Translater

‏Dayanidhi Maran لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏Dayanidhi Maran لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

13 اکتوبر 2011

مارن کا نمبرآگیا ،رتن ٹاٹا ابھی بھی بچے ہوئے ہیں



Published On 13th October 2011
انل نریندر
ٹوجی اسپیکٹرم گھوٹالے میں کروناندھی اینڈ کمپنی کا ایک وکٹ گرنے والاہے۔ اے راجہ، کنی موجھی کے بعد اب سابق وزیر دیا ندھی مارن کا نمبر ہے۔ ان پر سی بی آئی کا شکنجہ کس چکا ہے۔ اس معاملے میں سی بی آئی نے باقاعدہ ایف آئی آر درج کرلی ہے۔ دیاندھی مارن کے ساتھ ان کے بھائی کلاندھی مارن اور ملیشیاکے میکسس گروپ کے چیئرمین ٹی آنند کرشن اور سرمایہ کار رافلس مارشل سمیت تین کمپنیوں کو ملزم بنایا گیا ہے۔ ایتوار کو ایف آئی آر درج کرنے کے بعد جانچ ایجنسی نے پیر کے روز مارن کے دہلی اور چنئی میں رہائشی و دفاتر پر چھاپہ ماری کی تھی۔ ایف آئی آر کے مطابق وزیر مواصلات رہتے ہوئے دیاندھی مارن نے تارکین وطن ہندوستانی صنعت کار ایس شیو شنکرن پرایئر سیل کو بیچنے کے لئے دباﺅ ڈالا تھا۔ ایئرسیل کو اسپےکٹرم الاٹمنٹ کو مارن نے تقریباً دو سال تک لٹکائے رکھا اور اسپیکٹرم کرنیں تبھی دی گئیں جب شیو شنکرنے ایئر سیل کو ملیشیا کمپنی میکسس گروپ کو بیچ دیا۔ یہ ہینہیں 14 سرکل میں ایک ساتھ اسپیکٹرم معاملے کے بعد میکسس گروپ کی ساتھی کمپنی ایسٹرو نے مارن خاندان کی کمپنی سن میں براہ راست طور پر تقریباً600 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی ہے۔ الزام ہے کہ ایسٹرو نے سن کے براہ راست شیئر کو بازار کے بھاﺅ سے زیادہ قیمت میں خریدر کر درپردہ طور پرمارن کو رشوت دی تھی۔
ٹوجی اسپیکٹرم گھوٹالے کی جانچ ابھی جاری ہے۔ عوامی رابطہ ایجنسی چلانے والی نیرا راڈیا اور ان کے روابط کی جانچ ابھی ادھوری ہے۔ نیرا راڈیا کے ٹیپ جب جنتا کے سامنے اجاگر ہوئے تو پورے دیش کو یہ جان کر دھکا لگا کے جو وزیر سرکار چلاتے ہیں جنتا انہیں سمجھتی ہے کہ انہیں دیش کے پردھان منتری چنتے ہیں وہ وزیراعظم کے ذریعے نہ چنے جاکر دیش کے بڑے صنعتی گھرانے انہیں بناتے ہیں۔ یہ گھرانے اپنے پسندیدہ لیڈروں کو وزیر بنوانے کےلئے کس طرح سے اور کس سطح تک جاکر لابنگ کرتے ہیں یہ نیرا راڈیا معاملے کے بعد سامنے آیا ہے۔ میڈیا معاملے میں دیش کے بڑے صنعتی گھرانے رتن ٹاٹا کا نام سامنے آیا ہے۔ راڈیا ٹاٹا گھرانے کے لئے کام کرتی ہیں اور ان کے سیاسی اور کاروباری مفادات کا اتنا خیال رکھتی ہیں لیکن یہ خلاصہ صرف ایک راڈیا کا تھا۔ راڈیہ ٹیپ معاملے کا دوسرا پہلو ٹوجی اسپیکٹرم مہا گھوٹالے سے جاکر جڑ گیا۔ اس مہا گھوٹالے میں ٹاٹا کے کردار پر کیگ نے اپنی رپورٹ میں تذکرہ کیا ہے۔ راڈیہ معاملے میں ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ سرکار یہ یقینی بناتی کہ مستقبل میں ایسا پیغام نہ جائے کہ سرکار کسی بھی صنعتی گھرانے سے متاثر ہے لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا۔ ٹوجی گھوٹالے کی جانچ سے کچ طرح سے رتن ٹاٹا کو باہر کیا جارہا ہے وہ پہلے سے طے ہے اور جنتا کے سامنے سرکار اور صنعتی گھرانے کی اس ملی بھگت کا معاملہ دوسرا جھٹکا ہے۔ یوپی اے سرکار کے لئے ٹوجی اسپیکٹرم گھوٹالہ کسی دلدل سے کم نہیں۔
