Translater

Minority لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Minority لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

01 جون 2012

ریزرویشن کے نام پر اقلیتوں کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش


مرکزی سرکار کو یہ معلوم تھا کہ اترپردیش اسمبلی چناؤ سے ٹھیک پہلے اس نے جو کانگریس پارٹی کو اقلیتی ووٹ دلانے کی امید سے اقلیتوں کے لئے جو ساڑھے چار فیصد ریزرویشن دیا ہے اسے عدالت منسوخ کرسکتی ہے ۔ لیکن پھر بھی مرکز نے ایسا کیا جیسا کے امید تھی اور ویسا ہی ہوا۔ آندھرا پردیش ہائی کورٹ نے مرکزی سرکار کو زبردست جھٹکا دیتے ہوئے مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن دینے سے انکار کردیا۔ قابل ذکر ہے کہ اترپردیش اسمبلی چناؤ کے دوران مرکز نے او بی سی کے 27 فیصد کوٹے سے ساڑھے چار فیصدی ریزرویشن دینے کا اعلان کیا تھا۔ یہ ریزرویشن سبھی اقلیتی طبقوں کے لئے تھا۔ حالانکہ مانا جارہا تھا کہ اس اعلان کے پیچھے مسلم ووٹ بینک کو لبھانا تھا۔ عین وقت پر کئے گئے اعلان پر چناؤ کمیشن نے اسمبلی چناؤ تک عمل کرنے پر روک لگا دی تھی۔ سرکار نے نتیجہ اعلان ہونے کے ساتھ ہی اس کو نافذ کردیا۔ مرکزی حکومت نے ایک شگوفہ چھوڑا تھا جو اب عدالت نے منسوخ کردیا ہے۔ سبھی جانتے ہیں بھارت کے آئین میں مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ مرکزی سرکار کا یوپی اسمبلی سے ٹھیک پہلے اٹھایا گیا یہ قدم مفادی سیاست پر مبنی تھا اور اقلیتوں کو خاص طور سے یوپی کے مسلمانوں کو بے وقوف بنانے کی ایک کوشش تھی۔ ہائی کورٹ نے صاف کہا ہے کہ مرکزی سرکار کا یہ فیصلہ محض مذہبی بنیاد پر لیا گیا ہے۔ اتنا ہی نہیں ہائی کورٹ نے اس اشو پر لاپروائی سے کام کرنے کیلئے مرکزی سرکار کو آڑے ہاتھوں لیا۔ مرکز کی جانب سے یہ دلیل دی گئی کہ یہ فیصلہ سچر کمیٹی کی سفارشوں کی بنیاد پر لیا گیا اور ایسا کرکے اس نے 2009ء کے چناؤ منشور میں درج اپنے وعدے کو پورا کیا ہے۔ باوجود اس سب کے یہ نہیں بتا سکی کہ جو وعدہ 2009 ء میں کیا گیا تھا اسے پورا کرنے میں 2012 ء تک اتنا عرصہ کیوں لگا۔ جب پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ کے پروگرام کا اعلان ہونے والا تھا تب یہ کیوں اعلان کیا گیا؟ شاید یہ ہی وجہ رہی ہو کہ چناؤ کمیشن نے چناؤ ہونے تک اس فیصلے پر عمل کیلئے روک لگادی۔ چناؤ کمیشن کے ذریعے اس پر روک لگانے سے ثابت ہوگیا ہے کہ یہ چناوی فائدے کے لئے لیا گیا ایک سیاسی فیصلہ تھا۔اب سرکار اور کانگریس دونوں اقلیتی ریزرویشن پر ہائی کورٹ کی اس چابک کی مار سے نکلنے کا راستہ تلاشنے میں لگ گئے ہیں۔ سلمان خورشید نے کہا ہے کہ سرکار آندھرا ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گی۔ دلیل یہ دی جائے گی کہ یہ فیصلہ مذہبی نہیں زبان کی بنیاد پر لیا گیا تھا۔ سرکار اپنی پارٹی کانگریس کو دلاسہ دے رہی ہے کہ سپریم کورٹ میں صحیح سے اپنا موقف رکھنے سے اقلیتی ریزرویشن کا معاملہ سلجھ جائے گا۔ سرکار اپنی ہار کو وکیلوں کے ذریعے ٹھیک طرح سے پیش نہ کرپانے کی وجہ مان رہی ہے۔ سپریم کورٹ میں پچھڑوں کے لئے کوٹے کے اندر مسلمانوں کے لئے ایک یقینی کوٹے ہی بات رکھنے کی مضبوط دلیل دینی ہوگی۔ ہائی کورٹ چاہے گی کہ سرکار بتائے کہ اقلیتوں کو جو پسماندہ ہیں حقیقت میں کتنے پچھڑے ہوئے ہیں؟ وزیر قانون سلمان خورشید سے جب یہ ہی سوال پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ اٹارنی جنرل کے لئے عدالت کو سمجھانے کی مشکل نہیں ہوگی کیونکہ سرکار اقلیتی پسماندوں کے لئے الگ سے فہرست نہیں بنانے جارہی ہے۔ انہوں نے کہا پسماندوں کے لئے ریزرویشن طے کرنے والے منڈل کمیشن نے جو خاکہ دیا سرکار اس کے دائرے کے اندر ہی کورٹ میں بات رکھے گی۔ وزیر قانون نے تسلیم کیاکہ سرکار آئین سے باہر نہیں جارہی ہے۔ سپریم کورٹ اس مسئلے پر کیا رخ اختیار کرتی ہے وقت ہی بتائے گا۔ اس سے انکار نہیں کہ اقلیتوں اور خاص طور پر مسلم سماج کی سماجی، اقتصادی سلامتی کے لئے مزید قدم اٹھائے جانے کی ضرورت ہے لیکن اس کا یہ بھی مطلب نہیں کہ ایسا صرف چناوی فائدے یا ووٹ حاصل کرنے کے لئے کیا جائے۔ مسلم سماج اب سیاسی چال بازیوں میں پھنسنے والا نہیں۔ اس نے دیکھ لیا ہے کہ پچھلی چھ دہائیوں سے ان سیاسی پارٹیوں نے انہیں کیسے گمراہ کر محض ووٹ بینک کی خاطر استعمال کیا ہے۔
(انل نریندر)

