Translater

Amitabh Bachchan لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Amitabh Bachchan لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

16 دسمبر 2011

وینا ملک کا بھارت میں کیا کام ہے؟



Published On 16th December 2011
انل نریندر
اپنے کیریئر کو بڑھاوا دینے کے لئے کچھ اداکارائیں کچھ بھی کرنے کو تیار رہتی ہیں۔ وہ ہر وقت تنازعوں میں بنے رہنا چاہتی ہیں تاکہ پروڈیوسر ان کو دیکھتے رہیں اور ان کا کام بڑھتا رہے۔ ایسی ہی ایک اداکارہ ہیں پاکستانی ایکٹریس وینا ملک عرف زاہدہ۔ وینا ملک پچھلے دنوں ایک میگزین میں برہنہ فوٹو دینے کے تنازعے میں پھنس گئی ہیں۔ اس برہنہ تصویر کے واویلے کی وجہ سے وینا شاید زیادہ مشکل میں پڑ گئی ہیں۔ ان کا دیش کے اندر یعنی بھارت میں تو احتجاج ہورہی رہا ہے لیکن اب ان کے ملک پاکستان میں بھی انہیں جم کر گالیاں پڑ رہی ہیں۔ ایک طرف تو وینا کے والد نہ اس سے فون پربات کررہے ہیں اور نہ ہی اس کے میل کا کوئی جواب دے رہے ہیں۔ پاکستان کی ایک عدالت نے تو وینا کے خلاف مجرمانہ معاملہ تک درج کئے جانے کی اپیل کو بھی سماعت کیلئے قبول کرلیا ہے۔ اس نے پولیس کو نوٹس جاری کر اس معاملے میں جواب مانگا ہے۔ معاملے کی سماعت آج یعنی16 دسمبر کو ہونی ہے۔ وکیل چودھری اشتیاق نے پیر کو صبح لاہور کی ایک عدالت میں عرضی دائر کر وینا کے خلاف دیش اور خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کو بدنام کرنے کا معاملہ درج کرنے کی مانگ کی تھی۔ پچھلے دنوں ایک ہندوستانی میگزین ایف ایچ ایم انڈیا کے کور پیج پر وینا کی ایک برہنہ تصویر چھپی تھی۔ اس میں اس کے بائیں بازو پر آئی ایس آئی کا ٹیٹو بھی بنا ہوا تھا۔ وینا نے تصویر کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کئے جانے کا دعوی کرتے ہوئے میگزین پر10 کروڑ روپے کا مقدمہ تھونپا ہے۔ پاکستان کی کچھ کٹر پسند تنظیموں نے وینا کو پاکستان میں نہ گھسنے دینے تک کی وارننگ دے ڈالی ہے اور کہا ہے کہ اگر وہ پاکستان آئے گی تو ان سے ٹھیک ڈھنگ سے نمٹا جائے گا۔ بھارت میں بھی وینا کی جم کر مخالفت ہورہی ہے۔ کمال راشد خان کو وینا کی حرکتوں پر اتنا غصہ ہے کہ انہوں نے بہت تلخی بھرے لہجے میں وینا کی تنقید کرتے ہوئے اپنے ٹویٹر پر لکھا ہے کہ لوگوں کو وینا ملک کی پٹائی کردینی چاہئے۔ ٹویٹر میں یہ بھی لکھا ہے جو لوگ انڈیا سے پیار کرتے ہیں وہی وینا ملک کو پیٹیں اور سرکار کو چاہئے انہیں (وینا ملک کو) ملک سے فوراً بھاگے۔ انہوں نے کہا ہمارے پاس پہلے ہی سے پونم پانڈے، شارلن چوپڑہ، راکھی ساونت ہیں تو ہمیں وینا ملک کی ضرورت نہیں ہے۔ قابل ذکر ہے یہ وہی کمال راشد خان ہیں جو بگ بگ5 میں پورن اسٹار سنی لیون سے شادی کرنے کو تیار بیٹھے ہیں۔ سوال یہاں یہ اٹھتا ہے کہ ہم ان فضول کے پاکستانیوں کو بھارت میں کیوں آنے دیتے ہیں؟ جب ہمارے یہاں ایسے ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے تو ان پاکستانی بیہودہ، فالتو ایکٹریس کی کیا ضرورت ہے؟ ہم تب بھی سمجھ سکتے تھے جب پاکستان ہمارے اداکاروں کی عزت کرتا۔ آج تک پاکستان نے ایک بار بھی لتا منگیشکر یا امیتابھ بچن کو اپنے ملک میں مدعو نہیں کیا اور ہم ہیں ہر ایرے غیرے کو اپنے گھر میں نہ صرف بلا لیتے ہیں بلکہ انہیں بیہودہ حرکتوں کی اجازت بھی دے دیتے ہیں۔
Amitabh Bachchan, Anil Narendra, Daily Pratap, Nude Photo, Pakistan, Sexy Photo, Veena Malik, Vir Arjun

