Translater
22 جون 2024
تھینک یو پردھان منتری جی !
مہاوکاس اگھاڑی کے نیتاو¿ں کی سنیچر کو ممبئی میں میٹنگ ہوئی اس میں لوک سبھا چناو¿ میں ملی کامیابی اور آنے والے مہاراشٹر اسمبلی چناو¿ کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا ۔اس دوران پارٹی نیتاو¿ں نے بی جے پی اور وزیراعظم نریندر مودی پر جم کر تنقید کی اور کہا کہ ہم ایم وی اے کے واسطے سیاسی ماحول کو بہتر بنانے کے لئے وزیراعظم نریندر مودی کاشکریہ اداکرتے ہیں ۔حال ہی میں ہوئے لوک سبھا چناو¿ میں کانگریس نے 13 سیٹیں جیتی تھی جو 2019 میں ریاست میں جیتی گئیں محض 1 سیٹ سے کافی بڑی چھلانگ ہے ۔جبکہ شیو سینا ،ادھوٹھاکرے کو 9 ، این سی پی شردپوار کو 8 سیٹیں ملیں ۔یو وی ٹی چیف ادھو ٹھاکرے نے سنیچر کہا کہ یہ صرف شروعات ہے ۔اپوزیشن اتحاد نے آنے والے اسمبلی چناو¿ کو بھی جیتنے کا تحیہ کر لیا ہے ۔این وی اے میں شیو سینا ادھو ٹھاکرے اور کانگریس اور این سی پی شامل ہیں ۔تینوں پارٹیوں نے اس سال کے آخر میں ہونے والے اسمبلی چناو¿ کیلئے حکمت عملی بنانے کے لئے یہ میٹنگ کی تھی ۔ادھو نے ممبئی میں ایم وی اے کی اتحادی پارٹیوں کے نیتاو¿ں شردپوار اور کانگریس اور پرتھوی راج چوہان کیساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کی ۔ادھو ٹھاکرے نے ان قیاس آرائیوں کو سرے سے مسترد کر دیا کہ وہ بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے میں واپس جا سکتے ہیں ۔ادھو نے پوچھا کہ مان لیجئے کہ میں پالا بدلنے کا پلان بنا رہا ہوں تو کیا میں ان لوگوں شردپوار چوہان کیساتھ بیٹھ کر اس کا اعلان کروں گا؟ ٹھاکرے اور شردپوار نے اپنی اپنی پارٹی کے باغی نیتاو¿ں کو واپس لینے کے امکان سے انکار کیا ہے ۔جون 2022 میں ایکناتھ شندھے کی بغاوت کے بعد شیو سینا تقسیم ہو گئی تھی جو مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ بنے جبکہ پچھلے سال جولائی میں اجیت پوار کے 8 ممبر اسمبلی کیساتھ ریاستی حکومت میں شامل ہونے کے بعد این سی پی 2 گروپوں میں بٹ گئی ۔لو ک سبھا چناو¿ میں ایم وی اے کی اچھی پرفارمنس کے بعد ایسی قیاس آرائیاں ہیں کہ حریف گروپ کے کچھ لیڈر واپس لوٹنا چاہتے ہیں ۔ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ ریاست کے لوگوں نے دکھا دیا کہ بھاجپا کے جیتنے کا ایک دعویٰ کتنا کھوکھلا ہے ۔انہوں نے کہا یہاں مہاوکاس اگھاڑی کے لئے لوک سبھا چناو¿ کی جیت آخری نہیں ہے بلکہ یہ شروعات ہے ۔مرکزی سرکار اب این ڈی اے سرکار ہے ۔اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ یہ کتنے دن تک چلتی ہے ۔انہوں نے کہا بھاجپا نے این ڈی اے کو غیر فطری اتحاد بتا کر مزاق اڑایا تھا ۔انہوں نے پوچھا کہ مرکز میں اتحادی کو اب کیا کہیں گے ۔انہوں نے کہا دیش بھگت لوگوں نے اپوزیشن اتحاد کو ووٹ دیا ہے اس میں مسلمان ،مراٹھی زبان بولنے دونوں شامل تھے ۔اترپردیش میں بھاجپا کی ہار پر ٹھاکرے نے کہا کہ لوک سبھاچناو¿ نتائج نے بھگوان رام کو بھاجپا مکت بنا دیا ۔ٹھاکرے سے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی پچھلی تقریروں کا بھی ذکر کیا جس میں انہوں نے ٹی ڈی پی چیف چندر بابو نائیڈو اور جے ڈی یو لیڈر نیتش کمار کیساتھ اتحاد کے کسی امکان سے انکار کیا تھا ۔دونوں ہی اب نریندر مودی سرکار کی حمایت کررہے ہیں ۔انہوں نے کہا ایک طرف ہماری سیٹیں بڑھی ہیں وہیں بھاجپا جس کی پچھلے چناو¿ میں تعداد 23 تھی وہ گھٹ کر 2024 میں 9 رہ گئی ہے۔
(انل نریندر)
پہلی بار چناوی سیاست میں قدم رکھیں گی !