سرکار اس سے نکلنے کے لئے بھلے ہی جتنی کوشش کرتی ہے اتنی ہی اس میں دھنستی چلی جارہی ہے۔ اس گھوٹالے میں روز نئے نئے نام سامنے آرہے ہیں۔ مارن بھائیوں کے خلاف ایف آئی آر درج ہوچکی ہے۔ اسی طرح ایسار گروپ کےروئیاں بندھوﺅں کو بھی سی بی آئی جلد اپنے شکنجے میں لینے والی ہے۔ ایسارسے سابق ریلائنس، یونیٹیک، سوان اور ویڈیو کون جیسی کمپنیوں کے بڑے افسرتہاڑ جیل میں پہنچ چکے ہیں۔ حال ہی میں وزارت مالیات کے ذریعے وزیر اعظم کے دفتر کو بھیجی گئی ایک چٹھی سے وزیر داخلہ پی چدمبرم کا نام بھی سامنےآیا ہے۔ حالانکہ اس گھوٹالے کے سوتردھار اے راجہ پہلے بھی اس طرف کئی باراشارہ کرچکے تھے لیکن راجہ کے الزام کے بدلے کی کارروائی کے تحت انہیں ملزم بنایا گیا ہے۔ لیکن اس مہا گھوٹالے کے معاملے میں سب سے بڑا تعجب یہ  ہے کہ ٹاٹا کے کردار اور ان سبھی صنعتی گھرانوں سے زیادہ وسیع اور واضح ہے لیکن ابھی تک کوئی جانچ یا چارج شیٹ داخل نہیں کی گئی ہے؟ ٹاٹا پر اسگھوٹالے میں کافی اہم کردار نبھانے کا نہ صرف الزام ہے بلکہ کافی پختہ ثبوت بھی ہے لیکن رتن ٹاٹا کا سرکار سے اپوزیشن تک میں کتنا اثر ہے یہ اسی سے صاف ہے کہ ٹاٹا گھرانہ اس مہا گھوٹالے کی جانچ کے دائرے سے تقریباً باہر ہے۔ اس مہا گھوٹالے میں ٹاٹا کے کردار پر سب سے پہلے انگلی کیگ نے اٹھائی۔ کیگ نے اپنی رپورٹ میں ٹاٹا ٹیلی سروس کی وجہ سے سرکاری محصول کو 19074 کروڑ روپے کا نقصان ہونے کا دعوی کیا ہے۔ کیگ نے اپنی رپورٹ میں ٹاٹا کے کردار پرتفصیل سے بحث کی ہے۔ ٹاٹا کے اس مہا گھوٹالے میں کردار دنیا جانتی ہے کہ اے راجہ کو ٹیلی کمیونی کیشن وزیر بنانے کےلئے ٹاٹا نے نیرا راڈیہ کے ذریعے سے اس طرح سے لابنگ کروائی کے سابق وزیرمواصلات دیاندھی مارن کے ٹاٹا سے تعلق اچھے نہیں تھے اور یوپی اے کی پہلی
پاری میں ٹاٹا کو مارن کا تعاون نہیں ملا تھا۔ آخر کار رتن ٹاٹا نہیں چاہتے تھے کہ دیاندھی مارن پھر سے وزیر مواصلات بنیں لیکن سچ تو یہ ہے کہ ٹاٹا نے صرف لابنگ ہی نہیں کی بلکہ ایک طریقے سے رشوت کے طور پر ڈی ایم کے چیف کروناندھی کوچنئی میں کروڑوں روپے کی زمین تحفہ میں دے دی۔ بعد میں اس زمین پر عمارت تعمیر کروائی۔ اس سب کا اثر تھا کہ اے راجہ کے وزیررہتے رتن ٹاٹا کو 2 جولائی کو اسپیکٹرم دینے کےلئے وزارت میں کسی بھی قاعدے کی پرواہ نہیں کی۔ ہمارا خیال ہے کہ رتن ٹاٹا کی تفصیل سے جانچ ہونی چاہئے۔ اگر ایسا نہیںہوتا تو یہ جانچ اور گھوٹالے کا پورا پردہ فاش نہیں ہوگا۔ نیرا راڈیہ کے ٹیپوں کی تو پتہ نہیں کیوںجانچ اور ان پر کارروائی نہیں ہورہی ہے؟
2G, Anil Narendra, CBI, Daily Pratap, Dayanidhi Maran, DMK, Karunanidhi, Ratan Tata, Tata Teleservices, Vir Arjun

