Translater

25 جولائی 2026

امریکہ -سعودی نیوکلیائی معاہدہ !

ایران امریکہ جنگ کے درمیان خلیج سے ایک ایسی خبر آئی ہے جو نہ صرف مشرقی وسطیٰ کو بلکہ پوری دنیا کو چونکا دے گی ۔جس یورینیم افزودگی کو لے کر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی سرزمین کو کپا رکھا ہے وہیں ایک ڈیل کے تحت سعودی عرب کو دینے والاہے ۔امریکہ نے بدھوار کو اعلان کیا کہ اس نے سعودی عرب کے ساتھ ایک اہم ترین معاہدہ کیا ہے اس معاہدے کے تحت سعودی عرب امریکی اشتراک سے اپنے غیر فوجی نیوکلیائی پروگرام کو ڈولپ کر سکے گا ۔امریکہ کے وزیر کرس رائٹ اور سعودی عرب کے وزیر پرنس عبدالعزیز بن سلما ن نے پر امن مقاصد کے لئے نیوکلیائی اشتراک سے وابستہ معاہدے 123 پر دستخط کئے ہیں ۔اس کے ساتھ ہی دونوں ملکوں کے درمیان نیوکلیائی سیکورٹی اقدامات سے متعلق ایک باہمی معاہدے پر بھی دستخط ہوئے ۔وائٹ ہاؤس نے کہا کہ یہ دونوں معاہدے مل کر کئی دہائیوں تک چلنے والی اور اربوں ڈالر کی ساجھیداری کے لئے قانونی بنیاد تیار کرتے ہیں۔ اس معاہدے کو اب جائزے کے لئے امریکی کانگریس کے پاس بھیجا جائے گا ۔سرکاری اعلان کے بعد امریکہ اور دنیا کے کئی ملکوں میں اس پر الگ الگ رد عمل سامنے آرہا ہے ۔اسرائیل کے اقتصادی وزیر نیر برکات نے کہا کہ اگر سعودی عرب نیوکلیائی گزر بسر کے استعمال اور پر امن مقاصد اور بجلی پروڈکشن تک محدود رکھتا ہے تو ان کے دیش کو اس میں کوئی اعتراض نہیں ہے اگر وہ اس کا استعمال نیوکلیائی ہتھیار بنانے کے لئے کرتا ہے تو اسرائیل اسے کبھی قبول نہیں کرسکتا ۔وہیں اسرائیل کے سابق وزیر دفاع اور وزیرخارجہ لبن مین نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے لکھا کہ سعودی عرب کا غیر فوجی نیوکلیائی پروگرام آخر نیوکلیائی ہتھیار پروگرام میں بدل جائے گا انہوں نے خبردار کیا کہ اس سے پورے مشرقی وسطیٰ میں نیوکلیائی ہتھیاروں کی دوڑ تیز ہوسکتی ہے جسے انہوں نے ایک پاگل پن بھری ہتھیاروں کی دوڑ قرار دیا ۔اس معاہدے کے تحت سعودی عرب میں یورینیم افزودگی کی اجازت مل سکتی ہے اور امریکی کمپنیوں کے لئے اربوں ڈالر کی کمائی ہوسکتی ہے دی وال اسٹریٹ جرنل نے مجوزہ معاہدوں کو اس طرح سے تیار کیا گیا ہے کہ امریکی کمپنیاں سعودی عرب کے ابھرتے ہوئے نیوکلیائی ڈھانچے کے مرکز میں ہے ۔اور غیر ملکی کمپنیاں اس سے باہر ہیں ۔ٹرمپ انتظامیہ کے حکام کا کہنا ہے کہ سیدھے امریکی دخل سے سعودی نیوکلیئر پروگرام پر واشنگٹن کا اثر بڑھے گا ۔دلیل ہے کہ امریکہ کی ساجھیداری سے نیوکلیائی ٹیکنالوجی کو فوجی مقاصد کے لئے استعمال ہونے سے روکنے میں بھی مدد ملے گی ۔یہ معاملہ پاکستان کی ٹنشن بھی بڑھانے والا ہے کیوں کہ اب تک مسلم ممالک میں صرف پاکستان ہی ہے جس کے پاس نیوکلیائی ہتھیار ہے اسی کے دم پر پاکستان اسلامی نیٹو بنانے کا خواب بھی دیکھتا ہے ۔سعودی عرب نے بھی اس کے ساتھ ڈیفنس ڈیل اس لئے کی تھی کہ ایسے میں اگر وہ خود ان ہتھیاروں تک پہنچ رکھ سکے گا تو اس کے لئے پاکستان کی اہمیت بھی ختم ہو جائے گی اس ڈیل کی امریکہ کے اندر بھی مخالفت ہو رہی ہے ۔امریکہ میں لوگوں کا کہنا ہے کہ کیا ٹرمپ یہ بھول گئے ہیں 9/11 حملے میں جو 19 آتنکی تھے اس میں سے 15 سعودی عرب سے آئے تھے ۔اب آپ انہیں سے اتنا خطرناک معاہدہ کرنا چاہتے ہیں ۔اس سے نہ صرف مشرقی وسطیٰ میں ہی نیوکلیائی ہتھیار بنانے کی دوڑ مچے گی بلکہ پوری دنیا میں بھی ایسی کوشش ہوگی۔ ویسے ڈونلڈ ٹرمپ کب اپنی بات سے پلٹ جائیں کہا نہیں جاسکتا۔ ہم نے ایران کے ساتھ امن معاہدے کا حال دیکھا ہے سمجھوتہ ہونے کے بعد دستخط ہونے کے باوجود ٹرمپ ایسی ایسی نئی شرائط جوڑ دیتے ہیں جس سے وہ سمجھوتے کھٹائی میں پڑ جائیں ۔کل کو یہ بھی ممکن ہے کہ اسرائیل کے دباؤ میں وہ ایسی نئی شرط جوڑ دیں جس سے یہ سمجھوتہ کھٹائی میں پڑ جائے ۔
(انل نریندر)

