Translater
22 جون 2023
کیدارناتھ گربھ گرہ میں سونے کا معاملہ !
کیدارناتھ مند ر کے گربھ گرہ میں سونے کی جگہ پیتل لگائے جانے کے الزامات کو سازش کا حصہ بتائے ہوئے شری بدری ناتھ کیدارناتھ مندر کمیٹی نے اتوار کو کہا کہ شدر سیاسی عناصر یاترا کو متاثر کرنے اور دھام کی ساکھ کو ملیا میٹ کرنے کیلئے غلط فہمی پھیلا رہے ہیں۔ مندر کمیٹی نے اس سلسلے میں ایک ٹویٹ کرتے وہئے سوشل میڈیا پر غلط فہمی اور گمراہ کن پروپیگنڈہ کرنے والوں کے خلاف قانونی کاروائی کرنے کی وارننگ بھی دی ہے ۔ کیدار ناتھ گربھ گرہ میں لگے سونے کے پتل میں بڑھپیل ہونے کے الزام لگاتے ہوئے مندر کے ترتھ پروہت آچاریہ سنتوش تریویدی نے ویڈیون سوشل میڈیا پرپوسٹ کیا ۔انہوںنے الزام لگایا کہ گربھ گرہ میں میں سونے کے بجائے پیتل لگایا گیا ہے۔ کیدار ناتھ دھام میں لگا یا گیا 230کلو سونا چرا لیا گیا ہے ۔ اور اصلی سونی کی جگہ پیتل لگایا گیا ہے۔اس سے گربھ گرہ سونے کے بجائے پیتل کی طرح نظر آنے لگا ہے ۔بدری ناتھ کیدارناتھ کمیٹی نے کیدارناتھ مندر کے گربھ گرہ کو سونے سے جڑا کرنے کو لیکر سوشل میڈیا میں پھیلائی جا رہی باتوں کو سازش کا حصہ بتایا ہے ۔ مندر کمیٹی کے مطابق بو رڈ کی میٹنگ میں ایک دان داتا کا پرستاو¿ رکھ کر منظوری لی گئی تھی۔ ریاستی انتظامیہ سے بھی اجازت لی گئی تھی کہ یہ کام آرکیولوجیکل سروے آف انڈیا کے ماہرین کی نگرانی میں ہوا ۔ مندر کمیٹی کا اس میں کوئی رول نہیں تھا۔ کمیٹی کے ایگزیکٹیو افسر کے مطابق کیدارناتھ گربھ گرہ میں 23,777.800گرام سونا لگایا گیا ہے ۔ اس کی موجودہ قیمت تقریبا 14.38کروڑ روپے ہے۔ کاپر پلیٹوں کی قیمت 32لاکھ روپے ہے دان کنندہ نے جوہری کے ذریعے گربھ گرہ میں لگائی گئی سونے اور تانبے کی پلیٹوں اور باقاعدہ بل اور واو¿چر کمیٹی کو دئے تھے ۔ مندر کمیٹی کے چیئرمین گجیندر نے صفائی دی ہے کہ پچھلے برس مہاراشٹر کے ایک دانی نے وشوناتھ مندر کے گربھ گرہ کو سونے سے سجاوت کرنے کی خواہش جتائی تھی۔ اس پر مندر کمیٹی نے بورڈ کی میٹنگ میں پرستاو¿ پاس کر عطیہ کنند ہ کو گربھ گرہ کی دیواروں کو سونے سے آراستہ کرنے کی اجازت دی تھی۔کیدارناتھ مندر کے گربھ گرہ میں مہاراشٹر کے اس دانی کے ذریعے قریب 23کلو گرام سونا لگایا گیا ہے ۔کمیٹی کا کہنا ہے کہ کہیں سے بھی کوئی شکایت نہیں آئی ہے لیکن ایک پارٹی خاص کے کہنے پر تنازعہ کھڑا کیا جا رہا ہے۔ انہوںنے کانگریسیوں کے ساتھ ہی سپا چیف اکھلیش کی طرف سے معاملے کو طول دینے پر سوال کھڑا کیا کہ کیا انہوںنے دیش میں کبھی مسجدوں اور مدرسوں کو ملے عطیہ کے بارے میں بھی جانکاری لی ہے۔
(انل نریندر)
کانگریس سرکار نے پلٹے بی جے پی کے فیصلے !
