Translater

05 جنوری 2019

سوال رافےل کا نہےں سودے مےں کرپشن کا ہے !

رفےل پر بدھوار کو لوک سبھا مےں بحث کے دوران کانگرےس نے مودی سرکا ر کو ہی محاذوں پر گھےر نے کوشش کی ۔کانگرےس صدر راہل گاندھی اپنی فل فارم مےں نظر آئے انھوں نے اےک طر ف منوہر پارےکر کے بہانے مودی کو گھےرے نے کے لئے اےک آڈےو ٹےپ جاری کےا وہےں پارلےمنٹ مےں رافےل سودی کی مشترکہ پارلےمانی کمےٹی (جے پی سی )سے جانچ کی مانگ کرتے ہوئے سوال اٹھا ئے اور الزام لگاےا کہ سرکار رافےل کی سچائی کو سامنا لانے سے بچ رہی ہے ۔سرکار کے روےہ سے لگ رہا ہے کہ دال مےں مےں کالی نہےں بلکہ پوری دال ہی کالی ہے ۔جے پی سی سے ہی اس معاملے مےں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوسکے گا ۔وزےر خزانہ نے سرکار کی طرف سے جواب دےتے ہوئے راہل کے الزامات کو جھوٹا بتاےا سابقہ ےوپی اے سرکار پر دےش کی سلامتی سے سمجھوتہ کرنے کا الزام لگاےا سپرےم کورٹ بھی کہہ چکا ہے کہ رافےل سودے مےں گڑبڑی نہےں ہے اےسے مےں جے پی سی کی مانگ نہےں مانی انھوں نے آگے کہا کہ کچھ لوگ اےسے ہوتے ہےں جن مےں سچائی نا پسند ہوتی ہے انہےں صرف پےسہ کا حساب کتاب سمجھ مےں آتا ہے دےش کی سلامتی نہےں مرکزی وزےر خزانہ اروجن ےٹلی نے جوابی حملہ مےں گاندھی خاندان پر نکتہ چےنی کرتے ہوئے بوفورس۔اگستا وےسٹ لےنڈ ،اور نےشنل ہےرالڈ معاملوں کابھی ذکر کےا ۔ارون جےٹلی نے جہاز کی قےمت بتائی ہے سرکار معاملہ کو جتنا دبانے کی کوشش ک رہی ہے وتنی ہی سچائی سامنے آرہی ہے رافےل پر بحث کے دوران وزےر دفاع ےا وزےر اعظم کے بجائے وزےر خزانہ کو سرکار کا بچاو ¿ کرنا پڑ رہا ہے ۔؟راہل نے رافےل ےا کسی اور جنگی جہاز پر بحث کی چنوتی دےتے ہوئے کہا کہ وہ صرف 20منٹ کے لئے رافےل پر بحث کے لئے تےار رہےں ۔انھوں نے کہا کہ سرکار کو ےہ بتانا چاہئے کہ منوہر پارےکر کے پاس کونسی فائل ہے جسے لےکر وہ پارٹی کو بلےک مےل کررہے ہےں ؟در اصل اس آڈےو ٹےپ پر کانگرےس نے دعوی کےا تھا کہ اس مےں گوا کے وزےر وشوجےت رانے کہہ رہے ہےں کہ رافےل کی فائلےں پارےکر کے بےڈ روم مےں ہے ۔ ےہ بات پارےکر نے باقاعدہ اےک کےبےنٹ مےٹنگ مےں کہی تھی کانگرےس نے کہا کہ اسی وجہ سے بےمار ہونے کے باوجود پارےکر کو گوا کے سی اےم عہدہ سے نہےں ہٹاےا جارہا ہے ۔بعد مےں گوا کے وزےر وشوجےت رانے کہا کہ ٹےپ سے چھےڑ چھاڑ کی گئی ہے ۔مےں نے کبھی اس بارے مےں کسی سے بات نہےں کی بی جے پی صدر چاہےں تو جانچ کرالےں ۔سی اےم منوہر پارےکر نے کہا کہ سپرےم کورٹ سے اپوزےشن کے جھوٹ کا پردہ فاش ہونے کے بعد کانگرےس وہےں حقائق کو توڑ مروڑ کر نے کے لئے بے چےن ہے ۔پارلےمنٹ مےں بحث کے دوران راہل نے آڈےو ٹےپ چلانے کی اجازت مانگی ۔جسے اسپےکر نے مسترد کردےا اور سوال کےا کہ کےا وہ آڈےو ٹےپ کی تصدےق کرنے کے لئے تےار ہےں ۔جےٹلی نے بھی خبر دار کےا تو راہل پےچھے ہٹ گئے ۔بحث کے دوران سرکار اس وقت الجھن مےں پڑ گئی جب اس کی اتحادی جماعت شےو سےنا نے کئی طرح کے سوال کھڑے کئے ۔شےو سےنا اےم پی اروند ساونت نے الزام لگاےا کہ وزےر خزانہ ارون جےٹلی نے راہل گاندھی کے الزام کے جواب تو دےئے لےکن اب بھی شبہ بنا ہوا ہے انھوں نے کہا کہ اپوزےشن جے پی سی کا مانگ کررہی ہے تو جے پی سی بنائے اور دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کےجئے کانگر ےس صدر نے کہا رافےل جنگی جہاز کو لےکر کوئی خدشہ نہےں ہے ،سارا شبہ اس مےں کرپشن کا ہے انھوں نے بحث کے بعد اخبار نوےسوں سے کہا کہ سرکار مےں آنے پر کانگرےس جے پی سی بنائے گی اس مےں دو ہی افراد نرےندر مودی اور انل انبانی پر آنچ آئے گی ۔راہل نے اعتماد کے ساتھ کہا کہ وزےر اعظم نرےندر مودی انٹر وےو مےں کہا ہے رافےل کو لےکر ان پر کوئی الزام نہےں ہے مےں انہےں ےاد دلانا چاہتا ہوں کہ سارے الزام ان پر ہی ہےں ۔اےماندار بے داغ ساکھ ےہ وزےر اعظم نرےندر مودی کی سب سے بڑی پونچی کہی جاتی ہے ۔راہل اس پر ہی بڑی چو ٹ کرنے مےں لگے ہوئے ہےں ۔اےسے مےں واقف کار تجزےہ کرنے مےں لگے ہےں کہ اس سے کانگرےس کو چناو ¿ مےں کتنا فائدہ ہوگا ؟ےا ےہ بے داغ الٹا پڑے گا ؟کوئی بھی نےتا اپنے حرےفوں کی کمی پر حملہ کرنے سے نہےں چوکتا ۔وہی راہل بھی کررہے ہےں ۔انکے ذاتی اسباب بھی پی اےم پر سخت حملہ کی وجہ ہے ۔رافےل سودے مےں انل انبانی اور ان کی کمپنی کے لنگ کا پورا استعمال کرتے ہوئے راہل ےہ جتانا چاہ رہے ہےں کی اس سودے سے کرپشن کی بو آرہی ہے سچا ئی کو دبانے کوشش کی جارہی ہے ۔دےش مودی سرکار سے کچھ سوالوں کا جواب ضرور چاہتا ہے ۔کےا وزارت دفاع نے نئے کنٹرےکٹ پر اعتراض ظاہر کےا تھا ؟دام 526سوکروڑ روپے سے بڑھا کر 16سوکروڑ روپے کرنے کا فےصلہ کےا ۔رافےل مےں سترسال سے جہاز بنانے والی اےچ اے اےل کو ہٹاکر کبھی جہاز نہ بنانے والی انل انبانی کی کمپنی کو 30.000کروڑ روپے کا ٹھےکہ کےسے ملا ؟کےا ےہ وزےر اعظم کی دسالٹ کمپنی ےا فرانس کی اس وقت کی اولاندسرکار کو سےدھا کہنے پر کےا گےا ؟کےا اےچ اے اےل کو باہر رکھنے کے بارے مےں فرانس کے اسوقت کے صدر اولاند نے بھارت کے رول کی بات کہی تھی ؟اس بار ے مےں وزےر اعظم کہہ سکتے ہےں راہل گاندھی جھوٹ بو ل رہے ہےں ۔لےکن کےا اس سے دےش خاموش ہوجائےگا اصل داو ¿ں پر تو ہے وزےر اعظم کی اےماندار بے داغ ساکھ ؟

