Translater

Cricket Match لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Cricket Match لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

20 جولائی 2012

ہند ۔ پاک کرکٹ میچوں کا متنازعہ فیصلہ

مرکزی سرکار نے بھارتیہ کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) کو پاکستان کے ساتھ تین ایک روزہ اور دو ٹوئنٹی میچ کھیلنے کیلئے ہری جھنڈی دے دی ہے۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان کرکٹ رشتے بحال کرنے کا فیصلہ بی سی سی آئی کی ورکنگ کمیٹی نے لیا۔ بورڈ نے ایک بیان میں بتایا کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کو دسمبر2012ء سے2013ء کے درمیان تین ایک روزہ ،دو ٹوئنٹی میچوں کی سیریز کھیلنے کے لئے مدعو کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ کولکتہ، چنئی ،دہلی میں ایک روزہ جبکہ بنگلورو اور احمد آباد میں ٹی ٹوئنٹی کے مقابلے ہوں گے۔ بورڈ کے سینئر ممبر راجیو شکلا کے مطابق پی چدمبرم نے وزارت داخلہ کی طرف سے اس سیریز پر کسی طرح کا اعتراض نہ ہونے کی بات کہی ہے۔ حالانکہ وزارت نے اس فیصلے کے تئیں کوئی خاص دلچسپی نہیں دکھائی ہے۔ اتنا ہی نہیں وزارت خارجہ سے بھی ہری جھنڈی ملنے کی اطلاع ہے۔ مرکزی سرکار اور بی سی سی آئی کا یہ فیصلہ حیرت اور ساتھ ہی سوال کرنے والا ضرور ہے۔ دیش کی عوام کے دل میں یہ سوال اٹھنا فطری ہی ہے کہ آخر اس درمیان ایسا کیا خوشگوار معاملہ ہوا جس سے بھارت سرکار نے پاکستان کی کرکٹ ٹیم کو ملک میں کھیلنے کی اجازت دے دی؟ ابھی بھی تو نئے سرے سے یہ سامنے آیا ہے کہ ممبئی حملے میں پاکستان کی سرکاری ایجنسیوں کی ساجھیداری تھی۔چونکانے والی بات یہ ہے کہ قصاب ، ڈیوڈ ہیڈلی اور ابو جندال کے خلاصوں کے بعد بھی پاکستان نے 26/11 کے گنہگاروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ اس فیصلے کی سنیل گواسکر نے بھی مخالفت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے ممبئی کے باشندہ ہونے کے ناطے مجھے لگتا ہے کہ جب ممبئی حملے کی جانچ میں پاکستان سے تعاون نہیں مل رہا ہے تو میچ کے انعقاد میں جلد بازی کیوں کی گئی؟ بھاجپا ترجمان شاہنواز حسین کا تبصرہ دلچسپ تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم ورلڈ کپ میچ کے لئے پہلے بھی بھارت آچکی ہے ،اب ممبئی حملے کے گنہگار آتنکیوں کی ٹیم کو بھی بھارت بلایا جانا چاہئے۔ سپا لیڈر ابو اعظمی کا کہنا تھا ممبئی حملے کے ذمہ داردیش کے ساتھ ہم کیسے کھیل رشتے رکھ سکتے ہیں۔ میں نے اسی کالم میں آئی پی ایل میچوں کے دوران تجویز رکھی تھی کہ جب پاکستان امپائر آسکتے ہیں تو اظہر محمود لندن کے ذریعے آسکتے ہیں تو پاکستانی کھلاڑیوں کے آئی پی ایل کھیلنے پر پابندی کیوں۔ آئی پی ایل میں پاکستانی کھلاڑیوں کا کھیلنا سمجھ میں آتا ہے کیونکہ وہ بھارت سرکار کے مدعو کردہ نہیں ہیں لیکن بھارت۔ پاک سیریز وہ بھی بھارت سرکار کی دعوت پر کھیلی جائے تو اور بات بن جاتی ہے۔ آج بھارت سمیت سبھی مہذب دنیا کا پاکستان پر دہشت گردی پر لگام لگانے کا دباؤ بڑھ رہا ہے ایسے وقت پاکستان کے ذریعے آتنک واد پر منفی نظریہ دکھانے کے باوجود انہیں اپنے دیش میں بلانا کیا مناسب ہوگا؟ ہمیں نہیں معلوم کے اس فیصلے کے پیچھے مرکزی سرکار کی کیا رائے ہے لیکن شبہ یہ ہی جاتا ہے کہ پاکستان کے تئیں ان کی پالیسی پہلے کی طرح ٹال مٹول والی بنی ہوئی ہے۔ بیشک بھارت سرکار کی پالیسی ٹال مٹول والی ہو لیکن پاکستان کا رویہ دہشت گردی کے تئیں پرانا ہے۔ اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ اس سے زیادہ مایوس کن اور کچھ نہیں ہوسکتا کہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم کو بھارت آکر کھیلنے کی اجازت دینے کے 24 گھنٹے کے اندر وہیں کی ایک عدالت نے ممبئی حملے کی جانچ کے لئے بنائے گئے کمیشن کی رپورٹ کو غیر قانونی بتاتے ہوئے سرے سے خارج کردیا۔ اس سے یہ پرانا سوال نئے سرے سے اٹھنا فطری ہے کہ کیا پاکستان ممبئی حملے کی سازش رچنے والوں کو سزا دینے کیلئے ذرا بھی خواہشمند ہے؟ یہ سوال اس لئے اور سنجیدہ ہوجاتا ہے کہ کیونکہ ممبئی حملے کی سازش رچنے کے 7 آتنکیوں کے خلاف سماعت شروع ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔

30 مئی 2012

آئی پی ایل 5- دلچسپ رہا مگر شک کے دائرے میں


آئی پی ایل 5- شاندار طریقے سے ختم ہوا۔ ایتوار کو کھیلا گیا فائنل میچ بہت ہی دلچسپ تھا۔ اگر یہ کہیں کہ آئی پی ایل 5- کا اختتامی میچ اس سے اچھا نہیں ہوسکتا تھا تو شاید غلط نہ ہوگا۔ شاہ رخ خاں کی ٹیم کولکتہ نائٹ رائڈرز آخر کار پانچویں کوشش میں پاس ہوہی گئی۔ ایتوار کو کھیلے گئے فائنل میں کے۔ کے ۔آر نے پچھلے دو بار رہی چمپئن چنئی سپر کنگز کو پانچ وکٹ سے ہرادیا۔ میچ کا فیصلہ آخری اوور کی چوتھی گیند پر ہوا۔ ونر ٹیم کو 10 کروڑ اور ضمنی کامیاب ٹیم کو 7.50 کروڑ روپے کے انعامی رقم ملی۔ قسمت نے کے۔ کے ۔ آر کا یقینی طور سے ساتھ دیا۔ کم سے کم دو قصے ایسے ہوئے جس سے کے۔کے۔آر کی جیت ممکن ہوسکی۔ پہلا تب ہوا جب کیلس نے ایک شارٹ مارا اور باؤنڈری پر کھڑے مائک ہسی نے کیچ لپک تو لیا لیکن وہ باؤنڈری لائن کراس کرگئے۔ جس بال پر کیلس کو آؤٹ ہونا تھا وہ چھکے میں بدل گئی۔ دوسرا قصہ تب ہوا جب فین ہگس نے شکیب الحسن کو گیند پھینکی شکیب نے شارٹ مارا اور کیچ ہوگئے۔ لیکن کیچ ہونے سے پہلے وہ دو رن بنا چکے تھے۔ ایمپائر نے اس بال کو کمرسے اوپر ہونے کے سبب وائڈ قراردیا۔ وائڈ ہونے کے سبب ہلفین ہگس کو دوبارہ بال کرنی پڑی اور اس بار شکیب نے چوکا مار دیا۔ اس طرح ایک ہی بال میں کے۔ کے ۔ آر کو 7 رن مل گئے اور کے۔ کے۔ آر کو7بالوں میں 16 رن درکار تھے۔ انہی 7 رنوں نے آخری اوور کا نشانہ آسان کردیا۔ منوج تیواری نے دو چوکے لگادئے اور کے کے آر چمپئن بن گیا۔ کے کے آر کی یہ پہلی جیت تھی۔مالک شاہ رخ خان کی خوشی دیکھنے لائق تھی۔ شاندار ٹورنامنٹ کا شاندار کلائمکس رہا لیکن آئی پی ایل5- تنازعوں سے نہیں بچ سکا۔ سب سے بڑا تنازعہ تو دلی ڈیئر ڈیولس کی پرفارمنس کو لیکر تھا۔ متنازعہ کرکٹ لیگ بن کر ابھری آئی پی ایل میں گڑ بڑی کا شک ہونے لگا ہے۔ کیا آئی پی ایل کا رزلٹ پہلے ہی طے تھا۔شک کرنے کی کوئی وجہ دکھائی نہیں دیتی۔ کوالیفائی اور کوالیفائر ٹو میں دلی ڈیئر ڈیولس کے عجیب و غریب فیصلوں اور آئی پی ایل کی ویب سائٹ میں کوالیفائر 2 کے رزلٹ کے پہلے ہی دونوں فائنلسٹوں کے نام آنے کے بعد شک ہونا لازمی ہے۔22 مئی کو کے کے آر کے خلاف کوالیفائر میں بھی سہواگ کی کپتانی میں ایسے فیصلے دیکھنے کو ملے جس سے لگا کہ دلی ہارنے کے لئے ہی اتری ہے۔ اسپن ٹریک ہونے کے باوجود سہواگ نے اس میچ میں صرف ایک اسپنر کو کھلایا جبکہ کے کے آر کی طرف سے تین اسپنر اترے۔ یہ ہی نہیں نشانے کا پیچھا کرنے اتری دلی نے رائے ٹیلر اور عرفان پٹھان سے پہلے غیر متوقعہ دھیمی بالنگ کرنے والے وینو گوپال راؤ اور پون نیگی کو بلے بازی کے لئے اتارا۔ ان دونوں کی دھیمی بلے بازی کی وجہ سے بعد میں ٹیلر اور عرفان کے لئے نشانے کو پانا بہت مشکل ہوگیا تھا۔ یہ سلسلہ یہیں نہیں رکا۔ کوالیفائر 2 میں تو سہواگ نے بی سی سی آئی چیئرمین این سرینواسن کی ٹیم چنئی سپر کنگ کے فائنل میں جانے کے راستے کھول دئے۔ جمعہ کو ہوئے اس میچ میں سہواگ سے چنئی کو پچ پر ٹاس جیتنے کے باوجود پہلے گیند بازی کی۔ یہ ہی نہیں پورے ٹورنامنٹ میں ٹاپ فارم میں رہے ساؤتھ افریقہ کے تیز گیند باز یورنی مارکل کو اس میچ میں نہیں کھلایا گیا۔ ان کی جگہ کوریائی آل راؤنڈر ادیرسل کو شامل کردیا۔سہواگ کے اس فیصلے پر دھونی نے بھی تعجب ظاہر کیا۔ یہ ہی نہیں پورے ٹورنامنٹ میں شاندار کارکردگی کرنے والے اسپنر شاہباز ندیم کی جگہ اس میچ میں سنی گپتا کو شامل کیا گیا اور ان سے پہلا ہی اوور کرواڈالا۔ گپتا نے تین اوور میں 47 رن لوٹائے اور ایک بھی کامیابی ان کے ہاتھ نہیں لگی۔ یہ ہی نہیں سہواگ نے اس ٹورنامنٹ میں پہلی بار گیند بازی میں ہاتھ آزمائے اور ایک ہی اوور میں21 رن لئے۔ سب سے تعجب کی بات یہ رہی کہ 223 رن کا وسیع نشانہ پورا کرنے اتری دلی کے اوپنگ بلے باز وریندر سہواگ ندارد تھے۔ انہوں نے وارنر کے ساتھ اوپنگ میں مہیلا جے وردھنے کو اتارا۔ ان میں نہ تو ایسی ڈوز نظر آئی اور ان کی باڈی لنگویج نے ساری کہانی بیان کردی۔ وہ صرف ایک رن بنا کر چلتے بنے۔ مہیلا جے وردھنے نے اچھا کھیل کھیلا لیکن ایک بال پر جب وہ بیٹ ہوئے تو وہ کھڑے تماشہ دیکھتے رہے۔ انہوں نے واپس بیٹ رکھنے کی کوئی کوشش نہیں کی جبکہ ممکن ہے کہ وہ اسٹمپ ہونے سے بچ سکتے تھے۔ دلی ڈیئر ڈیولس نے اپنے دلی کے فینس کو نہ صرف ناراض کیا بلکہ سہواگ کے برتاؤ سے شک بھی پیدا کیا ہے۔ لیکن کل ملاکر آئی پی ایل5- کامیاب رہا اور سب نے اس کا خوب مزہ لیا۔ ایسا نہیں کہ ٹورنامنٹ میں کچھ اچھا نہیں ہوا۔ کئی نوجوان کھلاڑی سامنے آئے۔ بورڈ نے میں فیصلہ کیا ہے کہ آئی پی ایل نیلامی کا جائزہ لیا جائے گا اور اگلے سیشن میں سبھی کھلاڑیوں کی بھی نیلامی ہوگی۔
(انل نریندر)

17 مئی 2012

آئی پی ایل 5 میں اسپاٹ فکسنگ اسٹنگ آپریشن

کرکٹ میں فکسنگ کاجن ایک بار پھر بوتل سے باہر آگیا ہے۔ایک ٹی وی چینل انڈیا ٹی وی نے ایک اسٹنگ آپریشن کرکے آئی پی ایل کے کچھ کھلاڑیوں کے ذریعے غلط طریقے سے پیسے کے لئے اسپارٹ فکسنگ کا خلاصہ کیا۔ چینل نے دعوی کیا کہ اس نے یہ اسٹنگ آپریشن ایک سال تک کیا۔ اس آپریشن میں چینل کے رپورٹروں نے آئی پی ایل ٹیموں کے ایجنٹ بن کر کھلاڑیوں سے ملاقات کی جس میں کئی کام شامل تھے جو بھارتیہ کرکٹ بورڈ کے قواعدکی خلاف ورزی ہے۔ آئیے دیکھیں کے اس ٹیپ میں ایک کھلاڑی سے ہوئی بات چیت کیا ہے۔ جیسا کہ ٹی وی چینل نے دعوی کیا ہے۔ رپورٹر: میچ فکسنگ کے لئے کس طرح کی مثال دی گئی ہیں؟ کھلاڑی: یہ کہا جاتا ہے کہ ایک آدھ میچ فکس کرکے کافی کمائی کرسکتے ہیں۔ پھر رپورٹر: ایک نو بال یا باؤنسر سے کام چل جاتا ہے؟ کھلاڑی: ٹھیک ہے۔ رپورٹر: آپ کے لئے یہ کوئی پریشانی نہیں ہے؟ کھلاڑی: نہیں کوئی پریشانی نہیں۔ رپورٹر: 10,15,20 میچ یا پانچ میچ آپ جتنے میچ چاہو؟ کھلاڑی: ٹھیک ہے کوئی پریشانی نہیں۔ رپورٹر: ٹیسٹ لیگ یا رنجی؟ کھلاڑی: ہم۔۔۔ ایک ۔ رپورٹر: کیا آپ اس سے متفق ہیں؟ کھلاڑی: ہاں ٹھیک ہے۔ رپورٹر: یہ آسان بھی ہے ہم آپ کو پورا میچ فکس کرنے کو نہیں کہہ رہے ہیں؟ کھلاڑی:ہوں۔ ۔ رپورٹر: ہم صرف اسپارٹ فکسنگ کے لئے کہہ رہے ہیں؟ کھلاڑی:۔۔۔ ہوں۔ رپورٹر: میں اس کے لئے آپ کو 50 ہزار روپے دے رہا ہوں۔ آپ کتنا چاہتے ہیں؟ کھلاڑی: اس ٹورنامنٹ کے لئے 40 ہزار ۔اس کے علاوہ چینل نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ منیش پانڈے، موہنش مشرا، منوندر بسلا نے طے سلیب سے زیادہ پیسے کے لئے ۔ ایسا کرنا بی سی سی آئی کے قواعد کی خلاف ورزی ہے۔ سدھیندر نے نو بال پھینکنے کے لئے پیسے لئے۔ کچھ کھلاڑی ٹورنامنٹ کے دوران بھی ٹیم بدلنے کو راضی ملے۔ بی سی سی آئی نے انکینڈ(نیلامی میں شامل نہیں) کھلاڑیو ں کے لئے سلیب مقرر کیا ہوا ہے۔ وہ اس سے زیادہ پیسہ لے سکتے ہیں۔ فرنچائزی بھی انہیں ایسی پیشکش نہیں کرسکتے۔ ایسا کرنا قواعد کی خلاف ورزی ہے۔ مدھیہ پردیش کے گیند باز سدھیندر جان بوجھ کر نو بال پھینکنے کیلئے راضی ہوگئے اس کے لئے انہوں نے 50 ہزار روپے مانگے۔ سدھیندر آپی پی ایل 5 میں دکن چارجز کے لئے کھیلتے ہیں۔ چینل کے مطابق اندور میں کھیلے گئے ایک گھریلو میچ میں جان بوجھ کر نو بال پھینکنے کیلئے 40 ہزار روپے لئے تھے۔ شلب شریواستو ٹیم بدلنے، اسپارٹ فکسنگ کے لئے راضی نظر آئے۔ انہوں نے نو بال پھینکنے کے لئے 10 لاکھ روپے کی مانگ کی تھی۔ شلب نے بتایا کہ منیش پانڈے کی سہارا پنے ویریرس میں بنائے رکھنے کے لئے 50 لاکھ روپے کی کار دی ہے۔ شلب کے مطابق کولکتہ سے کھیلنے کے لئے من وندر بسلا نے 75 لاکھ روپے بلیک میں لئے ہیں۔ بی سی سی آئی نے سخت رویہ اپناتے ہوئے جانچ پوری ہونے تک ان مبینہ پانچ ملزم کھلاڑیوں کو فوراً معطل کردیا ہے۔ منیش مشرا ،شلب شریواستو، ٹی پی سدھیندر، امت یادو، ابھینو بالی شامل ہیں۔ جنہیں جانچ پوری ہونے تک معطل کیا گیا ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ یہ اسٹنگ آپریشن اگر کچھ ثابت کرتا ہے تو بس اتنا کہ کچھ چھٹ بھئے کھلاڑی اسپارٹ فکسنگ کررہے تھے۔ اس سے پورے میچ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ رہی بات ایک ٹیم سے دوسری ٹیم بدلنے کیلئے فاضل پیسے مانگنا، بیشک قواعد کی خلاف ورزی ہے لیکن سنگین جرم نہیں۔ بلیک میں پیسہ لینا بھی اتنا بڑا جرم نہیں ہے۔ آئی پی ایل کرکٹ سے زیادہ پیسوں کا کھیل ہی ہے۔ کھلاڑی بھی چاہتے ہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ پیسہ کما سکیں۔ فرنچائزی بھی کچھ چنندہ کھلاڑیوں کو ٹیم میں برقرار رکھنے کیلئے طرح طرح کے لالچ دیتے ہیں۔ اگر پنے ویریرس نے پیسے دئے ہیں تو اس کا کوئی خاص فائدہ ہوا ایسا نظر نہیں آتا۔ وہ دکن چارجز کے ساتھ پاور پوائنٹ ٹیبل میں سب سے نیچے ہیں۔ ٹی وی چینل سنسنی پھیلانے کے لئے مشہور ہیں۔ یہ اسٹنگ آپریشن بھی اسی سنسنی مہم کا حصہ ہے جس میں زیادہ سنجیدگی نظر نہیں آتی۔ آئی پی ایل پانچ کو بلا وجہ بدنام کرنے کی کوشش ہے اور ناظرین میں خواہ مخواہ شک پیدا کرنے کی ایک کوشش ہے۔
Anil Narendra, Cricket Match, Daily Pratap, IPL, Match Fixing, Vir Arjun