کرناٹک کی کانگریس سرکار نے چناوی وعدوں کو پورا کرنے کیلئے قدم اٹھانے شروع کردیئے ہیں اور اس کڑی میں حکومت نے سابق بی جے پی حکومت کے کئی فیصلوں کو پلٹنا شروع کردیا ہے ۔ اور ان میں دو بڑے فیصلے شامل ہیں جس میں تبدیلی مذہب انسداد قانون واپس لیا جائے گااور ساتھ ہی موجودہ تعلیمی برس کیلئے ریاست میں درجہ 6سے 10تک میں کنڑ اور سوشل سائنس کی نصابی کتابوںمیں ترمیم کو منظوری دے دی ہے اور آر ایس ایس کے بانی کیشو بلیرام ہیڈ گوار اور ہندتوا کے مبلغ ویر ساورکر سمیت دیگر لوگوں کی زندگی پر اسباق کو بھی ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ کیبنٹ کی میٹنگ میں یہ فیصلہ لیا گیا ۔ساوتری بائی ،اندرا گاندھی کے لکھے گئے نہرو کے خطوط اور بی آر امبیڈکر پر کویتا کو نصاب میں شامل کیا جائے گا۔بھارتیہ جنتا پارٹی کی پچھلی سرکار کے ذریعے کی گئی ترامیم کو ہٹایا جا ئے گا۔ کانگریس نے اپنی چناوی منشور میں وعدہ کیا تھا کہ وہ اسکولی نصابی کتابوں میں بھاجپا سرکار کے ذریعے کی گئی تبدیلیوں کو ہٹا دے گی۔ کانگریس نے نیشنل ایجوکیشن پالیسی کو بھی ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا ۔ قانون و پارلیمانی وزیر این کے پاٹل نے کیبنٹ کی میٹنگ کے بعد کہا کہ نصابی کتابوںمیں ترمیم کے سلسلے میں کیبنٹ نے محکمے کے ذریعے لائے گئے پرستاو¿ پر غور کیا اور اسے اپنی منظوری دے دی۔ کیبنٹ سے ریاست کی سبھی تعلیمی اداروں کیلئے یومیہ آئین کی بنیادی اصولوں کا پڑھنا ضروری کر دیا ہے ۔ ایک دوسرے فیصلے میں کنڑ زبا ن کی فلم مصتفیٰ کو ٹیکس فری کردیا ہے ۔ریاستی سرکار 3جولائی سے شروع ہونے والے اسمبلی سیشن میں اس سلسلے میں بل لائے گی۔ وزیر قانون اور پارلیمانی امور ایم کے پاٹل نے بتایا کہ کیبنٹ میں تبدیلی مذہب انسداد بل پر غور کیا ۔ہم نے 2022میں اس وقت کی بھاجپا سرکار کے کیلئے کی گئی ترامیم کو منظوری دے دی ہے ۔ اسے 3جولائی سے شروع ہو رہے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ ادھر بھاجپا نے ددعویٰ کیا کہ کانگریس کے ریوڑی کلچر سے کرناٹک کی دور دشا ہو رہی ہے۔ ریاست کے محکمہ مالیا کے خط کی کاپی ٹویٹر پر پوسٹ کرتے ہوئے بھاجپا کے آئی ٹی سیل کے چیف امت مالویہ نے کہا کہ کرناٹک کے محکمہ ماحولیات نے کرناٹک ریاست روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن و بینگلورو سٹی ٹرانسپور ٹ کارپوریش کو مطلع کیاہے کہ بسوں کو روکنے کیلئے ٹھیک ٹھاک چلانے کیلئے اندھن کیلئے فاضل رقم مہیا نہیں کرائے جانچ نہیں کرائی جاس سکتی ۔ مفت وعدے کیلئے اپنی جیب سے رقم خرچ کرئے گی۔
(انل نریندر)
20 جون 2023
سندھیا کو بڑا جھٹکا!
