Translater

21 جنوری 2016

سلوندر ڈرگ ریکٹ میں شامل تھا، کیا ٹیرر سے بھی ملی بھگت تھی

قارئین کو یاد ہوگا جب پٹھانکوٹ آتنکی حملہ ہوا تھا اور گورداس پور کے ایس پی سلوندر سنگھ کا کردار سامنے آیا تھا تو میں نے اسی کالم میں لکھا تھا کہ سلوندر سنگھ اس حملے میں کسی نہ کسی شکل میں شامل ضرور ہے۔ میرا یہ اندازہ صحیح نکلا۔ سلوندر سنگھ سرحد پار سے ہونے والی ڈرگ اسمگلنگ میں شامل تھا۔ این آئی اے ہیڈ کوارٹر میں اس سے6 دن کی پوچھ تاچھ میں یہ صاف ہوگیا ہے۔ سلوندر سنگھ فائدے اور لالچ کے چکر میں ہی ان کی گاڑی آتنکیوں کے ہاتھ لگ گئی اور وہ بے روک ٹوک آگے بڑھ گئے۔ سلوندر سنگھ کا معاملہ اب فائنل اسٹیج کی طرف بڑھ رہا ہے۔ پولی گراف ٹیسٹ کرانے کے فیصلے کا مطلب یہی ہے کہ متعلقہ شخص پر شک ہی نہیں بلکہ اب وہ بڑے شک کے دائرے میں آچکا ہے اور جانچ میں مدد نہیں کررہا ہے۔ تفتیش کررہے افسروں کا بھی ماننا ہے کہ انہیں کئی مقامات سے یہ معلومات ملی ہے کہ سلوندر کے تار ڈرگ سنڈیکیٹ سے جڑے ہوئے ہیں۔ وہ پاکستان سے آنے والی نشیلی چیزوں کی کھیپ کو پار لانے اور کچھ دن چھپانے اور پھر کھیپ کوآگے لے جانے میں مدد کیا کرتاتھا۔ ہر کھیپ کے عوض میں اسے پیسے ملا کرتے تھے۔ کئی بار پیسے کی جگہ ہیرے کے زیورات بھی دئے جاتے تھے۔ جوہری راجیش ورما کو اپنے ساتھ لے جانے کے پیچھے یہی وجہ تھی کہ وہ فوراً ہیرے کی پہچان کر اس کی قیمت بتا دیتا تھا۔ جانچ سے جڑے این آئی اے کے افسران کوشبہ ہے کہ دہشت گردوں کو ڈرگ اسمگلر سمجھ کر جیولر راجیش ورما جو گاڑی چلا رہے تھے، نے گاڑی آہستہ کردی تھی اس کا فائدہ اٹھا کر دہشت گردوں نے انہیں قبضے میں لے لیا۔ یہی وجہ ہے کہ دہشت گردوں نے انہیں جان سے مانے کی کوشش نہیں کی تھی۔ راجیش ورما کے علاوہ دواور جوہری بھی اس دھندے میں شامل تھے۔ سلوندر اپنے دو باورچی اور دوتین مقامی لوگوں کی مدد بھی لیتا تھا۔ڈرگ کے بڑے کاروباریوں کے علاوہ چھوٹے دھندے بازوں سے بھی مدد لی جاتی تھی۔ اس پورے سنڈیکیٹ کے کئی لوگوں کے بارے میں این آئی اے کو جانکاری ملی ہے۔ یہ بھی تصدیق ہورہی ہے کہ سلوندر اپنے باورچی مدن گوپال، جیولر راجیش ورما کو ساتھ لیکر 31 دسمبر کی رات بتیچال علاقے کی درگاہ پر سودے بازی کے لئے گیا تھا اور وہیں کا وقت دیا گیا تھا۔ این آئی اے باورچی اور درگاہ کے مجاور کو آمنے سامنے بٹھا کر سلوندر سے پوچھ تاچھ کرچکی ہے۔ سلوندر کے بیان ان سے میل نہیں کھا رہے ہیں۔ یہی نہیں ان کی سرگرمیوں کے بارے میں اکٹھا کئے گئے الیکٹرانک ثبوت بھی بیان سے میل نہیں کھاتے۔ جیسے سلوندرسنگھ 9 بجے درگاہ پرجانے کی بات پر آڑے ہوئے ہیں جبکہ ایک ٹول پلازہ پر رات10.30 بجے ان کی گاڑی جاتی دیکھی گئی۔ اس ٹول پلازہ سے درگاہ کا راستہ ایک گھنٹے کا ہے۔ اس کے علاوہ سلوندر اس بات کا بھی ٹھوس ثبوت نہیں دے پارہے ہیں کہ لوٹتے وقت لمبا راستہ انہوں نے کیوں اپنایا جبکہ رات کافی ہوگئی تھی؟ 31 دسمبر کی رات سلوندر بتیچال علاقے کی درگاہ پر سودے بازی کیلئے ہی گیا تھا،پچھلی کھیپ کی ادائیگی لی جانی تھی اور تازہ کھیپ آگے پار لگانی تھی لیکن جو لوگ آئے وہ ڈرگ مافیہ کے لوگوں کے بجائے دہشت گرد نکلے؟ سلوندر نے ابھی تک کچھ قبول نہیں کیا ہے۔ وہ جانچ افسروں کے سوالوں کے جواب یا تو گھما دیتے ہیں یا جواب دیتے ہی نہیں۔ اپنی سکیورٹی اور ڈرائیور کے بجائے بارڈر ایریا میں گھنی رات میں باورچی اور جیولر کو ساتھ کیوں لے گئے؟ اس کا جواب سلوندر سے ابھی تک نہیں ملا ہے۔ سلوندر کا لائی ڈیٹیکٹر ٹیسٹ منگل کو کیا گیا۔ اس کے ساتھ ضرورت پڑنے پر این آئی اے سلوندر کے باورچی اور درگاہ کے بابا و راجیش ورما کا بھی لائی ڈیٹیکٹر ٹیسٹ کرا سکتی ہے۔ سلوندر کا لائی ڈیٹیکٹر ٹیسٹ اگلے دن بھی جاری رہا۔ دیکھیں کہ اس لائی ڈیٹیکٹر ٹیسٹ میں کتنی کامیابی ملتی ہے اور سچائی سامنے آتی ہے یا نہیں؟
(انل نریندر)

