Translater

18 مارچ 2017

فتوؤں سے ڈرنے والی نہیں ہوں، گاتی رہوں گی:ناہید

ایک بار پھر ان مولویوں کے فتوؤں کی سیاست زیر بحث ہے۔ آسام میں کچھ کٹر پسند مولویوں نے انڈین آئیڈیل جونیئر میں رنراپ رہی 16 سالہ لڑکی گلوکارہ ناہید آفرین کے خلاف تازہ فتویٰ جاری کیا گیا ہے۔ اس کے خلاف 46 مولویوں ، انجمنوں اور لوگوں کے نام جاری فتوے میں کہا گیا ہے کہ ناہید انڈین آئیڈیل کے فائنل سے دور رہیں۔ ایسے پروگرام نئی پیڑھی کو تباہ کریں گے۔ اس طرح کے منورنجن کے پروگرام جاری رکھے گئے تو اللہ کا قہر نازل ہوگا۔ جادو، رقص، ناٹک، تھیٹرشریعت کے خلاف ہیں اور اس کی خلاف ورزی کر مسجد ،عیدگاہ، مدرسوں اور قبرستان سے گھرے میدان میں میوزیکل نائٹ کا انعقاد کیا گیا تو لوگوں پر اللہ کا قہر ٹوٹ پڑتا ہے۔ ناہید آفرین نے حال ہی میں سوناکشی سنہا کی فلم ’اکیرا‘ کے لئے پلے بیک سنگنگ دے چکی ہیں۔ابھی25 مارچ کو آسام میں ناہیدکا میوزیکل شو ہونا ہے۔ فتوے پر ناہید نے کہا کہ موسیقی اسلام کے خلاف نہیں ہے۔ اس میں شایدخدا کی سوغات ہے اور میرا خیال رہے کہ اس کا صحیح طریقے سے استعمال ہونا چاہئے۔ ایسا کرنا خدا کو نظرانداز کرنا ہوگا۔ میرے والد کا کہنا ہے ہمارے مذہبی پیشواؤں نے کہا ہے کہ میرے گانے میں کوئی برائی نہیں ہے۔ آسام میں اقلیتوں کی کئی جانی مانی ہستیوں نے ناہید کی حمایت کی ہے۔ ناہید نے کہا کہ اللہ نے ہی مجھے آواز بخشی ہے۔ اسی خدا نے مجھے تحفے کے طور پر موسیقی دی ہے ،اگر میں اس کا صحیح استعمال نہ کروں تو آخر کار خدا کو ہی نظرانداز کروں گی۔ مجھے دھمکی اس لئے دی گئی ہے کیونکہ میں لڑکی ہوں، لڑکا ہوتا تو انہیں کوئی دقت نہ ہوتی۔ ناہید نے مولویوں کے جواب میں مناسب ہی کہا ہے کہ اگر اپنی موسیقی جاری نہیں رکھے گی تو خدا کی نعمت کو نظر انداز کرے گی۔ دراصل خدا کو تو مولوی ہی نظر انداز کررہے ہیں جونہ تو ایک بچی کے ٹیلنٹ کا احترام کررہے ہیں اور نہ ہی ہندوستانی برصغیر میں اسلام اور موسیقی کے طویل رشتے کی قدر کررہے ہیں۔ کئی بار ایسے فتوے ان نوجوان ہنرمندوں اور ان کے خاندانوں کے درمیان خوف پیدا کرتے ہیں جو میڈیا اور فلمی دنیا میں جگہ بناتے جارہے ہیں۔ ایسا ہی واقعہ کشمیر کی لڑکی زائرہ وسیم کے ساتھ بھی ہوا تھا جس نے عامر خان کی فلم ’’دنگل‘‘ میں پہلوان کی بیٹی کا رول نبھایا تھا۔ ہندوستانی برصغیر کا فن اور موسیقی دنیا ہندواور مسلمانوں میں سانجھی وراثت کی شاندار مثال پیش کرتی ہے۔ استاد ولایت خان، استاد بڑے غلام علی خان، استاد عبدالکریم خان، استاد بسم اللہ خان، بیگم اختر، شمشاد بیگم، نور جہاں سے لیکر آج کے گلوکاروں کی فہرست بہت لمبی ہے جسے بچانا ہوگا۔
(انل نریندر)

