Translater

27 اگست 2011

چوطرفہ دباؤ میں مایاوتی


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily 
Published On 27th August 2011
انل نریندر

جیسے جیسے اترپردیش میں اسمبلی انتخابات قریب آتے جارہے ہیں ویسے ویسے مایاوتی کی مشکلیں بڑھتی جا رہی ہیں۔ چار برس تک تو حالات بہن جی کے قابو میں ہی رہے لیکن پانچویں سال میں حالات ان کے قابو سے باہر ہوتے جارہے ہیں۔ ان پر چوطرفہ دباؤ بڑھتا جارہا ہے۔ راہل گاندھی زمین پر اترکر گاؤں گاؤں گھوم رہے ہیں تو دوسری طرف عدالتوں نے مایاوتی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کرکے ایک نئی پریشانی پیدا کردی ہے۔ ان سب کی وجہ سے مرکزی حکومت نے بھی ریاستی حکومت کی گھیرا بندی شروع کردی ہے۔ ذرائع کے مطابق گھوٹالوں اور مجرمانہ سازشوں کے لئے بدنام ہوچکی قومی دیہی ہیلتھ مشن اسکیم سمیت مرکز کی سبھی اسکیموں کے لئے پچھلے چار برسوں میں بھیجے گئے پیسے کے استعمال کا حساب اترپردیش حکومت سے مانگے جانے کی تیاری شروع ہوگئی ہے۔ اس کا آغاز ریاستی حکومت کو این آر ایم ایم اسکیم کے تحت دی جانے والی رقم میں 700 کروڑ سے زیادہ کی کٹوتی کردی گئی ہے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ مایاوتی کے قریبی مانے جانے والے کچھ صنعت کاروں ،بلڈروں پر جانچ ایجنسیوں کا قافیہ تنگ ہونے لگا ہے۔پچھلے دنوں ریاستی حکومت کے ایک طاقتور وزیر کے خلاف قتل کے ایک معاملے میں ہائی کورٹ کی جانب سے سی بی آئی جانچ کے احکامات پر بھی جلد ہی عمل ہوسکتا ہے۔ وزارت داخلہ یہ بھی حساب لگا رہا ہے کہ وزیر اعظم کی طرف سے بلائی گئی کتنی میٹنگوں میں مایاوتی ابھی تک شامل ہوئی ہیں؟ وزارت داخلہ سے ملی اطلاع کے مطابق مایاوتی نے وزیر اعظم منموہن سنگھ کے ذریعے بلائی گئی ایک بھی میٹنگ میں شرکت نہیں کی ہے۔ سرکار کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اترپردیش کو پچھلے چھ برسوں میں این آر ایم ایم کے تحت 8570 کروڑ روپے دے دئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ اس برس 3137 کروڑ روپے کی رقم اور ملی۔ اب تک کل 15008 کروڑروپے دئے جاچکے ہیں۔ ریاستی حکومت نے اس کے خرچ کا کوئی حساب کتاب مرکز کو نہیں دیا ہے۔ یہ ہی حال منریگا، اندرا آواس یوجنا، راجیو گاندھی دیہی الیکٹریفکشن یوجنا جیسی دیگر مرکزی اسکیموں کا بھی ہے۔ان کی مد سے مرکز سے ریاست کو اربوں روپے کی رقم آ چکی ہے لیکن خرچ کا حساب ریاستی سرکار نے اب تک مرکز کو نہیں دیا جبکہ گجرات، بہار، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، تملناڈو، کرناٹک، جھاڑکھنڈ، اتراکھنڈ کی غیر کانگریسی سرکاریں بھی مرکزی اسکیموں پر کس طرح سے رقم خرچ کرتی ہیں اس کا حساب کتاب وہ باقاعدہ دیتی ہیں۔ اس سرکار کے بڑے عہدوں پر بیٹھے لوگوں نے اربوں کا دھندہ کیا تو راجدھانی تک آنے والی مرکزی اسکیموں کو جم کر لوٹا ہے۔ جب سرکار کی سرپرستی میں وزیر لوٹنے میں لگے ہیں تو ممبران پارلیمنٹ اور اسمبلی کے دباؤ و استحصال کو کون روکے گا؟اسی وجہ سے کئی مقامات پر قتل عام ، آبروریزی کے معاملے میں وزیر سے لیکر ایم ایل اے تک پھنسے ہوئے ہیں۔ راہل گاندھی کی جارحانہ کوششیں ریاست میں کانگریس کی واپسی کے لئے بھی رنگ لانے لگی ہیں۔ نوئیڈا، گریٹر نوئیڈا میں بھی زمین تحویل کو لیکر عدالتوں کے فیصلوں نے بھی مرکز اور کانگریس دونوں کا حوصلہ بڑھا دیا ہے۔کل ملاکر مایاوتی بری طرح سے پھنس گئی ہیں۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ اپنے سیاسی کیریئر کی اس سب سے بڑی چنوتی سے وہ کیسے نمٹتی ہیں؟

26 اگست 2011

غلام فائی کی گرفتاری سے پھربے نقاب ہوا پاکستان


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily 
Published On 27th August 2011
انل نریندر
سبھی جانتے تھے کہ امریکہ میں پاکستان لابی بہت زیادہ طاقتور ہے اور پچھلے کئی برسوں میں اسی لابی کے سبب سب کچھ جانتے ہوئے بھی امریکی انتظامیہ پاکستان کی اقتصادی، فوجی، مدد کرتا چلا آرہا ہے۔ لیکن یہ نہیں پتہ تھا کہ اس لابی کے پیچھے کون کون سی طاقتیں کام کررہی ہیں۔ گذشتہ دنوں امریکہ نے اپنے ایک اور شہری کو گرفتار کیا ہے جو دہائیوں سے ایک رضاکار تنظیم کی آڑ میں پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے لئے کام کررہا تھا اور کشمیر پر ہند مخالف پروپگنڈے کے لئے پانی کی طرح پیسہ بہا رہا تھا۔ کشمیری امریکن کونسل نامی اس رضا کار تنظیم کے ڈائریکٹر کی شکل میں غلام نبی فائی آئی ایس آئی سے حوالہ کے ذریعے کروڑوں روپے یومیہ طور پر پاتا تھا اور اس کا استعمال امریکی ممبران پارلیمنٹ کو کشمیر پر بھارت کے خلاف بھڑکانے کیلئے کرتا تھا۔ غلام فائی ایسے دوسرے پاکستانی نژاد امریکی ہیں جنہیں امریکہ نے گرفتار کیا ہے۔ اس سے پہلے آتنکی ڈیویڈ ہیڈلی گرفتار ہوا تھا۔ چونکانے والی بات یہ بھی سامنے آئی ہے کہ فائی آئی ایس آئی کے اشاروں اور پیسوں سے امریکہ میں کشمیر پر سمینار انعقاد کرتا تھا اور اس انعقاد میں بہت سے نامی گرامی ہندوستانی بھی شامل ہوا کرتے تھے۔ذرائع کے مطابق حکومت ہند نے نامور صحافی دلیپ پڑگاؤنکر کو جموں و کشمیر معاملے میں اہم مذاکرات کار بنایا ہے۔ وہ بھی فائی کے سمینار میں حصہ لے چکے ہیں۔ آئی ایس آئی کے تعاون سے منعقد ہونے والے ان سمیناروں میں حصہ لینے میں نامور صحافی کلدیپ نیئر، علیحدگی پسند لیڈر میر واعظ عمر فاروق، راجندر سچر، صحافی گوتم نولکھا، ہریندر باویجہ، منوج جوشی، حمیدہ نعیم، وید بھسین، جے ڈی محمد سمیت تمام ہندوستانی رہے ہیں۔سمینار میں نہ صرف کشمیر مسئلے پر بحث ہوتی تھی بلکہ پاکستان کی حمایت کرنے والا ریزولیوشن پاس ہوتا تھا۔ فائی دراصل سمینار کے بہانے پچھلے 25 برسوں سے دنیا کا کشمیر پر نظریہ بدلنے میں لگا ہوا تھا۔ اس کی کوشش اس کے ذریعے سے کشمیر مسئلے کو بین الاقوامی طور پر اٹھانا ہے۔بھارت کو کشمیر کے باشندوں کے ساتھ نا انصافی کرنے کا قصوروار بنانا اور دور تک سازش کے تار جوڑنے کی تھی۔ ایف بی آئی کے مطابق فائی امریکہ سے اسپانسر کشمیر امریکن کونسل کا ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہے وہ اسے آئی ایس آئی کے اشارے پر چلا رہا ہے۔ فائی پر آئی ایس آئی کے لئے جاسوسی کرنا، اس کے اشارے پر پاکستان کے کشمیر پرموقف کو حمایت دینے کے ارادے سے ماہرین اور سیاستدانوں ، صحافیوں اور سماج کے پسندیدہ لوگوں کیلئے سمینار انعقاد کرکے لوگوں کا نظریہ بدلنے کا الزام ہے۔ ایف بی آئی کے مطابق ان کی اس کوشش کا کئی امریکی سینیٹر بھی حصہ رہے ہیں۔ فائی کو ایف بی آئی کے ذریعے گرفتار کئے جانے کے بعد بھارت میں اس کی آنچ پہنچی۔ اور پتہ چلا کہ کئی ہندوستانی نامی گرامی ہستیاں بھی ان کے بلاوے پر امریکہ کا دورہ کرتی رہی ہیں۔ خفیہ ذرائع بتاتے ہیں کہ سمینار میں حصہ لینے کیلئے فائی کے زیر اثر لوگوں کو کافی فخر ہوتا تھا۔اس کے لئے امریکہ آنے جانے، سمینار میں حصہ لینے، رہنے کھانے کے علاوہ اس میں حصہ لینے کے عوض میں بھاری رقم ملتی تھی۔ سمینار کے آخر میں ایک ریزولیوشن بھی پاس ہوا کرتا تھا اور اس میں پاکستان کی حمایت کرنے والی رائے کو بدلنے والا ریزولوشن بھی پاس کیا جاتا تھا۔ دلیپ پڑگاؤنکر نے فائی کے ذریعے منعقدہ سمینار میں اس کے بلاوے پر امریکہ جانے کی بات مانی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ بہت پہلے فائی کی دعوت پر وہاں گئے تھے۔ لیکن انہیں فائی کے آئی ایس آئی کے ساتھ وابستہ ہونے کی کوئی معلومات نہیں تھی۔ کیا یہ محض اتفاق تھا کہ غلام فائی کی گرفتاری عین ایسے موقع پر ہوئی جب امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن بھارت میں تھیں۔ امریکہ کو کم سے کم چھ سال پہلے سے غلام کی حقیقت معلوم تھی۔ ایک بار تو فائی کو بھاری بھرکم رقم (نقدی) کے ساتھ پکڑا گیا تھا اور اس سے گہری پوچھ تاچھ ہوئی تھی۔ بھارت کافی عرصے سے فائی اور ان کے رضاکاروں کے خلاف کارروائی کی مانگ کررہا تھا۔ کمائی کا کوئی براہ راست ذریعہ نہ ہونے کے باوجود غلام فائی امریکہ میں رئیسوں کی طرح زندگی بسر کرتا تھا۔ تعجب نہیں کہ فائی ہند مخالف کی شکل میں نامور ری پبلکن ایم پی ڈین برٹن کو غلام نے سب سے زیادہ چندہ دیا تھا۔ موجودہ صدر براک اوبامہ بھی انجانے میں اپنی چاؤ مہم میں غلام فائی سے چندہ لے چکے ہیں۔ پاکستان غلام فائی کے ذریعے امریکہ کو اس بات کے لئے راضی کرنا چاہتا تھا کہ وہ بھارت پر دباؤ ڈالے کے کشمیر میں ریفرنڈم ہونا چاہئے۔فائی کی پیٹھ تو اقوام متحدہ میں بھی تھی۔ غلام مقبوضہ کشمیری علیحدگی پسندوں کا تووہ سب سے بڑا سفیر تھا اور اس کی گرفتاری سے ان بھارت مخالف عناصر کے ہوش اڑنے فطری ہی ہیں۔ ڈاکٹر غلام فائی کا مقدمہ شکاگو میں ہیڈلی۔ رانا مقدمے کے بعد امریکہ میں دوسرا ہائی پروفائل مقدمہ ہوگا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ آخر کار پاکستانی خفیہ ایجنسی پر اس بات کا دباؤ ڈالنے میں کامیاب ہوگا کہ وہ اس طرح کی سرگرمیوں پر لگام لگائے۔ آئی ایس آئی کے سارے روابط کا پتہ لگائے؟ ہوسکتا ہے کہ غلام فائی کے آتنکی تنظیموں سے بھی سیدھے تعلقات ہوں۔ دیکھیں مقدمے میں کیا ابھر کرآتا ہے۔

