Translater

Price Rise لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Price Rise لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

25 اپریل 2012

تھالی سے غائب ہوتی سبزیوں کی اصل وجہ؟



Published On 25 March 2012
انل نریندر
مہنگائی بڑھتی جارہی ہے جنتا کو دو وقت کی روٹی کھانے میں بھی اب بڑی مشکل آرہی ہے۔تھالیوں سے سبزیاں غائب ہوتی جارہی ہیں۔ سبھی سبزیوں کے دام آسمان چھورہے ہیں۔ عام آدمی کے کچن کا سارا بجٹ بگڑ چکا ہے۔ عام طور پر جب گرمی بڑھتی ہے تب سبزیوں کے دام بڑھتے تھے لیکن اس بار اپریل میں سبزیوں کے دام مسلسل بڑھتے جارہے ہیں۔ 15 دن پہلے تک 12 سے14 روپے کلو بکنے والا آلو18 روپے کلو بک رہا ہے۔ جو لوگ25 سے18 روپے تک ٹماٹر خریدتے تھے اب وہ55 سے60 روپے بک رہا ہے۔ بھنڈی اور ٹنڈے جیسی سبزیوں کے دام 75 سے100 روپے کلو کے درمیان ہیں۔ غور طلب ہے کہ راجدھانی کے تھوک بازار سبزی منڈی میں ایک ماہ میں مختلف سبزیوں کے دام تین گنا سے زائد بڑھ گئے ہیں۔ اس کے چلتے عام آدمی کی تھالی سے سبزیاں آہستہ آہستہ غائب ہوچکی ہیں۔ پیاز، ٹماٹر، آلو جیسی سبزیاں بھی لوگوں کی خرید سے باہر ہیں۔ تجارتی ماہرین کا خیال ہے کہ ایسا سبزیوں کی سپلائی میں آئی بھاری کمی کے چلتے ہورہا ہے۔ کاروباری لیڈر اس کے پیچھے خاص وجہ بتائے جارہے ہیں۔ پہلا تو پیداوار میں کمی دوسرا پاکستان کو ہو رہی درآمدات ہے۔ راجدھانی کے باشندوں کے حصے کی سبزیاں پاکستانی کھارہے ہیں۔ آزاد پور منڈی کے ایک بڑے آڑتی نے بتایا کہ موسم میں آئی تیزی اورخوشک سالی سے سبزیوں کی پیداوار میں کمی آئی ہے۔ میدانی علاقوں میں ایک ساتھ دھوپ بڑھ جانے سے پیداوار میں گراوٹ آئی ہے۔ پہاڑوں کی سبزیوں کی آمد بیحد کم ہے۔
مانگ کے مطابق سبزیاں آنے میں ابھی کم سے کم 15 دن کا وقت لگے گا۔ اس کے بعد ہی جنتا تھوڑی راحتکی امید کر سکتی ہے۔گرین ویجی ٹیبل ایسوسی ایشن کے ممبر پنکج شرما کا کہنا ہے کہ اس سال پاکستان کو سبزیوں کی برآمدات بھاری مقدار میں ہوئی ہے اور اب بھی جاری ہے۔ اس کے چلتے گھریلوں منڈیوں میں بھی سبزیاں کم ہی پہنچ پارہی ہیں۔ اس بات بھنڈی، ٹماٹر، لوکی جیسی سبزیوں کے دام ایک بار بھی نیچے نہیں آئے۔ شملہ اور ہماچل پردیش جیسے مختلف شہروں میں سبزیوں کی معمولی آمد ہورہی ہے۔200 گاڑیوں کے بجائے 2 گاڑیاں ہی آرہی ہیں۔ پاکستان کو بھیجی جانے والی سبزیوں میں ٹماٹر، پیاز قابل ذکر ہیں۔ گرمی کے موسم میں اسٹوریج کی دقتیں ہوتی ہیں۔ بھنڈی ،ٹنڈے کے دام زیادہ ہونے سے لوگ اسے 300 گرام یا آدھا کلو ہی خریدتے ہیں۔ کم بکری ہونے کے چلتے سبزی بیچنے والوں کو بھی اپنا خاطر خواہ منافع نکالنا ہوتا ہے اس لئے منڈی میں بھی مہنگی مل رہی ان سبزیوں کے دام عام آدمی تک پہنچتے پہنچتے کافی زیادہ ہوجاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ گھریلو مارکیٹ کے لئے سبزیوں کی کھپت کے مطابق سپلائی نہیں ہے تو بھارت سبزیوں کو پاکستان کیوں بھیج رہی ہے؟ پہلے اپنے دیش واسیوں کو تو پوری سبزیاں دستیاب کروادو، ان کی تھالی میں سبزیوں کا انتظام کردو، پھر انہیں پاکستان بھیجنے کی سوچو۔ گرمی کے موسم میں پاکستان کو درآمد فوراً بند کردی جائے اور جب بھرپور مقدار میں سبزیاں آجائیں تب ایکسپورٹ کی سوچنا۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Inflation, Price Rise, Vir Arjun

