Translater

04 فروری 2017

پنجاب ۔گووا میں کیا پیشگوئی کررہے ہیں یہ سروے

پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ کو لیکر پورے دیش میں مچی ہلچل کے درمیان سنیچر کو ووٹنگ کا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔ ابتدا پنجاب اور گوو ا سے ہورہی ہے۔ ان دونوں ریاستوں میں ایک ہی دن ووٹ پڑیں گے۔ پنجاب میں 117 سیٹیں ہیں جبکہ گووا میں 140 سیٹیں ہیں۔ پہلے بات کرتے ہیں پنجاب کی۔ اس ریاست میں عام آدمی پارٹی کے میدان میں کودنے سے چناؤ تکونہ بن گیا ہے۔ مختلف سرووں میں الگ الگ تصویریں سامنے آرہی ہیں۔ ’آج تک‘ نے ایکسس کے ساتھ مل کر جو سروے کرایا ہے اس میں کانگریس کی سرکار بننے کا دعوی کیا گیا ہے۔ سروے میں کانگریس کو60سے65 سیٹیں ملنے کی امید جتائی جارہی ہے جبکہ عام آدمی پارٹی کو 41 سے44 سیٹیں مل سکتی ہیں، اکالی۔ بھاجپا تیسرے نمبر پر ہے اس کو 11-15 سیٹیں مل سکتی ہیں۔ سی ووٹر نے اس کے برعکس پنجاب میں عام آدمی پارٹی کو 63 سیٹیں ملنے کا امکان ظاہر کیا ہے اور سرکار وہی بنا رہی ہے۔ کانگریس کو 43 اور اکالی ۔بھاجپا کو11 ، دونوں ہی سرووں میں اکالی۔ بھاجپا تیسرے نمبر پر ہے۔ پنجاب میں سٹے بازوں نے جو بھاؤ دئے ہیں اگر اسے نتیجے میں ٹرانسفر کیا جائے تو یہ ہر کسی کو چونکانے کے لئے کافی ہوں گے۔ دوسرے سرووں میں پنجاب میں عام آدمی پارٹی کو 57-59 سیٹیں ملنے پر سٹہ لگا رکھا ہے ۔ کانگریس کو 44-46 سیٹیں ، اکالی۔ بھاجپا اتحاد کو 10-11 سیٹیں ملنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ سب سے اہم سیٹ لمبی جہاں سے وزیراعلی پرکاش سنگھ بادل چناؤ لڑ رہے ہیں اس پر 50 سے60 کا بھاؤ لگایا گیا ہے۔ لمبی میں ہی کانگریس کی جانب سے سی ایم کے امیدوار کیپٹن منندر سنگھ بھی چناؤ لڑ رہے ہیں اور عاپ بھی وہاں میدان میں ہے۔ وہیں جلال آباد میں عام آدمی پارٹی کے بھگونت مان اور ڈپٹی سی ایم سکھبیر سنگھ بادل چناؤ میدان میں ہیں۔ ان پر 90-90 کا سٹہ لگایا گیا ہے۔ اتفاق سے اروند کیجریوال نے پنجاب کے بعد گووا ایسی ریاست چنی جو سائز میں بہت چھوٹی ہے جہاں بھاجپا اور کانگریس میں سیدھی لڑائی ہے ویسے تو دہلی میں عاپ نے سارے تجزیئے جھوٹے ثابت کردئے تھے لیکن اس کے ساتھ بنیادی طور سے کانگریس کا ووٹر جڑا تھا۔ دہلی میں محض 3 سیٹیں ملنے پر بھی بھاجپا ووٹ شیئر میں کوئی زیادہ کمی نہیں آئی تھی۔ کیجریوال اشو بنانے اور اسے لوگوں تک پہنچانے میں مہارت حاصل کرچکے ہیں۔ ساری دنیا کہتی رہی کہ ان کی سرکار نے پچھلی کانگریس سرکار کے مقابلے کچھ نہیں کیا پھر بھی کیجریوال اپنی سرکار کو دیش کی سب سے بڑھیا حکومت کا تمغہ دئے ہوئے ہیں۔ آج تک ۔ ایکسس سروے کے مطابق گووا کی 40 سیٹوں میں تھے بھاجپا کو 22-25 سیٹیں ملنے کاامکان ہے۔ کانگریس کو 12-14 سیٹیں ، عام آدمی پارٹی کو 1-2 سیٹیں ملنے کا امکان ہے۔ دیکھیں جب ای وی ایم کھلتی ہے تو کونسا سروے صحیح ثابت ہوتا ہے۔
(انل نریندر)