حکومت نے لڑائی کا رخ بدل دیا: انابنام پارلیمنٹ


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily 
Published On 26th August 2011
انل نریندر
بدھوار کے روز ٹیم انا کے انشن کے مسئلے پر بلائی گئی سبھی سیاسی پارٹیوں پر مشتمل آل پارٹی میٹنگ کسی نتیجے کے بغیر ختم ہوگئی۔ اس پر ہمیں کوئی تعجب نہیں ہوا۔ اشارے تو پہلے ہی مل رہے تھے کہ کوئی بھی سیاسی پارٹی انا کے جن لوکپال بل کو جوں کا توں حمایت نہیں دے سکتی۔ کچھ مسئلوں پراتفاق تھا کچھ پر بالکل نہیں۔اور کچھ پر ہو بھی سکتا ہے۔ ہاں ایک بات پر تمام اپوزیشن میں اتفاق تھا کہ سرکاری لوکپال بل بالکل قابل قبول نہیں اور اسے سرکار کو واپس لے لینا چاہئے۔ بھاجپا سمیت کچھ پارٹیا چاہتی تھیں کہ سرکار اپنے لوکپال بل کو پوری طرح واپس لے اور ایک نیا مجوزہ لوکپال بل پیش کرے جس میں انا کے جن لوکپال بل کے کچھ اہم نکتوں کو بھی شامل کیا جائے۔ لیکن حکومت اور اس کی اتحادی پارٹی لوکپال بل واپس لینے کو تیار نہیں ہوئیں۔ میٹنگ میں این ڈی اے و لیفٹ پارٹیوں کے ساتھ والی9 پارٹیوں کے مورچے نے ایک بار پھر سیدھے طور پر سرکاری لوکپال بل کو مسترد کردیا۔ لیکن خاص بات یہ رہی کہ کسی بھی پارٹی نے پوری طرح سے انا ہزارے کے جن لوکپال کے حق میں رائے نہیں دی ہے۔ لوک سبھا میں اپوزیشن کی لیڈر سشما سوراج کا مطالبہ تھا کہ سرکار اپنے لوکپال بل کو واپس لے کر نیا پختہ بل لے کر آئے جس میں جن لوکپال بل کے کچھ شقوں کو شامل کرلیا جائے۔ یہ ایک غیر معمولی صورتحال بنی ہوئی ہے۔ ایسے وقت میں قاعدے اور دوسرے ضابطوں کو نظر انداز کرکے کوئی راستہ نکالا جاسکتا ہے۔ مارکسوادی لیڈر سیتا رام یچوری نے بھی موجودہ لوکپال بل کو بیکار قراردیا ہے۔ اجیت سنگھ نے سرکار سے موجودہ بل کو واپس لینے کی شرط رکھی۔ سپا پردھان ملائم سنگھ یادو نے بل کے خاکے پر ہی سوال کھڑے کردئے اور اپنی طرف سے اس میں کئی نئی باتیں جوڑنے کی مانگ رکھ دی۔ راشٹروادی کانگریس پارٹی کے لیڈر شرد پوار نے انا ہزارے کی پرانی تاریخ یاد دلائی۔ لیکن اسے کسی نے زیادہ توجہ نہ دی۔ شیو سینا کے منوہر جوشی نے نہ صرف انا ہزارے کی تعریف کی بلکہ انشن تڑوانے کی کوشش پر بھی زوردیا۔
جہاں تک نکتوں پر اتفاق رائے کا سوال ہے تو بدھوار کی دیر رات تک دونوں فریقین میں تنا تنی رہی۔ دن میں مرکزی وزیر قانون سلمان خورشید اور ٹیم انا کے تین ممبروں کیجریوال، پرشانت بھوشن، کرن بیدی نے بات چیت کی۔ ذرائع کے مطابق اس میں سات مسئلوں پر تعطل بنا رہا۔ اس کے بعد وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر چلی آل پارٹی میٹنگ میں بھی عام اتفاق رائے نہ ہوسکا۔ دیر رات وزیر خزانہ اور ٹیم انا کے تین ممبران کی بات چیت ہوئی اور یہ بھی ایک طرح سے بے نتیجہ ثابت ہوئی۔ اب جمعرات کو دونوں فریقوں میں بات چیت جاری رہ سکتی ہے لیکن تازہ خبر ہے کہ یہ بات ناکام ہوگئی ہے۔انا ہزارے نے اپنی طرف سے وزیر اعظم کو تین باتیں بھیجی ہیں جن پر غور کیا جارہا ہے اور اسے مستقبل میں اب سرکاری فریق سے بات چیت بھی کرنی چاہئے یا نہیں ؟ اب جن سات مسئلوں پر اختلاف قائم ہے وہ ہیں(1) لوکپال بل کی تشریح کیا ہو؟( 2)وزیر اعظم کو لوکپال کے دائرے میں لایا جائے؟( 3) بڑی عدلیہ کوبھی اس کے دائرے میں لایا جائے یا نہیں؟ (4) کیا پارلیمنٹ کے اندر ممبران کے برتاؤ اور ان کے رویئے کوبھی اس میں شامل کیا جائے یا نہیں؟(5) پوری افسر شاہی جس میں چھوٹی اور بڑی شامل ہیں کو لوکپال کے دائرے میں ہونا چاہئے یا نہیں؟( 6) ریاستوں میں لوک آیکت کے لئے قانون کے تحت انہیں کیا اختیار دئے جائیں؟ساتواں مسئلہ ہے کہ لوکپال کا عمل کیا ہو؟ میں نے اسی کالم میں دونوں فریقین کے ان مسئلوں پر موقف پہلے ہی قارئین کے سامنے رکھ دئے تھے۔ اس لئے انہیں دوہرانا نہیں چاہتا۔ اب آگے کیا ہوگا؟ ٹیم انا کو خطرہ ہے کہ انا کی گرتی صحت کی آڑ میں حکومت کسی وقت اپنی چال چل سکتی ہے۔ اس کے تحت انا کو رام لیلا میدان سے ہٹا کر ہسپتال میں بھرتی کرواسکتی ہے۔ اس بات کو بھی تقویت ملتی ہے کہ رام لیلا میدان میں پولیس ملازمین کی تعدا بڑھا دی گئی ہے۔ اگر انا کو ہسپتال لے جایا جاسکتا ہے تو یہ ان کی جان بچانے کے نام پر ان کو گلوکوس بھی دیا جاسکتا ہے۔ بدھ کو وزیر داخلہ پی چدمبرم کے اس بیان پر غور کریں کہ کسی بھی شخص کو اپنی جان دینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ لگتا ہے کہ انا کو بھی سرکار کے ارادے کی بھنک لگ گئی ہے اس لئے انا نے اپنے حمایتیوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا اگر سرکار انہیں اٹھا کر ہسپتال لے جائے تو وہ لوگ امن قائم رکھیں۔ توڑ پھوڑ کی کوئی حرکت نہ کریں اور اسی طرح پر امن تحریک جاری رکھیں، جیل بھریں۔ اگر جمعرات کو انا کا انشن اتفاق رائے سے ٹوٹنا ممکن نہیں ہوا تو زبردستی انا کو ہسپتال لے جایا جائے گا۔ وقت دونوں کے پاس نہیں ہے۔ دن بدن انا کی صحت بگڑے گی۔ بدھوار کو منموہن سنگھ سرکار کی چال کامیاب ہوگئی۔ اب یہ لڑائی انا بنام پارلیمنٹ ہوتی جارہی ہے۔ اب جو بھی آگے بات چیت ہوگی اس میں سرکار کو چاہئے کہ بڑی اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈروں کو بھی میٹنگ میں ساتھ بٹھائیں۔ تاکہ سب کا موقف ہرمسئلے پر صاف ہو۔ انا کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ ان کی لڑائی آئین کے خلاف نہیں سسٹم کے خلاف ہے۔ ایسے کسی نکتہ پر زور نہیں دینا چاہئے جو بھارت کے آئین کے خلاف جاتا ہو۔ اگر ایسا ہوا تو یہ لڑائی ایک نہایت خطرناک شکل اختیار کرسکتی ہے جو شاید خود انا بھی نہیں چاہیں گے۔
Anil Narendra, Anna Hazare, BJP, Congress, Corruption, Daily Pratap, Manmohan Singh, Vir Arjun