04 اپریل 2012

مہنگائی منہ پھاڑے جات ہے۔۔۔


Published On 4 April 2012
انل نریندر
پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر فیصلہ بیشک کچھ دنوں کے لئے ٹل جانے سے بھلے ہی لوگوں کے لئے تھوڑی راحت مل گئی ہو لیکن نئے کاروباری سال کے آغاز میں تقریباً سبھی چیزوں کے دام بڑھنے سے ہورہا ہے۔ بجٹ میں بڑھی ایکسائز ڈیوٹی اور سروس ٹیکس بڑھنے سے کھانا پینا، گھومنا پھرنا سب کچھ مہنگا ہونے جارہا ہے۔ عام آدمی کو ڈس رہی مہنگائی ڈائن کا ڈنک اور تیز ہوگیا ہے۔ سرکار کے بجٹ میں وزیر خزانہ پرنب مکھرجی نے پروڈکشن ٹیکس میں اضافہ اور سروس ٹیکس کی شرح کا دائرہ دونوں بڑھا کر عام جنتا کی پیٹھ پر 45 ہزار کروڑ روپے کے ٹیکس کا بوجھ لاد دیا ہے۔ ان دونوں ٹیکسوں میں اضافہ ایتوار سے لاگو ہوگیا ہے۔ پروڈکشن ٹیکس کی شرح کو 10 سے بڑھا کر12 فیصدی کرنے کا اثر بازار میں دستیاب تمام سامان پر ہوگا۔ سیمنٹ برانڈڈ ،ریڈیمیٹ گارمینٹ سے لیکر سونا اور زیورات سبھی چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔ پروڈکشن ٹیکس کے ساتھ سروس ٹیکس بھی صارفین پر بھاری پڑ رہا ہے۔ اب اس کے دائرے میں ان علاقوں کی سرکاری خدمات بھی جڑ رہی ہیں جہاں وہ نجی سیکٹر سے مقابلہ آرا ہیں۔ اس کے تحت ٹرینوں میں AC1-AC2 ٹائر میں سفر کرنے والے مسافروں کو ایتوار سے زیادہ کرایہ دینا پڑے گا۔ پلیٹ فارم ٹکٹوں کے لئے بھی 3 روپے کے بجائے5 روپے ادا کرنے پڑیں گے۔ بجلی، زمین، فلیٹ و موٹر سائیکل، کار کے لئے زیادہ پیسے چکانے ہوں گے۔ سونا ،چاندی خریدنا مہنگا ہوگیا ہے۔ شراب مہنگی ہوگئی ہے، چیک ڈرافٹ و پوسٹل آرڈر کی میعاد 6 مہینے سے گھٹا کر 3 مہینے کردی گئی ہے۔ پوسٹ آفس میں ڈپازٹ، پی پی ایف ،این ایم سی میں زیادہ سود ملے گا۔ لائف انشورنس سے بنے رہنے کے ساتھ آٹو انشورنس میں بھی اضافہ ہوگا۔ مہنگائی کی مار جھیل رہے عام آدمی کو اب موٹربیمہ کی بڑھی ہوئی شرحوں کا بوجھ بھی اٹھانا ہوگا۔ بھارتیہ بیمہ ریگولیٹری ڈولپمنٹ اتھارٹی نے مختلف زمروں میں تھرڈ پارٹی موٹر پریمیم چارج 5 سے 20 فیصدی تک بڑھایا ہے۔ تھرڈ پارٹی بڑھی ہوئی قسط شرحوں کے پریمیم کے ساتھ صارفین کو دو فیصدی بڑھا ہوا سروس ٹیکس بھی چکانا ہوگا۔ نئی شرحیں جمعہ سے نافذ العمل ہوگئی ہیں۔ مہلائیں بھی اس سے اچھوتی نہیں۔ ان کے بیوٹی سامان سمیت بیوٹی پارلر کا خرچ بھی مہنگا ہوا ہے۔ دیش کے نامی گرامی ایسوسی ایشن ایسوچیم نے بھی مہنگائی کے بارے میں سروے کرایا ہے۔ اس سے زیادہ تر عورتوں نے کہا ہے کہ گھریلو بجٹ کے قابو میں رکھنے کے لئے جدوجہد کرنی پڑ رہی ہے۔ بڑھتے خرچ پر لگام لگانا مشکل ہورہا ہے۔
70 فیصدی عورتوں کا خیال ہے کہ زیادہ سروس ٹیکس کے سبب فون سروس سمیت سبھی ضروری چیزیں مہنگی ہوں گی۔ اتنا ہی نہیں پروڈکشن ٹیکس میں اضافے سے عام آدمی کی روز مرہ کی زندگی متاثر ہوگی۔ آمدنی تناسب کے حساب سے نہیں بڑھے گی۔ جس حساب سے خرچ بڑھ جائے گا ۔ مہنگائی آنے والے دنوں میں اور بڑھے گی۔ اگر پیٹرول ،رسوئی گیس وغیرہ کے دام بڑھتے ہیں تو ان کا سیدھا اثر عام آدمی پر پڑے گا۔ پہلے سے ہی مہنگائی کی مار سے پریشان عام آدمی کی کمر ٹوٹ جائے گی لیکن اس سرکار کو عام آدمی کی فکر کہاں ہے؟ ڈاکٹر منموہن سنگھ جو جانے مانے ماہر اقتصادیات ہیں ،کی پالیسیوں نے غریب آدمی کا تو بیڑا غرق کردیا ہے دوسری طرف گھوٹالے پر گھوٹالہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ یہ پیسہ کہاں سے آرہا ہے؟ غریب جنتا کی جیب میں ڈاکے سے ہی تو آرہا ہے۔
Anil Narendra, Corruption, Daily Pratap, Inflation, Petrol Price, Price Rise, Scams, Vir Arjun