22 مارچ 2012

وراٹ کوہلی اس وقت دنیا کے پہلے ون ڈے بلے باز ہیں



Published On 22 March 2012
انل نریندر
ایشیا کپ کرکٹ کے اہم میچ میں بنگلہ دیش نے سری لنکا کو ہرا کر پہلی بار فائنل میں اینٹری کی ہے۔ اب بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان فائنل ہوگا۔ بھارت تو باہر ہوگیا ہے۔ پاکستان کے خلاف اتنا اچھا کھیلنے کے بعد بھی ٹیم انڈیا کے باہر ہونے کا سبھی کو دکھ ہے۔ ایک سوال جو کیا جارہا ہے کہ کیا سری لنکا جان بوجھ کر بنگلہ دیش سے ہارا ہے ،تاکہ فائنل میں بھارت داخل نہ ہوسکے؟ جس سری لنکا کے ایک گیندباز نے بھارت کے ساتھ ایک برس پہلے ہوئے مقابلے میں آخری گیند پر جب بھارت کو جیت کے لئے ایک رن چاہئے تھا اور وریندر سہواگ 99 رن پر ناٹ آؤٹ تھے کی سنچری روکنے کے لئے جان بوجھ کر نو بال ڈال دی ہو تو اس سری لنکا سے عمدہ کھیل کے جذبے کی امید نہیں کی جاسکتی۔ پورے دیش میں یہی بحث تھی کہ اس نوراکشتی کی مار بھارت پر ہی پڑے گی۔ سری لنکا نے بلے بازی ،گیند بازی اور فیلڈنگ میں محض خانہ پوری کرتے ہوئے جیت بنگلہ دیش کو دلا دی۔ وجہ ایک تھی کہ جس بھارت نے سری لنکا کو دھول چٹا رکھی ہے وہ فائنل میں نہ پہنچ سکے۔ بنگلہ دیش کی کامیابی کے ساتھ ہی پانچ بار چمپئن بھارت فائنل کی دوڑ سے باہر ہوگیا۔ حالانکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے برابر 8 پوائنٹ ہیں لیکن جواں ٹیم نے چونکہ بھارت کو ہرایا تھا اس لئے اسے فائنل کا ٹکٹ مل گیا۔ بیشک ٹیم انڈیا فائنل میں نہیں پہنچ سکی لیکن اس سیریز میں بھارت کے کم سے کم دو بہت بڑے کارنامے رہے۔ پہلا سچن کا 100 ویں سنچری اور دوسرے وراٹ کوہلی جو ایک انتہائی اہم بلے باز کی شکل میں ابھرے ہیں۔ اس 23 سالہ مغربی دہلی کے نوجوان کھلاڑی کا نام اب دنیا کے سرکردہ بلے بازوں کی فہرست میں شامل ہوچکا ہے۔جب وہ بلے باز کرتے ہیں تو مخالف کا بڑے سے بڑا اسکور بھی بونا پڑ جاتا ہے۔ تین ہفتے میں دو بار اکیلے اپنے دم خم سے وراٹ نے ٹیم انڈیا کو جیت کا سہرہ پہنایا ہے۔ ایتوار کو کوہلی کی 148 گیندوں میں 183 رن کی وجہ سے ٹیم انڈیا نے ایک نیا ریکارڈ قائم کردیا۔ اس ریس میں 'برا نہ مانو کوہلی ہیں' یہ ایس ایم ایس پورے میر پور میں گونجتا رہا۔
پچھلے سال وراٹ کوہلی نے ون ڈے کا سب سے زیادہ اسکور بنایا تھا۔ اس سے پہلے وہ دوسرے نمبر کے سب سے زیادہ اسکور بنان والے کھلاڑی رہے اس لئے یہ کہنا شاید غلط نہ ہوگا کہ اس وقت وراٹ کوہلی دنیا کے سب سے پہلے ون ڈے بلے باز بن گئے ہیں۔ حالانکہ وراٹ کوہلی کی اس شاندار فارم پر سب کو ناز ہے لیکن انہیں اپنے برتاؤ میں بہتری لانی چاہئے۔ غصہ ،غرور اچھے اچھے کو دھول چٹا دیتا ہے۔ کچھ نجومیوں کا کہنا ہے کہ ان کو غصہ اس لئے آتا ہے کہ وہ 18 نمبر کی جرسی پہنتے ہیں اس کا جوڑ ہوتا ہے9 یہ اچھا جوڑ نہیں ہے۔ ان کے مطابق وراٹ کو ایسی جرسی پہننی چاہئے جس جوڑ 5 ہو جیسے 14،321 ۔وراٹ کی پیدائش کا نمبر پانچ ہے۔ وہ23 برس کے ہیں جس کا جوڑ بھی 5 ہے۔ یہ سال 2012ء ہے جس کا نمبر بھی 5 بنتا ہے۔ اسی وجہ سے یہ سال ان کے لئے خاص ہے۔ ان کے غصے اور غرور کے سبب انہیں ٹیم انڈیا کا 'اینگری ینگ مین' بھی کہا جارہا ہے۔
Anil Narendra, Cricket Match, Daily Pratap, India, Vir Arjun, Virat Kohli