25 اگست 2011

اناکے جن لوکپال پر بھاجپا کا موقف کیا ہے؟


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily 
Published On 25th August 2011
انل نریندر
دیر سویر انا کے جن لوکپال بل پر پارلیمنٹ میں بحث ضرور ہوگی۔ ٹیم انا یہ سمجھ گئی ہے کہ مختلف سیاسی پارٹیوں کی حمایت انہیں ضرور چاہئے اس لئے ٹیم انا نے مختلف پارٹیوں کے ممبران پارلیمنٹ پر دباؤ بنانے کی حکمت عملی پر کام شروع کردیا ہے۔ جن لوکپال بل کی حمایت میں ہزاروں لوگوں نے دہلی سمیت دیش کے مختلف حصوں میں ممبران پارلیمنٹ اور مرکزی وزراء کے گھروں پر مظاہرے کئے ہیں۔ وزیراعظم منموہن سنگھ، وزیر انسانی وسائل ترقی کپل سبل، دہلی کی وزیر اعلی شیلا دیکشت،بھاجپا کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی، ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی و راج ناتھ سنگھ سبھی کے خلاف مظاہرے ہوئے ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی پارلیمنٹ میں بڑی اپوزیشن پارٹی ہے۔ آج تک بھاجپا نے یہ نہیں بتایا کہ وہ انا کے جن لوکپال بل کے ساتھ ہے یا نہیں؟ آئے دن یہ کہنے سے اب کام نہیں چلے گا کہ سرکاری لوکپال بل میں مختلف خامیاں ہیں۔ آپ جن لوکپال بل کی بات کریں اس میں آپ کو کیا کیا قبول ہے اور کیا نہیں؟ جو نہیں ہے وہ کیوں نہیں ہے؟ اور اس میں آپ کیا ترمیم چاہیں گے؟ سیدھے سوالات کا سیدھا جواب چاہئے انا کے حماتیوں نے سینئر بھاجپا لیڈر لال کرشن اڈوانی کو بھی گھیراؤ سے نہیں بخشا۔ پیر کی رات قریب 10 بجے ان کی رہائشگا ہ پر انا حمایتی پہنچے اپنے گھر کے باہر نعرے لگا رہے انا حمایتیوں سے کہا ’’ہم سرکار کے ذریعے پیش کردہ لوکپال بل سے خوش نہیں ہیں۔ یہ بہت ہی کمزورڈرافٹ ہے۔ اس کے دائرے میں وزیر اعظم نہیں آتے۔ اس وقت کرپشن شباب پر ہے۔ ہم سرکار کے اس بل کے حق میں قطعی حمایت نہیں کریں گے۔ انہوں نے نچلی عدالتوں کو لوکپال کے دائرے میں شامل کرنے کے معاملے میں کہا ان کی پارٹی اس موضوع پر غور کرنے کیلئے تیار ہے۔ اڈوانی نے کہا ہم صرف اتنا چاہتے ہیں کہ ایک مضبوط اور ایک بااثر لوکپال وجود میں آئے۔
بھاجپا راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر ارون جیٹلی نے ایک انٹرویو میں ان مسئلوں پر اپنے خیالات رکھے ہیں۔ سوال کیا آپ سول سوسائٹی کے جن لوکپال بل سے متفق ہیں؟ کیا وزیر اعظم اور عدلیہ لوکپال بل کے دائرے میں آنے چاہئیں؟ جواب دیکھے ۔۔۔ لوک پال کی تقرری میں سرکاری مداخلت اور دباؤ نہ ہو، تقرری کے لئے باقاعدہ ایک پائیدار اور آئینی مشینری ہو۔ اچھے اور مضبوط لوکپال کے لئے اس کی تقرری غیر جانبدار طریقے سے ہو یہ پہلی شرط ہے۔ قومی سلامتی کے اشوز کو چھوڑ کر وزیر اعظم لوکپال کے دائرے میں ہوں۔ یہ ہم پہلے ہی کہہ چکے ہیں۔ جہاں تک سوال ہے عدلیہ کا اس کے لئے قومی جوڈیشری کمیشن ہونا چاہئے جس کے ذریعے عدلیہ میں بدعنوانی پر کنٹرول مشینری بنے۔ ہم نے جو باتیں کہی ہیں وہ تنظیمی فیز گارڈ سے وابستہ ہیں۔ انا کے انشن کو تقریباً 9 دن گذر چکے ہیں اور بھاجپا نے ابھی تک جن لوکپال پر اپنے پتے نہیں کھولے؟ کہیں آپ بھی ان فیصلوں کی پوزیشن میں نہیں ہیں؟ جواب قطعی نہیں۔ لوکپال کے مسئلے پر جو اہم نکتے ہیں بھاجپا ان پر اپنی رائے سامنے رکھ چکی ہے۔ آل پارٹی میٹنگ کے بعد ہمارے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی اور صدر نتن گڈکری نے اس بارے میں کھل کر اپنی رائے رکھی تھی۔
بھاجپا کے دو ممبران پارلیمنٹ نے کھل کر جن لوکپال بل کی حمایت کی ہے۔ ان میں ایک ہیں ورون گاندھی دوسرے ہیں رام جیٹھ ملانی۔ ورون کا کہنا ہے کہ انا کا بل بطور پرائیویٹ بل لوک سبھا میں پیش کریں گے۔ راجیہ سبھا میں بھاجپا ایم پی رام جیٹھ ملانی نے بھی ٹیم انا کے بل کی حمایت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انا کے بل کو پوری طرح نظرانداز کرنا اب سیاستدانوں کے لئے ممکن نہیں ہے۔ جیٹھ ملانی جن لوکپال کی دو بڑی شقوں سے پوری طرح متفق ہیں۔ ان میں وزیر اعظم کو لوکپال کے دائرے میں لانا اور عدلیہ کو شامل کرنا خاص ہیں۔ قابل غور ہے کہ وزیر اعظم کو لوکپال میں لانے کا مطالبہ تو بھاجپا کرہی رہی ہے لیکن ججوں کے لئے وہ الگ ادارہ بنائے جانے کی حمایتی ہے۔ مگر جیٹھ ملانی کا خیال ہے کہ آئین کو پوری طرح سے نافذ کرنا ججوں کی تقرری جیسے اشوز پر شکایتیں دور کرنے کا سب سے کارگر طریقہ یہی ہے کہ انہیں بھی لوکپال کے دائرے میں رکھا جائے۔ وقت آگیا ہے کہ ٹیم انا اور جنتا چاہتی ہے کہ بھاجپا ہر نکتے پر اپنا موقف واضح کرے۔ چاہے پارلیمنٹ کے باہر یا پارلیمنٹ کے اندر۔

