Translater

31 دسمبر 2016

نوٹ بندی کے 50 دن:کیا کھویا کیا پایا۔۔۔2

15.4 لاکھ کروڑ روپئے مالیت کے 500-1000 کے پرانے نوٹوں میں قریب14 لاکھ روپئے واپس بینکوں میں جمع کرائے جاچکے ہیں۔وزیر اعظم نریندر مودی نے 8 نومبر کو 500-1000 کے نوٹ کو غیر قانونی قرار دے دیا تھا تب حکومت کو امید تھی کہ نوٹ بندی کے اس فیصلے سے اسے کئی محاذ پر فائدہ ہوگا۔ امید یہ تھی کہ کالی کمائی کی شکل میں رکھے گئے کم سے کم 3 لاکھ کروڑ روپئے مالیت کے پرانے نوٹ واپس نہیں ہوں گے۔ ایسا ہونے پر ریزرو بینک آف انڈیا حکومت کو اچھا خاصہ فائدہ دیتی لیکن یہ امید پوری ہوتی نہیں دکھائی دے رہی ہے۔ بینکوں میں جمع نوٹ کی مقدار سے ایسا لگتا ہے کہ لوگوں نے کالے دھن کو سفید کرنے کا راستہ نکالنے میں کامیابی حاصل کرلی۔ اب سرکار اس بات پر خوش ہوسکتی ہے کہ اسے2.5 لاکھ روپئے کی حد سے اوپر جمع ہوئے روپیوں پر بھاری بھرکم ٹیکس ملے گا۔ حکومت کو ایک اور فائدہ اس لحاظ سے بھی نظر آرہا ہے کہ گھروں میں رکھی گئی چھوٹی موٹی بچت کی رقم بینکوں میں آجانے سے معیشت کو مضبوطی ملے گی۔ نوٹ بندی کے اعلان کو بدھ کے روز 50 دن ہوگئے ہیں۔ ان 50 دنوں میں 14 لاکھ کروڑ سے زائد نوٹ بینکوں میں واپس آچکے ہیں یعنی 91 فیصد سے زیادہ جبکہ اس دوران صرف 6 لاکھ کروڑ روپئے کے پرانے نوٹ سسٹم میں موجودہ ہونے کا دعوی تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی دیش قطاروں میں کھڑا ہوا ہے۔ میڈیا میں ایک سروے شائع ہوا ہے اس میں 1300 سے زیادہ دیہات میں زیادہ تر لوگ فیصلے کی حمایت میں دکھائی دئے لیکن ساتھ ہی ان کا کہنا ہے کہ 50 دن بعد بھی ان کی مشکلیں جوں کی توں ہیں۔ کیش لیس اکنامی کی طرف بڑھنے کے سرکاری دعوے بھی کمزور نکلے۔ ڈیجیٹل ٹرانزیکشن پر نظر رکھنے والے سرکاری ادارے ایم پی سی آئی کے اعدادو شمار کی مانیں تو نومبر میں ڈیجیٹل ٹرانزیکشن 15 فیصد گھٹا ہے۔ حالانکہ اے ٹی ایم جیسی کمپنیاں300 فیصد اضافے کی بات کررہی ہیں۔ بات کالے دھن کی کریں تو اس دوران محکمہ انکم ٹیکس نے 678 چھاپے مارے ۔ اس میں 3600 کروڑ روپے کا ہی کالا دھن پکڑا۔ نوٹ بندی کی سب سے زیادہ متاثر ہماری دیہاتی سرزمین ہے۔ پانچ ریاستوں کے 1310 گاؤں میں سروے سے پتہ چلا ہے 61 فیصد دیہات میں اے ٹی ایم نہیں ہے۔ 86 فیصد گاؤں میں سوائپ مشین نہیں ہے۔ کیش لیس ٹرانزیکشن انٹر نیٹ سہولت پر منحصر ہے۔ بھارت میں کل 26 فیصد علاقے میں انٹرنیٹ سہولت ہے۔ دہلی میں انٹرنیٹ کا تجربہ ہے کہ یہ کتنا چلتا ہے ،کس اسپیڈ پر چلتا ہے، یہ سب کو پتہ ہے۔ اس لئے جب شہروں میں یہ سہولت ٹھیک نہیں ہے تو دیہات میں کتنی کارگر ہوگی آپ خود ہی اندازہ لگا سکتے ہیں۔ اب بات کرتے ہیں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی۔ غیر ملکی چھوٹے سرمایہ کاروں کی،8 نومبر کے بعدسے اکویٹی مارکیٹ میں تقریباً 10 ارب ڈالر یعنی 68 ہزار کروڑ روپئے کی فروختگی کرچکے ہیں۔ یہ 2013ء کے بعد دو مہینے کی میعاد میں ان کی طرف سے ہوئی سب سے بڑی فروختگی میں ایک ہے۔ نوٹ بندی کے اعلان کے بعد بینکنگ سسٹم میں نئے نوٹ آتے رہنے کے باوجود اے ٹی ایم کے باہر لوگوں کی لائن چھوٹی نہیں ہوپارہی ہے کیونکہ کچھ کرپٹ بینک منیجر اور افسر کالی کمائی کو سفیدکرنے میں لگے ہیں۔ ان بینکروں نے بلیک منی والوں کا ساتھ دینے کے لئے کئی طرح کے ہتھکنڈے اپنائے۔ صحیح کسٹمر کی پہچان چرانا، کئی گراہکوں کی طرف سے جمع کرائے گئے پین کارڈ اور شناختی کارڈ جیسے دستاویزوں کا استعمال چوری چھپے لین دین میں کیا گیا۔ اے ٹی ایم کے پیسے کی ہیرا پھری، بینک حکام نے اے ٹی ایم سروسز ایجنسیوں کے ساتھ مل کر اے ٹی ایم کے لئے بھیجے گئے نوٹوں (نئے)کے ذریعے کالے دھن کو سفید کیا ہے۔ جن دھن کھاتوں کا غلط استعمال،ہر بینک میں 10سے15فیصدی جن دھن کھاتوں کا استعمال کالے دھن کو سفید کرنے میں ہوا۔ ایسا کرنے والے بینکر اب سی بی آئی کے نشانے پر ہیں۔ ڈیمانڈ ڈرافٹ کی جعلسازی، بینک افسران نے کالے دھن کو سفید کرنے کیلئے جن طریقوں کا سب سے زیادہ استعمال کیا ان میں ایک یہ بھی ہے ۔ کمیشن خور کیشئروں نے کمیشن لے کر پرانے نوٹوں کو نئے نوٹوں میں بدل دیا۔ زیادہ تر دیہی علاقوں میں بینک گئے غریب اور ناخواندہ لوگوں کو ٹھگا گیا۔ فرضی کھاتے کھولے گئے۔ کچھ معاملوں میں جن ایماندار اکاؤنٹ ہولڈروں کی آئی ڈی پروف بینکروں کے ہاتھ لگے، ان کے نام پر کھاتے کھول کر اس کے ذریعے پیسے میں ہیرا پھیری کی۔ نوٹ بندی کے بعد بینکوں نے کالادھن کے بدلے نئے نوٹ بدلنے میں شادی کے ہتھیار تک کا استعمال کیا۔ شادی کا کارڈ ڈالتے ہی 2.50 لاکھ روپئے بدل گئے۔ اس کے لئے الگ الگ آئی ڈی کا استعمال کیا گیا۔ یہاں تک کہ قرضہ کے لئے جمع فارم میں لگائے گئے آئی ڈی کابیجا استعمال کیا گیا۔ کچھ بینک افسر۔ ملازمین نے 25سے30 فیصد کمیشن کے لالچ میں گھر تک نئے نوٹ پہنچانے کا استعمال کیا تھا۔ سب سے زیادہ دھاندلی ایکسیس بینک کی 10 برانچوں میں کی گئی۔ اس دوران کئی تنازعہ کھڑے ہوگئے۔ نوٹ بندی پر وزیر اعظم سے وضاحت کی مانگ پر اپوزیشن نے پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کو نہیں چلنے دیا اور دیش کو کروڑوں روپئے کا نقصان ہوا۔ ادھوری تیاریوں کے الزامات کے ساتھ ریزرو بینک کے بار بار نئے حکم جاری کرنے سے بینک کی ساکھ بھی متاثر ہوئی ۔ انٹر نیشنل کریڈٹ ایجنسیوں نے ہندوستان کی ترقی شرح گرنے کی بات کہی۔ بھاجپا ممبر اسمبلی ایک ویڈیو میں کہتے ہوئے دکھائی دئے کہ مرکزی سرکار کے نوٹ بندی کے فیصلے کے بارے میں دو بڑے صنعت کاروں کو پہلے سے معلومات تھی۔ حالانکہ بعد میں وہ اس بیان سے مکر گئے۔ ہمارے خاندان میں دادا جی سے لیکر مجھ تک یہی روایت رہی کہ ہمیشہ جنتا کے مفادات میں آواز اٹھاؤ، وہ بھی بغیر کسی لاگ لپیٹ کے۔ میں نے ایسا ہی کرنے کی کوشش کی ہے۔ قارئین جانتے ہیں کہ میں نے پہلے دن سے جن مقاصد کو لیکر نوٹ بندی کی گئی تھی ان پر اندیشہ ظاہر کیا تھا۔ آج بھی اپنے موقف پر قائم ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ دیش میں بلیک منی بند ہو، کالے دھندے بند ہوں، کرپشن ختم ہو لیکن ان طریقوں سے شاید ہی کامیابی ملے؟ اگر ہمیں ان مقاصد کو پانا ہے تو کئی قدم اٹھانے ہوں گے اور سرکار کے سامنے کئی چیلنج ہیں۔ ان میں 95 کروڑ ہندوستانیوں کے پاس اب بھی انٹرنیٹ نہیں پہنچ سکا، انٹر نیٹ رفتار کے معاملے میں بھی بھارت 3.5 ایم وی پی ایس کے ساتھ عالمی رینکنگ میں 113 ویں مقام پر ہے۔ نئے نوٹوں کی چھپائی کے باوجود درکار تعداد میں نقدی عام لوگوں تک نہیں پہنچ پارہی ہے۔ آر بی آئی کے تخمینہ اقتصادی ترقی کی شرح 7.6 سے 7.1 پر آچکی ہے۔ ایشیائی ڈیولپمنٹ بینک نے بھی ترقی شرح میں کمی بتائی تھی۔ ایسوچیم2017ء تک موبائل جعلسازی میں 65 فیصدی بڑھنے کا اندیشہ جتایا ہے۔ سرکار کے سامنے دھوکہ دھڑی کو روکنا بڑی چنوتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق مارچ 2016ء تک دیش میں صرف 53 فیصدی لوگوں کے ہی بینک کھاتے تھے۔ پورے دیش کو بینک سے جوڑنا ہوگا۔ اب آپ خود فیصلہ کریں کہ نوٹ بندی کے 50 دن میں دیش نے کیا کھویا پایا۔(ختم)
(انل نریندر)

30 دسمبر 2016

نوٹ بندی کے 50 دن: کیا کھویا کیا پایا۔۔۔1

زیادہ ترا شوز پر ہم نے حکومت کا تب ساتھ دیا ہے جب ہمیں لگا کہ اس سے دیش کو فائدہ ہوگا اور جنتا کے مفاد میں ہے۔ جب ہمیں لگا کہ اس اشو سے دیش کی عوام کو نقصان ہوگا تو ہم نے سرکار کی مخالفت کی ہے۔ ہم عوام کو جوابدہ ہیں نہ کہ کسی سیاسی پارٹی یا اس کی سرکار کو۔ ایک صحافی کا پہلا فرض ہے کہ وہ عوام کی آواز اٹھائے اس لئے ہم نے اس کالم کا نام رکھا ہے ’’آج کی آواز‘‘ 8 نومبر کو جب وزیر اعظم نریندر مودی نے ڈیمونیٹائزیشن یعنی ’نوٹ بندی‘ کا اعلان کیا تھا تبھی سے مجھے لگا کہ یہ جن مقاصد کے لئے اٹھایا گیا ہے وہ شاید ہی اس قدم سے پورے ہوں۔ وزیراعظم نے8 نومبر کو کہا تھا کہ جنتا مجھے 50 دن دیں اس کے بعد سب ٹھیک ہوجائے گا۔ نوٹ بندی کے 50 دن آج پورے ہوگئے ہیں۔ ان 50 دنوں کا لیکھا جوکھا دیکھنا ضروری ہے۔ پہلے ان 50 دنوں کی کامیابیوں پر نظر ڈالتے ہیں۔ ہزاروں کروڑ روپئے کی غیر اعلانیہ آمدنی کا پتہ اب دیش کو لگ چکا ہے۔ حوالہ کاروباریوں اور ٹیکس چوروں کے لئے مشکلیں زیادہ بڑھی ہیں۔ پرانے نوٹوں کے ردی ہونے اور دہشت گردوں و نکسلیوں کی فنڈنگ پر لگام لگی ہے۔ نوٹ بندی کے بعد اکیلے چھتیس گڑھ سے نکسلیوں کے 7 ہزار کروڑ روپئے کا پتہ چلا ہے۔ مرکزی سرکار کے مطابق نوٹ بندی کے بعد سے 400 کروڑ روپے کے نقلی نوٹوں کا کاروبار بند ہوا ہے۔ دیش کیش لیس معیشت کی جانب بڑھنا شروع ہوگیا ہے۔ دوکانوں میں پی آئی او ایس مشینوں کی مانگ بڑھی ہے۔ 300فیصد نقدی بینکوں میں بڑھی ہے، بینکوں کے پاس 2.5 لاکھ کروڑ کا جمع پیسہ جو اب 7 لاکھ کروڑ سے زیادہ ہوگیا ہے، کالا دھن ،دہشت گردی اور کرپشن وہ تین نقطہ تھے جن پر 8 نومبر کی رات 8 بجے اپنی تقریر کے دوران وزیر اعظم نے کہا تھا کہ نوٹ بندی کالی کمائی پر بڑا حملہ کرے گی۔ 50 دن کے بعد بھی جنتا کو بینکوں اور اے ٹی ایم سے نقدی نہیں مل پا رہی ہے۔ کانگریس نائب صدر راہل گاندھی نے کہا کہ نوٹ بندی سے نہ کالا دھن ختم ہوا ہے اور نہ ہی کرپشن۔ پی ایم نے کہا تھا کہ 30 دسمبر تک سب ٹھیک ہوجائے گا لیکن 50 دن گزرنے کے بعد بھی حالات ٹھیک نہیں ہوئے۔ ترنمول کانگریس کی ممتا بینرجی نے کہا کہ پی ایم نے50 دن مانگے تھے کیا اب وہ استعفیٰ دیں گے؟ ان 50 دنوں میں دیش 20 سال پیچھے چلا گیا ہے۔ نوٹ بندی کے کئی سائیڈایفیکٹ ہوئے ہیں۔ راشٹریہ جنتا دل کے صدر لالو پرساد یادونے اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر ایک ایک کر نوٹ بندی کے 16 سائڈ ایفیکٹ گناتے ہوئے لکھا نوٹ بندی سے جہاں22 کروڑ لوگوں کی نوکری چھن گئی ہے وہیں دیش میں سینکڑوں اموات ہوئی ہیں۔ وہیں دیش کی معیشت چوپٹ ہوگئی ہے۔ کاروبار ختم ہے۔ کاروباری پریشان ہیں اور کسان مزدور و غریب پریشانی میں مبتلا ہے۔ انہوں نے کہا دیش میں غیر منظم سیکٹر میں کام بند ہونے سے لاکھوں لوگوں کا روزگار خطرے میں ہے اور پیداوار ، کھپت اور سرمایہ کاری میں بھی بھاری کمی آئی ہے۔ معیشت ٹھپ ہے اور خوردہ کاروباری مرنے کے دہانے پر ہیں۔ آر جے ڈی چیف نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ نقدی کی شکل میں استعمال ہونے والا ہر نوٹ کالا دھن نہیں ہوتا۔ زیادہ تر وہ پیسہ ہے جس پر ٹیکس دیا جا چکا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا نوٹ کا رنگ بدلنے اور سائز بدلنے سے نہ تو کالا دھن ختم ہوگا اور نہ ہی کرپشن۔ موجودہ سرکار نے 3 کروڑ روپے کے جعلی نوٹ ختم کرنے کے لئے42 ہزار کروڑ کے نئے نوٹ چھاپ کر دیش پر خرچ لاد دیا ہے۔ انہوں نے کہا بھارت میں صرف 4 فیصدی کالا دھن نقدی میں ہے بلکہ 96 فیصدی کالے دھن کو چھپانے کے لئے نوٹ بندی کا ناٹک کیا گیا۔ جس دن سے دیش میں نوٹ بندی ہوئی ہے اسی دن سے دیش کا ہر طبقہ کسی نہ کسی طرح سے متاثر ہوا ہے۔ کسانوں کی حالت بہت باعث تشویش ہے۔ کسانوں کے آلو1 روپیہ، ٹماٹر 2 روپیہ، آنولہ 3 روپیہ فی کلو کے بھاؤ سے منڈیوں میں بیچنے کو کسان مجبور ہیں۔ اس کے چلتے کسان اپنے آلو ، پیاز کو روڈ پر پھینک رہے ہیں کیونکہ اس کی لاگت ان کون ہیں مل پا رہی ہے۔ بھارت کی معیشت 30فیصد دھیمی ہوگئی ہے۔ کاروباری طبقہ خالی پڑا ہوا ہے۔ کسان و مزدور کو روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ پورے دیش میں بے روزگاری بڑھی ہے۔ خاندان کے ساتھ راجگیری کرنے آئے بہار کے محمد نعیم کی نوٹ بندی کے بعد دہاڑی عادی رہ گئی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ نوٹ بندی کے بعد حالت یہ ہوگئی ہے کہ لیٹر دودھ کی جگہ آدھا لیٹر دودھ ہی لے رہا ہوں ۔ کھلے پیسے بہت کم بچتے ہیں۔ پہلے مہینے میں 25 دن کام ملتا تھا جو اب10 دن تک محدود ہوگیا ہے وہ بھی لوگ ادھار پر کام کرا رہے ہیں۔ سبھی یہ کہہ کر دہاڑی روک لیتے ہیں کہ پیسہ نہیں نکل پارہا ہے ، کل لینا۔ نئی دہلی علاقہ میں ایک دہاڑی کا کام کرنے والے دوسرے شخص اروند نوٹ بندی کا ذکر آتے ہیں کہتے ہیں کہ ہمارا تو اس نوٹ بندی نے سب کچھ لوٹ لیا ہے۔ یہ سمجھئے کہ بھوکے مرنے کی نوبت آگئی ہے۔ ہر دن800-1000 روپے کماتا تھا۔ مزدوری سے بیٹی کی شادی کی، بیٹا انجینئرنگ کررہا ہے ایک بیٹی بی۔ ایڈ کررہی ہے اب حالت یہ ہے بیٹی کی 10 ہزار فیس اور مکان کا 4 ہزار روپئے کرایہ دینا بھی مشکل ہے۔ پورے دن میں 200 کا بھی کام نہیں ملتا۔ شکر پور کے باشندے منک جو چائے بیچتے ہیں ،بتاتے ہیں نوٹ بندی نے ابتدائی دور میں میرا دھندہ بہت متاثر کردیا تھا حالات ابھی بھی ایسے ہی ہیں ۔ کام گھٹ کر400 روپئے یومیہ سے 150 پر آگیا ہے۔ مکان کا کرایہ دینا بھی بھاری پڑ گیا ہے۔ مشن کنج کے پاس خوانچہ لگانے والے رام پرساد پٹیل کہتے ہیں کہ نوٹ بندی کے بعد نقدی نکالنے اور کھلے پیسوں کے لئے بہت پریشان ہوں۔ نقدی نکالنے کے لئے صبح چار بجے سے قطار میں لگیں گے تو دوپہر بعد نمبر آتا ہے۔ کسی طرح ادھار لیکر یا بچوں کی گلک سے پیسے نکال کر گھر کا کام چلا رہا ہوں۔(جاری)
(انل نریندر)

