکہ ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے لیکن اپنی ریلیوں میں لوگوں کو رشوت دینے یا لینے سے پرہیز کرنے کا بھروسہ دلا رہے اڈوانی کویہ واقعہ بےحد ناگوار گذرا ہے۔
کرناٹک کے سابق وزیر اعلی بی ایس یدی یرپا کی گرفتاری ایسے وقت ہوئی جب اڈوانی اپنی جن چیتنا یاترا پر نکلے ہوئے ہیں۔ یدی یرپا بھاجپا کے پہلے سابق وزیر اعلی ہیں جنہیں جوڈیشیل حراست میں بھیجا گیا ہے۔ کرناٹک میں لوک آیکت عدالت نے یدی یرپا کو ایسے موقع پر جیل بھیجا ہے جب اڈوانی کرپشن، کالی کمائی اور بدانتظامی اور صاف ستھری سیاست کو لیکر اپنی یاترا کررہے ہیں۔ ان کا رتھ 30 اکتوبر کو بینگلور پہنچے گا۔ ایسے میں اب شری اڈوانی سمیت بھاجپا نیتاﺅں کو یدی یروپا کے معاملے پر اٹھنے والے تلخ سوالوں سے مقابلہ کرنا پڑے گا۔ بھاجپا اب تک ٹو جی اسکینڈل، کامن ویلتھ گیمس اور نوٹ کے بدلے ووٹ جیسے معاملوں کی مثالیں دے کر کانگریس سمیت یوپی اے سرکار پر حملہ کرتی رہی ہے اب یدی یروپا کے جیل جانے سے کانگریس کو حملہ کرنے کا ایک اور موقعہ مل گیا ہے۔ کانگریس طویل عرصے سے کرپشن کے مسئلے پر بچاﺅ میں رہی ہے۔ اب نوٹ بانٹنے کا موقعہ اس کے لئے کارگر ثابت ہوگا۔ پارٹی نے حملہ بولنے میں کوئی دیری نہیں کی۔ پارٹی کے ترجمان ابھیشیک سنگھوی کا کہنا ہے کہ یہ مثال بھاجپا کی قول و عمل میں فرق بتاتی ہے۔ ان کے ساتھی منیش تیواری نے کہا کہ زیادہ مناسب یہ ہوتا کہ اڈوانی کی کرپشن مخالف یاترا پہلے کرناٹک، اتراکھنڈ ،پنجاب سے نکالی جاتی جہاں بھاجپا کے وزیرو عہدیداران پر کرپشن کے الزامات لگے ہیں۔ بھاجپا میں اڈوانی کی اس یاترا کو لیکر پہلے سے ہی کوئی جوش نہیں تھا۔ اس واقعے کے بعد پارٹی کوجواب دینا مشکل ہورہا ہے۔ منیش تیواری نے کہا نیتاﺅں کا یہ بھی اندیشہ ہے کہ یدی یروپا کی گرفتاری کے بعد کرناٹک میں پارٹی و سرکار کا بحران بڑھ سکتا ہے۔ریاست کی سیاست میں یدی یروپا کے کٹر مخالف مانے جانے والے اننت کمار جن چیتنا یاترا کے کرتا دھرتا ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ جب تک اڈوانی جی کا رتھ کرناٹک میںداخل ہو جنوبی ہندوستان کی واحد بھاجپا سرکار کی حالت ڈانواڈول ہو رہی ہو۔
Anil Narendra, BJP, Congress, Daily Pratap, Gujarat, L K Advani, Punjab, Rath Yatra, Uttara Khand, Vir Arjun

11 اکتوبر 2011

لال کرشن اڈوانی کی جن چیتنا یاترا



Published On 11th October 2011
انل نریندر
 سینئر بھاجپا لیڈر شری لال کرشن اڈوانی کی بدعنوانی مخالف جن چیتنا یاترا11 اکتوبر (یعنی آج سے) شروع ہورہی ہے۔ یہ طویل یاترا38 دنوں میں 23 ریاستوں چار مرکز کے زیر انتظام ریاستوں سے ہوکر گذرے گی۔چھ مرحلوں میں پوری ہونے والی اس یاترا کے درمیان میں دیوالی کے سبب تین دنوں کے لئے آرام ہے۔اس دوران دیش کے دور دراز علاقوں تک پہنچنے کے لئے اڈوانی جی بیچ بیچ میں ہوائی راستے کا سہارا لیں گے۔ وہ اپنی اس یاترا میں4600 کلو میٹر کا سفر طے کریں گے۔ ان کے لئے ہر بار کی طرح ایک بس کو رتھ کی شکل میں تیار کیا جارہا ہے جس میں ایک لفٹ بھی ہوگی جس سے وہ بس کے اوپر تک پہنچ کرنکڑ سبھاؤں کو خطاب کریں گے۔ وہ ہر روز تین چار بڑی ریلیوں کو بھی خطاب کریں گے۔ صبح سویرے10 بجے سے لیکر رات10 بجے تک ان کی یاترا چلے گی جس میں وہ اپنی منزل تک پہنچنے کے لئے 6-7 گھنٹے روزانہ سفر کریں گے۔ ایتوار کو اڈوانی جی نے اپنی رہائشگاہ پر ایک الوداعی پروگرام کا انعقاد کیا ہے۔ اس میں جن چیتنا یاترا تھیم سانگ بھی 'بس اب اور نہیں' ریلیز کیا گیاتھا۔ بھاجپا کو امید ہے کہ خاص طور سے بنایا گیا یہ گانا پورے دیش میں مقبول ہوگا۔ خاص کر نوجوان طبقے میں۔ اس موقعے پر شری اڈوانی نے کہا ہم کرپشن برداشت نہیں کریں گے۔ ہم زیادہ ذیاتی بھی نہیں سہیں گے جو دیش میں آزادی کے 60 سال بعد بھی جاری ہے۔ اور ہم کالی کمائی کے مسئلے پر کوتاہی برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا اپنی یاترا کے ذریعے سے وہ دیش کو جگانے کی کوشش کریں گے اور یہ بتائیں گے کہ دنیا میں پہلے نمبر کا دیش بننے کے لئے بھارت کے پاس کافی مسائل اور اہلیتیں ہیں۔ سابق نائب وزیر اعظم کی رتھ یاترا کے کالے دھن کا اشو اٹھانے کے لئے بالی ووڈ گلوکار راجہ حسن نے ساڑھے چار منٹ کا گیت گا کر سنایا۔ اسے فلم پروڈیوسر منی شنکر نے تیار کیا ہے۔ اس گیت کی شروعات اور آخر میں اڈوانی جی کو کالی کمائی اور کرپشن کے اشو پر کچھ لائن کہتے سنا جاسکے گا۔ شری اڈوانی کی جن چیتنا یاتراپر کچھ تنازعہ ہونا فطری تھا۔ بھاجپا کا ایک طبقہ جو اس یاترا سے خوش نہیں ہے، کا کہنا ہے کہ اس بار رتھ یاترا نہ تو سومناتھ جائے گی اور نہ ہی ایودھیا۔ اڈوانی کا رتھ اس بار اجمیر شریف بھی جائے گا اور امرتسر بھی جائے گا۔ گودھرا کانڈ کے بعد نریندر مودی کے اہم دور میں کٹر ہندوتوواد کی لیباریٹری کی شکل میں ابھرے گجرات میں بھی اڈوانی جی کا رتھ کم گھومے گا۔ مودی کے گجرات کے بجائے شوراج چوہان کے مدھیہ پردیش میں زیادہ گھومے گا۔ مدھیہ پردیش میں اڈوانی اس لئے بھی زیادہ وقفے رہیں گے کیونکہ شوراج سنگھ چوہان نے کرپشن کے خلاف ایسے قانون بنائے ہیں جو دوسری ریاستوں کے لئے مثال بن رہے ہیں۔ اس مرتبہ کی یاترا میں کسی طرح کا کوئی فرقہ وارانہ ایجنڈا نہیں ہے۔ شاید شری اڈوانی امید رکھتے ہیں کہ کرپشن اور کالی کمائی کے اشو سے سبھی متاثر ہوں گے۔ چاہے وہ کسی بھی مذہب یا فرقے یا کسی بھی برادری کا ہو۔ اس لئے انہوں نے اپنی اس یاترا کو سیکولر شکل دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ اڈوانی جی کی جن چیتنا یاترا کا ایک مقصد آنے والے پانچ ریاستوں میں اسمبلی چناؤ ہیں اور 2014 میں ہونے والے لوک سبھا چناؤ تک کانگریس مخالف لہر کو برقرار رکھنے کا ہے۔ کرپشن اور کالی کمائی کے اشوز کو زندہ رکھنا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ ہزاروں کلو میٹر کی یاترا سے اڈوانی کے حق میں ایک ماحول بنے گا اور انہیں امید ہے کہ وہ بھاجپا کے سب سے قد آور نیتا بن کر ابھریں گے۔ باقی تو یاترا کے بعد ہی پتہ چلے گا۔ جہاں تک جنتا کی حمایت کا سوال ہے جس طرح اس وقت کرپشن اور کالی کمائی نے دیش میں ماحول انا ہزارے نے بنایا ہے اس سے کہا جاسکتا ہے کہ رد عمل اچھا ہوگا۔ اس بات کی تعریف کرنی ہوگی کہ اتنی عمر ہونے کے باوجود اڈوانی جی میں آج بھی نوجوانوں جیسا جوش بھرا پڑا ہے۔ بیسٹ آف لک اڈوانی جی۔