(انل نرےندر)





04 جنوری 2019

مشکلوں کو مات دے کر بنے قادر مقد ر کے سکندر

سکھ تو بے وفا ہوتا ہے آتا جاتا ہے دکھ ہی اپنا ساتھی ہے اپنے ساتھ رہتا ہے ۔دکھ کو اپنا لیں ،تب تقدید تیرے قدموں میں ہوگی مقدر کا سکندر فلم کا یہ یادگار ڈائیلاگ لکھنے والے قادر خان اب اس دنیا میں نہیں رہے 21سالہ اداکار قادر خان کافی عرصے سے بیمار تھے اور 31دسمبر کی رات کنیڈا میں ان کا انتقال ہو گیا انہوں نے تین سو سے بھی زیادہ فلموں میں اداکاری کی اور دوسو پچاس کے زیادہ فلموں کے ڈائیلاگ لکھے ۔ایک وقت ایسا بھی تھا جب ان کا رتبہ فلم کے ہیرو سے زیادہ ہوا کرتا تھا پڑوڈیوسر ڈائیرکٹر انہیں اپنی فلموں میں لینے اور ڈائیلاگ لکھوانے کے لئے انتظار کیا کرتے تھے ۔انہوںنے اپنے ڈائیلاگ سے 1980-1990کی دہائی میں فلموں کی زبان ہی بدل دی ان کی زبان بالکل ویسی تھی جیسے عام آدمی بولتا سمجھتا ہے ۔لیکن اس نے کئی بار ان کے مکالموں میں جیسی گہرائی ہوتی تھی ان کو کون بھول سکتا ہے ۔بچن نے سر پر اللہ کا ہاتھ اور اللہ رکھا ہے اپنے ساتھ بازو پر 786کا بلا لگایا 20نمبر کی بیڑی پیتا ہوں نا م ہے اقبال (کلی1983)وجے دینا ناتھ چوہان ،پورانام باپ کا نام دینا ناتھ چوہان ماں کا نام سبھاشنی چوہان ،گاﺅں بھانڈوا عمر 36سال نوم مہینے آٹھ دن یہ سولواں گھنٹا چالو ہے (اگنی پتھ 1990)کہتے ہیں آدمی کی سیرت اگر جاننی ہو تو اس کی صورت تک نہ جائیں اور کے پیروں کی طرف دیکھنا چاہیے اس کے کپڑوں کو نہیں اس کے جوتوں کی طرف دیکھ لینا چاہیے(ہم 1991)انگارے فلم میں ایک ڈائیلاگ ہمیشہ یاد رہے گا وہ تھا ایسے تحفے (بندوقیں دینے والا دوست نہیں ہوتا تیرے باپ نے 40سال ممبئی پر حکومت کی ہے ان کھلونوں کے بل پر نہیں اپنے دم پر)قادر خان کی پیدائش افغانستان کے شہر کابل میں ہوئی تھی خاندان ممبئی آکر بس گیا انہوںنے سوئیل انجئینرنگ کی پڑھائی کی اور اس کے بعد کچھ قہقہوں کے لئے کہانی لکھنے لگے راجیش کھنا نے انہیں جوانی فلم سے بطور رائٹر بریک دیا ۔قادر خان نے دھرم ویر ،کلی ،ہمت والا،مقدر کا سکندر،اگنی پتھ،امر اکبر انتھونی،جیسی فلموں کے ڈائیلاگ یا کہانی لکھی ۔90کی دہائی میں گوندا کی جوڑی بن کر ابھری دونوںنے ساتھ میں دولہے راجا ،کلی نمبر1آنکھیں ،راجا بابو،جیسی فلموں میں قادر خان کو تین بار فلم فئیر ایوارڈ ملا ۔بارہ بار لکھنے ایک بار ایکٹنگ کے لئے ۔قادر نے کچھ فلموں میں ویلن کا رول بھی کیا ،لیکن کچھ وقت بعد انہوںنے ایسے رول چھوڑ کر کیرئکٹر اداکار کے ہی رول کرنے کا من بنا لیا قادر خان ایسے شخص تھے جو مذاہیہ سے بھرے ڈائلاگ کسی بھی اداس چہرے پر مسکراہٹ لا سکتے تھے لیکن دنیا میں ہنسی بانٹنے والا یہ شخص بھی اپنی زندگی میں درد اور دکھ کے لمبے دور کے ساتھ ختم ہو گیا ۔وزیر اعظم نریندر مودی نے انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ قادر خان نے اپنی شاندار اداکاری انداز میں ہنسانے اور ٹیلنٹ سے پردے پر اپنی چمک بیکھری ان کے انتقال پر سبھی غم منا رہے ہیں ۔

(انل نریندر)