مسجد میں نمازیوں پر اندھا دھند فائرننگ

دہشت گردی سے آج دنیا کا کوئی ملک محفوظ نہیں ہے۔ دنیا کا کافی حدتک پرامن مانے جانے والا ملک کینیڈا بھی اس کی مار سے نہیں بچ سکا۔ ایتوار کی شام کینیڈا کے کیوبک شہر کی ایک مسجد میں حملہ آوروں نے اندھا دھند فائرننگ کر 6 لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔ حملے میں 8 لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹس تردو نے اسے مسلمانوں کے خلاف دہشت گردانہ حملہ بتایا ہے۔ ان کا کہنا ہے جانچ جاری ہے اور فائرننگ کے سلسلے میں کچھ لوگوں کو گرفتار بھی کرلیا گیا ہے۔ یہ واردات اس وقت ہوئی جب کیوبک سٹی اسلامک کلچرسینٹر کے اندر تقریباً40 لوگ نماز ادا کررہے تھے۔ حملہ آوروں کی تعدادشروع میں تو 3 بتائی گئی۔ مسجد کے امام محمد یانگوئی نے کہا کہ مجھے سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ اس طرح کا حملہ یہاں کیوں کیا گیا؟ اس سے پہلے 2016ء میں اسی مسجد کے باہر سیڑھیوں پر کسی نے ایک سوور کا سر رکھ دیا تھا۔ کیوبک سٹی میں مسلمانوں کی اچھی خاصی تعداد ہے۔ ان میں سے زیادہ تر نارتھ امریکہ سے آئے ہوئے ہیں۔ 2015ء کے قومی چناؤ میں خواتین کا برقع یہاں ایک بڑا اشو بنا تھا۔ یہاں کی اکثریتی آبادی پبلک پروگراموں میں نقاب پر پابندی کی حمایت کررہی تھی۔ حالیہ برسوں میں یہاں اسلام کے خلاف ماحول حاوی رہا۔ 2015ء میں پیرس آتنکی حملے کے ایک دن بعد اوتاریو کی ایک مسجد میں آگ لگا دی گئی تھی۔ 20 دسمبر 2016ء کو میونخ (جرمنی) کی مسجد میں فائرننگ میں تین لوگ زخمی ہوگئے تھے۔ اس حملے سے پہلے وزیر اعلی ترودو نے کہا تھا کہ کینیڈا میں سبھی ملکوں سے آنے والوں کا خیر مقدم ہے۔ انہوں نے یہ بات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ذریعے سات مسلم ملکوں کے شہریوں کے امریکہ میں روک کے فرمان پر رد عمل میں کہی تھی۔ کینیڈا کے لبرل پارٹی کے ایم پی گریگ فیریکس نے کہا کہ یہ آتنکی واردات مسلمانوں کی برسوں سے جاری دھارمک پڑھائی کا نتیجہ ہے۔ نفرت پھیلانے والی تقریروں کا نتیجہ سامنے آیا ہے۔ کیوبک صوبے کے وزیراعلی فلپ کوئیلارڈ نے مسلم برادری کو کہا کیوبک صوبہ مسلمانوں کے گھر جیسا ہے ہم سبھی آپ کے ساتھ ہیں۔ پچھلے کچھ سال میں ہوئے گنے چنے واقعات کو اگر چھوڑدیں تو کینیڈا کی گنتی دنیا کے پرامن دیشوں میں کی جاتی ہے بلکہ کئی بار تو مذاق میں یہ تک کہہ دیا جاتا ہے کہ کینیڈا کی زندگی میں کوئی تھرل نہیں ہے۔ اس واردات کو بھلے ہی کسی نے انجام دیا ہے لیکن امید کی جاتی ہے امن پسند دیش کینیڈا دہشت گردی کی زد میں نہیں آئے گا۔ یہ ٹھیک ہے دہشت گردی پر قابو پانے کیلئے اچھے پولیس انتظامیہ اور خفیہ ایجنسیوں کی ضرورت ہوتی ہے لیکن سچ یہ بھی ہے کہ یہ پورا سلسلہ لوگوں کے سوچنے سمجھنے کے طریقے اور ان کی ذہنیت کو بھی بدلتا ہے جس کا دیر سویر اثر سرکاروں پر بھی دکھائی دیتا ہے۔ امید یہی ہے کہ تلخی کا راستہ کینیڈا میں تھمے گا۔
(انل نریندر)

