Translater

‏Vijay Mallaya لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏Vijay Mallaya لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

24 فروری 2012

عرش سے فرش تک کنگ فشر کا پانچ سالہ سفر

ساتواں آسمان چھونے کے انداز میں دھماکیدار آغاز کرنے والی کنگ فشر ایئر لائنس محض پانچ چھ سال میں ہی جس طرح دیوالیہ کے دہانے پر آکھڑی ہوئی ہے، یہ داستاں جہاز رانی صنعت ہی نہیں بلکہ پوری کارپوریٹ دنیا اور دیش میں بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ سال 2005ء میں کنگ فشر کی لاؤنچنگ کے وقت اس کے رنگ ڈھنگ دیکھ کر امید کی جارہی تھی کہ آنے والے وقت میں یہ کمپنی گھریلو پرواز صنعت کی سمت کی بدل کر رکھ دے گی۔ اپنے الگ طریق�ۂ کار اور اپنی حدود کے دم پر کنگ فشر نے اس وقت گھریلو جہاز رانی صنعت کے آسمان پر چھائی انڈین ایئرلائنس اور جیٹ ایئر ویز کو سخت ٹکر دے کر بازار میں اپنا الگ مقام بنالیا تھا۔ مسافروں کے کرایے کی ٹکڑ لیتے ہوئے اپنی رعایتی پیشکش پر کنگ فشر کافی کم وقت میں بہت سے لوگوں کی من پسند ایئرلائنس بن گئی تھی۔ایسی دمدار شروعات کرنے کے باوجود آج کنگ فشر ایئرلائنس کنگالی کے دہانے پر آ کھڑی ہوئی ہے۔ اس کے پیچھے شراب بنانے کے سب سے بڑے صنعت کار وجے مالیا کا ہاتھ ہے۔ دونوں کامیابی میں بھی اور کنگالی کے دور میں بھی شان و شوکت سے زندگی بسر کرنے والے وجے مالیہ کے بہت سے کاروبار ہیں۔ ایک زمانے میں وہ سرگرم سیاست میں آکر اس سیکٹر کے بھی کنگ بننا چاہتے تھے لیکن راجیہ سبھا کے ممبر ہونے کے علاوہ انہیں اس سیکٹر میں کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی۔ 18 دسمبر1955 ء میں پیدا ہوئے وجے مالیہ کی ساکھ ایک گلیمر پسند پلے بوائے کی بنی ہوئی ہے۔ ویسے کئی کھیلوں کے پرموشن میں ان کا خاصہ تعاون رہا ہے۔ 2007ء میں انہوں نے فارمولہ ون اسپائی کار ٹیم نیدر لینڈ سے 88 ملین یورو کی خریدی تھی، بعد میں اس کا نام بدل کر فورس انڈیا فارمولہ ون رکھا گیا۔ 2004ء میں مالیہ نے ٹیپو سلطان کی تلوار لندن سے ایک لاکھ 75 ہزار پاؤنڈ میں نیلامی سے خرید لی تھی۔ انہوں نے اعلان کیا تھا دیش کی عزت کے لئے وہ ٹیپو سلطان کی تلوار دیش میں لائے ہیں۔ اسی طرح مارچ2009ء میں مالیہ نے نیویارک میں ہوئی ایک نیلامی میں مہاتما گاندھی کے نجی استعمال کی کچھ چیزوں کے لئے 3 ملین ڈالر کی بولی لگا دی تھی۔ مہنگی گھڑیاں ، مہنگی کاروں کے خاص شوقین مالیہ ایسے شخص ہیں جو صنعت سے زیادہ اپنی رنگین مجاز زندگی جینے کے لئے ہمیشہ بحث کا موضوع بنے رہتے ہیں۔ وہ فیشن ٹی وی چینل این ڈی ٹی وی ،گڈ ٹائمس کے بھی مالک ہیں۔ ان کا سالانہ کلینڈر جس میں ملک و بیرون ملک کی خوبصورت اور نیم عریاں ماڈلوں کو دکھایا جاتا ہے ،کافی سرخیوں میں رہتا ہے۔ آج کنگ فشر کی جو بھی حالت ہوئی ہے اس سے مسلسل خسارے میں ڈوب رہے ہندوستانی جہاز رانی سیکٹر کے بحران کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ اس نجی کمپنی نے گذشتہ چار پانچ دنوں میں اپنی درجنوں پروازیں منسوخ کردی ہیں اور کنگالی کی طرف بڑھ رہی یہ کمپنی اپنے ملازمین کو تنخواہ تک نہیں دے پارہی ہے۔
گذشتہ کچھ مہینوں کے دوران اس کے آدھے سے زیادہ پائلٹ نوکری چھوڑکر جا چکے ہیں۔ کنگ فشرکی جو حالت ہے اس کے لئے وہ خود تو ذمہ دار ہے ہی مگر ہماری جہاز رانی پالیسی بھی کم ذمہ دار نہیں ہے۔ یہ ناسور کتنا پرانا ہے یہ تو اس سے ہی پتہ چل جاتا ہے کہ ڈی جی سی اے آج بھی 1937ء کے قاعدوں سے جہاز رانی کمپنیوں کو چلا رہی ہے۔ کہیں کچھ تو گڑ بڑ ضرور ہے اور پھر خسارے میں صرف کنگ فشر ہی نہیں ہے سرکاری جہاز کمپنی ایئر انڈیا تو سفید ہاتھی ثابت ہورہی ہے۔ اب اگر جہاز رانی سیکٹر کو بحران سے جلدی نہیں نکالا گیا تواس میں مزید گراوٹ طے ہے ۔ اس کا اثر درپردہ طور سے صنعتی اور اقتصادی سرگرمیوں پر بھی پڑے گا جن کا اکثر ہم دم بھرتے ہیں۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Kingfisher, Vijay Mallaya, Vir Arjun