29 دسمبر 2016

نوٹ بندی کے بعدبسپا کے کھاتے میں کروڑ روپئے کا مسئلہ

انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے نوٹ بندی کے بعد بہوجن سماج پارٹی کے کھاتے میں 104 کروڑ روپئے اور پارٹی چیف مایاوتی کے بھائی آنند کمار کے کھاتے میں 1.43 کروڑ روپے جمع ہونے کے خلاصہ سے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچنا فطری ہی تھا۔ یہ رقم یونائیٹڈ بینک آف انڈیا کے کھاتوں میں جمع کرائی گئی۔ قرولباغ میں واقع بینک برانچ کے سروے کے دوران ای ڈی کو اس بات کی جانکاری ملی۔ ای ڈی کے مطابق نوٹ بندی کے بعد ان دونوں ہی کھاتوں میں کثیر تعداد میں پرانے نوٹ جمع کرائے گئے۔ جمع رقم میں 102 کرور روپئے 1000 کے وٹ اور باقی 500 روپئے کے پرانے نوٹ شامل ہیں۔ حکام کے مطابق اس کے بعد بھی یہ سلسلہ رکا نہیں اور ہر دن 15 سے17 کروڑ روپئے اس کھاتے میں جمع کرائے جاتے رہے۔ ہر دوسرے دن رقم جمع ہونے سے افسر بھی حیران ہیں۔ جانچ ایجنسی نے بسپا چیف مایاوتی کے بھائی آنند کمار کے اسی برانچ میں ایک اور کھاتے کا پتہ چلا ہے۔ اس میں 1.43 کروڑ روپئے جمع ہیں۔ اس میں 18.98 لاکھ روپئے نوٹ بندی کے بعد پرانے نوٹوں کی شکل میں جمع کرائے گئے۔ پورے معاملے پر مایاوتی نے کہا یہ ساری رقم ورکروں سے ملے چندے کی تھی۔ اسے پارٹی نے انکم ٹیکس محکمہ اور ٹیکس قواعد کے تحت عام کارروائی کو پوری کرتے ہوئے جمع کرایا تھا۔ اس پیسے کو گھوٹالہ کی طرح پیش کیا جارہا ہے۔ نوٹ بندی کی مخالفت کرنے کے سبب ہی یہ سازش رچی جارہی ہے۔ 
یہ بی جے پی کی دلت مخالف ذہنیت ہے۔ مایاوتی نے منگل کو لکھنؤ میں کہا کہ چناوی وعدہ خلافی اور نوٹ بندی کے سبب ہورہی ہار سے دکھی مرکزی سرکار کے لوگ انتظامی مشینری کا بیجا استعمال کر بسپا اور اس کی لیڈر شپ کی ساکھ خراب کرنے کی کوشش میں لگے ہیں۔ انہوں نے کہا کچھ چینلوں، اخبارات کے ذریعے بسپا کے ذریعے بینک میں جمع کرائی گئی رقم کے بارے میں جو خبر آئی ہے وہ بسپا نے اپنے قاعدوں کے مطابق ہی اکٹھا کی۔ ممبر شپ فیس کو ایک باقاعدہ کارروائی کے تحت ہمیشہ کی طرح بینک میں جمع کرایا ہے۔ سابق وزیر اعلی نے بھاجپا پر جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ جس میعاد میں بسپا اور آنند کمار کے کھاتوں میں پیسہ جمع ہونے کی بات کہی جارہی ہے اسی دوران بھاجپا سمیت دیگر پارٹیوں نے بھی اپنی رقم بینکوں میں جمع کرائی ہے لیکن ان کا کوئی تذکرہ نہیں ہوتا اور نہ ہی ان کی میڈیا میں خبر آتی ہے۔ مایاوتی کی طرف سے صفائی پر مرکزی وزیر رام ولاس پاسوان نے کہا کہ دلت نیتا ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اسے کرپشن کا اختیار مل گیا ہو۔ وہیں بھاجپا نیتا اور مرکزی وزیر روی شنکر پرساد نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ مایاوتی نوٹ بندی کی مخالفت کیوں کررہی ہیں اس کی وجہ اب سمجھ میں آتی ہے۔
(انل نریندر)

غیر ملکی اکنامک ریٹنگ ایجنسی کی نظر میں نوٹ بندی

ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی خود اعتمادی سے لبا لب ہیں۔ وہ مانتے ہیں کہ یہ گلاس جو آدھا خالی ہے اس خالی حصے کی ہوا کو بھی بھارت کی بھولی جنتا کو بیچ سکتے ہیں۔ پانی کو بیچ دیں گے اور ہوا کو بھی۔ نوٹ بندی سے کالا دھن تو ختم ہونے سے رہا لیکن مودی جی نوٹ بندی کو جنتا میں کامیاب کر کے دکھانے کی کوشش ضرور کررہے ہیں۔یہی ان کیا سیاسی فن ہے۔ کالا دھن ختم نہیں ہوگا لیکن وہ اسے ختم ہوتا دکھا رہے ہیں۔ لوگوں کو راغب کرنے کی ان کا مارکٹنگ فن اندرا گاندھی، نہرو سے بھی کئی معنوں میں لاجواب ہے۔ کیونکہ 56 انچ کی چھاتی کے راشٹرواد سے وہ سنگھ پریوار کے تام جھام، ماں کی ممتا، تیا گ کا پرچار اور سوشل میڈیا کے ایسے فائدے ہیں جو کسی سابقہ وزیر اعظم کو نہیں حاصل تھے۔ پورے معاملے کاجادو منتر یہ ہے کہ اگر مارکٹنگ ٹھیک ہے تو سونا ، کوئلہ بنا دیں گے او کوئلہ سونا ۔ غریب کی سفید نقدی کالی ہوگئی ہے اور امیر کے کالے نوٹ سفید ہوں گے۔ تب بھی مودی مودی کے نعرے ان کی ریلیوں میں لگیں گے۔ بھارت کی عوام کی جیب خالی کردی لیکن مودی جی کی تقریر فن اور لاجواب ہمت کا غیر ملکی فائننشیل سروسز پر کوئی خاص اثر نہیں پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ امریکی ریٹنگ ایجنسی موڈیز ہندوستان کی اقتصادی حیثیت کو بڑھانے کو تیار نہیں ہے۔ یعنی کالے دھن کے خلاف ان کے ذریعے اٹھائے گئے نوٹ بندی اور دوسرے اقدامات پر ابھی دنیا کے نامور اقتصادی ادارے کوئی فیصلہ نہیں دیناچاہتے بلکہ انہیں اس کے اثرات کا انتظار ہے۔اس کے برعکس سرکار بے چین ہے۔ اس کی عالمی اقتصادی پوزیشن کی مانیتابڑھے اور سرمایہ کاری آئے۔ موڈیز نے 16 نومبر کو لکھے اپنے خط میں صاف کہا ہے کہ حکومت ہند کی کوششوں سے ابھی وہ مقصد حاصل نہیں ہوسکا جس کی بنیاد پر ریٹنگ بہتر بنائی جاسکے۔ موڈیز دیش پر لمبے قرض اور بینکوں کی بری مالی حالت کو کمزور ریٹنگ کی وجہ مانتی ہے۔ اس نے جائزہ پیش کیا ہے کہ بینکوں کے 136 ارب ڈالر ڈوب رہے ہیں اور سرکار کا قرض بھلے ہی گھٹا ہو لیکن اس کا سود کافی بڑھ گیا ہے۔ فائننشیل سروسز دینے والی گلوبل فرم مارگن اسٹین لی کا ماننا ہے کہ نوٹ بندی سے انڈین اکنامی کو کوئی فائدہ ہونے والا نہیں ہے۔ اگر سرکار کرپشن کو روکنا چاہتی ہے تو اس کے لئے نوٹ بندی ناکافی ہے۔ کرپشن کو روکنے کے لئے سرکار کو دوسرے قدم اٹھانے ہوں گے۔ مارگن اسٹین لی کے مطابق بحران کے وقت میں ہی نوٹ بندی کا استعمال ہوتا ہے اور اس میں دو رائے نہیں ہے کہ نوٹ بندی کے ذریعے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش ہورہی ہے۔
(انل نریندر)

28 دسمبر 2016

اٹل جی کی شخصیت عہدے سے ہمیشہ بالاتر رہی ہے

سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی دیش کی سیاست کے نایاب لوگوں میں سے ہیں جن کی شخصیت کا قد ان کے عہدے سے ہمیشہ اونچا رہا ہے۔ اٹل جی کثیر خوبیوں کے مالک شخصیت کے دھنی ہیں۔ ایک منجھے ہوئے سیاستداں ،مثالی منتظم اور ادیب ، کوی ،پختہ نظریات کے عوام کے ہیرو ہیں۔ جن کے لئے آج بھی لوگوں میں عزت اور محبت ہے۔ اٹل جی کو بچپن سے ہی ادیب اور صحافی بننے کی تمنا تھی۔ پڑھائی پوری کرنے کے بعد اٹل بہاری واجپئی نے صحافت میں اپنا کیریئر شروع کیا۔ انہوں نے راشٹر دھرم، پانجنہ اور ویر ارجن اخبارات کو ایڈٹ کیا۔ اپنی باصلاحیت طریقہ کار سے سیاست کے ابتدائی دنوں میں ہی انہوں نے اپنا رنگ جمانا شروع کردیا تھا۔ اٹل جی سے میرے اچھے رشتے اور روابط رہے ہیں۔ مجھے ان کے ساتھ اقوام متحدہ (امریکہ) انڈونیشیا جانے کا فخرحاصل ہوا۔ اکثر میں ان سے ملتارہتا تھا۔ اگر انہیں میرا کوئی اداریہ پسند نہیں آتا تو وہ فون کرکے اپنی نا اتفاقی کا اظہار کر دیتے۔ عوام اور ان کے پریمی ان کی طبیعت اور موجودہ حالات کے بارے میں اکثر مجھ سے پوچھتے ہیں۔ 25 دسمبر کوان کی 92 سالگرہ پر کافی گہما گہمی رہی۔ صبح صبح وزیر اعظم نریندر مودی اور بھاجپا صدر امت شاہ سمیت پارٹی کے کئی بڑے نیتا انہیں مبارکباد دینے پہنچے۔ وی وی آئی پی آمدورفت کے سبب پورا علاقہ چھاؤنی میں تبدیل تھا لیکن وہیں اسے دیکھ کر اٹل جی ہر آنے جانے والے کو نظریں ٹکا کر دیکھتے رہے لیکن چاہ کربھی کچھ نہیں کہہ پا رہے تھے۔ افسوس جس شخصیت کی آواز کی ساری دنیا قائل تھی اس آواز نے ہی ان کا ساتھ چھوڑ دیا۔ اٹل جی کئی سال سے علیل ہیں اور بستر پر ہیں ۔ صرف اشاروں میں بات کرتے ہیں۔ ان کے چاہنے والے ضرور جانناچاہتے ہیں کہ وہ کیسے دکھائی دیتے ہیں، کیا کھاتے ہیں ، کیا پہنتے ہیں، چل پھر پاتے ہیں یا نہیں، پہچان پاتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ 2004 ء لوک سبھا چناؤ میں بھاجپا کی ہار کے کچھ مہینے بعد ہی سے اٹل بہاری واجپئی سیاسی پس منظر سے تقریباً غائب ہوگئے ہیں۔ بڑھاپا اور بیماری کے چلتے وہ ڈاکٹروں کی نگرانی میں اپنے گھر پر ہی رہنے کو مجبور ہیں۔ اٹل جی کے ساتھ سائے کی طرح رہنے والے شیوکماران کی دیکھ بھال میں لگے ہیں۔ صبح اٹھ کر اٹل جی ہر روز کسرت کرتے ہیں۔ انہیں چار ڈاکٹروں کی ٹیم صبح ایکسرسائز کرواتی ہے ۔ اس کے بعد ڈاکٹروں کے مشورے پر انہیں ناشتہ میں دلیہ، دودھ ، بریڈ اور جوس دیا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ بھی سچ ہے کہ وہ خود سے نہیں چل پاتے انہیں اٹھانے بٹھانے کے لئے سہارے کی ضرورت پڑتی ہے۔ انہیں گھر میں ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کے لئے وہیل چیئر کی مدد لی جاتی ہے۔ شیو کمار کے مطابق اٹل جی اب بہت کم بولتے ہیں لیکن ان کا انداز آج بھی وہی ہے۔ وہ اب بھی ٹھہراؤ کیساتھ کوئی بات کہتے ہیں۔ زبان لڑکھڑاتی ہے اس لئے زیادہ اپنی باتیں اشاروں میں کرتے ہیں۔ پوری زندگی سیاست میں کھپا دینے والے اٹل بہاری واجپئی عمر کے اس پڑاؤ میں بھی دیش ۔ دنیا کے حالات جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ شیو کمارنے بتایا کہ پچھلے سال تک وہ اخبارات پڑھ لیا کرتے تھے لیکن اب کمر اور نظر دونوں ہی انہیں یہ عادت چھوڑنے پر مجبور کر چکی ہے۔ ناگزیں سیاست زندگی میں ہمیشہ مشکل اور آسان راستہ ڈھونڈنے والے اٹل جی نے دیش دنیا کے حالات سے واقف رہنے کا راستہ بھی نکال لیا ہے۔ وہ اب ٹی وی اسکرین پر کوئی اچھی خبر دیکھتے ہیں تو ان کے چہرے پر ایک سادگی بھری مسکان دکھائی پڑتی ہے۔ اٹل جی کا حال چال پوچھنے والوں میں لال کرشن اڈوانی، راجناتھ سنگھ شامل ہیں۔ اکثر وہ آتے جاتے رہتے ہیں۔ اڈوانی جی ان کے پاس آکر گھنٹوں بیٹھتے ہیں۔ اٹل جی کو دیکھتے رہتے ہیں۔ کئی بار تو وہ اٹل جی کی نگرانی والے ڈاکٹروں سے بھی بات کرتے ہیں یہ ہے اٹل جی کے دن کی شروعات ۔ اٹل جی کی صحت کو دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔
(انل نریندر)

جاتے جاتے اوبامہ نے اسرائیل کو دیا جھٹکا

امریکہ کے نئے منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیل حمایتی لابی کے زبردست دباؤ کے باوجود اوبامہ انتظامیہ نے اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے اس ریزولوشن کو منظور ہونے دیا جس میں اسرائیل کے ذریعے متنازعہ علاقے میں بستیوں کی تعمیر کرنے کی مذمت کی گئی تھی۔ امریکہ پر اس مذمتی ریزولوشن کو ویٹو کے ذریعے روکنے کا دباؤ تھا۔ اقوام متحدہ نے اسرائیل سے مانگ کی ہے کہ وہ فلسطینی علاقے سے ناجائز طور پر بنی یہودی بستیوں کو ہٹائے۔بھاری دباؤ کی پرواہ نہ کرتے ہوئے امریکہ نے اسرائیل سے فلسطینی علاقے سے ناجائز بستیاں تعمیرکرنے سے روکنے کی مانگ کرنے والے ریزولوشن پر اقوام متحدہ سکیورٹی کونسل میں اپنے ویٹو پاور کا استعمال کرنے سے بچتے ہوئے اسے پاس کرنے کی کونسل کو منظوری دے دی۔یہ اہم ترین لمحہ ہے جب امریکہ نے اپنے ویٹو پاور کا استعمال نہیں کیا اور نہ ہی ووٹنگ میں حصہ لیا۔ سکیورٹی کونسل کے اس ریزولوشن کی مخالفت اسرائیل کے علاوہ امریکہ کے نئے منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کررہے تھے۔ ٹرمپ نے اس ریزولوشن پر رد عمل ظاہرکرتے ہوئے ٹوئٹر پر لکھا : اقوام متحدہ کے لئے 20 جنوری کے بعد حالات بدل جائیں گے۔ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر سامنتھا پارکر کا کہنا ہے کہ ناجائز یہودی بستیاں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان دو ملکوں میں مسئلے کے حل میں روڑا بنی ہوئی ہیں۔ اقوام متحدہ نے ان ناجائز یہودی بستیوں کو ناجائز قرار دیا ہے اور یہاں ناجائز یہودی بستیوں کی تعمیر بڑھی ہے۔مغربی کنارے کی ناجائز یہودی بستیوں میں ابھی 430000 سابقہ یروشلم میں 2 لاکھ یہودی رہ رہے ہیں اور فلسطین مشرقی یروشلم کو مستقبل کی راجدھانی کی شکل میں دیکھتے ہیں۔ اس درمیان اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نتن یاہو کے دفتر نے کہا کہ اسرائیل اقوام متحدہ میں اسرائیل مخالف اس شرمناک ریزولوشن کو مسترد کرتا ہے اور اس پر تعمیل نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اوبامہ انتظامیہ اقوا م متحدہ میں اس جماوڑے سے اسرائیل کی حفاظت کرنے میں نہ صرف ناکام رہا بلکہ اس نے پردے کے پیچھے سانٹھ گانٹھ کی ہے۔ دفتر نے کہا کہ اسرائیل (امریکہ) کے نئے منتخب ڈونلڈ ٹرمپ اور کانگریس ریپبلکن پارٹی اور ڈیموکریٹک پارٹی میں ہمارے سبھی دوستوں کے ساتھ کام کرکے اس بے تکے ریزولوشن کے نقصاندہ اثرات کو ختم کرنا چاہے گا۔ ووٹنگ سے دو دن پہلے ہی ایک اسرائیل افسر نے امریکہ پر اسرائیل کو منجھدار میں چھوڑنے کا الزام لگایا تھا۔ دراصل امریکہ اگر ویٹو اختیار کا استعمال کرتا تو ریزولوشن مسترد ہوجاتا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ امریکہ کا یہ قدم اس کے قریب ترین ساتھی اسرائیل کو ڈپلومیٹک پھٹکار والا قدم مانا جارہا ہے۔
(انل نریندر)

27 دسمبر 2016

کیا نجیب جنگ کے ہٹنے سے دہلی کی جنگ ختم ہوگئی

ایک نیک نیت اچھے انسان نجیب جنگ نے دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر کے عہدے سہ استعفیٰ دے کر سب کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ نجیب جنگ نے اپنے استعفے کے لئے کسی کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا ہے ۔ وہ وزیر اعظم سے ملے بھی لیکن لگتا ہے ان کا عہدہ چھوڑنے کا پکا ارادہ ہے۔ مودی سرکار نے ڈھائی سال کے عہد میں یوپی اے سرکار کے ذریعے مقرر زیادہ تر گورنروں کو بدل دیا لیکن دہلی میں نجیب جنگ برقرار رہے اور دہلی حکومت سے ان کی جنگ بھی جاری رہی۔ ایل جی آفس سے جاری بیان کے مطابق جنگ واپس اپنے تعلیمی میدان میں لوٹ جائیں گے۔ انتہائی قریب ترین ذرائع کے مطابق تذکرہ ہے کہ مرکز میں اعلی لیول سے ہٹنے کیلئے کہاگیاتھا۔ کئی بار آپ سرکار کے خلاف زیادہ ہی سرگرمی بھاجپا اور مرکز کے مسئلے ان کے لئے مصیبت بن گئے تھے۔ بتایا جاتا ہے نجیب کے بی جے پی اور آر ایس ایس میں رشتے نہ کے برابر تھے۔ بھاجپا نیتا ڈاکٹر سبرامنیم سوامی بھی ان پر کانگریس کے اشارے پر کام کرنے کا الزام لگا چکے ہیں۔ اگلے برس دہلی میونسپل کارپوریشن کے چناؤ ہونے ہیں۔پچھلا اسمبلی چناؤ بری طرح ہار چکی بھاجپا کے کئی لیڈر کافی وقت سے نجیب جنگ کو ہٹوانا چاہتے تھے۔ وجہ کچھ بھی رہی ہو لیکن حقیقت یہ ہے کہ نجیب جنگ کا اچانک یوں استعفیٰ دینا کئی سوال چھوڑ گیا ہے۔ بنیادی سوال ہے دہلی حکومت اور مرکز کے اختیارات کا۔ مسٹر کیجریوال کے بہت سے فیصلے اس لئے جنگ صاحب نے روکے کیونکہ آئین جس طرح سے یہ فیصلے لیا گیا اس کی اجازت نہیں دیتا۔ دہلی انتظامیہ کی کمان کو لیکر کیجریوال کے ساتھ چلے شہ مات کے کھیل میں تب بڑی کامیابی ملی تھی جب دہلی ہائی کورٹ نے صاف کیا تھا کہ دہلی مکمل ریاست نہیں ہے اور لیفٹیننٹ گورنر ہی انتظامی چیف ہے۔ حالانکہ سپریم کورٹ نے اپنی پچھلی سماعت میں یہ کہا ہے کہ دہلی سرکار کے پاس کچھ اختیار تو ہونے ہی چاہئیں جس سے وہ کام کرسکے، اس معاملے پر اگلی سماعت جنوری میں ہونی ہے۔ امید ہے کہ تب تک دہلی کو نیا لیفٹیننٹ گورنر مل جائے گا۔ ابھی کم از کم مزدوری اضافہ سلم پالیسی ، بس لین میں جرمانہ، محلہ کلینک اور ترقیاتی کام سمیت کئی فائلوں پر سفارش کے بعد اصلاح کرکے منظوری کے لئے بھیجنا تھا۔ اب ان اسکیموں میں دیری اور بڑے گی۔ جنگ نے تنازعوں کے درمیان ایک بار پھر پریس ریلیز جاری کرکے کہا تھا کہ وی کے شنگلو کی رہنمائی والی کمیٹی نے جو فائلیں پرکھی ہیں اس میں کئی طرح کی بے قاعدگیاں اور قاعدے قوانین کی خلاف ورزی ملی ہے۔ کچھ معاملوں کو سی بی آئی کو بھیجے جانے کے پروسس میں ہے۔ ایسے میں شنگلو کمیٹی نے 27 نومبر کو اپنی رپورٹ ایل جی کوسونپ دی۔ نئے لیفٹیننٹ گورنر کو اس کا فیصلہ کرنا ہوگا ساتھ ہی جو قریب 200 فائلیں راج نواس میں پڑی ہیں ان کا کیا ہوگا؟ ظاہر ہے دہلی ابھی آئینی عمل کی پوزیشن میں ہے۔ نئے لیفٹیننٹ گورنر کا کام کرنا ایک بڑی چنوتی ثابت ہوگی۔ 
(انل نریندر)