03 فروری 2017

یوپی چناؤ :نریندر مودی بناماکھلیش بنام مایاوتی

اتر پردیش میں چناؤ جیسے جیسے اپنے مقام کی جانب بڑھ رہاہے ،چناؤ دلچسپ موڑ میں داخل ہورہاہے۔ ایک تازہ سروے میں سٹہ بازار کے مطابق سماجوادی پارٹی اور کانگریس چناوی تال میل ہونے کے بعد یہ اتحاد سب سے آگے ہے ۔اسے 164سے 167سیٹیں مل سکتی ہیں ۔ جبکہ ان کے مطابق بھاجپا دوسرے نمبر ہے ۔ اسے 127سے 130سیٹیں مل سکتی ہیں جبکہ بسپا کو85سے 89سیٹیں مل سکتی ہیں ۔
اترپردیش چناؤ کے اسٹار کمپینر وزیر اعظم نریندر مودی (بھاجپا کے لئے )اکھلیش یادو ،راہل گاندھی ‘پرینکا گاندھی اور ڈمپل یادو سپا کے لئے اور مایاوتی (بسپا )ملائم سنگھ یادو فی الحال ناراض ہیں ۔وہ کہہ رہے ہیں چونکہ سپا کانگریس اتحاد کے خلاف ہیں اسلئے چنا ؤ پرچار نہیں کریں گے ۔پہلے بات کرتے ہیں بھارتیہ جنتا پارٹی کی اس نے یوپی چناؤ کے لئے 40اسٹار پرچارکوں کی فہرست جاری کی اس لسٹ میں پی ایم نریندر مودی کے علاوہ کئی وزراء کو جگہ دی ہے لیکن پارٹی کے مارگ درشک منڈل کے لیڈر لال کرشن اڈوانی اور کانپور سے ایم پی ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی کا نام غائب ہے وہیں وزیر خارجہ ششماسوراج اور ریاست کے سابق بھاجپا صدر لکشمی کانت باجپائی اور ونے کٹیار ورون گاندھی کا نام بھی لسٹ سے غائب ہے ۔ حالانکہ پارٹی نے یوگی ادتہ ناتھ اور سنجیو بالیان کو جگہ دی ہے ۔خاتون لیڈروں میں ہیما مالنی اسمرتی ایرانی بھی پرچار کریں گی ۔چناوی سروے نے اترپردیش کا چناؤ اکھلیش بنام مودی مان لیا ہے۔سپا کے اندر مہینوں سے جاری گھمسان کے بعد جب اکھلیش جیت گئے تو تجزیہ نگاروں کو لگنے لگا ہے کہ گھر کی لڑائی تو اکھلیش جیت گئے ،اب اصلی لڑائی مودی سے ہونی ہے اس لئے اس چناؤ کو اکھلیش بنام مودی بنادیا ہے ۔ مودی کے نام کی دلیل اس لئے دی جارہی ہے کہ یوپی میں بھاجپا نے وزیر اعلی کاچہر ا اعلان نہیں کیا ہے بھاجپا مودی کے فیس پر چناؤ لڑے گی ۔بسپا کے امیدواروں کے لئے بہن جی اسٹار کمپینر ہے تقریباً ہر اسمبلی سیٹ پر امید وار ان کی ریلی چاہتے ہیں وہ پہلے بھی اپنے دم خم پر پارٹ کو کامیابی دلاچکی ہیں ۔بہوجن سماج پارٹی کو لوگ عموماً بہتر قانو ن ونظام دینے والی پارٹے کے طور پر جانتے ہیں بہن جی نے 2012 میں سرکار بنانے کے بعد ریاست میں قانون ونظام ٹھیک کرتے ہوئے جرائم کے واقعات پر لگام کسی تھی ۔ اور پارٹی کے اندر سے ہونے والی ادھر ادھر کی پیرویوں کو سننا بند کردیاتھا اس چناؤ میں بہن جی پچھلے پانچ سال میں بگڑنے حالات پر زیادہ فوکس کریں گی ۔سپا کانگریس نے نئی پیڑھی کمان سنبھال رہی ہے ۔ سپا کانگریس اتحاد کے بعد سب کی نگاہیں پیرینکاگاندھی اور ڈمپل یادو کی جوڑی پر ہے ۔ وہ اس مرتبہ کبنہ اور شوہر کی پرچھا ئے باہر نکل کر پارٹی کے لئے وسیع طور پر کمپین کریں گی ۔ پیرینکا بھی ماں اور بھائی کو جتانے کیلئے ریاست بھر میں اسٹار کمپینر کارول نبھائیں گی ۔ ایسے میں دونوں کے لئے چنوتی بڑھ گئی ہے ۔اترپردیش کی سیاست ذات پات کے پہیوں پر چلتی ہے لیکن لو ک سبھا چناؤ میں نریندر مودی کے سبب ذات پات کے تجزیہ تباہ ہوگئے تھے ۔چونکہ مودی کا وکاس کا نعرہ دیگر اشو پر بھاری پڑاتھا ۔ اکھیلش اس بات کو سمجھ رہے ہیں اس لئے انھوں نے بھی وکاس کو اشو بنایا ہے اور وہ ضرب کا حساب بنا کر چل رہے ہیں اس سے بسپا بھاجپا کے لئے سخت چیلنچ کھڑا کر سکتے ہیں ۔ وجہ یادو مسلم ووٹ کا تجزیہ ان کے حق میں ہے ۔ اتحاد کے ذریعہ ووٹ کی تقسیم رو کنے کی کوشش ہے ۔نئے چہروں کو سامنے لاکر انھوں نے وکاس کے ایجنڈے میں بھی اپنا چہر ہ فٹ کرنے کی کوشش کی ہے ۔مطلب کئی معنوں میں اترپردیش کا چناؤ نریندر مودی بنام اکھلیش یادو ہوسکتاہے ۔ 
(انل نریند)