خود تو ڈوبے صنم تمہیں بھی ساتھ لے ڈوبے

اترپردیش میں کانگریس کا 27 سال کا سیاسی بنواس اگلے کچھ برسوں کے لئے بڑھ گیا ہے اور اقتدار میں واپسی کے لئے کئے گئے تمام تجربے الٹے ثابت ہوئے۔ پردیش میں پہلی بار کانگریس اپنی کم از کم تعدا د پر پہنچ گئی ہے۔ چناؤ کے نتیجوں سے صاف ہے کہ جنتا کو اکھلیش اور راہل کا یہ ساتھ پسند نہیں آیا۔ دونوں کے ساتھ کو جنتا نے سرے سے مسترد کردیا۔ پہلے سے ہی صوبے میں ہچکولے کھا رہی کانگریس کی کشتی کو گٹھ بندھن نے اور ڈوبا دیا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ سماجوادی پارٹی کے ساتھ مل کر کانگریس اپنے گڑھ رائے بریلی اور امیٹھی تک کو نہیں بچا سکی۔ دونوں ہی ضلعوں میں کانگریس کو کراری ہار کا سامنا کرنا پڑا۔ سال2012ء کے چناؤ میں کانگریس نے آر ایل ڈی کے ساتھ مل کر چناؤ لڑا تھا ۔ اس وقت کانگریس کو28 سیٹیں ملی تھیں جبکہ اس باراس کی حالت یوپی کی تاریخ میں سب سے زیادہ پتلی ہوگئی ہے۔ سماجوادی پارٹی کے ساتھ اتحاد نے کانگریس صوبے میں 114 سیٹوں پر اپنی قسمت آزما رہی تھی۔ زیادہ تر جگہ کانگریس امیدواروں کو جنتا نے مسترد کردیا۔ اس بار کے چناؤ میں کانگریس دو تہائی کا نمبر حاصل نہیں کرپائی۔ اسے مانا 7 سیٹیں ہی ملی ہیں۔ کانگریس کی پوزیشن کا اسی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ 2012ء کے چناؤ میں جہاں پارٹی کو11.63 فیصد ووٹ ملے تھے اس بار اسے محض 6.2 فیصدی ووٹ ہی ملے ہیں۔ اس سے پہلے کانگریس کی سب سے خراب کارکردگی2007ء میں ہوئی تھی لیکن اس وقت بھی کانگریس کو 22 سیٹیں ملیں۔ سال2002ء کے چناؤ میں اسے25 سیٹیں ملی تھیں۔ سپا کے ساتھ مل کر بھی کانگریس کے قومی نائب صدر راہل گاندھی اپنے پارلیمانی حلقے امیٹھی تک کو نہیں بچا پائے۔ یہاں کی جگدیش پور، گوری گنج، تلوئی، امیٹھی چاروں ہی اسمبلی سیٹوں پر کانگریس کو زبردست ہار ملی ہے۔ امیٹھی سیٹ پر کانگریس کے راجیہ سبھا ایم پی سنجے سنگھ کی اپنی دوسری بیوی امیتا سنگھ کو لاکھ کوششوں کے باوجود نہیں جتا پائے۔ یہاں ان کی پہلی بیوی گریما سنگھ بھاجپا کے ٹکٹ سے چناؤ جیتی ہیں۔ سونیا گاندھی کے پارلیمانی حلقے رائے بریلی کی 6 میں سے4 سیٹوں پر ہار کا سامنا کرنا پڑا۔ صرف رائے بریلی اور ہرچند پور سیٹ ہی کانگریس کی عزت بچا پائی۔ کانگریس کے حکمت عملی ساز پرشانت کشور یوپی میں پوری طرح فلاپ ہوگئے ہیں۔ کانگریس نے یوپی کے لئے اپنا چناوی حکمت عملی ساز پرشانت کشور کو بنایا تھا لیکن مودی کی حکمت عملی کے آگے نہ صرف سپا ڈھیر ہوئی بلکہ کانگریس کا بھی پتتا صاف ہوگیا۔
(انل نریندر)

