دہلی کی سڑکیں اتنی غیر محفوظ ہوتی جارہی ہیں کہ اب تو سڑک پر چلنے سے ڈر لگنے لگا ہے۔ عام آدمی تو اب دور کی بات ہے راجدھانی میں جج صاحبان تک محفوظ نہیں ہیں۔ حال ہی میں لاجپت نگر علاقے میں ایک سڑک پر ہوئے غنڈہ گردی کے واقعہ میں ایک جج کے ساتھ مار پیٹ ہوئی تھی۔ اب جمعرات کی شام ایک بار پھر ایک کار سوار نے تین ججوں پر حملہ کردیا۔ یہ واردات دکشن پوری کے علاقے میں ہوئی جہاں اسٹیم کار میں سوار تین ججوں کی گاڑی معمولی طور سے ایک بائیک سوار سے ٹچ ہوگئی تھی۔ اس بات کو لیکر ہوئی کہا سنی کو لیکر جھگڑا اتنا بڑھ گیا کہ بائیک سوار لڑکوں نے جج کی گاڑی پر اینٹوں سے حملہ کردیا۔ میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ اچاریہ گرگ اور دو اڈیشنل ڈسٹرکٹ جج منوج کمار ناگپال اور اندر جیت سنگھ شام کو ساکیت عدالت سے ایک ہی کار میں فرید آباد اپنے گھر جارہے تھے۔ دکشن پوری کے جے بلاک میں ان کی گاڑی ایک پلیٹینا بائیک سے ٹکرا گئی۔ اس سے بائیک سوار دو لڑکے بھڑک گئے اور انہوں نے کار کے ڈرائیور چمن لال کو باہر کھینچ لیا۔ لڑکوں نے پہلے تو کار میں بیٹھے ججوں کے ساتھ بد تمیزی کی اور پھر ان کے ساتھ مار پیٹ کی۔ تھوڑی دیر بعد بائیک دو اور لڑکے وہاں پہنچ گئے انہوں نے بھی مار پیٹ شروع کردی۔ حملہ آوروں نے آس پاس پڑے اینٹ اور پتھروں سے کار میں توڑ پھوڑ کی۔ چشم دید گواہوں کے مطابق پیچھے کی سیٹ پربیٹھے دونوں جج منوج کمار ناگپال اور اندر جیت سنگھ پاس میں واقع ایک مکان کی طرف دوڑے۔ دونوں ججوں کو معمولی چوٹ آئیں جبکہ میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ اجے گرگ اور ڈرائیور چمن لال کے سر میں چوٹیں آئی ہیں۔ حملہ آور چاروں لڑکے اپنی بائیک موقعہ ورادات پر چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ یہ دونوں بائیک دہلی کے نمبر کی ہیں۔ پولیس نے واردات میں شامل انل نامی لڑکے کو امبیڈکر نگر سے پکڑا اور اس کی نشاندہی پر دوسرے لڑکوں کو بھی حراست میں لے لیا ہے۔ اس میں سے انل نے خود کو پتھر سے زخمی کرلیا۔ وہ ابھی ہسپتال میں ہی داخل ہے۔ دہلی میں روڈریج کے واقعات دن بدن بڑھتے جارہے ہیں۔ سال2011 ء میں کل قتل میں 17 فیصدی روڈ ریج کے معاملے میں ہوئے۔ 2010ء میں یہ تعداد15 فیصدی تھی۔ اب وقت آگیا ہے کہ ایسے واقعات کو روکنے کے لئے چوکس ہوجانا چاہئے۔ صرف پولیس کو کوسنے سے کوئی حل نہیں نکلے گا۔ بیشک جرائم کنٹرول کی ذمہ داری پولیس کی ہے لیکن روڈ ریج میں پولیس کیا کرسکتی ہے؟ دہلی کی سڑکوں پر چلنے والے لوگوں کا صبر اتنا کم ہوتا جارہا ہے کہ وہ معمولی سی واردات میں الجھ جاتے ہیں۔ سائڈ نہ ملنے پر تو وہ اپنا آپا کھودیتے ہیں۔ انہیں اب اس کی پرواہ بھی نہیں کہ جس پر وہ حملہ کررہے ہیں وہ شخص کون ہے اور کتنی عمر کا ہے؟ حال ہی میں ایمس کے ایک مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ دہلی میں تقریباً 20 فیصدی سے زیادہ لڑکے بلڈ پریشر سے متاثر ہیں۔ جدید زندگی کی دوڑ دھوپ میں اور بلیڈ حملے نے نوجوانوں کو دماغی اور جسمانی طور پر متاثر کیا ہے۔ اب ظاہر ہے یہ ہی وجہ ہے کہ گھر کے اندر باہر جرائم بڑھ رہے ہیں۔ راجدھانی میں موسم کے گرم ہونے کے ساتھ ساتھ سڑکوں پر لڑکوں کا بھی پارہ بڑھ رہا ہے۔ سڑکیں تنگ ہوتی جارہی ہیں ،گاڑیاں بڑھتی جارہی ہیں، ججوں پر حملہ کرنے والے لڑکوں پر سخت کارروائی ہونی چاہئے۔ اس کو تو سڑک پر چلنے ہی نہیں دینا چاہئے۔ ان کے لائسنس ہی منسوخ کردئے جانے چاہئیں۔ تبھی روڈ ریج کے یہ بڑھتے واقعات رک سکیں گے۔
Translater
Delhi لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Delhi لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
20 مئی 2012
27 اپریل 2012
راجدھانی میں بچیوں کے سوداگروں کا دھندہ
Published On 27 March 2012
انل نریندر
راجدھانی دہلی میں چھوٹی بچیوں کے ان سوداگروں کو آفت مچا رکھی ہے۔ پچھلے دنوں ایسی اٹھائی گئی 8 بچیوں کو چھڑایا گیا۔ایک پلیسمنٹ ایجنسی پر چھاپہ مار کر جن 8 بچیوں کو چھڑایا گیا انہوں نے آپ بیتی 'چائلڈ ویلفیئر کمیٹی '(سی ڈبلیو سی) کو بتائی۔ اس کے بعد سی ڈبلیو سی نے پولیس کو حکم دیا کے ان لڑکیوں سے ملے سراغوں کی بنیاد پر پلیسمنٹ ایجنسیوں اور اس ریکٹ میں شامل لوگوں کی پہچان کی جائے اور ان پر سخت کارروائی کی جائے۔ سی ڈبلیو سی لاجپت نگر نے پولیس کو حکم دیا ہے کہ ٹریفکنگ کے جال میں پھنسی باقی بچیوں کو بھی آزاد کرایا جائے۔ واضح ہے کہ پچھلے دنوں سی ڈبلیو سے کے حکم پر دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے ایک پلیسمنٹ ایجنسی پر چھاپہ مارکر 8 بچیوں کو آزاد کرایا تھا۔ ان بچیوں کو مغربی بنگال کے الگ الگ گاؤں سے یہاں لایا گیا تھا۔ پلیسمنٹ ایجنسی نے انہیں نوکرانی کے کام پر لگادیا تھا۔ الزام ہے کہ وہاں ان کا استحصال ہورہا تھا۔ ذرائع کے مطابق کم سے کم 20 بچیاں ان کے جال میں ہیں۔ وسنت وہار جیسے پاش علاقے سے پچھلے دنوں ایک 8 سال کی بچی کو ایک گھر سے چھڑایا گیا۔ یہ بچی یہاں نوکرا نی تھی۔ بٹرفلائی چائلڈ ہیلپ لائن نے وسنت وہار تھانے میں اس بارے میں شکایت کی تھی۔ ایڈیشنل ڈی سی پی (ساؤتھ) پرمود کشواہا نے بتایا کہ بچی بہار کے چھپرا کی رہنے والی ہے۔ جس گھر سے بچی کو چھڑایا گیا ہے اس کے مالک کا کہنا ہے کہ بچی ان کی دور کی رشتے دار ہے اور 10 دن پہلے ہی اس کی دادی اسے وہاں چھوڑ کر آئی تھی۔ چھڑائی گئی 8 لڑکیوں کو سی ڈبلیو سی کے سامنے پیش کیا گیا۔دو لڑکیوں نے صاف بتایا کہ ان کے ساتھ بہت بے رحمی برتی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ایمپلائر نے فزیکلی ایبیوز کیا ہے ۔ پلیسمنٹ ایجنسی کے مالک کے خلاف بھی شکایت ہے کہ اس نے بچیوں کو کوئی محنتانہ بھی نہیں دیا۔ایک لڑکی نے بتایا کہ مالویہ نگر میں جہاں وہ کام کرتی تھی اس کی مالک اسے چھوٹی چھوٹی باتوں پر پیٹتا تھا۔ اسے کبھی پیسے نہیں دیتا تھا۔ دوسری لڑکی نے بتایا کہ اسے بری طرح سے مارا جاتا تھا۔اس نے دائیں آنکھ پر چوٹ کے نشان بھی دکھائے۔ اس نے بتایا کہ کس طرح مالک کا بیٹا کئی بار اس کے جسم کو چھوتا اور سیکسول ہیرس کرتا تھا۔ جب کوئی گھر میں نہیں ہوتا تھا تو وہ مجھے اپنے کمرے میں بلاتا تھا۔ جب میں نے یہ سب کرنے سے منع کردیا تو اس نے برا برتاؤ شروع کردیا۔ میں نے ڈر کے مارے کسی کو کچھ بھی نہیں بتایا۔ ایک نابالغ لڑکی جو میڈ کا کام کرتی تھی، اس کو پولیس اور 'بچپن بچاؤ آندولن' کے ورکروں نے گیتا کالونی سے چھڑایا۔ علاقے کے گھر میں نوکرانی کا کام کرنے والوں پر مالک کا ڈر اتنا حاوی تھا کہ اس نے چار سال پہلے اپنی ماں کو ہی پہچاننے سے انکار کردیا۔بدھوار کو جب وہ اپنے پریوار کو ملی تو اس کے آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ راجدھانی میں میڈوں کے نام پر ٹریفکنگ کا دھندہ پھل پھول رہا ہے اور اس میں کچھ پلیسمنٹ ایجنسیوں کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ اسے کیسے روکا جائے یہ پولیس کے علاوہ ماں باپ اور سماج کی ذمہ داری بنتی ہے۔