25 فروری 2012

ٹیم انڈیا میں دراڑیں

آسٹریلیا کے دورہ پر گئی ٹیم انڈیا نہ صرف ہار رہی ہے بلکہ بکھر بھی رہی ہے۔ بیشک بی سی سی آئی اور ٹیم کے ترجمان یہ کہیں کہ ٹیم انڈیا کے اندر کوئی اختلاف نہیں ہے لیکن ٹیم میں کھلاڑیوں کی آپسی رسہ کشی منظر عام پر آگئی ہے۔ مہندر سنگھ دھونی اور ویریندر سہواگ کے درمیان اختلافات بڑھتے جارہے ہیں جس سے ٹیم کی پرفارمنس پر اثر پڑ رہا ہے۔ ٹیم نے جیتنے کے بجائے ہارنے میں جستجو بنا رکھی ہے۔مشکل سے ایک میچ جیتتے ہیں اور پھر ہار کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ اب خبر آئی ہے کہ منگل کے روز سری لنکا کے خلاف میچ XIکو لیکر دونوں کھلاڑیوں میں اختلافات تھے انگریزی نیوز چینل ٹائمس ناؤ کے مطابق دونوں کھلاڑیوں نے الگ الگ ٹیم طے کی تھی لیکن آخر کار ویرو کی فہرست والے کھلاڑی ہی میدان پر اترے۔ قابل غور ہے کہ ٹیم انڈیا میں آپسی اختلافات کی خبریں پچھلے کچھ دنوں سے آرہی ہیں۔ چینل کے مطابق دھونی کی XI میں روہت شرما کا نام تھا وہ روہت کو سری لنکا کے خلاف اتارنا چاہتے تھے۔ دوسری طرف سہواگ تینوں سینئرز (سچن) گمبھیر اور خود سہواگ بھی ٹیم میں کھیلنا چاہتے تھے۔ کچھ وقت پہلے کپتان مہندر سنگھ دھونی کے خاص دوستوں و سابق کرکٹروں نے باتوں باتوں میں بتایا تھا کہ کس طرح ٹیم میں گروپ بازی ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعوی کیا تھا اکثر ان کی ٹیم انڈیا کے کپتان سے بات ہوتی رہتی ہے۔ اب لگتا ہے کہ ٹیم انڈیا میں دراڑیں پڑ گئی ہیں۔ رہی سہی کسر اس نئی باری کی پالیسی نے پوری کردی ہے۔ جب تک گیری کرسٹن ٹیم کے کوچ ہوا کرتے تھے وہ پوری ٹیم کو ساتھ جوڑ کر رکھتے تھے کیونکہ وہ خود ایک دم نوجوان تھے لہٰذا سینئر جونیئر کھلاڑیوں کے درمیان ایک اچھی کڑی کے طور پر کام کیا کرتے تھے۔ اگر کوئی اختلاف کی حالت بنتی بھی تو وہ فوراً اسے سنبھال لیا کرتے تھے۔ اب لگتا ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ بدقسمتی سے یہ کام اب کپتان مہندر سنگھ دھونی کی کرپارہے ہیں۔ نئے کوچ فلیچر گیٹی کی طرح ٹیم کو متحد رکھنے میں ناکام رہے ہیں۔
فلیچر خود 64 سال کے ہیں تجربہ کار تو ہیں لیکن قریب 10 مہینے سے ٹیم سے وابستہ ہیں اور یہ وقت ٹیم انڈیا کا پچھلے دو دہائیوں میں سب سے زیادہ خراب چل رہا ہے۔ کسی بھی پہلو سے وہ ٹیم کے کام آتے نہیں دکھائی پڑ رہے ہیں۔ نہ تو وہ ٹیم انڈیا کے لئے مشعل راہ ثابت ہورہے ہیں اور نہ ہی ایک اچھے منتظم۔ اس لئے ٹیم عجیب و غریب تجربات اور بحران کے دور سے گذر رہی ہے۔ حکمت عملی نہیں بن پارہی ہے اور سبھی کھلاڑی ایک الگ ذہنی حالات سے دوچار ہیں۔ روٹیشن کی پالیسی پر چھڑے تنازعے سے لگتا ہے کہ ٹیم میں شخصیت کو اہمیت دی جارہی ہے۔ اسی پالیسی سے صاف جھلکتا ہے کہ اس کے ذریعے سینئروں کے ساتھ بھدا مذاق کیا جارہا ہے۔ سینئروں کی بات کریں تو سابق کپتان کپل دیو نے ماسٹر بلاسٹر سچن تندولکر کو اس کی ناکامیوں پر آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ سچن کو اب سنیاس لینے کا اعلان کردینا چاہئے۔ کپل نے کہا پچھلے تین مہینوں میں جو ہم نے دیکھا ہے اسے دیکھتے ہوئے میرا خیال ہے کہ سچن کو ورلڈ کپ کے بعد یا اس سے پہلے سچن کو سنیاس لینے کا اعلان کردینا چاہئے تھا۔ کرکٹ یا کوئی بھی کھیل اس معاملے میں بہت الگ ہوتا ہے جب تک آپ جیتتے رہتے ہیں یا اچھا کھیل دکھاتے ہیں سب ٹھیک ٹھاک رہتا ہے اور جیسے ہی آپ ہارنا شروع کرتے ہیں تو ایسی ساری باتیں ہونے لگتی ہیں۔
  Anil Narendra, Cricket Match, Daily Pratap, Vir Arjun

08 فروری 2012

یووراج ایک بورن فائٹر ہیں جیت ضرور ان کی ہی ہوگی



Published On 8th February 2012
انل نریندر
ٹیم انڈیا کے دھرندربلے باز یووراج سنگھ کو کینسر ہے ،پیر کو پھیلی اس خبر نے سب کرکٹ شائقین کو ہلاکر رکھ دیا ہے۔تمام اخباروں میں ٹی وی چینلوں میں بس ایک ہی خبر چھائی رہی اور وہ یہ کہ 30 سالہ یووراج سنگھ کو پھیپھڑے کا کینسر ہے اور وہ امریکہ کے شہر بوسٹن میں واقع کینسر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں علاج کروا رہے ہیں۔ میڈیا میں بتایا گیا کہ یووراج کو کہاں کینسر ہے اور کیسے ان کا علاج جاری ہے۔ جب میں نے ٹی وی چینلوں پر یہ خبر دیکھی تو مجھے پہلی بات تو یہ محسوس ہوئی ہ یووراج کی بیماری کے بارے میں ان کے فیزیو جتن چودھری بڑی باریکی سے سمجھ رہے تھے کہ یووراج کو کیا ہوا ہے اور کیسے ان کی کیموتھریپی چل رہی ہے۔ مجھے تھوڑا عجیب سا لگا، کیونکہ ایسی سنگین بیماری میں بتانے کا کام ایک فیزیو تھریپس کا نہیں ہے۔ اگربوسٹن کا کوئی سرجن بتاتا توبات سمجھ میں آتی۔ ایک فیزیو ایسی تفصیلات بتانے کے لئے مجاز نہیں ہے۔ فیزیو کا کام تو آپریشن یا سرجری کے بعد شروع ہوتا ہے۔ منگل کا دن آتے آتے کچھ تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ تازہ خبر آئی ہے کہ امریکہ میں کیموتھریپی کرا رہے یووراج کو پھیپھڑے کا کینسر نہیں ہے بلکہ ان کے پھیپھڑوں کے درمیان میں ایک عجیب قسم کا ٹیومر (پھوڑا) جو معمولی نہیں ہے اور ان کے علاج میں شامل میکس ہسپتال کے ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ وہ10 ہفتے یعنی مئی کے پہلے ہفتے تک میدان میں اتر سکتے ہیں۔ یووراج کو کینسر ہونے کا خلاصہ ہونے کے بعد سے میڈیا میں کی جارہی قیاس آرائیوں پر لگام لگاتے ہوئے میکس ہسپتال ساکیت کے ڈاکٹر نتیش رستوگی نے صاف کیا ہے کہ یووراج کو کینسر تو ہے لیکن پھیپھڑوں کا کینسر نہیں ہے۔ یووراج کی بیماری کا سن کر نہ صرف بھارت میں ہی ان کے پرستار پریشان ہوگئے ہیں لیکن سرحد پار پاکستان سے لیکرتمام دنیا سے ان کی تندرستی کے لئے نیک خواہشات کا آنا شروع ہوگیا ہے۔ ایک پرستار نے کچھ یوں لکھا ''میں ایک پاکستانی ہوں اور ظاہر ہے کہ پاکستانی کرکٹ کا پرستار پاکستان اور انڈیا کا مقابلہ بھی ہمیشہ ایسا ہی رہے گا لیکن یہ کسی کی زندگی سے ضروری نہیں ہے۔یووراج ایک بہت اچھے اور دمدار کرکٹر ہیں ، میں ان کی صحت کے لئے دعاء کرتا ہوں۔ کرکٹ کی دنیا میںیووی ایک اکیلے کلین ہٹر ہیں اور جلد ہی ٹھیک ہوجاؤ گے دوست۔ابھی تمہارے بہت سکسر اور سنچری دیکھنی ہے ۔ یووراج ضرور ٹھیک ہوجائیں گے ساری دنیا میں ان کے پرستار آج دعاء کررہے ہیں۔ یووراج کو دوسرے کھلاڑیوں سے تلقین لینی چاہئے وہ ایسے کھلاڑی نہیں ہیں جو اس طرح کی مشکل کا سامنا کررہے ہیں اس سے پہلے بھی ایسے کئی موقعے آچکے ہیں جب کھلاڑیوں نے نہ صرف کینسر کو ہرایا بلکہ اپنے کھیل میں نئے ریکارڈ قائم کئے ہیں۔ امریکہ کے لاس آرم اسٹرانگ تو اس کی ایک دمکتی مثال ہیں۔ لاس کو 1996 ء میں ہی کینسر کا پتہ چلا تھا۔ یہ یووی سے خطرناک مرحلے پر تھا لیکن نہ صرف اس نے اس کا کامیابی کے ساتھ سامنا کیا بلکہ سائیکل ریسنگ کی سب سے مشکل دوڑ ٹور دی فرانس کو تقریباً سات بار جیتا۔ پچھلے سال نومبر میں ہی لاس نے سائیکلنگ سے ریٹائرمنٹ لی ہے ایک بات دکھ کی یہ ضرور ہے کہ یووراج کی بیماری کا علاج پہلے کیوں نہیں ہوا؟ یووراج پچھلے کافی دنوں سے بیمار چل رہے ہیں۔ کہا یہ جاتا رہا ہے کہ ان کے گھنٹے کی سرجری ہوئی ہے ۔ ان کا ہسپتال اور ڈاکٹروں سے پچھلے کافی عرصے سے رابطہ بنا ہوا ہے۔ پتہ نہیں کسی نے اس سے پہلے کیوں نہیں سوچا؟ ٹیسٹ وغیرہ تو ضرور ہوئے ہوں گے، کیا ہمارے ڈاکٹروں کو پتہ نہیں چلا یا پھر علاج میں غلطی ہوئی۔ بہرحال آگے دیکھیں ہمیں پورا یقین ہے کہ یووی نہ صرف اس منحوس بیماری کو ہرا دیں گے بلکہ بہت جلد میدان میں واپس لوٹ کر چھکے چوکے لگائیں گے۔ ساری دنیا کے ساتھ ہم بھی یووی کی تیزی سے تندرستی کے لئے دعاء کرتے ہیں۔ وہ ایک بورن فائٹر ہیں۔جیت ضرور ان کی ہوگی۔
Anil Narendra, Cricket Match, Daily Pratap, Vir Arjun, Yuvraj