23 جولائی 2026

کیا نیتن یاہو نیویارک میں گرفتار ہوسکتے ہیں؟

بین الاقوامی سیاست اور ڈپلومیسی کے گلیاروں میں اس وقت نیویارک سے اٹھی ایک آواز نے ہلچل مچا دی ہے ۔نیویار ک سٹی کے میئر ظہران ممدانی نے کہا ہے کہ اگر اسرائیل کے وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میٹنگ میں حصہ لینے کے لئے نیویارک آتے ہیں تو ان کی گرفتاری ممکن ہے ۔لیکن ان کا دفتر اب بھی غور کررہا ہے ۔دی نیویارک ٹائمس کے پوڈکاسٹ انٹرویو میں ممدانی نے کہا کہ ان کا محکمہ قانون نیتن یاہو کی امکانی گرفتاری کے قانونی پہلوؤں پر سرگرم طریقہ سے غور کررہا ہے ممدانی نے اپنی چناؤ مہم کے دوران ایسا کرنے کا وعدہ بھی کیا تھا ۔ممدانی نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ وزیراعظم نیتن یاہو کی جگہ جیل میں ہے ۔وہ ایک جنگی مجرم ہیں جن پر بین الاقوامی کرائم عدالت (آئی سی سی ) نے الزام لگائے ہیں کہ وزیراعظم نیتن یاہو کی کئی سالوں میں ان کے اقدامات کے سبب جو حالات پیدا ہوئے ہیں ۔اسے دیکھتے ہوئے بہت سے لوگ یہی رائے رکھتے ہیں جب ممدانی سے پوچھا گیا کہ قانون اسے اس معاملے میں ایسا کرنے کی اجازت دیتا ہے تو انہوں نے جوا ب دیا کہ اس پر ہمارا قانونی محکمہ میں غور وخوض چل رہا ہے لیکن ہم نے قومی سطح پر کئی بار دیکھا ہے کہ کچھ لوگ اپنے حساب سے قانون تھوپنے یا قانونی دائر ےسے باہر جانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ہماری منشا ایسا کرنا نہیں ہے ۔بتادیں کہ بین الاقوامی کرمنل کورٹ نے 2024 میں وزیراعظم بنجامن نتین یاہو اور اسرائیل کے کچھ دیگر لیڈروں کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیا تھا ان پر 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد غزہ میں جنگی جرائم کے الزام لگائے گئے ہیں ۔یہ صرف ایک ساسی بیان نہیں بلکہ غزہ میں جاری انسانی ٹریجڈی سے دکھی دنیا کے ایک بڑے حصہ کے ضمیر کی آواز ہے ۔میئر ممدانی کا عزم بین الاقوامی کرمنل عدالت نے بنجامن نتین یاہو کے علاوہ سابق وزیردفاع گیلنٹ کے خلاف بھی گرفتاری وارنٹ جاری کئے ہوئے ہیں ۔