کانگریس سیکریٹری جنرل پرینکا گاندھی واڈرا کیرل کی وائناڈ لوک سبھا سیٹ سے چناو¿ لڑیں گی یہ پہلی بار ہے جب پرینکا گاندھی سیدھے طور پر چناوی دنگل میں اترنے جارہی ہیں ۔گاندھی نہرو پریوار کی چوتھی پیڑی کی ممبر پرینکا اب تک کانگریس کے لئے سرگرم طور سے چناو¿ کمپین چلاتی رہی ہیں حالانکہ 2019 میں ان کے سرگرم سیاست میں داخل ہونے کے بعد سے ہی بنارس میں وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف ان کے چناوی میدان میں اترنے کی چہ مہ گوئیاں شروع ہو گئی تھیں لوک سبھاچناو¿ میں راہل گاندھی وائناڈ اور رائے بریلی دونوں سیٹ سے کامیاب ہوئے تھے اس کے بعد انہوں نے وائناڈسیٹ چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور وہاں سے اب پرینکا کو چناوی میدان میں اتارنے کا فیصلہ لیا ہے ۔حالانکہ اس بار 52 سالہ پرینکا کو امیٹھی سیٹ سے اتارنے کی زور شور سے بحث چلی تھی جو گاندھی پریوار کی اپنی روایتی سیٹ ہے لیکن آخری وقت میں گاندھی پریوار کے بھروسہ مند کشوری لال شرما کو امیٹھی سے کانگریس کا امیدوار بنایا گیا ۔انہوں نے مرکزی وزیر شریمتی اسمرتی ایرانی کا زبردست شکست دی ۔وائناڈ سے امیدوار بنائے جانے کے بعد پرینکا نے کہا کہ میں بالکل نروس نہیں ہوں میں وائناڈ کی نمائندگی کرنے میں پوری طرح اہل ہوں اور بہت خوش ہوں میں بس اتنا کہوں گی کہ وائناڈ کے لوگوں کو راہل گاندھی کی کمی محسوس نہیں ہونے دوں گی ۔پرینکا کو چناوی میدان میںاتارنے کے پیچھے کانگریس کی سوچی سمجھی حکومت عملی ہے ۔مانا جارہا ہے پارٹی کے سینئر لیڈروں نے کہا ہے کہ جب راہل گاندھی رائے بریلی سے کاغذات داخل کئے تھے تبھی طے ہو گیا تھا اگر راہل گاندھی دونوں سیٹوں پر کامیاب ہوتے ہیں تو پرینکا وائناڈ سے لڑیں گی ۔اس کے پیچھے دو اہم وجہ ہیں ۔راہل گاندھی اگر رائے بریلی سیٹ چھوڑتے ہیں تو ابھی اس ریاست سے بہتر پیغام نہیں جاتا جہاں سے پارٹی نے ابھی اچھی پرفارمنس دی ہے ۔ساتھ ہی پارٹی اس ریاست کو نہیں چھوڑنا چاہتی جہاں 2019 اور 2024 میں دونوں جگہوں پر پارٹی کے لوگوں کی حمایت ملی ۔پارٹی کو لگتا ہے کہ وہاں اگلے دو سال میں ہونے والے اسمبلی چناو¿ میں بہتر کارکردگی دکھا سکتی ہے ۔ساتھ ہی جنوب میں حال ہی میں کانگریس کا مضبوط گڑھ ثابت ہوا ہے یہی وجہ ہے کہ راہل گاندھی کے سیٹ چھوڑنے کے بعد پارٹی کے پاس گاندھی خاندان سے ہی کوئی امیدوار دینا سیاسی مجبوری تھی ۔