26 اکتوبر 2011

مہنگائی اور ملاوٹ نے دیوالی کا مزہ کرکرا کردیا




Published On 26th October 2011
انل نریندر
اس سال کی دیوالی آج تک کی سب سے مہنگی دیوالی ہوگی۔ یہ لگاتار تیسرا سال ہے جب کھانے پینے کے سامان کی آسمان چھوتی قیمتوں کے بیچ عام لوگ یہ تہوار منانے کو مجبور ہیں۔ سبزیوں اور دوسری روز مرہ کی کھانے پینے کی چیزوں کے داموں میں تیزی نے اس بار کی دیوالی کو پھینکا کردیا ہے۔ اس سال کے شروع سے ہی مہنگائی کا جو دور شروع ہوا وہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے، رہی سہی کثر ملاوٹ کی سرخیوں نے پوری کردی ہے۔آئے دن پکڑے جانے والی ملاوٹی مٹھائی سے لوگ اس طرح سے خوفزدہ ہیں کہ لوگ مٹھائیوں کی خریداری سے زیادہ ڈرائی فروٹ اور چاکلیٹ اور ریڈیمیڈ گفٹ پیک خریدنے پر پیسے خرچ کرنے میں زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں۔ ڈرائی فروٹ دوکانداروں کی مانیں تو پچھلے دوسالوں سے اس کاروبار میں زیادہ اضافہ ہوا ہے وہیں خوردنی ماہرین کی مانی جائے تو ان میں ملاوٹ کے آثار بہت کم رہتے ہیں جس سے صحت پر کوئی برا اثر نہیں پڑا۔ غور طلب ہے کہ پچھلے سال کی طرح اس بار بھی جانچ ایجنسیوں کی مدد سے چھاپے ماری کے دوران نقلی ماوا ،مٹھائیاں پکڑی گئیں۔ اس بار مٹھائی کی بڑی دکانیں خالی پڑی ہیں۔ کئی مالک تو ایک ہی دیوالی میں کہاں تو کوٹھیاں کھڑی کرلیتے تھے اور کہاں اکا دکا ہی گراہک آرہے ہیں۔ حکومت اور محکمہ صحت کو ایک قانون بنانا چاہئے کہ ہر حلوائی کو ڈبے پر یہ لکھنا چاہئے کہ وہ مٹھائی کو بنانے میں کن کن چیزوں کا استعمال کررہا ہے اور اس سامان کی انہیں گارنٹی دینی ہوگی۔ بیرونی ممالک میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ اس سے گراہک کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ کیا کھا رہا ہے۔ اس میں جو چیزیں پڑی ہوئی ہیں وہ صحت کے حساب سے نقصاندہ تو نہیں ہیں، اس سے بکری بھی بڑھے گی۔ چراغوں کے اس تہوار میں دیپوں کا رواج کم ہورہا ہے اور بجلی کی روشنی زیادہ لوگ اپنے گھروں میں کرتے ہیں۔ اس کے لئے چھوٹی چھوٹی بلبوں کی لڑیاں لگانا پسند کرتے ہیں اور اس سیکٹر میں بھی چین نے اپنا مال اتاردیا ہے۔ بجلی کی لڑیوں سے لیکر پٹاخوں یہاں تک کہ بھگوانوں کی مورتیاں بھی چین سے آرہی ہیں۔
اس دیوالی میں یہ سوال کھڑا ہوگا کہ کیا پٹاخے چلائے جائیں یا ماحولیات کا خیال رکھتے ہوئے صرف دیئے جلا کر دیوالی منائیں۔ پچھلے کئی برسوں سے ایک تحریک شروع ہوگئی ہے کہ پٹاخوں سے توبہ کی جائے اور ہوا کو آلودہ ہونے سے بچایا جائے۔ کئی لوگوں نے اس مہم کے اثر سے پٹاخے چلانا کم کردیا ہے۔ دوسری طرف ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جو 10 ہزار یا اس سے زیادہ کی ایک لڑی پھونک دیتے ہیں۔ سائنسدانوں کی مانیں تو دیوالی جیسے تہوار گلوبل وارمنگ کو بڑھاوا دیتے ہیں۔ پٹاخے جلانے سے اگر گلوبل وارمنگ نہ بھی ہوتی ہو تو ہمارے آس پاس جو سانس یا قلب امراض کے مریض ہوتے ہیں انہیں تکلیف ہوتی ہے۔ بیمار اور بوڑھے لوگوں کو ضرور دقت ہوتی ہے۔ جانور یا چرند پرند اس سے تکلیف پاتے ہیں۔پہلے پٹاخے کم چلتے تھے لیکن اس کا مقصد خوشی منانا تھا۔ اب پیسے کا مظاہرہ زیادہ ہوگیا ہے۔ ہم سب کو دیپوں کے اس تہوار پر اپنی مبارکباد دیتے ہیں۔ اور امید کرتے ہیں کہ آپ کی دیوالی شبھ اور محفوظ ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Deewali, Inflation, Price Rise, Vir Arjun 

22 اکتوبر 2011

نہ تو میں مہنگائی کیلئے ذمہ دار ہوں نہ ہی اسے کم کرسکتا ہوں




Published On 22nd October 2011
انل نریندر
مسٹر منموہن سنگھ کی یہ یوپی اے حکومت کمال کی ہے۔ اس حکومت میں کسی بھی وزیر کے جو نظریات ہوں وہ انہیں کہہ ہی دیتا ہے اور اس کے لئے وہ کسی کو بھی جوابدہ نہیں ہے۔ وزیر اعظم ایسے بیانوں کو اتحادی مجبوری کہہ کر ٹال دیتے ہیں لیکن ان سے پتہ چلتا ہے کہ منموہن سنگھ کی کیبنٹ میں ان کی کتنی عزت ہے اور وہ کتنے طاقتور ہیں۔ ضمنی چناؤ میں ملی کراری شکست کے بعد اب کانگریس کی ساتھی پارٹیوں نے بھی وزیر اعظم اور کانگریسی پارٹیوں کو ہار کے لئے ذمہ دار ٹھہرانا شروع کردیا ہے۔ مہاراشٹر کی کھڑک واسلا اسمبلی سیٹ پر ملی ہار سے بوکھلا گئے وزیر ذراعت شرد پوار نے براہ راست وزیر اعظم پر ہی حملہ بول دیا ہے۔پوار نے ایک مراٹھی روزنامے کی طرف سے ممبئی میں منعقدہ ایک تقریب میں کہا کہ پچھلے دنوں مختلف گھوٹالوں کے سلسلے میں سرکار نے مضبوط لیڈر شپ کا مظاہرہ نہیں کیا۔ پوار نے کہا کہ ٹوجی اسپیکٹرم گھوٹالے کے سلسلے میں جنتا یہ سوال پوچھ رہی تھی کہ پردھان منتری پورے معاملے میں مداخلت کیوں نہیں کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا ایسے وقت جبکہ لیڈرشپ کو مضبوطی کے ساتھ اس کی صفائی دینی چاہئے تھی مرکزی حکومت کی طرف سے کچھ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے آگے کہا مختلف گھوٹالوں کے سبب عوامی رائے مرکزی حکومت کے خلاف گئی ہے اور اس سے سرکار کی ساکھ کو دھکا لگا۔ سرکار کی سست روی کا نتیجہ یہ ہوا کہ عدلیہ نے انتہائی سرگرمی دکھاتے ہوئے مختلف قدم اٹھائے۔ انا ہزارے اور یوگ گورو بابا رام دیو کے بھرشٹاچار مخالف آندولن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں منتخب نمائندوں کو پوری طاقت سے اپنا کردار نبھانا چاہئے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو دیگر طاقتوں کو سامنے آنے کا موقعہ ملے گا جو جمہوری نظام کے لئے اچھی بات نہیں ہے۔ شرد پوار یہیں نہیں رکے، بدھوار کو نئی دہلی میں اقتصادیات کے مدیروں کی کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے پوار نے کہا کہ نہ تو میں مہنگائی کے لئے ذمہ دار ہوں اور نہ ہی اسے کم کرنا میرا کام ہے۔ میں وزیر زراعت یعنی ایک کسان ہوں اور میرا کام اناج پیدا کرنا ہے۔ میری وزارت کی یہ بھی کوشش رہتی ہے کسان کو اس کی محنت کا پورا صلہ ملے۔
ہم کو شرد پوار کی باتیں سن کر زیادہ حیرانی نہیں ہوئی۔ یہ پہلے بھی کانگریس لیڈرشپ پر سیدھے حملے کرچکے ہیں۔ اگر ایسے بیانوں کا اپوزیشن پارٹی فائدہ اٹھائے تو حیرت نہیں ہونی چاہئے۔ بھاجپا پوار کے بیان سے خوش ہیں۔
پارٹی کا کہنا ہے کہ یوپی اے ڈوبتا جہاز ہے اور اب اس سے بھاگنے کی سبھی پارٹیاں کوشش کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی کے وزیر اعظم کے ساتھ بنگلہ دیش جانے سے انکار کے بعد اب ایسا لگتا ہے کہ بڑی اتحادی پارٹی اور وزیر زراعت شرد پوار یوپی اے کو چھوڑنے کی تیاری میں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب ایک سینئر وزیر اپنے ہی وزیر اعظم اور سرکار کی پالیسیوں پر اس طرح کے سوال اٹھاتا ہے تو مجموعی ذمہ داری کہاں گئی؟ ذمہ داری کی بات کریں تو شری پوار تو صاف کہتے ہیں کہ مہنگائی کم کرنا میرا کام نہیں۔ اگر یہ کام شرد پوار کا نہیں تو کس کا ہے؟ اور اگر وہ اپنی سرکار کی پالیسیوں سے اتنے ناخوش ہیں اور متفق ہیں تو انہیں سرکار میں رہنے کا کوئی جواز سمجھ میں نہیں آتا۔ کیوں نہیں شرد پوار منموہن سنگھ سرکار سے استعفیٰ دے دیتے۔ ہمیں پردھان منتری پر بھی رحم آتا ہے جو وزیر اعظم اپنے سینئر وزرا پر لگام نہیں کس سکتا وہ پورے دیش کو کیسے چلا سکتا ہے؟ جیسے دیش چل رہا ہے وہ سب کے سامنے ہی ہے۔
Anil Narendra, Baba Ram Dev, BJP, Congress, Corruption, Daily Pratap, Inflation, Manmohan Singh, Price Rise, Sharad Pawar, UPA, Vir Arjun