کیا ای ڈی یہ ثابت کر سکے گی کہ گاندھی خاندان سودے میں ملوث تھا؟

اگستا ویسٹ لینڈ:وی وی آئی پی ہیلی کاپٹر سودا معاملے میں انفورسمنٹ ڈائرکٹریٹ (ای ڈی)کے ذریعہ کے ملزم بچولیا کرشچن مشیل نے پوچھ تاچھ میں گاندھی خاندان کا ذکر کرتے ہوئے اٹلی کی خاتون مسز گاندھی اور ان کے بیٹے کا نام لیا سے ایک سیاسی طوفان کھڑا ہو گیا ہے ۔حالانکہ یہ صاف نہیں ہو سکا کہ نام کس سلسلہ میں لیا گیا ہے ؟بی جے پی صدر امت شاہ نے اس سودے کے بچولیے مشیل اور کانگریس کی سرکردہ لیڈر شپ کے درمیان پرانی اور گہری دوستی ہونے کا الزام لگایا ہے شاہ نے پیر کو ایک کے بعد ایک ٹوئٹ کر کانگریس پر کئی الزام لگائے انہوںنے دعوی کیا کہ مشیل نے اپنے وکیل کو جانچ افسران کے سوالوں کی تفصیل دی تھی وکیل نے اسے مانا ہے۔شاہ نے سوال اُٹھایا کہ کیا ملزم کے سوالوں سے جڑی جانکاری شریمتی گاندھی تک پہنچانا چاہتا ہے؟دوسری طرف کانگریس نے ہیلی کاپٹر معاملے میں خود وزیر اعظم نریندر مودی کے اس کمپنی سے ملے ہونے کا الزام لگا دیا ۔کانگریس کا کہنا ہے کہ اگستا ویسٹ لینڈ سودے کو لے کر بچولیے مشیل سے گاندھی خاندان کی ملاقات نہیں ہوئی پارٹی نے اس معاملے میں بھاجپا کو ثبوت پیش کرنےکی چنوتی دی ہے ۔پارٹی کی دلیل یہ بھی ہے کہ اگر اگستا ویسٹ لینڈ سے کانگریس کو کسی طرح کا فائدہ پہنچا ہوتا تو وہ اس کے خلاف اتنی سخت پابندی نہیں لگاتی کانگریس کے میڈیا شوبے کے انچارج رندیپ سورجیوالا کا کہنا ہے کہ پچھلی یو پی اے سرکار نے اگستا کمپنی سے 1620کروڑ روپئے کی جگہ 2068کروڑ روپئے وصولے اس کے تین ہیلی کاپٹر ضبط بھی کئے گئے اسے بلیک لسٹ میں ڈالا گیا اور اس کے خلاف قانونی کارروائی کی ۔وہیں مودی سرکار نے اس کمپنی پر لگاتار مہربانیاں کئیں ہیں جو یہ ثابت کرتی ہے کہ وہ اس کمپنی سے ملے ہوئے ہیں اور اب وہ کانگریس کی لیڈر شپ کے خلاف مبنیہ بچولیے مشیل کے بہانے جھوٹی کہانیاں گھڑ رہی ہے ۔کسی ہندوستانی ایجنسی نے پہلی بار سرکار طور سے بھلے ہی اس سودے میں شریمتی گاندھی کا نام لیا ہو لیکن اسے ثابت کرنے کے لئے ثبوت اکٹا کرنا ٹیڑھی کھیر ثابت ہو سکتی ہے ۔ابھی تک جانچ میں ایجنسیاں گاندھی خاندان تو کیا ان کے کسی قریبی تک پہنچنے میں بھی نا کام رہی ہیں بھارت میں تین کمپنیوں تک دلالی کی رقم پہنچنے کے ثبوت ملے ہیں لیکن جانچ اس کے آگے نہیں بڑھ پا رہی ہے ۔ای ڈی کے سئنیر افسر نے قبول کیا کہ صرف مشیل کے بیان کی بنیاد پر کسی کو ملزم بنانا ممکن نہیں ہے اس کے لئے ٹھوس ثبوت اکٹھے کرنے ہوںگے ڈھائی سال کی سخت جانچ پڑتال کے بعد بھی گاندھی خاندان اور ان کے کسی قریبی تک رشوت کی رقم پہنچنے کا کوئی ثبوت نہیں مل سکا ہے ۔شاید یہی وجہ ہے کہ اب ای ڈی چپ ہے کیا یہ اشو سرکار پر رافیل معاملے کو کرنے کے لئے اُٹھایا جا رہا ہے تاکہ کسی نہ کسی طرح سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کو زبردستی گھسیٹا جائے یا پھر ای ڈی یہ ثابت کر دے گی کہ گاندھی پریوار اس سودے میں ملوث تھا ؟

(انل نریندر)

03 جنوری 2019

امریکہ میں شٹ ڈاﺅن نے بڑھائی سرکاری ملازمین کی مشکلیں

امریکہ میں فیڈلر سروسز اور سرکاری ملازمین کو تنخواہ نہ ملنے کا مسئلہ نیا سال میں بھی جاری ہے وہیں امریکہ کی دونوں سیاسی پارٹیوں کے درمیان ایک دوسرے پر الزام تراشیوں سے مسلئے کا کوئی ٹھوس حل نہیں نکلتا ہوا نظر آرہا ہے ۔دراصل سارا جھگڑا صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ سرکاری رقم میں سے اربوں ڈالر امریکہ -میکسیکو کے درمیان دیوار بنانے کے لئے مانگی گئی ہے ۔اپوزیشن ڈیموکریٹک پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ اس پیسے کا استعمال دیوار بنانے کے لئے نہیں ہونے دیں گے ۔یہ بھی صاف نہیں ہے کہ تالا بندی کب تک جاری رہے گی امریکی صدر کا کہنا ہے کہ جب ڈیموکریٹ -امریکہ-میکسیکو میں سرحد پر دیوار بنانے کے لئے پانچ ارب ڈالر فنڈ دینے کو راضی نہیں ہوتے تھے سرکار کا جزئی شٹ ڈاﺅن جاری رہے گا ۔ڈیموکریٹ ایم پی سرحد پر دیوار بنانے پر خرچ کے خلاف ہیں ان کا کہنا ہے کہ سرکار کو دیوار کے بجائے سرحد کو محفوظ بنانے کے لئے ٹیکنالوجی،برانڈ اور دیگرطریقوں پر خرچ کرنا چاہیے اس شٹ ڈاﺅن کا سرکار کے مختلف ملازمین پر اثر پڑ رہا ہے قریب 380000مرکزی ملازمین کو زبردستی چھٹی پر بھیجا گیا ہے ان میں کمرشیل محکمہ کے 86فیصدی ناسا کے 96فیصدی نیشل پارک سروس وجنگلات سروس 80فیصدی اور ٹریفک محکمہ کے 30فیصد ملازم ہیں ان کے علاوہ 420000ملازمین کو شٹ ڈاﺅن کی معیاد میں بغیر تنخواہ کے کام کرنا ہوگا اس میں انٹرنل سیکورٹی کے 88فیصدی مرکزی محکمہ قانون 41000ملازمین ہیں ۔شٹ داﺅن ختم ہونے کے بعد کانگریس کی اجازت سے ہی اس مدت کی تنخواہ مل سکے گی ان ملازمین کو اس معیاد کی تنخواہ کب اور کیسے ملے گی اس پر تو شش و پنج ہے لیکن اس نے کئی پریشانیاں بھی کھڑی کر دی ہیں دل کی سرجری کے بعد آرام کر رہے مشیل چیپل کی بیوی انٹرنل سیکورٹی محکمہ میں کام کرتی ہیں چیپل آپریشن کی وجہ سے کوئی کام فی الحال نہیں کر رہی ہیں بیوی کی تنخواہ نہ مل پانے سے ان کے گھر میں مشکل کھڑی ہو گئی ہے ان کے سامنے کرائے کے ساتھ ہی کار کی قسط و میڈیکل بل ادا کرنے تک کی مشکل ہے حالانکہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ دعوی کر رہے ہیں کہ کئی مرکزی ملازمین دیوار چاہتے ہیں اور جب تک اس کے لئے کانگریس فنڈ نہیں دیتی و شٹ ڈاﺅن کے لئے تیار ہیں اس کے برعکس بڑی ملازمین یونینون نے ٹرمپ کے اس دعوی کی تردید کی ہے اس دوران شٹ ڈاﺅن کی وجہ سے دو بچوں کے مرنے سے اور تنازع کھڑا ہو گیا ہے ٹرمپ کا دعوی ہے کہ یہ موتیں پوری طرح سے ڈیموکریٹس اور ان کی خراب پالسیوں کا نتیجہ ہے جس نے لوگوں کو لمبی دوری طے کرنے اور یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ وہ ناجائز طریقہ سے ہمارے دیش میں داخل ہو سکتے ہیں امید کی جا تی ہے کہ جلد اس تعطل کا سلسلہ ختم ہوگا اور معاملے کا کوئی راستہ نکلے گا ۔