Anil Narendra, Crime, Daily Pratap, Delhi, delhi Police, Trafficking, Vir Arjun
15 اپریل 2012
کیا دہلی این سی آر تیز زلزلہ سہہ سکے گی؟
Published On 15 March 2012
انل نریندر
انڈونیشیا کے پاس سمندر میں آئے دو زبردست زلزلوں سے بدھوار کو ہندوستان سے لیکر آسٹریلیا تک زمین کانپ اٹھی۔ دوپہر بعد آئے زلزلے کے بعد ہند مہا ساگر خطے کے تمام ملکوں میں سونامی کا خوف طاری رہا۔شکر ہے کہیں بھی سونامی نہیں آئی۔ انڈونیشیا کے سوماترا جزیرے کے پاس ان جھٹکوں کی رفتار 8.5 اور 8.2 ریختر اسکیل پر ناپی گئی۔ اس کا مرکز بندا اسیہا سے 435 کلو میٹر دور سمندری سطح سے 33 کلی کی گہرائی میں تھا۔ سال2004ء میں اس علاقے میں آئے زلزلے کے بعد آئی سونامی لہروں نے ہندوستان سمیت کئی ملکوں میں قہر برپا کیا تھا جس میں دو لاکھ سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔ ان دو زلزلوں کا اثر ہندوستان پر بھی پڑا۔ کولکاتہ، بھوبنیشور و دہلی تک پڑا۔ میں یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ بھگوان نہ کرے اگر دہلی این سی آر میں اتنا خطرناک زلزلہ آیا تو کیا ہوگا؟ 5 مارچ کو این سی آر میں صرف4.9 ریختر اسکیل کا زلزلہ آیا تھا۔تبھی پورے علاقے میں دہشت پھیل گئی تھی۔ دہلی کے للیتا پارک حادثے کی جو رپورٹ حکومت کے سامنے جسٹس (ریٹائرڈ لوکیشور پرساد)نے پیش کی ہے اس میں صاف بتایا گیا ہے کہ مشروم کی طرح بنے این سی آر میں عمارتیں غیر منظورتعمیرات اور عمارت میں بغیر ماہرین کی دیکھ بھال کے توڑ کر اضافے سے زلزلے سے متاثر زون چار والی دہلی خطرے میں ہے۔ نہ صرف تعمیراتی قواعد کو سختی سے لاگو کرنے کی ضرورت ہے بلکہ پرانی عمارتوں کے خطرے کو پرکھنے والی اسٹڈی و ری ڈولپمنٹ کی سخت ضرورت ہے۔ رپورٹ کے مطابق انجینئرنگ کے ذریعے بنائے گئے نقشوں کے بغیر مکانوں کے خطرے کے علاوہ پانی کے ٹینک، بڑھتی آبادی اوربغیر کنکریٹ کے ستون کے مکان زلزلے کی حالت میں بہت خطرناک ہیں۔ دہلی میں 1639 ناجائز کالونیاں ہیں۔ ان ناجائز اور ریگولر کالونیوں کی عمارتیں محفوظ نہیں ہیں۔تعمیرات میں انجینئرنگ قواعد کی تعمیل نہیں ہوئی۔مکانوں میں بغیر اسٹرکچر کے ایک کے بعد ایک دوسری منزل بنائی جارہی ہے اس سے مکان کمزور ہوتا جارہا ہے۔مشرقی دہلی تو ریت پر کھڑی ہے۔ ماہرین نے صاف کہا ہے کہ مضبوط عمارتوں کے لئے ضروری ہے عمارتی کورٹ کی تعمیل اور ڈیزائن سطح پر ہو۔تعمیرات میں استعمال سامان کی کوالٹی عمدہ ہو اور سپر ویزن ٹھیک ہو۔اتنا ہی نہیں پرانے مکان میں نئی منزل یا کوئی دیگر تبدیلی بغیر ماہر کے کی جاتی ہے تو وہ خطرناک ہے۔ اتنا ہی نہیں کرپشن مٹانے اور سکیورٹی کے لئے عمارت تعمیر کی کئی سطح پر تھرڈ پارٹی آڈٹ کئے جانے کی صلاح دی گئی ہے۔زلزلہ ماہرین بتاتے ہیں کہ این سی آر میں ریختر اسکیل میں 8 سے اوپر کا زلزلہ آیا تو حالات بہت خراب ہوں گے۔ مردم شماری 2001ء کے گھروں کے سروے میں استعمال سامان کو بنیاد بنا کر این ڈی ایم اے کے حساب سے 92 فیصدی مکان ایسے ہیں جو روایتی طریقے سے بنے ہوئے ہیں پچھلے دو برسوں میں ہندوستان کے بڑے علاقوں میں چار سے پانچ درمیانی ریختر اسکیل کا زلزلے آچکے ہیں اور آراضی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر قدرتی وسائل سے زیادہ کھلواڑ کا سلسلہ جاری رہا تو خطرہ اور بڑھے گا۔ ضروری یہ ہے کہ ماہرین کی پیش کردہتجاویز پر جلد سے جلد عمل کیا جائے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Delhi, Earthquake, Vir Arjun
29 مارچ 2012
ایم سی ڈی چناؤ: کہیں یہ وبھیشن کانگریس۔ بھاجپا کو ڈوبا نہ دیں
Published On 29 March 2012
انل نریندر
دہلی میونسپل کارپوریشن کے چناؤ کو لیکر ایک بار پھر سیاست میں گرمی آگئی ہے۔ ٹکٹوں کی مارا ماری سے جہاں کانگریس بری طرح الجھی ہوئی ہے وہیں بھارتیہ جنتا پارٹی میں اتنی مارا ماری شاید پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی ہوگی۔ توقع کے مطابق دہلی میونسپل کارپوریشن کے چناؤ نامزدگی کے آخری دن مختلف پارٹیوں اور آزاد امیدواروں کو ملا کر ریکارڈ1785 لوگوں نے دہلی کے مختلف حصوں میں بنائے گئے68 مراکز پر اپنی نامزدگی داخل کی۔ ایک دن میں اتنے زیادہ امیدواروں کے ذریعے نامزدگی کا یہ ریکارڈ ہے۔ ایم سی ڈی کے امیدواروں کے انتخاب میں بھاجپا کے سبھی قاعدے قانون تار تار ہوگئے۔ پارٹی نے جہاں کئی سرکردہ لوگوں کو باہر کردیا وہیں پردیش صدر نے باغیوں سے نمٹنے میں کوئی موقعہ نہیں چھوڑا۔ خاص بات یہ رہی کہ قریب 55 کونسلروں کو پارٹی نے دوبارہ چناؤ میدان میں نہیں اتارا ہے۔ پارٹی نے اس بار17کونسلروں کو دوسرے وارڈوں سے چناؤمیدان میں اتارا ہے۔ پارٹی کی جانب سے جاری امیدواروں کی فہرست میں قریب آدھا درجن اہم کمیٹیوں کے صدور کے نام غائب ہیں۔ ایم سی ڈی چناؤ میں امیدواروں کے انتخاب میں کانگریس کی ماہرین کی کمیٹی نے نہ صرف44 کونسلروں کو جیتنے کے اہل مانا اور ان پر بھروسہ کر چناؤ میدان میں اتارا ہے۔2007ء میں ایم سی ڈی چناؤ میں کانگریس کے67 کونسلروں جیتنے میں کامیاب رہے تھے۔ کانگریس سلیکشن کمیٹی نے ان 67 میں سے43 کونسلروں کو ٹکٹ نہیں دیا ہے۔ ان میں کئی ایسے وارڈ ہیں جہاں تبدیلی ہوئی ہے وہ ریزرو ہوگئے ہیں۔248 نئے چہرے میدان میں اترے ہیں۔ حالانکہ کانگریس پردیش پردھان کا دعوی تھا کہ کسی ایسے شخص کے رشتے دار کو ٹکٹ نہیں دیا جائے گا جس کا وارڈ ریزرو نہ ہو۔ وہیں ایسا بھی شخص ٹک پانے کا حقدار نہیں ہوگا جو2007ء کے ایم سی ڈی چناؤ میں ایک ہزار سے زیادہ ووٹوں سے ہارا ہو۔ امیدواروں کے انتخاب میں جو پیمانے پردیش کانگریس کمیٹی نے بنائے تھے وہ بھی پھُس ثابت ہوئے۔ کانگریس کی اسی پالیسی کے چلتے بڑے پیمانے پر لوگوں نے کانگریس سے بغاوت کر دل بل کے ساتھ پرچے داخل کئے ہیں۔ بھاجپا اور کانگریس میں پرانے نیتا اور ورکروں کی وفاداری پر بڑے نیتاؤں کے چہیتوں کے ساتھ رشتے دار بھاری پڑے۔ بڑے برے نیتاؤں نے زمین کے دھندے سے وابستہ لوگوں کے ساتھ ہی اپنے رشتے داروں میں ٹکٹ بانٹ دی۔ بھاجپا میں ٹکٹ بانٹنے والوں نے اپنی چلانے کیلئے موجودہ117 کونسلروں کے ٹکٹ کاٹ دئے۔ ان میں سے 22 کونسلر اپنی بیوی یا بہو کو ٹکٹ دلانے میں کامیاب رہے۔ بھاجپا کے کل ملاکر عہدوں پر جمے 62 لیڈر اپنی اپنی بیوی اور بہو کو ٹکٹ دلانے میں کامیاب رہے۔ یہ سب ان خاتون ورکروں پر بھاری پڑی ہیں جو طویل عرصے سے پارٹی کا جھنڈا اٹھا رہی تھیں۔ دہلی کی دونوں بڑی پارٹیوں کانگریس اور بھاجپا نے اتنی بڑی تعداد میں سیاسی وبھیشن کردئے ہیں جو امیدواروں کی لنکا اجاڑنے کا کام کریں گے۔ کانگریس میں امیدواروں کی فہرست ہمیشہ آخری وقت پر ہی جاری ہوتی تھی لیکن بغاوت کے چلتے ایک امیدوار کو ٹکٹ دے کر پھر دوسرا امیدوار بدلنا پارٹی کے لئے نئی مصیبت کھڑی کررہا ہے۔ ادھر بھاجپا پارٹی ود دی فیملی دکھائی دے رہی ہے۔ یہاں پارٹی کے ورکروں کو درکنار کر اپنے خاندان کو اہمیت دی گئی ہے۔ بغاوت دونوں ہی پارٹیوں کے لئے ایک نیا درد سر بن گیا ہے۔ کہیں یہ تجزیئے دونوں پارٹیوں کی لنکا نہ جلادیں۔Anil Narendra, BJP, Congress, Daily Pratap, Delhi, Elections, MCD, Vir Arjun
27 مارچ 2012
اترپردیش کی فتح کے بعد اب ملائم سنگھ کی نظریں دہلی پر لگیں
Published On 27 March 2012
انل نریندر
اترپردیش کا اقتدار حاصل کرنے کے بعد سماجوادی پارٹی کے چیف ملائم سنگھ یادو کی نظر اب دہلی کے تخت پر لگ گئی ہے۔ اب ملائم نے وسط مدتی چناؤ کبھی بھی ممکن کی بات کہہ ڈالی۔ اس سے پہلے ترنمول کانگریس چیف ممتا بنرجی نے بھی وسط مدتی چناؤ کے لئے تیار رہنے کی بات کہی تھی۔ ممتا۔ ملائم کے سر میں سر ملاتے ہوئے بھاجپا کی سشما سوراج نے بھی دیش میں وسط مدتی چناؤ کا امکان ظاہر کیا ہے۔ دیواس (مدھیہ پردیش) ضلع میں ویجی لینس و نگرانی کمیٹی کی میٹنگ میں شرکت کرنے آئی سشما نے میڈیا سے کہا کہ دیش کی سیاست ہر دن بدل رہی ہے۔ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے وسط مدتی چناؤ کا امکان ہے۔ سشما نے کہا کہ مرکز کے لئے 272 کا جادوئی نمبر نہیں رہ گیا ہے اور وہ محض 227 ممبران پر ٹکی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہامرکز میں سرکار اقلیت میں آنے کے امکان کو دیکھتے ہوئے بھاجپا وسط مدتی چناؤ کیلئے پوری تیار ہے۔ ملائم کا نشانہ وزیر اعظم بننے کا ہے۔ انہوں نے جمعہ کو سماجوادی نظریئے کے بانی ڈاکٹر رام منوہر لوہیا کی 102 ویں جینتی پر لکھنؤ میں اپنے ورکروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب لوک سبھا میں وسط مدتی چناؤ کیلئے کمر کس لی ہے کیونکہ لوک سبھا چناؤ کبھی بھی ہوسکتے ہیں اس سال یا پھر اگلے سال ، اس لئے سارے ورکر پوری طاقت ابھی سے لگادیں۔ یوپی میں شاندار کامیابی کے بعد اب ریاستی ورکر سبھی 80 لوک سبھا سیٹیں جیتنے کیلئے نشانہ مقرر کرلیں۔ دراصل شری ملائم سنگھ یادو نے ایک تیر سے دو شکار کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایسے وقت جب سماجوادی پارٹی کا موقف کانگریس کے تئیں نرم ہوتا نظر آرہا تھا اور ممتا بنرجی کی بھرپائی کے لئے سپا کو مرکز میں جگہ ملنے کی قیاس آرائیاں تیز ہورہی تھیں تبھی ملائم نے وسط مدتی چناؤ کی بات کہہ کر کانگریس کی ہوا نکال دی۔ ایک طرف انہوں نے کانگریس کے تئیں نرم ہونے کا اپنے نظریئے کی درپردہ طور سے تردید کردی ہے۔ وہیں دوسری طرف اپنے ورکروں کو کانگریس کے خلاف سرگرم ہونے کا پیغام دے دیا۔ یہ ہی نہیں انہوں نے اپنے بیٹے اور وزیر اعلی اکھلیش سنگھ کو یہ بتادیا ہے کہ ان کی سرکار کے کام کاج پر ہی لوک سبھا چناؤ لڑے جائیں گی۔ بھلے ہی وزیر اعلی کے عہد کی میعاد پانچ سال کی ہو لیکن ان کی کسوٹی پر ہونے والے کام کاج کی اگنی پریکشا ایک سال کے اندر ہی ہوجائے گی۔ ملائم سنگھ کو وسط مدتی چناؤ اس لئے بھی سوٹ کرتے ہیں کیونکہ ابھی انہوں نے نہ صرف اپنے بھائی (مسلم یادو) تجزیئے کو ٹھیک سے باندھ رکھا ہے بلکہ سماج وادی حکمت عملی کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے سبھی ذاتوں کے ووٹ بینک ہتھیانے کا کرشمہ دکھایا ہے ۔ جس طرح اکھلیش نے اپنی پہلی ہی میٹنگ میں لیپ ٹاپ، ٹیبلیٹ اور بے روزگاری بھتہ جیسے وعدے چناؤ منشور میں خاص طور پرشامل تھے، کو ہری جھنڈی دے دی ہے۔ اس سے یہ قیاس آرائیاں بھی مسترد ہوگئیں کہ آخر سپا کی ان اہم اسکیموں کے لئے پیسہ کہاں سے آئے گا؟ وسط مدتی چناؤ کی صورت میں ملائم سنگھ کو یہ فائدہ ہونے کی امید ہونی چاہئے کہ سال بھر تک لوگ کم سے کم مایاوتی راج کی یادیں تازہ ہی رکھیں گے۔ مایاوتی کے تئیں ناراضگی کا فائدہ بھی سپا کو لوک سبھا میں ضرور ملے گا۔اترپردیش کے نظریئے سے دیکھا جائے تو وسط مدتی چناؤ بسپا چیف کے لئے بھی کم مفید نہیں کہا جاسکتا۔ چناؤ میں ہار کے بعد اپنی پہلی پریس کانفرنس میں بہن جی نے امید ظاہر کی تھی کہ سپا کے لوگوں کو بد امنی انہیں پھر سے اگلے چناؤ جیتنے کا موقعہ دے گی۔ حالانکہ مایاوتی کے لئے سپا کے عہد میں جتنے دنوں بعد چناؤ ہوں وہ مفید ہی رہیں گے کیونکہ انہوں نے امید پال رکھی ہے کہ سپا کی غلطیوں سے ان کی پارٹی کو فائدہ ملے گا۔ ویسے ان کی یہ امید بے معنی نہیں ہے کیونکہ پہلی بار اگر ملائم سنگھ یادو بسپا کے ساتھ مل کر چناؤ نہیں لڑتے تو اترپردیش میں پاؤں پھیلانے کا موقعہ بسپا کو اتنی جلدی نہیں ملتا۔ یہ ہی نہیں گیسٹ ہاؤس کانڈ نہیں ہوتا تو بھی بھاجپا مایاوتی کو وزیر اعلی نہ بنانے کی غلطی کرتی۔ ملائم سرکار کے تیسرے عہد میں سپا ورکروں کی غنڈہ گردی نے ہی مایاوتی کو 2007ء میں مکمل اکثریت سے سرکار بنانے کا موقعہ دیا۔ ایسے میں مایاوتی کی خوش فہمی واجب ہے لیکن جس طرح سپا سرکار چل رہی ہے اس کے پیش نظر ضرور اسے بے معنی کہا جائے گا۔ بسپا کے بانی کانشی رام اپنی تقریروں میں صاف طور پر کہا کرتے تھے کہ کمزور سرکار اور بار بار چناؤ ان کی پارٹی کے لئے فائدے مند ہیں۔
Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, Delhi, MCD, Samajwadi Party, Uttar Pradesh, Vir Arjun
13 مارچ 2012
اسرائیلی سفارتکار پر حملے میں فری لانس صحافی کی گرفتاری
Published On 13 March 2012
انل نریندر
13 فروری کو نئی دہلی کے انتہائی سکیورٹی والیعلاقوں میں سے اورنگ زیب روڈ پر واقع اسرائیلی خاتون سفارتکار ٹال یوہوشوا کی کار کے پچھلے حصے میں ایک موٹر سائیکل سوار نے میگنیٹک ڈوائز بریکٹ میں اسٹکی بم چپکا دیا تھا۔ اس کے فوراً بعد ہوئے دھماکے سے کار میں آگ لگ گئی تھی۔ خاتون سفارتکار و کارڈرائیور منوج زخمی ہوگئے تھے۔ تین دیگر گاڑیاں میں اس کی ضد میں آئی تھیں۔ دہلی پولیس نے اس دھماکے کے سلسلے میں ایران سے وابستہ ایک شخص کو گرفتار کیا ہے۔اس شخص نے اپنے آپ کو ایک نیوز ایجنسی کا صحافی بتایا ہے۔ اس کا نام سید محمد کاظمی 50 برس ہے اور وہ ایرانی نیوز ایجنسی کے لئے کام کرتا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے سید محمد کاظمی کی گرفتاری کے سراغ بینکاک سے ملے تھے۔ خیال رہے جس دن دہلی میں کار بم لگایا گیا تھا ٹھیک اسی دن بینکاک میں بھی ایک دھماکہ کرنے کی ناکام کوشش کی گئی تھی۔ دہلی میں ہوئے دھماکے کے تار نہ صرف بینکاک سے جڑے ہیں بلکہ جارجیہ سے بھی جڑے ہیں۔ دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ سفارتکار کی کار پر بم دھماکے کی پہلی کامیابی بھی اسی کا نتیجہ ہے ۔ فی الحال پولیس اس حملے کے پیچھے شامل تنظیم کا نام نہیں بتا رہی ہے لیکن کہیں نہ کہیں اس حملے کے پیچھے ایرانی تنظیم کنڈس (کیو یو ڈی ایس) کے ہاتھ ہونے کا اندیشہ ضرور ظاہر کیا جارہا ہے۔ دراصل بینکاک میں ہوئے دھماکے کے بعد وہاں سے کچھ مشتبہ ایرانی فرار ہوگئے تھے جن میں ایک خاتون بھی شامل تھی۔ بینکاک پولیس کو اس خاتون کے گھر کی تلاشی میں ایک ٹیلی فون ڈائری ملی جس میں کاظمی کا موبائل نمبر تھا۔ کاظمی کے خلاف کئی اہم ثبوت ملے ہیں۔ اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ حملوں کے پیچھے ایرانی فوج کی اسپیشل فورس ہے جسے خاص طور سے ایران۔ عراق جنگ کے وقت بنایا گیا تھا۔ محمد کاظمی کو اطلاعات اکھٹی کرنے کے لئے ڈالر میں ادائیگی کی گئی تھی۔ دھماکے میں جس موٹر سائیکل کا استعمال کیا گیا تھا وہ قرولباغ علاقے سے کرائے پر لی گئی تھی۔ حملہ آور بیرون ملک سے آکر پہاڑ گنج کے ایک ہوٹل میں ٹھہرے تھے۔ بتایا جارہا ہے کہ اسٹیکی بم اسی ہوٹل میں تیار کیا گیا۔ پورے معاملے کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ غیر ملکی بمبار جس نے اورنگ زیب روڈ میں کار پر بم لگایا تھا وہ وزارت داخلہ کی لاپروائی کے سبب اسی دن اندرا گاندھی ہوائی اڈے سے جنوبی ایشیا کی کسی ملک کی فلائٹ میں سوار ہوکر بھاگ گیا۔ تین بجے کے قریب دوپہر کو بم لگانے کے آٹھ گھنٹے بعد وہ ہندوستان سے نکل گیا۔ وزارت داخلہ یا کسی اور سرکاری ایجنسی سے ہوائی اڈے پر امیگریشن کو مطلع نہیں کیا کہ مشتبہ افراد کو روکا جائے، پوچھ تاچھ کی جائے۔ وزارت داخلہ کی یہ چوک اس لئے بھی تشویش کا باعث ہے کہ بم دھماکہ ہونے کے فوراً بعد اسرائیل نے کہہ دیا تھا کہ حملے کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے۔ امیگریشن میں ہر ایرانی کی روک کر تلاشی لی جانی چاہئے تھی، جو نہیں لی گئی اور حملہ آور بھاگنے میں کامیاب رہا۔ اس معاملے میں گرفتار محمد احمد کاظمی کے رشتے داروں نے دہلی کے پریس کلب میں پریس کانفرنس کرکے کہا ہے کہ دہلی پولیس کے ذریعے برآمد اسکوٹی ان کے ایک رشتے دار کی ہے۔ قریب دو سال سے وہ ان کے گھر پر کھڑی تھی۔ خاندان کا کوئی ممبر اس اسکوٹی کا استعمال نہیں کرتا ۔ محمد کاظمی کے دوسرے بیٹے شوزیب کاظمی نے گرفتارمیمو پر دستخط کے لئے پولیس پر دباؤ بنانے کا الزام لگایا ہے۔ اپنے گھر پر کسی ایرانی کے آکر ٹھہرنے سے بھی انکار کیا۔ رشتے داروں کا یہ بھی کہنا تھا کہ کربلا معاملے میں ان کے والد نے سرگرم رول نبھایا تھا۔ بی کے دت کالونی میں ان کا اکیلا مسلم خاندان رہتا ہے۔ پیشے سے صحافی محمد احمد کاظمی بنیادی طور سے میرٹھ کا باشندہ ہے۔ سینئر صحافی سعید نقوی نے محمد کاظمی کی گرفتاری کو لیکر دہلی پولیس کو کٹہرے میں کھڑا کیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا ہے امریکہ۔ اسرائیل کے اشارے پر صحافی کو اسرائیلی سفارتخانے کار دھماکے میں زبردستی گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس کی بنیاد بھی پیش کی ہے۔ انہوں نے کہا امریکہ کے اشارے پر ارب ملکو ں میں بغاوت ہورہی ہے اس کی سچائی کو سید محمد کاظمی نے دنیا کے سامنے رکھا اور اسی وجہ سے امریکہ اسرائیل کے دباؤ میں دہلی پولیس نے انہیں گرفتار کیا ہے۔ دہلی پولیس کو اپنا کیس مضبوط کرلینا چاہئے کیونکہ اس کیس پر نہ صرف دیش کے اندر ہی بلکہ دنیا دیکھ رہی ہے۔ اس معاملے میں دہلی پولیس کا وقار ایک بار پھر داؤ پر لگا ہے۔Anil Narendra, Daily Pratap, Delhi, delhi Police, Iran, Israil, Mohd. Ahmed Kazmi, Terrorist, Vir Arjun
07 مارچ 2012
اور اب سب کی نظریں دہلی میونسپل چناؤ پر لگیں
Published On 7 March 2012
انل نریندر