07 اگست 2011

اناہزارے کچھ حد تک اپنے مقصد میں کامیاب رہے

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 7th August 2011
انل نریندر
جن لوکپال بل پر حکومت اور ٹیم انا میں جنگ کا اعلان ہوگیا ہے۔ یہ تو ہونا ہی تھا۔ کیونکہ دونوں فریقین میں کئی اہم نکتوں پر اختلافات تھے۔ ادھر جمعرات کو حکومت نے لوک سبھا میں لوکپال بل پیش کیا تو ادھر انا نے بیمار ہونے کے باوجود مہاراشٹر کے رالے سدھی گاؤں میں بل کی کاپیاں جلا کر اس کی مخالفت کا بگل بجادیا۔ اب ٹیم انا نے سادگی سے تحریک کی وارننگ دی ہے۔ بل جلانے کے بعد انا نے ایک بار پھر سرکار پر حملہ بول دیا ہے اور کہا کہ سبھی ملازمین افسران کو لوکپال کے دائرے میں لایا جانا چاہئے۔ انہوں نے سوالیہ لہجے میں کہا’’ہر ریاست میں لوک آیکت کی تقرری نہیں ہوئی تو بدعنوانی پر قابو کیسے پایا جاسکتا ہے؟ انہوں نے حکومت کی نیت پر سوال کھڑا کرتے ہوئے وارننگ دی تھی کہ سرکار کے لوکپال بل کی ہولی دیش کے گاؤں گاؤں میں جلے گی۔16 اگست تے انشن شروع کرنے پر انا نے کہا کہ اگر دیش سے بدعنوانی مٹانی ہے تو تحریک کا یہ ایک اچھا موقعہ ہے اور اسے ہاتھ سے نکلنے نہیں دینا چاہئے۔ انہوں نے کہا نوجوانوں سمیت سبھی ملک کے شہریوں کو اسے آزادی کی دوسری لڑائی سمجھ کر16 اگست سے شروع ہو رہے انشن میں شامل ہونے کی اپیل کرتا ہوں۔
بڑی اپوزیشن پارٹی نے حکومت کے ذریعے پیش کئے گئے لوکپال بل کی تلخ تلقین کی ہے۔ بھاجپا نیتا اور لوک سبھا میں اپوزیشن کی لیڈر سشما سوراج نے کہہ دیا کہ آخر وزیراعظم کو لوکپال کے دائرے سے باہر کیوں رکھا جارہا ہے؟ جبکہ وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ خود کہہ چکے ہیں کہ مجھے شخصی طور سے اس قانون کے دائرے میں لائے جانے سے کوئی پرہیز نہیں ہے۔ تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سشما سوراج نے سرکار سے پوچھا کہ آخر کار پھر وزیر اعظم کو وہ لوگ ’’پوترگائے‘‘ مان کر کیوں دائرے سے باہر رکھنے پر آمادہ ہیں؟ بھاجپا لیڈروں نے کہا کہ وہ لوگ اپنی مخالفت پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے سامنے درج کرا کر دباؤ ڈالیں گے کہ وزیراعظم کو لوکپال بل کے دائرے میں لایا جائے۔ مرکزی وزیر کپل سبل نے پلٹ وار کرتے ہوئے بھاجپا سے پوچھا کہ جب بھاجپا کے اٹل بہاری واجپئی وزیر اعظم تھے اس دور میں بھاجپا نے یہ قانون کیوں نہیں پاس کرادیا جبکہ این ڈی اے سرکار کے دور میں 2002ء میں لوکپال کا بل باقاعدہ لوک سبھا میں رکھا گیا تھا۔ اس وقت اس بل میں وزیر اعظم کو لوکپال کے دائرے میں رکھنے کی بات رکھی گئی تھی۔
قابل ذکر ہے کہ لوکپال بل پچھلے 42 سالوں سے لٹکا ہوا ہے۔ پارلیمنٹ میں اسے پہلے بھی 9 مرتبہ رکھا جاچکا ہے لیکن وقت اور میعاد ختم ہونے کے سبب یہ بے موت مارا جاتا رہا ہے۔ انا کی تحریک سے اتنی امیدیں تو ضرور بندھی ہیں کہ اس بار دیر سویر بل پارلیمنٹ میں پاس تو ہوہی جائے گا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ لوک سبھا میں پیش کیا گیا لوکپال بل انا اور عوامی توقعات کے مطابق نہیں ہے۔ لیکن پھر بھی یہ ایک شروعات تو ہے۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ اسے آگے بڑھایا جائے۔ چاہے یہ لچر اور توقعات سے پورا نہ ہو لیکن اس کو لوکپال سمت کا وجود لینا ضروری ہے ۔ بلا شبہ سرکار چاہتیتو کہیں زیادہ پائیدارور عام لوگوں کو مطمئن کرنے والا لوکپال بل لا سکتی تھی۔ لیکن اس نے ایسا نہیں کیا اس سے مایوسی ہونا فطری ہی ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جمہوریت میں کئی بار کچھ اداروں کی تعمیر میں تھوڑی تاخیر ہوتی ہے۔ مرکزی اقتدار انا ہزارے اور ان کے ساتھیوں کو دہلی میں احتجاج کرنے کی اجازت دینے کے لئے آنا کانی کررہی ہے۔ اور اسے پارلیمنٹ کی توہین بتا رہی ہے۔ کیا عام جنتا کے احتجاج کے آئینی حق کی خلاف ورزی کرنا آئین کی توہین کرنا نہیں ہے؟ سرکار اپنے بل کی بیشک جتنی بڑائی کرے لیکن اسے یہ بھی خیال رکھنا چاہئے کہ انا کے مطالبات کو عام جنتا سے حمایت حاصل ہے۔ انا فیل نہیں ہوئے بیشک وہ اپنے مقصد میں پوری طرح کامیاب نہیں ہوئے لیکن سرکار کو اتنا بھی مجبور کرنا ان کا ایک بڑا کارنامہ ہی ہے۔
Tags: Anil Narendra, BJP, Congress, Daily Pratap, Parliament, Price Rise, Vir Arjun