نئے پولس کمشنر امولیہ پٹنائک کا خیر مقدم ہے

ملنسار اور نرم گو ساکھ کے مالک مسٹر امولیہ پٹنائک کادہلی کے نئے پولس کمشنر کے طور پر خیر مقدم ہے قابل قدر خدمت کے لئے پولس میڈل یافتہ امولیہ پٹنائک ایک نئے نظریہ کی شخصیت کے حامل ہیں جو کچھ نیا کرکے دکھانا چاہتے ہیں ۔ اس کے لئے وہ اپنے طور پر بھی مختلف عہد وں پر رہتے ہوئے کرتے رہے ہیں پولس ملازمین کو لگتا تھا کہ کبھی بھی پٹنائک سربراہ بن کر آسکتے ہیں امولیہ پٹنائک اپنے پولس پریوار کوساتھ لیکرچلنے میں یقین رکھتے ہیں ۔ان کو اپنے پولس والوں کی سلامتی کا ہمیشہ خیال رہا ہے وہ ہر پولس والے کی سلامتی کے مسئلہ کو سنجید گی سے لیتے ہیں ۔ آنے والے دنوں میں ہوسکتا ہے کہ پولس اور انکے پریوار میں جو مسئلے التوا میں پڑے ہیں ان کو عمل میں لانے کیلئے دستخط کرائیں ۔ان کے ساتھ رہ کر کام کرنے والے پو لس عملے کے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ وہ انکی پریشانیوں کو دھیان سے سنتے ہیں او رانکی دور کرنے کی کوں شش کرتے ہیں ۔ دہلی پولس نے مختلف عہد و ں پر رہتے ہوئے کئی ذمہ داریوں کو بخوبی نبھایا ہے خاص کر عورتوں اور بچوں کے خلاف ہونے والے جرائم کو روکنے میں انھیں مہارت حاصل ہے اس لئے امید کی جاسکتی ہے کہ وہ دہلی میں عورتوں کے خلاف ہونے والے جرائم پر نکیل کسنے کے لئے موثر ڈھنگ سے قدم اٹھائیں گے ۔پولس کے ذرائع کے مطابق امولیہ پٹنائک کے نام پر کئی اہم کار نامے درج ہیں وہ کافی عرصہ تک جوانٹ کمشنر پولس اپریشن بھی رہے ہیں انکے عہدمیں دہلی پولس کرائم جانچ نئی اونچائیوں تک پہنچی اور انھیں کی عہد میں ممبئی دھماکہ ،وپارسل بم کیس میں دولاکھ کے انعامی بد معاش کو دبوچا گیا انھیں کی نگرانی میں سریتی وہار اسکولی بچی کے اغوا کے معاملے کو محض بارہ گھنٹہ میں سلجھاکر بد معاش کو پکڑا گیا تھا ۔دہلی پولس کے نئے بوس کے سامنے کئی چنوتیاں بھی ہیں کچھ اندورنی اور باہری شامل ہیں ۔
خواتین پر بڑھتے جرائم وسلامتی بھی ایک بڑا چیلنچ ہے ۔ نابالغوں کا جس طرح سے گینگ استعمال کررہے ہیں ،ڈرگس او رناجائز ہتھیار دہلی آرہے ہیں ان پر لگام کسنا ضروری ہے ۔ اعلی پولس افسر امولیہ پٹنائک نے دہلی شہر کو جس باریکی سی دیکھا او رسمجھا ہے انکی قابلیت کی وجہ سے انھیں وی آپی شخصیتوں کی سلامتی کی ذمہ داری سونپی گئی ۔ انکی ترجیحات میں پولس اور جنتا کے درمیا ن جو خلیج ہے اس کو بھی بھرنا ہے ان کا ہمیشہ خیال رہا ہے کہ کوئی بھی ایجنسی شہر کے لوگوں کو جب تک ساتھ لیکر نہیں چلے گی تب تک اس شہر میں سلامتی کو لیکر ٹینشن بنی رہے گی ۔ مسٹر امولیہ پٹنائک کا ہم خیر مقد م کرتے ہیں ۔
(انل نریندر ) 