حالانکہ دہلی میونسپل کارپوریشن کے چناؤ پانچ ریاستوں میں اسمبلی چناؤ جیسی اہمیت تو نہیں رکھتے لیکن پھر بھی دیش کی قومی راجدھانی دہلی ہونے کے ناطے میونسپل کارپوریشن کے چناؤ اہمیت کے حامل ہیں۔ پانچ ریاستوں کے چناؤ نتائج کے بعد اب سب کی نگاہیں بلدیاتی اداروں کے آنے والے انتخابات پر لگی ہیں۔ راجدھانی میں پیر سے چناؤ ضابطہ لاگو ہوگیا ہے۔ اس کانفاذ ہوتے ہی نئے پروجیکٹوں کا اعلان یا افتتاحی پروگراموں پر روک لگ گئی ہے۔ حالانکہ چناؤکا نوٹی فکیشن19 مارچ سے لاگو ہوگا۔ اسی کے ساتھ کاغذات نامزدگی شروع ہوجائے گی۔ یہ چناؤ ضابطہ 17 اپریل تک نافذ العمل رہے گا۔ خیال رہے کہ 17 اپریل کو ایم سی ڈی چناؤ کے ووٹوں کی گنتی ہوگی اسی کے ساتھ ڈیڑھ ماہ سے نافذ چناؤ ضابطہ ختم ہوجائے گا۔ سرکاری ایجنسیوں یا عوام کو لبھانے والے پروجیکٹوں کو منظوری نہیں دی جاسکتی۔ چناؤ ضابطے کے تحت ریاستی چناؤ کمیشن پیسہ، طاقت اور شراب مافیہ کے بیجا استعمال کے علاوہ راجدھانی کی املاک پر پوسٹر بینر چپکانے پر بھی نظر رکھے گا۔ دہلی میں قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ دوسری جانب چناؤ کی تاریخ کے اعلان سے پہلے ہی راجدھانی میں عوامی مفاد کی اسکیموں کے اعلان کی جھڑی لگ گئی تھی۔محض تین دنوں کے اندر سینکڑوں کروڑ روپے کی اسکیموں کو ایم سی ڈی نے ہری جھنڈی دی۔ محض جمعہ اور سنیچر کو ہی ایم سی ڈی کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے 200 کروڑ روپے سے زائد کی اسکیموں کو منظوری دی۔ چناؤ کے عین موقعے پر 11500 سلائی مشین تقسیم کرنے کی اسکیم کو ہری جھنڈی دی گئی۔ اس کے علاوہ سنیچر کو اسٹینڈنگ کمیٹی کے میٹنگ میں 60 سے زیادہ اسکیمیں منظور کی گئیں ساتھ ہی ایتوار کو دہلی کی میئر پروفیسر رجنی ابی کی جانب سے سبھی اخبارات میں ایم سی ڈی کی کامیابیوں کو لیکر بڑے بڑے اشتہارات جاری کئے گئے۔ جہاں بھاجپا کے لئے یہ چناؤ ایک چنوتی ہوں گے کے وہ ایم سی ڈی میں پھر کمل کھلائے، وہیں دہلی کی وزیر اعلی شیلا دیکشت کا وقار بھی ان ایم سی ڈی چناؤ سے براہ راست وابستہ ہے۔ دہلی میونسپل کارپوریشن کے چناؤ کو لیکر سیاسی پارٹیاں جو بھی حکمت عملی بنا لیں لیکن چناؤ میں خاص اشو دہلی سرکار ہی رہے گی۔ کانگریس جہاں اپنی سرکار کے 13 سال کی کامیابیوں کو بھنانے پر توجہ دے گی وہیں بھاجپا سرکار کی ناکامی اور کرپشن کا اشو بنائے گی۔دونوں پارٹیوں کے لیڈر مانتے ہیں کہ چناؤ میں اشو دہلی سرکار کی ناکامیاں ہی رہیں گی۔ دہلی حکومت کی آج کی تاریخ میں سب سے بڑا کارنامہ دہلی میونسپل کارپوریشن کو تین حصوں میں تقسیم کرانا اور خواتین کا ریزرویشن 33 فیصدی سے بڑھا کر50 فیصدی کرنے کو بتاتی ہے۔ وہیں کانگریس کے ذریعے فراہم کی گئی سہولیات کو بھی بھنانے کی پارٹی کوشش کرے گی۔ وہیں بھاجپا مسلسل وزیر اعلی پر گھوٹالوں کو لیکر جارحانہ رہی۔ ساتھ ہی قانون و نظم کا اشو بھی بھاجپا ضرور اچھالے گی۔ پچھلے دنوں بھاجپا کے پردیش پردھان وجیندر گپتا کے ذریعے شروع کی گئی جن سمپرک یاترا خاصی خامیاب رہی۔ ان کے نشانے پر دہلی سرکار اور وزیر اعلی شیلادیکشت دونوں ہی رہے۔ اپنی 15 دن کی یاترا میں انہوں نے دہلی سرکار کی ناکامیوں کو پانی پی پی کر کوسا۔ ویسے بھاجپا نیتا بھی مانتے ہیں پارٹی کی چاہے جتنی بھی شیلا دیکشت برائی کرلیں لیکن ایم سی ڈی بٹوارے کی چال پارٹی پر بھاری پڑ سکتی ہے۔ پانچ ریاستوں کے انتخابات بھی ضرور تھوڑا بہت اثر ایم سی ڈی کے چناؤپر ڈالیں گے۔ بھاجپا بہت حوصلہ افزا ہے کانگریس کا حوصلہ تھوڑا کمزور ضرور ہوگا۔ دیکھیں ایم سی ڈی چناؤ پرچار کے دوران کیا کیااشو اٹھتے ہیں؟Anil Narendra, Daily Pratap, Delhi, Elections, MCD, Vir Arjun
03 مارچ 2012
لشکر طیبہ کی حکمت عملی میں تبدیلی
Published On 3 March 2012
انل نریندر
90کی دہائی میں لشکر طیبہ آتنکوادیوں کو پاکستان کے جہادی اڈوں سے بھارت بھیجتا رہا ہے۔ مقصدتھا کشمیر میں تخریبی سرگرمیاں پھیلانا۔ اس کے بعد پاک حکومت نے دہشت گردی کو باقاعدہ ایک اسٹیٹ پالیسی بنا کر آتنک وادیوں کو بھارت کے باقی حصوں میں حملے کروانے کی نئی پالیسی بنائی۔ اسی کے تحت 2000ء میں لال قلعہ پر حملہ ہوا اور 2001ء میں ہندوستانی پارلیمنٹ پر اور 2008ء میں ممبئی حملے ہوئے۔ ان حملوں میں آئی ایس آئی نے لشکر کے ذریعے سے بھارت اسٹیٹ کے خلاف حملے کروائے ۔ ان حملوں میں کچھ دہشت گرد پاکستان سے خاص طور سے آئے تو کچھ یہیں بھارت سے شامل ہوئے لیکن اب لگتا ہے لشکر طیبہ نے اپنی حکمت میں تھوڑی تبدیلی کی ہے۔ 26/11 حملوں کے بعد اس نے 10 آتنک وادیوں کو ممبئی میں حملہ کرنے بھیجا تھا لیکن اب وہ پاکستان سے آتنکی نہ بھیج تک یہیں بھارت سے ہی جہادیوں سے حملے کروا رہا ہے۔ وہ بھارت سے ہمدرد جہادیوں کو اٹھاتا ہے اور انہیں پاکستان بلاکر پوری ٹریننگ دے کر واپس بھیج کر حملہ کروا رہا ہے۔ بدھ کے روز دہلی پولیس نے جن دو دہشت گردوں کو گرفتار کیا ہے اس سے آئی ایس آئی اور لشکر کی نئی پالیسی کے اشارے ملتے ہیں راجدھانی دہلی کے ایک مشہور بازار سمیت 18 مقامات پر دھماکے کرنے کی سازش تھی لیکن جموں و کشمیر جھارکھنڈ اور دہلی پولیس کی سانجھہ کارروائی میں بروقت بڑے دھماکے ہونے سے راجدھانی کو بچا لیا ہے۔ سازش کو انجام دینے کی تیاری میں جٹے لشکر طیبہ کے دو آتنک وادیوں کو دبوچ لیا گیا ہے۔بنیادی طور سے جموں وکشمیر کے باشندے بتائے جارہے دونوں بم بنانے میں ماہر ہیں ان کے پاس سے برآمد میموری کارڈ میں کچھ ایسی تصویریں قید ہیں جو سکیورٹی ایجنسیوں کے لئے ثبوت کے طور پر کام آئیں گی۔ مثلاً پاکستان میں چل رہے آتنکی ٹریننگ کیمپ اور آئی ڈی ، بناتے ہوئے ان کے قبضے سے اے ۔47 رائفلز ،دھماکوں سامان اور قابل اعتراض دستاویز سمیت بہت کچھ سامان برآمدہوا ہے۔ ان کا ارادہ دہلی کے چاندنی چوک بازار میں دھماکے کرنا تھا۔ ذرائع کے مطابق ان میں ایک جموں و کشمیر کا باشندہ احتشام ہے اور دوسرا ہزاری باغ کا باشندہ شفاعت ہے۔ یہ دونوں پاکستان میں لشکر کے کیمپوں میں ٹریننگ لے چکے ہیں۔ جانکاری ملی ہے کہ ہزاری باغ کے جس شخض کو حراست میں لیا گیا ہے وہ احتشام کا قریبی رشتے دار ہے اور کئی برسوں سے جھارکھنڈ میں مقیم تھا۔ جھارکھنڈ پولیس نے اس شخص سے لمبی پوچھ تاچھ کی ہے۔ اس نے بتایا کہ لشکر کے آقا دہلی سمیت کئی بڑے شہروں میں خطرناک بم دھماکے کرنے کی تیاری میں لگے ہوئے ہیں۔ احتشام ہزاری باغ میں شفاعت اور کچھ دیگر لوگوں کی مدد سے وہیں پر خطرناک بم تیار کراتا تھا جنہیں دیش کے الگ الگ حصوں میں بھیجا جانا تھا۔ بدھوار کو جن دہشت گردوں کو پکڑا گیا ہے وہ دہلی کے تغلق آباد میں کرائے پر رہتے تھے۔ جب انہیں سرحد پار سے ہدایت ملتی تھی تو وہ دہلی کے کسی بھیڑ بھاڑ والے علاقے میں بم دھماکے کریں، تو اس کے لئے ان لوگوں نے چاندنی چوک کی کپڑا مارکیٹ کا انتخاب کیا۔ یہاں شام کے وقت ہزاروں لوگوں کی بھیڑ ہوتی ہے۔ پوچھ تاچھ کے دوران پکڑے گئے آتنک وادیوں نے بتایا کہ اگر وہ لوگ پولیس کے قبضے میں نہ آتے تو بدھوار کی شام چاندنی چوک دھماکوں سے دہلانے کا پلان تھا۔ 18 مقامات پر دھماکے کرنے کا ارادہ تھا۔ ان کے نشانے پر کوئی اہم شخصیات نہیں تھیں بلکہ وہ بھیڑ بھاڑ والے مقامات پر دھماکے کرکے دہشت پھیلانا چاہتے تھے۔ دہشت گردی مشنوں کو ناکام کرنے کے لئے دہلی، جھارکھنڈ، جموں و کشمیر کی پولیس اور مرکز کی سکیورٹی ایجنسیوں کو مبارکباد۔ بہتر تال میل سے یہ سازش ناکام کی جا سکی ہے۔