پچھلے کچھ برسوں سے کانگریس میں جنرل سیکریٹری کی شکل میں کام کررہیں پرینکا گاندھی پارٹی کی اسٹار پرچارک بنی ہیں ۔ان کی ریلیوں کی مانگ ریاستون میں تیزی سے بڑھنے لگی ہے ۔تلنگانہ ،ہماچل پردیش اور کرناٹک میں ان کی جارحانہ کمپین کا فائدہ کانگریس کو ملا ہے ۔تبھی پارٹی نے مانا کہ نہ صرف پرینکا گاندھی عام لوگوںسے جڑ رہی ہیں بلکہ ان کی کمپین کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ وہ خاطر ووٹوں سے بہتر طریقے سے بات چیت کر لیتی ہے وہ فطری طریقے سے ان کے من کا حال جانتی ہیں۔پرینکا گاندھی پارٹی کے اندر کرائسس منجمنٹ کو سنبھالنے والی بھی بنیں اور کئی موقعوں پر انہوں نے مداخلت کر کئی معاملوں کو ٹھیک کیا ہے ۔حالانکہ 2022 میں پرینکا کو اترپردیش میں پارٹی کی ذمہ داری ملی تھی لیکن تب پارٹی کچھ خاص نہیں کر پائی تھی ۔پارٹی نے کہا اس وقت کی زمینی تیاری کا فائدہ اب مل رہا ہے ۔راہل اب خاص کر ہندو بیلٹ میں پارٹی کو مضبوط کریں گے تو وہیں پرینکا ساو¿تھ اندیا میں پارٹی کا مینڈیٹ بڑھانے کی کوشش کریں گی ۔ویسے پرینکاکو اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ بی جے پی انہیں ہرانے کے لئے پوری طاقت جھونک دے گی ۔
(انل نریندر)
20 جون 2024
مودی کی جیت کا فرق انتا کم کیوں ہوا ؟
بنارس میں نریندر مودی کی جیت کا فرق محض 1 لاکھ 52 ہزار تک سمٹ جانے کا تذکرہ نہیں ہو رہا ہے مودی کی جیت کا اتنا فرق کم تب رہا جب درجن بھر مرکزی وزرا نے بنارس میں ڈیرا ڈالا ہوا تھا ۔2019 میں مودی بنارس سے 4 لاکھ 80 ہزار ووٹوں سے جیتے تھے ۔کئی لوگوں کا خیال ہے کے اس بار اگر کانگریس ،سپا بنارس میں زیادہ سنجیدگی سے چناﺅ لڑتی تو مودی کو ہرایا جا سکتا تھا ۔راہل گاندھی نے بھی رائے بریلی میں کہا کے اگر وہ مودی کے خلاف میری بہن پرینکا گاندھی کو کھڑا کرتے تو وہ چناﺅ میں 2-3 لاکھ کے فرق سے کامیاب ہو جاتیں یعنی کانگریس بھی اس بات کو مان رہی ہے ۔اس نے بنارس میں مودی کے قد کے مقابلے میں مضبوط امیدوار نہیں اتارا تھا ۔پچھلے کئی بار سے کانگریس امیدوار اجے رائے چناﺅ ہار رہے تھے اس لئے کانگریس نے اس بار بھی انہیں کو اتارا تھا ۔بنارس کے اس گنگا گھاٹ کی سیڑھیوں پر جیسے جیسے چھایا رہتی ہے ویسے ویسے آس پاس کے ملاح اپنے اپنے گھروں سے نکل کر سیڑھیوں پر پیٹھ جاتے ہیں اور انتظار کرتے ہیں کے لوگ آئیں گے اور کشتی سے گنگا ندھی کی سیر کریں گے ۔