11 مئی 2012

حج سبسڈی ختم کی جائے ،سپریم کورٹ



Published On 11 May 2012
انل نریندر
سپریم کورٹ نے ایک دوررس فیصلے میں پچھلے 18 سال سے حج سفر کے لئے دی جارہی سبسڈی اگلے10 سال میں پوری طرح سے ختم کرنے کا حکم دیا ہے۔ جسٹس آفتاب عالم اور رنجنا پرکاش ڈیسائی پر مشتمل بنچ نے قرآن کا حوالہ دے کر کہا ہے کہ سبسڈی ختم کرنا جائز ہے۔ عدالت نے کہا مذہبی مقامات پر جانے والے لوگوں کو اس طرح کی سبسڈی دینا اقلیتوں کو لبھانے کی مانند ہے۔ حج سفر کے ساتھ بھیجے جانے والے خیرسگالی نمائندہ وفد کو بھی عدالت نے سفر دو ممبروں تک محدود کرنے کو کہا ہے۔ سرکار کے ذریعے حج مسافروں کو طیارے کے کرائے میں دی جانے والی رعایت کو حج سبسڈی کہتے ہیں۔1954ء سے یہ سلسلہ چلا آرہا ہے۔ ایسی سہولت دینے والا بھارت دنیا میں واحد ملک ہے۔ اس سبسڈی کے تحت سرکار ہر سال 600 کروڑ روپے عازمین حج پر خرچ کرتی ہے۔ حکومت نے پہلے حج مسافروں کے لئے 12 ہزار روپے کا جہاز کا کرایہ مقرر کیا تھا۔ اسے2009 میں بڑھا کر16 ہزار کردیا گیا۔ باقی لاگت سرکار کے ذریعے خرچ کی جاتی ہے۔ اس سے قریب ہر مسافر کو40 ہزار روپے کی رعایت ملتی ہے۔ 1.70 لاکھ عازمین حج ہر سال حج کے لئے جاتے ہیں۔ ان میں سے 1.25 لاکھ حج کمیٹیوں کے ذریعے چنے جاتے ہیں باقی پرائیویٹ آپریٹروں کے ذریعے سے جاتے ہیں۔ حج کمیٹی کے ذریعے چنے گئے عازمین حج کو ہی سبسڈی دی جاتی ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا کہ سبسڈی کی رقم کا زیادہ بہتر استعمال مسلم فرقے کی تعلیمی اور سماجی بھلائی کے لئے ہوسکتا ہے۔ ایم آئی ایم کے چیف اسعد الدین اویسی نے فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا یہ سبسڈی 10 سال تک نہیں بلکہ فوری ہی ختم کردی جانی چاہئے۔ حج سبسڈی کی شکل میں حج مسافروں کو نہیں بلکہ ایئرانڈیا کو600 کروڑ روپے کی مدد دی جاتی ہے۔ فتحپوری مسجد کے شاہی امام مکرم احمد کا کہنا ہے کہ ہم اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ اگر دیگر مذاہب کے لوگوں کے مذہبی دوروں میں سبسڈی نہیں ملتی تو ہمیں بھی نہیں ملنی چاہئے۔ بھارت میں سبھی شہری برابر ہیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلے سے اب سرکار بھی متفق لگتی ہے اور اس کی مانیں تو وہ اس سمت میں غور کررہی تھی لیکن سوال یہ ہے کہ سرکار نے پھر اس سمت میں قدم کیوں نہیں اٹھائے اور وہ تب تک جب تک مسلم سماج کے دیگر لیڈر اور عالم دین بھی اس نظریئے کے حمایتی تھے کہ حج سبسڈی صحیح نہیں ہے؟ کچھ علماؤں تو اسے غیر اسلامی مانتے ہیں۔ اب بیشک مرکزی سرکار جو بھی دعوی کرے لیکن تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ فیصلہ سرکار کو کرنا چاہئے تھا نہ کہ سپریم کورٹ کو لیکن مجبوراً عدالت کو یہ فیصلہ دینا پڑا۔ جب اسے لگا کہ اس سبسڈی کے ذریعے سے سیاسی مفادات کی تکمیل ہورہی ہے۔ یہ سوال اس لئے کیونکہ عدالت نے یہ کہنے میں قباحت نہیں کی کہ اس طرح کی پالیسی اقلیتوں کو لبھانے والی ہے؟ ایک سیکولر نظام میں حکومت کو اپنے برتاؤ سے ایسا احساس نہیں دلانا چاہئے کہ وہ کسی خاص طبقے کے تئیں زیادہ ہی فراخدلی کا ثبوت دے رہی ہے۔ اگر سرکار کو مذہبی اسکیموں میں سبسڈی دینی ہے تو سبھی طبقوں کے لوگوں کو دے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Haj, Minority, Vir Arjun