09 جولائی 2011

ڈی ایم کے کا تیسرا کرپٹ وکٹ ڈاؤن، مارن کا استعفیٰ



Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 9th July 2011
انل نریندر
وپی اے کی کچھ اتحادی پارٹیوں نے منموہن سنگھ حکومت کا ساتھ و حمایت اس لئے دی تھی کہ وہ دیش کو لوٹ سکیں۔ ان کا واحدمقصد پیسہ کمانا تھا اور ہے۔ ان میں خاص ہے ڈی ایم کے حالانکہ این سی پی بھی اسی زمرے میں آتی ہے لیکن فی الحال ڈی ایم کے کا نمبر لگا ہے۔ ٹو جی اسپیکٹرم الاٹمنٹ میں ڈی ایم کے کو آخر کار تیسرا وکٹ گنوانا پڑا۔ مرکزی وزیر کپڑا دیاندھی مارن کا معاملہ جیل میں بند اے راجہ اور ڈی ایم کے ایم پی کروناندھی کی بیٹی کنی موجھی سے بھی ایک قدم آگے ہے۔ دیا ندھی مارن نے یوپی اے حکومت میں مرکزی وزیر مواصلات رہتے ہوئے کمال ہی کرڈالا۔ سی بی آئی نے بدھوار کو سپریم کورٹ میں اسٹیٹس رپورٹ پیش کرتے ہوئے بیان دیا کہ مارن نے ایئر سیل کمپنی کی حصہ داری ملیشیائی کمپنی میکسس کو فروخت کروائی۔ پھر اسے لائسنس دے کر بدلے میں 675 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری اپنے سن ٹی وی میں کروا دی۔ سی بی آئی کے وکیل کے کے وینوگوپال نے جسٹس جی ایس سنگھوی اور اے کے گانگولی کی بنچ کو بتایا کہ 2006 ء میں ٹیلی کام وزیر رہتے ہوئے مارن نے چنئی کی کمپنی ایئر سیل کی لائسنس درخواست جان بوجھ کر التوا میں رکھی۔ اسے اپنی حصے دار ملیشیائی کمپنی میکسس کو بیچنے کے لئے مجبور کیا۔ میکسس ، ایئرسیل کو لائسنس دینے کے بدلے میں اپنی ڈی ٹی ایم کمپنی سن ٹی وی کے لئے بڑا سرمایہ حاصل کیا۔ مارن کا فارمولہ آسان تھا ۔ اس ہاتھ لو اس ہاتھ دو۔ میکسس کے وی آنند کرشنن مارن کے رشتہ دار ہیں اس لئے مارن نے ان کے ذریعے یہ فائدے کا سودا کیا۔ دیکھئے یہ کھیل مارن نے کیسے کھیلا۔ دباؤ بنانے کیلئے پہلے تو مارن نے ایئر سیل کے ٹو جی اسپیکٹرم لائسنس درخواست کو دو سال تک روکے رکھا۔ پھر 2006 ء میں ایئر سیل کو اپنی حصے دار میکسس کو بیچنے کے لئے مجبور کیا۔ بدلے میں میکسس نے اپنی ایک ساتھی کمپنی کے ذریعے مارن کی سن ٹی وی میں 675 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی۔ اس کے عوض میں ایئر سیل کی 74 فیصدی حصے داری کو لیکر میکسس کو 23 سرکل کے لائسنس دے دئے۔ کنی موجھی تو کل 200 کروڑ روپے کے گھوٹالے میں شامل تھیں، دیا ندھی مارن نے تو 675 کروڑ روپے کا براہ راست گھپلہ کیا ہے۔
یہ دوسرا موقعہ ہے جب مارن کو وزارت چھوڑنی پڑی ہے۔ اس سے پہلے انہیں 2007ء میں عہدہ اس وقت چھوڑنا پڑا تھا جب کروناندھی خاندان میں اندرونی اختلافات کا شکار ہوئے تھے۔ چنئی سینٹرل سے لوک سبھا کے ممبر مارن عام چناؤ کے بعد مئی 2009ء میں پھر سے کیبنٹ میں شامل ہوئے لیکن اس بار انہیں ٹیلی وزارت نہیں ملی جیسا کے وہ چاہتے تھے۔ بلکہ انہیں کپڑا وزارت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ کانگریس نے بدھوار کو جہاں دیاندھی مارن کے استعفے پر تبصرہ کرنے سے منع کردیا وہیں یہ بھی کہا کہ ڈی ایم کے پارٹی کے ساتھ ان کا اتحاد جاری رہے گا۔ کانگریس کے ترجمان منیش تیواری نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ بنیادی حقیقت کی ترجیحات پر سیاسی اتحاد قائم ہوتا ہے۔ ہمارا اتحاد ڈی ایم کے کے ساتھ سال2004 سے جاری ہے اور اس صورت میں کوئی بھی تبدیلی نہیں آئی ہے۔
کیا اسے محض اتفاق ہی مانا جائے گا کہ منموہن سرکار سے ان تمام کرپٹ وزیروں کا صفایا سپریم کورٹ کے کہنے پر ہورہا ہے یا یہ سب کسی طے شدہ حکمت عملی کے تحت ہورہا ہے؟ ڈی ایم کے کے بعد اب اگلا نمبر این سی پی کے بدعنوان وزیروں کا ہونا چاہئے۔
Tags: 2G, Anil Narendra, CBI, Daily Pratap, Dayanidhi Maran, DMK, Manmohan Singh, NCP, Supreme Court, Vir Arjun