22 ستمبر 2011

رام جیٹھ ملانی کی ’کیش فار ووٹ‘ معاملے میں قلابازی



Published On 22nd September 2011
انل نریندر
نوٹ کے بدلے ووٹ کانڈ میں ملزم امر سنگھ کی پیروی کرتے ہوئے سابق وزیر قانون رام جیٹھ ملانی نے کانگریس لیڈر احمد پٹیل کا نام گھسیٹ کر سنسنی پھیلا دی ہے۔ اس سے پہلے 12 ستمبر کو امر سنگھ کی انترم ضمانت پر بحث کرتے ہوئے جیٹھ ملانی نے پیسے کے ذرائع کا ٹھیکرا بھاجپا کے سر پھوڑنے کی کوشش کی تھی۔ اس وقت انہوں نے کہا تھا کہ پارٹی کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی نے پارلیمنٹ میں اعتراف کیا ہے کہ اسٹنگ آپریشن ان کی اجازت سے کیا گیا اس کا مطلب یہ ہی نکلتا ہے کہ پیسے اسی پارٹی نے دئے ہوں گے۔ عدالت میں جیٹھ ملانی کا کہنا تھا کہ نوٹ کے بدلے ووٹ کا مقصد اس وقت کی منموہن سنگھ سرکار کو بچانا تھا۔ ایسی حالت میں اشارے ملتے ہیں کہ سرکار کے حق میں ووٹ دینے کے لئے احمد پٹیل نے اپوزیشن پارٹیوں کے ممبران پارلیمنٹ کو مبینہ طور سے لالچ دیا۔ جیٹھ ملانی نے کہا کہ وہ یہ نہیں کہہ رہے ہیں اس ثبوت کی بنیاد پر احمد پٹیل کو قصوروار ٹھہرایا جائے لیکن جب آپ اپنی پارٹی کے مفاد کے لئے ممبران کو متاثر کررہے ہیں تو رشوت دینے والے ہی کہلائیں گے۔ ضمانت عرضی پر سماعت کے دوران پہلے رام جیٹھ ملانی کانگریس لیڈر احمد پٹیل کا نام دیا تو دوپہر بعد دوسرے وکیل این ہری ہرن نے سماج وادی پارٹی ایم پی ریوتی رمن سنگھ کا نام لے لیا۔ انہوں نے کہا کیش فار ووٹ کانڈ میں امر سنگھ سے زیادہ ثبوت ریوتی رمن سنگھ کے خلاف موجود ہیں۔ باوجود جانچ ایجنسی نے نہ تو انہیں ملزم بنایا ہے اور نہ ہی معاملے میں گواہوں کی فہرست میں ان کا ذکر کیا ہے۔ چارج شیٹ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 22 جولائی 2008 کو ریوتی رمن سنگھ نے سہیل کو بتایا کہ امرسنگھ اپنے گھر پر بھاجپا ممبران کا انتظار کررہے ہیں۔ اس کے بعد سہیل بھاجپا ممبران اشوک ارگل اور چھگن سنگھ کلستے کو لیکر امرسنگھ کے گھر گیا تھا۔ جب چارج شیٹ میں ان باتوں کا ذکر ہونے کے بعد انہیں نہ تو ملزم بنایا گیا ہے اور نہ گواہ۔ جس پر سرکاری وکیل راجیو موہن نے عدالت کو بتایا کہ ریوتی رمن سنگھ کو صرف اشوک ارگل کے گھر جاتے دیکھا گیا تھا۔ کوئی بات چیت کی ریکارڈنگ نہیں ہے لہٰذا انہیں محض اس بنیاد پر ملزم نہیں بنایا جاسکتا۔ رام جیٹھ ملانی نے اسپیشل جج سنگیتا ڈھینگرا سہگل کے سامنے یہ بھی کہا کہ رشوت لین دین کی جگہ امرسنگھ کا گھر نہیں تھا بلکہ لی میریڈین ہوٹل تھا۔