24 دسمبر 2011

اور اب مسلم ریزرویشن کاپتاّ


Published On 24th December 2011
انل نریندر
مرکزی کیبنٹ نے جمعرات کو اقلیتوں کے لئے ساڑھے چار فیصد ریزرویشن دیکر مسلمانوں میں کارڈ کھیل دیا ہے۔ اب پسماندہ طبقوں کے لئے مقرر 27 فیصدی ریزرویشن میں سے یہ ساڑھے چار فیصدی حصہ اقلیتوں کے لئے ہوگا۔ اسے آنے والے اسمبلی چناؤ میں کانگریس کا مینڈیٹ بڑھنے کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔بدعنوانی، لوکپال ، بلیک منی جیسے برننگ اشوز سے گھری یوپی اے حکومت نے اپوزیشن میں تقسیم اور دیش کی توجہ پیچیدہ مسائل سے ہٹانے کیلئے یہ قدم اٹھایالگتا ہے۔ جمعرات کو غذا کا حق دینے والے بل کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے والی منموہن سنگھ حکومت نے شام کو ہی تعلیمی اداروں اور سرکاری نوکریوں میں اقلیتوں کو ریزرویشن کاتحفہ دے کر ایک تیر سے کئی نشانے لگانے کی کوشش کی ہے۔ کچھ برس پہلے رنگناتھ مشر کمیشن نے مسلمانوں کی حالت کو بہتر کرنے کیلئے ریزرویشن کی سفارش کی تھی لیکن آئین مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن دینے کی اجازت نہیں دیتا۔ اس لئے پسماندہ طبقوں کی فہرست میں اقلیتوں کو ریزرویشن دے کر مسلمانوں کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کتنی کارگر ہوگی یہ تو مستقبل ہی بتائے گا۔ سیاسی مجبوریوں کے چلتے حکومت نے مسلم ریزرویشن بیشک کردیا ہے یا کرنے کی نیت صاف کردی ہے لیکن سپریم کورٹ میں یہ معاملہ ٹھہرپاتا ہے یا نہیں؟ سپریم کورٹ دس سال پہلے اترپردیش کی اس وقت کی بھاجپا سرکار کی ایسی پہل پر روک لگا چکی ہے۔
اترپردیش کے وزیر اعلی رہنے کے دوران راجناتھ سنگھ نے پچھڑے طبقوں کو27 فیصدی کوٹے سے ہی انتہائی پسماندہ طبقوں کو الگ سے ریزرویشن کے لئے سماجی انصاف کمیٹی بنائی تھی۔ کمیٹی کی ہی سفارش پر اترپردیش حکومت نے اسمبلی سے پاس یوپی لوک سیوا (درجہ فہرست ذاتوں و شیڈول قبائل ریزرویشن) ترمیم ایکٹ 2001 ء لاگو تو کردیا لیکن اسی حکومت کے وزیر سیاحت رہے اشوک یادو نے اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا جبکہ کچھ دیگر تنظیمیں بھی سرکار کے خلاف سپریم کورٹ گئی تھیں۔ اس معاملے میں سپریم کورٹ نے راجناتھ سنگھ سرکار کے اس فیصلے پر روک لگا دی تھی۔ اس درمیان پسماندہ طبقوں کے ہی کوٹے سے مسلمانوں کو ریزرویشن کی پہل پر یادو نے کہا کیونکہ کوٹے کے اندر ایک اور کوٹے پر سپریم کورٹ 10 سال پہلے روک لگا چکا ہے۔ ایسے میں مرکزی حکومت مسلم ریزرویشن کو لیکر اگر واقعی سنجیدہ ہے تو آئین میں ترمیم لائے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ الگ الگ پارٹیوں کی رہنمائی کرنے والے پسماندہ طبقوں کے کئی نیتا جن میں مسلمان بھی شامل ہیں۔ پسماندہ طبقے کے کوٹے سے مسلم ریزرویشن کے خلاف ہیں۔ لیکن مسلم کوٹے کے چلتے وہ کھل کر اس کی مخالفت نہیں کرنا چاہتے۔ سیاسی پارٹیاں صرف ایسا اس لئے کررہی ہیں کیونکہ وہ آنے والے چناؤ میں مسلم فرقے کے تھوک میں ووٹ حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ مسلم ریزرویشن کی وکالت کرنے والی پارٹیوں کے پاس اس سوال کا شاید ہی کوئی جواب ہو کے انہیں ابھی تک اس فرقے کی پسماندگی کیوں نہیں نظر آئی؟ کیا ریزرویشن سے مسلم فرقے کے مسائل ختم ہوجائیں گے؟ ہمارے مسلمان بھائیوں کی ایک بڑی پریشانی یہ ہے کہ اتنے برسوں بعد بھی انہیں صحیح لیڈر شپ نہیں مل سکی۔ جو نیتا خود کو ان کا ہتیشی بتاتے ہیں ان کی دلچسپی صرف ان کے ووٹ لینے میں ہے یہ ایک سچائی ہے۔ مسلم فرقہ پسماندگی سے دوچار ہے لیکن اس بنیاد پراسے قومی دھارا سے باہر قراردینا اور اسے جان بوجھ کر ایک دائرے میں محدود کرنا ہے۔
تعلیم کا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ پچھلے دنوں ایک کانفرنس ہوئی تھی اس میں بتایا گیا کہ دہلی کے اسکولوں میں سینکڑوں ٹیچروں کی اسامیاں خالی ہیں۔ انہیں بھرنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ سچر کمیٹی کی سفارشیں بھی مسلم فرقے کا معیار بڑھا سکتی ہیں۔ لیکن افسوس سے کہا جائے گا کہ اس پر کوئی عمل نہیں ہوا۔ جب تک مسلم سماج میں تعلیم نہیں بڑھائی جاتی تو اس کی فلاح مشکل ہوتی لگ رہی ہے۔ ضرورت تو آج اس کی ہے کہ ایسا کوئی سسٹم بنائیں جس میں ہندوستانی سماج کے جو محروم غریب ہیں ان سبھی کی بھلائی ہو۔کسی بھی ذات یا فرقے یا سیکٹر یا کسی بھی مذہب کے ہوں؟
Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, Minority, Muslim Reservation, Rangnath Misra, Uttar Pradesh, Vir Arjun

پوتن سے جنگ ختم کرنے کی اپیل

جنگ انسانی تہذیب کی سب سے بڑی ٹریجڈیوں میں سے ایک ہے اور آج ایک نہیں کئی جنگیں چل رہی ہیں ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ جنگ سے مسائل کا حل تو دور ا...