(انل نریندر)

کشمیروادی میں 2018کے دوران 28کمانڈر سمیت311آتنکی ہلاک

جموں و کشمیر کے سانبا سے لگے رتنوچک ملیٹری اسٹیشن پر سنیچر کو ٹھیک اُسی طرح کا حملہ کرنے کی کوشش کی گئی جس طرح جس طرح2016اُڑی میں حملہ کیا گیا تھا ۔فوج کے مطابق رتنوچک فوج کے تیسری برگیڈ کے ساتھ لگے کوارٹر پوسٹ میں تعینات سنتری کو رات 1:50منٹ کے آس پاس دو مشتبہ دکھائی دئے انہوں نے ان کو رکنے کے لئے کہا لیکن وہ بڑھتے رہے ۔مشتبہ افراد نے سنتری چوکی کو نشانہ بنا کر فائرنگ شروع کر دی ادھر بربریت کے لئے خطرناک پاکستان کی بارڈر ایکشن ٹیم (بیٹ)کا ایک اور حملہ ہندوستانی فوج نے ناکام بنا دیا بھاری ہتھیاروں سے مصلحہ پانچ چھ لوگوں کی ٹیم نے کشمیر کے نو گاﺅں میں حملہ کرنے کی کوشش کی مستعد ہندوستانی فوجیوں نے ان میں سے دو کو مار گرایا ذرائع کے مطابق ان میں پاکستان کی اسپیشل سروس گروپ (ایس ایس جی)کا ایک کمانڈر انور بھی تھا ۔پچھلے پندرہ دنوں میں بیٹھ کے حملے کئے چوتھی کوشش تھی ۔دراصل اس بار پاکستان کو کافی نقصان جھیلنا پڑا ہے اس لئے وہ حساب برابر کرنے کے چکر میں ہیں دراصل اب کشمیر میں دہشتگردی کی کمان سنبھالنے والے کمانڈروں کے لالے پڑ گئے ہیں دو برسوں میں کشمیر میں تقریبا سبھی آتنکی تنظیموں کے ضلع کمانڈر بھی مار گرائے جا چکے ہیں یہ فوج کے آپریشن آل آوٹ کا خوف ہی ہے ۔آتنکی تنظیموں نئے نوجوان کامریٹ نہیں مل رہے ہیں ذرائع نے بتایا کہ پچھلے دو برسوں میں آل آوٹ آپریشن کے تحت 28کمانڈر مارے گئے ہیں اسی کارروائی کے تحت ہمارے بہادر جوانوں نے 311آتنکوادیوں کو بھی مار گرایا ہے فوج کی سترویں کور کمانڈر لیفنینٹ جنرل انل کمار نے جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ سیکورٹی فورس کے درمیان تال میل اور آپریش کی آزادی کو اس کا سہرا دیا ۔غور طلب ہے کہ یہ قریب پچھلے ایک دہائی میں صبح میں مارے جانے والے دہشتگردوں کی سب سے بڑی تعداد ہے اس سے پہلے 2016میں 232آتنکی مارے گئے تھے ۔وزارت داخلہ کے اعداد و شمار کے مطابق صبح میں اس سال آتنکوادی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے فی الحال جہاں دہشتگردی سے متعلق 342واقعات ہوئے وہیں اس سال دسمبر کے پہلے ہفتے تک 429وارداتیں ہوئیں جہاں پچھلے سال 40شہری مرے تھے وہیں گزرے سال 77شہری ہلاک ہوئے اس سال دسمبر کے پہلے ہفتے تک سیکورٹی فورس کے 80جوان شہید ہوئے ۔پچھلے سال بھی اتنے ہی جوان شہید ہوئے تھے ۔2018میں وادی میں پاکستانی دہشتگردوں کے ذریعہ حملوں میں اضافہ ہوا ہے ان کے وادی میں لوکل کیڈر کی حمایت مل رہی ہے ۔اس سال 311دہشتگرد ہلاک ہوئے پچھلے تین ہفتوں میں 88آتنکی ڈھیر ہوئے ہم اپنے بہادر جوانون اور افسروں کو اس شاندار کامیابی کے لئے مبارکباد دیتے ہیں لیکن وہیں ہمیں پہلے کی طرح چوکسی برتنی ہوگی چونکہ 2019میں ایسے آتنکی حملے بڑھ سکتے ہیں ۔

(انل نریندر)