09 جون 2011

دیاندھی مارن سے وزیر اعظم اور کانگریس نے کنی کاٹی

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
9 جون 2011 کو شائع
انل نریندر
ڈی ایم کے لیڈر دیاندھی مارن بری طرح سے پھنستے جارہے ہیں جیسے ڈی ایم کے کے دیگر وزرا و یوپی اے کے لیڈروں نے یوپی اے سرکار کو کٹہرے میں کھڑا کروایا ٹھیک اسی طرح مارن نے اب وزیر اعظم منموہن سنگھ کے لئے ایک نیا در سر کھڑا کردیا ہے۔ منموہن سنگھ پہلے ہی اے راجا، کنی موجھی تنازعے کو لیکر کٹہرے میں کھڑے ہوئے ہیں۔ اب دیاندھی نے ان کی مشکلیں بڑھا دی ہیں۔ 2004 سے2007 تک ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے کو لیکر یوپی اے پہلے ہی انگلیاں جلا بیٹھی ہے۔ کیونکہ اے راجا اور سریش کلماڑی کو بچانے کا انجام وہ دیکھ چکی ہے۔ اب شاید ہی پردھان منتری دیاندھی مارن کو بچانے کی کوشش کریں۔ دیاندھی کے خلاف سنگین الزام ہے۔پرواسی بھارتی ایس ۔شیوشنکرن کو ان کی کمپنی ایئرسیل کو فروغ کرنے کیلئے مجبور کرنے کا ملزم مرکزی وزیر کپڑا دیاندھی مارن کا جانا اب طے لگتا ہے۔ مارن کے خلاف الزامات اور متعلقہ ثبوتوں کے بارے میں سی بی آئی نے وزیر اعظم منموہن سنگھ کو مفصل رپورٹ دے دی ہے۔ شیو شنکرن نے سوموار کو سی بی آئی کو بتایا تھا کہ کس طرح ٹیلی کمیونی کیشن وزیر رہتے ہوئے انہیں ایئر سیل بیچنے کے لئے دیاندھی مارن نے مجبور کیا تھا۔ ایئر سیل معاملے میں دیاندھی کے کردار پر وزیر اعظم کو مفصل رپورٹ دینے کی تصدیق کرتے ہوئے سی بی آئی کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ کپڑا منتری کے خلاف لگائے گئے الزام کافی سنگین ہیں اور ان کی پوری جانچ کی ضرورت ہے۔ شیو شنکرن نے جانچ ایجنسی کو ان لوگوں کے نام پتے دئے ہیں جو مارن کی ذیاتیوں کے چشم دید گواہ ہیں۔ مارن انہی لوگوں کے ذریعے سے شیو شنکرن پر ایئر سیل کو بیچنے کے لئے دباؤ بنا رہے تھے۔ان میں ایئر سیل سے جڑے وکیل اور چارٹرڈ اکاؤنٹینٹ بھی شامل ہیں۔ شیو شنکرن کا کہنا تھا کہ ٹیلی کمیونی کیشن وزیر رہتے ہوئے مارن نے ان کے کاروباری اسٹیٹ کو پوری طرح سے تباہ کردیا اور انہیں دیش سے بھاگنے پر مجبور کردیا۔
آج کی تاریخ میں بدعنوانی کا اشو گھر گھر تک موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ تبھی تو بدعنوانی اور کالی کمائی کو لیکر آج کی صورتحال میں لوک آیکت کی تشکیل کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ کانگریس لیڈر شپ دیاندھی مارن سے دوریاں بڑھا رہی ہے اور سرکار یا کانگریس شاید ہی انہیں اب بچا پائے۔ دیاندھی مارن کووزیر مالیات پرنب مکھرجی سے ملاقات کے درمیان صاف اشارے دے دئے گئے ہیں کہ پردھان منتری پہلے ہی سے کہہ چکے ہیں کہ ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالہ معاملے میں سبھی الزامات کی جانچ کی جائے گی جس میں مارن کے خلاف بھی الزام شامل ہے۔ ان الزامات پر سی بی آئی جانچ کی تازہ رپورٹ پردھان منتری کے دفتر کو پہنچ چکی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ڈی ایم کے چیف کروناندھی کا اب کیا موقف ہوتا ہے۔ دو دن پہلے کروناندھی نے پردھان منتری کو کنی موجھی کی گرفتاری کے لئے براہ راست ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ اب اگر دیاندھی مارن حراست میں لئے جاتے ہیں تو کروناندھی کیا کریں گے؟ کیا وہ یوپی اے سرکار سے اپنے وزرا کو ہٹنے کا حکم دیتے ہیں؟ یا حمایت واپسی کا تو وہ پہلے ہی اعلان کرچکے ہیں یہ آگے دیکھنے والی بات ہوگی۔
Tags: 2G, A Raja, Anil Narendra, CBI, Daily Pratap, Dayanidhi Maran, DMK, kani Mozhi, Karunanidhi, Pranab Mukherjee, Vir Arjun