Anil Narendra, Anna Hazare, BJP, Daily Pratap, Lokpal Bill, Vir Arjun

ایک اور عرب ڈکٹیٹر کی بدائی


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily 
Published On 25th August 2011
انل نریندر
مصر کے تحریر چوک سے شروع ہوئی عوامی آندھی اب لیبیا تک پوری طرح پہنچ چکی ہے۔ تقریباً 42 سال تک لیبیا میں راج کرنے والے کرنل معمر قذافی کاوقت قریب آگیا ہے۔ پیر کو راجدھانی ترپولی کے زیادہ تر حصے پر لیبیائی باغیوں کا قبضہ ہوگیا ہے۔ باغی لڑاکوں نے قذافی کے بیٹے اور ایک طرف ان کے جانشین رہے سیف علی اسلام کو پکڑ لیا ہے۔ سیف اپنے والد کے ساتھ عالمی کرمنل عدالت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے الزامات کا سامنا کررہا ہے۔ نیٹو کی ترپولی اور آس پاس کے علاقوں میں بمباری جاری ہے۔ اس نے کہا ہے کہ جب تک قذافی حمایتی فوجی خود سپردگی نہیں کردیتے یا اپنے بیرک میں نہیں لوٹ جاتے تب تک بمباری جاری رکھی جائے گی۔قذافی لا پتہ ہیں کچھ کا کہنا ہے کہ وہ پڑوسی ملک الجزائر فرار ہوگئے ہیں یا ہوسکتا ہے کہ وہ کسی بنکر میں چھپے بیٹھے ہوں۔ قذافی کے اقتدار کی علامت ترپولی کے گرین چوک میں شہریوں کی خوشی منانے کے درمیان عالمی برادری نے لیبیائی لیڈرسے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اقتدار چھوڑدیں۔ امریکی صدر براک اوبامہ سمیت کئی دنیا کے لیڈروں نے پیر کے روز کہا کہ لیبیا میں مستقبل کی شکل میں معمر قذافی کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا تشدد کے خاتمے کا یہ طریقہ کافی آسان ہے۔ کرنل قذافی اور ان کے عہد کو یہ بات قبول کرلینی چاہئے کہ ان کے اقتدار کا خاتمہ ہوچکا ہے۔ برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ قذافی اب میدان چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں۔ قذافی کے پاس اقتدار میں بنے رہنے کا اب کوئی جواز باقی نہیں ہے۔
اس میں کوئی شبہ اب نہیں لگتا کہ پچھلے42 سالوں سے لیبیا کے اقتدار پر قابض قذافی کی حکومت اب ڈھے جانے کے دہانے پر کھڑی ہے۔ جہاں باغیوں کا یہ کہنا کہ اگر قذافی اقتدار چھوڑنے کا اعلان کردیں تو وہ اپنی کارروائی روک سکتے ہیں۔ وہیں قذافی ان کی پیشکش کو قبول کرنے سے پہلے ریڈیو پیغام کے ذریعے قبائلی لوگوں سے اپیل کررہے ہیں کہ وہ ترپولی آکر باغیوں سے جنگ کریں۔ ورنہ وہ فرانسیسی فوج کے خادم بن جائیں گے۔ ان کے اس قدم سے صاف ہے کہ وہ اب سمجھ چکے ہیں کہ ان کے دن گنے چنے رہ گئے ہیں۔ پچھلے برس دسمبر میں تیونس کے جیسمین انقلاب اور پھر مصر میں حسنی مبارک کے عدم تشدد تختہ پلٹ کے بعد لیبیا میں قذافی کے خلاف بغاوت غیرمتوقع نہیں تھی۔ دراصل ان کے خلاف باغی تو فروری میں ہی اپنی تحریک چھیڑ چکے تھے جسے انجام تک پہنچنے میں اتنا وقت لگا ہے کہ اس کے پیچھے لیبیا کی فوجی مشینری پر قذافی کی پکڑ کار پتہ چلتا ہے۔ محض27 سال کی عمر میں قذافی نے1969 میں راجہ ادیس کو بے دخل کرکے لیبیا کے اقتدار پر قبضہ کیا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب دنیا میں سوویت روس کی رہنمائی میں سامراج اور امریکہ کے سرمایہ داری نظام کے درمیان لڑائی چل رہی تھی تب نوجوان قذافی نے اپنی گرین بک کے ذریعے اقتدار کا نیا خاکہ پیش کیاتھا اور اسے نام دیا تھا ’’جمہاریہ‘‘ مگرصحیح معنوں میں لیبیا میں جمہوریت کبھی نہیں آئی۔ کیونکہ وہاں سیاسی پارٹیوں پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ جس نوجوان نے جمہوریت کا خواب دکھایاتھا وہ بعد میں برسوں تک اپنی تاریکیوں میں غرق ہوتا چلا گیا۔ یہ ہی نہیں ایک وقت تو ایسا بھی آیا جب قذافی نے امریکہ، فرانس وغیرہ ملکوں پر اسلامی جہادیوں کو حیران کرکھلی حمایت دی تھی۔ تبھی سے قذافی امریکہ اور مغربی ممالک کی آنکھ میں کانٹا بنا ہوا ہے۔آج اگر لیبیا میں باغی حاوی ہوگئے ہیں تو اس کے مغربی ممالک کو حمایت بھی ایک وجہ ہے۔ اس لئے اوبامہ نے قذافی سے کہا ہے کہ اب لیبیا میں ان کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ سوال یہ ہے قذافی کے بعد کیا ہوگا؟ لیبیا کے لئے یہ امتحان کی گھڑی ہے۔ اگر موجودہ حکومت چلی بھی گئی تو کیا نئے قانون سسٹم وہاں نافذ ہوپائیں گے یا پھر بدامنی کا ماحول پیدا ہوگا۔ سوال یہ بھی ہے کہ وہاں ایک نئے سرے سے حکومت قائم کرنے کی کوشش کی جائے گی یا بدلہ لینے پر زور دیا جائے گا؟ اس بات کی بھی کوئی گارنٹی نہیں کہ نئے سسٹم میں اسلامی کٹر پنتھی پوری طرح سے حاوی ہوجائے۔ جیسے دیگر عرب ممالک میں ہوا ہے۔ اتنا ہی نہیں یہ ڈر بھی موجود ہے کہ کہیں کرنل معمر قذافی کے ہٹنے کے بعد لیبیائی سماج بکھر نہ جائے۔ آنے والے کچھ مہینے لیبیا کے لئے کافی چیلنج بھرے ثابت ہوسکتے ہیں۔
America, Anil Narendra, Daily Pratap, Libya, Obama, USA, Vir Arjun