01 فروری 2017

پنجاب میں دونوں سینا پتیوں کو آخری موقعہ

پنجاب اسمبلی چناؤ اس بار کانگریس اور اکالی دل کے سربراہوں کیلئے نہ صرف وجود کا ہی سوال ہے بلکہ ساتھ ساتھ دونوں کی ساکھ بھی داؤ پر لگی ہے۔ دونوں پارٹیوں کے سینا پتیوں کے لئے یہ چناؤ آخری چناؤ بھی ہوسکتا ہے۔ کانگریس کے وزیر اعلی عہدے کے دعویدارکیپٹن امرندر سنگھ اور پنجاب کے موجودہ وزیر اعلی پرکاش سنگھ بادل دونوں کے لئے یہ چناؤ ناک کا سوال بنا ہوا ہے۔ دونوں نے ہی ان چناؤ کو اپنی زندگی کا آخری چناؤ مان کر پورا زور لگادیا ہے۔ لامبی اسمبلی سیٹ پرپچھلے 20 سال سے شرومنی اکالی دل کا قبضہ ہے۔ وزیر اعلی پرکاش سنگھ بادل چار بار سے اسمبلی چناؤ یہاں سے جیت رہے ہیں۔ اس بار کانگریس کے وزیر اعلی امیدوار کیپٹن امرندر سنگھ نے بھی لامبی سے چناؤ لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی عام آدمی پارٹی نے دہلی اسمبلی سے استعفیٰ دلواکر جرنیل سنگھ کو دونوں سرکردہ لیڈروں کے سامنے اتارا ہے۔ جہاں تک پنجاب اسمبلی چناؤ میں اشو کی بات ہے تو نشہ خوری بڑے مسئلے کی شکل میں سامنے آگیا ہے۔ 76 فیصدی لوگ ریاست میں افیم لینے کے عادی بتائے جاتے ہیں جن میں 18 سے35 سال کے نوجوان زیادہ ہیں۔ پنجاب چناؤ میں مختیار سنگھ کاسی بھی سرخیوں میں ہیں۔ مارچ2016ء میں ان کے بیٹے منجیت کی ڈرگ کی زیادہ مقدار لینے کے سبب موت ہوگئی تھی۔ اس کے بعد مختیار نے ڈرگس سے لڑائی کواپنا مقصد بنا لیا ہے۔ وہ ترنتارن (پٹی ڈسٹرکٹ) میں کگھن بول پیا کمپین کے ہیرو ہیں۔ مجھے نیتا نہیں بننا ہے میں اپنے جوان پوت دی لاش نو شمشان لے کر گیا۔ میں نئی چاندہ کی کسی ہوردے پیو نو اے دن دیکھنے پاویں۔ 1966ء میں ہریانہ کے قیام کے بعد سے ہی پنجاب اور ہریانہ کے درمیان آبی بٹوار ے پر تنازعہ بنا ہوا ہے۔ پنجاب کہتا ہے ہمارے پاس خود کے لئے پانی کافی نہیں ہے۔ ہم ہریانہ کے ساتھ کیسے بانٹیں؟ نیتاؤں کو سیاست چھوڑ کر اس مسئلے کا حل نکالنا چاہئے۔ پنجاب میں کسانوں کی بدحالی ایک بڑا مسئلہ ہے ۔ ہر کسان پریوار پر 8 لاکھ اوسطاً زرعی قرض ہے۔ 6 سال میں 6926 کسانوں نے خودکشی کی ہے۔ پنجاب ایگریکلچرل یونیورسٹی میں شعبہ معاشیات کے ہیڈ سکھ پال سنگھ نے کہا کہ سال2000 سے 2010ء کے درمیان سات ہزار سے زیادہ کسان خودکشی کرچکے ہیں۔ سرکار چناؤ کی وجہ سے اعدادو شمار کم بتا رہی ہے۔ ریاست میں 8.8 کروڑ دلت فرقے کے لوگ ہیں۔ 61 فیصدی کنبے خط افلاس کی زندگی بسر کررہے ہیں۔ جالندھر کی پہچان بن چکے حویلی ڈھابے پر بحث میں اپنے نظریات رکھتے ہوئے دلت مصنف ایس ایل وردی نے کہا ہمارے پاس کلچر، ادب اور سیاسی سمجھ سب ہے اس کے باوجود ریاست میں آج تک کوئی دلت وزیر اعلی نہیں بنا۔ کسی بھی پارٹی نے دلتوں کو مناسب جگہ نہیں دی ہے۔
(انل نریندر)