شری پٹیل کا نام آنے پر کانگریس میں ہلچل کا مچنا فطری ہی تھا لیکن احمد پٹیل نے جہاں جیٹھ ملانی کی دلیلوں پر اسے بے بنیاد اور دھوکہ بتایا اور کہا کہ میں نے اس بارے میں پہلے ہی وضاحت کردی ہے۔ وہیں کانگریس پارٹی کا تبصرہ چونکانے والا ضرور تھا۔ پارٹی نے سارے تنازعے کو بڑی اپوزیشن پارٹی بھاجپا کی جانب موڑنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ بوفورس توپ سودے میں سورگیہ راجیو گاندھی کی لٹیا ڈوبانے میں اہم کردار نبھانے والے فلم اداکار امیتابھ بچن ایک بار پھر وہی کہانی دوہرا رہے ہیں اور نشانے پر سورگیہ راجیو گاندھی کی اہلیہ و کانگریس صدر سونیا گاندھی ہیں۔ انہی کو بدنام کرنے کی ایک بار پھر سازش رچی جارہی ہے۔ کانگریس کی ترجمان رینوکا چودھری نے اشاروں میں کہا امیتابھ بچن ، امر سنگھ سے مل کر لوٹے ہیں تبھی سے ان کا (جیٹھ ملانی ) اور امر سنگھ کا موقف بدلا ہے۔انہوں نے اس سلسلے میں پوچھے گئے سوال کا یہ کہہ کر ڈپلومیٹک جواب دیا کہ ’پران جائے پر بچن نہ جائے‘ غور طلب ہے اس وقت امیتابھ بچن گجرات کے برانڈ امبیسڈر ہیں اور وزیراعلی مودی کے قریبی ہیں۔ دو دن پہلے ہی امیتابھ ایمس جاکر امر سنگھ سے ملے تھے۔ قریب دو گھنٹے کی بات چیت کا کانگریس کے حکمت عملی ساز یہ ہی مطلب نکال رہے ہیں کہ بھاجپا کے نمائندے کی شکل میں انہوں نے کام کیا ہے۔ اور اسی ملاقات کے فوراً بعد امر سنگھ کے وکیل نے قلابازی مارتے ہوئے احمد پٹیل کا نام لے ڈالا۔ حالانکہ سیدھے طور پر رینوکا نے یہ ہی کہا کہ ابھی اس معاملے کی اور بھی پرتیں کھلنا باقی ہیں۔ یہ تو صرف ایک ہی قسط ہے آگے دیکھتے جائیے کہ کیا ہوگا۔ بیچارے امیتابھ بچن نہ تین میں نہ تیرا میں۔ اگر وہ امر سنگھ سے نہیں ملنے جاتے تو جیہ پردہ کھلے عام للکارتی ہیں اور دیکھنے جاتے ہیں تو کانگریس انہیں ساری سازش کے پیچھے شاطر دماغ بتا دیتی ہے جبکہ امر سنگھ اور امیتابھ کی بات چیت میں کہیں ’کیش فار ووٹ‘ کیس کا ذکر تک نہیں ہوا ہوگا۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Vir Arjun, Amar Singh, Ram Jethmalani, Cash for Vote Scam, Congress, BJP, Amitabh Bachchan,