کچا تیل کافی سستا ہونے پر بھی صارفین کو راحت نہیں

بین الاقوامی بازار میں کچے تیل کی قیمت 12 سال کے ریکارڈ میں کم از کم سطح پر پہنچ گئی ہے۔ جمعہ کو بازار میں کچے تیل کے دام گر کر30 ڈالر بیرل سے نیچے آگئے ہیں۔ اس گراوٹ کے مقابلے بھارت میں لوگوں کو پیٹرول۔ڈیزل کی قیمتوں میں کوئی خاصی راحت نہیں ملی ہے۔ پیٹرول۔ ڈیزل کے داموں میں معمولی کمی کی گئی ہے۔ دام گرنے کے ساتھ ہی سرکار نے اس پر لگنے والی ایکسائز ڈیوٹی میں ایک بار پھر اضافہ کردیا ہے۔ نومبر 2004 ء سے لیکر اب تک کچا تیل قریب56فیصدی سستا ہوچکا ہے لیکن دیش میں پیٹرول صرف7.5 فیصد ہی سستا ہوا ہے۔ ایران سے پابندی ہٹتے ہی بازار میں تیل کی سپلائی بڑھ جائے گی۔ امید تو یہ ہی جتائی جارہی ہے کہ قیمتی25 ڈالر فی بیرل بھی پہنچ سکتی ہیں۔ بین الاقوامی بازار میں موجودہ قیمتیں گھٹنے کا زیادہ فائدہ اس لئے نہیں ہوا کیونکہ آپ کو یہ جانکاری حیرانی ہوگی کہ جس پیٹرول کو ہم 66.59 روپے میں خریدتے ہیں اس میں سے 19.36 روپے ایکسائز ڈیوٹی کی شکل میں مرکز کو جبکہ 16.80 پیسے ویٹ کی شکل میں ریاستی سرکار کو چکاتے ہیں۔ یعنی 36.16 روپے ۔ وہیں پیٹرول کمپنیاں سیدھے طور پر 6.40 پیسے کما رہی ہیں جبکہ ڈیلر 2.25 روپے یعنی 21 کا پیٹرول ہم تک پہنچتا ہے اور 45 روپے ٹیکس اور دیگر خرچ مل کر قریب66 روپے ہوجاتا ہے۔ صوبے کی پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے ایک عہدے دار نے بتایا کہ صوبے میں 5 فیصدی اینٹری ٹیکس لیا جاتاہے لیکن ڈیلروں کو انوائس میں اس کا تذکرہ نہیں ہورہا ہے۔پیٹرول پر ویٹ کی شرح آندھرا پردیش اور جھارکھنڈ کے بعد دیش میں سب سے زیادہ ہے۔ گراہکوں کو اس کا نقصان الگ سے ہورہا ہے۔ مودی سرکار اقتدار میں آنے کے بعد پیٹرول اور ڈیزل کے داموں کو گھٹانے کا دعوی کررہی تھی لیکن سچ یہ ہے کہ جولائی 2014ء سے اب تک پیٹرول کے دام میں 22 مرتبہ اور ڈیزل کے دام میں 18 مرتبہ کٹوتی کی گئی لیکن دوسری طرف سرکار کا ایکسائز ڈیوٹی بڑھانا بھی جاری رہا۔ یہی وجہ ہے کہ کچے تیل کے دام میں گراوٹ کے مقابلے میں صارفین کو زیادہ فائدہ نہیں ہوا ہے۔
(انل نریندر)