24 اگست 2011

ان اہم مسئلوں پر اختلاف کا جلد حل نکالنا ہوگا


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily 
Published On 24th August 2011
انل نریندر
 جیسا کہ میں نے کل قارئین کوبتایا تھا کہ جن لوکپال بل میں کیا ہیں اہم نکتے یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ حکومت اور ٹیم انا کے درمیان کن کن مسئلوں پر اختلاف پایا جاتا ہے۔ جنہیں بلا تاخیر حل کرنا ہوگا۔اس تعطل کو ہر حالت میں توڑنا ہوگا۔ سب سے بڑا اختلاف وزیر اعظم کو لوکپال بل کے دائرے میں لانے پر ہے۔ سرکاری لوکپال بل میں وزیر اعظم کو اس قانون کے دائرے سے باہر رکھا گیا ہے۔ جب وہ عہدہ چھوڑیں گے تب کرپشن کے الزامات کی جانچ لوکپال کرسکتا ہے۔ انا کی ٹیم اس کے لئے تیار نہیں۔ وہ کہتی ہے کہ وزیراعظم کو بھی لوکپال کے دائرے میں آنا چاہئے۔ اس پر وزیر اعظم کو پہل کرنی ہوگی۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ نے خود کئی بار یہ کہا ہے کہ وزیر اعظم کو اس کے دائرے میں ہونا چاہئے۔ 20 ستمبر2004 ء دہرہ دون میں آل انڈیا لوک آیکت اور ڈپٹی لوک آیکت کانفرنس میں شامل ہوتے ہے وزیر اعظم نے کہا ’’اس بات پر وسیع طور پر اتفاق رائے ہے کہ براہ راست یا غیر براہ راست طور پر عوام کے چنے نمائندوں کو لوکپال کے دائرے میں لایا جائے۔ اس میں پارلیمنٹ ، وزیر اور خود وزیر اعظم کا عہدہ بھی شامل ہو۔‘‘ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ لوکپال کی ضرورت اب پہلے سے کہیں زیادہ ہوگئی ہے۔ اس کے لئے وقت نہ گنوائیں۔ اس سمت میں کام کرنے کی ضرورت ہے۔ منموہن سنگھ نے آگے کہا تھا کہ متحدہ ترقی پسندمحاذ یا یوپی اے سرکار نے مشترکہ کم از کم پروگرام میں لوکپال بل لانے پر اتفاق رائے ظاہر کیا گیا ہے اور یہ اس لئے بھی ضروری ہے کیونکہ یہ بات عام طور پر تسلیم کرلی جاتی ہے کہ کرپشن کی ایک خاص وجہ عام زندگی میں شفافیت کی کمی ہے۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ کو اب اپنے وزرا کی پرواہ نہیں کرنی چاہئے۔ وہ کیا چاہتے ہیں ، اور ان سے جنتا کیا چاہتی ہے اس کی زیادہ پرواہ کرنی چاہئے اور خود سے اعلان کردینا چاہئے کہ لوکپال کے دائرے میں وزیر اعظم، وزیر اور پارلیمنٹ سبھی آئیں گے۔ دوسرا بڑا اختلاف عدلیہ کو لیکر ہے۔ سرکار کا موقف ہے کہ عدلیہ میں اصلاحات کے لئے ہم الگ سے قانون لا رہے ہیں اس لئے جوڈیشیری کو ان جن لوکپال بل میں شامل نہیں کرنا چاہئے۔ حالانکہ انا چاہتے ہیں کہ عدلیہ بھی اس میں شامل ہو لیکن میری رائے میں انا کو اس اشو کو ترک کردینا چاہئے اور جوڈیشری کے لئے مجوزہ اصلاحات قانون کی حمایت کردینا چاہئے۔ ایک اختلاف سی بی آئی اور سی بی سی کس کے ماتحت ہو اس کو لیکر ہے۔ ٹیم انا چاہتی ہے سی بی آئی ہر حالت میں لوکپال کے دائرے میں ہو۔ سرکار اس کے لئے تیار نہیں۔ یہ ایک بہت اہم اشو ہے۔ اس میں کوئی ایسا بیچ کا راستہ نکل سکتا ہے کے سی بی آئی اور سی بی سی مختار ہو اور سرکار کے ماتحت نہ ہو۔ سرکار اس کے کام کاج میں مداخلت نہ کرسکے۔ ایک اشو پارلیمنٹ کے اندر ممبران پارلیمنٹ کا برتاؤ۔ جن لوکپال بل میں ممبران پارلیمنٹ کا ایوان کے اندر کا برتاؤ بھی دائرے میں آئے گا جبکہ حکومت نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ میں ممبران کا برتاؤ لوکپال کے دائرہ اختیار میں نہیں آئے گا۔ البتہ پارلیمنٹ سے باہر کے کاموں پر لوکپال جانچ کرسکتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس پر ٹیم انا کو سرکار کی بات مان لینی چاہئے۔ ہندوستان کا آئین بھی ممبران کو پارلیمنٹ کے اندر جو کچھ ہوتا ہے اس سے پروٹکٹ کرتا ہے ،سپریم کورٹ نے بھی یہ مانا ہے۔ اس لئے اس پر انا کو سمجھوتہ کرلینا چاہئے۔ ایک بڑا اختلاف افسر شاہی کو لیکر ہے۔سرکار چاہتی ہے گروپ اے سے نیچے کی افسرشاہی جانچ کے دائرے سے باہر ہو ۔ اس کے لئے الگ سسٹم ہوگا۔ اوپر کے افسران کی جانچ لوکپال کرسکتا ہے۔ جن لوکپال میں پوری افسرشاہی شامل ہے۔ چاہے وہ مرکز کی ہو یا ریاستی حکومتوں کی۔ اپر سکریٹری اور اس سے اوپر کے سطح کے افسران کے خلاف شکایتوں کی جانچ کا اختیار جن لوکپال کے دائرے میں ہے اس میں سرکار کو نرم ہونا پڑے گا۔ زیادہ تر عوام نچلی افسر شاہی سے پریشان ہے۔ کرپٹ افسروں کو سزا دینے کی شق میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ لوکپال کرپٹ سرکاری ملازمین کے خلاف اسپیشل عدالت میں مقدمہ کرسکے گا۔ ساتھ ہی حکومت کو ڈسپلنری کارروائی کی سفارش کرنے کا بھی حق ہونا چاہئے۔ جانچ کے بعد سرکار ضرورت پڑنے پرملازم کو برخاست کرسکے گی۔ اگر کارروائی نہیں کی گئی تو لوکپال کو اس کا سبب بتانا ہوگا۔ جانچ کے دوران ملازم کو لوکپال کی سفارش پر ملازم کا تبادلہ یا معطلی کے اختیار پر سرکار کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔ اگر اسپیشل عدالت میں ملازم ملزم پایا جاتا ہے تو قانون اپنا کام کرے گا۔ مرکز میں لوکپال کے طرز پر لوک آیکت قانون کے لئے ریاستوں کو ماڈل کی شکل میں اس بل کو بھیجا جاسکتا ہے۔ ٹیم انا کو یہ پوزیشن قابل قبول ہونی چاہئے کیونکہ آئین ریاستوں کو کئی اختیار دیتا ہے اور مرکز اپنے سارے قوانین ریاستوں پر نہیں تھونپ سکتا۔ حکومت نے کرپشن کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو سرپرستی دینے والوں کے لئے الگ سے بل پیش کیا ہے۔ بل میں الگ سہولت دینے کی ضرورت نہیں۔ شکایت کے جھوٹی یا فرضی نکلنے پر سزا کو کم کرنے پر غور کیا جاسکتا ہے۔ لوکپال بل کے مسودے میں آزادانہ جانچ سسٹم کا انتظام کیاگیا ہے تب تک سی بی آئی و دیگر متعلقہ ایجنسیوں سے افسران کی خدمات سونپی جا سکتی ہیں اس پر رائے بنانے کی کوشش ہونی چاہئے۔ ایک مقررہ میعاد میں (6 مہینے ) میں حکومت ایک آزاد انکوائری ایجنسی قائم کردے گی۔ جس کے ماتحت سی بی آئی ، سی بی سی آ سکتی ہیں۔ ایک بڑا اختلاف لوکپال میں کون کون ہوگا اس پر بھی ہے۔ جن لوکپال بل میں اس کے لئے دو مرحلے کی کارروائی ہے۔ایک تفتیشی کمیٹی ان میں10 ممبران کا سلیکشن ہوگا ان میں سے پانچ بھارت کے چیف جسٹس ،چیف الیکشن کمشنر، کمپٹرولر آڈیٹر جنرل نہیں لئے جائیں گے اور یہ پانچ ممبر سول سوسائٹی سے چنے جائیں گے۔ سرکاری بل میں ایک آسان پروسیس ہے۔ سلیکشن کمیٹی نے وزیر اعظم ، اپوزیشن لیڈر( دونوں ہاؤس کے) ایک سپریم کورٹ کے جج، ہائی کورٹ کا ایک جج اور ایک جانے مانے ماہر عدلیہ اور سماج کی ایک نامور شخصیت۔ یہ ایک ایسا اشو ہے جس پر غور کیا جانا ضروری ہے۔ اس کے لئے دونوں فریق تین مہینے کا وقت لے سکتے ہیں تاکہ یہ پروسیس طے ہوسکے۔
باقی اشو تو اور بھی ہیں لیکن میں نے اپنی سمجھ سے اہم اشوز کو یہاں لیا ہے۔ میں کوئی ماہر نہیں ہوں ہوسکتا ہے کہ میں پوری طرح سے صحیح بھی نہ ہوں۔ لیکن میری کوشش یہ ہے کہ سمجھوتہ ہونا چاہئے اور بھی جلد۔ اس کے لئے بیچ کا کوئی راستہ نکالنا ہوگا۔ دونوں فریقین کو اپنا موقف نرم کرنا ہوگا۔ یہ تعطل اب زیادہ دن تک نہیں چل سکتا۔ ہرگذرتا دن نہ تو دیش کے لئے اچھا ہے اور نہ ہی ٹیم انا کیلئے اور نہ حکومت کے لئے۔
 Anil Narendra, Anna Hazare, Daily Pratap, Lokpal Bill, Vir Arjun