06 اگست 2011

ایک بار پھر بھاجپا ہوئی بے نقاب

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 6th August 2011
انل نریندر
مہنگائی اور بدعنوانی جیسے برننگ اشوز پر یہ سرکار اور یہ پارلیمنٹ کتنی سنجیدہ ہے یہ ہمیں پچھلے دو دن میں لوک سبھا کے اندر چھائے واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ حکمراں اور اپوزیشن کے بیچ یہ نورا کشتی بھارت کی جنتا کو بیوقوف بنانے کیلئے محض ایک ڈرامہ تھا۔ دراصل صاف ہے کہ کانگریس پارٹی اور بڑی اپوزیشن پارٹی بھارتیہ جنتا پارٹی میں ایک خفیہ سمجھوتہ ہوگیا تھا۔ اس سمجھوتے کے تحت بھاجپا سے سرکار نے یقین دہانی لی تھی کہ آپ تقریر کریں گے ۔ بس اس سے کچھ زیادہ نہیں۔ آخر میں ایک ریزولوشن پاس کردیا جائے گا جس میں مہنگائی پر گہری تشویش جتائی جائے گی اور یقین دہانی کرائی جائے گی کہ سرکار اس سے نمٹنے کیلئے سنجیدہ ہے اور ہوا بھی یہی، تقریروں کے بعد بڑھتی مہنگائی پر ممبران پارلیمنٹ کی تشویش سے اتفاق کرتے ہوئے حکومت نے کہا کہ وہ اسے قابو کرنے کی پوری کوشش کررہی ہے۔ ایوان میں بعد میں اس سلسلے میں پیش پرستاؤ کو بابلند آواز سے پاس کردیا گیا۔ اس پرستاؤ میں قیمتوں میں اضافے پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے حکومت سے افراط زر کو روکنے کے لئے فوری موثر قدم اٹھانے کی اپیل کی گئی تاکہ عام آدمی کو راحت مل سکے۔
ووٹ تقسیم سے پہلے سپا، بسپا اور آر جے ڈی کے ممبر وزیر مالیات کے جواب سے مطمئن نہ ہونے کا بہانہ بنا کر ایوان سے واک آؤٹ کرگئے۔ اس کے بعد ایوان نے کمیونسٹ پارٹی کے گورو داس داس گپتا کی جانب سے پرستاؤ میں پیش ایک ترمیم کو 51 کے مقابلے 320 ووٹوں سے نامنظور کردیا۔ جس پر لیفٹ پارٹیاں انا ڈی ایم کے اور بیجو جنتا دل کے ممبربھی ایوان سے واک آؤٹ کر گئے صرف لیفٹ پارٹی کے ہی ممبر تھے تو چاہتے تھے کہ ریزولوشن میں مہنگائی روکنے میں سرکار کی ناکامی کے لئے مذمت کی جائے لیکن بھاجپا کو ایسا کرنا ضروری نہیں لگا۔
پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس سے پہلے بڑی بڑی دھمکیاں دینے والی بھاجپا ایک بار پھر بے نقاب ہوگئی اور بھاجپا کے ذریعے اپنائے گئے رویئے عام جنتا اپنے آپ کو ٹھگا محسوس کررہی ہے۔ مہنگائی پر سرکار کو پانی پی پی کر کوسنے والی بھاجپا نے پارلیمنٹ میں سرکار کو مہنگائی کے معاملے میں گھیرنے کے لئے ووٹ کے تقاضے والے قاعدے184 کے تحت لوک سبھا میں بحث کی مانگ کی۔ حکومت نے تھوڑا ہاں نہ کے بعد اس مانگ کو مان لیا۔ اب باری اپوزیشن کی تھی، وہ پوری طاقت اور دلائل کے ساتھ حکومت کو پارلیمنٹ میں گھیرتی لیکن بڑی اپوزیشن پارٹی بھاجپا اپنی ذمہ داری کو پوری کرنے میں بحث کے پہلے دن ہی پوری طرح ناکام رہی۔ وہیں رہی سہی کسر اس نے دوسرے دن پوری کردی۔ پارلیمانی قواعد کے تحت اگر کوئی بحث قاعدہ184 کے تحت کرائی جاتی ہے تو بحث کے آخر میں کسی بھی ایک ایم پی کو یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ ووٹ کی تقسیم کی باقاعدہ مانگ کرے لیکن بھاجپا نے جہاں پہلے دن سے ہی نہ تو مہنگائی کے مسئلے پر سرکار کو گھیرنے میں دلچسپی دکھائی اور نہ ہی بحث کے آخر میں کراس ووٹنگ کی مانگ کی۔ آئین کے مطابق اگر قاعدہ184 کے تحت کسی بحث میں حکمراں فریق کو منہ کی کھانی پڑتی ہے تو اس پر اخلاقی دباؤ بنتا ہے اور اخلاقی بنیاد پر اس سرکار کو اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں بچتا۔ بھاجپا نے کراس ووٹنگ کی مانگ نہ کرکے ایک طرح سے اس سرکار کو بنے رہنے کا کام کیا ہے اور یہ سب اس خفیہ سمجھوتے کے تحت کیا گیا ہے جو کانگریس پارٹی کے حکمت عملی سازوں نے بھاجپا کے نیتاؤں سے کی تھی۔ اگر بھاجپا چاہتی تھی وہ اس موقعے پر لیفٹ پارٹیوں اور دیگر چھوٹی پارٹیوں سے مل کر ان کی حمایت کافائدہ اٹھاتے ہوئے اگر کراس ووٹنگ کی مانگ کرتی تو کافی امکان یہ بنتا کہ سرکار دباؤمیں کچھ ٹھوس قدم اٹھانے کو مجبور ہوتی جس کا سیدھا فائدہ عام جنتا کو ملتا۔
آخر کار اس کا فائدہ اپوزیشن پارٹیوں کو ہی ملتا ہے۔ ایسے میں جب بھاجپا بار بار لوگوں کے سامنے کانگریس کے متبادل کی شکل میں ابھرنا چاہتی ہے تو اس کے ذریعے پارلیمنٹ میں اپنایا گیا رویہ اس کی توقعات پر ایک طرح کا دھکا لگنا ثابت ہو سکتا ہے۔
Tags: Anil Narendra, BJP, Congress, Daily Pratap, Parliament, Price Rise, Vir Arjun