02 جنوری 2019

دی ایکسیڈینٹل پرائمنسٹرکے ٹریلرپر چھڑا سیاسی گھمسان

سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی سیاسی زندگی پر بنی فلم © ©'' دی ایکسیڈینٹل پرائمنسٹر ''کو لیکر تنازع شروع ہو گیا ہے جمعرات کی رات بھاجپا کے ٹوئٹر ہینڈل سے اس کا ٹریلر پوسٹ کیا گیا جمعہ کو اس پر میڈیا نے منموہن سنگھ سے سوال کیا تو وہ بغیر جواب دئے آگے بڑھ گئے بھاجپا نے فلم کا ٹریلر ٹوئٹ پر لکھا ہے کہ اس فلم کی کہانی بتاتی ہے کہ کیسے ایک خاندان نے دس برسوں تک دیش کو یرغمال بنا کر رکھا تھا ۔کیا ڈاکٹر منموہن سنگھ صرف اس لئے تب تک پی ایم کی کرسی پر بیٹھے تھے ،جب تک ان کا سیاسی جانشین نہ تیار ہو جائے ؟دیکھیں ان سائڈرس اکاوئٹ پر مبنی دی ایکسیڈینٹل پرائمنسٹرجو 11جنوری کو ریلیز ہونے والی ہے ۔بھاجپا کے ٹوئٹ کے جواب میں کانگریس کے میڈیا سیل کے چیف رندیپ سورجیوالا نے کہا کہ بھاجپا کا یہ گمراہ کن پروپگنڈہ ہمیں این ڈی اے سرکار کے دیہی علاقوں کے مسائل ،بے روزگاری ،نوٹ بندی کی ٹریجڈی ،جی ایس ٹی کو غلط ڈھنگ سے لاگو کرنے اور معیشت کی حالت اور کرپشن پر مودی سرکار سے سوال کرنے پر نہیں روک سکتا ۔کانگریس کے یوم تاسیس پروگرام کے دوران جب اخبار نویسوں نے اس فلم کے بارے میں پوچھا تو سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کوئی رائے زنی نہیں کی ۔راجستھان کے وزیر اعلیٰ اور کانگریس تنظیم کے سیکریٹری جنرل اشوک گہلوت نے کہا کہ کانگریس کے خلاف یہ گمراہ کن پروپگنڈہ کام نہیں کرئے گا اور سچ کی جیت ہوگی ،راسٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی)کے ایم پی منوج جھا نے کہا کہ رافیل جنگی جہاز سودے میں مبینہ بے قاعدگیوں ،نوٹ بندی اور کسانوں کی خودکشی پر فلم بنانی چاہیے انہوںنے کہا یہ فلم کوئی عجوبہ نہیں ہے۔بھاجپا نے اس فلم کے واسطے اپنا خزانہ کھول دیا ہے میں نے یہ پہلی بار دیکھا ہے کہ کوئی پارٹی کا ٹوئٹر ہینڈل اس کا پروپگنڈہ کر رہا ہے یہ فلم منموہن سنگھ کے 2014کے ان کے پی ایم عہد پر بنی ہے دی ایکسیڈینٹل پرائمنسٹر کے تین منٹ کے ٹریلر میں سونیا گاندھی کے منموہن سنگھ کو پی ایم چننے سے لے کر نیوکلیائی سمجھوتہ ،کشمیر اشو اور یوپی اے سرکار میں ہوئے گھوٹالوں کا بھی تذکرہ ہے ۔ٹریلر میں دکھایا گیا ہے کہ کیسے منموہن سنگھ کو کرسی سے ہٹا کر راہل گاندھی کو پی ایم بنانے کی پلانگ پر بات کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے اور یہ بھی بتایا گیا ہے منموہن سنگھ تمام مصیبتوں کو خاموشی کے ساتھ سہتے رہتے ہیں منموہن سنگھ کا کردار نبھانے والے نامور اداکار انوپم کھیر نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ فلم آسکر کے لئے چنی جانی چاہیے لیکن اس فلم کو لے کر کھیر نے کہا کہ میرے 575فلموں اور 35سالہ فلمی کئیرئر کی یہ سب سے مشکل فلم ہے ۔آج سے 25سال بعد فلموں کی تاریخ لکھی جائے گی تب اس فلم کا نام پہلے لیا جائے گا ۔وہیں مرکزی وزیر مملکت اطلاعات و نشریات راجیہ وردھن سنگھ راٹھور نے کہا کہ کانگریس آزادی کی حمایتی رہی ہے تو اب وہ اسی آزادی پر کیوں سوال اُٹھا رہی ہے ؟11جنوری 20219کو ریلیز فلم پی ایم منموہن سنگھ کے مشیر سنجے بارو کی لکھی کتاب دی ایکسیڈینٹل پرائمنسٹر کی کہانی پر مبنی ہے ۔سینسر بورڈ کے موجودہ چیرمین پرسن جوشی کو تاریخ کم سے کم اس فلم کے ٹریلر کو بغیر کسی اڑچن کے منظوری دینے کے لئے یاد رکھے گی۔یہ ٹریلر آنے والے دنوں کے لئے ایک نظیر ہے اب ہندوستان میں سیاسی کرداروں پر فلمیں بنانے کے لئے لوگوں کی اجازت لینا ضروری نہیں ہے ۔بس ڈسکلیمر ڈالنے سے کام چل سکتا ہے ۔ دی ایکسیڈینٹل پرائمنسٹر کا ٹریلر کئی معنوں میں بڑا دیدار کے لائق کریزی بن گیا ہے ۔پہلی بات تو یہ ہے کہ اس میں جو بھی کردار دکھائے گئے ہیں ان کے نام بدلنے یا انہیں کسی اور خیالی دنیا میں پیش کرنے کی کوشش نہیں کی گئی ہے ۔ہدایت کار وجے رتناکر گٹے نے اس لحاظ سے بڑی دیدہ دلیری سے کام لیا ہے ۔پردے کے پیچھے انہیں یہ فلم بنانے کے لئے کس کی مدد ملے یہ فلم کسی دوسرے سیاسی پارٹی کا پروپگنڈہ ہے کہ نہیں ،یہ باتیں تو فلم کے ریلیز ہونے کے بعد تک ہوتی رہیں گی لیکن فلم کی پہلی جھلک اس ٹریلر کے سنیما کی دیش میں دستک کی گواہی ہے ،جسے بالی ووڈ میں سیاسی سازش سنیما کہا جاتا ہے ،ٹریلر میں انوپم کھیر کو سابق وزیر اعظم کی شکل میں دکھانا چوکاتا اس لئے نہیں کیونکہ اس کردار کو لے کر مہینوں سے تبادلہ خیال چل رہا تھا ہاں چونکانے والی بات یہ ہے کہ انوپم کھیر نے اس کردار کے کچھ 36خوبیوں کو ہو بہو نبھایا ہے ۔جیسے سونیا ،پرینکا،اور راہل کے کرداروں کے لئے کاسٹنگ بھی دمدار نظر آتی ہے اور سنجے بارو کے رول میں اکھشے کھنا بھی اپنا اثر چھوڑنے میں کامیاب رہے ہیں بہت کم فلموں میں ٹریلر سے ہی تنازع شروع ہوا ہے ۔یہ فلم ایسے وقت میں آرہی ہے جب 2019لوک سبھا چناﺅ سر پر ہیں اور اس کے وقت کو لے کر سوال اُٹھنے فطری ہیں کیا یہ کانگریس کو ڈاﺅن کرنے کی ایک سازش ہے؟کیا اس فلم سے کانگریس کو نقصان ہوگا اور بھاجپا کو فائدہ ،یہ تو آنے والے دن بتائیں گے ،لیکن آج سنجے بارو کو کوسنے والے بھی کم نہیں ہیں جو یہ کہہ رہے ہیں کہ پیسوں کی خاطر گھٹیا مقبولیت پانے کے لئے انہوںنے جو باتیں راز رکھنی چاہیے تھیں انہیں جنتا کے سامنے لا دیا ہے ۔