22 نومبر 2011

ونود کامبلی کے میچ فکسنگ الزام میں کتنا دم ہے؟




Published On 22th November 2011
انل نریندر
کرکٹ میں میچ فکسنگ ایک ایسا مکڑ جال ہے جس میں پھنسنے سے نہ تو کھلاڑی بچ پا رہے ہیں اور نہ ہی آئی سی سی اس پر لگام کس رہی ہے۔ سال2002ء میں جب جنوبی افریقہ کے سابق کپتان ہینسی کرونئے سمیت چار ہندوستانی کرکٹروں پر میچ فکسنگ کا الزام لگا تھا تو کوئی ٹھوس ثبوت نہ ملنے پر بھی انہیں بین الاقوامی کرکٹ سے ممنوع قرار دے دیا گیا تھا۔ کچھ چونکانے والے حقائق ابھر کر سامنے آتے کہ اس سے پہلے ہی کرونئے کی ایک طیارہ حادثے میں پراسرار ڈھنگ سے موت ہوگئی۔میچ فکسنگ میں حال ہی میں تین پاکستانی کرکٹر پھنس گئے اور آج کل وہ انگلینڈ کی جیل میں ہیں۔ اب15 سال بعد ونود کامبلی نے الزام لگایا ہے کہ 1996ء کا ورلڈ کپ سیمی فائنل میچ بھار ت اور سری لنکا کے درمیان تھا وہ فکس تھا۔ کامبلی نے اس وقت کے کپتان محمد اظہر الدین سمیت اس ٹیم کے دیگر بلے بازوں اور منیجر کے اس فکسنگ میں شامل ہونے کی بات کہی ہے۔ کامبلی نے کہا کہ جب اظہر نے ٹاس جیت کر فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا تو ساری ٹیم چونک گئی کیونکہ ہم نے فیصلہ کررکھا تھا کہ اگر ہم ٹاس جیتتے ہیں تو ہم پہلے بیٹنگ کریں گے۔ اس ارادے سے ہمارے تین چار بلے بازوں نے پیڈس بھی پہنے ہوئے تھے لیکن اظہر کا یہ فیصلہ ہماری سمجھ میں نہیں آیا اور ہم جیتا ہوا میچ ہار کر ورلڈ کپ سے باہر ہوگئے۔ صرف ونود کامبلی نے ہی نہیں بلکہ اس وقت کے کیوریٹر کلیان مشرا کے بعد اس وقت کے بھارتیہ ٹیم کے منیجر سبرن بنرجی اور سری لنکائی ٹیم کے سابق لوکل منیجر سمیرداس گپتا کے سوال سے شک اور گہرا ہوگیا ہے۔ سمیر داس نے کہا کہ میں نے سری لنکا ٹیم کے ساتھ چار پانچ دن بتائے۔ سری لنکا ٹیم بھی ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کرنا چاہتی تھی اور انہیں لگا کہ بھارتیہ ٹیم بھی ایسا ہی کرے گی لیکن جب اظہر نے ٹاس جیت کر فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا تو سری لنکائی ٹیم حیران رہ گئی۔ اور اس کے بعد سبھی میں خوشی کی لہر دوڑ گئی کیونکہ اب سری لنکا کے جیتنے کا موقعہ اور بڑھ گیا۔ وہیں بنرجی نے کہا کہ یہ بھی اظہر کے فیصلے پر حیران تھے جبکہ کیوریٹر مشراکا کہنا ہے کہ پچ میں کوئی گڑ بڑی نہیں تھی۔ اروند ڈیسلوانے سنچری جبکہ سچن نے یہاں 50 رن بنائے تھے۔ ٹاس کے وقت سنیل گواسکر ، روی شاستری ،ٹانی گریگ بھی پچ پر موجود تھے۔ ٹاس جیتنے کے بعد سنی نے پوچھا کہ کیا ہوا اظہر ۔ اس نے کہا فیلڈنگ اس پر سبھی حیران رہ گئے۔