ان لیڈروں پر غزہ جنگ کے ایک طریقہ کی شکل میں خطرناک ہتھیار کا استعمال کرنے ،کھاناپانی ،ایندھن اور دوائیوں جیسی ضروری چیزوں کی سپلائی کو ٹھپ کرتے ہوئے روکنے اور شہریوں پر جان بوجھ کر حملے کرنے جیسے سنگین الزامات ہیں ۔ممدانی نے اپنا ارادہ صاف کرتے ہوئے کہا کہ وہ نیویارک شہر کے شعبہ قانون کے ساتھ مسلسل رابطہ میں ہیں تاکہ یہ جانا جاسکے کہ ان کے پاس ایک غیر ملکی لیڈر و ایک سربراہ مملکت کو حراست میں لینے کا کتنا اختیار ہے ؟ انہوںنے کہا کہ نیویارک شہرمیں قانون مجھے جو کچھ بھی کرنے کی اجازت دے گا ، ہم وہی کریں گے ۔حالانکہ کچھ قانونی واقف کاروں کا خیال ہے کہ امریکی آئی سی سی کا ممبر نہیں ہے ۔اس لئے میئر کے لئے ایسا کرنا مشکل ہوسکتا ہے ۔یہ لاف لاء اسکول کے پروفیسر ہیرالڈ ہیگزو کے مطابق اقوام متحدہ ہیڈ کوارٹر کے باہر شہر کی سڑکوں پر چلتے وقت نیتن یاہو کی حالت خراب ہوسکتی ہے ۔اس امکانی قدم پر نیتن یاہو نے سخت رائے زنی کی ہے ۔انہوں نے ممدانی پر جوابی حملہ کرتے ہوئے انہیں حماس کا حمایتی اور خفیہ طور سے امریکہ سے نفرت کرنے والاتک کہہ ڈالا۔نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل امریکی اقدار کے ساتھ کھڑا رہنے والاجمہوری ملک ہے ۔اُدھر ممدانی ان الزاموں کو مسترد کرتے ہیں ۔اس درمیان ممدانی کےبیان پر شوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی ہے ۔کئی لوگوں نے ممدانی کا اسے بڑبولاپن بتایا ہے ۔اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائک والٹ سے نے اس خبر پر پوسٹ کیا میئر ممدانی میں یہ چار وجہ ہیں کہ اقوام متحدہ اسمبلی کے دوران نیویارک میں وزیراعظم نیتن یاہو کو کیوں نہیں گرفتار کیاجاسکتا ۔پہلا امریکہ کا اس معاہدہ کا حمایتی نہیں ہے جس پر بین الاقوامی کرمنل کورٹ کی قانونی نظم پر مبنی ہے ۔دوسرا اقوام متحدہ ہیڈ کوارٹر سمجھوتہ کے مطابق میٹنگوں میں آنے والے غیر ملکی سرکاروں کے سربراہوں کو سیاسی تحفظ فراہم کرتا ہے ۔تیسرا صدر کی قانونی ایمیونٹی بھی ایسے معاملوں میں نافذ ہوتی ہے ۔چوتھا خارجہ پالیسی ایسے معاملوں میں فیڈرل سرکار کا اختیار مقامی انتظامیہ سے بالاتر ہوتا ہے اس لئے نیویار کے میئر کی خواہش یا اعلان سے ایسا کوئی بھی قدم نہیں اٹھایاجاسکتا ہے ۔
(انل نریندر)