Anil Narendra, Bomb Blast, Daily Pratap, Delhi, ISI, Lashkar e Toeba, Terrorist, Vir Arjun
درندگی کی ساری حدیں پار کرتے ہوئے دہلی کے شہری
Published On 3 March 2012
انل نریندر
پچھلے کئی دنوں سے اخبارات میں دہلی کے بدنام زمانہ لوگوں کی درندگی کی خبریں شائع ہوئی ہیں۔ان میں بچیوں سے بدفعلی کے واقعات نے ایک بار پھر دہلی واسیوں کو شرمسار کردیا ہے۔ ان واقعات سے سوال اٹھ رہا ہے کہ آخر دہلی میں اتنی درندگی کیوں بڑھ رہی ہے؟ منڈکا کے ایک سکیورٹی گارڈ پر ایک چھ سال کی بچی سے بد تمیزی کا الزام ہے۔ پولیس نے اجے پرساد نامی مجرم کو گرفتار کرلیا ہے۔ 20 سالہ اجے ایتوار کی شام 4 بجے ایک پھل فروش کی بچی کو مچھلی کھلانے کے بہانے لے گیا۔ بچی کے والد کو پہلے اس پر شبہ نہیں ہوا لیکن جب معاملہ ہوا تو وہ حیرت زدہ رہ گیا۔ پولیس کے مطابق اجے بچی کو ایک کھلے میدان میں لے گیا وہاں اس کے ساتھ بدفعلی کی کوشش کی گئی بعد میں بچی روتی ہوئی آئی اور اپنی ماں کو سارے واقعے کے بارے میں بتایا۔ اس سے ایک دن پہلے دوارکا علاقے میں ایک 16 سال کی لڑکی کے ساتھ آبروریزی کا معاملہ سامنے آیا۔ ایک فارم ہاؤس کے 50 سالہ سکیورٹی گارڈ نند کمار نے پاس میں مقیم لڑکی کو اغوا کرلیا اور پاس کے میدان میں لے جاکر اس کی آبروریزی کی۔ اس نے لڑکی کو دھمکی دی کہ اگر اس نے گھر پر بتایا تو وہ اسے جان سے ماردے گا۔ پولیس کے مطابق نندکمار لڑکی کا رشتے دار ہے اور اسے کافی وقت سے جانتا تھا۔ دہلی چھاؤنی میں ایک فوج کے ملازم پر اپنے دوست کی بیوی کے ساتھ آبروریزی کا الزام ہے۔ پولیس کے مطابق روندر فوج میں سول محکمے میں کام کرتا ہے اور خاتون اور اس کے شوہر کو پہلے سے جانتا تھا۔ واقعہ پیر کی صبح قریب11:30 بجے کا ہے۔ روندر صدر بازار میں واقع اپنے دوست کے یہاں گیا تھا۔ وہاں اس کی بیوی گھر میں اکیلی تھی پولیس کے مطابق آبروریزی کے بعد روندر غائب ہوگیا لیکن پولیس نے اسے پکڑ لیا۔ بتایا جاتا ہے کہ خاتون کا شوہر فوج میں ہیڈ کانسٹیبل ہے۔ روندر خاتون کے گاؤں کا رہنے والا ہے اور وہ اکثر گھر پر آتا جاتا تھا۔ گوڑگاؤں میں مالک کی ہونڈا سٹی کار میں ہی ڈرائیور نے نوکرانی کے ساتھ آبروریزی کردی۔ پولیس نے ایک گاؤں سے ڈرائیور کو گرفتار کرلیا ہے اسے 14 دن کی جوڈیشیل ریمانڈپر بھیج دیا گیا ہے۔ سیکٹر 48 کے باشندے ایئر فورس سے ریٹائرڈ افسر مکیش کی بیٹی کی شادی ایتوار کی رات ڈھولہ کنواں میں ہورہی تھی ۔ شادی کے بعد مکیش ناتھ نے اپنے ڈرائیور سونی کے ساتھ تین گھریلو نوکروں کو گوڑ گاؤں بھیجا۔ اس میں اس کی ساس کی نوکرانی بھی تھی۔ سونو نے دونوکروں کو ساہنا روڈ پر اتاردیا۔ الزام ہے کہ اس کے بعد ڈرائیور نے ان کے ساتھ آبروریزی کی۔ دہلی کی ایک عدالت نے پچھلے دنوں پارک میں بنی چھتری کے نیچے رہ رہی 50 سالہ خاتون کو اغوا کر اور آبروریزی معاملے میں19 سالہ لڑکے پرہلاد کو10 سال کی قید مشقت کی سزا سنائی ہے۔ایڈیشنل سیشن جج کامنی لا کی عدالت نے قصوروار پر17 ہزار روپے کا جرمانہ بھی کیا ہے۔ دکھ سے کہنا پڑتا ہے دہلی میں حیوانیت کی ساری حدیں پار ہورہی ہیں اور اب تو راجدھانی کو 'ریپ کیپیٹل ' کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ خواتین سے متعلق کرائم تو ساری دنیا میں ہوتے ہیں لیکن 6 سال کی بچی سے لیکر80 سال کی بوڑھیا کے ساتھ جب آبروریزی یا بد فعلی ہو تو یہ چونکا دیتا ہے کہ ہم کس طرف جارہے ہیں۔ اس طرح تو آدمی اور جانور میں کوئی فرق نہیں رہے گا۔
Anil Narendra, Crime, Criminals, Daily Pratap, Delhi, delhi Police, Vir Arjun
26 فروری 2012
4 جون کی رات رام لیلا میدان میں ہوا تھا ظلم
ہمیں اس بات کی خوشی ہے کہ عزت مآب سپریم کورٹ نے بابا رام دیو حمایتیوں پر4 جون 2011ء کو ہوئے لاٹھی چارج پر سرکار کو کڑی پھٹکار لگائی اور مانا کہ اس رات پولیس کارروائی غلط تھی۔ کالی کمائی اور کرپشن کے اشو پر رام لیلا میدان میں ستیہ گرہ کررہے بابا رام دیو اور ان کے حمایتیوں کو رام لیلا میدان سے طاقت کے بل پر نکال باہر کرنے کی دہلی پولیس کی کارروائی کو سپریم کورٹ نے جمہوریت پر حملہ قرار دیتے ہوئے اس کے لئے قصوروار پولیس افسران کے خلاف ڈسپلنری کارروائی کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ رام لیلا میدان میں رات میں سو رہے احتجاجیوں پر دہلی پولیس کی بربریت آمیز کارروائی اور جنتا اور سرکار کے درمیان کم ہورہے اعتماد کی تازہ مثال ہے۔ جسٹس بلبیر سنگھ چوہان اور سوتنتر کمار کی ڈویژن بنچ نے جمعرات کو اپنے فیصلے میں کہا کہ احتجاجیوں کے خلاف طاقت کا استعمال کرکے دہلی پولیس نے اپنے اختیارات کا بیجا استعمال کیا ۔ سرکار کو قصوروار پولیس افسران کے ساتھ ہی پتھراؤ کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی کرنے کا حکم دیا۔ حکومت کو کارروائی کے بارے میں تین مہینے کے اندر عدالت میں رپورٹ دینی ہے۔ جج صاحبان نے کہا کہ4 جون کی رات میں ہوئے واقعہ کو ٹالا جاسکتا تھا لیکن پولیس اور انتظامیہ نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے سوتے ہوئے احتجاجیوں پر لاٹھیاں برسائیں، جس سے ایک خاتون کی موت ہوگئی اور کئی دیگر زخمی ہوئے۔ عدالت نے سخت الفاظ میں کہا پولیس کا کام امن بنائے رکھنا ہے لیکن رام لیلا میدان میں اس نے شانتی بھنگ کرنے کا کام ہی نہیں کیا بلکہ سوتے ہوئے احتجاجیوں پر لاٹھیاں برسا کر شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی بھی کی ہے ۔
ججوں نے کہا کہ اس میں کوئی دو رائے نہیں دہلی پولیس نے احتجاجیوں کو رام لیلا میدان سے نکال باہر کرنے کے لئے بیحد تشدد آمیز طریقہ اپنایا۔ لیکن دوسری طرف بابا رام دیو کے حمایتیوں نے بھی پولیس پر جوابی کارروائی کرتے ہوئے پتھراؤ کیا جس سے حالات بگڑ گئے۔ عدالت نے جان گنوانے والی راج بالا کے رشتے داروں کو پانچ لاکھ روپے اور زخمیوں کو 50-50 ہزار روپے اور معمولی چوٹ والے افراد کو 25-25 ہزار روپے بطور معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ معاوضے کی اس رقم کا 25 فیصدی حصے کی ادائیگی بابا رام دیو ٹرسٹ کرے گا۔