17 مارچ 2017

بھنور میں پھنستی کانگریس

کبھی اپنے بیکوم آپریشن اور بہترین مینجمنٹ کیلئے جانی جانے والی کانگریس پارٹی کے ستارے ہی گردش میں چل رہے ہیں۔ جیتی ہوئی بازی کیسے ہاری جاتی ہے یہ کوئی کانگریس سے سیکھے۔ تازہ مثال ہے گووا۔ یہاں اسمبلی چناؤ میں سب سے زیادہ سیٹیں حاصل کرنے کے بعد بھی کانگریس آج اقتدار سے باہر ہے اور کرسی دیکھتے دیکھتے ہی اس کے ہاتھ سے پھسل گئی۔ گووا میں کانگریس سے سیٹیں کم پانے کے باوجود بھاجپا نہ صرف وہاں سرکار بنانے میں کامیاب ہوگئی بلکہ ان تمام پارٹیوں کوبھی اپنی طرف لانے میں کامیاب رہی جو بی جے پی کی مخالفت کرکے ہی چناؤ جیتے تھے۔ کانگریس اپنے خراب مینجمنٹ ، حکمت عملی کی خامیوں اور آپسی گروپ بندی کے چلتے گووا میں چوک گئی۔ اتنا ہی نہیں اپنی خراب حکمت عملی کے چلتے پارٹی کو سپریم کورٹ سے الگ پھٹکار لگی۔ سرکار نہ بن پانے کی ایک بڑی وجہ گووا کانگریس کے بڑے نیتاؤں میں سی ایم کے عہدے کو لیکر بحث اور کھینچ تان اور گروپ بندی ہے۔ نتیجہ آنے کے بعد پردیش کے انچارج دگوجے سنگھ نے اسمبلی پارٹی کے نیتا کو لیکر میٹنگ کی اس میں سابق وزیراعلی پرتاپ سنگھ رانے ،دگمبر کامت، رویش نائک اور موجود ہ کانگریس پردیش پردھان لوئی جن فلیرو نے اپنی دعویداری پیش کردی۔ کانگریس کی طرف سے دو دنوں تک سی ایم کے عہدے کیلئے نام نہ طے کرپانا اس کو بہت بھاری پڑ گیا۔ بی جے پی نے اس وقفے میں ممبران کو توڑ کر سرکار بنا ڈالی۔ آپسی گروپ بندی کے چلتے کانگریس کا گووا فارورڈ منچ پارٹی کے ساتھ چناؤ سے پہلے اتحاد بھی نہیں ہو پایا۔ کانگریس آہستہ آہستہ حاشیے پرجارہی ہے۔ اب تو کھل کر نائب صدر راہل گاندھی کی صلاحیت پر سوال اٹھنے لگے ہیں۔ ایک کے بعد ایک لگاتار ہار سے کانگریس لیڈروں کا صبر اب جواب دینے لگا ہے اور وہ 10 جن پتھ سے وابستہ ہر سوال پر خاموشی اختیار کرنے والے نیتا اب دبے الفاظ میں راہل گاندھی کی لیڈر شپ و اہلیت پر سوال اٹھانے لگے ہیں۔ راہل گاندھی کو 2013ء میں کانگریس کا نائب صدر بنایا گیا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب مرکز میں یوپی اے کی سرکار تھی اور دیش کی کئی ریاستوں میں کانگریس اقتدار میں تھی لیکن آج حالت یہ ہوگئی ہے کہ پارٹی کے پاس لوک سبھا میں بڑی اپوزیشن پارٹی بننے لائق ممبران تک نہیں ہیں اور گنی چنی ریاستوں میں ہی پارٹی کی سرکار ہے۔ راہل گاندھی بھلے ہی کانگریس کے نائب صدر ہوں لیکن سونیا گاندھی کی بیماری کے چلتے لمبے عرصے سے سیات میں سرگرم نہ ہونے کے سبب پارٹی کے سبھی فیصلے سیدھے سیدھے راہل گاندھی کے ذریعے ہی دئے جارہے ہیں اس لئے ایک کے بعد ایک ریاستوں میں مل رہی ہار کیلئے بھی اب انہیں ہی ذمہ دار ٹھہرایا جارہا ہے۔ پچھلے پانچ برسوں میں کانگریس پارٹی 24 چناؤ ہار چکی ہے۔ یہ بدقسمتی ہی ہے کیونکہ کانگریس کا لگاتار کمزور ہونا دیش کے مفاد میں نہیں لیکن سوال یہ ہے کانگریس اٹھے کیسے؟
(انل نریندر)