کہاں چھپے بیٹھے ہیں راہل گاندھی؟


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily 
Published On 24th August 2011
انل نریندر
اس میں کوئی شبہ نہیں کے انا ہزارے ایک بہت ہمت اور پختہ عزم کے انسان ہیں ۔ جو ٹھان لیتے ہیں وہ کر کے ہی ہٹتے ہیں۔ ان کی بھوک ہڑتال کو آج آٹھ د ن ہوچلے ہیں۔ انا کے وزن میں پانچ کلو کی گراوٹ آچکی ہے اور یہ آگے بھی جاری رہ سکتی ہے لیکن ان کا حوصلہ قائم ہے۔ انا نے بتایا کہ 2007 میں انہوں نے پنے کے نزدیک سنت گیانیشور کی سمادھی کے پاس 12 دن تک انشن کر آر ٹی آئی کے خاتمے کی حکومت کی کوشش کو ناکام بنادیا تھا۔ لیکن یہ چار سال پہلے کی بات ہے۔ عمر کا بھی تقاضہ ہے۔ انا کی صحت کی اب سبھی کو فکر ہونی شرو ع ہوگئی ہے۔ وقت اب نہ تو انا کی ٹیم کے پاس زیادہ ہے اور حکومت کے پاس تو بالکل نہیں۔ اگر انا کی صحت بگڑ گئی تو برا ہوسکتا ہے۔ جسے اس حکومت کے لئے سنبھالنا مشکل پڑ جائے گا۔ مجھے سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ انا اور حکومت کے درمیان آئے اس ڈیڈ لاگ کو آخر کوئی توڑنے کی کوشش کیوں نہیں کررہا؟ غیرمصدقہ ذرائع کا کہنا ہے روحانی پیشوا میوجی مہاراج اور مہاراشٹر حکومت کے ایڈیشنل سکریٹری امیش سارنگی نے رام لیلا میدان آکر انا سے بات چیت کی۔ میوای مہاراشٹر سے تعلق رکھتے ہیں۔ مہاراشٹر کے بڑے سیاستدانوں کے روحانی گورو ہیں۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ کیونکہ انا بنیادی طور سے مہاراشٹر کے باشندے ہیں اس لئے ممکن ہے کے مہاراشٹر کے سرکردہ کانگریسی شرد پوار ، سشیل کمارشنڈے، ولاس راؤ دیشمکھ بھی حکومت کی طرف سے انا کو منانے کی کوشش کریں گے۔ لیکن میری رائے میں سب سے بہتر شخص کانگریس جنرل سکریٹری راہل گاندھی تھے۔ راہل گاندھی کے پاس سنہرہ موقعہ تھا لیکن وہ چوک گئے۔
یہ دکھ کی بات ہے کہ انا کی تحریک پر راہل گاندھی نے خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ اگر راہل گاندھی انا ہزارے کی تحریک کو لیکر کسی فیصلہ کن ثالث کے کردار میں سامنے نہیں آئے اور یوں ہی منہ چھپاتے رہے تو بلا جھجھک کہا جاسکتا ہے کہ حالیہ دنوں میں ان کی تمام سیاسی کوششیں مستقبل میں نتیجوں کے معاملے میں صفر ثابت ہوسکتی ہیں۔ جنہیں ذرا بھی سیاسی سمجھ ہے وہ جانتے ہیں کہ اس وقت دیش کس طرح انا کی تحریک میں شرابور ہے اور نوجوان لوگوں کو بھی سینکڑوں سوال پوچھنے ہیں۔ ایسے میں راہل گاندھی جو خود حالیہ دنوں میں جن وادی قسم کی سیاست کرتے ہوئے نظر آئے ہیں ، جو حالیہ دنوں میں اترپردیش سے لیکر مہاراشٹر تک کے کسانوں کے ہتیشی اور خیر خواہ اور رہنما بن کر سامنے آئے ہیں، وہ اس پوری تحریک میں اگر غیر جانبدار بنے رہنے کی کوشش کرتے ہیں تو دیش کی عوام ان کی علیحدگی کو شاید قبول ہی کرے۔ جو غیر جانبدار ہیں وقت بتائے گا اس کا بھی تاریخ راہل گاندھی کو اچھی طرح سے سمجھ لینی چاہئے اگر انہیں 2014 ء کے بعد وزیر اعظم بننے کی اپنی سیاسی خواہشات کو عملی جامہ پہنانے ہے تو انہیں دیش کے برننگ اشوز پر سامنے آنا ہی ہوگا۔ دیش کو ان کے موقف کا پتہ ہونا چاہئے کیونکہ جو شخص دیش کا خیر خواہ بننے کی کوشش کررہا ہوں ، جو موجودہ دور میں کسانوں اور عام لوگوں کا سب سے بڑا ہتیشی بن کر سامنے آرہا ہوں وہ دیش کی ایسی تحریک کو بھلا نظرانداز کیسے کرسکتا ہے۔ جو عام لوگوں کے موجودہ اور مستقبل دونوں کو طے کرتا ہو ۔ اگر اترپردیش میں اسمبلی چناؤ میں پوری خود اعتمادی کے ساتھ راہل گاندھی کو اترنا ہے تو انہیں انا کی تحریک میں اپنا موقف صاف کرنا چاہئے اور بلا تاخیر بیچ میں کودنا چاہئے۔ انہیں پوری کوشش کرنی چاہئے کہ وہ اس تعطل کو توڑیں اور دیش کو بچائیں۔ انہیں یہ صاف کرنا چاہئے کہ وہ جنتا کے ساتھ ہیں ، ہٹھ دھرمی اور غرضی لیڈروں کے ساتھ نہیں۔
 Anil Narendra, Anna Hazare, Congress, Corruption, Daily Pratap, Rahul Gandhi, Vir Arjun

23 اگست 2011

آخر کس جن لوکپال بل کیلئے جنتا سڑکوں پر آئی ہے


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily 
Published On 23rd August 2011
انل نریندر
انا ہزارے کو بھوک ہڑتال پر بیٹھے سات دن گذر گئے ہیں۔ ابھی تک ان کی طبیعت ٹھیک ہے لیکن جیسے جیسے وقت گذرتا جارہا ہے ایک خطرہ بھرا وقت آنے والا ہے۔حالانکہ انا نے ایک بار پہلے 18 دن کی بھوک ہڑتال کی تھی لیکن اب وہ 74 سال کے ہوگئے ہیں اور ان کی صحت کو روزمرہ اب خطرہ بڑھے گا۔ اس لئے ان کے مطالبات کا حل جلد ہی نکالنا چاہئے۔ ؔ نے والے تین چار دن کافی اہم ہوسکتے ہیں۔ اگر انا کو کچھ ہوگیا تو حالات بے قابو ہوسکتے ہیں۔ اس صورت میں کچھ بھی ہوسکتا ہے اس لئے سرکار کے پاس اب زیادہ وقت نہیں ہے۔ اسے بہت جلد حل نکالنا ہوگا۔ سرکار کو دراصل سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ وہ کرے تو کرے کیا۔ ایک طرف نویں کلاس پاس انا ہزارے دوسری طرف سرکار کے اعلی تعلیم یافتہ اور دنیا دیکھے وزرا کی فوج ۔ اگر انا کے سیدھے سادھے جذبات ہارورڈ یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ وزیر مسٹر کپل سبل اور مسٹر پی چدمبرم جیسے چالاک اور سمجھ رکھنے والوں کی بھیڑ کو نہیں سمجھ میں آرہا ہے کہ انا کا کیا کریں۔ پوری سرکاری مشینری اپنی دلائل کے مزائل داغ داغ کر ہلکان ہوتی جارہی ہے لیکن 74 سالہ بزرگ کے دل کو سیدھے چھونے والے سچے جذباتوں پر اثر بھی نہیں پڑتا۔
آخر ایسا کیا ہے۔ ایک کم تعلیم یافتہ اور گاؤں کے پس منظر میں زندگی گذارنے والے بزرگ کی بات نہ صرف ریڑی والوں اور درمیانے طبقوں کو سمجھ میں آتی ہے بلکہ ان کی ایک اپیل پر انجینئر اور مینجمنٹ اور کارپوریٹ یا ڈاکٹروں کی تعلیم حاصل کررہے کالج کے طالبات و طلباء ان کی حمایت میں سڑکوں پر اتر آتے ہیں۔ چدمبرم ، سبل اور سلمان خورشید جیسے ہوشیار اور ہارورڈ یونیورسٹی سے ڈگری یافتہ وزیر اور کانگریس کے اعلی تعلیم یافتہ ترجمان اور نیتاؤں کی فوج کے تمام دلائل کو یہ بزرگ ایک لائن میں مسترد کردیتا ہے۔ سرکاری دلائل اور تمام قلع بندی کو ایک جھٹکے میں یہ کہہ کر انا اڑا دیتے ہیں کہ جنتا بالاتر ہے پارلیمنٹ نہیں۔ وہاں بیٹھے لوگ چن کر نہیں آئے بلکہ ہم نے ان کو چن کر بھیجا ہے۔
سنیچر کی شام میں اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ رام لیلا میدان گیا تھا۔ وہاں کا ایک نظارہ دیکھنے لائق تھا۔ ٹی وی پر دیکھنے اور وہاں موجود ہونے میں فرق پڑتا ہے۔ ویسے بھی ہر دیش واسی کا فرض ہے اور خاص طور پر دہلی والوں کا وہ ایک بار رام لیلا میدان جائیں اور یہ کسی دوسرے طریقے سے انا کی حمایت کریں۔ جب ہم اندر گھسے ہی تھے تو سامنے سے ایک غیر ملکی آرہا تھا۔ اس کے ساتھ ایک بوڑھی عورت تھی۔ میں نے انہیں روک لیا اور پوچھا کے آپ یہاں کیسے؟ اور کہاں سے آئے ہیں ؟ اس نے جواب دیا کہ میں جرمنی سے ہوں اور ہم (میں اور میری ماں) انا ہزارے کی حمایت کرنے کے لئے آئے ہیں۔
جدھر بھی نظر گھماؤ ’میں انا ہی ہوں‘ کی گاندھی ٹوپیاں نظر آرہی تھیں۔ میرا خیال ہے کہ جتنی گاندھی ٹوپیاں انا کی تحریک میں نظر آئیں اتنی شاید گاندھی جی کے ستیہ گرہ میں بھی نہیں دیکھی گئی ہوں گی۔ ایک نوجوان لڑکی سے میں نے پوچھا کہ آپ انا کو کیوں حمایت کررہی ہیں؟ اس کا جواب تھا کہ وہ (انا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) 74 برس کے ہیں آخر وہ لڑائی کس کی لڑ رہے ہیں؟ ایک نوجوان ہمیں ایسا ملا جس نے اپنے سارے بال کٹوا لئے تھے بس بالوں سے صرف انا ہی لکھا ہوا تھا۔ ایک آدمی پولیو کا مریض تھا جو بیساکھی کے سہارے انا کی حمایت میں نعرے لگا رہا تھا۔ ایک خاتون اپنے چھوٹے سے بچے کے ساتھ آئی تھی ۔ اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا ترنگا تھا میں نے لڑکے سے پوچھا کیا آپ کو جن لوکپال کے بارے میں پوری واقفیت ہے؟ اس نے کہا کہ میں اتنا جانتا ہوں کہ انا بدعنوانی کے خلاف لڑرہے ہیں اور میں اسی لئے انہیں حمایت دے رہا ہوں۔ مجھ سے کئی قارئین نے پوچھا کہ آخر انا کا جن لوکپال بل ہے کیا؟ میں ابھی قارئین کی جانکاری کے لئے انا کے ذریعے تیار کردہ جن لوکپال کی دفعات اور شقوں کو سامنے رکھ رہا ہوں۔
سب سے پہلے کون چنے گا لوکپال ۔ لوکپال کا چناؤ وزیر اعظم ، اپوزیشن لیڈر، سپریم کورٹ کے سب سے کم عمر کے دو جج ، سب سے کم عمر کے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، بھارت کے کمپٹرولر آڈیٹرجنرل اورچیف الیکشن کمشنر کریں گے۔ لوکپال بل کی خاص دفعات یہ ہیں۔ اس کے تحت مرکز میں لوکپال ریاستوں میں لوک آیکت کی تشکیل ہوگی۔ یہ ادارہ چناؤ کمیشن اور سپریم کورٹ کی طرح سرکار سے آزاد ہوگا۔ کسی بھی مقدمے کی جانچ ایک سال کے اندر پوری ہوگی۔ سماعت اگلے ایک سال میں پوری ہوگی۔ یعنی کسی بھی کرپٹ نیتا یا افسر یا جج کو دو سال کے اندر جیل بھیجا جاسکتا ہے۔ کرپشن کی وجہ سے سرکار کو جو نقصان ہوا ہے، جرائم ثابت ہونے پر اسے قصوروار سے ہی وصولا جائے گا۔ اگر کسی شہری کا کام وقت پر نہیں ہوتا تو لوکپال قصوروار افسر کو جرمانہ لگائے گا، جو شکایت کرنے والے کو معاوضے کے طور پر ملے گا۔ لوکپال کے ممبر کا انتخاب جج، شہری اور آئینی ادارے مل کر کریں گے۔ لوکپال کو چننے کے عمل میں سرکار کا کوئی دخل نہیں ہوگا۔ لوکپال یا لوک آیکت کا کام کاج پوری طرح شفاف ہوگا۔لوکپال کے کسی بھی ملازم کے خلاف شکایت آنے پر اس کی جانچ دو مہینے میں پوری کر اسے برخاستک ردیا جائے گا۔سی بی سی ، ویجی لنس محکمہ اور سی بی آئی کو اینٹی کرپشن محکمے کو لوکپال میں ہی ملا دیا جائے گا۔
لوکپال کے پاس کسی بھی کرپٹ جج یا نیتا ،افسر کے خلاف جانچ کرنے اور مقدمہ چلانے کے لئے پورا اختیار اور سسٹم ہوگا۔ بدعنوانی کے خلاف آواز اٹھانے والوں کی سبھی طرح سے سکیورٹی لوکپال ہی کریں گے اور اگر آپ کا راشن کارڈ ، ووٹر کارڈ یا پاسپورٹ وغیرہ مقررہ وقت کے اندر نہیں بنتا ہے یا پولیس آپ کی شکایت درج نہیں کرتی تو آپ اس کی شکایت لوکپال سے کرسکتے ہیں۔ اسے یہ کام ایک مہینے کے اندر کرنا ہوگا اور کسی بھی طرح کے بدعنوانی کی شکایت لوکپال سے کرسکتے ہیں۔ جیسے راشن کی کالا بازاری، سڑک بنانے میں عمدگی کو نظر انداز کرنا، پنچایت یا فنڈ یا دوسرے مدوں کے پیسے میں خورد برد وغیرہ وغیرہ۔
آخر میں ایک دلچسپ رپورٹ۔ دہلی پولیس کا دعوی ہے کہ انا ہزارے کا اثر کرمنل برادری پربھی چھایا ہوا ہے۔ یقین کریں کہ جب سے انا کی تحریک شروع ہوئی ہے دہلی کے کرائم ریٹ میں گراوٹ آئی ہے۔ دہلی پولیس کے اعدادو شمار بتاتے ہیں کے پچھلے ہفتے میں دہلی میں کرائم شرح میں75 فیصدی گرافٹ آئی ہے۔ جس شہر میں اوسطاً کم سے کم 7 سنگین قسم کے جرائم ہوتے ہیں وہاں ایک بھی آبروریزی، قتل کی واردات نہیں ہوئی ہے۔ یہ انا ہی کا کمال ہے۔
 Anil Narendra, Anna Hazare, Corruption, Daily Pratap, Lokpal Bill, Ram Lila Maidan, Vir Arjun