فی الحال نوٹ بندی کا نقصان۔ فائدہ کس کو

اگر ہم یہ کہیں کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے نوٹ بندی کرکے نہ صرف اپنا سیاسی مستقبل داؤ پر لگادیا ہے بلکہ اپنی پارٹی کا بھی مستقبل کافی حد تک نوٹ بندی کی کامیابی پر ٹک گیا ہے۔گزشتہ دنوں میری ایک سینئر بھاجپا لیڈر سے بات ہورہی تھی پہلے تو وہ مودی جی کی تعریفوں کے پل باندھ رہے تھے پھر مان گئے کہ بات اتنی آسان نہیں ہے، جتنی بتائی جارہی ہے۔ لمبی بحث کرتے ہوئے انہوں نے کچھ لمبی سانس لی ،بولے کہ ایسا ہے یہ سمجھ لو کہ مودی جی نے خود کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ ساتھ ہی فی الحال پارٹی بھی داؤ پر لگ گئی ہے۔آخر کار کہنے لگے کہ اچھا خاصہ معاملہ جما ہواتھا پی او کے میں سرجیکل اسٹرائک کا اثر سال بھر تک نہیں ختم ہونا تھا، اس کا فائدہ پارٹی کو ملتا۔ پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ تو نمٹ جانے دیتے؟ اب اپنی امیج اور پارٹی دونوں کے لئے سوال کھڑے ہوگئے ہیں۔ دیش کے اندر جو حالات ہیں وہ سب کے سامنے ہیں لیکن اب تو بیرونی ممالک میں بھی نوٹ بندی پر سوال کھڑے کئے جارہے ہیں۔ نوٹ بندی کا ونر فی الحال کون ہے؟ وہ جمع خور جنہوں نے اپنے جمع کئے ہوئے ہر نوٹ کو سفید کرلیا، کالے دھن کو سفید کرنے والے دلال، کرپٹ بینک ملازمین کو سب سے زیادہ فائدہ ہوا۔ وہ بینک افسر جنہوں نے پرانے نوٹوں کے بدلے نئے نوٹوں کے بنڈل ٹیکس چوروں و کرپٹ افسروں کو دئے۔ یہ سارے عناصر خیالی طور سے کامیاب ہوئے اور انہوں نے عام طور پر یہ پکا کردیا کہ15,44000 کروڑ روپے کے رقم کا ہر ایک روپیہ بینکنگ سسٹم میں لوٹ جائے گا۔ ہارا کون؟ اوسطاً آدمی جسے اپنے ہی کھاتے کا پیسہ نکالنے کے لئے بار بار بینک جانے کے لئے مجبور کیا جارہا ہے۔ وہ شخص جس کے پاس کچھ پرانے نوٹ تھے اور کسی بینک شاخ تک نہیں پہنچے تھے(دوری کے سبب) اور جسے کم قیمت پر اپنے نوٹ بدلنے پڑے۔ وہ گرہستن جسے تھوڑے پیسوں کے لئے ہاتھ پھیلانے پڑ گئے تاکہ وہ دن میں کم سے کم ایک بار خاندان کے کھانے کا انتظام کرسکے۔ وہ مریض جو پاس میں پیسہ نہ ہونے سے اپنا علاج نہیں کرا سکا۔ وہ طالبعلم جس کے پاس کھانے کے لئے قریب کے گرودوارے کے لنگر کا سہارا لینے کے سوائے کوئی سہارا نہ تھا، وہ کسان، جس کے پاس بیج یا کھاد خریدنے یا مزدور کو مزدوری دینے کے لئے پیسہ نہیں تھا اور اس طرح جس کی پیدوار ماری گئی۔ کالے دھن پر لگام کسنے کیلئے لئے گئے نوٹ بندی کے فیصلے پر دوسرے ممالک میں بھی بحث چھڑی ہوئی ہے۔کئی ممالک کے بڑے اخبارات نے اس پر اپنی رائے ظاہر کی ہے۔ نیویارک ٹائمس نے لکھا ہے بھارت میں غلط پالیسیوں سے بنتا کالادھن ، ظاہر طور پر بھارت میں ڈیمونیٹائزیشن ، کرپشن، دہشت گردی کی مالی مدد اور مہنگائی کو قابو کرنے کیلئے لاگو کی گئی تھی لیکن یہ بازار کے خراب حالات کی ادائیگی اور کم وقت کو ذہن میں رکھ کر بنائی گئی پالیسی ہے۔ اس کے ناکام ہونے کا اندیشہ ہے۔ اس کا اثر درمیانہ اور مختلف درمیانے طبقات کے ساتھ غربا کے لئے بھی درد بھرا ہے۔امریکہ کے سابق وزیر مالیات لارینس ایچ سمرس نے بھی اس فیصلے پر شبہ ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ قدم کرپشن روکنے میں بھی پوری طرح اہل نہیں ہے۔ دوسرے اخبار ’دی گارجین‘ نے لکھا ہے کہ بھارت میں لائن لگاکر پیمنٹ کے اس جگاڑ کا خیر مقدم کیا جارہا ہے یہ حیرت انگیز ہے ۔ ایک دوسرے اخبار ’فری ملیشیا‘ کے مطابق بھارت آنے والے سیاحوں کو بھی مودی سرکار کے اس قدم سے کافی پریشانی ہورہی ہے کیونکہ منی چینجرس نے نوٹ بندلنا بند کردیا ہے۔ سنگا پور کے مقامی اخبار ’دی اسٹیٹس ٹائم‘ کے مطابق وہاں پر کافی لوگ پرانے ہندوستانی نوٹوں کو بدلنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن نہ تو بینک اور نہ ہی پیسہ بدلنے والے پرانی ہندوستانی کرنسی کو قبول کررہے ہیں۔ اخبار کے مطابق حکومت ہند کے اس قدم کا اثر صرف بھارت میں ہیں نہیں دیگر ممالک پر بھی پڑے گا۔ آخر میں نیپال کے اخبار ’کاٹھمنڈو پوسٹ‘ کے مطابق سینٹرل بینک، دی نیپال نیشنل بینک نے بھی بھارت میں بند ہوئے نوٹوں پر نیپال میں پابندی لگا دی ہے۔ اس کا اثر نیپال میں کاروبار میں بڑے پیمانے پر پڑ رہا ہے، کیونکہ وہاں ہندوستانی کرنسی بہت زیادہ چلن میں ہے۔
(انل نریندر)

25 دسمبر 2016

آخر کیوں ہے’’ تیمور‘‘ نام رکھنے پر اتنا وبال

سوشل میڈیا پر سیف علی خان اور کرینہ کپور کے بیٹے کے نام پر ہنگامہ ہورہا ہے۔ ویسے اپنے بچے کا نام کیا رکھنا ہے یہ تو ماں ۔ باپ و خاندان والوں کا حق ہے لیکن بچے کا نام عام طور پر ایسے آدمی کے نام پر نہیں رکھا جاتا جو کہ صرف اپنے ظلم کے لئے بدنام ہو۔ نام اور بھی رکھے جاسکتے ہیں مثال کے طورپر سکندر، علی، سلطان وغیرہ لیکن تیمور نام اپنی سمجھ میں تو نہیں آیا۔ کیونکہ فلمی ستاروں کی ہر چیز پبلک ہوتی ہے اس لئے سوشل میڈیا پر اس کی جم کر تنقید ہورہی ہے۔
تیمور لنگ آخر کون تھا؟ کیا اسکا نام کوئی اپنے بچے کا نہیں رکھتا جیسے کوئی راون، وبھیشن نہیں رکھتا؟سیف علی خاں اور کرینہ کپور نے اپنے بیٹے کا نام تیمور رکھا تو سوشل میڈیا پر یہ بڑی بحث کا موضوع یوں ہی نہیں بنا۔کئی لوگوں نے بیشک اسے دونوں کا شخصی معاملہ کہاتو کئی لوگوں نے اس بات پر اعتراض جتایا اور کہا کہ ایک ظالم حملہ آور کے نام پر بیٹے کا نام رکھنا غلط ہے۔ آخر تیمور نے بھارت میں ایسا کیا کیا تھا؟ تاریخ داں مانتے ہیں کہ چغتائی منگولوں کے خان تیمور لنگ کا ایک ہی سپنا تھا وہ یہ کہ اپنے آباؤ اجدادچنگیز خاں کی طرح ہی وہ پورے یوروپ اور ایشیا کو اپنے قبضے میں کرلے لیکن چنگیز خاں جہاں پوری دنیا کو ایک ہی سلطنت میں باندھنا چاہتا تھا تیمور کاارادہ صرف لوگوں پر دھونس جمانا تھا۔ ساتھ ہی ساتھ اس کے فوجیوں کواگر لوٹ کا کچھ مال مل جائے تو اور بھی اچھا۔ چنگیزاور تیمور میں ایک بڑا فرق تھا۔ چنگیز کے قانون میں سپاہیوں کو کھلی لوٹ پاٹ کی مناہی تھی لیکن تیمور کے لئے لوٹ اور قتل عام معمولی باتیں تھیں۔ ساتھ ہی تیمور ہمارے لئے ایک بایوگرافی چھوڑگیا جس سے پتا چلتا ہے کہ ان تین مہینوں میں کیا ہوا جب تیمور بھارت میں تھا۔ عالمی جیت کے چکر میں تیمور 1398 عیسوی میں اپنی گھوڑ سوار فوج کے ساتھ افغانستان پہنچا۔ جب واپس جانے کا وقت آیا تو اس نے اپنے سپہ سالاروں سے مشورہ کیا۔ ہندوستان ان دنوں کافی امیر مانا جاتا تھا۔ 
ہندوستان کی راجدھانی دہلی کے بارے میں تیمور نے کافی کچھ سنا تھا۔ اگر دہلی پر ایک کامیاب حملہ ہو تو لوٹ میں بہت مال ملنے کی امید تھی۔ تب دہلی کے شاہ نصیر الدین محمود تغلق کے پاس ہاتھیوں کی ایک بڑی فوج تھی۔کہا جاتا ہے کہ اس کے سامنے کوئی ٹک نہیں پاتا تھا۔ ساتھ ہی ساتھ دہلی کی فوج بھی کافی بڑی تھی۔ تیمور نے کہا کہ بس تھوڑے ہی دنوں کی بات ہے اگر مشکل پڑی تو واپس آجائیں گے۔ منگولوں کی فوج سندھ ندی پار کرکے ہندوستان میں گھس آئی۔ راستے میں انہوں نے اسپندی نام کے گاؤں کے پاس پڑاؤ ڈالا۔ یہاں تیمور نے لوگوں پر دہشت پھیلانے کے لئے سبھی کو لوٹ لیا اور سارے ہندوؤں کو قتل کروا دیا۔ پاس ہی تغلق پور میں آگ کی پوجا کرنے والے ایزدیوں کی آبادی تھی آج کل ہم انہیں پارسی کہتے ہیں۔تیمور کہتا تھا کہ یہ لوگ ایک دھرم کو مانتے ہیں اس لئے ان کے سارے گھر جلا ڈالے گئے اور جو بھی پکڑ میں آیا اسے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ پھر فوجیں پانی پت کی طرف نکل پڑیں۔ پنجاب کے سمانہ قصبہ اسپندی گاؤں اور ہریانہ کے کیتھل میں ہوئے خون خرابے کی خبر سن پانی پت کے لوگ شہر چھوڑ دہلی کی طرف بھاگے اور پانی پت پہنچ کر تیمور نے شہر کو تہس نہس کرنے کا حکم دے دیا۔یہاں بھاری تعداد میں اناج ملا جسے وہ اپنے ساتھ دہلی کی طرف لے گیا۔ راستے میں لونی کے قلعہ میں راجپوتوں نے تیمور کو روکنے کی کوشش کی۔ اب تک تیمور کے پاس کوئی ایک لاکھ ہندو بندھی تھے۔ 
دہلی پر چڑھائی کرنے سے پہلے تیمور نے ان سبھی کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ یہ بھی حکم ہوا کہ اگر کوئی سپاہی بے قصوروں کو قتل کرنے سے ہچکچائے تو اسے بھی موت کے گھاٹ اتا دیا جائے۔ اگلے دن دہلی پر حملہ کر نصیر الدین محمود کو آسانی سے ہرا دیاگیا۔محمود ڈرکر دہلی چھوڑ جنگلوں میں چلا گیا اور وہاں جا چھپا۔ دہلی میں جشن مناتے ہوئے منگولوں نے کچھ عورتوں کو چھیڑا تو لوگوں نے اس کی مخالفت کی ۔ اس پر تیمور نے دہلی کے سبھی ہندوؤں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر قتل کر وا دیا۔ چار دن تک دہلی شہر خون سے رنگا گیا۔ اب تیمور دہلی چھوڑ کر ازبکستان کی طرف روانہ ہوا۔ راستے میں میرٹھ کے قلعہ دار الیاس کو ہرا کر تیمور نے میرٹھ میں بھی تقریباً 300 ہزار ہندوؤں کا قتل کروایا۔ یہ سب کرنے میں اسے محض 3 مہینے لگے اور ان تین مہینوں میں اس نے ہزاروں ہندوؤں ، مسلمانوں و پارسیوں کا قتل کروادیا۔ دہلی میں وہ 15 دن ہی رہا پر ان 15 دنوں میں اس نے دہلی کو اجاڑدیا۔ سینکڑوں عورتوں کا بلاتکار کرایا۔ اب آپ بتائیں کہ کوئی بھی سمجھدار شخص’’ تیمور‘‘ کے نام پر اپنے بچے کا نام رکھ سکتا ہے؟
(انل نریندر)

24 دسمبر 2016

راہل گاندھی کا ’’بھوکمپ‘‘

کانگریس نائب صدر راہل گاندھی نے گجرات کے مہسانہ میں ایک بڑے عوامی جلسے کو مخاطب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی پر صنعتی گھرانوں سے کروڑوں روپئے لینے کا جو الزام لگایا ہے وہ سننے میں بھلے ہی سنسنی خیز لگتا ہو پر اس میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ یہی الزام دہلی کے وزیرا علی اروندکیجریوال دہلی اسمبلی میں بھی لگا چکے ہیں۔اسی الزام کوثابت کرنے کے لئے سپریم کورٹ نے مناسب ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے اسے بے بنیاد تک بتادیا ہے جبکہ کورٹ میں کیس کرنے والے وکیل بھی اب تک کوئی نئے حقائق نہیں لا پائے۔ کل ملاکر معاملہ یہ ہے کہ دو صنعتی گھرانوں کے یہاں سے ایک انکم ٹیکس ریٹ میں کئی دستاویز برآمدہوئے تھے۔ برآمد دستاویزات میں کئی سیاسی لیڈروں کو سال 2013ء میں رشوت دینے کی بات درج ہے۔ اس طرح کے خلاصے کوئی پہلی بار نہیں ہوئے ہیں۔ قریب دو دہائی پہلے جین بندھوؤں کی ڈائری میں بھی ایسے ہی کئی سیاسی لیڈروں کو پیسے دینے کا خلاصہ ہوا تھا۔ اس واقعہ نے بھارتیہ سیاست کو جھنجھوڑ کر بھلے ہی رکھ دیاتھا لیکن آخر کر کچھ بھی ثابت نہیں ہو پایا تھا۔اس سے بھی پہلے وشوناتھ پرتاپ سنگھ بوفورس معاملہ میں سورگیہ راجیو گاندھی پر رشوت لینے کا الزام لگا کر انہیں اقتدار سے باہر کردیا تھا۔ وی پی سنگھ نے بیشک ایسا ماحول بنا دیا تھا جس کا خمیازہ راجیو گاندھی کو اٹھانا پڑا حالانکہ وہ نہ تو کسی رشوت خور کا نام بتا سکے اور نہ کبھی اپنے الزامات ثابت کرسکے اس لئے صرف دستاویز میں نام ہونے یا الزام لگانے سے کوئی مجرم نہیں ہوجاتا۔ یہاں تھوڑا فرق ضرور ہے ، یہا ں پر الزام ان دستاویزوں کی بنیاد پر لگایا جارہا ہے جو انکم ٹیکس محکمہ کو چھاپوں میں ملے۔ یہ کوئی ذاتی ڈائری میں لکھا کوئی صفحہ نہیں ہے۔
کانگریس نے وزیر اعظم نریندر مودی پر لگے الزام کی جانچ کی مانگ کی ہے۔ پارٹی کے ترجمان رندیپ سرجے والا نے بدھوار کو کہا کہ وزیر اعظم کے اعتماد پر سوال اٹھے ہیں ایسے میں انہوں نے پیسے لئے ہیں یا نہیں ؟ اگر وزیر اعظم نے پیسے نہیں لئے ہیں تو انہیں جانچ سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہئے۔ سرجے والا نے کہا کہ بھاجپا نیتاؤں کو گالی گلوچ پر اترنے کی ضرورت نہیں ہے۔ راہل گاندھی نے صرف اتنا سوال پوچھا ہے کہ وزیراعظم نے پیسے لئے یا نہیں کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ وزیراعظم پاک صاف ابھر کر آئیں۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ وزیر اعظم سے ملاقات کرنے کے کچھ ہی دن بعد ان پر الزام لگانے کی ہڑبڑی میں راہل نے یہ بھی نہیں سوچا کہ یہ کوئی نیا الزام نہیں ہے جسے عدالت عظمیٰ ناکافی بتا چکی ہے اس کے بعد بھی وہ یہ دعوی کررہے ہیں کہ سنسد میں اس بارے میں ان کے بولنے پر ’’بھوکمپ‘‘ آسکتا ہے اس لئے انہیں سنسد میں بولنے نہیں دیا جارہا ہے۔سیاست میں موجودہ بدعنوانی کو بے نقاب کرنا ہی چاہئے پر ثبوتوں کی بنیاد پر۔ بے بنیاد الزاموں سے بچنا چاہئے۔
(انل نریندر)

پے ٹی ایم کا استعمال کتنا محفوظ

وزیر اعظم نریندر مودی کے ذریعے نوٹ بندی کا اعلان کرنے کے بعد سب سے زیادہ فائدہ جن کمپنیوں کو ہوتا دکھائی دے رہا ہے ان میں موبائل پیمنٹ کی سہولت دینے والی کمپنی ’پے ٹی ایم‘ بھی ہے لیکن کیا پے ٹی ایم 100 فیصد محفوظ ہے؟ کیا پے ٹی ایم پر بھروسہ کرنا صحیح ہے؟ آر ایس ایس سے متعلقہ تنظیم نے سوال اٹھائے ہیں پے ٹی ایم میں چین کی کمپنی کی حصہ داری کو لے کر منچ کا کہنا ہے کہ قاعدے کے مطابق کسی ہندوستانی کمپنی میں حصہ داری اس کمپنی کے شیئروں میں 50 فیصد سے کم ہے تو وہ بھارتیہ کمپنی نہیں ہے اس لئے ہم نے لوگوں کو پے ٹی ایم کو نہ استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ سودیشی جاگرن منچ کے نائب کنوینر اشونی مہاجن نے بتایا کہ ہم نے پے ٹی ایم میں چینی کمپنی ’علی بابا‘ کی حصہ داری کی کئی رپورٹ پڑھی ہیں۔ ہم’ کیش لیس‘ نظام کی طرف بڑھ رہے ہیں تو ایسے میں ہمیں یہ دھیان رکھنا ہوگا کہ کوئی بھی بھارتیہ کمپنی کسی غیر ملکی کمپنی کے ساتھ اپنا ڈاٹا شیئر نہ کرے۔ ہم پے ٹی ایم کا بائیکاٹ کریں گے۔ اب آتے ہیں پے ٹی ایم کی سکیورٹی کے مدعہ پر۔ پے ٹی ایم کا استعمال کرنے والے ہوشیار ہوجائیں۔ اس کا سسٹم فول پروف نہیں ہے۔ اس کے استعمال سے آپ اپنے اکاؤنٹ کا پورا پیسہ گنوا سکتے ہیں۔ اس کے بعد اگر کمپنی والوں سے رجوع کیا تو وہاں سے بھی نا امیدی ہاتھ لگے گی۔ پوربی دہلی کے شاہدرہ علاقہ میں ایک بیگ کی دوکان چلانے والے دوکاندارکا پے ٹی ایم سے ادائیگی کرنا مہنگا پڑ گیا۔ لوکیش جین نام کا یہ دوکاندار پے ٹی ایم کے ذریعے اپنے بجلی کا بل آن لائن جمع کرا رہاتھا۔پیمنٹ کے دوران ون ٹائم پاسورڈ (او ٹی پی) مانگا گیا ، پاسورڈ دیتے ہی ان کے کھاتے میں جمع 17580 روپئے کی رقم اڑ گئی۔ انہوں نے فوراً اس کی شکایت پے ٹی ایم میں کی۔ وہاں سے ٹکا سا جواب دے دیا گیا کہ پہلے ای۔ میل کرو پھر دیکھتے ہیں۔متاثرہ دوکاندار نے پے ٹی ایم کمپنی کے آپریٹروں کے اس عمل سے دکھی ہوکر تھانے کی راہ پکڑ لی ہے۔متاثر دوکاندار کی شکایت پر شاہدرہ تھانہ پولیس معاملے کی جانچ کررہی ہے۔ مزیدار بات یہ ہے کہ پے ٹی ایم کمپنی کو بھی چونا لگانے کے معاملے سامنے آرہے ہیں۔
ڈیجیٹل کمپنی پے ٹی ایم کو 6.15 لاکھ روپئے کا چونا لگانے والے 15 گراہکوں کے خلاف سی بی آئی نے کیس درج کیا ہے۔ ڈیجیٹل لین دین کی سہولت دینے والی والٹ کمپنی پے ٹی ایم نے سی بی آئی سے شکایت کی ہے کہ 48 گراہوں نے اس کے ساتھ 6.15 لاکھ روپئے کی دھوکہ دھڑی کی ہے۔ ملزم گراہک آرڈر کے پروڈکٹ وصول کر لیتے تھے لیکن اپنے پیکٹ میں دوسری چیزیں ڈال کر ریٹرن کی رکویسٹ کرتے تھے۔ پیکٹ چونکہ بند ہوتا تھا اس لئے واپس چلا جاتا تھا اور پیسے واپس مل جاتے تھے۔ اس طرح وہ پروڈکٹ بھی لیتے تھے اور ریفنڈ بھی ۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ابھی تک بھارت میں ڈیجیٹل لین دین کا سسٹم فول پروف نہیں ہے جوکھم بھرا ہے۔
(انل نریندر)