20 جنوری 2016

ایران میں ایک نئے دور کا آغاز

پچھلے سال جولائی میں دنیا کی بڑی طاقتوں کے ساتھ ہوئے نیوکلیائی معاہدے کے نافذ ہونے کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران پر لگی اقتصادی پابندیاں ہٹا لی گئیں ہیں اور اس کے ساتھ ہی دیش نے اپنے بین الاقوامی اکیلے پن کو ختم کرنے کی سمت میں ایک بڑا قدم بڑھا لیا ہے۔ سال 2013ء میں حسن روحانی نے ملک کا صدر بننے کے بعد14 جولائی کو ویانا معاہدے کی سمت میں بیحد مشکل سفارتی کوششیں شروع کرنے میں مدد کی تھی۔ روحانی نے کل کہا یہ صبر رکھنے والے دیش ایران کے لئے بڑی جیت ہے۔ وہ عالمی طاقتوں کی نمائندگی کرتے ہوئے یوروپی فیڈریشن کی خارجہ پالیسی چیف فیڈریکا موچھے شینی نے کہا کہ اس کے نتیجے میں ایران کے نیوکلیائی پروگرام سے وابستہ کثیر خطہ اور قومی اقتصادی و مالی پابندیاں ہٹا لی گئی ہیں۔ دراصل1978ء میں اسلامی انقلاب کے بعد سے ایران کے الگ تھلگ پڑنے کی شروعات ہوئی تھی، پھر عراق کے ساتھ8 سال چلی جنگ نے اسے تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔ اس کے کچھ وقت بعد نیوکلیائی ہتھیار بنانے کی جو مہم ایران کی کٹر پسندسیاسی لیڈر شپ کے ذریعے شروع کی گئی، اس نے تو اس کے وسیع جغرافیہ کو نقشے پر ایک خالی جگہ میں ہی تبدیل کرکے رکھ دیا۔ امریکی صدر براک اوبامہ کا یہ تاریخی کارنامہ مانا جائے گا کہ انہوں نے دنیا کے مین اسٹریم میں پہلے کیوبا اور اب ایران کی واپسی کا راستہ بنایا۔ کہا جارہا ہے کہ اقتصادی پابندیاں ہٹنے سے ایران کو غیر ملکی بینکوں میں جمع اپنے 100 ارب ڈالر واپس ملے جائیں گے۔ بیرونی ممالک میں بننے والی چھوٹی موٹی چیزوں کے لئے بھی ترس جانے والی و افراط زر کی زبردست قلت سے لڑ رہی ایرانی آبادی کے دن اچھے آگئے ہیں۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ایران اب بھارت سمیت دنیا کے کسی بھی ملک سے آسانی سے تجارت کر سکے گا اور خاص طور پر تیل کی برآمدات پر بھی انحصار اسکی معیشت آنے والے دنوں میں ایک پائیدار صورت لے سکے گی۔ ایران اس وقت جشن میں ڈوبا ہوا ہے۔ اپنے اوپر سے اقتصادی پابندی ہٹنے سے ایرانیوں کی خوشی جائز سمجھی جاسکتی ہے۔ اقتصادی تنگی اور مشکلوں سے لڑ رہا ایران ایک نئے دور میں قدم رکھ رہاہے۔ اس کے صدر حسن روحانی نے پابندیوں میں راحت کی تعریف کرتے ہوئے ایک شاندار کامیابی اور اہم موڑ بتایا ہے۔ ایرانی میڈیا نے خاص لہجے میں ایک نئے دور کے آغاز کا خیر مقدم کیا ہے اور اس نے کافی تصوراتی و معجزاتی عنوانات کا استعمال کیا ہے۔ ایران پر لگی بین الاقوامی پابندی ہٹنے سے دنیا بین الاقوامی ڈپلومیسی میں ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔ تاریخ میں ہمیشہ ہی ایک بڑی ثقافتی اور سیاسی اور اقتصادی طاقت ہونے کے باوجود یہ دیش کافی عرصے سے حاشیے پر پڑا ہوا تھا۔ ایران کے نئے وجود سے سب سے بڑا خطرہ سعودی عرب کو محسوس ہوگا، جو اس سے نکلنے کے لئے کسی بھی اول جلول حرکت میں اترسکتا ہے۔ ویسے امریکی صدر براک اوبامہ کیلئے ایران سے پابندی ہٹانے کا ایک مقصد یہ بھی رہا ہے کہ شام اور عراق میں آئی ایس آئی ایس کی سرگرمیوں پر لگام لگائی جاسکے لیکن خطرہ بھی برقرار ہے کہ کہیں اس بات کو لیکر لبنان، بحرین، یمن میں بھی ایران اور سعودی عرب کی درپرہ جنگ نہ شروع ہوجائے۔ روس پابندیوں کے ہٹنے کا خیر مقدم کرے گا کیونکہ ایران، عراق اور شام کیساتھ وہ آئی ایس آئی ایس کے خلاف مشترکہ محاذ طے کرے گا۔ چونکہ ایران شیعہ ملک ہے اس لئے بھی وہابی سعودی عرب کو ایران کا خوف ہے اور بھارت اور ایران کے ہمیشہ سے قریبی رشتے رہے ہیں۔ بھارت کو اب دوستی کا اور فائدہ ملے گا۔ کل ملا کر ایران سے پابندی ہٹنے کا خیر مقدم کرنا چاہئے۔
(انل نریندر)

داؤ پر ہے اروند کیجریوال کی ساکھ!

دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کی ساکھ پر اکثر سوال اٹھائے جاتے ہیں۔ عام خیال یہ ہے کہ وہ الزام لگاتے ہیں اور پھر جب انہیں ثابت کرنے کا وقت آتا ہے تو بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔ ایسے ہی ایک معاملے میں انہوں نے دہلی اور ڈسٹرکٹ کرکٹ ایسوسی ایشن پر سنگین الزام لگائے ہیں۔ ڈی ڈی سی اے نے ہتک عزت کا مقدمہ دہلی ہائی کورٹ میں دائر کردیا ہے۔ اس کی طرف سے دائر مقدمے پر سماعت کرنے کے بعد جوائنٹ رجسٹرار انل کمار سسودیہ نے عرضی کو سماعت کے لائق مانا ،اس لئے حریفوں کیجریوال اور کیرتی آزادکے لئے اپنا رخ واضح کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ فریقین کو2 مارچ سے پہلے اپنا جواب داخل کرنا ہوگا۔ ڈی ڈی سی اے نے اپنی عرضی میں کہا کہ کیجریوال نے اپنے پہلے کے مقصد کے سبب حال ہی میں کچھ غلط اور حیرت میں ڈالنے والے جھوٹے ، ہتک عزت پر مبنی اور بے عزت کرنے والے اور بے بنیاد غلط نیت پر مبنی اور شرمناک بیان دئے ہیں۔ یہ ہمارے لئے توہین آمیز ہے۔ ڈی ڈی سی اے کے وکیل سنگرام پٹنائک نے کہا کہ کیرتی آزاد بھی کچھ اسی طرح کی بیان بازی میں شریک رہے ہیں۔ یہ بیان اپنے فائدے کے لئے پارٹی (ڈی ڈی سی اے) کو بے عزت کرنے اور انہیں نقصان پہنچانے کے ایجنڈے طے کئے گئے ہیں۔ وکیل نے کہا کہ اس وجہ سے ڈی ڈی سی اے کو 500 کروڑ روپے سے زیادہ کا نقصان ہوا۔ بہرحال اس سے ہوئے نقصان کی تکمیل کے لئے اس نے حریفوں سے کل 5 کروڑ روپے کا ہرجانا مانگتے ہوئے مقدمہ درج کرانے کا فیصلہ کیا اور اپنے اپنے خاندان کے ممبروں کے خلاف مبینہ طور پر غلط اور توہین آمیز بیانات کے لئے مرکزی وزیر ارون جیٹلی نے پہلے ہی کیجریوال اور ان کی پارٹی کے پانچ لیڈروں کو عدالت میں گھسیٹا ہوا ہے۔ جیٹلی نے آپ نیتاؤں سے 10 کروڑ روپے کا ہرجانہ مانگا ہے۔ اس کے علاوہ عام آدمی پارٹی کے چھ نیتا بھی مرکزی وزیرکی طرف سے نچلی عدالت میں دائر مجرمانہ معاملے میں ہتک عزت کے مقدمے کا سامنا کررہے ہیں۔ ڈی ڈی سی اے گھوٹالہ معاملے میں ہتک عزت کے اشو پر ارون جیٹلی نے وزیر اعلی اور ان کے چھ ساتھیوں کو گھیرنے کے لئے ایک منجھے ہوئے حکمت عملی ساز کی طرح قانونی بساط بچھائی ہے۔ وزیراعلی کیجریوال کے الزامات کا جس طرح سے قانونی و سیاسی لیڈر جیٹلی نے جواب دینا شروع کیا ہے اس سے لگتا ہے کہ وہ اس لڑائی کو کافی آگے لیکر جانے کی نیت رکھتے ہیں۔ اب کیجریوال ان کے ساتھیوں ، جن میں کیرتی آزاد بھی شامل ہیں، کو اپنے الزامات ثابت کرنے کا وقت آرہا ہے۔ ارون جیٹلی و ڈی ڈی سی اے کے خلاف انہوں نے کئی گھوٹالوں کا الزام لگا یا ہے ۔ کیا یہ الزام صرف کیرتی آزاد کے ثبوتوں پر مبنی ہیں یا ان کے پاس اور بھی پختہ ثبوت ہیں۔ آگے چل کر یہ ثابت کرنا ہوگا۔ داؤ پر ہی کیجریوال کی ساکھ۔
(انل نریندر)

19 جنوری 2016

مہاراشٹر بلدیاتی چناؤ میں بھاجپاشیو سینا کوزبردست جھٹکا!