21 جولائی 2026

ہرمز ایران کا ٹرمپ کارڈ

ایران نے ہرمز اسٹریٹ بند کر امریکہ کے سبھی حکمت عملی حساب کتاب اور عالمی مارکیٹ کو ہلادیا ہے ۔یہ ایران کا ایسا ترپ کا پتا ہے جس نے ٹرمپ کو چاروں کھانے چت کر دیا ہے۔ ایران نے بغیر کوئی بڑا نیوکلیئر قدم اٹھائے صرف ایک ہی سمندری راستے کی چابی اپنے ہاتھ میں لے کر امریکہ کی پوری جنگ کی حکمت عملی کوبدل دیا ہے ۔اب امریکہ ایران کے درمیان جنگ کا سب سے بڑا اشو ہرمز کو کھولنے ، کھلوانے کا بن گیا ہے ۔یاد رہے کہ 28 فروری سے پہلے یہ ہرمز کبھی بند نہیں ہوا تھا۔ یہ خیال تو ایران کو تب آیا جب امریکہ نے 28 فروری کو اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملے کئے ۔ایران نے ہرمز کو تالالگا کر امریکہ کے سامنے یہ صاف کر دیا ہے کہ اگر بات چیت کرنی ہے تو شرطیں ایران کی ہوں گی ۔ہرمز کا بند ہونا نہ صرف مشرق وسطیٰ میں ہی اثر ڈال رہا ہے لیکن اس کا اثر امریکہ میں بھی سیدھا پڑرہا ہے ۔میں بات کررہاہوں امریکہ میں ہونے والے مڈ ٹرم چناؤ جن میں ٹرمپ کی سیاسی قسمت بہت حد تک ٹکی ہوئی ہے۔ایران نے ٹھیک اسی وقت ہرمز پر دباؤ بنایا ہے جب امریکی ڈپلومیٹک سب سے کمزور موڑ پر ہے ۔ایرا ن سے جنگ امریکی ڈپلومیسی کے لئے ایک بڑا مس کیلکولیشن ثابت ہوا ہے ۔سیز فائر ختم ہونے کے بعد سے ہی امریکہ ایران پر میزائلیں داغ رہا ہے ۔اور ایران جوابی حملے کررہا ہے لیکن ایران نے پھر امریکہ کو جھکانے کے لئے اپنے برہماستر کا استعمال کیا ہے اور بارودی دھماکوں کے بیچ ایرا ن نے ایک بار پھر ہرمز کو بند کر دیا ہے ۔یہ ایسے وقت ہوا ہے جب امریکہ میں وسط مدتی چناؤ سر پر ہیں اور امریکہ کی عوام سے پیٹرول کے دام گرنے کا دعویٰ کررہے تھے ۔ایران نے ٹھیک اسی وقت امریکی معیشت کی سب سے کمزور نس مانی کچے تیل کی سپلائی پر پیر رکھ دیا ہے ۔امریکہ -ایران کے درمیان حملوں کے بعد تیل کی قیمتوں میں 30 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے ہرمز اسٹریٹ میں کشیدگی بڑھنے اور کچے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہونے کی وجہ سے نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی چناؤ پر اس کا سیدھا اثر پڑنے والاہے ۔والٹ اینڈ ووٹ سبھی تجزیے امریکی سیاست کا کڑا سچ ہیں ۔کیوں کہ امریکی سیاست میں ایک پرانی کہاوت ہے کہ راشٹر پتی چاہے کوئی بھی وعدہ کریں لیکن ووٹر اپنا فیصلہ پیٹرول پمپ پر تیل کی قیمتوں کو دیکھ کر ہی طے کر تا ہے ۔اس سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اس کی مخالف پارٹی رپبلکن پارٹی پر بھاری سیاسی دباؤ بڑھے گا ۔صدر ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد پیٹرول کے دام 2.5ڈالر فی گیلن تک لانے کا وعدہ کیا ہے ۔لیکن ہرمز کرائسس کے سبب کچے تیل کی قیمتیں 80 ڈال سے 100 ڈالر فی بیرل کو پار چلی گئی ہیں ۔جس سے پیٹرول کے دام گھٹنے کے بجائے بڑھ رہے ہیں ۔پیٹرول مہنگا ہونے کا مطلب کہ عام امریکی خاندان کے بجٹ پر سیدھا دباؤ پڑے گا ۔امریکی عوام کی جیب پر سیدھی مار ہوگی اس سے امریکہ میں مہنگائی بڑھے گی ، ٹرانسپوٹیشن ڈھلائی بڑھنے سے سپر مارکیٹ کے سامان کو لے کر ہوائی ٹکٹ تک سب مہنگاہو جائے گا ۔تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی چناؤ سے ٹھیک پہلے امریکہ میں ایندھن کے دام بڑھے ہیں تو حکمراں پارٹی کو چناؤ میں بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے ۔جیسے 1980 میں جمی کارٹر کے ساتھ ہوا تھا ۔ہرمز بند ہوتے ہی عالمی مارکیٹ میں کچے تیل کے دام تیزی سے بڑھنے لگے ہیں ۔انٹرنیشنل بنچ مارک بریٹ کروڈ 3.92 فیصد سے بڑھ کر 78.99 فی بیرل ہو گیا ہے اور امریکی کچا تیل 3.44فیصد سے برھ کر 77.87ڈالر فی بیرل ہو گیا ہے ۔اگر ہرمز لمبے عرصہ تک یونہی بند رہتا ہے تو اس کا اثر امریکہ پر ہی نہیں بلکہ پوری دنیا پر پڑے گا اور ایسا ہونے سے روکنے کی چابی صرف ایران کے ہاتھ میں ہے ۔
(انل نریندر)

اور اب اسلامی نیٹو!

حال ہی میں پاکستان ، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ پر دستخط ہوئے ہیں جس کے تحت اگر تینوں میں سے کسی ایک دیش پر حملہ...