23 دسمبر 2016

عالمی آتنک واد کا بڑھتا خطرہ

ترکی کی راجدھانی انقرہ میں روس کے سفیر آندرے کارلوف کا قتل ،جرمنی کی راجدھانی برلن میں ٹرک سے جان لیوا حملہ، سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورخ میں اسلامک سینٹر میں فائرننگ یہ واقعات آتنکواد کے بڑھتے دائرے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ آج یوروپ و کئی ملکوں میں اسلامی آتنک واد نے قہر ڈھا رکھا ہے۔ پہلے بات کرتے ہیں ترکی میں روسی سفیر آندرے کارلوف کے قتل کی۔ ترکی کی راجدھانی انقرہ میں روسی سفیر کا تب قتل کردیا گیا جب وہ ایک آرٹ نمائش دیکھنے گئے تھے۔ وہاں جب وہ اسٹیج پر تقریر کررہے تھے تو ایک نامعلوم شخص نے کارلوف کو نشانہ بنا کر اندھا دھند فائرننگ کی۔ گولی چلاتے ہوئے وہ اللہ اکبر،حلب کا بدلہ جیسے الفاظ نکال رہا تھا۔ سیریا میں روس کے رول کو لیکر ترکی میں اس کے خلاف احتجاج کے بعد یہ واقعہ سامنے آیا۔ گزشتہ سال نومبر میں ترکی میں سیریائی مہم میں شامل روس کا ایک جنگی ہوائی جہاز مارگرایاتھا جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تناؤ بہت بڑھ گیا تھا۔روسی سفیر کے قتل کو لیکرترکی کے افسران نے منگلوار کو 6 لوگوں کو حراست میں لیا ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے اعلان کیا ہے کہ ہمیں جاننا ہوگا کہ قاتل کو کس نے احکام دئے تھے۔ سفیر آندرے کارلوف کو ترکی کے پولیس ملازم مویلوت مت الیتاس (22 ) نے چار گولیاں ماری تھیں۔ ادھر جرمنی کی راجدھانی برلن میں بھیڑ بھاڑ والی کرسمس مارکیٹ میں ایک شخص نے سوموار رات قہر برپا دیا۔ اس نے جشن کی تیاریوں اور خریداری میں جٹے سینکڑوں لوگوں کو ٹرک سے روند ڈالا۔ بری طرح کچلے 12 لوگوں کی تو موقع پر ہی موت ہوگئی اور 50 دیگر زخمی ہوئے۔ شروع میں حملہ آور ٹرک ڈرائیور ہونے کے شک میں پاکستان سے آئے رفیوجی نوید (23) کو موقع سے دو کلو میٹر دور پکڑا گیا لیکن بعد میں سکیورٹی ذرائع نے کہا کہ اصلی ملزم اب بھی فرار ہے۔ لوگ اندازہ بھی نہیں لگا پائے تھے کہ ایکا ایک ٹرک بھیڑ کو روندتا چلا گیا۔ وہاں موجودہ لکڑی کے اسٹال اور دوسری چیزیں بھی تہس نہس ہوگئیں۔اس حملہ نے اسی سال جولائی میں فرانسیسی شہر نیس میں ہوئے ٹرک اٹیک کی یاد تازہ کردیں جس میں 86 لوگوں نے جان گنوائی تھی۔ یہ واقعہ برلن کے مشہور قیصر ولہم میموریل چرچ کے پاس انجام دیاگیا، جو علاقہ ٹورسٹوں کے درمیان خاصا مقبول ہے۔ ٹرک کا رجسٹرڈ ڈرائیور جو پولینڈ کا رہنے والا بتایا جاتا ہے، پیسنجر سیٹ پر مرا ہوا پایا گیا۔ پولیس کے مطابق اصلی ڈرائیور نے گاڑی نہیں چلائی۔ 25دسمبر کو دنیا بھر میں کرسمس ہے، یوروپ میں سیلیبریشن کے ماحول کے درمیان ایک بار پھر لوگوں کو ٹیرر کا درد ملا ہے۔ ایک دیگر واقعہ میں ترکی کی راجدھانی انقرہ میں ہی امریکی امبیسی نے ایک بیان میں کہا کہ ایک شخص امریکی امبیسی انقرہ کے مین گیٹ کی طرف آیا اور اس نے گولی چلا دی۔ا س سے کچھ ہی گھنٹے پہلے روسی سفیر کی ہتیا کی گئی تھی۔ یوروپ پوری طرح اسلامی آتنک واد کی چپیٹ میں ہے۔
(انل نریندر)

چائے والا ارب پتی اور درزی کروڑ پتی:واہ کیا بات ہے

نوٹ بندی کے بعد مختلف ایجنسیوں کی جانب سے کالے دھن کے کبیروں کے خلاف کی جارہی کارروائی سے روز روز نئے نئے چونکانے والے خلاصے ہورہے ہیں۔ایسے ایسے لوگوں سے اتنی موٹی رقم پکڑی جارہی ہے جس کا تصور بھی کرنا مشکل ہے۔مثال کے طور پر گجرات کے سورت شہر میں ٹھیلے پر چائے پکوڑے بیچنے سے اپنے کیریئر کی شروعات کرنے والے شخص کے پاس سے 400 کروڑ روپے کی جائیداد ملنا۔ وہیں چنڈی گڑھ میں لوگوں کے کپڑے سل کر گزر بسر کرنے والے درزی کے پاس بھی قریب1 کروڑ سے زیادہ جائیداد ملی۔ ذرائع نے بتایا کہ کشور بھجیا والاکے ٹھکانوں پر چار دن پہلے چھاپہ مارا گیا تھا۔ اس کے ٹھکانوں اور لاکروں کی تلاشی میں ابتک 14 کلو سونا، 1 کلو کے ہیرو جواہرات جڑے زیورات،180 کلو چاندی، 95 لاکھ روپے کے نئے 2000 روپے کے نوٹوں سمیت1.33 کروڑ روپے سے زیادہ کی نقید برآمد ہوچکی ہے۔ اس کے علاوہ غیر منقولہ جائیدادکی کاغذات ملے ہیں جن کی تخمینہ قیمت قریب400 کروڑ روپے ہے۔ انفورسمنٹ ڈپارٹمنٹ نے چنڈی گڑھ میں نجی بینک ایچ ڈی ایف سی کے کسٹمر چیف بھوپندر سنگھ گل کو گرفتار کیا ہے۔ ای ڈی نے بتایا کہ چنڈی گڑھ کے کپڑا کاروباری اندر پال مہاجن کے گھر سے 13 دسمبر کو 2.19 کروڑ روپے کے نئے۔ پرانے نوٹ ملے۔ محکمہ انکم ٹیکس نے لدھیانہ کے ایک زیورات کی دوکان پر چھاپے ماری کر 9 لاکھ روپے کے نئے نوٹ ضبط کئے۔ اس دوران دوکان کے مالک نے 15.40 کروڑ روپے کی بے حساب جائیداد بھی افسران کو سونپی۔ بینکوں سے کالے دھن کو سفید کرنے کی کارگزاری کے روٹ کی جانچ ایجنسیوں نے پتہ لگا لی ہے۔ سرکار کو بینکوں میں معطل پڑے کھاتوں اور ڈورمینٹ کھاتوں میں اچانک لین دین کی جانکاری ملی ہے۔
وزارت مال کے ذرائع کی مانیں تو بینکوں میں فرضی کھاتوں اور جن دھن کھاتوں کے علاوہ ایسے کھاتوں کا پتہ چلا ہے جس میں پرانے نوٹ جمع کر نئے نوٹ اکھٹا کئے جارہے ہیں۔ان میں وہ کھاتے ہیں جو ایک سال سے زیادہ وقت سے کام نہیں کررہے۔ اس کے علاوہ بڑی تعداد میں ڈورمینٹ کھاتے بھی ہیں۔ یاد رہے کہ یہ ایسے کھاتے ہوتے ہیں جن میں قریب 24 ماہ تک کوئی لین دین نہیں ہوا ہوتا۔ بینک میں باقاعدہ اس کی فہرست رکھی جاتی ہے اور نوٹ بندی کے بعد اس فہرست کا استعمال کچھ بینک ملازم اور افسران نے پرانے نوٹوں کو نئے سے بدلنے میں کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ہربینک برانچ میں ایسے کھاتوں کی تعداد 4سے6 فیصد تک ہوتی ہے۔ سی بی ڈی ٹی کے ذرائع کے مطابق بینکوں کی چیسٹ سے اے ٹی ایم میں نئی کرنسی کو بھیجنے کے عمل میں بھی بڑی تعداد میں گڑ بڑیاں پائی گئی ہیں۔ اس معاملے میں بینکوں کے اعلی افسران کو متعلقہ بینک ملازمین سے روزانہ رپورٹ لیکر ایک رپورٹ ایل آئی یو کو بھیجنے کوکہا گیا ہے۔ 65 سے70 فیصد اے ٹی ایم آؤٹ سورسنگ پر کام کررہے ہیں۔
(انل نریندر)

22 دسمبر 2016

نئے فوجی سربراہ کی تقرری پر بے مطلب کا تنازع!\

فوجی سربراہ کے عہدے پر لیفٹیننٹ جنرل وپن راوت کی تقرری کو لیکر تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ اس طرح ایک بار پھر نریندر مودی سرکار اہم عہدوں پر تعیناتی کو لیکر اپوزیشن کی نکتہ چینی کی زد میں آگئی ہے۔ کانگریس اور کمیونسٹ پارٹیوں نے دو اعلی جنرلوں کو نظرانداز کرکے لیفٹیننٹ جنرل راوت کو فوجی سربراہ بنائے جانے کو فوج میں غلط روایت کی شروعات اور فوجی افسران کے حوصلہ پر منفی اثر ڈالنے والا فیصلہ بتایا ہے۔ ان پارٹیوں کا ماننا ہے کہ دو اعلی فوجی افسران کو درکنار کرکے لیفٹیننٹ جنرل راوت کو ترجیح دی گئی لہٰذا ان کی تقرری متنازع ہے۔ ہماری رائے میں یہ تنقید بھی صحیح نہیں اور اس سے بچنا چاہئے۔ نئے فوجی سربراہ کی تقرری و چناؤ سرکار کا خصوصی اختیار ہے۔ بیشک اس میں سینئرٹی کا دھیان رکھا جاتا ہے لیکن وہ اکلوتی آخری وجہ ہوتی ہے تو پھر سرکار کے فیصلے کی شاید ہی کوئی درکار ہی نہیں تھی۔ سینئر افسر کو اپنے آپ فوجی سربراہ مان لیا جاتا کیونکہ ایسا نہیں ہے اس لئے اپنے وقت میں ہر سرکار کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ تمام پہلوؤں کو دھیان میں رکھتے ہوئے سب سے مناسب شخص کااس عہدے پر تقرر کرے۔ اپوزیشن کو سرکار کے کام کاج کی تنقید کرنے کا لوک تانترک اختیار ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سرکار کہ ہر قدم اور خاص کر فوج سے متعلق مسئلوں پر بھی تنقیدی رخ اپنائے۔ سیاسی پارٹیوں کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ فوج کے کام کاج کی جوابدہی سرکار کی ہوتی ہے اگرفوج کسی جنگ میں ناکام ہوتی ہے تو آخر کار یہ سرکار کی ہار مانی جاتی ہے۔ اس لئے اگر سرکارسینئر کے مقابلے کسی جونیئر افسر کو زیادہ باصلاحیت اور زیادہ اہل مانتی ہے تو اسے چننے کا حق بھی ملنا ہی چاہئے۔ موجودہ سرکار نے بھی اپنی سمجھ سے ایسا کیا ہے اور اس پر اعتراض کی کوئی وجہ ہمیں تو نظر نہیں آتی۔ دوسری جانب فوجی سربراہ کے عہدے پر تقرری کے سوال کو ہلکے میں لینا بھی شاید ٹھیک نہیں ہے۔ یہ پہلا موقعہ ہے جب ایک نئی دو دو اعلی جنرلوں کو درکنار کرتے ہوئے تیسرے افسر کو یہ عہدہ دیا گیا۔ اس سے پہلے صرف ایک بار جنرل ایس۔ کے۔ سنہا کی سینئرٹی کو اندیکھا کرتے ہوئے جنرل ارون وید کی تقرری کی گئی تھی۔ حالانکہ اس وقت کی اندراگاندھی سرکار نے مبینہ طور پر جنرل سنہا کے سیاسی خیالات کے چلتے یہ فیصلہ کیا تھا پھر بھی اسے اچھی مثال کے طور پر یاد نہیں کیا جاسکتا۔ دراصل سبھی فوجی افسر اہل ہوتے ہیں لیکن کئی افسروں پر خصوصی صلاحیت کو دھیان میں رکھ کر ہی فیصلے ہوتے ہیں۔ موجودہ وقت میں پاک اور چین سے ہمارے رشتے کشیدہ ہیں اور جنرل راوت دونوں سے ہی نمٹنے میں زیادہ موزوں لگتے ہیں۔
(انل نریندر)

سرکار کو راحت :نوٹ بندی میں دخل سے انکار

مودی سرکار کے نوٹ بندی کے فیصلے پر سرکار کو سپریم کورٹ نے راحت دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس پر دخل نہیں دے گی۔ نوٹ بندی کے فیصلے کو سرکاری خزانہ نیتی قراردیتے ہوئے سپریم کورٹ نے فی الحال اس میں دخل دینے سے انکارکردیا۔ نوٹ بندی کا مدعہ سیاسی اور سماجی طور سے اہم تو ہے ہی اب یہ قانونی طور سے بھی اہم ہو گیا ہے۔ گذشتہ نومبر کو 500 اور 1000 روپے کے نوٹ چلن سے باہر کرنے کے بعد عوام الناس کے دل میں یہی سوال تھے جو شکروار کو سپریم کورٹ نے بھی اٹھائے۔ آخرکسی شہری کو پراپرٹی کے حق سے کیسے محروم کیا جاسکتا ہے؟ ایسا مناسب قانونی عمل سے کیا جاسکتا ہے لیکن مرکز ی سرکار کے ذریعے اٹھائے گئے قدم آئین اور قانون کی نظر میں کتنے ٹکتے ہیں اس پر عام لوگوں کے ساتھ ساتھ قانون کے جانکاروں کی نگاہیں بھی لگی ہوئی ہیں۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی ہدایت دی کہ نوٹ بندی سے متعلق مختلف ہائی کورٹوں اور دیگر عدالتوں میں چل رہے مقدموں کو اب صرف سپریم کورٹ ہی سنے گی۔ اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے اس معاملے کو پانچ ممبری آئینی بینچ کے پاس بھیجتے ہوئے اس کے سامنے ٹیسٹ کے لئے 9 سوال رکھے ہیں۔ یہ فیصلہ بینچ نے اس لئے لیا ہے کہ نوٹ بندی کو لیکر الگ الگ اختلافی آرڈر سے دو چار نہ ہونا پڑے۔عدالت عظمیٰ نے 24 ہزار روپیہ فی ہفتے بینک سے نکالنے کی حد میں بھی کوئی ترمیم نہیں کی۔
عدالت عظمیٰ نے امید جتائی ہے کہ سرکار عام جنتا کو ہو رہی مشکلات کو دھیان میں رکھتے ہوئے جتنا ممکن ہوسکے گا اپنے اس وعدے کو پورا کرے گی۔ اٹارنی جنرل نے قبول کیا کہ پرانے نوٹوں کے بدلنے میں کچھ گڑبڑیاں سامنے آئی ہیں۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے میں پانچ ممبری آئینی بینچ کی جانچ کے لئے 9 سوال رکھے ہیں کیا 8 نومبر کو جاری نوٹیفکیشن آر بی ایکٹ کی دفعہ 26(2),7,17 وغیرہ کی خلاف ورزی ہے۔ کیا نوٹیفکیشن آئین کی دفعہ 300(a) کی خلاف ورزی ہے؟ اگر یہ مانا جائے کہ یہ آر بی ایکٹ کے تحت جائز ہے لیکن کیا یہ آئین کی دفعہ 14 اور 19 کے خلاف تو نہیں ہے۔ کیا 8 نومبر کا نوٹیفکیشن اور اس کے بعد جاری نوٹیفکیشن کی عمل آوری میں خامیاں ہیں یا وہ غیر معقول تو نہیں ہیں؟ بینکوں۔ اے ٹی ایم سے رقم نکاسی کی حد طے کرنا حقوق کی خلاف ورزی تو نہیں؟ کورٹ مالی پالیسیوں میں دخل دے سکتا ہے؟ کیا کوآپریٹیو بینکوں پر لگائی گئی روک مناسب ہے؟ کیا آئین کی دفعہ ۔32 کے تحت سیاسی پارٹیاں اپیل دائر کرسکتی ہیں؟ اور آخر میں اگر دفعہ ۔26 کے تحت نوٹ بندی کی اجازت دی گئی تو کیا ایگزیکٹیو پاور کا ضرورت سے زیادہ استعمال تو نہیں؟ کیا اس وجہ سے یہ آئین کے خلاف تو نہیں؟
(انل نریندر)