سی بی آئی بنام سی بی آئی

یہ پہلی بار ہی ہے کہ بصد احترام سپریم کورٹ نے سی بی آئی کے موجودہ ڈائریکٹر آلوک ورما کو سابق ڈائریکٹر رنجیت سنہا کے خلاف جانچ کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ رنجیت سنہا اس معاملے میں ضروری تاریخ بنانے میں کامیاب رہے کہ وہ پہلے پوری سی بی آئی کے چیف ہیں جن کے مجرمانہ کارناموں کی جانچ سی بی آئی ہی کرے گی۔ معاملہ کچھ یہ ہے،رنجیت سنہا کے عہد میں جن بڑے گھوٹالوں کی جانچ دیش کا یہ اعلی خفیہ ادارہ کررہا تھا ان میں سے بہت سے رسوخ دار ملزمان سے وہ خفیہ طور سے ملتے تھے۔ سپریم کورٹ نے کوئلہ گھوٹالہ معاملے میں ان کے خلاف جانچ متاثر کرنے کے الزامات کی جانچ کے لئے ایس آئی ٹی بنا دی ہے۔ یہ اس معاملے میں سپریم کورٹ کی طرف سے پہلے سے بنی ایم ایل شرما کی رہنمائی والی کمیٹی کی رپورٹ کی پڑتال کرے گی جس نے پہلی نظر میں سنہا کو اختیارات کا بیجا استعمال کرنے کا قصوروار پایا ہے۔ ایس آئی ٹی پتہ لگائے گی کہ کیا سنہا اور کوئلہ گھوٹالہ کے ملزمان کی ملاقات سے جانچ پر اثر پڑا؟ الزام ہے کہ سنہا نے ملزمان سے ملی بھگت کر انہیں بچانے کی کوشش کی۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ رنجیت سنہا کے خلاف ہونے والی جانچ کس نتیجے پر پہنچتی ہے لیکن اس سے بڑی بدقسمتی اور کوئی نہیں ہوسکتی کہ اس ادارے پر کرپشن کے ایک بڑے معاملے کی جانچ صحیح طرح سے کرنے کی ذمہ داری بھی اس کے ہی چیف کے خلاف اسی معاملے کی جانچ میں لیپا پوتی کرنے کا نہ صرف الزام لگا بلکہ وہ پہلی نظر میں صحیح بھی مانا گیا۔ اس الزام کو تقویت اس وقت ملی تھی جب سنہا کے مکان کی وزیٹر ڈائری میں ان لوگوں کے نام درج ملے جو کوئلہ گھوٹالے میں شامل تھے۔ یہ صحیح ہے کہ جانچ رپورٹ آنے سے پہلے رنجیت سنہا کے بارے میں کوئی نتیجہ نہیں نکالا جانا چاہئے لیکن اس مسئلے نے دیش کی افسر شاہی میں آرہی کچھ بیحد سنگین بیماریوں کی طرف ہماری توجہ مرکوز کی ہے جس پر ابھی بات نہیں کی گئی تو بہت دیر ہوجائے گی۔ سرکاری عملے میں کرپشن کا مسئلہ سکہ کا ایک پہلو ہے کچھ ایک بڑے مگر مچھ اگر اپنے بدکارناموں کیلئے ریٹائرئمنٹ کے بعد بھی سزا پا جاتے ہیں تو اس پرکچھ روک لگ سکتی ہے کیونکہ خود سپریم کورٹ کے سامنے یہ اجاگر ہوا ہے کوئلہ گھوٹالے کی ابتدائی جانچ رپورٹ میں اس وقت اقتدار میں بیٹھے لوگوں کی طرف سے ردوبدل کی گئی تھی اس لئے یہ پتہ بھی چلناچاہئے کہ غفلت صرف رنجیت سنگھ کی ہی طرف سے برتی گئی یا پھر اس میں اس وقت کے انتظامیہ کی بھی ملی بھگت تھی؟ بلا شبہ سی بی آئی کے لئے یہ کوئی ایک خوش آئین صورتحال نہیں ہے کہ اسے اپنے ہی سابق ڈائریکٹر کی جانچ کرنی پڑ رہی ہے ، لیکن ان کے سامنے سچ کو سامنے لانے کی جو چنوتی ہے اس پر کیا وہ کھری اترے گی؟
(انل نریندر)

31 جنوری 2017

سپا ۔کانگریس پارٹیاں تو ملیں لیکن کیا دل بھی ملے ہیں

دعوی بھلے ہی بہار کی طرز جیسا کیا جارہا ہو لیکن اترپردیش میں سماجوادی پارٹی اور کانگریس کے درمیان ویسا اتحاد نہیں ہوا۔ بہار میں پارٹیوں کے ساتھ ان کے دل بھی ملے تھے اس لئے نتیجے بھی اچھے آئے لیکن کیا یہی حقیقی صورتحال یوپی میں بھی ہے؟ سپا۔ کانگریس کے درمیان ہوئے اس سمجھوتے سے کانگریس کے کئی بڑے نیتا اور ورکر اپنے آپ کو ٹھگا ہوا سا محسوس کررہے ہیں۔ کیونکہ فیصلہ ہائی کمان کا ہے اس لئے دکھی دل سے قبول کرنا مجبوری ہے۔ پارٹی کے ایک سینئر لیڈر نے کہا کہ راہل اور پرینکا کی اتنی بے عزتی کے بعد ہوئے ایک سمجھوتے کو کانگریس کے حمایتی اور ورکر زمین پر کیسے اتاریں گے؟ پردیش کانگریس کے نیتا سپا کے ساتھ ایسے کسی سمجھوتے کے لئے تیار نہیں تھے جو جھک کر کیا گیا ہو۔ امیٹھی اور رائے بریلی کی سیٹوں پر ٹکراؤ بنا ہوا ہے۔ کانگریس ان دونوں ضلعوں کی سبھی سیٹوں پر دعوی ٹھونک رہی ہے۔ سنا ہے کہ سپا یہ سیٹیں کانگریس کو دینا مان گئی ہے جبکہ سپا 2012ء میں یہ جیتی ہوئی سیٹیں چھوڑنے کوتیار نہیں تھی البتہ وہ اتحاد کی مجبوری کو دیکھتے ہوئے کچھ سیٹیں چھوڑنے کے لئے تیار ہوئی ہے۔ اس ٹکراؤ کا اثر سانجھہ چناؤ کمپین پر بھی پڑ سکتا ہے۔ فی الحال چناؤ کے لئے سیاسی کیمسٹری تیار کرنے میں دونوں کو خاصی مشقت کرنی پڑے گی۔مہا گٹھ بندھن روکنے کے لئے کہتے ہیں کہ بھاجپا کے حکمت عملی سازوں نے پہلے ہی اجیت سنگھ کے آر ایل ڈی کو باہر نکلوایا۔ اس سے کانگریس کا دباؤ کمزور ہوا۔ پریوار اور پارٹی میں یادوی گھمسان میں کامیاب ہونے کے بعد اکھلیش کا سیاسی گراف یکا یک خاصہ اوپر چلا گیا۔ اس گھمسان میں کانگریس نے درپردہ طور سے اکھلیش کی حمایت کی۔ کانگریس۔ سپا کی یہ دوستی دونوں بھاجپا اوربسپا کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ کانگریس کی نظر 2019ء کے لوک سبھا چناؤ پر لگی ہے۔ پارٹی کو لگ رہا ہے کہ سپا کے کندھے پر سوار ہوکر اگر اس بار یوپی میں اپنی طاقت میں اضافہ کر لیتی ہے تو2019ء میں اسے اتنی مشقت نہیں کرنی پڑے گی جتنی 2014ء میں اپنے وجود کو بچانے کے لئے کرنی پڑی تھی۔ وہیں سپا کو امید ہے کہ کانگریس کے ساتھ آنے سے جو مسلم ووٹ بسپا کی طرف جھک رہا تھا اب وہ اس گٹھ بندھن کے ساتھ آجائے گا۔ اس کے ساتھ سپا کو یہ امید بھی ہے کہ سپا کا یادو ووٹ بھی جہاں کانگریس امیدوار کھڑا ہے اسے مل جائے گا اس سے کانگریس کا ووٹ شیئر اور سیٹیں دونوں بڑھ جائیں گی لیکن کیا یہ اتحاد زمینی سطح پر بہتر ثابت ہوگا؟ کیادونوں پارٹیوں کے ورکروں کا من بھی ملے گا؟ یہ بڑا سوال ہے۔ ابھی بھی کچھ سیٹیں بچی ہیں جن پر فیصلہ ہوناباقی ہے۔ اکھلیش نے گٹھ بندھن کو پروجیکٹ کرنے کے لئے جو نیا پوسٹر بنایا ہے اس میں ملائم ،ڈمپل کے علاوہ راہل اور پرینکا بھی ہیں۔ دیکھیں یہ گٹھ بندھن بنیادی طور پر کتنا کھرا اترتا ہے۔
(انل نریندر)