ہم ہمیشہ کہتے آرہے ہیں کہ مرکزی وزیر داخلہ پی چدمبرم اور کچھ دیگر وزرا کے اشاروں پر دہلی پولیس نے 4 جون کو سوتے ہوئے لوگوں پر لاٹھی برسائی سرکار اور پولیس بھلے ہی کہتی رہے کہ کوئی لاٹھی چارج نہیں ہوا ، نہ کوئی جبراً کارروائی ہوئی سپریم کورٹ کے فیصلے سے دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوگیا ہے۔ ہمارا یہ خیال ہے کہ دہلی پولیس نے اس رات جو بھی کیا وہ وزارت داخلہ کے احکامات پر کیا۔ اصل قصوروار تو احکامات دینے والے ہیں۔ دہلی پولیس نے کارروائی کی مخالفت بھی کی تھی۔ پولیس نے کہا تھا کہ ہم صبح ہوتے ہی پرامن طریقے سے رام لیلا میدان خالی کروا لیں گے لیکن منموہن سرکار کے کچھ وزرا نے تو ٹھان لی تھی کہ بابا رام دیو اور ان کے حمایتیوں کو ایسی مار مارنی ہے جو دوبارہ ایسا کرنے کی جرأت نہ کریں۔
ججوں نے کہا کہ اس میں کوئی دو رائے نہیں دہلی پولیس نے احتجاجیوں کو رام لیلا میدان سے نکال باہر کرنے کے لئے بیحد تشدد آمیز طریقہ اپنایا۔ لیکن دوسری طرف بابا رام دیو کے حمایتیوں نے بھی پولیس پر جوابی کارروائی کرتے ہوئے پتھراؤ کیا جس سے حالات بگڑ گئے۔ عدالت نے جان گنوانے والی راج بالا کے رشتے داروں کو پانچ لاکھ روپے اور زخمیوں کو 50-50 ہزار روپے اور معمولی چوٹ والے افراد کو 25-25 ہزار روپے بطور معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ معاوضے کی اس رقم کا 25 فیصدی حصے کی ادائیگی بابا رام دیو ٹرسٹ کرے گا۔
ہم ہمیشہ کہتے آرہے ہیں کہ مرکزی وزیر داخلہ پی چدمبرم اور کچھ دیگر وزرا کے اشاروں پر دہلی پولیس نے 4 جون کو سوتے ہوئے لوگوں پر لاٹھی برسائی سرکار اور پولیس بھلے ہی کہتی رہے کہ کوئی لاٹھی چارج نہیں ہوا ، نہ کوئی جبراً کارروائی ہوئی سپریم کورٹ کے فیصلے سے دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوگیا ہے۔ ہمارا یہ خیال ہے کہ دہلی پولیس نے اس رات جو بھی کیا وہ وزارت داخلہ کے احکامات پر کیا۔ اصل قصوروار تو احکامات دینے والے ہیں۔ دہلی پولیس نے کارروائی کی مخالفت بھی کی تھی۔ پولیس نے کہا تھا کہ ہم صبح ہوتے ہی پرامن طریقے سے رام لیلا میدان خالی کروا لیں گے لیکن منموہن سرکار کے کچھ وزرا نے تو ٹھان لی تھی کہ بابا رام دیو اور ان کے حمایتیوں کو ایسی مار مارنی ہے جو دوبارہ ایسا کرنے کی جرأت نہ کریں۔
Anil Narendra, Baba Ram Dev, Daily Pratap, Delhi, delhi Police, Ram Lila Maidan, Supreme Court, Vir Arjun
17 فروری 2012
دہلی،طبلس وبنکاک دھماکوں کا کوئی آپسی رشتہ ہے؟
Published On 17th February 2012
انل نریندر
دہلی کے انتہائی محفوظ ترین مانے جانے والے علاقے میں اسرائیلی سفارت خانے کی کار کو نشانہ بنانے اور جارجیا کی راجدھانی میں ناکام بم دھماکے کی کوشش کے24 گھنٹے بعد تھائی لینڈکی راجدھانی بنکاک میں مسلسل تین دھماکے ثابت کرتے ہیں کہ یہ دہشت گرد جب چاہیں جہاں چاہیں حملہ کرسکتے ہیں۔ یہ بھی ایک بار پھر سے ثابت ہوگیا ہے کہ پوری دنیاآج دہشت گردی کی جکڑ میں پھنس چکی ہے۔ منگلوار کو بنکاک میں محض 100 میٹر کے دائرے میں تین دھماکے ہوئے۔ واقعہ میں حملہ آور سمیت پانچ لوگ زخمی ہوئے۔ موقعہ سے ملے شناختی کارڈ سے حملہ آور کے ایرانی ہونے کااندیشہ ہے اس کی شناخت یوہادی کی شکل میں ہوئی ہے۔ اس نے راجدھانی بنکاک کے بھیڑ بھاڑ والے علاقے میں بم پھینکے۔تیسرا بم پیڑ سے ٹکرانے کے سبب یوہادی کے ہی پیر کے پاس آکر پھٹا۔ جس سے وہ بھی زخمی ہوگیا۔ اس کے ایک اور ایرانی مددگار محمد ایزائی کو بھی گرفتار کیاگیا ہے۔ خفیہ ایجنسیوں نے حملے کی دہلی وجارجیا کے واقعہ سے تار جڑے ہونے کا اندیشہ ظاہر کیاہے۔ اس واردات میں حملہ آور سمیت تین تھائی مرد اور خاتون بھی زخمی ہوئی ہے۔ تھائی وزیراعظم چنگلک شیونراترا نے پولیس اور دیش کی قومی خفیہ ایجنسیوں کے تہرے دھماکے کی جانچ کے احکامات دیئے ہیں۔ تھائی وزیرخارجہ کو ایران سے بات کرنے کو کہا ہے ۔تھائی وزیراعظم شیونراترا یوم جمہوریہ پر نئی دہلی میں مہمان خصوصی کے طور پر تشریف لائی تھی۔ کیا ان کا دورہ دہلی میں پہلے دھماکے پھر بنکاک میں دھماکے ان میں کوئی آپسی کنکشن ہے؟ تھائی پولیس کے جنرل جاسٹی پرناکت نے بتایا کہ سیکورٹی فورسیز نے راجدھانی میں حملہ آور کے کرایہ کے مکان سے بھی دھماکوں سامان برآمد کئے ہیں۔ مقامی میڈیاکے مطابق ایرانی نژاد شہری نے ٹیکسی روک کر ڈرائیور سے کہیں چلنے کو کہا لیکن ڈرائیور کے منع کرنے سے وہ ناراض ہوگیا اور اس نے ٹیکسی پر بم سے حملہ کردیا۔ وہاں کھڑے پولیس ملازم نے جب یہ واقعہ دیکھا تو وہ ٹیکسی کے پاس پہنچے حملہ آور نے پولیس ملازمین پر بموں سے حملہ کردیا لیکن سیکورٹی ملازمین کی قسمت اچھی تھی اور یہ بم ایک پیڑ سے ٹکرا گیا اور خودحملہ آور آگرا۔ حملہ آور دھماکے سے حملہ آور کا پیر اڑ گیا اورحملہ آور کو پکڑ لیاگیا۔ موقعہ واردات سے ایک پاسپورٹ برآمد ہوا ہے جس سے پتہ چلا کہ حملہ آور کانام سائیریب یوہادی ہے۔ اور وہ ایران کارہنے والا ہے اس سے پہلے وسطی بنکاک کے اقامائی علاقے میں ایک گھر میں دھماکہ ہوا۔ حملہ آور سمیت دواور ایرانی اسی گھر میں کرایہ دار کی شکل میں رہتے تھے۔ سرکاری ترجمان کیتیا یاسنک نے کہا کہ پولیس نے رپورٹ دی ہیں کہ مکان کااستعمال بم بنانے کے لئے کیا جاتا تھا۔ یہاں سے دھماکو سامان اور ریموٹ کنٹرول ڈیٹونیشن ڈیوائس ملے ہیں۔ فی الحال بنکاک کے واقعہ اور نئی دہلی اور جارجیا کے واقعہ اگرکوئی تعلق نہیں قائم ہوسکا لیکن اسرائیل کے محکمہ خارجہ کے ترجمان چنگال پالمود نے یروشلم میں کہا کہ ہم کسی بھی امکان سے انکار نہیں کررہے ہیں۔ ان حملوں سے ایران ساری دنیا کی نظروں میں آگیا ہے۔ پہلے سے ہی اپنے متنازعہ نیوکلیائی پروگرام کے وجہ سے مغربی ملکوں کی آنکھوں کی کرکری بنے ایران کے لئے اب یہ نئی مشکل کھڑی ہوگئی ہے۔ امریکہ ایران پر اور دباؤ ڈالے گا۔Bangkok, Bomb Blast, Delhi, Delhi Bomb Case, Iran, Israil, Tiblis
25 جنوری 2012
راجدھانی میں پھل پھول رہا ہے منشیات کا گورکھ دھندہ
Published On 25th January 2012
انل نریندر