21 دسمبر 2016

نوٹ بندی سے چھنتا روز گار

ملک میں معاشی معاملوں کے کئی ماہرین دعوی کررہے ہیں کہ نوٹ بندی سے آئندہ وقت میں ملک کے معاشی حالات سدھریں گے اور معاشیات کالے دھن سے پاک ہونے کی وجہ سے مضبوط ہوگی۔ بیشک ایسا ہو بھی سکتا ہے لیکن فی الحال تو ہمیں نوٹ بندی کی وجہ سے کئی دقتیں نظر آرہی ہیں۔اس کے برے نتائج سے بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔ سرکار کی نوٹ بندی سے عام لوگوں و مزدوروں کے روبرو روزی روٹی کا مسئلہ کھڑا ہوگیاہے۔ ملک کے مختلف حصوں سے مزدوروں کے بے روزگار ہونے کی خبریں آرہی ہیں۔ دہلی پردیش کانگریس کمیٹی نے مرکزی سرکار پر حملہ بولتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ نوٹ بندی کے فیصلے نے دہلی میں بے روزگاری بڑھا دی ہے۔ دہلی پردیش ادھیکش اجے ماکن نے کہا کہ نوٹ بندی کی وجہ سے 48.63 لاکھ غیر منظم مزدوروں کا روزگار چھننے کی کگار پر ہے۔ ان پر بے روزگاری کی تلوار لٹک گئی ہے۔ ماکن نے کہا کہ نوٹ بندی کی وجہ سے خوردہ بکری میں 88-90 فیصدی تک کمی آئی ہے۔ پیداوار میں 80 فیصدی تک کمی آئی ہے جس کے نتیجے میں نوکریوں میں کمی آنے کی وجہ سے بے روزگاری بڑھی ہے۔ کالے دھن پر وزیر اعظم نریندر مودی کی ’’سرجیکل اسٹرائک‘‘ کے بعد 1857 کی میرٹھ کا صرافہ کاروبار سونا۔چاندی کے زیورات بنانے کے کاروبار کی حالت بہت ہی خراب ہو گئی ہے وہیں پشچمی بنگال میں اور مہاراشٹر سے آکر زیورات بنا کر خاندان کا پیٹ پالنے والے 30 ہزار سے زیادہ کاریگر اب روزی روٹی کے مسئلے سے جوجھ رہے ہیں۔ نوٹ بندی کی وجہ سے پشچمی بنگال میں دو بیڑی کارخانے بند ہوگئے ہیں۔ ایک کارخانے کے مالک ریاست کے وزارت محنت کے وزیر مملکت ذاکر حسین خود ہیں۔ دونوں کارخانے مرشید آباد ضلع میں ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ نوٹ بندی کی وجہ سے نقد میں کاریگروں کو ادائیگی میں قاصر رہنے کے بعد کارخانہ مالکوں نے تالہ بندی کا فیصلہ کیا ہے۔اس میں قریب پونے تین لاکھ مزدور بے روزگار ہوگئے ہیں۔ سرکار کی نوٹ بندی سے عام لوگوں و مزدوروں کے الگ الگ مسئلے پیدا ہوگئے ہیں۔ نوٹ بندی کی وجہ سے لوگ اپنے گھروں و دوکانوں کی مرمت بھی نہیں کرا پارہے ہیں جس سے دیہاڑی مزدوروں کے سامنے کام نہ ملنے سے روزی روٹی کا مسئلہ گہرانے لگا ہے۔ شہری و دیہی علاقوں میں پھیرے لگا کر روز مرہ کے ضروری سامان بیچنے والے الگ پریشان ہیں۔بازار پرمندی کی مار پڑی ہوئی ہے۔ شادی بیاہ کا سیزن ہونے کے باوجود ویاپاری گراہک کے نہ آنے سے ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے ہیں۔ نوٹ بندی کی مار سے اناج منڈی بھی نہیں بچی ہے۔ کئی دنوں سے نئے نوٹ نہ ہونے کی وجہ سے منڈی کا کاروبار ٹھپ پڑا ہے۔ نوٹ بندی کی وجہ سے بڑی تعداد میں روز گار چھننے کی اطلاعات سے سرکار بھی پریشان ہے۔ حالات کا اندازہ کرنے کے لئے وزارت محنت و روزگار کے اعلی افسران کو پورے ملک میں بھیجا جارہا ہے۔ سرکار ایک مشکل یہ بھی ہے کہ اس کے پاس روزگار سے متعلق جو اعدادو شمار ہیں وہ ستمبر تک کے ہیں جس میں نوٹ بندی کے بعد روزگار پر پڑے اثر کا اندازہ ابھی تک نہیں ہوپا رہا ہے۔ روزگار کے اعدادو شمار سہ ماہی ہی مل پاتے ہیں جو سرکاری طور پر جنوری میں ہی دستیاب ہو سکیں گے۔ وزارت محنت و روزگار کو یہ خبر پہنچ چکی ہے کہ نقدی کی کمی کے چلتے بہت بڑی تعداد میں چھوٹے اور درمیانہ سطح کی صنعتی اکائیوں میں بندی کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ سرکار کو بھی لگاتار یہ جانکاری مل رہی ہے کہ کھیتی ہر مزدور سے لیکر تعمیری صنعت اور سروس سیکٹر کا بڑا برا حال ہے۔ وہاں یا تو بڑی تعداد میں روزگارچھن گئے ہیں یا پھر ہاتھ سے نکلنے کی حالت میں پہنچ گئے ہیں۔ عمارتی تعمیر ، ٹورازم ، صنعت اور ہوٹل میں کام کافی متاثر ہوا ہے۔ کام گھٹ کر 30 فیصد پر آجانے سے بڑے پیمانے پر چھٹنی کے آثار بنے ہیں۔ لارسن اینڈ ٹوبرو جیسی بڑی کمپنی نے اپنے 14 ہزار ملازمین کو نوکری سے نکال دیا ہے۔ کل ملا کر ہمیں تو نوٹ بندی سے ملک آئندہ کچھ وقتوں کے لئے ابھی تو بری طرح متاثر ہوتا نظر آرہا ہے ، جب فائدہ ہوگا تب ہوگا۔
(انل نریندر)

کشمیر میں 2016ء میں جوانوں پرحملوں کا اضافہ

سرجیکل اسٹرائک کے ڈھائی مہینے بعد ہی آتنکی تنظیم لشکر طیبہ نے دکشنی کشمیر کوپھرسے مضبوط قلع بنا لیا ہے۔ لشکر کے نیٹورک میں اضافہ سے سکیورٹی ایجنسیاں چوکنا ہوئی ہیں۔ ایجنسیوں کو جہلم ندی سے آتنکیوں کی گھس پیٹھ کی خبریں مسلسل مل رہی ہیں۔ جہلم سے لگے پمپور میں فوج کے قافلے پر ہوئے حملے سے گھس پیٹھ کی اطلاع کی تصدیق ہوتی ہے۔ آتنکی پمپور میں اس سے پہلے بھی سی آر پی ایف اور فوج کے قافلوں کو نشانہ بنا چکے ہیں یاد رہے کہ پمپور میں ہی اپ ضلع وکاس سنستھان کی عمارت پر آتنکیوں نے قبضہ کرلیا تھا جسے خالی کرانے میں سکیورٹی فورسز کو 60 گھنٹے لگ گئے تھے۔ نوٹ بندی کی وجہ سے آتنکیوں اور دہشت گردوں کو نقدی ملنا بند ہوگیا تھا۔ اس وجہ سے تشدد گڑبڑی اور آتنک وادی حملے کی وارداتوں میں بھی کچھ دنوں تک کمی آئی۔ لشکر نے اب کشمیر میں بینک لوٹ سے نقدی لوٹنے کی واردات کو انجام دینا شروع کردیا ہے۔ حوالہ نیٹ ورک بھی سرگرم ہوا ہے۔ اس کے ذریعے سے بھی اگروادیوں کو فنڈ ملنے لگے ہیں۔ سکیورٹی ایجنسیوں کو ان پٹ ہے کہ آتنکیوں کے فدائین حملے اور بڑھ سکتے ہیں۔ اس سال اب تک 7 فدائین حملے ہوچکے ہیں۔ جموں و کشمیر میں سال 2016ء سکیورٹی فورسز کے جوانوں کے لئے مشکل بھرا رہا ہے۔ آتنکیوں نے اس سال 87 جوانوں کی جان لے لی ہے۔ 2008ء کے بعد یہ سال سب سے زیادہ خونخوار رہا ہے۔ فوجی کیمپوں پر گھات لگا کر حملے کئے گئے ہیں۔ سینا کے ہیڈ کوارٹر سے لیکر ہوائی اڈے تک پر آتنکی حملے ہوئے ہیں۔ 2015 ء کے مقابلے2016ء میں سکیورٹی فورسز کے ممبران کی موت میں 82 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔یہ نتیجہ امور داخلہ کی 6 دسمبر کو لوک سبھا میں رکھی گئی 4 سال کی رپورٹ سے نکلا ہے۔ اس میں سرکار نے 27 نومبر تک کے اعدادو شمار دئے ہیں۔ ستمبر میں اڑی میں آرمی کیمپ پر آتنکی حملے میں بھی 19 جوان شہدی ہوئے تھے۔اس حملے کے بعد بھارتیہ فوج نے آتنکیوں کے خلاف سرجیکل اسٹرائک کی تھی۔فوج نے پی او کے میں گھس کر کئی آتنکی کیمپوں کو نیست و نابود کیا تھا لیکن سرجیکل اسٹرائک کے بعد سے سکیورٹی فورسز پر آتنکی حملوں کی وارداتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ دکشنی کشمیر کے پلوامہ میں ابھی سنیچر کو ہی فوج کے قافلے پربائیکل سوار دو آتنکیوں نے حملہ کیا تھا۔ دکھ کے ساتھ یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ لشکر طیبہ نے سرجیکل اسٹرائک نے تباہ ہوئے پی او کے کے کیمپوں اور لانچنگ پیڈوں کو پھرسے زندہ کرلیا ہے۔ لوک سبھا میں پیش سرکار کے اعدادو شمار کے مطابق پاکستان نے 2016ء (26 نومبر) میں کشمیرمیں لائن آف کنٹرول پر 216 بار سیز فائر کی خلاف ورزی کی۔
(انل نریندر)

20 دسمبر 2016

راہل کی پی ایم سے ایسے وقت ملاقات کے معنی

دودن پہلے وزیر اعظم نریندرمودی پر شخصی بدعنوانی کے بہت سنگین الزام لگانے کے بعد کانگریس نائب صدر کی شکروار کو وزیر اعظم سے ملاقت کرنا اپوزیشن کو سمجھ نہیں آیا ہے۔ کہا یہ گیا ہے کہ راہل گاندھی کانگریس ڈیلی گیشن کے ساتھ پی ایم سے کسانوں کے قرضے معافی کے مدے پر ملے۔ راہل گاندھی نے کسانوں کی بدحالی کا مدعا اٹھاتے ہوئے ان کے قرض معافی کی مانگ کے سلسلے میں میمورنڈم وزیرا عظم کو سونپا۔ اس دوران مودی نے بھی سیاسی دشمنی سے اوپر اٹھ کر گرمجوشی دکھاتے ہوئے راہل کو ایسی ملاقاتوں کیلئے ملتے رہنے کو کہا۔ نوٹ بندی پر سنسد کے چارہفتوں کا وقت برباد کرنے کے بعد پی ایم اور کانگریس نائب صدر کی اس ملاقات پر کئی سوال کھڑے ہو رہے ہیں۔ نوٹ بندی پر بنے اپوزیشن اتحاد کا اس ملاقات میں غبارہ پھوڑدیا ہے۔نریندر مودی پر کانگریس کے ساتھ آئی 15 پارٹیوں میں سے کئی پارٹیوں نے کسانوں کے مدعے پر راہل کو اکیلے وزیر اعظم سے ملنے پر بیحد ناراضگی ظاہر کی ہے۔ اس کی وجہ سے اپوزیشن نیتاؤں نے راشٹرپتی بھون تک مارچ میں شامل ہونے سے انکارتک کردیا۔اس طرح موسم سرما کا سیشن ختم ہونے کے ساتھ ہی نوٹ بندی کے مدعے پر بنا اپوزیشن اتحاد بھی چاروں خانے چت ہوگیا۔ کانگریسی لیڈروں کی پی ایم سے ملاقات سے خفا کمیونسٹ پارٹیوں ، سپا، بسپا، ڈی ایم کے، این سی پی نے سونیا گاندھی کی لیڈر شپ میں راشٹرپتی پرنب مکھرجی سے ملنے گئے ڈیلی گیشن سے کنارہ کرلیا۔اس بکھراؤ نے نوٹ بندی پر اپوزیشن اتحاد کی وجہ سے پارلیمنٹ سیشن کے دوران پریشانی میں رہی سرکار کو یقینی طور پر راحت دی ہوگی۔ ساتھ ہی اپوزیشن گول بندی کی سیاست کو تھام رہے راہل گاندھی کو اس ملاقات سے کرارا جھٹکا لگا۔ سونیا کی لیڈر شپ میں راشٹرپتی سے ملنے گئے اپوزیشن پارٹیوں کے نمائندوں میں شامل ہونے سے انکارکرنے والی ان پارٹیوں کا ماننا ہے کہ راہل گاندھی کو پی ایم سے ملنے کے لئے کم سے کم سیشن کا آخری دن نہیں چننا چاہئے تھے کیونکہ اس ملاقات نے نوٹ بندی پر مخالف دلوں کے مہینے بھرسے متحد سنگھرش کو ٹھنڈا کردیا۔ان کا کہنا تھا کہ دو دن پہلے راہل وزیر اعظم کے خلاف بھرشٹاچار کے نجی معاملوں کا زور شور سے دعوی کر سیاسی پارے کو نئی اونچائیوں پر لے جاتے ہیں اور پھر پی ایم سے مل کر خود ہی اس پر پانی پھیر دیتے ہیں۔ دہلی کے وزیرا علی اروند کیجریوال نے دوسری جانب شکروار کو کہا کہ راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کے بارے میں خلاصہ کرنے کی ہمت نہیں ہے کیونکہ کانگریس نائب صدر کو اپنے جیجا رابرٹ واڈرا کے خلاف کارروائی کا ڈر ہے۔انہوں نے کہا کہ راہل میں مودی جی کے خلاف کچھ بھی خلاصہ کرنے کی ہمت نہیں ہے۔ جس دن وہ ایسا کریں گے مودی جی رابرٹ واڈرا کو گرفتار کر لیں گے۔ کیجریوال نے یہ بھی کہا کہ کانگریس اور بھاجپا اس طرح کی رشوت میں ملوث ہے لیکن کوئی خلاصہ نہیں کرتے۔ 
(انل نریندر)

کالے دھن پر سیاسی پارٹیوں کو کھلی چھوٹ

پانچ ریاستوں میں اسمبلی چناؤ سے ٹھیک پہلے مودی سرکار نے نوٹ بندی کے معاملے میں سیاسی پارٹیوں کو بڑی راحت دینے کا اعلان کیا ہے۔ ریونیو سیکریٹری ہنس مکھاڑھیا نے بتایا کہ 500 اور 1000 کے پرانے نوٹ اپنے کھاتے میں جمع کرنے والی سیاسی پارٹیوں کو انکم ٹیکس میں پہلے سے مل رہی چھوٹ جاری رہے گی لیکن نقد شکل میں یہ رقم 20 ہزار سے زیادہ نہیں ہونی چاہئے۔ ساتھ ہی چندہ دینے والے کی رسید اور اس کی صحیح پہچان بھی ضروری ہوگی۔ موجودہ قانون کے تحت کسی بھی سیاسی پارٹی کو ایک شخص سے ملنے والی رقم 20 ہزار سے زیادہ ہونے پر چیک یا ڈرافٹ سے ہی قبول کیا جاسکتا ہے۔ بصورت دیگر اس رقم پر بھی انکم ٹیکس دینا ہوگا۔ دراصل سیاسی پارٹیوں کے بینک کھاتے میں جمع رقم کو پہلے سے ٹیکس سے چھوٹ حاصل ہے۔ بھارت میں لگ بھگ 1886 رجسٹرڈ پارٹیاں ہیں۔ سرکار نے بھرشٹاچار اور کالے دھن کا ایک سب سے بڑے ذریعے کو کالا دھن سفید کرنے کی چھوٹ دے دی ہے۔ آپ کسی بھی پارٹی کو لے لیجئے اس کے لئے چندے کے طور پر 20 ہزاررسیدیں 20 ہزار روپے کی کٹوانا مشکل نہیں ہے۔ اس طرح ایک جھٹکے میں 4 کروڑ روپیہ آجاتا ہے۔ اسے واپس دینے کے لئے ( کچھ فیصد چندہ کاٹ کرکے) چندہ دینے والے کو کسی ریلی کا انتظام کرنے کو کہا جاتا ہے اور اسے ریلی کے لئے کروڑوں کا چیک (خرچ کی مد میں) دے دیا جاتا ہے۔ ہو گیا نہ اس شخص کا کالا دھن سفید۔اگلے کچھ ماہ میں ملک کی کچھ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ چناؤ کے لئے سبھی سیاسی دل کمر کس چکے ہیں اور انہوں نے اپنی ریلیاں اور پرچار مہم بھی شروع کردی ہے۔ دہلی میں بھی نگر نگم چناؤ ہونے ہیں آنے والے چناؤ میں کالے دھن کا استعمال بھی اس بار جم کر ہوگا۔ نوٹ بدلنے کی اس مہم سے آنے والے چناؤ میں کالے دھن کے استعمال پر قطعی کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ سبھی سیاسی پارٹیاں پہلے سے ہی بے نامی کھاتے کھلوا کر اس میں اس قسم کا پیسہ جمع کر کے سونا ،ہیرا اور منقولہ جائیداد میں بدل چکے ہیں۔ ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارم (اے ڈی آر)کے اترپردیش کے پرمکھ سنیوجک ڈاکٹر لینن نے کہا ’’سیاسی دل اپنی رقم کا استعمال ورکروں کو 10-10 ،20-20 ہزار یا ان کی مالی حیثیت کے حساب سے بانٹنے کی کوشش کریں گے۔ اس سے پہلے بھی ایسا ہوا ہے کہ سیاسی پارٹیاں چناؤ سے پہلے اپنے کارکنوں کو پیسہ بٹواتی ہیں لیکن لینن نے اے ڈی آر تنظیم کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ اترپردیش کی دو بڑی سیاسی پارٹیاں سماج وادی اور بہوجن سماج پارٹی کے پاس پیسے کے بڑی تعداد میں نامعلوم ذرائع ہیں۔ بسپا کی کل آمدنی 585 کروڑ روپے ہے۔ جس میں سے 307 کروڑ روپے اسے رضاکار طور پر چندہ سے ملتے ہیں جو 20 ہزار روپے سے کم دیتے ہیں ۔ پارٹی کو20 ہزار روپے سے کم کی رقم دان کرنے والے کا نام بتانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اے ڈی آر کی ہی ایک دیگر رپورٹ کے مطابق یوپی میں اس بار کے اسمبلی انتخابات میں 84 فیصد امیدوار ٹھیکیدار، بلڈر، کان مافیہ، ایجوکیشن مافیہ اور چٹ فنڈ کمپنی چلانے والے لوگ ہیں۔ سبھی جانتے ہیں کہ بھارت کی سیاسی پارٹیوں کو کالے دھن کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ ٹکٹوں کی بولی سے لیکر پارٹی کو چندہ تک چاہئے ہوتا ہے۔ دیش میں بدعنوانی کا ایک طرح سے سب سے بڑا ذریعہ پولٹیکل فنڈنگ ہوتی ہے اور کالے دھن کے معاملے میں ساری پارٹیاں ایک جیسی ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ سرکار نے نوٹ بندی سے بچانے کے لئے سیاسی پارٹیوں کو باہر نکلنے کا راستہ تھما دیاہے۔ کچھ معنی میں تو نوٹ بندی کے اہم مقصد کو ہی ملیا میٹ کر کے رکھ دیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں میں کالے دھن پر روک کی کوشش کے تحت حکومت ہند کو تجویز پیش کی ہے کہ وہ قانونوں میں ترمیم کرکے جس سے کہ ٹیکس میں چھوٹ انہی پارٹیوں کو ملے جو سیٹیں جیتیں 2000 روپئے اور اس کے اوپردئے جانے والے پوشیدہ چندے کی تفصیل بتائی جائے۔اگر سیاسی جماعتیں اس تجویزکو مان لیتی ہیں تو ممکن ہے بدعنوانی پر نکیل لگ سکے ورنہ نہ تو بدعنوانی بند ہوگی نہ ہی کالا دھن۔
(انل نریندر)