21 اگست 2011

join DAILY PRATAP on FACEBOOK

Hello,
sign up for facebook on below link, once you join you will recived latest news and views
-------------------------------------------------------------------------------
Visit  https://www.facebook.com/pages/Daily-Pratap-Urdu-Newspaper/257067407650404  for news updates of the day.
Read and share Daily Pratap on facebook
Thanks and Regards,
Daily Pratap Team

سونیا گاندھی کی کمی دور کرنے کیلئے راہل گاندھی کی تاجپوشی


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily 
Published On 21st August 2011
انل نریندر
برطانیہ کے مقبول ہفت روزہ اخبار 'ایکونومسٹ' نے لکھا ہے کہ راہل گاندھی کی وزیر اعظم کے طور پر تاجپوشی اور جلدی ہوسکتی ہے اس کے مطابق سماجی رضاکار انا ہزارے کی بدعنوانی مخالفت تحریک نے وزیراعظم منموہن سنگھ کی حکومت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایسے میں اب یہ امکان ہے کہ کانگریس جنرل سکریٹری راہل گاندھی کو جلد ہی یہ عہدہ سونپ دیا جائے۔ انا ہزارے کی تحریک کے بارے میں اخبار نے لکھا ہے کہ سونیا گاندھی کی بیماری کے سبب حکمران کانگریس پارٹی کی مشکلیں بڑھ گئی ہیں۔ اس بارے میں شبہ بنا ہوا ہے کہ سونیا گاندھی کب تک وطن واپس لوٹیں گی۔ یہ بھی خیال ہے کہ کانگریس بکھر رہی ہے۔ جن لوک پال تحریک کی چوطرفہ مشکلوں میں گھری یوپی اے سرکار کو ہی نہیں بلکہ کانگریس کو بھی اس نازک سیاسی بحران میں سونیا گاندھی کی کمی محسوس ہورہی ہے۔ انا کے ستیہ گرہ کے سامنے حکمراں سرکار کے ہر داؤ پیچ ناکام ہونے کے بعد لیڈر شپ کے حکمت عملی سازوں کو لیکر پارٹی کے اندر ہی سنکٹ کے سوال اٹھنے لگے ہیں۔ انا کے مسئلے پر مرکزی سرکار اور کانگریس پارٹی کی حکمت عملی مسلسل بکھررہی ہے۔ سرکار کو یہ معلوم نہیں ہے آگے کیا کرنا ہے تو پارٹی کو نہیں پتہ کہ آگے کیا کرنا ہے؟ پچھلے ایک ہفتے میں پارٹی کا سرکاری چہرہ بن کر لوگوں کے سامنے پارٹی کی دلیل پیش کرنے آئے ترجمانوں نے قومی و بین الاقوامی سطح پر بیحد اہم بن چکے انا معاملے پر جس ہلکے انداز میں پارٹی کے یا سرکار کے موقف کو رکھا ہے وہ چونکانے والا ہے۔ پہلے منیش تیواری کا انا کو بدعنوان کہنااس کے بعد بدھوار کو راشد علوی کا الزام کے انا کی تحریک میں امریکہ کی شے شامل ہے۔ پھر جمعرات کو پارٹی کی نئی ترجمان رینوکا چودھری کی خاموشی پر یہ بیان آیا کہ وہ طوطا نہیں ہیں کہ جب میڈیا چاہے وہ بولیں۔ رینوکا نے کہا کہ راہل کو بھی اظہار رائے کی آزادی ہے۔ وہ جب چاہیں گے تب بولیں گے۔ حکمت عملی کے طور سے کئی مسئلوں پر پارٹی کی سمت صاف نہیں ہو پارہی ہے۔ مرکزی سرکار کے وزیر آپس میں بٹے ہوئے ہیں۔ انا کے مسئلے پر وزیر داخلہ پی چدمبرم اور مرکزی وزیر کپل سبل کی راہ بھلے ہی ایک جیسی ہو لیکن کئی وزرا کا خیال ہے کہ حالت سے ٹھیک طرح سے نہیں نپٹا جارہا ہے۔ سرکار چاہتی ہے کہ انا ٹیم سے بات ہو لیکن بابا رام دیو مسئلے پر تلخ تجربے کے بعد خود سرکار کی جانب سے پہل کرنے سے گریز کیا جارہا ہے۔ حالانکہ سوامی اگنی ویش کے ذریعے پردے کے پیچھے سے انا کو منانے کا کام سلمان خورشید سمیت کچھ وزیر غیر رسمی طور پر کررہے ہیں۔ مرکزی حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے انا کے رام لیلا میدان میں انشن شروع ہونے بعد سرکار اب کیا کرے گی اسے لیکر شش و پنج بنا ہوا ہے۔ ممکنہ متبادل میں صحت کے بہانے انا کا انشن تڑوانے کی حکمت عملی بھی رکھی گئی ہے۔ بھاری بھیڑ انشن کی جگہ پر اکٹھے لوگوں کی وجہ سے ٹیم انا کو آگاہ کیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود انا کا اڑیل رویہ حکومت کے لئے پس کرنے والا نہیں ہے۔سرکار اور کانگریس اروند کیجریوال کو بھی سمجھوتے کا راہ میں سب سے روڑا مانتے ہیں۔
انا کی چنوتی سے نمٹنے کے لئے وزیر اعظم منموہن سنگھ اور پارٹی جنرل سکریٹری راہل گاندھی کے بیچ جاری بات چیت کے باوجود یہ سوال اٹھنے لگا ہے کہ آگے کیا کریں گے۔ یوپی اے کی سیاسی چنوتیوں کا سامنا کرنا بیحد مشکل لگرہا ہے۔ شاید ان سیاسی مشکلوں کے دباؤ کا ہی اثر ہے کہ منموہن سنگھ اور راہل گاندھی کے پوری طرح سے کمان سنبھالنے کے بعدبھی کانگریس نے اس موقعے پر سونیا کی کمی محسوس کرنے کی بات بے باکی سے قبول کرلی ہے۔ رینوکا چودھری نے جمعرات کو کانگریس کے بارے میں اندرونی رسہ کشی کو بھی تسلیم کیا ہے۔مشکلوں میں گھری سرکار کے فلپ فلاپ کی وجہ کیا سونیا گاندھی ہیں کہ سوال پر جواب تھا بلا شبہ ہمیں کانگریس صدر کی کمی محسوس ہورہی ہے ہم ان کی جلد صحت یابی کی کامنا کرتے ہیں اور ان کے جلد لوٹنے تک ہم اپنی طرف سے اچھے سے اچھا کرنے کی کوشش کریں گے۔ ان سب باتوں سے تو یہ ہی لگتا ہے کہ راہل گاندھی کی تاجپوشی جلدہونے والی ہے۔
Anil Narendra, Anna Hazare, Congress, Corruption, Daily Pratap, Lokpal Bill, Rahul Gandhi, Sonia Gandhi, Vir Arjun