یوپی میں کھسکتی مسلم نمائندگی

اترپردیش میں مسلمانوں کے حق کی بات کرنے والی سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کی اس برادری کے ووٹوں کو لیکر آپسی کھینچ تان ،قوم کی نمائندگی پر بھاری پڑ گئی ہے جس کے چلتے اس بار اسمبلی چناؤ میں اب تک کی تاریخ میں سب سے کم 27 ممبران اسمبلی ہی جیتنے میں کامیاب ہوسکے ہیں جبکہ اترپردیش اسمبلی کی 147 سیٹیں ایسی ہیں جہاں مسلم ووٹر کسی بھی پارٹی کے امیدوار کی ہار جیت کا فیصلہ کرنے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ 2014ء کے لوک سبھا میں پردیش کے مسلمانوں کی نمائندگی صفر ہونے کے بعد اب اسمبلی میں نمائندگی کم از کم نمبروں تک پہنچ گئی ہے۔ ریاست کی سیاست میں مسلمانوں کا رول اہم ہے۔ کبھی کانگریس جس طبقے کے ووٹوں کو اپنی تھالی سمجھا کرتی تھی، منڈل کمنڈل کے دور میں سپا ۔بسپا نے نئی سیاسی گول بندی کا سلسلہ شروع کیا اور مسلمانوں کو اس میں شامل کیا جس سے اس طبقے کی نمائندگی بڑھنی شروع ہوئی۔ 1996ء میں 39 مسلمانوں کو ایم ایل اے کی ممبری ملی تھی۔ 
2002ء میں یہ تعداد 44 ہوئی اور 2007ء میں یہ 56 پہنچی اور 2012ء کے اسمبلی چناؤ میں ریکارڈ 68 مسلم ممبران منتخب ہوئے مگر 2014ء کے لوک سبھا چناؤ میں سیاسی ماحول اس انداز میں بنا کے مسلم ووٹ بکھر گیا اور بھاجپا نے ٹکٹوں کی حصے داری سے مسلمانوں کو دور کرکے 81 بنام19 کا جو داؤ کھیلا اس سے پارلیمنٹ میں اترپردیش سے مسلمانوں کی نمائندگی صفر ہوگئی۔ اترپردیش کی 403 اسمبلی سیٹوں میں سے 147 پر مسلمان ووٹر سب سے زیادہ ہیں۔ ان میں رام پور ضلع سب سے اول ہے جہاں مسلمانوں کی تعداد 42 فیصدی ووٹ ہے، مراد آباد میں 40، بجنور میں 38 ، امروہہ میں 37، سہارنپور میں 38، میرٹھ میں 30، کیرانہ میں 29، بلرام پور اور بریلی میں 28، سنبھل و کرانہ اور مظفر نگر میں 27-27، ڈومریا گنج میں 26، لکھنؤ بہرائج میں 9 فیصدی اور 23 فیصدی ہیں۔مسلمان ووٹروں کی اتنی بڑی تعداد کے باوجود 2014ء لوک سبھا چناؤ میں یوپی سے ایک بھی مسلم ایم پی جیت کا ذائقہ چکھ پانے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ اس اسمبلی چناؤ میں محض 27 مسلمان ہی چن کر آئے ہیں۔اس اسمبلی چناؤ میں مسلمانوں کی گھٹی نمائندگی کے کئی اسباب نظر آتے ہیں۔ سپا ۔بسپا دونوں نے مسلم ووٹروں کی سیٹوں پر مسلمان امیدوار اتارے جس کی وجہ سے زیادہ تر سیٹوں پر مسلم ووٹ دونوں پارٹیوں میں بٹ گئے جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے ایک بھی مسلمان کو ٹکٹ نہ دیکر ہندو ووٹروں کو اپنے حق میں کرنے میں کافی کامیابی حاصل کی اور نتیجہ سامنے ہے۔ چناؤ نتائج یہ بھی ثابت کرتے ہیں کہ آنے والے چناؤ میں مسلمان ایک فیکٹر تو رہے گا مگر وہ ووٹ بینک کی شکل میں نہیں مانا جائے گا۔ سیاسی پارٹیوں کو یہ سمجھنا چاہئے مسلمان صرف مسلمان نہیں ہے اس کو بھی اتنی ہی ترقی کرنے کا حق ہے جتنا دیگر فرقوں کو ہے باقی گروپ کی طرح مسلمانوں میں بھی چھوٹی بڑی برادریوں میں خاصا اختلاف ہے۔اب کسی سے پوشیدہ نہیں کہ تین طلاق کے اشو پر مسلم خواتین نے کھل کر بھاجپا کا ساتھ دیا۔ ان مولویوں اور اماموں کی اپیلوں، فتوؤں کا کوئی اثر نہیں رہا۔ نوجوان پیڑھی اب ان دقیانوسی دلیلوں سے تنگ آچکی ہے۔ وہ اپنے روشن مستقبل ، روزگار کے موقعہ ، اقتصادی ترقی چاہتی ہے اس نے کانگریس، سپا اور بسپا کو آزما لیا ہے تو کیوں نہ مودی کو ایک موقعہ دیا جائے؟ نریندر مودی کو بھی مسلمانوں کی ترقی اور اچھی اسکیموں پر دھیان دینا ہوگا۔ وہ یہ ثابت کریں کہ وہ پورے دیش کے وزیر اعظم ہیں نہ صرف ایک فرقے کے۔
(انل نریندر)