18 دسمبر 2016

سال میں کئی بار کہیں نہ کہیں 16 دسمبر دوہرایا جارہاہے

16 دسمبر آتے ہیں ہمیں وسنت وہار میں رونما نربھیا کانڈ کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔ 16 دسمبر 2012ء کانڈ آج بھی سبھی دیش واسیوں کو دہلا دیتا ہے۔ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ اتنے برس گزرنے پر بھی کچھ بھی نہیں بدلا۔ اجتماعی آبروریزی کی متاثرہ کے گھروالوں سے کئے گئے وعدے آج بھی ادھورے ہیں۔ نربھیا ہم شرمندہ ہیں ، تمہارے قاتل آج بھی زندہ ہیں، ایسا کوئی دن نہیں جاتا جب شام ہونے کے بعد خواتین کے ساتھ کوئی نہ کوئی واردات نہیں ہوتیں۔ بھارت سرکار کے اعدادو شمار کی مانیں تو عورتوں کے تئیں جرائم میں 18 فیصدی اضافہ ہوا ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق چار سال پہلے کے مقابلے میں 10 ہزار سے زیادہ محض آبروریزی کے معاملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ چونکانے والے حقائق یہ ہیں کہ سزا کی شرح محض 29 فیصدی پر آ ٹکی ہے۔ مطلب ایک سال میں 100 میں سے29 ملزمان کو ہی سزا ہوپا رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا نربھیا کانڈ کے بعد ہوئے تمام ہنگامے اور وعدے، اعلانات کے باوجود کیا اس طرح کی واردات کو روکا جا سکے ؟ نہیں بالکل نہیں۔ دیش کی راجدھانی ہونے کے باوجود خواتین جرائم میں کمی نہیں آئی ہے۔ 16 دسمبر کے سانحہ کے بعد دیش کی سب سے بڑی عدالت نے کئی فیصلے کئے تھے جس میں عدلیہ اور انتظامیہ کو جوڑا گیا تھا۔ گھناؤنے جرائم کو روکنے کے لئے اعلی اختیار یافتہ رٹائرڈ ججوں کی دو کمیٹی بنی تھیں جس میں ایک سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جے۔ ایس ۔ ورما کی کمیٹی تھی اور دوسری دہلی ہائی کورٹ کی جج اوشا مہرہ کی کمیٹی تھی۔ دونوں نے کئی سفارشیں کی تھیں اس میں سے زیادہ تر بحث کا اشو بن کر کاغذوں میں سمت گئیں۔ اگر خواتین کرائم میں اضافہ ہورہا ہے تو اس کے لئے عدلیہ اور انتظامیہ قصور وار ہے لیکن سیاسی سطح پر قوت ارادی کی کمی صاف نظر آتی ہے۔ دکھ سے یہ بھی کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے سماج میں بھی کوئی تبدیلی نظر نہیں آئی۔ پولیس کے مطابق آبروریزی کے زیادہ واقعات قریبی رشتے دار کرتے ہیں اس میں جج کیا کریں گے، پولیس کا کرے گی؟ مہلا سرکشا انتظام کتنے نا کافی ہیں اس کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتا ہے کہ آج بھی تھانوں میں مہلا ڈیکس نہیں ہے ۔ اتنا طے ہے کہ مہلا سرکشا کو لیکر اب تک کی گئیں کوششیں نا کافی ہیں۔ صرف پولیس کو ہر ٹائم کوسنے سے کام نہیں چلے گا۔ راجدھانی کے ہر علاقے میں پولیس والا نہیں ہوسکتا۔ ذمہ داری تو سبھی کو اپنی طے کرنی ہوگی۔ کہیں بھی کچھ غلط ہو رہا ہے تواپنے پرائے کا فرق کئے بغیر اس کی مخالفت کرنی ہوگی۔ اگر آپ چپ رہتے ہیں تو کل کو دوسرا بھی چپ رہے گا۔ یہی خاموشی ناپاک ارادوں کو تقویت دیتی ہے۔ انہی اسباب سے سال میں کئی بار کہیں نہ کہیں 16 دسمبر کا واقعہ دوہرا دیا جاتا ہے۔ آج بھی وہی سوال کھڑے ہیں جو16 دسمبر 2012ء کو تھے۔
(انل نریندر)

ہائی وے پر شراب ٹھیکوں پر پابندی

قومی و صوبائی شاہراؤں کے کنارے شراب کی فروخت ممنوع کرنے کا عزت مآب سپریم کورٹ کا حکم لائق خیر مقدم ہے۔صحیح بات تو یہ ہے کہ شراب بندی کی بات توسبھی کرتے ہیں لیکن اسے نافذ کرنے میں کوئی بھی سرکار یا ریاستی حکومتیں دلچسپی نہیں رکھتیں۔ وجہ صاف ہے کہ انہیں زیادہ فکر محصول آمدنی کی رہتی ہے لیکن سپریم کورٹ نے اپنے تازہ فرمان میں صاف کردیا ہے کہ قومی شاہراؤں کے کنارے شراب کی دکانیں چلنے دینے کے پیچھے محصولات کی جائز وجہ نہیں ہوسکتی۔ فیصلے کا پیغام صاف ہے کہ انسانی زندگی اور پبلک ہیلتھ بالا تر ہے۔ پابندی ہائی وے کے 1500 میٹر دائرے میں نافذ ہوتی ہے۔ ہائی وے کے کنارے بنے موجودہ ٹھیکوں کے لائسنس کی بھی 31 مارچ کے بعد سے تجدید نہیں ہوگی۔ چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر کی سربراہی والی بنچ نے ہائی وے کے کنارے لگے شراب کے اشتہار و سائن بورڈ ہٹانے کا بھی حکم دیا ہے۔ پچھلے ہفتے کورٹ نے سڑک حادثوں میں قریب ڈیڑھ لاکھ لوگوں کی موت پر تشویش جتائی تھی۔ 7 دسمبر کو اس سے وابستہ عرضیوں پر فیصلہ محفوظ رکھتے ہوئے سپریم کورٹ نے پنجاب سرکار کو سخت پھٹکار لگائی تھی۔ پنجاب سرکار نے سپریم کورٹ سے راحت کی مانگ کرتے ہوئے کہا تھاکہ ٹھیکے وہاں کھولنے کی اجازت دی جائے جہاں ایلیویٹڈ ہائی وے ہے۔اس پر سپریم کورٹ نے کہا کہ شراب لابی طاقتور ہے اس لئے پنجاب حکومت نے بڑی تعداد میں لائسنس دے رکھے ہیں۔ محکمہ آبکاری و وزیر اور سرکار خوش ہے کیونکہ وہ پیسہ بنا رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے مرنے والوں کو ایک سے ڈیڑھ لاکھ روپے دئے جاتے ہیں۔ سرکار کو لوگوں کی بھلائی کے لئے بھی سوچنا چاہئے۔ عدالت میں داخل عرضیوں میں حادثات کے جو اعدادو شمار بتائے گئے ہیں وہ خوف پیدا کرنے والے ہیں۔ ان کے مطابق دیش بھر میں سال2015ء میں پانچ لاکھ حادثوں میں اتنی ہے لوگ زخمی ہوئے تھے۔ ڈیڑھ لاکھ لوگوں کی موت ہوگئی تھی اس کا مطلب ہے کہ ہر دن 1374 حادثوں میں 400 موت اور ہر گھنٹے اوسطاً 57 حادثوں میں 17 لوگوں کی موت ہوتی ہے۔ اس اندازے کو دیکھتے ہوئے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ حکومتیں قومی شاہراؤں پر شراب کی بکری خود بند کریں گی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ بہرحال شراب پی کر گاڑی چلانے کے علاوہ سڑک حادثات کے لئے کئی اور وجوہات بھی ذمہ دار ہیں۔ مثلاً بنیادی ڈھانچے کی خامی، زمینی ٹرانسپورٹ وزیر نتن گڈکری کہہ چکے ہیں کہ بھارت کے سڑک حادثوں کی اہم وجہ سڑکوں کی خراب ڈیزائننگ بھی ہے۔ اس کے علاوہ ہمارے دیش میں ٹریفک بھلے ہی تیزی سے بڑھتی رہی ہو لیکن ٹریفک سے متعلق ذمہ داریوں پر عمل بہت کم ہے۔ ہم ہر روز سڑکوں پر دیکھتے ہیں کہ چلانے والے کس طرح لاپرواہی سے گاڑی چلاتے ہیں۔ ٹریفک قاعدے ضوابط کو نظر انداز کرتے ہیں۔ ان قواعد پر عمل بھی محفوظ ٹریفک کا اہم تقاضہ ہے۔
(انل نریندر)

17 دسمبر 2016

50 دن نہیں مئی سے پہلے حالات ٹھیک ہونے کے آثار کم



جب سے نوٹ بندی نافذ ہوئی ہے تبھی سے یہ پورے دیش میں سب سے بڑا اشو بنا ہوا ہے کہ عام آدمی کا ہاتھ خالی ہے کیونکہ گھنٹوں لائن میں کھڑے ہونے کے باوجود انہیں 2 ہزار کا نوٹ بھی نہیں مل پارہا۔ وہیں پہنچ والے رسوخ دار شخص مست ہیں، بنا لائن میں لگے انہیں لاکھوں کروڑوں روپے کے نوٹ گھر پہنچ رہے ہیں۔ یعنی دو طرح کے حالات نظر آرہے ہیں ۔سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر ان رسوخ والوں کے پاس لاکھوں کروڑوں کے نوٹ پہنچے کہاں سے ہیں، وہ کون لوگ ہیں جو سسٹم کا فائدہ اٹھا کر لاکھوں کروڑوں کے نوٹ حاصل کررہے ہیں، کیا یہ معاملہ صرف بینک منیجروں سے سانٹھ گانٹھ کا ہے، اس کے پیچھے بڑی مچھلیاں ہیں؟ انکم ٹیکس محکمے کے چھاپوں میں جس طرح نوٹوں کی برآمدگی ہورہی ہے اس سے تو بڑی مچھلیوں پر ہی شبہ جارہا ہے کیونکہ بنا ان کی پیٹ پر ہاتھ رکھے اس طرح کا گورکھ دھندہ کیا ہی نہیں جاسکتا۔ کالا دھن والوں کے خلاف محکمہ انکم ٹیکس کے چھاپوں کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔ نوٹ بندی کے بعد محکمے کی طرف سے اب تک (بدھوار تک)36 چھاپوں میں 1 ہزار کروڑ روپے کی غیر اعلانیہ آمدنی کا بھی پتہ لگایا گیا ہے۔ اس رقم میں سے 20.22 کروڑ روپے 2 ہزار کے نئے نوٹ میں ہے اور محکمے نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ 9 نومبر سے ڈالے گئے ان چھاپوں میں کرناٹک اور گووا میں بڑی رقم ملی ہے۔ دونوں ہی ریاستوں میں 29.86 کروڑ کی نقدی اور 41.6 کلو گرام سونا چاندی اور 14 کلو گرام کے زیورات ملے ہیں۔ 8 نومبر کو جب پی ایم مودی نے 8 بجے نوٹ بندی کا اعلان کیا تھا تو پی ایم نے کہا تھا کہ انہیں پورے حالات بہتر بنانے کیلئے صرف50 دن چاہئیں اب اس میں سے تقریباً38 دن گزر چکے ہیں لیکن حالات تقریباً وہی ہیں جو9 نومبر کو تھے۔ بینکوں اور اے ٹی ایم بوتھوں کے باہر لوگوں کی بھیڑ جوں کی توں بنی ہوئی ہے۔ نوٹ چھاپنے والے پریس کی صلاحیت اور نوٹ تقسیم کے بارے میں یہ برس2016ء کی ریزرو بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق پی ایم مودی کی جانب سے مانگی گئی میعاد کسی بھی قیمت پر حالت بہتر نہیں ہوں گے۔ بینکوں اور اے ٹی ایم تک کافی مقدار میں نئی کرنسی کی پہنچ اس بات پر منحصر کرے گی کہ سرکار واپس کتنے کی کرنسی لین دین میں لانا چاہتی ہے؟ نوٹ بندی سے پہلے 14 لاکھ کروڑ سے زائد کے بڑے نوٹ چلن میں تھے۔ اگر سرکار اس میں سے دو تہائی یعنی قریب 9 لاکھ کروڑ کی کرنسی بھی واپس چلن میں لانا چاہتی ہے تو اسے پورا کرنے میں ابھی 4 مہینے لگیں گے۔ دراصل مسئلہ 500 روپے کے کرنسی نوٹوں کا زیادہ ہے۔ دیش بھر میں نوٹ چھاپنے کے لئے دیواس، ناسک، سالبنی اور میسور ہیں۔ اگر انہیں تین شفٹوں میں بھی چلایا جائے تو ہر روز یہ قریب11.1 کروڑ نوٹ چھاپ سکتے ہیں لیکن مسئلہ یہ بھی ہے کہ ان پریسوں میں آدھی سے کم مشینیں ہی معیاری پیمانے والے بڑے نوٹ چھاپتی ہیں۔ ایسے میں اگر چاروں پریس کی مشینیں ہیں اعلی سکیورٹی معیار والے بڑے نوٹ چھاپتیں ہیں تو ایک دن میں کل2778 کروڑ کے 500 کے نوٹ چھاپ پائیں گی۔ نوٹ بندی کے اعلان سے پہلے حکومت نے 2 ہزار روپے کے 200 کروڑ نوٹ یعنی 4 لاکھ کروڑ روپے کے نوٹ کاانتظام کررکھا تھا۔ایسے میں جب 500 روپے کا نوٹ چھاپنے پرزور دیا جارہا ہے ابھی کم سے کم 5 لاکھ کروڑ روپے کے نوٹ کی ضرورت ہے۔ایسے میں یہ اتنے نوٹ چھاپنے کے قریب 180 دن لگیں گے۔ جس میں سے 38 دن گزر چکے ہیں۔ ہاں سرکار بیرونی ممالک سے بھی نوٹ چھپوا سکتی ہے لیکن اس میں خطرہ ہے۔
(انل نریندر)

اسمبلی چناؤ سے پہلے سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں اضافہ

اترپردیش میں اسمبلی چناؤ کا اعلان کسی بھی دن ہوسکتا ہے۔یوپی کی اکھلیش یادو سرکار نے اسمبلی چناؤ کے اعلان سے ٹھیک پہلے ایک اہم بڑا فیصلہ لیتے ہوئے منگل کو قریب27 لاکھ سرکاری ملازمین کو ساتویں پے کمیشن کی سفارش منظور کردی ہیں۔ یہ فیصلہ غیر متوقع نہیں ہے۔ صوبے میں جلد اسمبلی چناؤ ہونے ہیں لہٰذا چناوی ضابطہ نافذ کئے جانے سے پہلے یہ قدم کافی غور و خوض کرنے کے بعد اٹھایاگیا ہے۔ اس فیصلے سے اندازہ ہے کہ 27 لاکھ سرکاری ملازمین اور پینشروں کو سیدھے طور پر فائدہ ہوگا۔ مرکزی سرکار نے اسی برس جون میں ساتویں پے کمیشن کی سفارشیں منظور کی تھیں۔ عموماً یہی ہے کہ مرکز کی سفارشوں کو نافذ کرنے کے بعد ریاستی سرکاریں اپنی سہولت کیلئے پے کمیشن کی سفارشیں لاگو کرتی آئی ہیں۔ یہ تنخواہیں جنوری 2017ء کی تنخواہ کے ساتھ فروری میں ملے گی۔ اس فیصلے سے سرکار پر فاضل 17958 کروڑ کا مزید اقتصادی بوجھ پڑے گا۔ ملازمین کی تنخواہ میں اوسطاً 14.22 فیصدی اضافہ ہوا ہے جو بنیادی اسکیل کے مطابق دیکھیں تو یہ اضافہ 32فیصدی بیٹھتا ہے۔ ساتھ ہی پنشنروں اور کنبہ جاتی پینشن یافتگان کی بڑھی ہوئی پنشن دی جائے گی۔ ساتویں پے کمیشن کا فائدہ سبھی ریاستی ملازمین ٹیچروں اور پڑھے لکھے ملازمین اور شہری بلدیاتی کارپوریشنوں ،آبی اداروں ، ضلع پنچایتوں و ڈولپمنٹ اتھارٹی اور دیگر پبلک سیکٹر اداروں کو ملے گا کیونکہ تنخواہ کمیشن کی سفارش کا سیدھا تعلق لاکھوں سرکاری ملازمین اور پنشن یافتگان سے ہوتا ہے اس لئے کوئی بھی سیاسی پارٹی اس کی مخالفت نہیں کرسکتی۔ یہ فیصلہ سماجوادی پارٹی کے اندر چلے گھماسان کے پس منظر میں اٹھایاگیا ہے۔ جس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ پارٹی تمام اندرونی اختلافات کے باوجود اسمبلی چناؤ میں اکھلیش کے کام کاج اور ڈولپمنٹ اور ان کے چہرے کے ساتھ ہی اترنا چاہتی ہے۔ لوک سبھا چناؤ میں مسلم ووٹوں کے بغیر بھاجپا نے اتحادی پارٹی اپنا دل کے ساتھ 73 سیٹیں جیت لی تھیں۔ اب اسمبلی چناؤ میں اکثریت حاصل کرنے کے لئے سپا بسپا میں مسلم ووٹوں کے لئے جنگ چھڑ گئی ہے۔ منگل کو کیبنٹ کی میٹنگ کے بعد وزیر اعلی اکھلیش یادو نے دوہرایا کہ اگر کانگریس سے اتحاد ہوتا ہے تو یہ گٹھ بندھن 300 سیٹیں جیتے گا۔ سرکاری ملازمین کو چناؤ سے ٹھیک پہلے بڑی تنخواہوں کا تحفہ اکھلیش کی حمایت میں ہوا بنانے میں کام آئے گا۔ لیکن یوپی میں سب سے زیادہ ذات پات چلتی ہے بیشک اکھلیش نے وکاس کرایا ہے لیکن پھر بھی ذات کی بنیاد پر ٹکٹ بٹیں گے اور قطعی فیصلہ ذات پات پر ہی ہوگا۔ ادھر بھاجپا جیت کا دعوی کررہی ہے سبھی پارٹیاں نئے نئے تجزیئے بٹھانے میں جٹ گئی ہیں۔
(انل نریندر)

16 دسمبر 2016

موجودہ ٹکراؤ میں جی ایس ٹی کا کیاہوگا

مرکزی سرکار کو گڈس اینڈ سروسز ٹیکس (جی ایس ٹی) کو 16 ستمبر 2017ء تک نافذ کرناہوگا۔ پارلیمنٹ میں جو جی ایس ٹی بل پاس ہوا تھا اس کا آئینی جواز کی میعاد 16 ستمبر2017 ء کو ختم ہوجائے گی۔ اگر وقت یوں ہی گزرتا رہا تو سرکار کے سامنے بڑی مشکل کھڑی ہوسکتی ہے۔ مودی سرکار اب اگلے سال سے اس جی ایس ٹی کو نافذ کرانے کے لئے اپوزیشن پارٹی کو لبھانے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے۔ حال ہی میں ہوئی جی ایس ٹی کونسل کی میٹنگ تو بغیر نتیجہ ختم ہوگئی تھی سرکار جی ایس ٹی بل پر سبھی ریاستوں سے رضامندی ملنے کے بعد دو دنوں کا اسپیشل سیشن بلا کر بل کو پاس کرانے کی پہل کرسکتی ہے۔ ابھی تک تو تمام ریاستوں میں جی ایس ٹی کو لیکر اتفاق رائے نہیں ہو پایا۔ 11 اور 12 دسمبر کو جی ایس ٹی کونسل کی میٹنگ میں سرکار کورضامندی کا بھروسہ تھا لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔ 16 دسمبر کو ختم ہورہے سرمائی اجلاس میں اس کے پاس ہونے کا امکان ختم ہوگیا ہے۔ نوٹ بندی کے بعد پارلیمنٹ میں حکمراں اور اپوزیشن کے درمیان ٹکراؤ کے حالات بنے ہوئے ہیں۔ آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر وقت رہتے جی ایس ٹی کو نافذ نہیں کیا گیا تو سرکار ان ڈائریکٹ ٹیکس نہیں وصول پائے گی کیونکہ جب تک موجودہ ٹیکس ختم ہوچکے ہوں گے اور نیا ٹیکس نافذ نہیں ہوگا۔ جی ایس ٹی جلد لاگو کیا جانا ضروری ہے کیونکہ ستمبر کے وسط کے بعد قانونی سپورٹ کے بغیر ٹیکس نہیں وصولا جا سکتا۔ امرواقع یہ ہے کہ ٹیکس دہندہ یونٹوں پر کس طرح مرکز و ریاستیں دونوں میں کنٹرول ہو یا کسی ایک ہی کا کنٹرول ہو اس پر کوئی راستہ نہیں نکلتا دکھائی پڑ رہا ہے۔
حال ہی میں اختتام پذیر میٹنگ میں تو اس پر بحث تک نہیں ہوپائی۔ دیکھنا اب یہ ہے کہ 22-23 دسمبر کی اگلی جی ایس ٹی کونسل میٹنگ میں کیا ہوتا ہے؟ لیکن اس وقت تو اس کے اعلان کردہ اپریل 2017ء سے لاگوہونے کا امکان ایک طرح سے مدھم ہی پڑ رہا ہے۔ حالانکہ مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے کہا کہ مجوزہ بل میں تقریباً 195 دفعات ہیں جن میں سے 99 دفعات پر غور و خوض کیا گیا تھا۔ جیٹلی نے اپریل2017ء سے نافذ ہونے پر صرف اتنا کہا کہ مرکزی سرکار اس پر قائم ہے اور قائم رہنے اور نافذ ہونے میں فرق ہے۔ وجہ یہ کہ یہ اکیلے مرکز کا قانون نہیں ہے جسے آپ نے پاس کر نافذ کردیا۔ اس کے لئے کونسل کی رضامندی ہونی چاہئے ساتھ ہی پارلیمنٹ میں پھر سے پاس ہونا ضروری ہے۔ کئی ریاستوں اور مرکز کے درمیان کچھ نکات کو لیکر اختلافات صاف ہیں اس معنی میں اگلی کونسل کی میٹنگ کافی اہم ہوگئی ہے۔ مرکز کی پوری کوشش ہوگی کہ کسی طرح سے اتفاق رائے بن جائے لیکن نوٹ بندی کے اشو نے جی ایس ٹی کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔ اس وقت تو تمام اپوزیشن مودی سرکار کے خلاف متحد نظر آرہی ہے ایسے میں جی ایس ٹی کا کیا ہوگا؟
(انل نریندر)