ونود کامبلی کے بیان کے بعد شک کے دائرے میںآئے محمد اظہر الدین نے اس الزام کو بکواس قراردیا ہے اور کامبلی سے سوال کیا کہ وہ15 سال بعد یہ الزام کیوں لگا رہے ہیں؟ تنازعے کی سنجیدگی کو بھانپتے ہوئے حکومت ہند کے وزارت کھیل نے اس کی سی بی آئی جانچ کرنے کو کہا لیکن آئی سی سی کے افسر اس کو تیار نہیں۔ وہیں سابق کپتان سورو گانگولی نے اظہر سے خود کو بے داغ ثابت کرنے کو کہا۔ اس سے ایک دن پہلے اظہر الدین نے اپنا بچاؤ کرتے ہوئے کامبلی کے اس بیان کو بکواس قراردیا۔ ساتھ ہی انہوں نے کامبلی کو اپنا منہ بند رکھنے کی نصیحت دیتے ہوئے کہا کہ اس بات کو 15 سال بعد اٹھانے کا کیا مطلب ہے۔ لیکن اظہر شاید بھول گئے کہ1996ء کے ورلڈ کپ کے بعد ہی سال2000ء میں ان پر میچ فکسنگ کا الزام لگا تھا۔ جنوبی افریقہ کے اس وقت کے کپتان ہینسی کرونئے نے جانچ کے دوران ہندوستانی کھلاڑیوں کا نام لیا تھا۔ اس معاملے میں بی سی سی آئی جانچ کمیٹی کے سربراہ اے مادھون نے ان پر تاحیات پابندی اور اجے جڈیجہ پر چار سال کی پابندی لگائی تھی۔ لیکن 2006ء میں اظہر الدین پر سے پابندی ہٹا لی گئی یہاں تک کہ چمپئن ٹرافی کے دوران انہیں سنمانت بھی کیا گیا۔ یہ معاملہ آج بھی التوا میں پڑا ہوا ہے۔ ونود کامبلی نے روتے روتے یہ بھی کہا کہ اس میچ کے بعد نہ صرف میرا کیریئر ختم ہوگیا بلکہ میرے اوپر کئی الزام لگے۔ کہا گیا کہ اس نے کلائیولوائڈ کو گالیاں دیں۔یہ برابر پارٹیوں میں جاتا تھا اور لیٹ نائٹ آتا تھا۔ آئی سی سی کے چیئرمین شردپوار نے کامبلی کے الزام کو سرے سے خارج کردیا۔ انہوں نے کہا کہ آج ان الزامات کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ سچن اور کامبلی نے ایک ساتھ بین الاقوامی کرکٹ میں داخلہ کیا تھا لیکن کامبلی نے کھیل پر توجہ نہیں دی اگر توجہ دی ہوتی تو آج ہمارے پاس ایک نہیں دو سچن ہوتے۔ وہیں سابق کرکٹر سید کرمانی بولے کہ اگر انہیں معلوم تھا تو 15 سال پہلے کیوں شکایت نہیں کی؟یہ قابل غور سوال ہے کہ کیا واقعی کامبلی کے پاس میچ کو فکس کہنے کی پختہ بنیادہے؟ اب تک کامبلی نے ایک ہی بات کہی ہے کہ کپتان اظہر الدین نے ٹاس جیتنے کے بعد اچانک ٹیم کے فیصلے کو پلٹ دیا لیکن اظہر نے ایسا نہیں کیا تھا۔ سچ تو یہ انہوں نے وہی کیا جو ٹیم میٹنگ میں طے ہوا تھا۔ ٹیم کے کئی ممبران اور منیجر اجیت واڈیکر نے اس کی تصدیق کی ہے۔ اس بنیاد پر کامبلی کی دلیل خارج ہوجاتی ہے۔ اگر کامبلی کے پاس شک کی کوئی اوروجہ ہے تو وہ اس طرف صاف اشارہ کیوں نہیں کرتے؟ کامبلی کیوں نہیں بتاتے کہ انہیں کیسے معلوم ہوا کہ میچ فکس تھا؟ اگر وہ اتنے سمجھدار ہیں تو انہیں ان لوگوں کے نام کھل کر بتانے چاہئیں۔ انہوں نے یہ بات سچن کے ساتھ شیئرکی تھی کیا؟ ونود کامبلی کچھ برسوں پہلے تک ہمیشہ دعوی کرتے تھے کہ وہ اپنی ہر بات سچن سے بتاتے ہیں لیکن اتنی بڑی بات انہوں نے سچن کو کیوں نہیں بتائی۔ اتنے دنوں تک بی سی سی آئی سے بھی کیوں چھپائی؟ فکسنگ کی جانچ کرنے والی سی بی آئی یا مادھون کمیٹی کے سامنے اسے کیوں نہیں رکھا؟ سال1999ء میں بی سی سی آئی نے اس کی جانچ کی تھی پھر مادھون کمیٹی نے اس کو آگے بڑھایا۔ اس نے ان تمام لوگوں سے بات کی اس میں کرکٹر بھی شامل تھے۔ اس دور کے ہر کرکٹر سے ان دونوں نے اپیل کی تھی کہ اگر انہیں میچ فکسنگ کے بارے میں ذرا سی بھی کچھ بات معلوم ہو تو اسے بتائیں۔ تب کامبلی چپ کیوں بیٹھے رہے؟ جس ٹیم کی کامبلی بات کررہے ہیں اس ٹیم میں سچن تندولکر، سنجے منجریکر، نوجوت سنگھ سدھو، اجے جڈیجہ، نین مونگیا، اظہرالدین، سری ناتھ، انل کمبلے، ونکٹیش پرساد اور آشش کپور شامل تھے۔ ان میں سے کوئی بھی کرکٹر کیوں ان کے ساتھ نہیں آرہا ہے؟ سنجے منجریکر نے تو صاف کہہ دیا کہ کامبلی جھوٹ بول رہے ہیں۔ سچن تو ان کے خاص دوست ہیں لیکن وہ بھی ایک باربھی نہیں بولے؟ اس دن ونود کامبلی نے خراب کھیل کیوں دکھایا؟ کامبلی اس دن پانچویں نمبر پر بیٹنگ کرنے آئے۔ ان کی امیج ونڈے میں ہٹر کی تھی انہوں نے 29 گیندیں کھیلیں اور 49 منٹ کریز پر رہے۔ایک بھی چوکا نہیں لگایا۔ انہیں کھلنے میں دقت کیوں ہورہی تھی کیا وہ بتائیں گے ؟انہوں نے اتنی خراب بیٹنگ کیوں کی؟ دوسری طرف سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ ایسی پچ پر جب سبھی مان رہے ہیں کہ بیٹنگ پہلے کرنی چاہئے تھی پھر بھی پہلے بالنگ کا فیصلہ کیوں کیا گیا؟ نشانے کا پیچھا کرتے ہوئے ہندوستان نے محض22 رن پر اپنے6 وکٹ کیسے گنوائے؟ میچ سے پہلے کوچ اجیت واڈیکر سے کوئی ان بن ہوئی تھی اور ہوئی تھی تو کیوں ہوئی۔ واڈیکر ہوٹل چھوڑ کر گھر واپس کیوں جارہے تھے۔ کونسا ایسا ضروری کام آگیا تھا جس کے چلتے میچ سے پہلے پریکٹس روک دی گئی۔ کیا ٹیم میٹنگ میں نوجوت سنگھ سدھو نے پہلے بلے بازی کرنے کی صلاح دی تھی؟ ٹاس کے وقت بھارتیہ اوپنر پیڈس باندھ کر کیوں تیار تھے۔ کل ملاکر معاملے کی جانچ ضروری ہے۔ دونوں طرف سے سوالوں کے جواب آئے بغیر کسی ٹھوس نتیجے پر پہنچنا مشکل ہے اور معاملے کی گہرائی سے جانچ اس لئے بھی ضروری ہے کہ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو سکے تو مستقبل میں ایسا کوئی نہ کرسکے۔
Anil Narendra, Azharudding, Cricket Match, Daily Pratap, Match Fixing, Vinod Kamble, Vir Arjun