چناؤ کمیشن نے منگل کے روز اعلان کیا تھا کہ اترپردیش ، پنجاب، کرناٹک، مہاراشٹر سمیت8 ریاستوں میں12 اسمبلی سیٹوں پر 13 فروری کو ضمنی چناؤ کرایا جائے گا۔ اترپردیش میں مظفر نگر ، دیوبند اور بکاس پور اسمبلی سیٹوں و کرناٹک میں دیوی درگ بیدر اور ہببل اسمبلی سیٹوں پر چناؤ ہوں گے۔ پنجاب ، مہاراشٹر، بہار، تریپورہ، تلنگانا، مدھیہ پردیش میں ایک ایک اسمبلی سیٹ پرضمنی چناؤ ہوگا۔ نوٹی فکیشن20 جنوری کو جاری کیا جائے گا۔ نامزدگی کی آخری تاریخ27 جنوری اور نام واپس لینے کی آخری تاریخ 30 جنوری ہے۔ چناؤ 13 فروری سنیچر کے دن ہوگا۔ اترپردیش میں جن تین سیٹوں پر ضمنی چناؤ ہونا ہے ان پر حکمراں سماج وادی پارٹی کا قبضہ تھا۔ کرناٹک کی دیو درگ سیٹ پر حکمراں کانگریس کا قبضہ تھا جبکہ بیدر اور ہببل جپا کے پاس تھیں۔ پنجاب کی کھدور صاحب سیٹ کانگریس کے پاس تھی، جبکہ بہار میں ہرلاکھی سیٹ پر آر ایل ایس پی کا قبضہ تھا۔ مارکسوادی کے ایک ممبر اسمبلی ایم۔ آچاریہ جی کو نکال دیا گیا تھا۔ مہاراشٹر کے جلپار میں ضمنی چناؤ فی الحال ایک سال جون سے لٹکا ہوا تھا لیکن چناؤ کمیشن کے سامنے ایک چناؤ عرضی کے لٹکے ہونے کی وجہ سے آگے بڑھ سکتا ہے۔ یہ سیٹ شیو سینا کے پاس تھی۔ تلنگانہ کی نارائن کھیند سیٹ اور مدھیہ پردیش کی مہر سیٹ کانگریس کے پاس تھی۔ ویسے تو ضمنی چناؤ حکمراں (دونوں مرکز اور ریاستی سرکاروں) کے لئے اتنے اہم تو نہیں ہوتے لیکن اس سے اتنا ضرور پتہ چل جاتا ہے کہ صوبے میں ہوا کس طرف چل رہی ہے۔ حال ہی میں مہاراشٹر کے کچھ ضلعوں میں نگر پالیکا اور نگر پنچایت چناؤ میں بھاجپا اور شیو سینا کو ناامیدی کا سامنا کرنا پڑا ہے اور کانگریس نے اس چناؤ کے ذریعے پارٹی کو مقابلے میں لاکر کھڑا کردیا ہے۔ چناؤ کے نتیجے پیر کی رات کو اعلان کئے گئے۔ ان نتیجوں کے مطابق کانگریس نے میونسپل کونسل ،نگر پنچایت اور ضمنی چناؤ میں 105 سیٹیں جیتی ہیں۔ ان چناؤ میں بھاجپا کو چوتھے مقام پر مطمئن ہونا پڑا۔80 سیٹوں پر راشٹر وادی کانگریس پارٹی دوسرے مقام پر اور 19 سیٹیں جیت کر شیو سینا تیسرے مقام پر رہی۔ حکمراں بھاجپا کو 39 سیٹوں کے ساتھ چوتھے مقام پر سمٹنا پڑا۔ حالانکہ یہ ضلع کانگریس ، این سی پی کے مضبوط گڑھ مانے جاتے ہیں لیکن کانگریس ان نتائج کو ریاستی حکومت کے تئیں لوگوں کے گھٹتے بھروسے کا نتیجہ بتا رہی ہے۔ بھاجپا کے لئے یہ ویک اپ کال ہے آگے مورچہ بہت سخت ہے ۔
(انل نریندر)