اپنی حرکتوں سے باز آئے پاکستان

بھارت نے ایک بار پھر پاکستان کو خبردار کیا ہے کہ وہ سرحد پار سے جاری دہشت گردی کو بڑھاوا دینے سے باز آئے۔ مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے جموں و کشمیر کے علاقے کھٹوا میں شہیدوں کے سنمان میں ہوئی ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان یاد رکھے کہ دہشت گردی کے سہارے وہ جموں وکشمیر کو بھارت سے الگ نہیں کرسکتا۔ پاکستان مانتا ہی نہیں 1947ء سے وہ دہشت گردی کو بڑھاوا دے رہا ہے اور تقریباً70 میں تو وہ کامیاب نہیں ہوا لیکن پاکستان کولو انٹینسسی وار راس آتی ہے۔ اس کو یہ کرائے کے جہادی مل جاتے ہیں اور آئے دن ہندوستانی فوج پر حملہ کر ہمارے جوانوں کو شہید کرتے ہیں۔ اس میں انہیں دو فائدے ہیں پہلا کہ اس کے اپنے فوجی مرنے سے بچتے ہیں ، دوسرااو ر ہندوستانی فوجیوں کو شہید کرتے ہیں۔ اس لئے ہمیں نہیں لگتا کہ وزیر داخلہ کی وارننگ کا کوئی خاص اثر ہوگا۔ وقتاً فوقتاً پاکستان کے ذریعے ہندوستان سمیت دیگر علاقوں میں دہشت گردی پھیلانے کے ثبوت دنیا کے سامنے آتے رہتے ہیں۔ بھارت اکیلا نہیں جو پاکستان کو دہشت گردی پھیلانے سے باز آنے کی وارننگ دیتا آ رہا ہے۔ افغانستان کے صدر نے بھی ایسی ہی وارننگ دی ہے۔ خود پی او کے کی تنظیم امن فورم کے نیتا سردار رئیس انقلابی نے بھی پاکستان کو دنیا میں دہشت گردی پھیلانے سے باز رہنے کی ہدایت دی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے ذریعے پی او کے میں چلائے جارہے دہشت گرد کیمپوں کو ختم کرنے کو بھی کہا ہے۔ 
سردار رئیس نے کہا پاکستان یہاں پر بھاڑے کے قاتلوں کو بھیج رہا ہے۔ پاکستانی سرکار اور فوج بھارت میں سرحد پار کرنے والے دہشت گردوں کو ایک کروڑ روپیہ دیتی ہے اور اس کے علاوہ انہیں دہشت پھیلانے کے لئے اسی طرح کا اسلحہ بھی مہیا کراتی ہے۔ غور طلب ہے کہ مظفر آباد سمیت سرحد سے لگے کئی علاقوں میں جیش محمد ، لشکر طبیہ سمیت دیگر دہشت گرد تنظیموں کے دہشت گردوں کو ٹریننگ دی جاتی ہے اور انہیں ٹریننگ دینے میں پاک فوج و آئی ایس آئی ان کا پورا ساتھ دیتی ہے۔ پاکستان کشمیر میں لانچنگ پیڈ پر ایک بار پھر قریب 250 دہشت گرد جمع ہوئے ہیں۔ خفیہ ایجنسیوں کو رپورٹ کے مطابق ان دہشت گردوں کا منصوبہ وادی میں حملوں کو تیز کرنا ہے۔ برہان وانی کو شہید کہہ کر نواز شریف بھی اپنا رخ ظاہرکرچکے ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ پھر بھی سرحد پار سے ہونے والی گھس پیٹھ اور دہشت گردی کے لئے جب پاکستان کی جواب دیہی طے کرنے کی بات اٹھتی ہے تو پاکستان یہ کہہ کر پلہ جھاڑنے کی کوشش کرتا ہے یہ غیر سرکاری عناصر ہیں جو نان اسٹیٹ ایکٹر ہیں اور یہ اس کی نمائندگی نہیں کرتے۔ سوال یہ ہے کہ پھر پاکستان فوج اور آئی ایس آئی چوری چھپے ان کی مدد کیوں کرتے ہیں؟
(انل نریندر)

15 دسمبر 2016

پانچ ریاستوں کے چناؤ ہی ہوں گے نوٹ بندی تجربے کا اصلی امتحان

نوٹ بندی کے بعد اے ٹی ایم اور بینکوں کے باہر گھنٹوں لگی جنتا کی لمبی لمبی قطاریں پانچ ریاستوں میں اسمبلی چناؤ کی تیاریوں میں لگی بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدواروں کیلئے پریشانی کا سبب بنتی جارہی ہیں۔ خاص طور پر یوپی جہاں پارٹی و وزیراعظم نریندر مودی کا سب کچھ داؤ پر ہے۔ریاستی یونٹ کے لیڈروں نے مرکزی لیڈر شپ کو مطلع کیا ہے اگر ابھی چناؤ کی تاریخ آجاتی ہے چناؤ کمپین چلانے سے قطار میں لگے لوگوں کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایسے میں کسی بھی طرح چناؤ کچھ وقت کے بعد کرائے جائیں جب لوگوں میں ناراضگی تھوڑی ٹھنڈی پڑ جائے اور لائنیں کم ہوجائیں اور دیکھنے والی بات ہوگی کہ مرکزی لیڈر شپ کیسے مینج کر پاتی ہے۔ چناؤ کمیشن تو فی الحال یوپی کے چناؤ فروری کے مہینے میں ہی کرانے کے موڈ میں ہے۔ اتر پردیش کے وزیر اعلی اکھلیش یادو نے مرکز کے نوٹ بندی کے قدم پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ دیش بھگتی سے جوڑی جارہی اس کارروائی سے دیش کا ہی نقصان ہوا ہے اور اس کی حمایت کررہے لوگوں کو جنتا چناؤ میں سبق سکھائے گی۔ وکاس کے جو کام تیزی سے ہورہے تھے وہ رک گئے ہیں۔ آپ کی معیشت پیچھے جارہی ہے۔ مرکزی سرکار نے معیشت کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔ دیش کو ایسے الجھایا کہ جس کا کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ اکھلیش نے 2 ہزار کے نئے نوٹوں کی خامیوں کی طرف توجہ مرکوز کراتے ہوئے کہا کہ یہ نیا نوٹ آنے سے کالا دھن رکھنے والوں کو الٹے سہولت مل گئی ہے جو کالا دھن وہ ہزار میں رکھا کرتے تھے اب وہ دو ہزار کے نوٹ کی شکل میں رکھ رہے ہیں۔ 2000 کے نوٹوں کی چھپائی میں بھی گڑ بڑی ہے۔ ادھر سماجوادی پارٹی کے چیف ملائم سنگھ یادو نے سرکار پر الزام لگایا کہ اس نے دیش کے ایک دو بڑے صنعت کاروں کی رائے پر نوٹ بندی کا فیصلہ کیا اور کسی سیاسی پارٹی کو اعتماد میں نہیں لیا۔ ملائم نے پیر کو لوک سبھا میں کہا کہ نوٹ بندی کے فیصلے کے بعد آ رہی مشکلات کے چلتے اور قطاروں میں کھڑے رہنے سے اترپردیش میں 16 لوگ اپنی جان گنوا چکے ہیں جبکہ دیش بھر میں 106 لوگوں کی موت ہونے کے معاملے سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے سرکار سے کہا آپ کو یہ کام کرنا تھا تو سبھی پارٹیوں کے لیڈروں کو بلانے میں کیا پریشانی تھی؟ چپکے سے رات 8 -9 بجے (8 نومبر) اپنا فیصلہ سنا دیا۔ نوٹ بندی اور اس سے لوگوں کو ہی تکلیف کے مسئلے پر اپوزیشن سرکار کو لگاتار آڑے ہاتھوں لے رہی ہے۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں ہنگامہ جاری ہے لیکن وزیر عظم مودی اور بی جے پی مودی کا اس بڑے تجربے کا اصلی ٹیسٹ اگلے سال ہونے والے پانچ ریاستیوں کے اسمبلی چناؤ میں ہوگا۔ بی جے پی نوٹ بندی کو غریب بنام امیر کی لڑائی میں تبدیل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ یہ بھی اشارے مل رہے ہیں کہ بی جے پی اس کے ذریعے ذات برادریوں کے مکڑ جال سے نکلنے کی کوشش کررہی ہے۔ کم سے کم ایسا کرتے ہوئے دکھانے کی کوشش تو کرہی رہی ہے کہ سیاست میں اس طرح کا پہلا تجربہ ہے چاہے اسے سب سے بڑا رسک کہا جائے یا پھر برادریوں کے دائرے کو توڑنے کی کوشش۔ وزیر اعظم یہ پروپگنڈہ کرا رہے ہیں کہ نوٹ بندی نے روحانیت اور سائیکلوجیکل طور سے غریبوں کا دل جیت لیا ہے لیکن سرکار کے دعوؤں اور اپوزیشن کے احتجاج کا اصلی امتحان چناوی دنگل میں ہی ہوگا۔ چناؤ نتیجوں سے ہی پتہ چلے گا کہ کیا غریب بنام امیر کا یہ داؤ یوپی میں مایاوتی کی قیادت میں ابھر رہے دلت ۔مسلم اتحاد کو ہرا سکتا ہے یا نہیں ہیں؟ کیا پنجاب میں اکالی دل کے ساتھ رہنے سے ہو رہے نقصان کی بھرپائی بی جے پی کر پاتی ہے یا نہیں؟ اسی طرح اتراکھنڈ میں کانگریس کی سرکار گرانے سے کانگریس کے تئیں پیدا ہمدردی کی کا ٹ بی جے پی اس مسئلے سے کر پاتی ہے یا نہیں؟ بھلے ہی اوپری طور پر ذات کے مکڑ جال کو توڑنے کی کوشش دکھائی دے رہی ہے لیکن اندرسے ایسا نہیں ہے۔ بی جے پی سب سماج کو لبھانے کیلئے بیشک نوٹ بندی کو سامنے رکھ رہی ہو لیکن اندر اندر ذات ۔ پات کارڈ بھی کھیلے گی۔ کل ملاکر مودی اور بی جے پی کا سیاسی مستقبل کچھ حد تک آنے والے پانچ ریاستوں کے چناؤ نتائج پر ٹک گیا ہے۔
(انل نریندر)

سینا چیف کے بعد اب پاک آئی ایس آئی چیف

پاکستان میں کئی اہم تبدیلیاں ہورہی ہیں۔ پہلے فوج کے چیف کو بدلا گیااب آئی ایس آئی چیف بدل گیا ہے۔ خفیہ معاملوں کے تجربہ کار لیفٹیننٹ جنرل مختار کو پاکستان کی طاقتور خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کا نیا چیف مقرر کیا گیا ہے۔ یہ قواعد نئے فوجی چیف قمر جاوید باجوا کی دیش کے معاملوں میں اہم رول نبھانے والی فوج پر پکڑ مضبوط کرنے کے لئے کی گئی ہیں۔ یہ پہلی بڑی ردو بدل کا حصہ ہے۔ نئے آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار بھارت کے خلاف جارحانہ رخ اپنانے کے حق میں رہے ہیں۔ انہوں نے افغانستان میں بھارت کے رول کو محدود کرنے کے سخت قدم اٹھانے کی وکالت کی۔ نوید مختار کا خیال ہے کہ افغانستان کو بھارت کا مہرہ بننے سے روکنے کے لئے نئی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ مختار کو بھی جنرل باجوا کی طرح وزیر اعظم نواز شریف کا آشیرواد حاصل ہے اور دونوں ہی نواز کے چہیتے مانے جاتے ہیں۔ اس طرح دونوں کی تقرری سے لگتا ہے کہ نواز شریف فوج اور آئی ایس آئی پر اپنی پکڑ زیادہ مضبوط کرناچاہتے ہیں۔ جنرل مختار آئی ایس آئی کی انسداد دہشت گردی برانچ کے پہلے چیف بھی رہ چکے ہیں۔ مختار نے پانچ سال پہلے ایک پیپر میں لکھا تھا کہ امریکی فوج کے کابل چھوڑنے سے پہلے افغانستان سرکار میں اصلاح پسند طالبان کو بھی شامل کیا جانا چاہئے۔ امریکی آرمی وار کالج میں اپنے مقالے کے دوران انہوں نے زور دے کر کہا تھا کہ افغانستان میں بھارت کا رول محدود ہونا چاہئے۔ بتا دیں موجودہ آئی ایس آئی چیف رضوان اختر کے پی ایم نواز شریف کی سرکار سے کچھ رشتے ٹھیک نہیں تھے۔ اخبار ڈان کے مطابق اڑی حملے کے بعد بڑے فوجی حکام اور سرکار کے درمیان ملاقات میں رضوان اور پنجاب سرکار کے وزیراعلی اور نواز شریف کے چھوٹے بھائی شہباز شریف میں تلخ بحث ہوئی تھی۔ نوید مختار کو سرکار اور فوجی لیڈر شپ دونوں کا بھروسہ مند بتایا جارہا ہے۔ وہ دونوں کے درمیان اختلافات دور کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ مختار کو آئی ایس آئی چیف پہلے ہی بنا دیتے لیکن اس وقت کے فوج کے چیف جنرل راحیل شریف نے اسکی مخالفت کی تھی۔ ان کے ہٹتے ہی نواز نے آئی ایس آئی چیف بدل ڈالا۔ پاکستان میں ہر فوج کے چیف کی طرح جنرل باجوہ نے بھی نئی ٹیم بنائی ہے اور فوج کے انتظامیہ میں کئی اہم تبدیلیاں کی ہیں اور اسی سلسلے میں جنرل مختار کی تقرری کو بھی دیکھا جانا چاہئے۔بھارت کے لئے جنرل مختار سے کسی دوستانہ حکمت عملی کی امید بیکار ہے، لیکن اگر وہ اپنے شہری ایڈمنسٹریٹر کا احترام کرتے ہوئے دیش کی دہشت گردانہ سرگرمیوں پر لگام لگائیں اور دونوں ملکوں کے رشتو ں میں دہشت گردی کو نہ آنے دیں تو یہ اس برصغیر کے لئے بہتر ہوگا۔
(انل نریندر)

13 دسمبر 2016

ہندوستان کی تاریخ میں پہلا ایئر فورس سابق چیف گرفتار ہوا

ہندوستان کی فوج کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ کسی فوج کے چیف کو دلالی لینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ ہم بات کررہے ہیں سرخیوں میں چھائے اگستا ویسٹ لینڈ ہیلی کاپٹر خرید گھوٹالے میں ہندوستانی ایئر فورس کے سابق چیف ایس۔ پی۔ تیاگی کی۔ اس معاملے کی جانچ کررہی سی بی آئی نے تیاگی کے چچیرے بھائی سنجیو عرف جولی تیاگی اور ان کے ساتھی گوتم کھیتان کو گرفتار کیا ہے۔الزام ہے کہ ان لوگوں نے 3600 کروڑ روپے میں انگلو اٹیلین کمپنی اگستا ویسٹ لینڈ سے 12 AW-10 وی وی آئی پی ہیلی کاپٹروں کی خرید کا سودا کروایا تھا۔ یہ سودا کرانے میں تینوں پر دلال کی معرفت 423 کروڑ روپے کی دلالی کھانے کا الزام ہے۔ دہلی کی ایک عدالت نے جمعہ کو تینوں ملزمان کو 14 دسمبر تک کیلئے سی بی آئی حراست میں بھیج دیا ہے۔ تینوں کو آئی پی سی کی دفعہ120 بی، 420 اور انسداد کرپشن قانون 1986 کی مختلف دفعات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ مسٹر تیاگی نے بھٹانگر ضلع مجسٹریٹ سجیت سورو کے سامنے اپنے خلاف عائد الزامات سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ کرپٹ نہیں ہیں۔ تیاگی نے وکیل کی معرفت کورٹ کو بتایا کہ ہیلی کاپٹر خرید کا فیصلہ انہوں نے اکیلے نہیں لیا تھا۔ اس کی جانکاری اس وقت کے پی ایم او کو بھی تھی۔ بات سال2013ء کی سردیوں کی ہے۔ تب دیش میں یوپی اے ۔II کی سرکار تھی۔ سرکار میں وائٹ مین کے نام سے مشہور اے کے انٹونی وزیر دفاع تھے۔ یہی کوئی نومبر کا مہینہ رہا ہوگا۔ اٹلی کے ایک اخبار میں شائع خبر نے ہندوستانی میڈیا کی توجہ مرکوز ہی نہیں کی بلکہ مرکزی سرکار کو بھی سکتے میں ڈال دیا۔ ملان (اٹلی) کے اخبار میں جو خبر چھپی تھی اس کامختصر مواد یہ تھا کہ بھارت سرکار نے اٹلی۔ برٹن کی کمپنی فن مکینیکا کی سب کمپنی اگستا ویسٹ لینڈ سے3700 کروڑ روپے کے جن 12 وی آئی پی ہیلی کاپٹروں کی خرید کا سودا کیا ہے اس میں 51 ملین یورو (350 کروڑ)روپے کی دلالی کھائی گئی ہے۔ اس دلالی کو بے نقاب وہاں کے میڈیا میں فن مکینیکا کمپنی کے ایک ملازم نے ہی کیا تھا۔جو کمپنی کے چیف ایگزیکٹو افسر دوسد اوٹسی کا مخالف بتایا جارہا تھا۔ اوٹسی کو اٹلی کی عدالت نے قصوروار ٹھہرایاتھا اور انہیں ساڑھے چار سال جیل کی سزا دی تھی۔ معاملے کی سماعت کے دوران اٹلی کی ملان عدالت کے فیصلے میں یوپی اے سرکار کا بھی تذکرہ تھا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق کورٹ نے کہا تھا کہ یوپی اے سرکار نے جانچ میں مدد کیلئے ضروری دستاویز نہیں دئے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق فیصلے میں سنوراگاندھی اور بھارتیہ سیاستدانوں کے نام کا بھی ذکر آیا تھا۔ حالانکہ ان سبھی پر کوئی الزام نہیں لگائے گئے تھے۔ اٹیلین نے سنورا کا مطلب شریمتی ہوتا ہے۔ کورٹ کے دستاویز میں اس ڈیل سے وابستہ دلالوں کی آپسی بات چیت کا بھی ذکر ہے جنہوں نے مسز گاندھی کو اس سودے کا ڈرائیونگ فورس بتایا ہے۔ حالانکہ بعد میں اٹلی کی عدالت نے صاف کیا تھا کہ سودے میں کسی ہندوستانی سیاستداں کے شامل ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ بھاجپا نے اس اشو کو لیکر کانگریس پر حملہ بولا تھا۔ حالانکہ کانگریس کی جانب سے ان الزامات کو سرے سے مسترد کردیا گیا تھا۔ 8 ہیلی کاپٹر میں زیادہ اونچائی بھرنے کی صلاحیت نہیں تھی۔ انڈین ایئر فورس سیاچن اور ٹائیگر ہل جیسی جگہوں کے لئے 6 ہزار میٹر کی اونچائی بھرنے میں اہل ہیلی کاپٹر خریدنا چاہتی تھی۔ تیاگی نے ایئر فورس چیف بننے کے بعد سودے کی شرط میں ڈھیل دے کر اڑان کی اونچائی کو گھٹا کر 4500 میٹر کردیا تھا۔ اس سے اگستا ویسٹ لینڈ ہیلی کاپٹراس سودے کی ریس میں شامل ہوگیا۔ الزام ہے کہ اونچائی کم کرانے کے لئے ہی رشوت کا لین دین ہوا تھا۔ اس معاملے میں درج ایف آئی آر میں سابق ایئر چیف ایس پی تیاگی کا سیدھے لین دین یا رشوت لینے کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا ہے مگر یہ ضرور کہا گیا ہے کہ ان کے دو بھائیوں (رشتے داروں) نے بچولیئے گیوٹو ہیرکے کے ذریعے سے 1.26 لاکھ یورو (90 لاکھ روپے) اور 2 لاکھ یورو تقریباً (1.42 کرو ڑروپے) کی رقم حاصل کی۔ یہ رقم آئی ڈی ایس تیونیسیا کمپنی کی معرفت سے مشیر کار کی فیس کی شکل میں لی گئی تھی۔ تیاگی کی گرفتاری کے وقت پر کانگریس پارٹی نے سوال اٹھایا ہے۔ پارٹی کے ایک نیتا نے کہا کہ سرکار کے پاس جب پچھلے 30 ماہ سے تیاگی کے خلاف ثبوت تھے تو اس نے ان کی گرفتاری کیوں نہیں کی؟ انہوں نے کہا کہ نوٹ بندی کے خلاف دیش میں مچے کہرام سے توجہ ہٹانے کے لئے حکومت نے تیاگی کی گرفتاری کی ہے۔ یہ سوچی سمجھی چال ہے۔ اب معاملہ عدالت میں ہے جہاں دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے گا۔ ویسے انڈیا ایئر فورس کے لئے یہ شرم کی بات ہے۔
(انل نریندر)