عوام کو بیوقوف بنانے کیلئے مہنگائی پر نورا کشتی

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 6th August 2011
انل نریندر
جمہوریت میں جب جنتا کی منتخب کردہ حکومت بے شرم ہوجائے جسے کسی ساکھ و عزت کی فکر ہو نہ روایت کی اور نہ ہی پراپرٹی آف گورنینز کی تو یہ ہی حال ہوتا ہے جو آج ہندوستان میں ہورہا ہے۔ اس حکومت کو نہ تو جنتا کی پرواہ ہے اور نہ اقتدار سے ہٹنے کی۔ اقتدار میں بنے رہنے کیلئے اسے صرف پارلیمنٹ کے ایوان لوک سبھا میں اپنا نمبروں کا کھیل صحیح رکھنا ہوتا ہے۔ اور پچھلے دو دنوں کی کارروائی نے یہ ثابت کردیا ہے کہ حکمراں پارٹی کے منیجر اس کام میں ماہر ہیں۔ اپوزیشن پارٹیوں کو کیسے پٹا کر رکھنا ہے ایک بار پھر انہوں نے ثابت کردیا ہے۔ رہی بیچاری بھارت کی مرتی، پستی جنتا ، تو وہ اب اگلے چناؤ تک بے سہارا ہے۔
مہنگائی جیسے برننگ اشو پر جو 95 فیصد جنتا کو براہ راست متاثر کرتا ہے اس سرکار اور پارلیمنٹ کا کیا رویہ ہے؟پارلیمنٹ میں مہنگائی کو لیکر ہوئی بحث کو دیکھتے ہوئے اس نتیجے پر آسانی سے پہنچا جاسکتا ہے کہ اس طرح کی مبینہ سنجیدہ بحث میں دیش کو کچھ بھی حاصل نہیں ہونے والا۔ اگر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں تقریر کرنے سے مہنگائی قابو میں آسکتی تو ایسا نہ جانے کب سے ہوجاتا۔ مہنگائی پر بحث تقریباً ہر اجلاس میں ہوئی لیکن نتیجہ صفر کا صفر رہا۔الٹا مہنگائی بڑھتی گئی۔ سرکار کے پاس ہر بار کوئی نہ کوئی دلیل ضرور آجاتی ہے جس سے وہ اپنی خامیوں کو چھپا سکے۔ کبھی کمزور مانسون کو سبب بتایا جاتا ہے تو کبھی بین الاقوامی مالی حالت کو ،تو کبھی بین الاقوامی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں کو۔ یہ سرکار تو جنتا کو بیوقوف بنانے کے لئے ہر بحث کے بعد نئی تعویل کا اعلان کردیتی ہے ۔ اب اس میں کوئی شبہ نہیں رہا کہ مرکزی حکومت ان اسباب کو جان بوجھ کر نظر انداز کرتی ہے جو حقیقت میں مہنگائی کے سبب ہیں۔ جب انہیں مانیں گے ہی نہیں تو اصلاحات کیسے ہوں گی؟ ہمارے ممبران پارلیمنٹ کا حال تو یہ ہے کہ وہ مہنگائی جیسے مسئلے پر وہ اتنا ہلکا پھلکا برتاؤ کرتے ہیں۔
پارلیمنٹ میں تعطل کو توڑنے کے لئے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہوئی سیاسی ڈیل کا اثر ایوان میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ مہنگائی پر سرکار کی تابڑ توڑ کھنچائی کرنا تو دور رہا اپوزیشن ممبران نے ایوان میں آنا بھی ضروری نہیں سمجھا۔ دو روز پہلے تک مہنگائی کو لیکر سرکار پر نشانہ لگانے میں مشغول ممبران پارلیمنٹ نے بحث کے دوران ندارد ہوکر اس مسئلے پر اپنی غیر سنجیدگی سے عام آدمی کو ایک بار پھر روبرو کرادیا ہے۔
مہنگائی پر نمبروں کا جال بن کر ایوان کے ریکارڈ میں اپنی تقریر درج کرا رہے مقررین کو چھوڑ کر باقی جو پارلیمنٹ میں موجود تھے ان میں سے بہت سے تو آپسی گپ شپ میں مشغول تھے۔ ایک سپا ایم پی شیلندر کمار نے تو ایوان میں اس نظارے پر تنقید بھی کردی۔ انہوں نے ایوان میں کم ممبران کی موجودگی پر مایوسی جتائی اور ساتھ ہی کہہ دیا کہ اہم مسئلوں پر بحث میں بریک دے کر سرکار نے مہنگائی پر اپنی کھوکھلی سنجیدگی کا اظہار ضرور کردیا ہے۔ ممبران کی بات تو چھوڑیئے اپوزیشن پارٹیوں کے بڑے نیتا تک پورے وقت ایوان میں موجود نہیں رہے۔ لمبے چوڑے مہنگائی کے بنیادی اسباب سے منہ ہی چرایا جارہا ہو تو پھر اس پر لگام کی امید کیسے کی جاسکتی ہے۔ لیفٹ پارٹیوں سے نہ تو اس یوپی اے سرکار سے اور نہ ہی اس بڑی اپوزیشن جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی سے۔ اب تو اس سرکار کو ہی لائسنس مل گیا ہے کہ وہ منمانی کرے۔
Tags: Anil Narendra, BJP, Congress, Daily Pratap, Parliament, Price Rise, Vir Arjun