(انل نریندر)

01 جنوری 2019

مودی -شاہ کی جوڑی کے متبادل پر سنگھ میں منتھن

مدھیہ پردیش ،راجستھان اور چھتیس گڑھ میں بھاجپا کو ملی ہار سے آر ایس ایس کافی فکر مند ہے کچھ ہی مہینوں بعد ہونے والے لوک سبھا انتخابات کو لے کر سنگھ لیڈر شپ مطمئن نہیں ہے وہ بھاجپا کی جیت کا ہر فارمولہ جس میں سرکار کی لیڈر شپ بھی شامل ہے پر لگاتار منتھن کر رہا ہے ۔سنگھ کو فکر ہے کہ کسانوں کے حالات کو لے کر کیا قدم اُٹھائے جا سکتے ہیں جن کا فائدہ اگلے دو تین مہینے میں نظر آنے لگے روزگار کے مواقوں کا کمی کو لے کر نوجوانوں میں بڑھتی بے چینی کو کیسے دور کیا جا سکتا ہے ؟رام جنم بھومی مندر معاملے کو کتنا آگے لے جایا جا سکتا ہے ؟کیا تنظیم اور لیڈر شپ میں تبدیلی کی ضرورت ہے؟سنگھ کا خیال ہے کہ تین شمالی ہند کی ریاستوں کے چناﺅ نتائج سے ظاہر ہے کہ مرکزی سرکار کے موجودہ کام کاج کی بنیاد پر لوک سبھا چناﺅ جیتنا مشکل ہے محاسبے میں یہ سوال بھی اُٹھا کہ کیا مودی کے متبادل پر غور و خوض ہونا چاہیے ؟کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ مرکزی وزیر نتن گٹکری کی طرف سے قیادت پر اُٹھائے جا رہے سوالوں سے صاف اشارے ہیں کہ آر ایس ایس وزیر اعظم نریندر مودی کا متبادل بھی تلاش کرنے میں لگ گیا ہے ۔این ڈی اے کی اتحادی پارٹی اور مہاراشٹر کے نیتا نتن گٹکری کو ہمایت دے سکتی ہیں پچھلے پندرہ روز نے گٹکری کے تین بیان آئے ان بیانوں کو بھاجپا میںناراض نیتاﺅں اور ورکروں کی آواز مانا جا رہا ہے ۔گٹکری نے کہا کہ جیت کے کئی دعوئے دار ہوتے ہیں لیکن ہار اناتھ ہوتی ہے ،انہوںنے پھر کہا کہ اگر کوئی پی ایم یا ممبر اسمبلی اپنی ذمہ داری ٹھیک سے نہیں نبھا رہا ہے تو اس کے لئے صدر ذمہ دار ہے ان کا تیسرا بیان تھا کہ پنڈت نہرو کہا کرتے تھے کہ اگر اچھا کام نہیں کر سکتے تو ایسا بھی نہ کرو جس سے نقصان ہو ۔ان تینوں بیانوں سے گٹکری حالانکہ مکر گئے تھے لیکن ان کا اشارہ صاف تھا کہ وہ مودی -شاہ کی جوڑی کے طریقہ کار سے خوش نہیں ہیں وہ وزیر اعظم مودی کے غرور پر مبنی رویہ کے بھی حمایتی نہیں ہیں تین ریاستوں میں ہار سے بھاجپا اور سنگھ میں مودی -شاہ کی جوڑی پر سوال اُٹھنے لگے ہیں ۔حالانکہ شتروگھن سنہا ،یشونت سنہا کے علاوہ اور کھل کر نہیں بول رہا ہے لیکن اندر ہی اندر بغاوت کی آواز ضرور اُٹھ رہی ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ تینوں ریاستوں میں ہار کے بعد بھاجپا صدر کو بتا بھی دیا کہ رام مندر کا اشو بھاجپا کو نقصان کرئے گا اس لئے مندر بناﺅ ۔سنگھ کو اندیشہ ہے کہ عام چناﺅ میں بھاجپا کو کافی سیٹوں کا نقصان ہوگا سیاسی مبصرین کی مانیں تو ابھی بھاجپا وکو کم سے کم پچاس-ساٹھ سیٹوں کانقصان ہوگا اور تو اور بھاجپا لیڈر شپ کے بڑے حمایتی یوگ گرو بابا رام دیو نے مدورئی ہوائی اڈے پر اخبار نیوسوں کے سوال پر کہا کہ ہم نہیںبتا سکتے کہ 2019کے عام چناﺅ کے بعد اگلا وزیر اعظم کون ہوگا ؟

(انل نریندر)