مسلم پرسنل لاء بورڈ کو عدالت نے دکھایا آئینہ

پچھلے طویل عرصے سے اخباروں سرخیوں بنا تین طلاق کا مسئلہ ایک بار پھر موضوع بحث بن گیا ہے۔ دو مسلم خواتین کی طرف سے داخل عرضی پر سماعت کرتے ہوئے الہ آباد ہائی کورٹ نے تین طلاق کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے ان عورتوں کے حق کی بات کہی ہے جو اس کا خمیازہ بھگتی ہیں۔ ان لوگوں اور گروپوں کو بھی تقویت دی ہے جو طلاق کے ثلاثہ کی کافی عرصے سے مخالفت کرتے آرہے ہیں۔ پہلی بیوی کو طلاق دے کر دوسری شادی کرنے والے ایک مسلم شخص اور اس کی دوسری بیوی کے پولیس ٹارچر سے سکیورٹی دلانے سے متعلق عرضی پر سماعت کرتے ہوئے الہ آباد ہائی کورٹ نے مسلم خواتین کے آئینی حقوق اور مختلف فرقوں کے پرسنل لاء کے بارے میں جو کچھ کہا اس پر ٹھنڈے دماغ سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ عدالت ہذا نے صاف الفاظ میں کہا ہے کہ اس سے مسلم خواتین کے حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ جس طرح کی مانگ اٹھ رہی تھی ٹھیک اسی کے مطابق کورٹ نے بھی کہا کہ کوئی بھی پرسنل لاء بورڈ آئین سے بالاتر نہیں ہے۔ عدالت کا یہ فیصلہ نہ صرف مسلم خواتین کو طاقت دیتا ہے بلکہ آئین کو بالاتر ماننے والے لوگوں کو بھی تقویت دیتا ہے کیونکہ کسی بھی دیش میں آئین ہی بالاتر ہوتا ہے اور اسی کے مطابق سسٹم چلتا ہے۔ مختلف فرقوں میں رائج پرسنل لا بورڈ کا کوئی بھی شق ہندوستانی آئین کے ذریعے شہریوں کو دئے گئے حقوق کا قبضہ نہیں کرسکتی۔ صاف ہے کہ ہائی کورٹ نے مسئلے کی حساسیت اور سپریم کورٹ کے وقار دونوں کا خیال رکھتے ہوئے متبادل اور مثبت رخ اپنایا ہے۔ اس نے فیصلہ عرضی پر دیا ہے ،تین طلاق کے جواز پر نہیں۔ اگر تین طلاق پر بات ہوتی تو کورٹ اس فرق کی ضرور تشریح کرتا جو فٹا فٹ تین طلاق کہہ کر، یا فون، اسکائپ، فیس بک وغیرہ کے ذریعے تین بار طلاق لفظ بول کر رشتہ توڑ لینے اور طے عمل کے مطابق90 دن کے فرق میں سماج میں شامل کرتے ہوئے طلاق دینے میں ہے۔ اس معاملے میں اسلام سے جوڑنے پر آمادہ پرسنل لاء بورڈ کے لوگوں اور مسلم سماج کے کٹر پسند عناصر کو یہ ضرور سوچنا چاہئے کہ وہ مذہب کے نام پر کسی زیادتی کی اجازت تو نہیں دے رہے ہیں۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اس بنیاد پر تین طلاق کی حمایت کررہا ہے کہ یہ مسلم پرسنل لاء سے جڑا ہے اور دیش کو دوسرے مذاہب کی رسم و رواج کا احترام ضرورکرنا چاہئے لیکن اس کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے کہ ایسا کوئی بھی قانون، روایت آئین سے نہ ٹکرائے ،کیونکہ کوئی بھی مذہب آئین سے بالاتر نہیں ہوسکتا۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے صاف بھی کیا ہے کہ اسلام میں طلاق کے معاملے میں ویسا رخ نہیں ہے جیسا مسلم پرسنل لاء بورڈ یا تین طلاق کے حمایتی بتا رہے ہیں۔ اب سب کی نگاہیں سپریم کورٹ کی طرف ہیں جہاں امید کی جاتی ہے مسلم خواتین سے انصاف ہوگا۔
(انل نریندر)

11 دسمبر 2016

کرپشن کو دور کرتے یہ کرپٹ بینک افسران

وزیر اعظم نے جب 8 نومبر کو نوٹ بندی کا اعلان کیا تھا تو اس کے پیچھے ایک بڑی وجہ بتائی گئی تھی کرپشن دور کرنا۔ دیش کی عوام نے اس اعلان کا اس لئے بھی خیر مقدم کیا تھا لیکن جیسے جیسے دن گزرتے گئے دیش کے سامنے کرپشن کی ایک نئی شکل آنے لگی ہے ، یہ تھا بینکوں کا کرپشن۔ نئے نوٹوں کی پرانے 500-1000 کے نوٹوں کی ادلہ بدلی میں کچھ کرپٹ افسران نے کروڑوں کی ہیرا پھیری کرڈالی۔ اکثر یہ شبہ جتایا جاتا رہا ہے کہ چاہے بڑھتے ایم پی اے کا معاملہ ہو یا بڑی رقم کا مشتبہ لین دین کا، کچھ بینک افسروں کی ملی بھگت کے بغیر یہ ممکن نہیں ہوسکتا۔ کالے دھن کو سفید کرنے کے تازہ معاملوں نے واقعی ہی بینکنگ سسٹم کے اندر کرپٹ عناصر کی موجودگی ثابت کردی ہے۔ نوٹ بندی کے بعد مالی بے ضابطگیوں کے خلاف کارروائی تیز کرتے ہوئے انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے بدھوار کو دیش بھر میں 50 سے زائد بینک شاخوں میں چھاپہ مارا۔ اس کا مقصد منی لانڈرنگ اور حوالہ سودوں کا پتہ لگانا ہے۔ ای ڈی نے10 بینکوں کی 50 شاخوں پر یہ کارروائی شروع کی۔ ان میں پرائیویٹ اور پبلک سیکٹر کے دونو بینک ہیں یہ چھاپے دہلی، ممبئی،بنگلورو ، حیدر آباد، کولکتہ اور چنئی کے ساتھ ساتھ دیگر شہروں میں بھی مارے گئے۔ایسی بینک شاخوں کے ریکارڈ کی جانچ کی جارہی ہے جہاں بڑی مقدار میں پرانے نوٹ جمع کرائے گئے یا پھر کھاتوں میں ایک بار میں کئی مرتبہ بھاری رقم جمع کرائی گئی۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے ایکسس بینک کے افسران کے ساتھ سانٹھ گانٹھ میں مبینہ طور سے نوٹ بدلنے سے متعلق منی لانڈرنگ جانچ میں اب تیسری گرفتاری کی ہے۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ (سی اے) راجیو کشواہا کو گرفتار کیا ہے ۔ کشواہا منی لانڈرنگ انسداد قانون کے تقاضوں کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔ سی بی آئی نے 500-1000 کے نوٹوں کو منسوخ کرنے سے متعلق ریزرو بینک کی گائڈ لائنس کی مبینہ طور پر خلاف ورزی کرنے پر بدھوار کو بنگلورو میں سینٹرل بینک آف انڈیا کے ایک سینئر منیجر اور ایک کمپنی کے دو مالکوں کو گرفتار کرلیا۔ نوٹ بندی کے بعد سامنے آئے راجستھان میں دوسا میں واقع ایس وی بی جے بینک کے کیشئر نے 1 کروڑ روپے بدلے تھے جس کے لئے کسی بھی شناخت نامہ کا استعمال نہیں کیا گیا۔ معاملہ میں دو دیگر بینک افسران کا رول بھی مشتبہ ہے۔ معاملے میں سی سی ٹی وی فوٹیج نے کئی راض کھولے ہیں۔ انکشاف ہوا ہے کیشئر نے جے پور اور دوسا کے باشندے اپنے دو دوستوں کے لئے 1 کروڑ روپے بدلنے کے لئے 22 فیصد کمیشن یعنی 22 لاکھ روپے لئے تھے۔ یہ رقم اس کے بینک کھاتے میں ایک ساتھ جمع ہوئی۔ ہمیں یہ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ پورے دیش میں نئے نئے نوٹوں کے کھیپ کیسے پکڑی جا رہی ہیں۔ ایک طرف تو غریب جنتا اے ٹی ایم اور بینکوں کے باہر گھنٹوں لائنوں میں لگی ہوئی ہے اپنے ہی پیسے نکلوانے کیلئے اور دوسرے طرف کروڑوں روپے کے نئے نوٹ پکڑے جارہے ہیں؟ محکمہ انکم ٹیکس نے جمعہ کو چنئی میں 8 مقامات پر چھاپہ مار کر 90 کروڑ روپے نقدی اور 100 کلو سونا برآمد کیا۔ ان 90 کروڑ میں چلن سے باہر ہوچکے نوٹ اور نئے نوٹ شامل ہیں۔ مرکزی سرکار کے نوٹ بندی کے فیصلے کے بعد سے اب تک نقدی کی قلت دور نہیں ہوپائی ہے۔ عام لوگ گھنٹوں بینک کی قطاروں میں کھڑے رہے لیکن کئی رسوخ والے لوگوں نے جوڑ توڑ سے نوٹوں کی ادلہ بدلی کرلی۔ قریب ایک ہفتے پہلے نوئیڈا کے سیکٹر51 کے باشندے صنعت کار کے گھر بجلی محکمہ کا ایک لائن مین کچھ کام کرنے آیا تھا۔ کام ہونے کے بعد اس نے پیسے مانگے تو اس کی بیوی نے اسے500 روپے کا پرانا نوٹ تھمادیا۔ کیونکہ لائن مین انڈسٹریلسٹ کا پرانا واقف کار تھا تو اس نے اس کی بیوی سے کہا یہ نوٹ تو بند ہوچکے ہیں اگر آپ کے پاس نئے نوٹ نہیں ہیں تو پیسے بعد میں دے دینا۔ ساتھ ہی اس نے بتایا کہ نئے نوٹ نہیں مل رہے ہیں کیا؟ میں بدلوا سکتا ہوں۔ اس کے دعوے کی جانچ کے لئے عورت نے اسے500 روپے کے نوٹوں کی ایک گدی (50 ہزارروپے) بدلوانے کے لئے دے دئے۔ اس لائن مین نے تین گھنٹے کے اندر ہی 50 ہزار کی رقم 2000 اور 100 روپے کے نوٹوں میں لاکر صنعت کار کی بیوی کو پہنچائی اور کہا اگر اور نوٹ بدلوانے ہیں تو وہ انہیں بھی بدلوا دے گا۔ روزانہ بینکوں اور اے ٹی ایم کے باہر محض 2000 روپے کے لئے دھکے کھاتے لوگوں کی پریشانی کے درمیان اتنی آسانی سے اتنی بڑی رقم بدلہ جانا بھلے ہی حیران کن ہے لیکن سرمایہ داروں اور بڑے افسرو ں کے لئے بینکوں میں نوٹ بدلوانا نقدی کے بحران کے دور میں بھی کچھ کرپٹ بینک افسران کی وجہ سے آسان بنا ہوا ہے۔بینکوں میں جب نئی نوٹوں کی سپلائی آتی ہے تو اس کا کچھ فیصد حصہ وہ عام جنتا کو بانٹا جاتا ہے باقی موٹی رقم یا تو کچھ خاص لوگوں کے لئے رکھی جاتی ہے یا پھر موٹی کمیشن لیکر بدلنے کے لئے۔ دہلی بھاجپا ٹریڈ سیل کے ذریعے پردیش دفتر میں منعقدہ ایک میٹنگ میں دہلی کی بڑی ٹریڈ انجمنوں کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ کاروباری بدانتظامی کیلئے بینک ملازم زیادہ قصوروار ہیں کیونکہ جہاں عام کاروباری کرنٹ یا بچت کھاتوں سے پیسے نکالنے کے لئے مشکل ہورہی ہے وہیں بڑی تعداد میں بازار میں آئے نوٹ بینکوں اور بینک ملازمین کی جعلسازی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ نوٹ بندی کے بعد تاجروں نے اپنے تجربوں پربھاجپا کے قومی نائب صدرشیام جاجو و پردیش بھاجپا کے پردھان منیش تیواری سے بھی تبادلہ خیال کیا۔ ادھر خبر آئی ہے کہ کولکتہ میں بھاجپا کا ایک مقامی لیڈر 33 لاکھ روپے کے نئے نوٹ کے ساتھ پکڑا گیا ہے۔ ساری رقم 2000 کے نوٹوں پر مبنی تھی۔ گرفتار لیڈر منیش شرما بردوان ضلع کے رانی گنج کا باشندہ ہے۔ اس کے ساتھ 6 کوئلہ مافیہ بھی گرفتار کئے گئے ہیں۔ ان سے ہتھیار بھی برآمد ہوئے ہیں۔ آخر میں سرکار پے ٹی ایم سے ساری ادائیگی کرنے کی بات کررہی ہے۔ نوٹ بندی کے بعد سرکار آن لائن پیمنٹ لین دین پر زور دے رہی ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ آپ کی تھوڑی سی بھول بدمعاشوں کے لئے فائدے کا سودا ہوسکتی ہے۔ شاہدرہ علاقے میں بیگ دوکاندار کے ساتھ کچھ ایسا ہی ہوا۔ ای والٹ کا استعمال کرنے والے لوکیش جین پے ٹی ایم سے اپنے بجلی کے بل ادا کررہے تھے اسی دوران ان سے اوٹی پی (ون ٹائم پاسورڈ) مانگا گیا۔ اوٹی پی دیتے ہی ان کے پے ٹی ایم کھاتے سے 17580 روپے اڑا لئے گئے۔ نوٹ بندی کے بعد اپنا لین دین پے ٹی ایم سے ہی کررہے ہیں اس کا مطلب یہ ہے پے ٹی ایم بھی محفوظ نہیں ہے۔بینکوں نے تو کرپشن کو دور کرنے کے مقصد سے ڈھنڈورا پیٹ کر یہ اسکیم رکھد دی ۔ کرپشن کو دور کرنے کے لئے کرپشن کا نیا طریقہ اپنا لیا ہے۔ سرکار اگر آج مشکل میں ہے تو اس کے لئے بینک بھی بڑی حد تک ذمہ دار ہیں۔
(انل نریندر)

10 دسمبر 2016

تو کہاں گیا کالا دھن

دیش کے سینٹرل بینک ریزرو بینک آف انڈیا نے کہا ہے کہ دیش میں 14.5 لاکھ کروڑ کے 500 اور 1000 کے پرانے نوٹ میں سے12 لاکھ کروڑ روپے بینکنگ سسٹم میں آچکے ہیں اور امید کی جارہی ہے 30 دسمبر تک کی میعاد میں باقی رقم بھی بینکوں میں جمع ہوجائے گی۔ ویسے تو 31 مارچ 2017ء تک ریزرو بینک میں پرانی کرنسی جمع ہوسکتی ہے۔ ریزرو بینک کے اس بیان کے بعد یہ سوال کھڑا ہوگیا ہے کہ جب ساری رقم بینک میں جمع ہوجائے گی تو کالا دھن کہاں چلا گیا اور کالے دھن کو باہر لانے کے لئے کی گئی نوٹ بندی کا خمیازہ بھارت کے عوام و غریب جنتا کو بلا وجہ ہی بھگتنا پڑا؟ اپنا دوسرا کرنسی جائزہ پیش کرتے ہوئے ریزرو بینک کے گورنر ارجت پٹیل نے کہا کہ پرانے نوٹ 14.5 لاکھ کروڑ روپے کے نوٹوں میں سے 12 لاکھ کروڑ روپے واپس بینکنگ سسٹم میں لوٹ آئے ہیں اور باقی جلد جمع ہوجائیں گے۔ ارجت پٹیل نے ان سوالوں کو اپنی پریس کانفرنس میں ٹال دیا جن میں ان سے پوچھا گیا تھا کہ بند کئے گئے سارے نوٹ تقریباً بینکوں میں واپس آچکے ہیں تو کیا اب اس کا مطلب ہے کہ معیشت میں کالا دھن نہیں ہے؟ بدھوار کو کرنسی جائزہ کمیٹی کی میٹنگ کے بعد میڈیا کو خطاب کررہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ نوٹ بندی سے درمیانے اور طویل المدت نتیجے اچھے آئیں گے جبکہ قلیل المدت کے لئے پریشانی ہورہی ہے۔ پٹیل نے کہا کہ اس سے معیشت میں کافی شفافیت آئے گی اور ٹیکس بڑھے گا۔ نقلی نوٹ بننا مشکل ہوجائے گا کیونکہ نئے فیچرس جوڑے گئے ہیں اور معیشت کا ڈیجیٹلائزیشن ہوگا۔ یہ پوچھے جانے پر کیا نوٹ بندی سے پہلے اس کے فائدے اور اس پر آنے والے خرچ کا جائزہ لیا گیا تھا۔ اگر بند کئے گئے سارے پرانے نوٹ بینک سسٹم میں واپس جمع ہوگئے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دیش میں کالے دھن کا اب کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ آر بی آئی گورنر نے سوال کے دوسرے حصے کا جواب دینا پسند نہیں کیا۔ آر بی آئی گورنر ارجت پٹیل اور ڈپٹی گورنر آر گاندھی سے سوال جواب کی تفصیل کچھ اس طرح رہی۔ نوٹ بندی کے بعد اب تک بینکوں میں لوگوں کا کتنا پیسہ آچکا ہے؟ نوٹ بندی سے 14.5 لاکھ کروڑ روپے کے نوٹ چلن سے باہر کئے گئے تھے۔ اب تقریباً82 فیصد یعنی 11.85 لاکھ کروڑ روپے بینکوں میں جمع ہوچکے ہیں۔ 82 فیصدی رقم بینکوں میں آچکی ہے۔ جمع کرانے کے ابھی23 دن باقی ہیں ۔تو کیا سسٹم میں کالا دھن نہیں تھا؟ ارجت پٹیل سوال ٹال گئے اور کہا نوٹ بندی سے لانگ ٹرن فائدہ ہوگا۔ اور بازار میں کتنی کرنسی آئی ہے؟ 4 لاکھ کروڑ کے نئے نوٹ جاری ہوچکے ہیں۔ نئے نوٹ تیزی سے چھاپے جارہے ہیں۔ تو کیا نوٹ بندی جلد بازی میں ہوئی؟ نہیں یہ فیصلہ جلدی میں نہیں لیا گیا۔ عام لوگوں کو ہونے والی دقتوں پر بھی سرکار سے تبادلہ خیال ہوا تھا؟عام لوگ ہمارے راڈار میں سب سے اوپر تھے۔ نوٹ جمع کرنے کی تاریخ بڑھے گی؟ فی الحال 30 دسمبر ہے ،وقت کے ساتھ اس کا جائزہ لیا جائے گا۔ اترپردیش میں حکمراں پارٹی کے چیف ملائم سنگھ یادو نے دعوی کیا کہ 500-1000 روپے کے پرانے نوٹ بند کئے جانے سے کالے دھن والوں پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے مگر چھوٹے تاجر ، کسان اور غریبوں کو اس سے پریشانی ضرور ہوئی ہے۔ اس فیصلے کے چلتے دیش میں 105 لوگوں کی موت ہوچکی ہے۔ ایسے قدموں سے کالا دھن باہر نہیں آتا۔ دیش میں کل 100 کنبوں کے پاس ہی کالا دھن ہے۔ وزیر اعظم کو بتانا چاہئے کہ ان کے دوستوں کے پاس کتنا کالا دھن ہے جن کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہورہی ہے اور نہ ہی نوٹ بندی سے وہ متاثر ہیں۔ نوٹ بندی سے کالا دھن باہرآئے گا یہ اسکیم ہی غلط ہے۔ نوٹ بندی کے فیصلے کی حمایت کرنے والوں نے دعوی کیا تھا کہ اس سے کالے دھن پر شکنجہ کسے گا اور بڑی مقدار میں کالا دھن لوگوں کے پاس سے نکل جائے گا یا سرکار ضبط کر لے گی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ دیش کا سب سے بڑا کالا دھن صنعت کاروں کے پاس ہے جنہوں نے اسے بیرونی ممالک میں لگایا ہوا ہے۔ افسروں اور نیتاؤں میں کالا دھن بے نامی پراپرٹیوں میں لگایا ہوا ہے۔ نوٹ بندی سے تو بہتر ہوتا کہ سرکار بے نامی پراپرٹی پر پہلے ہاتھ ڈالتی اگر وہ صحیح میں کالا دھن نکالنا چاہتی تھی۔لہٰذا نوٹ بندی سے دیش کے اندر زیادہ کالا دھن نہیں مل سکے گا اور نوٹ بندی کی یہ اسکیم اس نظریئے سے فیل ہے۔
(انل نریندر)

بند-کھلا-بند -ہرمز پر سسپنس

ہرمز جل ڈروم سنٹرل کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ انتہا پر پہنچ رہا ہے ۔امریکہ اور ایران کے بیچ پچھلے قریب 50 دنوں سے جاری کشیدگ...