04 نومبر 2011

محض پابندی سے نہیں سخت سزا سے ہی فکسنگ پر لگام ممکن



Published On 4th November 2011
انل نریندر
پاکستان کرکٹ کے لئے منگلوار کا دن بیحد شرمناک ثابت ہوا۔ اس کے دو کرکٹروں سابق ٹیسٹ کپتان سلمان بٹ اور تیز گیند باز محمد آصف کو لندن کی عدالت نے اسپارٹ فکسنگ کا قصوروار قراردیا ہے۔ ساؤتھ ورک کراؤن کورٹ کی 12 نفری جیوری نے 27 سالہ بٹ کو غلط طریقے سے پیسہ لینے کی سازش اور دھوکہ دھڑی کا قصوروار پایا ہے۔ وہیں آصف کو دھوکہ دھڑی کی سازش کا قصوروار مانا گیا ہے۔ مقدمے کی سماعت کے 20 ویں دن عدالت نے انہیں قصوروار ٹھہرایا۔ سزا جلد سنائی جائے گی اور تب تک وہ ضمانت پررہیں گے۔ بٹ کو زیادہ سے زیادہ سات سال کی سزا اور آصف کو زیادہ سے زیادہ دو سال کی سزا ہو سکتی ہے۔ اس معاملے میں تیسرے ملزم محمد عامر کو مقدمے کا سامنا نہیں کرنا پڑا کیونکہ اس نے پہلے ہی جرم قبول کرلیا تھا۔ عامر کو سکینڈل میں اس کے کردار کے لئے سات سال قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔ معلوم ہو کہ بند ہوچکے برطانوی جریدے 'نیو آف دی ورلڈ 'نے اسٹنگ آپریشن کرکے اس اسکینڈل کا خلاصہ کیا تھا۔ اس میں کہا گیا تھا کہ آصف اور بٹ نے سٹے باز مظہر مجید سے مل کر انگلینڈ کے خلاف لارڈس میں ہوئے ٹیسٹ میچ میں نو بال پھینکنے کی سازش رچی تھی۔ اس خلاصے کے بعد ان تینوں کے ہوٹل کے کمروں میں چھاپے مارے گئے جس میں نقدی برآمد ہوئی تھی۔ آصف پر غلط طریقے سے پیسہ لینے کے لگے الزام پر جیوری بٹی ہوئی تھی جس کے بعد اس پر پھر سے غور کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسپارٹ فکسنگ معاملے میں جیوری کے فیصلے سنانے کے ساتھ ہی سلمان بٹ اور محمد آصف عدالت کے اندر بغیر کوئی رد عمل ظاہر کئے اپنی جگہ پر ایسے بیٹھے رہے جیسے کے پتھر کی مورتی بن گئے ہوں۔ برطانوی میڈیا اور عدالت میں موجود دیگر لوگ دونوں کے چہرے پر آئے اثرات پڑھنے کیلئے ان کی طرف دیکھ رہے تھے لیکن تب تک ان دونوں کے چہرے اتر چکے تھے اور وہ بس جیوری کی طرف دیکھے جارہے تھے۔ یہ بھی عجیب و غریب اتفاق رہا کہ جب جیوری نے بٹ کو قصوروار قراردیا اس سے کچھ ہی دیر پہلے ان کی اہلیہ گل حسن نے دوسرے لڑکے کو جنم دیا۔
اسپارٹ فکسنگ کے اس معاملے میں فیصلہ آنے کے بعد عالمی کرکٹ دنیا میں رد عمل ہونا فطری ہے۔ حالانکہ پی سی بی یعنی پاکستان کرکٹ بورڈ اس فیصلے پر خاموش ہے۔ اس کا کہنا ہے یہ قانونی معاملہ ہے اور آئی سی سی اس کی جانچ کررہی ہے لیکن آئی سی سی کے سابق سی ای او احسان مانی نے کہا کہ لندن کی عدالت کا فیصلہ پی سی بی کے لئے سخت سندیش ہے اور آصف اور بٹ اسی کے لائق تھے۔ متنازعہ دورے پر پاک ٹیم کے منیجر رہے یاور سعید نے اس پورے معاملے پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا مجھے بہت دکھ محسوس ہورہا ہے کیونکہ اس وقت ایک منیجر کے طور پر میں نے سبھی کھلاڑیوں کو برے لوگوں سے دور رہنے اور صرف کھیل پر توجہ مرکوز کرنے کی صلاح دی تھی۔ انہیںیہ سمجھناچاہئے جب اگر دیش کی نمائندگی کرتے ہوئے آپ ایسی بدتر حرکت کریں تو اس کے آپ کو برے انجام کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ ٹیم انڈیا کے کپتان مہندر سنگھ دھونی نے کہا صرف کھلاڑی ہی میچ فکسنگ نہیں کرتے کبھی کبھی امپائر بھی پرستاروں کی ملی بھت سے ایسا کرتے ہیں لیکن اس رپورٹ کو دبادیا جاتا ہے۔ یہ کرپشن کی سب سے بڑی مثال ہے اس کے آگے سب پھینکے ہیں۔ سابق آئی پی ایل چمپئن للت مودی نے ٹوئیٹر پر لکھا ہے کہ مجھے اس پر کبھی شبہ نہیں رہا کہ پاک کرکٹر میچ فکسنگ میں شامل رہتے ہوں۔ انہیں جیل میں ڈال دینا چاہئے تاکہ باقی کھلاڑیوں میں خوف پیداہو۔ ویسے قارئین کو بتادیں کہ اسپارٹ فکسنگ کے ریٹ اتنے زیادہ ہیں کہ پاکستان جیسے ملک میں جہاں کرکٹروں کو کوئی خاص بڑی رقم بطور فیس نہیں ملتی ان کے لئے اس سے اوپر اٹھنا مشکل ہے۔ ایک ٹیسٹ میچ کے لئے فکسنگ ریٹ 7.5 کروڑ روپے ہے۔ ٹی ٹوئنٹی کا0.3 کروڑ روپے۔ 10 اوور کا 60 لاکھ روپے اور نو بال کا 7.5 لاکھ روپے۔ پاکستانی کھلاڑی جب پڑھتے اور سنتے ہوں گے کہ بھارت کے کرکٹروں کو کتنا پیسہ ملتا ہے تو ظاہر ہے وہ اپنے آپ کو چھوٹا محسوس کرتے ہوں گے۔ حال ہی میں بی سی سی آئی نے ٹیم انڈیا کے لئے نئے گریڈ کا اعلان کیا ہے۔ گریڈ اے میں سالانہ 1 کروڑ روپے، بی گریڈ میں50 لاکھ روپے، سی گریڈ میں 25 لاکھ روپے۔جب پاکستانی کھلاڑی یہ دیکھتے ہیں کہ بھارتیہ کھلاڑیوں کو اتنا پیسہ ملتا ہے تو وہ بھی زیادہ سے زیادہ کمائی کرنے کی سوچتے ہیں اور کرکٹ میں لمبی پاری نہیں کھیلی جاسکتی۔ کچھ ہی برسوں کے لئے آپ ٹاپ پر ہوتے ہیں اس لئے جلدی سے جلدی پیسہ کمانے کی دوڑ لگی رہتی ہے۔ دراصل اس سے بھارت میں اچھوتا نہیں رہا، محمد اظہرالدین، اجے شرما، منوج پربھاکر، اجے جڈیجہ ان کھلاڑیوں میں ہیں جن پر تاحیات پابندی لگی ہوئی ہے۔اس کے علاوہ سٹے باز جان کو موسم اور پچ کی جانکاری دینے پر آسٹریلیائی کرکٹ بورڈ نے مارکوا اور شین وارن پر جرمانہ لگایا تھا۔ نومبر2010 ء میں پاکستان کے وکٹ کیپرذوالقرنین حیدردوبئی میں جنوبی افریقہ کے خلاف پانچواں ونڈے میچ چھوڑ کر آگئے اور الزام لگایا کہ انہیں خراب کارکردگی کے لئے دھمکی دی جارہی ہے۔ اسی کی بنیاد پر انہوں نے ریٹائرڈ منٹ مانگی ہے۔ پیسہ کا لالچ کبھی کبھی کھلاڑی کو ساری حدیں توڑنے پر مجبور کردیتا ہے۔ اس میں سٹے بازوں اور دلالوں کا بھی بڑا یوگدان ہے اور بھارتیہ سٹے باز تو اس میں ماہر ہیں۔ یہ سخت قانون اور سخت سزا سے ہی رک سکتا ہے۔ بی سی سی آئی نے 2000 ء میں کرکٹ سے فکسنگ کو' آؤٹ' کرنے کی سمت میں سخت قدم اٹھائے اور اپنے کھلاڑیوں پر پابندی لگائی۔ اس کے اچھے نتیجے رہے کم سے کم اس کے بعد کسی ہندوستانی کرکٹ کھلاڑی پر فکسنگ کا الزام تو نہیں لگا۔ حالانکہ سابق کرکٹروں کا کہنا ہے پابندی تو ٹھیک ہے لیکن اس کے ساتھ سزا بھی ہونی چاہئے۔ انگلینڈ کی عدالت نے راستہ دکھا دیا ہے اب دنیا کے سبھی کرکٹ بورڈوں اور سرکاروں کو بھی ایسا کرنا چاہئے۔ مجھے محمد عامر پر ضرور تھوڑا دکھ ہورہا ہے۔ اچھا نوجوان بالر ہے ۔ان کے چکر میں وہ پھنس گیا ہے اور اپنا شاندار مستقبل چوپٹ کرلیا ہے۔ ان تینوں کے ایجنٹ اور مبینہ سٹے باز مظہر مجید نے سٹے بازی معاملے کا حصہ ہونا نہ صرف قبول کرلیا ہے بلکہ ساتھ ساتھ یہ بھی مانا ہے کہ اس نے ان تینوں کھلاڑیوں کو 77 ہزار پاؤنڈ اسٹرلنگ دی تھی
Anil Narendra, Cricket Match, Daily Pratap, London, Match Fixing, Pakistan, Vir Arjun