02 جولائی 2011

اب تو غریب کی تھالی سے سبزی بھی غائب ہورہی ہے

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 2nd July 2011
انل نریندر
حکومت نے پیٹرول پمپ ڈیلروں کے کمیشن میں اضافے کو منظوری دے دی ہے جس سے پیٹرول 27 پیسے اور ڈیزل 15 پیسے مزید مہنگا ہوگیا ہے۔ اس سے مہنگائی اور بڑھ جائے گی۔ پہلے سے ہی مہنگائی کی مار جھیل رہی جنتا پر اب اور مار پڑنے والی ہے۔ لیکن یوپی اے حکومت کو اس سے کوئی چنتا نہیں۔ وزیر اعظم کہتے ہیں کہ عام جنتا کو یہ مار ابھی کچھ اور وقت جھیلنی پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگلے سال مارچ تک مہنگائی شرح چھ فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ان کے وزیر مالیات پرنب مکھرجی فرماتے ہیں کہ ڈیزل ، رسوئی گیس اور مٹی کے تیل کے داموں میں حال ہی میں کئے گئے اضافے کو واپس نہیں لیا جائے گا۔ امریکہ کے دورے پر پہنچے پرنب نے بدھوار کو کہا کہ داموں میں اضافے کا فیصلہ واپس لینے کا کوئی سوال ہی نہیں اٹھتا۔ بڑھتی مہنگائی کے سبب غریب آدمی کی تھالی سے سبزیاں بھی غائب ہونے لگی ہیں۔ ماہر اقتصادیات پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین مونٹیک سنگھ آہلوالیہ نے بڑھتی قیمتوں کو دلیل آمیز قراردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معیشت کا اصل اصول ہے کہ کھپت کم کرو تو مہنگائی کم ہوگی۔ چیزوں کی قیمتیں کم ہوں گی تو مالیاتی خسارہ کم ہوگا۔ اس لئے مہنگائی گھٹانے کیلئے ہی قیمتیں بڑھائی گئی ہیں۔
ڈیزل کی بڑھی قیمت کا اثر اب عام آدمی کی تھالی پر دکھائی دینا شروع ہوگیا ہے۔ بازار میں سبزیوں کے دام اونچائی چھونے لگے ہیں۔ تھوک بازار کی بہ نسبت خوردہ بازار میں یہ تیزی زیادہ نظر آرہی ہے۔ حالت یہ ہے کہ ڈیزل کی بڑھی قیمت کا حوالہ دیکر خوردہ کاروباری سبزیوں کی منمانی قیمتیں وصول رہے ہیں۔ ایک ماہ کے اندر تھوک بازار میں ٹماٹر کے دام 10 گنا بڑھے ہیں وہیں خوردہ تاجروں نے اس کی قیمت 20 گنا تک بڑھا دی ہے۔ مہنگائی کے چلتے اب سلاد سے ٹماٹر بھی غائب ہوگیا ہے۔تھالی سے ہری سبزیاں بھی آہستہ آہستہ ندارد ہو رہی ہیں۔ڈیزل کی قیمتوں میں ہوئے اضافے کی وجہ سے سبزیوں کی قیمتوں میں جو اچھال آیا ہے وہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ خوردہ کاروباری اس کا منمانا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ دہلی کی آزاد پور تھوک منڈی میں جو ٹماٹر 30 مئی کو 1.60 پیسے کلو بک رہا تھا وہ 28 جون تک 15 روپے تک بکا۔ اور خوردہ بازار میں اس کی قیمت 45 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ جو آلو30 مئی کو 8 روپے کلو تھا وہ22 جون کو 12.50 پیسے اور 28-29 جون کو ٹماٹر خوردہ میں 30-45 روپے فی کلو بک رہا ہے۔ آلو کے دام 15 سے20 روپے ، پیاز 20 سے30 روپے کلو۔ پھول گوبھی 30-40 روپے اور ٹماٹر کی آمد متاثر ہوئی ہے جس کا اثر ان کے داموں پر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ بھنڈی جو پہلے 7 روپے میں بکتی تھی وہ اب20 روپے میں بک رہی ہے۔ لوکی5 سے 15 روپے، توری 20 سے60 روپے کلو، کریلا 10 سے 35 روپے اور آلو 7 سے15 روپے فی کلو تک پہنچ گیا ہے۔ مہنگائی اس دیش کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اس سے بھارت کی 95 فیصد عوام براہ راست طور پر متاثر ہوتی ہے اور منموہن سرکار کے پاس اس کو گھٹانے کا نہ تو کوئی فارمولہ ہے اور نہ ہی قوت ارادی۔ وزیر اعظم اور ان کے وزیر مالیات و ان کے سپہ سالاروں کو زیاد ہ فکر گروتھ ریٹ کی ہے۔ بین الاقوامی ساکھ کی ہے۔ امریکہ ہماری اقتصادی پالیسیوں کے بارے میں کیا سوچتا ہے ، یہ وزیر اعظم کے لئے زیادہ ضروری ہے بہ نسبت بھارت کی عوام۔
Tags: Anil Narendra, Cooking Gas, Daily Pratap, Diesel, Montek Singh Ahluwalia, Petrol Price, Pranab Mukherjee, Price Rise, Vir Arjun