2018سپریم کورٹ فیصلوں کا سال رہا

نیا سال شروع ہو گیا ہے کیلنڈر بدل گیا ہے اور 2019کا آغاز ہو گیا ہے ویسے تو یہ سال نئے عزم لے کر آیا ہے اور ہر شخص یہی دعا اور امید کرتا ہے کہ اس کے لئے 2019،2018کے مقابلے بہتر ثابت ہوگا ۔2018عدالتوں کا سال بھی رہا ہے اس سال سپریم کورٹ نے کئی ایسے فیصلے دیئے ہیں جن کے دور رس اثرات ہوں گے ۔چلئیے گزرے سال میں سپریم کورٹ کے کچھ اہم ترین فیصلوں پر نظر ڈالیں ۔6ستمبر2018کو سپریم کورٹ کی آئینی بنچ نے کہا کہ دفعہ 377کے تحت دو بالغوں کے درمیان رضا مندی سے بنائے گئے ہم جنس رشتہ جرم نہیں ہیں سپریم کورٹ نے سیکس سویل اورینٹیشن بائیولوجیکل حقیقت ہے اس کے ساتھ ان کے ساتھ کسی طرح کا امتیاز آئینی حق کی خلاف ورزی ہوگی ۔26ستمبر کو سپریم کورٹ نے آدھار معاملے میں تاریخی فیصلے میں آدھار کے آئینی جواز کو برقرار رکھا تھا کورٹ نے آدھار کو نہ تو بینک اکاونٹ کے لئے اور نہ ہی موبائل کنکشن کے لئے ضروری مانا ہے 28ستمبر کو اپنے ایک تاریخی فیصلے میں سپریم کورٹ نے کیرل کے سبریمالا مندر میں ہر عمر کی عورتوں کی داخلے کی اجازت دی ۔لیکن اس وقت کے چیف جسٹس دیپک مشرا نے کہا تھا کہ دھرم ایک زندگی کا طریقہ کار ہے اور یہ زندگی اور روحانیت سے جڑا ہے ۔بھگتی کو بھید بھاﺅ کا موضوع نہیں بنایا جا سکتا بھگوان ایپا کے ماننے والے الگ سے پنتھ نہیں بنا سکتے آئین کی دفعہ 25و26مذہبی آزادی کی بات کرتی ہے اور اس کی تعمیل ہونی چاہیے عدالت نے ایس سی /ایس ٹی پرموشن میں ریزرویشن سے متعلق معاملے میں 2006میں ناگراج سے متعلق ایک تنازع میں سپریم کورٹ میں دئے گئے فیصلے کو سات ججوں کی بنچ کو حوالے کرنے سے منا کر دیا تھا عدالت نے کہا کہ ایس سی ایس ٹی پرموشن میں ریزرویشن سے پہلے پچھڑے پن کا ڈیٹا اکھٹا کرنے کی ضرورت ہے عدالت نے کہا کہ اس معاملے میں کریمی لیئر کا اصول لاگو ہوگا ۔ایڈلٹری جرم نہیں رہا عدالت نے کہا کہ بالغیت قانون یعنی آئی پی سی کی دفعہ 497عورت کو شوہر کا غلام یا اس کے اثاثے کی طرح بناتی ہے عدالت نے اسے غیر آئینی قرار دیتے ہوئے ختم کر دیا ابھی تک قانون کے حساب سے اگر کوئی شخص کسی شادی شدہ عورت سے تعلق بناتا ہے تو شادی شدہ عورت کا شوہر ایسے تعلقات بنانے والے شخص کے خلاف کیس درج کرا سکتا تھا اس کے علاوہ رافیل معاملے میں سرکار کو راحت دی ۔نابالغوں کو معاوضہ جہیز معاملے میں سیف گارڈ کو ختم کر نا اور ایودھیا معاملہ آئینی بنچ کو سپرد کیا گیا یہ کچھ اہم ترین فیصلے 2018کے تھے ۔2019میں جن معاملوں پر نظر رہے گی وہ بھی کم اہم نہیں ہیں ۔15دن کی سردیوں کی چھٹی کے بعد جنوری کے پہلے ہفتے میں ہی تین بڑے فیصلے آئیں گے یہ فیصلے سیاسی طور سے حساس ترین ہیں جن کا اثر 2019کے لوک سبھا چناﺅ پر بھی پڑ سکتا ہے ۔پہلا فیصلہ سرکار کے ذریعہ سی بی آئی ڈائرکٹر آلوک ورما کو چھٹی پر بھیجنے کے معاملے میں ہوگا ۔کورٹ نے اس بارے میں پچھلے ماہ فیصلہ محفوظ رکھا تھا ۔دوسرا صدی کے سب سے بڑے تنازع رام جنم بھومی جھگڑے پر سماعت بھی 4جنوری سے شروع ہوگی چیف جسٹس کی بنچ یہ طے کرئے گی کہ اس معاملے میں مناسب بنچ کے سامنے معاملے کی سماعت کب سے شروع ہوگی یہ معاملہ سپریم کورٹ میں سال2010سے لٹکا ہوا ہے ۔عدالت یہ بھی واضح کرئے گی کہ دہلی سرکارکو افسرشاہی سروس پر کنٹرول رہے گا یا نہیں؟وہیں اس میں یہ بھی طے ہوگا کہ کیا دہلی سرکار کو کرپشن انسداد برانچ بنانے کا حق ہے ۔یہ فیصلہ جسٹس اے کے سیکری کی بنچ کرئے گی ۔رافیل سودے پر حالانکہ سپریم کورٹ نے کلین چٹ دے دی ہے لیکن سی اے جی رپورٹ کے بارے میں غلط تشریح ہونے کے تنازع پر بحث پھر سے ہوگی ۔کل ملا کر 2018کا اہم ترین فیصلوں سے خاتمہ ہوا تو 2019کو شروع میں ہی لوگوں کی نگاہیں سپریم کورٹ پر رہیں گی۔میں اپنے سبھی قارئین کو نئے سال کی نیک خواہشات پیش کرتا ہوں اور پراتھنا کرتا ہوں کہ نیا سال آپ سب کے لئے منگل مے ہو۔

(انل نریندر)