07 جون 2011

جے للتا کا مارن بھارئیوں اور کروناندھی کو پہلا تحفہ


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
7 جون 2011 کو شائع
انل نریندر


تاملناڈو کی وزیر اعلی جے للتا نے اقتدار سنبھالتے ہی ایم کروناندھی اور ان کے کنبے کو تحفہ دے دیا ہے۔ جیہ حکومت نے شکروار کو اپنے حریف کروناندھی کے جنم دن پر ان کی حکومت کے ذریعے شروع کئے گئے اہم پروجیکٹوں کو بند کردیا ہے۔ یہ پروجیکٹ رہائشی و بیما سیکٹر سے وابستہ تھے۔ اس کے ساتھ ہی حکومت نے یہاں بن رہے اسمبلی اور کیبنٹ کمپلیکس کی تعمیر کے گھوٹالوں کے الزام لگاتے ہوئے ان کی جانچ کرانے کا اعلان کیا ہے۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ ڈی ایم کے سے وابستہ مارن بھائیوں پر نشانہ لگاتے ہوئے جیہ حکومت نے ریاست کے کروڑوں روپے کے کیبل کاروبار کو نیشنلائزڈ کرنے کا اعلان کردیا ۔ اسمبلی کے نئے اجلاس کو خطاب کرتے ہوئے گورنر سرجیت سنگھ برنالا نے یہ اعلانات شکروار کو کئے۔
مارن سامراجیہ کا سورج کبھی غروب نہیں ہوسکتا ۔ کچھ اس طرح کی باتیں کاروباری دنیا کے اعلی افسر کلاندھی مارن اور ان کے چھوٹے بھائی موجودہ وزیر کپڑا دیا ندھی مارن کی سرپرستی والے سن گروپ کے بارے میں کہتے رہے ہیں۔ لیکن گذشتہ تین روز کے واقعات اس بات کی جانب اشارہ کررہے ہیں کہ مارن بھائیوں کے لئے زوال کا وقت قریب آچکا ہے۔ امریکی بزنس میگزین 146فوربیز145 نے حال میں مارن بھندوؤں کی املاک چار ارب ڈالر قریب 179 ارب روپے کی اخذ کی تھی۔ جن لوگوں نے سن گروپ کا فروغ دیکھا ہے وہ اس کے فروغ کو حیرت انگیز مانتے ہیں۔ مصنف اور سیاسی مبصر جو راما سوامی کہتے ہیں کہ مارن بھائیوں کی یہ ترقی ان کی سیاسی سرپرستی اور اثر کے سبب ہی ہورہی ہے، ان کے لئے سیاست نے کاروباری دنیا میں داخلے کے لئے لائے پیڈ کا کام کیا ہے۔دراصل کروناندھی اینڈ کمپنی کنبے نے جتنا اقتصادی فائدہ سیاست سے اٹھایا ہے اتنے خاندان کم ہی دیکھنے کو ملیں گے۔
تاملناڈو میں کیبل ٹی وی نیٹ ورک کا بازار 1400 سے 1500 کروڑ روپے کا ہے۔ اس میں مارن بھائیوں کی سرپرستی والے سومنگلی کیبل ویژن کی65 فیصدی حصہ داری950 سے1 ہزار کروڑ روپے کے درمیان ہے۔ دیا ندھی نے وزیر مواصلات کے رہتے اپنے اثر کا استعمال جنوبی ہند زبان والے کیبل ٹی وی چینل آپریٹروں کو لائسنس دینے میں دیری کی۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ سن ٹی وی کا کوئی مدمقابل کھڑا ہو۔اس لئے تاملناڈو کے کئی ٹی وی چینلوں کے لائسنس کئی برسوں تک لٹکائے رکھے گئے۔ دیا ندھی اور کلا ندھی مارن سابق مرکزی وزیر و ڈی ایم کے کے بڑے نیتا رہے سورگیہ مرا سولی مارن کے بیٹے ہیں۔ کروناندھی کے بھانجے تھے۔ مرا سولی مارن اور ان کے چھوٹے بھائی سیولم کی شادی سیلوی سے ہوئی تھی، جو کروناندھی کی بیوی دیالو امل کی لڑکی ہے۔ 1990 ء میں کروناندھی نے ویڈیو میگزین 146پلائی145 شروع کی تھی۔ 1993 ء میں جنوبی ہندوستان کا پہلا سیٹلائٹ چینل سن ٹی وی شروع کیا گیا۔1995 ء میں اس کی کل املاک بڑھ کر 45 کروڑ روپے ہوگئی۔ سن گروپ دیش کا سب سے بڑا سیٹیلائٹ ٹی وی نیٹ ورک ہے۔ اس کے تمل، ملیالم، کنڑ اور تیلگو زبان میں بھی چینل ہیں۔ وہ تاملناڈو کے دوسرے بڑے اخبار 146دناکرن145 کے علاوہ ایک درجن میگزین بھی نکالتے ہیں۔ ان کے پاس 45 ریڈیو چینل بھی ہیں۔ سن پکچرس جنوبی ہندوستان کی سب سے بڑی فلم پروڈکشن ہاؤس ہے۔ اب آپ بتائیں کہ 1990ء سے لیکر2011ء تک یہ 180 ارب روپے کے مالک کیسے بن گئے؟