16 مارچ 2017

اتنی بڑی جیت سے تو دنیا بھی حیرت میں ہے

اترپردیش اور اتراکھنڈ میں چناؤ جیتنے کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی اب دیش کے 14 راجیوں تک پہنچ گئی ہے۔ 8 ریاستوں (اترپردیش، اتراکھنڈ، گجرات، ہریانہ، چھتیس گڑھ، راجستھان، مدھیہ پردیش اور آسام) میں بھاجپا کی مکمل اکثریت والی سرکار ہے۔جبکہ 6 ریاستوں (جموں وکشمیر، مہاراشٹر، اروناچل پردیش، آندھرا پردیش، ناگالینڈ ) میں اتحادی حکومت ہے۔ صدر پرنب مکھرجی کی عہدہ میعاد اس سال جولائی میں پوری ہوجائے گی ایسے میں چناؤ ممکن ہے۔ صدارتی چناؤ میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے ممبران کے علاوہ سبھی ریاستوں کے ممبران اسمبلی ووٹ ڈالتے ہیں۔ سنیچر کو آئے 5 ریاستوں کے چناؤ نتائج میں بھاجپا کی رہنمائی والی این ڈی اے کو اترپردیش اور اتراکھنڈ میں بھاری اکثریت ملی ہے۔ ایسے میں ان دونوں ریاستوں کے ممبران صدارتی چناؤ میں بڑا رول نبھائیں گے۔ ان چناؤ نتائج کا آگے چل کر راجیہ سبھا میں بھی بڑا فرق پڑے گا۔ مودی سرکار کے لئے اب اپنے بوتے پر بل پاس کروانے کی پریشانی دور ہوجائے گی۔ اترپردیش اور پنجاب سمیت پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ دہلی کی سیاست کو بھی متاثر کریں گے۔ اس کا سیدھا اثر اگلے مہینے ہونے والے ایم سی ڈی چناؤ پر بھی پڑنا طے ہے۔ اس لئے دہلی کے نیتاؤں کی دھڑکنیں تیز ہوگئی ہیں۔ دہلی کی سیاست میں سرگرم تینوں اہم پارٹیاں عام آدمی پارٹی، بھاجپا و کانگریس انتخابات میں سانجھے داری کررہی تھیں۔ ان انتخابات میں دہلی کے نیتاؤں نے بھی خوب پسینے بہائے ، وزیر اعلی اروند کیجریوال اور ان کے کیبنٹ کے دیگر ممبران نے بھی پنجاب اور گووا میں کئی مہینے تک محنت کی لیکن نتیجہ عاپ کے لئے مایوس کن آیا۔ مودی سرکار اسی ڈپلومیٹک کارروائی مشرقی پالیسی کی بہت اہمیت ہے۔مشرقی ایشیائی ملکوں میں بھارت کی ساکھ بڑھانے کے لئے مودی سرکار لگاتار اس پالیسی کو فروغ دے رہی ہے۔ چاہے ایکٹ ایسٹ کی پالیسی دیش کے اندر ہو یا باہر دونوں مودی سرکار کو مثبت اہمیت مل رہی ہے۔ منی پور اسمبلی چناؤ میں دوسری بڑی پارٹی بن کر بھاجپا نے یہ ثابت کردیا کہ دیش کے اندر بھی اس کی ایکٹ ایسٹ نیتی کا اثر ہورہا ہے۔ اس سے پہلے آسام میں اپنے بوتے پر سرکار بنانا پھر اروناچل پردیش میں سرکار بناکر بھاجپا نے یہ پہلے ہی دکھا دیا تھا کہ نارتھ ایسٹ کی ریاستوں میں کمل کھلانے کی اس کی حکمت عملی کامیاب ہورہی ہے۔ منی پور اسمبلی چناؤ نے اسے اور پختہ کردیا ہے۔ بھارت کی پانچ ریاستوں میں اسمبلی چناؤ پر نظر اٹھائے دنیا کے بڑے دیش میں یوپی اتراکھنڈ میں ملی شاندارجیت کا سہرہ پی ایم مودی کو دے رہے ہیں۔ نیویارک ٹائمس، واشنگٹن پوسٹ، آسٹریلیا آن لائن، وولمرک جیسے اخبارات نے بھی لکھا ہے کہ نوٹ بندی کے فوراً بعد اسمبلی چناؤ میں 2014ء میں ملی جیت کو دوہراپانا کسی تعجب سے کم نہیں ہے۔ نیویارک ٹائمس نے بھارت کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں شاندار جیت کا سہرہ مودی کو دیتے ہوئے لکھا ہے کہ 2014ء میں ان کو ملی جیت اتنی بڑی تھی کہ اسے نوٹ بندی کے بعد اسمبلی چناؤ میں بدلنا ناممکن تھا لیکن یوپی کی 403 میں سے اتنی سیٹوں کا جیت جانا ایک کرشمہ ہی ہے یہ ثابت کرتا ہے کہ نریندر مودی ووٹروں کو سمجھا پائے ہیں کہ ان کے قدم غریب کے مفاد میں ہیں۔مودی نے یوپی کے ذات پات کے تجزیئے میں بھی سیند لگائی ہے جو مشکل تھا۔ جرمنی کے سب سے بڑی میڈیا گروپ دائیچے بیلے نے یوپی کا دنگل جیتنے کے پیچھے تین بڑی وجوہات گنائی ہیں۔ پہلا پی ایم مودی اب بھی لوگوں کی پہلی پسند بنے ہوئے ہیں، دوسرا مسلمانوں کے بنا بھی پردیش میں سرکار بنائی جاسکتی ہے، تیسرا یہ ذات دھرم ابھی بھی حاوی ہے۔ چین کی ریڈیو سروس سی آر آئی انٹرنیشنل نے کہا کہ یوپی میں بھاجپا کی زبردست کارکردگی نے سیاسی پنڈتوں کی پیشگوئی کو بھی فیل کردیا ہے۔
(انل نریندر)