16 نومبر 2011

کنگ فشر ایئرلائنس کی بد حالی کیلئے وجے مالیا ہی ذمہ دار




Published On 16th November 2011
انل نریندر
پچھلے مہینے 28 تاریخ کو مجھے اور میری اہلیہ کو دہرہ دون جانا تھا۔ ہم نے ایک مہینے پہلے کنگ فشر ایئر لائنس کی دہرہ دون فلائٹ کے لئے اپنا ٹکٹ بک کرالیا تھا، پیسے بھی دے دئے تھے۔ فلائٹ کے دن سے کچھ دن پہلے ہی ہمارے ٹریول ایجنٹ نے ہمیں مطلع کیا کہ کنگ فشر نے اپنی دہرہ دون پرواز کو اچانک منسوخ کردیا ہے۔ ہمارا دہرہ دون جانا ضروری تھا لحاظہ ہمیں اپنی کار سے جانا پڑا۔ اس کے کچھ دن بعد کنگ فشر ایئر لائنس کی حالت معلوم پڑ گئی۔ ہم اکیلے ہی اس پریشانی کے حامل نہیں تھے۔ کنگ فشر نے گذشتہ ایتوار کو اپنی 40 پروازیں منسوخ کردیں۔ اس طرح ایئر لائنس ابھی تک 250 اڑانیں منسوخ کرچکا ہے جس سے ہزاروں مسافروں کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اب پتہ چلا ہے کہ کنگ فشر ایئر لائنس تقریباً دیوالیہ ہوچکی ہے اور اگر اس کو باہری اقتصادی امداد نہ ملی تو وہ ڈوب جائے گی۔ 100 سے زیادہ پائلٹوں نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ کنگ فشر ایئر لائنس کے مالک صنعت کار وجے مالیااب حکومت پر دباؤ بنا رہے ہیں کہ وہ اس کی مالی مدد کرے تبھی ایئر لائنس بچے گی۔ یہ وہی مالیا ہیں جو دنیا میں اپنے اسٹائل کے لئے جانے جاتے ہیں۔ شیشے سے شیشہ ٹکرانا، نئی گاڑیاں چلانا اور ہواؤں سے باتیں کرنا اچھا ہے ان کا نام وجے دینا ناتھ مالیا نہیں ہے اور نہ ہی وہ اگنی پتھ پر چلنے کے عادی ہیں۔ان کا پورا نام ہے ڈاکٹر وجے مالیا اور وہ ہر سال خوبصورت ماڈل کو علیحدہ سے انٹرڈیوز کرانے کیلئے دنیا کی پوشیدہ جنتوں میں لے جایا کرتے تھے۔ پھر ان کے ذریعے ایک کلنڈر تیار کرتے جو عام تاریخوں ، تہواروں والے کلنڈروں سے کہیں الگ ہوتا ہے اتنا کے لوگ اس کے پیچھے پاگل ہوجاتے ہیں۔ دراصل پلے بوائے وجے مالیا کو تیل چاہئے اور انہیں قرض دینے والوں کو پیسہ۔ مالیا صاحب کے سامنے سنہرہ چیلنج ہے۔ خیر ان کی پارٹیوں اور پارٹیوں میں آنے والی ماڈل ان کی کاریں، ان کا گھر اور شراب خانے .... کیا کہنے۔ مالیا رفتار کے شوقین ہیں ان کے پاس 250 ونٹیج کاریں ، 1 بوئنگ طیارہ727 ، دو کارپوریٹ جیٹ اور 3-4 دیگر جہاز ہیں۔ گاڈ سرسوت بھرم وجے مالیا صنعت کار وٹھل مالیا کے بیٹے ہیں۔ وہ یونائیٹڈبریوریز(یو بی )اور کنگ فشر ایئر لائنس کے چیئرمین ہیں ۔یوبی گروپ دنیا کی دوسری سب سے بڑی شراب بنانے والی کمپنی ہے۔ وجے ایف 1- ٹیم فورسیز انڈیا آئی پی ایل ٹیم بنگلور رائلز چیلنجرس انڈین فٹبال لیگ ٹیم کے ایسٹ بنگال فٹبال کلب کے مالکانہ حق بھی رکھتے ہیں۔ فوربیس نے ان کی نجی املاک 40 ارب کروڑ ڈالر ہونے کا اندازہ لگایا ہے۔ مالیا نے دو شادیاں کی ہیں۔ ان کی پہلی بیوی کا نام ہے سمیرا جن سے ایک بیٹا ہے سدھارتھ مالیا ہے اور بعد میں انہوں نے ریکھا سے شادی کی جن سے انہیں دو بیٹیاں لینا اور تانیہ ہوئیں۔