14 اگست 2011

پرکاش جھا کی تنازعات میں گھری فلم ’آرکشن‘

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 14th August 2011
انل نریندر
تنازعات سے فلم ساز پرکاش جھا کا پرانا رشتہ ہے۔ وہ ایسے مسئلوں پر زیادہ فلم بناتے ہیں جو متنازعہ ہوتے ہیں۔ یہ ہی حال ان کی فلم ’گنگا جل‘ اور ’اپہرن‘ کا بھی رہا ۔ ایسا ہی نئی فلم ’آرکشن‘ سے بھی ہورہا ہے۔ بہار کے پس منظر میں بنی گنگا جل اور اپہرن کی ریلیز کے عین وقت بہار کی سیاست کے چند دبنگ لیڈروں نے ریاست میں اسے نہ چلنے کی دھمکی دی۔ ان فلموں کو سینسر بورڈ نے اپنے کچھ سینئر ممبران کودیکھنے کے بعد منظوری دی تھی۔ ایسا ہی فلم ’آرکشن‘ کے بارے میں معاملہ الجھا ہوا ہے۔ اس کی ریلیز کچھ ریاستوں میں تو رک گئی ہے خاص طور سے سیاستدانوں اور تنظیموں کی مخالفت جھیل رہی فلم ’آرکشن‘ جمعہ کے روز دہلی میں ریلیز ہوگئی۔ لیکن اترپردیش، پنجاب، آندھرا پردیش میں اس پر پابندی لگ گئی۔ پرکاش جھا فلم میں کچھ مناظر و مکالمے تک کاٹنے کوتیار ہیں۔ مایوس پرکاش جھا نے سپریم کورٹ کا بھی دروازہ کھٹکھٹایا ہے لیکن وہاں سے بھی انہیں کوئی راحت نہیں ملی۔ یوپی، پنجاب اور آندھرا میں لگی پابندی کو ہٹوانے کیلئے پروڈیوسر پرکاش جھا کو سپریم کورٹ نے فوری راحت نہیں دی۔ اور پرکاش جھا نے بتایا کہ ہماری عرضی کی کارروائی میں وقت ختم ہونے کی وجہ سے سماعت منگل تک ٹال دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا اس سے فلم کو کافی نقصان ہوگا۔ ہندوستانی تعلیمی نظام میں ذات پر مبنی ’آرکشن‘ پر مبنی بنی اس فلم میں دلت مخالفت تبصروں کے سبب لوگوں میں ناراضگی بھڑکنے کے اندیشے سے تین ریاستوں پر پابندی لگادی گئی ہے۔ اسی درمیان فلم کو دہلی اور بھوپال میں زبردست کامیابی ملی ہے ۔ لیکن فلم کی مخالفت کررہے راشٹریہ جنتا دل لیڈر شری لالو پرساد یادو نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس معاملے کو پارلیمنٹ میں بھی اٹھائیں گے کیونکہ اس کے لئے دلت ذاتوں کے لئے بے عزتی بارے تبصرے شامل ہیں۔ یہ برداشت نہیں ہوگا۔ بسپا ممبران نے بھی لالو کی پہل کا خیر مقدم کیا ہے جبکہ بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے فلم کو ہری جھنڈی دے دی ہے۔ فلم میں مخالفت سے فلم کے ہیرو امیتابھ بچن خاص ناراض دکھائی پڑتے ہیں۔
انہوں نے ایک طرح سے اس پر خون کے آنسو روئے ہیں۔ بگ بی نے ٹوئیٹر پر اپنا دکھ شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ ایک آرٹ فلم ہے۔ سب سے بڑا دکھ تو اس بات کا ہے کہ بغیر فلم دیکھے لوگوں نے اپنی رائے قائم کرلی اور فلم کی مخالفت شروع کردی۔ امیتابھ نے لکھا ہے مجھے افسوس اس بات کا ہے کہ بغیر یہ جانے کے فلم میں کیا ہے لوگ اس کی مخالفت میں اتر آئے ہیں۔ آرٹ کی مخالفت ہماری کسی بات کو دلیل آمیز ڈھنگ سے ظاہر کرنے کے حق کی مخالفت کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ اسی درمیان ممبئی میں بگ بی اور سیف علی خان کے گھر پر پولیس سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے کچھ سماج دشمن عناصر ان کے گھروں پر بھی حملہ کرسکتے ہیں۔ میں نے ابھی فلم تو نہیں دیکھی لیکن اخباروں میں اس کے ریویو ضرور پڑھے ہیں۔ فلم کی کہانی تو ایک اعلی اصولوں پر مبنی پرنسپل پربھاکر آنند کی ہے۔ جو سماج کے کمزور طبقوں کے لئے ہمیشہ مدد کو تیار ہیں اور مانتے ہیں تعلیم کو بزنس بنانا اس کے مقاصد سے بھٹکنا ہے۔ اور وہ اپنے کالج کو انہی اصولوں کی بنیاد پر چلاتے آئے ہیں۔ اور ڈسپلن توڑ نے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرتے رہتے ہیں۔ اعلی تعلیم میں بی اے کورس میں 27 فیصد ریزرویشن لاگو کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اٹھی آندھی میں اپنے ہی طالبعلم آپس میں ٹکرا جاتے ہیں اور ڈسپلن شکنی کے الزام میں سزا پاتے ہیں۔ غریبوں سے ہمدردی رکھنے کے سبب اس آندھی کے تھپیڑے ان تک ہی نہیں پہنچتے بلکہ ان کا خاندان بھی بری طرح گھر جاتا ہے۔ باقی تو فلم دیکھنے کے بعد ہی کہہ سکوں گا۔
Aarakshan, Amitabh Bachchan, Anil Narendra, Daily Pratap, Prakash Jha, Vir Arjun