نہ مسلم آئے نہ دلتوں نے پوری حمایت دی:بسپا کا وجود داؤں پر

پچھلے چناؤ میں دلت ،برہمن سوشل انجینئرنگ کا فارمولہ فیل ہونے کے بعد بہوجن سماج پارٹی کو اب دلت مسلم گٹھ جوڑ بھی کوئی گل نہیں کھلا سکا۔ ہاتھی کے پاؤں اکھڑ گئے ہیں۔ نتیجوں سے صاف ہے کہ مسلمان تو پارٹی کے ساتھ آئے نہیں بلکہ دلت ووٹوں کی مضبوط دیوار بھی ڈھے گئی اور پچھڑوں نے بھی پارٹی سے کنارہ کرلیا ہے۔ پانچ برس پہلے جہاں بسپا کو 80 سیٹوں پر کامیابی ملی تھی وہیں لوک سبھا چناؤمیں صفر کے بعد پارٹی اب اسمبلی چناؤ میں بھی اوندھے منہ گر کر 19 سیٹوں پر ہی سمٹ گئی ہے اور ڈھائی دہائی والی سابقہ پوزیشن میں پہنچ گئی ہے۔ ’سرووجن ہتائے ،سروو جن سکھائے ‘ کا نعرہ دے کر 10 برس پہلے یوپی میں اکثریت کی سرکار بنانے کے بعد سے بسپا کا گراف گرتا چلا گیا۔پارٹی نے دلت ، برہمن سوشل انجینئرنگ کو چھوڑ کر اس چناؤ میں دلت ۔ مسلم تجزیئے پر کارڈ کھیلا تھا اور 97 مسلمانوں کو ٹکٹ دئے تھے۔ چناؤ سے ٹھیک پہلے انہوں نے انصاری بندھوؤں کو ہاتھی پر سوار کرانے کے ساتھ ہی 3 اور ٹکٹ مسلمانوں کو دے دئے۔ ایک دہائی پہلے وہ چناؤ میں 61 مسلمانوں کو ٹکٹ دینے والی مایاوتی نے پچھلی مرتبہ85 پر مسلمان اتارے تھے جبکہ اس بار تو ریکارڈ ہی توڑ دیا اور 100 یعنی 25 فیصدی سیٹوں پر مسلم امیدواروں پر داؤ لگادیا۔ یہی نہیں بسپا چیف نے 84 ریزرو سیٹوں سے کہیں زیادہ 87 سیٹوں پر دلتوں کو ٹکٹ دے دیا۔د وسری طرف پچھلی بار کے مقابلے 74 میں سے برہمنوں کو ٹکٹ گھٹا کر 66 ہی کردئے۔بسپا کو اپنا وجود بچانے کیلئے اپنی حکمت عملی بدلنی ہوگی۔ اگر ایسا نہیں ہوا تو دو برس بعد2019ء میں ہونے والے لوک سبھا چناؤ میں بسپا کو مشکلوں سے مقابلہ کرنا ہوگا لہٰذا بسپا کو2019ء کے پیش نظر خود کو بدلے ہوئے حالات کے مطابق اپنی حکمت عملی بدلنی ہوگی۔ قریب ڈھائی دہائی پہلے بسپا جس طرح سے اترپردیش کی سیاست کے پس منظر میں چھائی تھی اس کے بعد یہ لگا کہ بسپا بھی یوپی کی جنتا کیلئے ایک مضبوط متبادل ہے لہٰذا بسپا یوپی میں قریب ایک دہائی تک اقتدار میں اور قریب دو دہائی تک اپوزیشن کے مضبوط رول میں رہی۔ دلت کی بیٹی کہنے والی مایاوتی کو اس ہار کے بعد ان کے وقار کو بھی بھاری دھکا پہنچا ہے۔ اس بار صوبے کی جنتا نے ذات اور مذہب سے اوپر اٹھ کر پولنگ کی۔ جس کا نتیجہ ہے کہ بھاجپا اور اس کی ساتھی پارٹیوں کو 325 سیٹیں حاصل ہوئیں جو اپنے آپ میں ایک ریکارڈ اور تاریخی جیت ہے۔ بسپا کو پھر سے واپسی کرنی ہوگی نہیں تو اسے وجود بچانے کے لئے مشکلوں کے دور سے گزرنا پڑے گا۔
(انل نریندر)