کیا سنندا کی موت کا راز کبھی کھلے گا؟

دہلی کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل کے بند کمرے میں ہوئی سابق مرکزی وزیر ششی تھرور کی بیوی سنندا پشکر کی موت سیاست کی بساط پر ایک عجوبہ پہیلی بن گئی ہے۔ سنندا پشکر کی موت کا معاملہ اور سنسنی خیز ہوگیا ہے۔ امریکی جانچ ایجنسی ایف بی آئی نے سنندا کی موت زہر سے ہونے کے ایمس کے دعوے کی تصدیق کردی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایف بی آئی نے یہ بھی کہا ہے کہ سنندا کے جسم میں خطرناک کیمیکل ملا تھا جس کی وجہ سے ممکنہ طور پر ان کی موت ہوگئی۔ اس معاملے میں ایف بی آئی کی جائزہ لینے والی ایمس کی رپورٹ ملنے کا انکشاف کرتے ہوئے دہلی پولیس کمشنر بی ایس بسی نے بھی کہا ہے کہ سنندا کی موت قدرتی نہیں تھی، لیکن انہوں نے سنندا کے جسم میں ریڈیو ایکٹو عوامل ہونے کی بات مسترد کردی۔ ایمس کے فورنسک سائنس محکمے کے چیف سدھیرگپتا نے بتایا کہ ایف بی آئی کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ موت زہر کی وجہ سے ہوئی تھی۔ جیسا کہ ایمس نے اپنے نتیجے میں اخذ کیا تھا۔ بسی نے کہا کہ اب تک کی جانچ اور اکھٹا کردہ ثبوتوں کی بنیاد پر پختہ طور پر صاف ہوگیا ہے کہ یہ موت فطری نہیں تھی۔یہ ٹھیک ہے کہ سنندا کی موت زہر کی وجہ سے ہوئی لیکن یہ سوال ابھی بھی سلجھ نہیں پا رہا ہے کہ انہوں نے کونسا زہر کھایا یا انہیں دیا گیا؟ خود کھایا یا پھر اسے کسی نے ان کے جسم میں پہنچایا؟ اگر کسی نے زہردیا تو پھر وہ کون ہے؟ 17 جنوری 2014 ء کو چانکیہ پوری میں واقع پانچ ستارہ ہوٹل ’’لیلا پیلس‘‘ کے ایک سوئٹ کمرے میں سنندا پشکر مردہ پائی گئی تھیں۔ اس وقت مرکز میں کانگریس کی حکومت تھی اور دہلی پولیس اس وقت کے کانگریسی وزیر داخلہ سشیل کمار شندے کے ہاتھ میں تھی۔ کانگریس نیتا اور سابق مرکزی وزیر ششی تھرور سے معاملہ وابستہ ہونے کی وجہ سے پہلے ہی دن سے پولیس معاملے میں لیپا پوتی کرتی رہی تھی۔ٹھونس ثبوت ملنے کے باوجود اوپری دباؤ کے سبب پولیس نے رپورٹ درج نہیں کی تھی۔ آخر کار ڈرامائی ڈھنگ سے ایک سال بعد 1 جنوری2015ء کو سنندا کی موت کوقتل قرار دیتے ہوئے رپورٹ درج کی گئی ۔ سنندا کی موت پہلے ہی دن سے پہیلی بنی ہوئی تھی۔ موت کے معاملے میں اسپیشل ٹاسک فورس کو لیکر شش و پنج رہا۔ شروعات میں ایس آئی ٹی بنانے کا دعوی تو کیا گیا تھا لیکن ایک سال بعد اس کی تشکیل ہوئی۔ پھر کیس کو ہلکا کرنے کے ارادے سے ایس آئی ٹی کی رہنمائی کررہے ڈی سی پی (اسپیشل سیل) پرمود کشواہا سمیت تین افسران کا فیصلہ کے خلاف تبادلہ کردیا گیا۔ کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ بھاجپا سرکار الٹے سیدھے ، آدھے ادھورے سچ کا سہارا لیکر ششی تھرور اور پارٹی کے دوسرے نیتاؤں کے پیچھے پڑنے کیلئے بدلے کی سیاست کررہی ہے۔ کانگریس کے ترجمان رندیپ سرجے والا نے کہا کہ ششی تھرور اس معاملے میں نہ تو ملزم ہیں اور نہ ہی ان کا ایف آئی آر میں نام ہے۔ سوال آخر میں بھی یہی اٹھتا ہے کہ سنندا کو کس نے ، کیوں اور کیسے زہر دیا؟ کیا اس معاملہ کی گتھی کبھی سلجھے گی یا نہیں؟
(انل نریند)