23 ستمبر 2011

ونڈے کی گھٹتی مقبولیت کو روکنے کے لئے سچن کا سجھاؤ



Published On 23rd September 2011
انل نریندر
میرا کرکٹ سے تھوڑا من کھٹا ہوگیا ہے۔ٹیم انڈیا کے انگلینڈ دورے نے کم سے کم میرا تو کرکٹ کے تئیں تھوڑا موہ بھنگ ضرور کیا ہے۔ ہار جیت تو کھیل کا حصہ ہوتا ہے لیکن جس طریقے سے ٹیم انڈیا نے انگلینڈ دورے میں مظاہرہ کیا وہ مایوس کن شرمناک تھا۔ ایک بھی میچ میں وہ ٹکر دینے نہیں آئے۔ یہ کھلاڑی صرف پیسوں کے لئے کھیلتے ہیں،دیش کے جھنڈے کے لئے نہیں۔اور پیسہ ان کو اتنا مل گیا ہے کہ ان کے پاؤں زمین پر نہیں ٹک رہے۔ سچ بتاؤں تو میں اب ہاکی یا فٹبال کا میچ دیکھنا زیادہ پسند کررہا ہوں۔ آج کل چمپئن لیگ میں ٹوئنٹی ٹوئنٹی مقابلہ چل رہا ہے لیکن میرا اسے دیکھنے کا بھی دل نہیں کرتا۔ ورلڈ چمپئن بننے کے صرف پانچ مہینے بعد ٹیم انڈیا کا ایسا حشر ہوگا یہ کسی نے سپنے میں بھی نہیں سوچا ہوگا۔ انگلینڈ دورہ میں مہیندر سنگھ دھونی اور ان کے دھرندروں کا گھمنڈ چکنا چور ہوگیا۔پہنچی توانگلینڈ ورلڈ کی نمبر ون ٹیسٹ ٹیم اور ورلڈ چمپئن کا رتبہ لیکر تھی،جب دورہ ختم ہوا تو بھارت ٹیم ٹیسٹ ریکنگ میں تیسرے اور ونڈے ریکنگ میں پانچویں نمبر پر گرچکی تھی۔یہ ایک ایسا شرمناک مظاہرہ تھا جو گذشتہ ایک دہائی سے زیادہ وقت میں کسی غیر ملکی دورہ میں سننے میں نہیں آیا ہو۔
بہرحال ہندوستان کے مہان کرکٹر سچن تندولکر نے ون ڈے کرکٹ کی گھٹتی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے بین الاقوامی کرکٹ کونسل آئی سی سی کو ایک خط لکھ کر کرکٹ کے اس فارمیٹ کی مقبولیت واپس حاصل کرنے کے لئے کئی اہم تجاویز پیش کی ہیں۔ ونڈے کرکٹ کے بادشاہ سچن نے اس سلسلے میں آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو ہارون لوگاڈ کو تجویز پیش کی ہے کہ 25-20 اوور کے میچ کو 25-25 اوورکی پاریوں والے میچ میں تبدیل کردیا جائے۔ ون ڈے اور ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ رن بنانے کا عالمی ریکارڈ اپنے نام رکھنے والے ماسٹر بلاسٹر سچن تندولکر پہلے بھی ونڈے میں تبدیلی کی بات اٹھاتے رہے ہیں۔ لیکن اس مرتبہ انہوں نے ہر پاری میں اووروں کی تعداد گھٹانے کے علاوہ کئی اور تبدیلیاں پیش کی ہیں۔ سچن نے کہا کہ 25 اوور کی پاری کے میچ میں توازن آئے گا اور پہلے ٹاس جیتنے والی ٹیم کا ایڈوانٹیج ختم ہوجائے گا۔ میچ میں پاری میں بلے بازی کرنے والی ٹیم کی جانب سے ہی دو پاور پلے ہونے چاہئیں لیکن اس کے ساتھ چار گیند بازوں کو12-12 اوور پھینکنے کی اجازت ہونی چاہئے۔ موجودہ قواعد میں ایک گیند باز10 اوور پھینک سکتا ہے۔ سچن کا خیال ہے پچ اور موسم کے حالات میں میدان کردار کے معنی رکھتا ہے اور سکے کے اچھال سے ہی میچ کا کچھ حد تک فیصلہ ہوجاتا ہے۔ غور طلب ہے کہ برطانیہ میں جلٹ کپ میں دو بٹی ہوئی پاریوں کی تجویز آئی تھی جبکہ آسٹریلیا میں انٹر اسٹیٹ کرکٹ ٹورنامنٹ میں 45 اووروں کے میچ کو 20-20 اوور اور 25-25 اووروں کے میچ میں بانٹا گیا تھا۔ آسٹریلیا کرکٹ کے مطابق یہ فارمیٹ کافی کامیاب رہا تھا۔ بھارت میں سبھی کرکٹ کمنٹیٹر ہیں ۔ آپ سب کی سچن کی تجاویز پر کیا رائے ہے۔ میرے خیال میں تجاویز پر غور کرنا چاہئے۔ ہر تجاویز میں دو پہلو ہوتے ہیں ۔ ایسے بھی کرکٹ پریمی ہوں گے جو سچن کی تجاویز سے متفق نہ ہو۔
Anil Narendra, Cricket Match, Daily Pratap, IPL, T20, Vir Arjun,

21 جولائی 2011

دھونی کو بھجن کے مذاق والے اشتہار میں کام نہیں کرنا چاہئے تھا


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 21th July 2011
انل نریندر
دیش کی دو شراب بنانے والی کمپنیوں نے ٹیم انڈیا کے دو کھلاڑیوں میں بلا وجہ کا تنازعہ کھڑا کردیا ہے۔ میکڈوول کمپنی اور رائل اسٹیج ان دونوں شراب کمپنیوں میں بیچ بازار میں وسکی برانڈس کو لیکر دوڑ مچی ہوئی ہے۔ آف اسپنر ہر بھجن سنگھ نے وجے مالیا کی بالا دستی والی کمپنی یو بی اسپریٹر کو ایک ٹی وی اشتہار کو لیکر قانونی نوٹس بھیجا ہے۔ اس اشتہار میں ہندوستانی کمپنی مہندر سنگھ دھونی کو ان کا مذاق اڑاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ یہ قانونی نوٹس ہربھجن سنگھ کے ماں اوتار کور نے اپنے وکیلوں کے ذریعے بھجوایا ہے۔ ہربھجن کے وکیلوں نے قانونی نوٹس میں دعوی کیا ہے کہ یہ اس آف اسپنر اور اس کے خاندان و سکھ فرقے کا کمرشل مذاق ہے۔ ان میں سے ایک وکیل نے کہا کہ کرکٹر ہی نہیں اس کا خاندان بھی اس اشتہار سے پریشان ہیں۔ اس اشتہار کیلئے نوٹس بھیجتے ہوئے بھجی کی ماں اوتار کور کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اشتہارات سے ٹیم انڈیا میں اختلافات پیدا ہوتے ہیں اور انہیں ملک مخالف قرار دیا جاسکتا ہے۔ نوٹس میں کمپنی سے ہربھجن سنگھ کے خاندان سے بڑے اخبارات اورٹی وی چینلوں کو عام طور پر معافی مانگنے اور انہیں نوٹس ملنے کے تین دن کے اندر اشتہار ہٹانے کی مانگ کی گئی ہے۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ’’ میرا موکل آپ کو فوراً نوٹس بھیج کر اپنی غلطی تسلیم کرکے اس میں اصلاح کرنے کا موقع دے رہا ہے اس میں ناکام رہنے پر ہمارے پاس مناسب قانونی کارروائی کرنے کے علاوہ کوئی متبادل نہیں بچے گا۔ جس میں ہتک عزت کا دعوی اور اس طرح کے دیوانی و مجرمانہ کارروائی بھی شامل ہے۔‘‘ اس نوٹس کی لاگت کیلئے کرکٹ کے خاندان نے ایک لاکھ روپے کے معاوضے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ ہربھجن اور دھونی دو الگ الگ برانڈ کا اشتہارکرتے ہیں۔ بھارتیہ کپتان میکڈوول نمبرون پلیٹینیم کے اشتہار میں مبینہ طور پر ہربھجن کا مذاق اڑاتے ہیں۔ ہربھجن رائل اسٹیج کا اشتہار کرتا ہے کہ رائل اسٹیج اور میکڈوول نمبرون دونوں کے درمیان بازار میں وسکی برانڈ کو لیکر مقابلہ ہے۔ یہ اشتہار حالانکہ سوڈا برانڈ کا ہے۔ ہربھجن کے رائل اسٹیج اشتہار کی خاص لائن ہے ’’ہیو آئی میڈ اٹ لارچ‘‘ دھونی نے میکڈوول کے لئے جو اشتہار کیا ہے اس میں ہربھجن جیسا نظر آنے والا شخص کہتا ہے ’’ہیو آئی میڈ اٹ لارچ‘‘ جبکہ دھونی کہتا ہے کہ ’’اگر زندگی میں کچھ کرنا ہے تو لانگ لارچ چھوڑو کچھ الگ کرو یار‘‘ دھونی کے اشتہار میں ہربھجن کی طرح نظر آنے والا شخص بال بیرنگ فیکٹری میں کام کرتا ہے اور بڑی بنانے کی کوشش میں وہ لوہے کی بال کو بہت بڑی بنا دیتا ہے تو اس کے والد اس تھپڑ مار دیتے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ ہربھجن کے والد کی بال بیرنگ بنانے کی فیکٹریاں ہوا کرتی تھیں جہاں ہربھجن بھی کام کیا کرتا تھا۔ شراب بنانے والوں نے بلا وجہ ان دو کھلاڑیوں میں اختلاف پیدا کروا دیا ہے۔ میری رائے میں مہندر سنگھ دھونی کو یہ اشتہار کرنے سے منع کردینا چاہئے تھا۔ جب انہوں نے دیکھا ہوگا کہ اس میں بھجی کے کریکٹر والا شخص ہے اور ہربھجن کا مذاق اڑانے کی کوشش کی گئی ہے ۔ ادھر وجے مالیا کہتے ہیں کہ ہم اشتہار بند نہیں کریں گے اور نہ ہی کوئی ترمیم کریں گے۔
Tags: Anil Narendra, Cricket Match, Dhoni, Harbhajan Singh

پوتن سے جنگ ختم کرنے کی اپیل

جنگ انسانی تہذیب کی سب سے بڑی ٹریجڈیوں میں سے ایک ہے اور آج ایک نہیں کئی جنگیں چل رہی ہیں ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ جنگ سے مسائل کا حل تو دور ا...