مدھیہ پردیش میں لگتا ہے کانگریس کے حق میں ہوا چل رہی ہے ،کچھ ٹی وی چینلوں کے سروے میں بھی کانگریس کو اسمبلی چناو¿ میں اکثریت دکھائی جا رہی ہے ۔ وزیر اعلیٰ شیو راج سنگھ چوہان کے خلاف زبردست ناراضگی پائی جاتی ہے اس لئے حیرانی نہیں ہوگی جب مدھیہ پردیش میں مرکزی وزیر جیوترآدتیہ سندھیا کو بڑا جھٹکا لگا ہے ۔سندھیوں کے کٹر حمایتی بیج ناتھ یادو بی جے پی چھوڑ کر کانگریس میں شامل ہو گئے ہیں ۔یادو چار سو گاڑیوں کے قافلے کے ساتھ بھوپال پہنچے ۔بتادیں کہ ایک دن پہلے ہی منگلوار کو سندھیا حمایتی بیج ناتھ یادو نے بی جے پی میں پردیش ورکنگ کمیٹی ممبر سمیت سبھی عہدوں سے استعفیٰ دینے کی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ وہ اب بھاجپا میں نہیں رہیںگے ۔ ایک دن میں ہی بدھوار کو انہوںنے کانگریس کا دامن تھام لیا۔ اس دل بدل کے دوران بیج ناتھ یادو نے اپنی طاقت کا بھی احساس کرایا۔چوںکہ وہ چار سو گاڑیوں کے قافلے کے ساتھ اپنے حمایتوں کو لیکر راجدھانی بھوپال میں پی سی سی دفتر پہنچے ۔اور کانگریس کی ممبر شپ حاصل کرلی ۔مدھیہ پردیش میں جیسے جیسے اسمبلی چناو¿ کا وقت قریب آتا جا رہا ہے ویسے ویسے دونو ں ہی بڑی پارٹیاں بھاجپا اور کانگریس میں سیندھ ماری کا سلسلہ تیز ہوتا جا رہا ہے ۔اب کانگریس نے بھاجپا میں سیندھ لگائی ہے ۔مرکزی وزیر جیوتر آدتیہ سندھیا کے حمایتی بیج ناتھ یادو کو پی سی سی چیف کملناتھ نے کانگریس کی ممبر شپ دلائی ہے ۔جیوتر آدتیہ سندھیا کانگریس چھوڑ کر بھاجپا میں شامل ہوئے تھے اور تب ان کے ساتھ بیج ناتھ یادو بھی بھاجپا میں آگئے تھے لیکن اب بیگ ناتھ یادو حکمراں بھاتیہ جنتا پارٹی سے بیزار ہوگئے ہیں۔ انہوںنے سابق وزیر اعلیٰ دگ وجے سنگھ اور سابق مرکزی وزیر ارون یادو اور ممبر اسمبلی جے وردھن سنگھ اور باغی بھی کانگریس میں شامل ہوگئے ہیں۔ کمل ناتھ نے انہیں ممبری کا حلف دلایا۔ بتادیں کہ بیج ناتھ بنیادی طور پر کانگریس نیتا ہیں ۔لیکن سال 2020میں تبدیلی اقتدار کے دوران بیج ناتھ یادو بھی اس وقت کے کانگریس لیڈر جیوتر آدتیہ سندھیا کے ساتھ بی جے پی میں شامل ہوگئے تھے ۔ واقف کاروں کا خیال ہے کہ یہ تو شروعات ہے خاص کر ان کانگریسیوں کے لئے جو آدتیہ سندھیا کے ساتھ بی جے پی میں شامل ہوئے تھے ۔ ان کو بی جے پی ٹکٹ دیتی ہے یا نہیں یہ بھی دیکھنا باقی ہے یا پھر اپنے پرانے ورکروں کو ہی ترجیح دیتی ہے ؟
(انل نریندر)
منی پور میں تشدد کیوں نہیں رک رہا؟