شام ڈھلنے کے ساتھ گوری شنکر نشات کی مایوسی اور بڑھنے لگتی ہے کہوں کے کوئی کمائی نہیں ہوئی اور انہیں فکر ستاتی ہے کے آج گھر کا راشن پانی کہا سے آئے گا اب گنگا ندھی میں یہ کروز چلوا رہے ہیں آن لائن بکنگ ہو رہی ہے سرکار کو ٹیکس مل رہا ہے ۔ہم بھوکے مر رہے ہیں بات صرف کروز کی نہیں ہے ۔بابا وشنوناتھ مندر تک کوری دور بنایا گیا ہم لوگ منی کنکنا گھاٹ پر اپنی دکان لگاکر مچھلی بیچتے تھے کوری ڈور بننے سے دکانیں ہٹا دی گئیں اور کہا گیا تھا سب کو ایک ایک دکان ملیں گی جب دکان بن گئی تو ہم سے کہا گیا کے ایک دکان کے لئے 25 لاکھ دینے ہوں گے ۔اتنے پیسے کہا سے لاتے بن کر بھی کھل کر مودی کی پالیسیوں کی تنقید کرتے ہیں ۔لکشمی شنکر راج بھر پہلے پاوور روم مشین سے بنارسی ساڑھی بناتے تھے لیکن اب وہ 5 برسوں سے رکشہ چلا رہے ہیں ۔غریبی اور تابڑ توڑمحنت کے سبب راج بھر کہتے ہیں بنارسی ساڑھی اب سورت میں بن رہی ہے وہیں سے بن کر بنارس آتی ہے یہاں کے کاری گر بیروز گار ہو گئے ہیں۔ہمارا ہنر جنگ کھا رہا ہے اور بنارسی ساڑھی کبھی برانڈ کی شکل میں جانی جاتی تھی مگر اب اسے گجراتیوں نے چھین لیا ہے ۔بنارس میں نریندر مودی کی جیت کا فرق کم ہونے کے سوال پر بنارس کے لوگ کہتے ہیں روڈ اور کوری ڈور پیٹ نہیں بھریگا روزگار کہا ہے؟ مہنگائی آسمان چھو رہی ہے ہر مہینے پیپر لیک ہو رہے ہیں لوگوں کا کہنا ہے کے شہر کا وکاس کا کام بھی پوری طرح سے گجراتیوں کے ہاتھ میں آ گیا ہے ۔مودی کو بی جے پی والوں نے ہی کم ووٹ سے جیتنے میں رول ادا کیا ہے ۔جن 300 گھروں کو توڑا جائے گا ان میں 99 فیصد ان کے ہیں جو لوگ مودی مودی کہتے رہتے ہیں ۔اعداد شمار سے صاف ہے 2024 میں مودی کے خلاف بنارس میں اپوزیشن ووٹ بلکل تقسیم نہیں ہوا اس کا اسر مودی کی جیت میں فرق کم رہا بنارس میں 5 اسمبلی حلقہ ہیں روہیاں بنارس ناتھ ،ساﺅتھ وارانسی چھاﺅنی اور سیوا پوری آتے ہیں ان اسمبلی حلقوں میں 2019 کے مقابلے میں مودی کا ووٹ گھٹا ہے اجے رائے کو ووٹ بڑھا ہے ۔اس بار اپوزیشن ووٹ متحد ہوکر کانگریس امیدوار اجے رائے کے ساتھ آہستہ آہستہ آرہا ہے جس کا سیدھا اثر مودی کی جیت کے فرق پر پڑا ہے ۔
(انل نریندر)
اسپیکر کے عہدے کو لیکر سیاسی سرگرمیاںتیز ہوئیں!