18 مئی 2011

راہل جی اب آپ پیٹرول پمپ پر جاکر دھرنا کیوں نہیں دیتے؟

Daily Pratap, Indias Oldest Urdu Daily
شائع 18مئی2011
انل نریندر
پیٹرول کی قیمت میں5 روپے فی لیٹر کے اضافے کے خلاف سڑکوں سے لیکر انٹر نیٹ اور فیس بک میں بھی زور شور سے احتجاج جاری ہے۔ لوگوں نے جم کر فیس بک میں سرکار کو طعنے مارے ہیں۔ ایک زور دار تبصرہ تو یہ ہے کہ پیٹرول کی قیمت بڑھنے پر کانگریس جنرل سکریٹری راہل گاندھی کو اسی طرح دھرنے پر بیٹھ جانا چاہئے جیسے وہ گریٹر نوئیڈا کے گاؤں میں جا بیٹھے تھے۔ فیس بک پر دلچسپ تبصرہ کرنے والے مشہور سماجی کارکن امن چھنا نے لکھا ہے کہ راہل جی کو فوراً بائیکل لیکر قریب کے پیٹرول پمپ کا دورہ کرنا چاہئے، وہاں دھرنا دینا چاہئے اور گرفتاری دینی چاہئے۔ لیکن کانگریس کے پاس شاید اس کا بھی جواب حاضر ہے۔ کانگریس کا ہاتھ غریب کے ساتھ ہے اور بیچارہ غریب تو پیٹرول خریدتا ہی نہیں۔ سڑکوں کے ساتھ ساتھ فیس بک پر پیٹرول کی قیمتوں میں ا ضافے کے خلاف تحریک چھڑی ہوئی ہے۔
رہی بات غریب کی تو غریب تو پہلے ہی سے بری طرح پس رہا ہے۔ پیٹرول کے دام بڑھنے کے بعد بھی وزیر مالیات پرنب مکھرجی نے اتوار کو کہا کہ اگلے ہفتے ڈیزل اور رسوئی گیس کے دام بڑھانے کا فیصلہ ہوسکتا ہے۔ ان کے دام بڑھے تو اس کا سیدھا اثر روز مرہ کی استعمال ہونے والی چیزوں پر پڑنے والا ہے۔
جنتا کے کئی اہم خرچے پہلے ہی بڑھ چکے ہیں۔ مہنگائی اور بڑھتی قیمتوں نے آپ کی جیب کو آہستہ آہستہ ڈھیلا کرنا شروع کردیا ہے اور گھر کے بجٹ کو بری طرح سے بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ سنیچر سے پیٹرول کی قیمت63 روپے37 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔ اگر آپ اپنی گاڑی سے روز آنے جانے میں دو لیٹر پیٹرول خرچ کرتے ہیں تو پچھلے 12 مہینے میں آپ کا خرچ قریب 1 ہزار روپے ماہانہ بڑھ جائے گا اور مستقبل قریب میں پیٹرول کے دام گھٹنے کے بجائے اور بھی بڑھ سکتے ہیں۔ اب بات کرتے ہیں دودھ کی۔ ممکن ہے آپ کے گھر میں کل راشن جتنے روپے کا آتا ہے اکیلے دودھ کا خرچ اس سے زیادہ پیچھے نہیں رہے گا۔ ایک سال پہلے فل کریم دودھ 28 روپے فی لیٹر ہوا کرتا تھا اب یہ 36 روپے تک پہنچ چکا ہے۔ اگر آپ کے گھر روزانہ دو لیٹر دودھ آتا ہے تو پچھلے ایک سال میں دودھ کا خرچ500 روپے ماہانہ بڑھ گیا ہے۔
گرمی کے سیزن میں یہ دام اور بھی بڑھ سکتے ہیں۔ اب ذرا اسکول کی فیس پر نظر ڈالیں، ہم بات صرف ٹیوشن فیس کی کررہے ہیں جس میں اضافہ صاف نظر آتا ہے۔ دہلی میں اوسط درجے کے اسکول کی ٹیوشن فیس10 فیصد تک بڑھی ہے اور این سی آر میں یہ اضافہ40 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ اسکول فیس اور باقی خرچوں میں بے حساب اضافہ ہوا ہے۔ ٹرانسپورٹ اور ڈولپمنٹ چارج اور دیگر کھیل سرگرمیوں و دیگر مدوں میں خرچے کافی بڑھ گئے ہیں اور کہنے کو ای ایم آئی پچھلے ایک سال میں قرض کی شرح پر2.5 فیصد بڑھی ہے۔
آج کی تاریخ میں آپ کی جیب کا دشمن نمبر یہ ای ایم آئی بن گئی ہے۔اور عام طور پر اگر آپ نے دس لاکھ روپے 20 سال کے لئے قرض لے رکھا ہے تو اس کی قسط میں ماہانہ 1700 روپے جڑ جاتے ہیں۔ اور کار لون و پرسنل لون کی قسط کی بات رہی الگ۔ دوائیں سرکارکے کنٹرول بالی بازار میں نہیں ملتیں جبکہ وہ سستی ہیں مگر دکاندا روں کو 10فیصدبڑھانے کی اجازت ہے لیکن کمپنیاں اپنی منمانی کرتی ہیں اور دواؤں کی قیمتیں مقرر کرنے سے پہلے ہی ان کے دام بڑھا کر چھاپ دئے جاتے ہیں جن میں زیادہ توازن نہیں ہے جن کی قیمت 5 سے18 فیصد بڑھی ہے پھر یہ بھی پتہ نہیں کہ آپ جو دوا لے رہے ہیں وہ اصلی ہے یا نقلی ؟

اور اب ایران بنام یوکرین

مغربی ایشیا کی دو بڑی لڑائیاں اب ایک دوسرے سے وابستہ دکھائی دے رہی ہیں ۔ایک طرف پچھلے کئی ماہ سے امریکہ ایران کے درمیان کشیدگی اور فوجی کارو...