Tags:2G, Dayanidhi Maran, DMK, Jayalalitha, Karunanidhi, Tamil Nadu

04 جون 2011

کنی موجھی ،اے راجا کے بعد دیا ندھی مارن کا نمبرآئے گا

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily

4 جون 2011 کو شائع
انل نریندر
برسوں تک شری رام کو گالی دینے والے ایم کروناندھی اور ان کے خاندان نے تاملناڈو اور مرکز میں مغلوں کی طرح اقتدار کا فائدہ اٹھایا ہے اور اتنا پیسہ بنالیا ہے جس کا کوئی حساب کتاب نہیں ہے۔سر پر جب شری رام کی مار پڑتی ہے تو اچھے اچھے دھرندرچت ہوجاتے ہیں۔ کروناندھی کے خاندان کے بھی برے دن شروع ہوگئے ہیں۔ سابق وزیر مواصلات اے ۔ راجہ کے بعد ان کی ممبر پارلیمنٹ بیٹی کنی موجھی کے بدعنوانی کے الزامات میں جیل جانے کے بعد ان کے خاندان کا ایک اور فرد مرکزی وزیر کپڑا دیاندھی مارن کا اب نمبر آنے والا ہے۔ ان کے خلاف ایک غیر سرکاری تنظیم سینٹر فار پبلک لیٹی گیشن نے سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی ہے۔ اس عرضی میں کہا گیا ہے کہ دیاندھی مارن کی جانب سے ملیشیا کے میکسز گروپ کی حمایت لئے جانے سے متعلق دستاویز اسے عدالت میں پیش کرنے کی اجازت دی جائے۔ اس گروپ نے مئی2004 سے مئی 2007 کے درمیان مارن کے ٹیلی کمیونی کیشن وزیر رہنے کے دوران چنئی کی ٹیلی کام کمپنی ایئر سیل کو خرید لیا تھا۔ الزام ہے کہ وزیر مواصلات رہتے ہوئے شیوا گروپ کی کمپنی ایئر سیل کو امریکی لائسنس دینے کا معاملہ اٹکا دیا تھا۔ ٹیلی کمیونی کیشن وزارت کے رویئے سے ناراض ہوکر اس کمپنی کے مالک سی شیو شنکر ایئر سیل کو میکسز گروپ کو بیچنے کے لئے مجبور ہوگئے تھے۔ میکسز گروپ کے مالک ملیشیا کے بزنس ٹائیکون ٹی آنند کرشن ہیں۔ الزام ہے کہ میکسز گروپ کے ایئر ٹیل کے بعد مارن خاندان کے زیر کنٹرول سن ٹی وی نے بھاری سرمایہ کاری کرتے ہوئے اس کی20 فیصد حصے داری خرید لی۔ مارن کے عہد میں ایئرسیل کو 14 لائسنس دئے گئے۔