7 دیشوں کے مسلمانوں پر ٹرمپ کی پابندی

اپنے چناوی وعدے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آتنک وادیوں پر روک پلاننگ کے تحت پاکستان سے امریکہ آنے والوں پرسختی کرنے کے احکامات دئے ہیں۔ اب سخت چھان بین اور پوچھ تاچھ کے بعد ہی کسی پاکستانی کو امریکہ میں داخلہ ملے گا اسی زمرے میں سعودی عرب اور افغانستان کو بھی رکھا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے 7 مسلم ممالک سے کسی کے بھی آنے پر دن کی روک لگا دی ہے۔ مہاجروں کو داخلہ دینے کی اسکیم 120 دن کے لئے ملتوی کردی گئی ہے۔ جن دیشوں کے مہاجرین پر روک لگائی گئی ہے وہ ہیں ایران، عراق، شام، لیبیا، یمن، سوڈان اور صومالیہ۔ سنیچر کو اس سے متعلق ٹرمپ کے ایگزیکٹیو فیصلے کے بعد ہی امریکی انتظامیہ نے کارروائی شروع کردی ہے حالانکہ شہری حقوق کے لئے کام کرنے والی ایک تنظیم کی عرضی پر وہاں کی عدالت نے ٹرمپ کے حکم کے خلاف فیصلہ سنا دیا ہے۔اس پر ٹرمپ نے کہا کہ وہ مسلمانوں کے خلاف نہیں ہیں بلکہ صرف مسلم دہشت گردی کو روکنا چاہتے ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ 9/11 کے بعد سے ہی اسلامک آتنک وادی واقعات ہوتے آرہے ہیں جنہیں لے کر امریکیوں میں بہت ناراضگی ہے۔ اس ناراضگی نے ہی ٹرمپ کو صدر بنایا ہے لہٰذا اسے بھنانے کا کوئی اور موقعہ وہ نہیں چھوڑنے والے ہیں۔ ٹرمپ کے اس قدم کی چوطرفہ مخالفت ہورہی ہے حالانکہ ٹرمپ نے بھلے ہی صفائی دی ہو کہ وہ مسلم فرقے کے خلاف نہیں ہیں لیکن مہاجرین کے معاملے میں جس طرح سے انہوں نے کہا کہ عیسائیوں کو ترجیح دی جائے گی، اس سے ظاہرہے ان کا قدم کچھ لوگوں کو نسلی بنیاد پر مناسب نہیں لگا۔ یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ کچھ اسلامک آتنکی تنظیم القاعدہ، اسلامک اسٹیٹ امریکہ کے خلاف لگاتار سرگرم ہیں اور مسلم فرقہ کے نوجوانوں کو ورغلانے میں کامیاب رہے ہیں ایسے میں امریکہ کو اپنی سلامتی کے لئے قدم اٹھانے کا پورا حق ہے۔ یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ یوروپ میں شام اور دیگر عرب دیشوں میں بے قصور شرنارتھیوں کے ساتھ ساتھ آئی ایس نے اپنے لڑاکو آتنکی بھی بھیج دئے ہیں اور یہعناصر یوروپ میں آئے دن حملہ کرتے رہتے ہیں۔ یہ بات کسی سے چھپی نہیں ہے کہ 9/11 کے آتنکی حملے کے بعد سے امریکہ میں ایک بڑا طبقہ مسلمانوں کو شبہ کی نظر سے دیکھتا آرہا ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ مسلم ملکوں کے دہشت گردوں کو امریکہ میںیہ پناہ دیتے ہیں اور وہ سب امریکہ کے خلاف نفرت پھیلا رہی ہیں اس لئے مختلف ملکوں سے امریکہ گئے بہت سارے مسلمان خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ نیویارک کے مشرقی ضلع میں واقع ایک فیڈرل عدالت نے سنیچر وار کو مہاجرین کو ان کے واپس بھیجنے کے سرکار کے فیصلے پر روک لگانے کا حکم جاری کردیا۔ عدالت کا ماننا ہے کہ اس سے انہیں نقصان پہنچے گا۔ یہ بھی دیکھنا ہے کہ آئینی نقطہ نظر سے یہ صحیح بھی ہے؟
(انل نریندر)