Anil Narendra, Daily Pratap, L K Advani, Rath Yatra, Vir Arjun

15 ستمبر 2011

کیااڈوانی کی مجوزہ یاترا ایک ماسٹر سٹروک ہوگا



Published On 15th September 2011
انل نریندر
بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر لیڈر83 سالہ شری لال کرشن اڈوانی ایک مرتبہ پھر رتھ یاترا پر نکلیں گے۔ انہوں نے یوپی اے سرکار کے اقتدار میں رہنے کا جواز کھو دینے اور اس کا جن آدیش ختم ہوجانے کا دعوی کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ اس کرپٹ حکومت کے خلاف نومبر سے پہلے ملک بھر میں رتھ یاترا کریں گے۔ ووٹ کے بدلے نوٹ جس طرح سے اس حکومت نے بربادکیا ہے اس کا بھی جنتا میں وہ رتھ یاترا کے دوران پردہ فاش کریں گے۔ بھاجپا کور گروپ کی میٹنگ میں مجوزہ رتھ یاترا پر غور و خوض ہوا۔ یاترا کے دوران تقریباً 6 ہزار کلو میٹر کا سفر طے کیا جاسکتا ہے۔ اڈوانی جی کا نظریہ ہے کہ یاترا کا زور صاف ستھری سیاست اور بہتر انتظامیہ پر ہونا چاہئے جبکہ کچھ بھاجپا نیتاؤں کا نظریہ ہے کہ اسے کرپشن مخالف یاترا ہونا چاہئے کیونکہ پورے دیش میں بدعنوانی کا اشو مرکز بنا ہوا ہے۔پنجاب، اتراکھنڈ، گوا اور اترپردیش جیسی ریاستوں کے کچھ لیڈر چاہتے ہیں کہ یاترا ان ریاستوں سے ہوکر ضرور گذرے کیونکہ ان ریاستوں میں اگلے سال چناؤ ہونے والے ہیں۔ وہیں کچھ لیڈر اس نظریئے سے متفق نہیں نظر آتے۔
اڈوانی جی کی اس مجوزہ یاترا کی حمایت اور تنقید دونوں ہی ہو رہی ہیں۔ پہلے تنقید کی بات کرتے ہیں۔ انا ہزارے اور ان کی ٹیم محسوس کرتی ہے کہ یہ یاترا ان کی تحریک کی اہمیت کم کرنے کے لئے کی جارہی ہے۔ انا نے خود یاترا کو دکھاوا قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ تب تک بھاجپا کی حمایت نہیں کریں گے جب تک وہ پارلیمنٹ میں جن لوکپال بل کی حمایت نہیں کرتی۔ اس کی ریاستی حکومتیں لوکپال کی تقرری کا قانون نہیں بناتیں۔ انا نے ٹی وی چینلوں سے کہا کہ اگر کرپشن کے اشو پر اڈوانی سنجیدہ ہیں تو یاترا کرنے کے بجائے انہیں بھاجپا حکمراں سبھی ریاستوں میں لوک آیکت کی تقرری کے لئے قانون بنانے کو کہنا چاہئے۔ گذشتہ دنوں رالے گن سدھی میں انا کی ٹیم کی ایک اہم میٹنگ ہوئی۔ اس میٹنگ میں میدھا پاٹیکر نے جم کر اڈوانی کی رتھ یاترا کی مخالفت کی ہے۔پاٹیکر نے صاف کہا کہ اڈوانی کی رتھ یاتراکو کسی بھی حالت میں انا ہزارے کی حمایت نہیں ملنی چاہئے۔میدھا پاٹیکر نے آگاہ کیا کہ یہ ایک سیاسی یاترا ہے، جس کا مقصد سیاسی ہے۔ سماجی بھلائی یا کرپشن کو دور کرنا نہیں ہے۔ جہاں تک کانگریس پارٹی کے رد عمل کا سوال ہے وہ اس سے ناخوش ہے۔ ایک نیتا نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ یہ اڈوانی کا ماسٹر سٹروک ہے۔ انا ہزارے کی تحریک کے ٹھیک بعد مرد آہن کہے جانے والے بھاجپا کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی کی رتھ یاترا، عدالت عظمیٰ کے ذریعے نریندر مودی کو دی گئی راحت اور وسط مدتی چناؤ کی افواہوں نے کانگریس کے کان کھڑے کردئے ہیں۔ کرپشن کے اشو پر سرکار دباؤ میں ہے۔ پہلے گاندھی وادی انا ہزارے اور اس کے بعد بھاجپا نیتا ایل کے اڈوانی نے کرپشن کے مسئلے پر ایک رتھ یاترا کی بات کہہ کر حکومت اور کانگریس تنظیم دونوں کے لئے مشکلیں بڑھا دی ہیں۔ کانگریس کو اصلی فکر آنے والے مہینوں میں پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ کی ہے۔ ان میں سب سے اہم اترپردیش ریاست ہے۔ پنجاب اور اتراکھنڈ میں بھی کانگریس اس مرتبہ سرکار کی امیدیں لگائے ہوئے ہے۔ کانگریس کو بڑی پریشانی یہ ہے کہ انا کی تحریک سے جنتا میں یہ پیغام گیا ہے کہ سرکار اور تنظیم ان کو لیکر سنجیدہ نہیں ہے اور یہ پارٹی کے ماتھے پرشکن ڈالنے کے لئے کافی ہے۔ پارٹی کو یہ فکر بھی ستا رہی ہے کہیں انا کی بوئی فصل کو کاٹنے کیلئے اڈوانی نے جو ماسٹر سٹروک کھیلا ہے وہ کامیاب نہ ہوجائے؟ حکومت کے لئے اور کانگریس کے لئے پریشانی میں ڈالنے والے اڈوانی اکیلے نہیں ہے۔ ادھرانا ہزارے بھی گاؤں گاؤں گھومنے کی اسکیم بنا رہے ہیں۔ یوگ گورو بابا رام دیو بھی حکومت سے خفا بیٹھے ہیں اور نئے سرے سے یاترا کرنے جارہے ہیں۔ تینوں کی یاترائیں کرپشن کے اشو پر ہیں، ایسے میں کرپشن کا اشو نہ صرف اسمبلی انتخابات تک زندہ رہے گا بلکہ اگر ان انتخابات میں کانگریس ہار جاتی ہے تو 2014ء میں ہونے والے عام چناؤپر بھی اس کا اثر پڑ سکتا ہے۔ اڈوانی جی بھی یہ ہی چاہتے ہیں سرکار اور پارٹی دونوں پر دباؤ بنا رہے ہیں۔ اڈوانی جی کی اس رتھ یاترا سے بھاجپا کی دوسری صف کے نیتا اندر خانے خوش نہیں ہیں انہیں لگتا ہے اگر2014 ء میں بھاجپا لیڈر شپ والے این ڈی اے کو اقتدار مل جاتا ہے تو ان کا وزیراعظم بننے کا خواب پورا نہیں ہوگا اور اڈوانی بھاجپا کے نمبر ون پسندیدہ شخص ہوں گے جبکہ بھاجپا ورکر اس یاترا سے خوش ہیں اور گرمجوشی سے اس کا استقبال کرے گا۔ یاترا کے دوران ورکر سرگرم ہوجائے گا جو اڈوانی کا ایک مقصد بھی ہے لیکن پارٹی کے اندر رام جیٹھ ملانی جیسے لیڈر بھی موجود ہیں جو یاترا شروع ہونے سے پہلے ہی اس کی ہوا نکالنے میں لگے ہوئے ہیں۔ تہاڑ جیل میں بند امر سنگھ کی پیروی کررہے رام جیٹھ ملانی نے پیر کے روز تیس ہزاری عدالت میں کہا کیونکہ یہ اسٹنگ آپریشن بھاجپا نے کرایا تھا اس لئے ممبران کو دئے گئے پیسے کا انتظام بھی اسی نے کیا ہوگا۔جیٹھ ملانی پہلے بھی بھاجپا کے لئے اس طرح کی دقتیں پیدا کرتے رہے ہیں۔ ٹو جی اسپیکٹرم معاملے میں ایک طرف بھاجپا یوپی حکومت کے خلاف مورچہ کھولے ہوئے ہے تو دوسری طرف جیٹھ ملانی تہاڑ جیل میں بندڈی ایم کے کی راجیہ سبھا ممبر کنی موجھی کی پیروی بھی کررہے تھے۔