کچھ کا کہنا ہے کنگ فشر بند ہوجائے تو انہیں تعجب نہ ہوگا۔ یہ کمپنی بازار سے پیسہ نہیں کما پارہی ہے کیونکہ کوئی اسے قرض دینے کو تیار نہیں ہے۔ جن کمپنیوں نے کنگ فشر کو اپنے ہوائی جہاز دئے تھے وہ واپس لے سکتے ہیں۔ کنگ فشر نے مرکزی حکومت سے کمپنی کو بحران سے نکالنے کی اپیل کی ہے۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے مدد کیلئے یقین نہیں دلیا ہے۔ لیکن کسی بھی طرح سرکاری مدد کیلئے جم کر مخالفت بھی ہورہی ہے۔ بجاج آٹو کے چیف راہل بجاج نے کسی بھی طرح کی سرکاری مدد پر اعتراض ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا پرائیویٹ سیکٹر کی کمپنیوں کو سرکاری مدد نہیں ملنی چاہئے۔ کھلے بازار کے سسٹم میں جو مر رہے ہیں انہیں مرنے دینا چاہئے۔ ایک ٹی وی چینل سے بات چیت میں بجاج نے کہا ''میں فخر سے کہتا ہوں کہ میں پرائیویٹ سیکٹر کا شخص ہوں۔ سرکار کے ذریعے پرائیویٹ کمپنیوں کو بحران سے نکلنے کا پیکیج دئے جانے کی دلیل مجھے سمجھ میں نہیں آرہی ہے۔ بینک بھی کنگ فشر کمپنی میں اور پیسہ لگانے کو تیار نہیں ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے چیئرمین نے سی بی آئی کی سربراہی میں 13 بینکوں کے فیڈریشن نے بھی کمپنی سے کہا ہے کہ وہ اپنی طرف سے اور زیادہ سرمایہ کاری کریں۔ ساتھ ہی بینکوں کو مزید مالی تفصیلات مہیا کرائے۔ مالی تفصیلات کی جانچ پڑتال کے لئے بینکوں نے کمیٹی بنائی ہے۔ ان سبھی بینکوں کا کنگ فشر میں کل 23.4 فیصد حصہ ہے جو تقریباً 7700 کروڑ روپے کا ہے۔ بھاجپا نیتا یشونت سنہا نے کہا کنگ فشر ایئر لائنس بند ہو یا پھر کسی اور کمپنی میں مل جائے، کمپنی کو سرکاری مدد نہیں ملنی چاہئے۔ کنگ فشر ایئر لائنس پہلے ہی دن سے خصارے میں چل رہی ہے پھر بھی وجے مالیا کی فضول خرچی اور بربادی کم نہیں ہوئی۔ آج اگر کنگ فشر کی یہ حالت ہے تو اس کے لئے صرف ڈاکٹر وجے مالیا ہی ذمہ دار ہیں۔ ان کے عیش و آرام اور شان و شوکت کے لئے پبلک کا پیسہ نہیں ڈوبایا جاسکتا۔ اگر سرکار کو کچھ کرنا ہی ہے تو پہلے ان لاکھوں کروڑوں لوگوں کے بارے میں سوچے جو آج بھی بے روزگاری ،لاچاری کی زندگی جینے پر مجبور ہورہے ہیں۔ کنگ فشر چلے یا نہ چلے اس پر آنسو بہانے کی ضرورت نہیں۔ ویسے صنعت کار کچھ بھی کہیں لیکن پردھان منتری سے کچھ بھی کروانا ناممکن نہیں مانا جاسکتا۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Kingfisher, Vijay Mallaya, Vir Arjun

گیا نیش کمار کا حفاظتی کوچ؟

ووٹ چوری کے الزامات کو دوہراتے ہوئے لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر گیا نیش کمار کو خبر دار کیا ہے اور تجویز بھ...