17 جنوری 2016

دہشت گردی کیخلاف پوری دنیا کو متحد ہونا ہوگا

پیرس کے دہشت گردانہ حملے کے بعد دہشت گردوں کے حملوں کا ایسا سلسلہ شروع ہوا ہے کہ آئے دن دنیا کے کسی نہ کسی کونے سے ایسے حملوں کی خبریں آرہی ہیں۔ گذشتہ دو تین دنوں سے دنیا کے الگ الگ حصوں میں یہ دہشت گرد دھماکے کررہے ہیں۔ پہلے ترکی کی راجدھانی استنبول میں پھر پاکستان کے کوئٹہ میں پھرافغانستان کے جلال آباد میں اور پھر انڈونیشیا کی راجدھانی جکارتہ میں اور یہ سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ دیکھا جائے تو دسمبر میں فرانس کی راجدھانی پیرس میں جو دھماکے کئے گئے تھے اس کے بعد ایسے دھماکوںیا ایسی کوششوں کا سلسلہ جاری ہے۔زیادہ تر معاملوں میں دہشت گرد تنظیم آئی ایس آئی ایس کا ہاتھ ہے اور ان میں خودکش دھماکوں کے ساتھ گولہ باری کرنے کی حکمت عملی اپنائی جارہی ہے۔ انڈونیشیا کی راجدھانی جکارتہ میں سیریل بم دھماکوں کی ذمہ داری لیکر آئی ایس آئی ایس نے اپنا جغرافیائی دائرہ اچانک بڑھادیا ہے۔ فرانس میں ہوئے زبردست حملے کے باوجود ابھی تک اس دہشت گرد تنظیم کو پشچمی ایشیا اور اتری افریقہ کے کچھ ملکوں تک ہی محدودمانا جارہا تھا۔ سیریا میں روسی مداخلت کے بعد یہ بھی مشتہر کیاگیا کہ آئی ایس آئی ایس پر دباؤ برھ رہا ہے اور وہ اپنی زمین کھوتے جارہے ہیں۔ انڈونیشیا پولیس کو یہ اطلاع کافی پہلے سے تھی کہ اس کے لگ بھگ 100شہری آئی ایس آئی ایس میں شامل ہیں جبکہ دیش میں قریب ایک ہزار لوگ اس تنظیم کے ہمنوا ہیں۔ واضح رہے کہ جہادی دہشت گرد تنظیموں کا انڈونیشیا میں اثر پہلے بھی کچھ کم نہیں رہا۔ کچھ معاملوں میں دوسری دہشت گرد تنظیموں کا نام بھی آرہا ہے جیسے کوئٹہ میں پاکستانی تحریک طالبان کا نام ہے اور پوربی ترکی میں کار بم دھماکوں کے پیچھے کرد باغیوں کا ہاتھ بتایا جاتا ہے۔ آئی ایس آئی ایس کے دہشت گردوں کی دنیا بھر میں اس طرح کی سرگرمی سے معلوم ہوتا ہے کہ آئی ایس آئی ایس کا جال کتنی دور تک پھیلا ہے۔ زیادہ تر حملہ آور یا تو سیریا یا عراق میں آئی ایس آئی ایس کی مہم میں حصہ لیکر لوٹے نوجوان ہیں یا پھر اپنے ہی ملک میں انہیں آئی ایس آئی ایس کی کٹرپنتھی اور دہشت گردی کے نظریئے کی حمایت کرنے والا بنایا گیا ہے۔ موجودہ سال2016 ء کے کل پہلے15 دنوں میں لگ بھگ روز ہی کہیں نہ کہیں کسی بڑے دہشت گردانہ حملے کی خبر آئی ہے جس میں تین طرح کے دہشت گرد تنظیم کا ہاتھ ثابت ہوتا ہے۔ ایک وہ جو آئی ایس آئی ایس سے جڑے ہیں دوسرے وہ جن کا رشتہ آج بھی القاعدہ سے بنا ہوا ہے اور تیسرے وہ جو کسی نہ کسی دیسی محاورے کے تحت اپنی دہشت گردانہ سرگرمیاں چلاتے ہیں۔ایسے حملے بھارت کے علاوہ ترکی، سیریا، عراق، لیبیا اور اب انڈونیشیا میں سننے کو ملے ہیں۔ ان حملوں میں یہ تشویش سچ ثابت ہوتی ہے کہ آئی ایس آئی ایس نے تمام ملکوں میں اپنے حمایتیوں کا ایک جال بچھا رکھا ہے جو کبھی بھی اپنے آقاؤں کے اشاروں پر واردات کرنے کیلئے تیار ہیں۔ یہ لوگ کس قدر کٹر وادی نظریئے کی گرفت میں آگئے ہیں یہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ زیادہ تر حملوں میں خودکش حملہ آوروں کا استعمال کیا گیا ہے اور جن لوگوں نے گولہ باری کی وہ بھی مرنے کے لئے تیار ہوکر آئے تھے۔ روس نے ترکی کے استنبول میں ہوئے آتنکی بم دھماکوں کے بعد دنیا کے سبھی دیشوں سے آتنک واد کے خلاف متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ روس کے ودیش منترالیہ نے دھماکوں کے بعد جاری ایک بیان میں کہا کہ لگاتار بڑھتے دہشت گردانہ حملوں کودیکھتے ہوئے اب سبھی ملکوں کو بنا دیر کئے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے متحد ہو جانا چاہئے اور بین الاقوامی سطح پر مشترکہ فوج بناکر ان کے خلاف مہم چلانا ہوگی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ آتنک واد کے جڑسے خاتمے کے لئے سبھی ملکوں کو متحد ہوکر جس فوج کا قیام کرناہوگا اس کا فارمیٹ سیریا میں آئی ایس آئی ایس کے خلاف چھیڑے امریکی گٹھ بندھن سینا سے بھی بڑھ کر ہو۔وقت آگیا ہے کہ آتک واد سے لڑنے کے لئے ساری دنیا متحد ہوجائے۔
(انل نریندر)