بھارت ہی نہیں ساری دنیا میں انا کا ڈنکا



Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily 
Published On 21st August 2011
انل نریندر
فوج سے ریٹائرڈ ہوئے ایک جوان نے کبھی تصوربھی نہ کیا ہوگا کہ ایک دن وہ سارے دیش میں اس قدر چھا جائیں گے۔انہیں لوگ دوسرا گاندھی کہیں گے۔ جی ہاں میں انا ہزارے کی بات کررہا ہوں۔انا نے کبھی یہ تصور بھی نہیں کیا ہوگا کہ ایک دن انہیں نہ صرف بھارت کا بچہ بچہ جان جائے گا بلکہ پوری دنیا ان کی طاقت کو سلام کرے گی۔ مشن نیک ہو ،پختہ عزم ہو اور میڈیا کی پوری طاقت لگ جائے تو آدمی ہی مہاتما کا درجہ پا لیتا ہے۔ آج انا ہزارے کی حمایت صرف بھارت میں ہیں نہیں بلکہ امریکہ، برطانیہ، پاکستان تک میں پھیل چکی ہے۔ بدعنوانی انسداد بل ''جن لوکپال '' بل کی حمایت میں انشن کی اجازت نہ دے رہی مرکز کی یوپی اے سرکار ک جھکنے کیلئے مجبور کرنے والے مشہور گاندھی وادی رضاکار انا ہزارے کی دنیا بھر میں بحث چھڑی ہوئی ہے۔ امریکہ کی نامور میگزین ٹائم نے اپنی ویب سائٹ پر اس مسئلے کو کافی ترجیح دیتے ہوئے لکھا ہے کہ بدعنوانی کی مخالفت کررہے ایک سماجی رضاکار نے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کو گھٹنے کے بل جھکنے کے لئے مجبور کردیا ہے۔جریدے ٹائم نے لکھا ہے سماجی رضاکار انا ہزارے نے 15 دن کا انشن شروع کرنے کی اجازت ملنے کے بعد بدھ کی رات جیل سے باہر آنے پر رضامند ہوگئے۔یہ سمجھوتہ حکومت کے بھروسے کو پھر سے قائم کرنے کیلئے ہوسکتا ہے موزوں نہ ہو۔ کیونکہ جنتا نے بڑھتی مایوسی اور بدعنوانی سے نمٹنے کی اپنی کوششوں کے تئیں اور مہنگائی سے لڑ رہی ہے۔ امریکہ کے ایک اور نامور اخبار دی نیویارک ٹائمس نے انا اور پولیس کے درمیان انشن کولیکر ہوئی رضامندی کو پہلی خبر بنایا ہے۔ اخبار نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ مظاہرہ کررہے انا اور پولیس کے درمیان ایک اتفاق رائے نہیں بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا جمعرات کی صبح انا کے جیل چھوڑنے اور بدعنوانی کے خلاف انشن کیلئے اجازت مل گئی ہے۔ امریکہ کے ایک اور جریدے وال اسٹریٹ نے لکھا ہے کہ گاندھی وادی رضاکار انا کی حمایت بھارت کی جنتا بھلے ہی سڑکوں پر اترآئی ہے لیکن اس کا موازنہ ارب دنیا میں ہوئی بغاوت سے نہیں کیا جاسکتا۔ اخبار نے لکھا ہے کہ بدعنوانی سے اب تنگ آچکے لوگوں کا سڑکوں پر اترنا اور ووٹنگ کی طرح بھارت کے استحکام اور زندہ دل جمہوریت کا حصہ ہے جبکہ ارب دنیا میں زیادہ تر عوامی بغاوت میں اقتدار کی مکمل تبدیلی پر زور دیا گیا ہے۔سماجی رضاکار انا ہزارے کو نئے گاندھی سے تشبیہ دیتے ہوئے برطانوی میڈیا نے ان کی تحریک کو غیر معمولی طور پر کامیاب قراردیا ہے لیکن بدعنوانی کی روک تھام کیلئے سپر مین جیسی اتھارٹی کے خلاف وارننگ دی ہے۔ دی ڈیلی ٹیلی گراف نے سرخی جمائی ہے ''ایک نیاگاندھی'' ٹیلی گراف کی پیٹرک فرنچ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انا ہزارے کی غیر معمولی طور سے کامیاب مہم ۔اس گاندھی وادی نیتا نے اپنی بھوک ہڑتال سے حکومت کو الجھن میں ڈال دیا ہے۔اخبار نے ہندوستانی عدلیہ ،سیاست اور سماجی مشینری پر بھی تنقید کی ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ ان کی تحریک کے منعقد کرنے والوں کو حکمراں کانگریس پارٹی کی سنگینغلطیوں کا فائدہ ملا ہے۔ اخبار نے لکھا ہے اس سب کے بیچ افسرشاہی سے وزیراعظم بنے منموہن سنگھ کی سرکار اور جنتا اور میڈیا کے درمیان تعلق کے بنیادی پہلوؤں کو سمجھنے میں ناکام رہی۔ اخبار کے مطابق بھاجپا نے اس حالت کا فائدہ اٹھایا ہے۔ اخبار گارجین کی رپورٹ کہتی ہے تبدیلی کے لئے انا ہزارے نے لاکھوں ہندوستانیوں کو جگایا ہے۔ اخبار آگے لکھتا ہے ''سبھی پرانے طریقوں کو ختم کرنے کے مطالبے کے ساتھ سماج کے تمام لوگ متحد ہوئے ہیں۔ بیشک حکمرانوں کے ذریعے تیار بنا جوابدہی والے قانون بنائے ہوئے ہیں اور موجودہ لیڈروں نے ان کا بیجا استعمال کیا ہے۔ گارجین نے انا ہزارے کی سوانح حیات بھی شائع کی ہے۔
انا کی دھوم پاکستان میں بھی مچی ہوئی ہے۔ اخبار ڈان نے انا ہزارے کے بارے میں لکھا ہے کہ بھارت کی آزادی تحریک کے لیڈروں کی طرح معمولی سا دکھائی دینے والا ، سفید کپڑے پہنے انا ہزارے تحریک آزادی کے مجاہد مہاتما گاندھی کے طریقوں کو اپنا کر بدعنوانی کے خلاف لڑائی لڑنے والے ایک مثالی لیڈر بن گئے ہیں۔ انا ہزارے کا پڑوسی پاکستان میں اتنا گہرا اثر پڑا ہے کہ وہاں بھی انا کی طرز پر عوامی تحریکیں شروع ہوگئی ہیں۔ انا ہزارے سے ترغیب پا کر پاکستان کے ایک 68 سالہ تاجر اختر حسین نے پاکستان سے بدعنوانی کو ختم کرنے کے لئے بھوک ہڑتال پر جانے کا اعلان کردیا ہے۔ بدعنوانی کے معاملے پر وہ پہلے 21 جولائی سے بھوک ہڑتال پر جانے والے تھے لیکن اب وہ 12 ستمبر2011 سے اپنی ہڑتال شروع کریں گے۔ انا کی تعریف کرتے ہوئے سماجی رضاکار تاجر جہانگیر اختر حسین نے بتایا ہے کہ پاکستان میں بدعنوانی کے معاملات سنگین ہیں۔ ان کا کہنا ہے پاکستانی پارلیمنٹ کو بھی ہندوستان کی طرح بدعنوانی کو ختم کرنے کیلئے قانون لانا چاہئے۔ ان کا خیال ہے کہ پاکستان میں بدعنوانی بھارت سے کافی زیادہ ہے۔انا کا دنیابھر میں ڈنکا بج رہا ہے۔ ممکن ہے کہ آنے والے نوبل انعام کیلئے انتخاب کے وقت انا ہزارے کا نام بھی شامل ہوجائے۔

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...