ادھر ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے کی جانچ کررہی سی بی آئی نے قومی ٹیلی کمیونی کیشن پالیسی میں 2001 ء سے ہوئی دھاندلیوں کی پڑتال کے لئے ایک ایف آئی آر درج کی ہے۔ اس سے اے۔ راجا سے پہلے رہے ٹیلی کمیونی کیشن وزیر دیا ندھی مارن بھی جانچ کے دائرے میں آگئے ہیں۔ قابل ذکر ہے تہلکہ میگزین نے اس معاملے کا خلاصہ کیا تھا۔ حالانکہ مارن نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے میگزین کو قانونی نوٹس بھیجا ہے۔ سی بی آئی کے ترجمان دھارنی مشر نے کہا کے سی بی آئی نے 2001 سے2007 کے درمیان ٹیلی کمیونی کیشن پالیسی میں ہوئی جعلسازیوں کے تعین کے لئے نامعلوم لوگوں کے خلاف یہ جانچ رپورٹ درج کرائی گئی ہے۔ اس کا مقصد اس وقت کی اٹل بہاری واجپئی سرکار کے ذریعے پاس کردہ ’پہلے آؤ پہلے پاؤ‘ اسکیم کی سہولت کا ٹیلی کمیونی کیشن پالیسی میں تعمیل ہوئی ہے یا نہیں یہ معلوم کرنا ہے۔
2006 ء میں جب دیا ندھی مارن ٹیلی کمیونی کیشن وزیر ہوا کرتے تھے تب انہوں نے اپنے خاندان کے سن ٹی وی نیٹورک کو فائدہ پہنچانے کیلئے اسپیکٹرم الاٹمنٹ میں عہدے کا بیجا فائدہ اٹھایا تھا۔ دیا ندھی مارن کے عہد میں ٹیلی کمیونی کیشن سیکٹر میں درپردہ غیر ملکی سرمایہ کاری کی حد 49 فیصدی سے بڑھا کر74 فیصدی کردی گئی تھی۔ ایئر سیل میں 74 فیصدی شیئر ہولڈر میکسز نے اپنی کمپنی ایسٹرو کے ذریعے مارن بھائیوں کے سن ٹی وی نیٹورک نے600 کروڑ روپے سے زیادہ رقم کی سرمایہ کاری کی تھی۔مارن نے ٹیلی کمیونی کیشن وزیر رہتے ایئر سیل کے لائسنس اور اسپیکٹرم سے متعلق درخواستوں کو منظوری نہیں دی تھی۔ اس کے چلتے ایئر سیل کے مالک شیو شنکر نے مارن خاندان کے قریبی میکسز کو اپنے 74 فیصدی شیئر بیچ دئے تھے۔ سی بی آئی افسران کا ماننا ہے کہ شیو شنکر پر اس سودے کو لیکر بھاری دباؤ تھا۔
Tags: 2G, A Raja, Aircel, Anil Narendra, CBI, Corruption, Daily Pratap, Dayanidhi Maran, DMK, kani Mozhi, Sun TV, Vir Arjun

میڈیا میں چھائے گیانیش کمار!

الیکشن کمیشن کے اندر سے جوخبریں باہر آئی ہوئی ہیں اور انڈین ایکسپریس میں چھپی ہیں وہ تشوتشناک تو ہیں ہی لیکن اس سے کہیں زیادہ سنگین اس لئے ...