جیل کی نوبت آنے تک بلڈر کام نہیں کرتے: کورٹ

گذشتہ کچھ وقت سے دہلی اور این سی آر کے بلڈروں میں ہڑکمپ مچا ہوا ہے۔ وجہ ہے کہ عدالتوں کا رخ بلڈروں کے خلاف ہوگیا ہے۔ وعدہ کرکے ، پیسے لیکر سالوں تک سرمایہ کاروں کے فلیٹ لٹکانا عام بات ہوگئی ہے۔ یہ بلڈر اتنے شاطر ہیں کہ یہ فلیٹ خریدنے والے کے ساتھ جو معاہدہ کرتے ہیں اس میں اپنے آپ کو بچانے کی شرطیں پہلے سے ہی ڈال دیتے ہیں۔ جب فلیٹ مالک عدالت جاتا ہے تو یہ اس معاہدے کا حوالہ دیکر صاف نکل جاتے ہیں اور فلیٹ مالک ہاتھ پر ہاتھ دھرے رہ جاتا ہے۔ پر کچھ وقت سے عدالتوں کا رخ بدلا ہے اور انہوں نے اس قسم کے معاہدوں کو رجیکٹ کرنا شروع کردیا ہے۔ گذشتہ دنوں راجدھانی، این سی آر کے ایک معروف بلڈر یونیٹیک کے اعلی افسران کو عدالت نے جیل بھیج دیا۔ سرمایہ کاروں سے دھوکہ دھڑی کے معاملوں میں یونیٹک کے چیئرمین اور ڈائریکٹروں کو شکایت کرنے والے کی منظوری کے بعد جمعرات کو رہا کردیاگیا۔ حالاکہ کورٹ نے بڑے سخت لہجے میں کہا آپ نے آشواسن دیا اور بھاگ گئے آپ تب تک کام نہیں کرتے جب تک آپ کو جیل بھیجنے کی نوبت نہ آجائے۔ باقی سینکڑوں لوگوں کے پیسوں کا کیا ہوگا؟ ان کا حساب کون کرے گا؟ سبھی ملزم تین دن کی پیشگی ضمانت ختم ہونے پر جمعرات کو ایڈیشنل سیشن جج ومل کمار یادو کی کورٹ میں پیش ہوئے تھے۔ اس معاملے میں عدالتی سمن کے بعد بھی پیش نہ ہونے پر یونٹیٹیک کے چیئرمین رمیش چندرا ، ایم ڈی سنجے چڈھا، اجے چندرا اور ڈائریکٹر وناتی باہری کو سرمایہ کاروں سے وعدے کرنے کے بعد کی گئی دھوکہ دھڑی کیلئے سوموار کو حراست میں لیا گیا تھا۔ عدالت نے اس سے پہلے غیر ضمانتی وارنٹ جاری کیا تھا۔ سیشن عدالت نے مجرموں کو یقین دلانے پر انہیں تین دن کی پیشگی ضمانت دے دی تھی۔ساکیت ضلع عدالت کے ایڈیشنل سیشن جج ومل کمار یادو کی کورٹ نے ملزمین سے کہا کہ انہیں شکایت کرنے والے کو اس کا پیسہ لوٹادیا ہے اور وہ اپنی شکایت واپس لینے کو تیار ہے۔ شکایت کرنے والے سی اے سنجے کالڑا و ان کے سانجھے دار دویش وادھوا کا الزام تھا کہ انہوں نے گریٹر نوئیڈا میں یونیٹیک کے پروجیکٹ ہیبیٹیٹ اپارٹمنٹ میں پراپرٹی بک کرائی تھی لیکن انہیں قبضہ نہیں دیا گیا۔ انہوں نے اپنی شکایت میں لکھا کہ عدالتی حکم کے بعد بھی ملزمین نے ان کا پورا پیسہ واپس نہیں کیا۔ غور طلب ہے کہ سنجے و دویش کی شکایت پر کورٹ نے یونیٹیک کے چاروں افسران کو سوموار کو 14 دن کی جوڈیشیل حراست میں بھیج دیا تھا۔ حالانکہ ایک گھنٹے کے اندر ہی ایڈیشنل سیشن جج نے تین دن کی پیشگی ضمانت دے دی تھی، پر کورٹ سے وقت پر ریلیز آرڈر نہ ملنے پر چاروں کو ایک رات جیل میں بتانی پڑی۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...