30 دسمبر 2018

2018میںپاکستان کے دو بڑے لیڈروں کی قسمت یوں بدلی

2018میں پاکستان کے دو بڑے لیڈروں کی قسمت الگ الگ ڈھنگ سے بدلی ہے ۔ لمبے عرصہ تک جد و جہد کے بعد عمران خان جہاں پاکستان کے نئے کپتان بنے وہیں سابق وزیر اعظم نواز شریف کو جیل جانا پڑا ۔کرکٹ میں پاکستان کو ورلڈ کپ دلانے والے عمران نے 18اگست کو پاکستان کے 22ویں وزیر اعظم کے طور پر حلف لے کر اپنی نئی پاری کا آغاز کیا ہے ۔دوسری طرف پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کے لئے سال 2018مصیبتوں بھرا رہا 24ستمبر کو کرپشن کے جرم میں عدالت نے شریف کو کرپشن کے معاملے میں 7سال کی جیل کی سز ا سنائی اس سے پہلے اپریل میں ان کے چناﺅ لڑنے پر روک لگا دی گئی تھی چھ جولائی کو کرپشن کے ایک دوسرے معاملے میں دس سال کی سزا سنائی گئی کچھ دن بعد پاکستان لوٹتے ہوئے انہیں اور ان کی بیٹی مریم نواز کو گرفتار کر لیا گیا۔ستمبر میں نواز شریف کی بیوی کلثوم نواز کا انتقال کینسر سے ہو گیا تھا ۔اس وجہ سے انہیں اور مریم کو ضمانت پر چھوڑا گیا مگر سال ختم ہوتے ہوتے ایک اور معاملے میں انہیں سزا سنا دی گئی حالانکہ فلیگ شپ انویسٹمینٹ معاملے میں انہیں بری کر دیا گیا ۔پاکستان نے نیتاﺅں کو کرپشن کے معاملے میں سزا دینے کی روایت رہی ہے زیادہ تر نیتا اس سے پچنے کے لئے بیرونی ملک چلے جاتے تھے مرحوم بے نظیر بھٹو خود کافی لمبے عرصے تک بیرونے ملک رہیں امریکی دباﺅ میں اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف کے ساتھ سمجھوتے کے بعد چناﺅ میں شامل ہونے کے لئے واپس آئیں خود مشرف مقدمے کا سامنے کرنے کے بجائے بیرونے ملک خود جلا وطنی کی زندگی جی رہے ہیں ۔نواز نے اس کے بر عکس سزا ملنے پر لندن سے ملک آنے کا متابادل چنا اور مقدموں کا سامنا کر رہے ہیں ۔پاکستان میں جس طرح اقتدار کو لے کر کھیل چلتا ہے اسے دیکھتے ہوئے نواز شریف کے خلاف مقدمے اور سزا کوئی عجوبہ بات نہیں ہے ۔بے نظیر جب اقتدار میں آئیں تھیں تب ان پر شوہر آصف زرداری کے ذریعہ کرپشن کے الزام لگے تھے۔حال ہی میں موجودہ وزیر اعظم عمران خان کی بہن متحدہ عرب امارات میں کئی سو کروڑ روپﺅں کی بے نامی پراپرٹی کا خلاسہ ہوا تھا ۔پاکستان میں فوج اور انتظامیہ میںاعلیٰ عہدوں پر ایسے لوگ ہیں جن کے خلاف بے نامی پراپرٹی رکھنے اور کرپشن کے معاملے ہیں ۔بھلے ہی نواز شریف کرپشن کے معاملے میں قصوروار پائے گئے ہوں لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یہ انہیں سیاست سے باہر راستہ دکھانے کا بھی ہتھیار بنا ۔لیکن اتنا صاف ہے کہ آنےوالے لمبے عرصہ تک نواز شریف کی زندگی چنوتیوں سے بھری ہے۔

(انل نریندر)

پورا شمالی ہندوستان سرد لہر کی قہر میں

نیا سال آنے سے پہلے ہی کڑاکے کی سردی نے دستک دے دی ہے ۔پہاڑوں کو تو چھوڑئیے میدانی علاقوں میں بھی ریکارڈ توڑ سردی پڑ رہی ہے دسمبر میں سردیوں کا ایسا قہر ہم نے پچھلے کئی برسوں میں نہیں دیکھا دہلی میں تو پچھلے پندرہ دنوں سے جو ٹھنڈ ہو رہی ہے ایسی دہلی نے پچھلے دس سالوں میں نہیں دیکھی اس مہینے اب تک اوسطاََ کم از کم درج حرارت کی بات کریں تو یہ محض 7.1ڈگری رہا۔یہ عام اوسط درج حرارت سے ایک پوائنٹ دو ڈگری کم ہے اگلے چار پانچ دنوں تک سرد لہر کا قہر جاری رہے گا اگر دسمبر کا تجزیہ کریں تو اس بار دسمبر میں پچھلے تین دن میں کم از کم درج حرارت دو ڈیجٹ میں رہا لیکن پچھلے ہفتے سے درج حرارت پانچ ڈگری سے کم رہا اب آگے یہ دو سے تین ڈگری تک گر سکتا ہے دہلی کو دوہری مار پڑ رہی ہے ایک طرف کڑاکے کی سردی تو دوسری طرف دھواں اور آلودگی کی مار ۔اب یہ بات تو تقریبا طے ہے کہ دہلی میں لوگ نئے سال کا آغاز دھوئیں کے بیچ کریں گے اس دوران آلودگی کی سطح میں ہمیںکوئی راحت نہیں ملے گی کیونکہ دہلی این سی آر کو ابھی تین دن سے چار دن تک آلودگی کی سطح جھیلنی پڑئےگی۔تمام شمالی ہندوستان میں سردی کا ستم جاری ہے ۔سرد لہر کی زد میں آئے نارتھ انڈیا میں جمعرات کو سری نگر میں سب سے ٹھنڈی رات رہی ہماچل اور اتراکھنڈ میں ہوئی برفباری اور سرد ہواﺅں کے سبب شمالی ہندوستان میں درج حرارت نیچے آگیا ۔پہاڑی علاقوں میں کئی جگہ درج حرارت صفر سے نیچے آچکا ہے سری نگر میں بدھوار کی رات کم از کم درج حرارت نفی 7.6ڈگری سیلسیس تک رہا پچھلے 28برسوں میں یہ سب سے کم درج حرارت ہے سری کے قہر سے ڈل جھیل بھی جم گئی ہے ۔یوپی میں کم از کم درج حرارت 0.2ڈگری تک پہنچ گیا ۔وہیں اتراکھنڈ میں 4.2ڈگری سیلسیس رہا ۔جو تین سال میں سب سے کم ہے ۔ہریانہ کے حسار میں درج حرارت نفی رہا سرسا نارنول ،کرک چھیتر ،کرنال میں درج حرارت پانچ ڈگری سے نیچے رہا ۔پنجاپ ،چنڈی گڑھ میں سر د لہر جاری ہے گڑ گاﺅں میں درج حرارت 1.5ڈگری جبکہ راجستھان کے فتح پور میں دوسرے دن درج حرارت نفی 2.2ڈگری رہا ۔ریاست میں پانچ جگہوں پر درج حرارت پانچ ڈگری سیلیس نیچے رہا ۔محکمہ موسمیات نے ریاست کے بارہ شہروں میں اگلے چار دن تک سر د لہر جاری رہنے کی وارنگ دی ہے ۔کیا یہ سب گلوبل وارنگ کی وجہ سے ہو رہا ہے ؟ایسی سردی میں اپنے آپ کو کم سے کم ٹھیک ٹھاک کپڑے پہننے سے بچاﺅ ہو سکتا ہے اگر آپ اندر گرم بنیان پہنتے ہیں یہ صرف کافی نہیں ہے ۔بزرگوں کو انر گرم پاجامہ پہننے سے فائدہ ہوگا ۔عورتوں کو بھی سوئیٹر کورٹ و شال سے بچاﺅ کرنا ہوگا ابھی یہ سرد لہر جاری رہے گی ۔اس لئے کسی طرح کا خطرہ مول لینا بیماری کو دعوت دینے کے مانند ہے ۔

(انل نریندر)

بند-کھلا-بند -ہرمز پر سسپنس

ہرمز جل ڈروم سنٹرل کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ انتہا پر پہنچ رہا ہے ۔امریکہ اور ایران کے بیچ پچھلے قریب 50 دنوں سے جاری کشیدگ...