لوک سبھا اسپیکر کے چناﺅ کو لیکر سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئیں ہیں ۔مانا جا رہا ہے کے تیلگو دیشم اسپیکر کا عہدہ چاہتی ہیں این ڈی اے میں شامل جے ڈی یو نے اسپیکر کے عہدے کے لئے بھاجپا امیدوار کی ہمایت کی بات کہی ہے ۔وہیں شیو سینا ادھوٹھاکرے کے نیتا سنجے روات نے اتوار کو کہا کے اگر حکمرا اتحاد میں شامل تیلگودیشم پارٹی لوک سبھا اسپیکر کے عہدے کے لئے امیدوا ر کھڑا کرتی ہے تو اپوزیشن اتحاد انڈیا کے سبھی ساتھی ان کی حمایت یقینی کرنے کے کوشش کریں گے ۔ادھر سابق لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے کہا لوک سبھا کا نیا اسپیکر کون ہوگا اس کا فیصلہ سیاسی پارٹیاں مل کر کریں گی ۔اس کا فیصلہ ان کے ہاتھ میں نہیں ہے اور اس کام میں ان کا کوئی رول نہیں ہے ۔راوت نے میڈیا سے بات چیت میں یہ دعویٰ کیا کے لوک سبھا اسپیکر کا چناﺅ اہم ہوگا اور اگر بھاجپا کو یہ عہدہ ملتا ہے تو وہ اسکار کی حمایت کرنے والی پارٹیوں ٹی ڈی پی ،جے ڈی یو چراگ پاسوان و جینت چودھری کی سیاسی پارٹیوں کو توڑ دیگی اور انہوںے دعویٰ کیا کے ہمےں تجربہ ہے کے بھاجپا ان لوگوں کو دھوکہ دیتی ہے جو اس کی حمایت کرتی ہیں شیو سینا این سی پی کی مثال ہمارے سامنے ہے ۔انہوںنے کہا میں نے سنا ہے کے ٹی ڈی پی اپنا امیدوار کھڑا کرنا چاہتی ہے اگر ایسا ہوتا ہے تو انڈیا اتحاد ی اپنا امیدوار کھڑا کرنا چاہتی ہے تو انڈیا اتحاد کے ساتھی اس مثلہ پر غور کریں گے اور یہ یقینی کرنے کی کوشش کریں گے کے اپوزیشن اتحاد کی سبھی ساتھی پارٹیاں ٹی ڈی پی کو حمایت دیں ۔قائدہ کے مطابق اپوزیشن کو ڈپٹی اسپیکر کا عہدہ ملنا چاہئے انہوںنے دعویٰ کیا این ڈی اے سرکار مضبوط نہیں ہے لوک سبھا چناﺅ کے بعد آر ایس ایس کے کچھ لیڈروں کے ذریعہ بھاجپا کے بارے میں دئے گئے حالیہ بیانات کے بارے میں پوچھے جانے پر راوت نے کہا اگر آر ایس ایس ماضی گزشتہ کی غلطیوں کو ٹھیک کرنا چاہتی ہے تو یہ اچھا ہے ہم حالات پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں راوت نے دعویٰ کیا کے وزیراعظم مودی کے انڈیا پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ میں نیتا چنا گیا وہیں اس کے بعد بھاجپا پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ نہیں ہوئی ۔میٹنگ میں لیڈر شپ کا اشو آجاتا تو نتیجے کچھ الگ ہو سکتے تھے اس لئے این ڈی اے پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ میں مودی کو نیتا چنا گیا ۔اور اس کے بعد اب مرکز نے ایک طرفہ کام شروع کر دیا ہے تو وہیں کئی حکمت عملیوں کو لیکر میٹنگوں کا دور بھی جاری رہا اس میں جے پی نڈا ،اشونی ویشنو ،کرن رججو،للن سنگھ،چراگ پاسوان موجود رہے ۔سوال یہ ہے کے کے اس میٹنگ کے اجینڈوں اور وجہ ہی کہا جاتا ہے لوک سبھا چناﺅ جیت کر این ڈی اے نے سرکار تو بنا لی ہے ۔نریندر مودی تیسری بار پی ایم بن گئے ہیں کابینا وزیروں کے عہدے پر بٹ چکے ہیں ۔اب بچا ہے ایک آخری کام وہ ہے لوک سبھا اسپیکر کا انتخاب بی جے پی نیتا این ڈی اے کےلئے یہ بھی کسی چنوتی سے کم نہیں ہے ۔قابل ذکر ہے کے پچھلی بار اوم برلا نے اسپیکر کی کرشی سنبھالی تھی کیا وہیں اس بار بھی یہ کرسی سنبھالیں گے ؟موجودہ سرکار میں ابھی اس کرسی پر کون بیٹھے گا اس انتخاب نہیں ہو سکا فیصلہ جلد کرنا ہوگا۔ کیوں کہ اجلاس جلد شروع ہو رہا ہے۔