ایک طرف تو اڈوانی اس مسئلے کو لیکر سڑکوں پر اترنے کا اعلان کرتے ہیں تو دوسری طرف انہیں کی پارٹی کا ممبر یہ الزام لگا تا ہے کہ ووٹ کے بدلے نوٹ معاملے میں پیسہ بھاجپا نے ہی دیا ہوگا۔ جیٹھ ملانی کی یہ دلیلیں اڈوانی کی یاترا کی دھار کو کمزور کرسکتی ہیں کیونکہ نوٹ کے بدلے ووٹ معاملے میں بھاجپا شروع سے ہی کانگریس یوپی اے سرکار کو کٹہرے میں کھڑا کرتی رہی ہے۔ تہاڑ جیل میں بند اپنے دو سابق ممبران کو بھاجپا ’’وسل بلوور‘‘ بتاتی رہی ہے اور اڈوانی اس معاملے میں کہہ چکے ہیں کہ وہ جیل جانے کو تیار ہیں۔ البتہ مجوزہ رتھ یاترا کا مرکزی نکتہ تو رام مندر ہے اور نہ ہی ہندوتو بلکہ بدانتظامی اور صاف ستھری سیاست کے اشو کو لیکر ہے اور یہ اشو سبھی طبقوں ،مذاہب ،فرقوں کو پسند آئے گا۔ آخر اس یاترا کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ اس کی دو وجوہات نظر آتی ہیں ایک کے بعد ایک گھوٹالوں نے یوپی اے حکومت کو دفاع میں لاکر کھڑا کردیا ہے۔ پھر انا کی تحریک نے اسے گھر گھر کا موضوع بنا دیا ہے۔ سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی ہونے کے ناطے بھاجپا کو لگتا ہے کہ اس ماحول کا سب سے زیادہ فائدہ اسی کو مل سکتا ہے۔ دوسرے ووٹ کے بدلے نوٹ کانڈ میں دہلی پولیس کی کارروائی نے بھاجپا کی بے چینی بڑھا دی ہے۔ اس کے دو سابق ممبران کو عدالت نے تہاڑ بھیج دیا ہے۔ پھر عدالت نے اس معاملے میں اڈوانی کے قریبی رہے سدھیندر کلکرنی کو نوٹس دیا ہوا ہے اور دہلی پولیس نے بھاجپا کے ایک موجودہ ایم پی کے خلاف کارروائی کے لئے لوک سبھا اسپیکر سے اجازت مانگی ہے جبکہ بھاجپا کا دعوی ہے کہ ان کے جن لوگوں کو ملزم بنایا گیا ہے وہ اصل میں تو خریدوفروخت کے ذریعے اکثریت حاصل کرنے کیلئے کانگریس کی سازش کو بے نقاب کرنے میں جٹے ہوئے تھے۔
بھاجپا لیڈرشپ کو یہ محسوس ہوا ہوگا کہ اگر پارٹی اس معاملے میں چپ بیٹھ گئی تو اسے کافی نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اب اپنی سیاسی زندگی کے غروب ہونے کے دہانے پر کھڑے انہیں سینئر عہدے پر پہنچنے کیلئے ایک موقعہ ضرور نظر آرہا ہے۔ اس کے لئے انہیں اپنی پارٹی کو دوبارہ سے زندہ کرنے اور اس میں اصلاح کرنے کی کوشش کرنی ہوگی۔ اڈوانی جی کے لئے سب سے بڑی چنوتی شاید یہ رہے گی کہ وہ بھارت کی جنتا میں یہ بھروسہ پیدا کریں کہ واقعی وہ کرپشن کے خلاف ہے اور وہ پوری ایمانداری سے کرپشن کو دور کرنے کیلئے حمایتی ہے۔ بیشک کچھ داغی لیڈروں کو حال ہی میں ہٹایا گیا ہے لیکن ابھی’’ تھیلی‘‘ لینے والے نیتا پارٹی میں موجود ہیں۔ دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ اڈوانی جیسی صاف ستھری ساکھ والے نیتا بھاجپا میں ضرور ہیں لیکن داغی بھی موجود ہیں۔ اڈوانی جی کو سب سے زیادہ خطرہ اندر سے ہے باہر سے نہیں۔
Amar Singh, Anil Narendra, Cash for Vote Scam, Corruption, Daily Pratap, L K Advani, Rath Yatra, Vir Arjun

پوتن سے جنگ ختم کرنے کی اپیل

جنگ انسانی تہذیب کی سب سے بڑی ٹریجڈیوں میں سے ایک ہے اور آج ایک نہیں کئی جنگیں چل رہی ہیں ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ جنگ سے مسائل کا حل تو دور ا...