دو سال پہلے اپنے ملک گھاناسے آیا تو وہ لیڈیز فٹ ویئر کا ایکسپورٹ کا کام کرنے والا تھا لیکن کاروبار کی سست روی سے بن گیا نشے کا سوداگر۔ ممبئی میں مقیم اس کے ایک واقف کار نے اسے جلدی پیسہ بنانے کا فارمولہ سمجھا دیا اور اس نے نشیلی منشیات کا کاروبار شروع کردیا۔ دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے اسے رنگے ہاتھوں پکڑلیا اور اس سے دو کروڑ روپے کی کوکن برآمد ہوئی۔ گھانا کا یہ باشندہ پول 2010ء میں ہندوستان آیا تھا۔ ممبئی میں مقیم اس کے دیش کے ایک شخص کراس نام کے ایک شخص نے اس کاروبار کے فائدے گناکر اس دھندے میں جھونک دیا۔ اس کے بعد پال دہلی میں نشے کی کھیپ سپلائی کرنے لگا۔ پال اپنے جوتوں میں کوکن چھپا کر لاتا تھا اور فلائٹ سے دہلی پہنچتا تھا۔ جمعہ کو محکمہ نارکوٹکس برانچ نے اسے ممبئی سے آئی ایک گھریلو پرواز سے اتارا تھا۔ یہاں آتے ہی اسے دبوچ لیا گیا ۔اس کے پاس سے 200 گرام کوکین برآمد ہوئی۔ جس کی بین الاقوامی بازار میں 2 کروڑ روپے قیمت بتائی جارہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کوکین کو پیج تھری اور ہفتہ واری پارٹیوں میں سپلائی کیا جانا تھا۔ اس سے کچھ دن پہلے ساؤتھ افریقہ کے باشندے کیلی ولیمس میبین (36سال) کو کرائم برانچ نے گرفتار کیا تھا۔ یہ بھی دہلی کے ہائی پروفائل لوگوں کو کوکین سپلائی کیا کرتا تھا۔ اس کے پاس سے 40 لاکھ روپے کی کوکین برآمد ہوئی۔ پوچھ تاچھ میں خلاصہ ہوا کہ کیلی جولائی 2011ء میں ممبئی آیا تھا۔اس کے پاس ملٹی پرپس ویزا تھا۔ ستمبر2011ء میں کیلی دہلی آیا اور اس نے اپنے دوست جیمس جس کے ساتھ وہ رہتا تھا، کوکین کا دھندہ شروع کیا۔وہ دہلی کے ساتھ ساتھ این سی آر میں بھی ریو (شراب)پارٹیوں میں بھی کوکین سپلائی کرتا تھا۔ اسی ہفتے میں پولیس نے دو نائیجریائی شہریوں کو بھی 2 کروڑ سے زائد قیمت کی کوکین کے ساتھ پکڑا تھا۔ ہائی ڈوز کوکوکین کا نشہ دہلی میں ہائی پروفائل لوگوں کے سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ دہلی پولیس بھلے ہی آج تک کسی ریو پارٹی کو نہ پکڑ پائی ہو لیکن اس کا خود کا دعوی ہے کہ کوکین اس ریو پارٹیوں میں سپلائی ہورہی ہے۔ دہلی کے فارم ہاؤسوں کی پارٹیوں میں کوکین کی ڈیمانڈ زیادہ ہے۔ کوکین کے پھیلاؤ کا اندازہ اس بات سے لگ جاتا ہے کہ پچھلے سال 16 غیر ملکی کوین کے دھندے میں پکڑے گئے تھے ۔ یہ انتہائی تشویش کا موضوع ہے کہ راجدھانی میں منشیات کا کاروبار تیزی سے پھل پھول رہا ہے۔ سال2010ء کی بہ نسبت2011ء میں زیادہ مقدار میں پکڑی گئی منشیات سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے۔ساتھ ہی اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ دہلی کے لوگ دن بدن نشے کے جال میں پھنستے جارہے ہیں اس کے چلتے ڈرگس دہلی کے دیگر حصوں کے علاوہ ملک کی انتہائی محفوظ ترین مانی جانے والی تہاڑجیل تک بھی پہنچ جاتے ہیں۔ دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے سال2011ء میں منشیات کی اسمگلنگ میں 98 لوگوں کو پکڑا جن میں سے 16 غیر ملکی تھے۔ حالت یہ ہے کہ دہلی، این سی آر کی ان ریو پارٹیوں میں شراب کے ساتھ کوکین ملا کر پینے سے لوگ رات رات بھر ناچتے ہیں۔ یہاں تک کہ سیکس کرنے کے لئے بھی کوکین کا جم کر استعمال ہوتا ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ اس سے ان کی سیکس پاور بڑھ جاتی ہے۔ یہ کوکین لاطینی امریکہ خاص کر کولمبیا سے آتی ہے اس لئے اس کی قیمت بھی دیگر نشیلی ادویات سے زیادہ ہوتی ہے۔ دہلی میں کوکین کے نشے کے لئے کئی بار بڑے بڑے ہائی پروفائل لوگ پکڑے گئے تھے۔ کرکٹ کھلاڑی منندر سنگھ، راہل مہاجن و ایک غیر ملکی سفارتخانے کے افسر کی بیٹی کی گرفتاری نے دہلی کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ راہل مہاجن معاملے کے بعد تو دہلی میں کوکین کا دھندہ کرنے والے غیر ملکی لوگوں پر خاصی سختی برتی گئی تھی لیکن اب آہستہ آہستہ یہ دھندہ پھر سے سر اٹھانے لگا ہے۔ اپنی سالانہ پریس کانفرنس میں دہلی کے پولیس کمشنر بی کے گپتا نے بتایا تھا ڈرگس پر 2012ء میں خاص توجہ رہے گی۔ پہلے کچھ اسپیشل دستے ہی ڈرگس اسمگلروں کو پکڑنے کا کام کرتے تھے لیکن پچھلے سال تھانے کی سطح پر بھی کارروائی کے احکامات دے دئے گئے ہیں۔ اسی کے چلتے گذشتہ برس میں 2010 کے مقابلے میں بھاری مقدار میں منشیات ضبط کی گئیں۔ نشے کی زد میں آئے زیادہ تر لوگ درمیانی کنبوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ غور طلب ہے کہ ان دنوں راجدھانی میں ڈرگس کی کھیپ کئی ملکوں سے آرہی ہے۔ اس میں نیپال، بنگلہ دیش، پاکستان، افغانستان قابل ذکر ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس اسمگلنگ میں شمال مشرق کی کئی انتہا پسند تنظیمیں بھی شامل ہیں جو یوروپ ،ایشیا میں ڈرگس اسمگلنگ سے اپنی تنظیموں کو مضبوط کررہے ہیں۔ زیادہ تر اسمگلر کیریئر کی شکل میں خواتین کا استعمال کررہے ہیں وہیں کئی اسمگلر سرکاری ایجنسیوں کا بھی استعمال کررہے ہیں جس میں ریلوے ، پارسل، ہندوستانی ڈاک سروس وغیرہ شامل ہیں۔ پولیس کمشنر گپتا کا کہنا ہے کہ اگر کسی بھی تھانہ حلقے میں ڈرگس کی اسمگلنگ کا معاملہ سامنے آیا تو اس کی ذمہ داری بیٹ کانسٹیبل کی ہوگی۔ ساتھ ہی تھانہ انچارج بھی ذمہ دار ہوگا۔Anil Narendra, Daily Pratap, Delhi, Drugs, Vir Arjun
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
پوتن سے جنگ ختم کرنے کی اپیل
جنگ انسانی تہذیب کی سب سے بڑی ٹریجڈیوں میں سے ایک ہے اور آج ایک نہیں کئی جنگیں چل رہی ہیں ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ جنگ سے مسائل کا حل تو دور ا...
-
سرخیوں میں چھائے سہراب الدین شیخ عشرت جہاں معاملہ میں پھنسے گجرات کے آئی پی ایس افسر ڈی جی ونجارا 8 سال کے بعد جمعہ کو اپنی آبائی ریاست گج...
-
کئی دنوں کی قیاس آرائیوں کے بعد آخر کار بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے پانچ نئے پارٹی ریاستی صدور کے ناموں کا اعلان کردیا ہے۔ نو تقرر ریاستی ص...
-
ریت مافیہ کے خلاف مہم چلانے والے ایماندار آئی اے ایس افسر ڈی ۔کے۔ روی کی موت کی گونج کرناٹک اسمبلی سے سڑک تک سنائی دے رہی ہے۔ اپوزیشن پا...