11 اگست 2011

آج کی سیاست کا اصلی چہرہ دکھاتی فلمیں

Published On 11th August 2011
انل نریندر
کل رات ٹی وی پر ایک دلچسپ خبر دیکھی۔ پٹنہ میں پولیس کے سینئر افسروں کو سنگھم فلم خاص طور سے دکھائی گئی۔ اس کے لئے باقاعدہ کچھ گھنٹوں کے لئے ان افسروں کو چھٹی دی گئی۔ سنگھم فلم پولیس افسر کے بارے میں بنی ہے۔ کافی بولڈ سبجیکٹ ہے اور آج کی سیاست کو بخوبی دکھاتی ہے۔ ہمارے سیاستدانوں کو ایسی فلموں سے ڈرنا چاہئے اور سبق لینا چاہئے۔ پچھلے کچھ عرصے سے تازہ سیاسی اشوز پر فلمیں بن رہی ہیں۔ پرکاش جھا کی فلم ’آرکشن‘ بھی ایک برننگ اشو پر مبنی ہے۔ ایسی ہی ایک اور فلم ’کھاپ‘ بھی بنی ہے۔ ان دونوں کی مخالفت ہورہی ہے۔ دونوں کی مخالفت سیاست سے وابستہ لوگ کررہے ہیں۔ ایک زمانے میں ’آندھی ‘فلم آئی تھی جس نے سیاسی حلقوں میں طوفان مچا دیا تھا۔ اس فلم پراسلئے پابندی لگا دی گئی کیونکہ اس میں سچترا سین کے کردار میں کچھ لوگوں کو اندرا گاندھی کی جھلک دکھائی د ے رہی تھی۔ بنیادی طور پر فلم کو بہار میں نہیں دکھایا جاسکا۔جب آر جے ڈی لیڈر لالو پرساد یادو نے اس کی اجازت دے دی تھی۔اکثراحتجاج سیاستدانوں سے ہی شروع ہوتا ہے کیونکہ ان کے اندر بسا عدم سلامتی کا احساس ان کی سوچ پر حاوی ہوجاتا ہے۔ وہ جنتا کو گمراہ کراسے ٹہلاکر اپنا وفادار یا حمایتی بنائے رکھنا چاہتی ہے ، لیکن جب فلموں میں اس کا اصلی چہرہ سامنے آتا ہے تو وہ بوکھلا اٹھتے ہیں۔ اس لئے جیسے ہی کوئی ایسی طاقتور چیز آتی ہے جو جنتا کی آنکھیں کھول دے تو وہ ڈر جاتے ہیں اور کسی نہ کسی بہانے اس کی مخالفت شروع کردیتے ہیں۔ انا ہزارے یا بابا رام دیو کی تحریکوں سے بھی یہ اسی وجہ سے خوفزدہ ہیں۔