منی پور میں 49دن سے جاری تشدد میں 100سے زیادہ لوگوں کی موت 50ہزار سے زیادہ بے گھر ہوگئے ، لوگوں کے گھر جلائے جار ہے ہیں،دکانیں جلائی جا رہی ہیں ،چرچ جلائے جا رہے ہیں۔منی پور میں اس تشدد کو ڈیڑھ مہینے سے زیاد ہ گزر چکا ہے ۔ اس دوران مرکزی وزیر داخلہ کا دورہ ہونا ،تشد د کی جوڈیشل انکوائری کے اعلان ،امن کمیٹی بنائے جانے کے باوجود تشددد رکنے کے بجائے بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ جو انتہائی تشویش ناک ہے ۔ آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت وشو سرما کومیتئی اور کوکی فرقے کے درمیان خلیج بھرنے کی ذمہ داری دی گئی لیکن منی پور میں تشدد جاری ہے ۔ تازہ وقعے میں جمعرات کو امپھال کے کونگبا میں واقع مرکزی وزیر آر کے رنجن سنگھ کے گھر کو آگ لگادی گئی ۔ اس سے پہلے بدھوار کو ایک گاو¿ں میں مشتبہ شدت پسندوں کے حملے میں کم سے کم نو لوگ مارے گئے ۔ مرکز میں حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرکار اور ریاست میں بھی اسی پارٹی کی سرکار ہے لیکن پھر بھی تشدد جاری ہے ۔کیا وجہ ہے کہ مرکز اور ریاستی حکومت ایک مہینے سے بھی زیادہ سے جاری کشیدگی اور تشدد پر قابو نہیں کر پائی ؟ کیا وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ بیرن سنگھ منی پور کے محاذ پر ناکام ہو چکے ہیں۔وزیر داخلہ امت شاہ نے اپنے دورے کے دوران سبھی فرقین سے بات کر 15دنوںمیں حالا ت بحال ہونے کی بات کی تھی لیکن حالات اور خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ حالات بحال کرنے کیلئے جس طرح کے قدم اٹھائے جانے کی ضرورت ہے وہ قدم نہ تو مرکزی سرکار نے اٹھائے اور نہ ہی ریاستی سرکار نے اٹھائے۔ اور حکومت نے لوگوں کوان کے حال پر چھوڑ دیا ہے ۔کوکی اور میتئی دونوں ہی فرقے کے لوگوں کو لگ رہا ہے کہ انہیں اپنی حفاظت خود کرنی پڑے گی ۔کیوں کہ سرکار ان کیلئے کچھ نہیں کر رہی ہے۔اور اسی وجہ سے حالات بگڑتے چلے گئے کیوںکہ لگو تشدد سے نمنٹے کیلئے خود تشدد کا سہا را لے رہے ہیں ۔ حالیہ دنوںمیں منی پور کے الگ الگ علاقوںسے کافی تعدا دمیں ہتھیا برآمد کئے گئے ۔ ماہرین بتاتے ہیں کہ دونوں افراد کے بیچ لمبے عرصے سے اختلافات ہونے کے باوجود ریاست میں کوکی اور میتئی فرقے کے لوگ بھائی چارے سے رہتے چلے آئے ہیں یہاںتک کہ دونوں کے درمیان کاروباری رشتے بھی ہیں۔ لیکن اب حالات ایسے ہو گئے ہیں کہ اب ایک دوسرے سے بھروسہ اٹھ گیا ہے۔منی پور میں جاری تشدد کے دور نے سابق فوجی حکام کو بھی پریشانی میں ڈال دیا ہے ۔سابق فوج کے چیف ویدپرکاش ملک نے مرکزی سرکار سے منی پور کے حالات پر فوری توجہ دینے کی اپیل کی ہے ۔ وہیں ایک ریٹائرڈ افسر نے بھی منی پور کے موجودہ حالات موازنہ شام اور لیبیا جیسے تشدد زدہ دیشوں سے کردیا ہے ۔اب تو ہتھیار وہاں باغیوںنے سیکورٹی فورسیز پر بھی حملے شروع کردئے ہیں۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
بند-کھلا-بند -ہرمز پر سسپنس
ہرمز جل ڈروم سنٹرل کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ انتہا پر پہنچ رہا ہے ۔امریکہ اور ایران کے بیچ پچھلے قریب 50 دنوں سے جاری کشیدگ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...