15 مارچ 2017

جسٹس کرنن : نہ سپریم کورٹ میرا مالک ، نہ ہائی کورٹ ان کا نوکر

سپریم کورٹ نے جمعہ کو ایک اہم ترین حکم میں کلکتہ ہائی کورٹ کے جج جسٹس سی۔ ایس۔ کرنن کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیا۔ یہ پہلا موقعہ ہے جب ہائی کورٹ کے کسی موجودہ جج کے خلاف ضمانتی وارنٹ جاری ہوا ہے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جے۔ ایس ۔کھیر کی رہنمائی والی سات نفری ججوں کی آئینی بنچ نے مغربی بنگال کے ڈی جی پی کو وارنٹ تعمیل کروانے کو کہا ہے۔ جسٹس کرنن کو 31 مارچ صبح 10:30 بجے سپریم کورٹ میں پیش کرنا ہوگا۔ یہیں پر توہین عدالت معاملے میں اپنا موقف رکھنے کے ساتھ ہی 10 ہزارروپے کا مچلکہ بھر کر وہ ضمانت لے سکیں گے۔ دوسری طرف جسٹس کرنن نے وارنٹ کو غیر آئینی و دلت مخالف قدم قراردیا ہے۔ انہوں نے تلخ انداز میں کہا کہ نہ تو سپریم کورٹ میرا مالک ہے اور نہ ہی ہائی کورٹ اس کا نوکر ہے۔انہوں نے کہا میرا کیریئر بربادکرنے کے لئے جان بوجھ کر یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔ ایک پریس کانفرنس میں جسٹس کرنن کہا میں نے 20 ججوں اور 1 سابق پی ایم کے خلاف شکایت کی تھی۔ اسی سبب میرے خلاف توہین عدالت کا مقدمہ شروع کیا گیا۔ ایک آئینی ادارہ دوسرے آئینی ادارے کے راستے میں روڑا نہیں بن سکتا۔ انہوں نے کہا کہ دلت ہونے کی وجہ سے وہ مجھے نشانہ بنا رہے ہیں۔ موجودہ جج کے خلاف وارنٹ کا کوئی تقاضہ نہیں ہے۔ میں سی بی آئی کو حکم دیتا ہوں کہ وہ کرپٹ ججوں کے خلاف جانچ شروع کریں اور جانچ رپورٹ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں پیش کی جائے گی۔ دوسری طرف اٹارنی جنرل مکل روہتکی نے آئینی بنچ کو بتایا کہ دو بار نوٹس بھیجنے کے بعدبھی جسٹس کرنن پیش نہیں ہوئے۔ ضمانتی وارنٹ جاری کر انہیں آنے کو مجبور کرسکتے ہیں۔ انہوں نے چیف جسٹس کو دو خط لکھ کر نوٹس کو غلط ٹھہرایا ہے۔ مدراس ہائی کورٹ کے ججوں پر کرپشن کے الزامات بھی لگائے ہیں۔ معاملہ کچھ یوں ہے ۔جسٹس کرنل کے ذریعے مدراس ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے خلاف مبینہ طور سے لکھے توہین آمیز کھلے خطوط کو چیف جسٹس ،پردھان منتری اور دیگر کو مخاطب کئے جانے کے بعد عدالت نے ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کی تھی۔ 8 فروری کو بڑی عدالت نے جسٹس کرنن کو شخصی طور سے موجود ہوکر صفائی پیش کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ کیوں نہ ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جائے؟ عدالت نے جسٹس کرنن کو جوڈیشری اور انتظامی کام کرنے پر بھی روک لگادی ہے۔ وہ13 فروری کو سپریم کورٹ میں موجود نہیں ہوئے۔ انہوں نے 10 فروری کو بڑی عدالت کو جو خط لکھا اس کی تفصیل میں نے اوپر بیان کردی ہے۔ جسٹس کرنن کے ذریعے عزت مآب سپریم کورٹ کے احکامات کو لگاتار نظر انداز کئے جانے سے جس طرح دھکا لگا ہے وہ باعث تشویش تو ہے ہی بلکہ عدلیہ میں ایک نئی آئینی پریشانی کھڑی ہوگئی ہے۔ وارنٹ جاری ہونے کے بعد جسٹس کرنن نے جس طرح پریس کانفرنس بلا کر اپنا موقف رکھا اور سی بی آئی کو کرپشن کے معاملوں کی جانچ کرنے اور صدر سے وارنٹ منسوخ کرنے کی اپیل کی ہے ، وہ تو اور بھی افسوسناک ہے۔ انہوں نے عدلیہ سے باہر اپنی بات رکھنے کا جو وقت چنا وہ سپریم کورٹ کے لگاتار احکامات کے بعدبھی نہ وہ اب تک پیش ہوئے ہیں اور نہ ہی ان کے وکیل نے ان کی طرف سے کوئی موقف رکھا ہے۔ بتادیں کہ جسٹس کرنن اس سے پہلے بھی ججوں پر الزام لگا چکے ہیں۔ اس سے پہلے ان کے ریمارکس کو سپریم کورٹ نے جب سنجیدگی سے لیا تھا، تب انہوں نے اپنا ذہنی توازن کھونے کی بات رکھ کر عدالت عظمیٰ سے معافی مانگی تھی۔ جسٹس کرنن کو چاہئے کہ وہ سپریم کورٹ میں پیش ہوکر اپنی بات رکھیں۔ اس طرح سپریم کورٹ کو چنوتی دینا نہ تو ان کے حق میں ہے اور نہ ہی دیش کی عدلیہ کی ساکھ کے لئے اچھا ہے۔ یہ تو ایک نئی جوڈیشیری آئینی بحران کھڑا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔اب سپریم کورٹ کو ہی اس معاملے میں فیصلہ لینا ہوگا کہ ہائی کورٹ کا کوئی جج اگر اس طرح سے اس کی توہین کرے تو متبادل کیا ہے؟
(انل نریندر)