جانے مانے فلم ہدایتکار پرکاش جھا کی مقبول فلم ’آرکشن‘ 12 اگست کو ریلیز ہوگی ۔ لیکن بہت کم لوگوں کو پتہ ہوگا کہ باکس آفس پر بیحد ہٹ ہو چکی ان کی فلم ’گنگا جل ‘ کے اصلی ہیرو 1 اگست کو لوک سبھا میں لانچ ہوگئے۔ چونکئے مت یہ ہیں جمشید پور لوک سبھا ضمنی چناؤ میں بھاری اکثریت سے جیت حاصل کرنے والے بہار کے سابق ایس پی ڈاکٹر اجے کمار۔ پرکاش جھا نے ’گنگا جل ‘ میں جرائم پر لگام لگانے والے ایس پی امت کمار کا کردار اجے دیوگن نے نبھایا تھا۔ مزے کی بات یہ ہے ڈاکٹر اجے کمار نے سیاستدانوں کے دباؤ سے عاجز ہوکر پولیس کی نوکری سے توبہ کی تھی لیکن اچانک اب خود ہی سیاستداں کی شکل میں سیدھے لوک سبھا میں نازل ہوگئے ہیں۔ ایس پی رہتے ہوئے وہ پرکاش جھا کے ساتھ پٹنہ میں شطرنج کھیلا کرتے تھے۔ اسی دوران پرکاش جھا نے ان کی شخصیت کو شیشے میں اتارا اور پارکھی پرکاش جھا کسی فلم میں انہیں نہیں ڈھالتے یہ بھلا کیسے ہوسکتا تھا لیکن آج بھی ڈاکٹر اجے کمار کو اس بات کا ملال ہے کہ فلم تو بہت ہٹ ہوئی تھی یہ بات اتنی مقبول نہیں ہو پائی۔ بہرحال کبھی سیاستدانوں سے خار کھانے والے ڈاکٹر اجے کمار اب ایسی جگہ پہنچ گئے ہیں جہاں وہ سسٹم پر سیدھا حملہ بول سکتے ہیں اور اپنے نظریات کو موثر ڈھنگ سے پیش کرسکتے ہیں۔ ہاں یہ تبھی ممکن ہے جب وہ خود اس سسٹم کے شکار نہ ہوجائیں؟ کہیں وہ بھی سیاست کے اس گندے دلدل میں نہ پھنس جائیں؟ قریب20 سال پہلے جب اسٹیل سٹی جمشید پور میں جرائم کی انتہا ہوگئی تھی تو اس وقت اس پر کنٹرول کے لئے رتن ٹاٹا کی مخصوص درخواست پر ڈاکٹر اجے کمار کو پٹنہ سے جمشید پور بھیجا گیا تھا۔ گنگا جل فلم میں بھی اجے دیوگن کو تیج پور میں جرائم پر قابو کرنے کیلئے بھیجا گیا تھا۔
Amitabh Bachchan, Anil Narendra, Arakshan, Daily Pratap, Films, Vir Arjun

پوتن سے جنگ ختم کرنے کی اپیل

جنگ انسانی تہذیب کی سب سے بڑی ٹریجڈیوں میں سے ایک ہے اور آج ایک نہیں کئی جنگیں چل رہی ہیں ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ جنگ سے مسائل کا حل تو دور ا...