(انل نریندر)
18 جون 2024
مودی جی کی بڑھتی چنوتیاں
مودی جی جوڑ توڑ کی وجہ سے تیسری بار وزیر اعظم بن گئے ہیں لیکن ان کے چیلنج ختم نہیں ہو رہے ہیں۔ جلدی میں مودی جی نے بی جے پی کے پارلیمانی بورڈ کی باضابطہ میٹنگ بلائی جس میں پاٹا کے لیڈر کا انتخاب کرنا ہے۔ این ڈی اے کی میٹنگ بلائی اور خود کو وزیر اعظم قرار دیا۔ لیکن اس سے مودی جی کے چیلنجز کم نہیں ہوئے۔ آج وہ کئی محاذوں پر حملوں کی زد میں ہے۔ آج ہم صرف دو محاذوں پر بات کریں گے۔ پہلا، بی جے پی کے اندر سے آنے والے چیلنجز اور دوسرا، بی جے پی اور سنگھ کے درمیان تعلقات۔ بی جے پی کے اندر اس وقت ہنگامہ برپا ہے۔ ٹکٹوں کی تقسیم پر عدم اطمینان کے باعث کھاتوں کے اندر ایک دوسرے کو ہرانے کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ بات اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ مودی جی کی سب سے بڑی شکست اتر پردیش میں ہوئی ہے۔ جہاں 75 سیٹیں جیتنے کی بات ہو رہی تھی، وہیں PATA 240 سیٹوں پر ڈٹی ہوئی تھی، جو کہ اکثریت سے 32 سیٹیں کم ہیں۔ اتر پردیش میں شکست کی وجہ سے بی جے پی مرکز میں مودی-03 حکومت نہیں بنا سکی۔ اب یہ تنازع اپنے عروج پر ہے کہ اتر پردیش میں شکست کا ذمہ دار کون ہے؟ ایک طرف امیت شاہ ہیں اور دوسری طرف اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ ہیں۔ امیت شاہ ہار کا ذمہ دار یوگی کو ٹھہرا رہے ہیں جب کہ یوگی کہہ رہے ہیں کہ آپ نے دہلی سے ٹکٹوں کی تقسیم تک پوری مہم چلائی، تو کیا میں اس کا ذمہ دار ہوں؟ اگر کوئی ذمہ دار ہے تو وہ آپ ہیں، دہلی۔ دراصل، مودی-شاہ طویل عرصے سے یوگی کو عہدے سے ہٹانا چاہتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر پاٹا میں مودی-شاہ کی جوڑی کے لیے واحد آپشن بچا ہے تو یوگی ہیں۔ یوگی ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔ اب یوگی کا پلڑا اور بھی بھاری ہو گیا ہے کیونکہ خبر آئی ہے کہ سر سنگھ کے رہنما موہن بھاگوت نے گورکھپور میں یوگی سے ملاقات کی ہے اور ان کی پیٹھ پر ہاتھ رکھا ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں یہ مہابھارت کیا نتائج لاتی ہے۔ دوسرا محاذ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ نے کھول دیا ہے۔لوک سبھا انتخابات کے بعد سب سے زیادہ بحث آر ایس ایس کے بیانات کی ہے۔ بی جے پی کی کارکردگی پر پہلا آوازی سوال سنگھ سے وابستہ میگزین آرگنائزر نے اٹھایا۔ اس کے بعد سرسنگھ کے ڈرائیور موہن بھاگوت نے اشاروں سے کئی وارننگ دی۔ میں نے بھاگوت جی کے بیان کا ذکر پہلے بھی کیا تھا، اس لیے میں اسے یہاں نہیں دہراو¿ں گا اور اب سنگھ کے قومی ایگزیکٹو ممبر اور سینئر لیڈر اندریش ومر نے اس پر سخت سوالات اٹھائے ہیں۔ آر ایس ایس کے قومی ایگزیکٹو ممبر اندریش وومر نے 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے بارے میں کہا کہ رام سب کے ساتھ انصاف کرتے ہیں۔ بی جے پی پر طنز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو مکمل حقوق ملنا چاہئے، جو اقتدار ملنا چاہئے، خدا نے انا کی وجہ سے روک دیا۔ انہوں نے کہا، جو لوگ متکبر ہو گئے انہیں 240 پر روکا گیا، جن کو رام پر یقین نہیں تھا، ان سب کو ایک ساتھ 234 پر روک دیا گیا۔ یہ رب کا انصاف ہے۔ اندریش ومر جمعرات کو جے پور کے قریب کنوٹہ میں رام رتھ ایودھیا یاترا درشن پوجا تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ رام سب کے ساتھ انصاف کرتے ہیں۔ 2024 کے لوک سبھا انتخابات کو ہی دیکھ لیں۔ جو رام کی پوجا کرتے تھے، لیکن آہستہ آہستہ مغرور ہوتے گئے۔ وہ پاٹا سب سے بڑا پاٹا قرار پایا۔ ان کو جو مکمل حقوق ملنے چاہیے تھے، جو طاقت ان کے پاس ہونی چاہیے تھی، خدا نے انا کی وجہ سے روک دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ رام کی مخالفت کرنے والوں کو کوئی طاقت نہیں دی گئی۔ان میں سے کسی کو اختیار نہیں دیا۔ سب مل کر (انڈیا بلاک) بھی نمبر 1 نہیں بنا بلکہ نمبر 2 پر کھڑا ہے۔ اس لیے پرمکھ کا انصاف عجیب نہیں ہے، یہ سچ ہے، بہت خوشنما ہے جس پاٹا نے عقیدت کا مظاہرہ کیا، انا پرست ہو گیا، اس پاٹا کو 240 پر روک دیا، لیکن اسے سب سے بڑا پاٹا بنا دیا۔ جن کو رام پر یقین نہیں تھا، ان سب کو 234 پر روک دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمہاری بے وفائی کی سزا ہے، تم کامیاب نہیں ہو سکتے۔ ایودھیا (پائیز آباد) سے بی جے پی امیدوار للو سنگھ کی شکست پر اندریش ومر نے کہا کہ جو رام کی پوجا کرتا ہے اور پھر انا رکھتا ہے، جو رام کی مخالفت کرتا ہے وہ خود بخود خرابی کا شکار ہوجاتا ہے۔ جب للو سنگھ نے لوگوں پر مظالم ڈھائے تو رام جی نے کہا کہ پانچ سال آرام کر لو۔ اگلی بار دیکھیں گے۔ قابل ذکر ہے کہ اس سے پہلے سرسنگھ لیڈر موہن بھاگوت نے بھی 10 جون کو ناگپور میں سنگھ کے کاریہ کارتا وکاس ورگ کے اختتام پر بی جے پی کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا تھا۔ بھاگوت نے کہا تھا کہ جو مریندا کے پیچھے چل کر کام کرتا ہے، وہ مغرور ہے، لیکن اس میں انا نہیں ہے، صرف اسے صحیح معنوں میں نوکر کہلانے کا حق ہے، انہوں نے کہا کہ جب انتخابات ہوتے ہیں۔ یقینی طور پر مقابلہ. اس دوران دوسروں کو پیچھے دھکیلنا بھی ہوتا ہے لیکن اس کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ یہ مقابلہ جھوٹ پر مبنی نہیں ہونا چاہیے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مودی جی سنگھ کے سامنے جھکتے ہیں یا اپنے پرانے موقف پر ڈٹے رہتے ہیں۔
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
بند-کھلا-بند -ہرمز پر سسپنس
ہرمز جل ڈروم سنٹرل کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ انتہا پر پہنچ رہا ہے ۔امریکہ اور ایران کے بیچ پچھلے قریب 50 دنوں سے جاری کشیدگ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...