یوپی میں مسلمانوں کے ایک طبقہ نے کھل کر بھاجپا کو ووٹ دیا

اسلامی مرکز دارالعلوم دیوبندجس کو دنیا میں منی مکہ اور یوپی کاسب سے بڑا روحانی مرکز مانا جاتا ہے وہاں بھاجپا نے دیو بند سمیت سہارنپور کی چاروں سیٹیں جیت کر سب کو چونکادیا ہے۔ خاص کر دیو بند میں جیت اس کی بڑی کامیابی مانی جارہی ہے۔ یہاں پر بھاجپا21 سال بعد پھر سے واپسی میں کامیاب ہوئی ہے۔ دلت۔ مسلم اتحاد کا تجزیہ بٹھانے میں جٹی بسپا یہاں کھاتہ بھی نہیں کھول پائی جبکہ سہارنپور کو اس کا گڑھ مانا جاتا تھا۔ دیوبند کی بات کریں تو اس سے پہلے بھاجپا کو یہاں 1996ء میں کامیابی نصیب ہوئی تھی۔ اب یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ اس بار یوپی اسمبلی چناؤ میں مسلمانوں نے کھل کر بھاجپا کو ووٹ دیا ہے خاص کر مسلم خواتین نے۔ کیا تین طلاق پر مرکزی سرکار کے موقف نے مسلم خواتین کو بھاجپا کو ووٹ دینے کے لئے مائل کیا ہے؟ 30 فیصدی سے زیادہ مسلم آبادی والے علاقوں میں مردوں کے مقابلے میں عورتوں کی زیادہ پولنگ اور 9 علاقوں میں بھاجپا کی جیت سے یہ امکانی طور پر ظاہر ہوتا ہے۔حالانکہ سوال ہوسکتا ہے زیادہ پولنگ کرنے والی عورتیں مسلمان تھیں یہ کیسے کہا جاسکتا ہے؟ اس کا جواب صرف ’’بھرپور‘‘ ہے۔ سیاسی پارٹیوں ،سماجی اداروں نے جو ڈاٹا تیار کیا ہے اس کے مطابق 70 اسمبلی حلقہ ایسے ہیں جہاں مسلم آبادی 20 فیصد تک اور کم و بیش اتنی ہی سیٹیں ایسی ہیں جہاں مسلم آبادی 30 فیصد سے زیادہ ہے۔ ان حلقوں کا نتیجہ جو بھاجپا کے حق میںآیا ہے وہ فطری طور پر یہ سوال ضرور کھڑا کرتا ہے کیا تین طلاق پر مرکزی حکومت کے موقف نے مسلم خواتین کو بھاجپا کو ووٹ دینے کے لئے راغب کیا ہے؟ اوران خواتین نے اپنے حقوق کے لئے روایتی بندھن کو توڑنے کا خطرہ اٹھایا ہے۔دلیل دینے والے فی الحال یہ کہہ سکتے ہیں کہ کیسے ثابت ہوگا کہ جن علاقوں میں عورتوں کا ووٹ فیصد بڑھا ہے وہ مسلم عورتوں کے پولنگ میں اضافے کی علامت ہے۔ مسلم عورتیں اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کرنے کے لئے تیار ہونے لگی ہیں۔ یہ شریعت کی روشنی میں انصاف چاہتی ہیں، فتووں کی بنیاد پر نہیں۔ ایسے میں اگر مسلم خواتین نے بھاجپا کو ووٹ دیا ہی ہو تو تعجب کیسا؟ سیاسی تجزیہ نگار بھی مانتے ہیں کہ مسلم اکثریتی علاقوں میں جس طرح سے پولنگ اور مختلف پارٹیوں میں ووٹوں کا بٹوارہ ہوا اس کے بعدبھی بھاجپا امیدواروں کی جیت ہوئی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلم خواتین میں سے کچھ نے بھاجپا کو ضرور ووٹ دیا ہے۔ دوسری بات اب مسلمانوں میں بیداری آرہی ہے کہ انہوں نے سپا اور بسپا دونوں کو آزما لیا ہے۔ ایک طبقہ نوجوانوں کا اب کہنے لگا ہے کیوں نہ مودی اور بھاجپا کو آزمایا جائے۔ کانگریس۔ سپا اور بسپا نے ہمیشہ ووٹ بینک کے طور پر انہیں دیکھا ہے اور اپنے مفادات کے لئے استعمال کیا ہے۔ عام طور پر مسلمان امن چاہتے ہیں ، وہ دنگے نہیں چاہتے اور امن سے اپنی روزی روٹی کمانا چاہتے ہیں ۔ انہیں لگتا ہے بھاجپا کے عہد میں دنگے نہیں ہوتے۔ گجرات میں ایک آدھ کو چھوڑ کر دنگے نہیں ہوئے۔ دہلی میں کوئی دنگا نہیں ہوا۔ اترپردیش میں سپا کے عہد میں 450 سے زیادہ چھوٹے بڑے دنگے ہوئے یہ وجہ بھی ہے کہ مسلمانوں کے ایک طبقے نے اس بار بھاجپا کو موقعہ دیا ہے اور بھاجپا کے حق میں ووٹ دیا ہے۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...