29 جنوری 2017

اس سفید آتنک سے بھاری تباہی

جموں و کشمیر میں سرحد پارکی دہشت الگ ہے لیکن جو یہ سفید دہشت ہے وہ ہمارے جوانوں پر قہر ڈھا رہی ہے۔ سفید دہشت یعنی برف نے کشمیر میں دو دنوں میں 22 لوگوں کی جان لے لی ہے۔ مرنے والوں میں 15 فوجی جوان اور شہری شامل ہیں اور ابھی یہ تعداد بڑھ سکتی ہے کیونکہ کئی دیگر علاقوں میں بھی برفیلی چٹانیں کھسکنے کے سبب فوجی چوکیوں اور لوگوں کے گھروں کو نقصان پہنچا ہے۔ وہاں ابھی تک راحت کی ٹیمیں نہیں پہنچ پائی ہیں۔ موصولہ اطلاع کے مطابق100 سے زیادہ گھر پوری طرح نیست و نابود ہوچکے ہیں۔ گریز سیکٹرمیں بدھوار کو ایک دن میں دو جگہوں پر چٹانوں نے فوج کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔ فوج کے مطابق اس طرح کے حادثے عام طور پر سیاچن میں ہوتے ہیں۔ حالانکہ سیاچن سمیت کشمیر میں اونچی پہاڑیوں جہاں زیادہ برفباری ہوتی ہے اور برفیلی تودے گرنے کے واقعات کو لیکرایس اوپی جاری کئے جاتے ہیں۔ ایسے میں معمولاتی گشت کو کچھ وقت کے لئے ملتوی کئے جانے کی بھی سہولت ہے لیکن برفباری کو لیکر صحیح اندازہ یا قبل از وقت معلومات نہ ہونے کی بھول ہوجاتی ہے جس کی زد میں گشتی ٹیم آگئی۔ حالانکہ محکمہ موسمیات برفباری وغیرہ کو لیکر کچھ معلومات دیتا ہے، لیکن ابھی علاقہ وار اور ضرورت کے مطابق نہیں ہے۔ اسی طرح پہاڑوں میں فوج کے جو کیمپ ہوتے ہیں وہ ڈھلان پر ہوتے ہیں یہاں برفیلے تودے گرنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ 900 جوان شہید ہوچکے ہیں ۔ جموں و کشمیر کے سیاچن علاقہ میں 1984 ء سے لیکر اب تک بدھوار کو ہی گندربل کے سون مرگ علاقہ میں تودہ گرنے سے فوج کا ایک افسر شہید ہوگیا۔ قریب 8 جوانوں کو بچا لیا گیا۔ دراصل علاقے کا کیمپ ایک پہاڑی کے نیچے تھے۔ بدھ کو برف کا ایک بڑا حصہ فوج کے کیمپ پر آ گرا۔ سون مرگ کے پہاڑی علاقہ میں پچھلے دو ہفتے سے زبردست برفباری ہورہی ہے۔ قریب 6 سے7 فٹ برف گری ہے۔ پچھلے چار دنوں میں بھاری برفباری کے بعد برفیلے تودوں کے گرنے سے اب تک 7شہریوں کی بھی موت ہوچکی ہے۔ جمعرات کو بارہمولہ سیکٹر کے اڑی علاقہ میں 61 سال کے ایک شخص کی موت ہوگئی۔ محکمہ موسمیات نے جموں وکشمیر ، ہماچل پردیش، اتراکھنڈ میں اگلے 24گھنٹوں میں بھاری برفباری اوربرفیلے طوفان اور بارش کی وارننگ دی ہے۔ کہیں کہیں برفباری کے ساتھ ہی 45 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے آندھی اور ژالہ باری اور بھاری بارش ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ کپواڑہ، باندی پورہ، اننت ناگ، بارہمولہ ،گاندر بل ، کل گاؤں، بڑگاؤں، پونچھ، راجوری، رام بن،ریاسی ،ڈوڈا، کشواڑ اور کارگل اضلاع میں برفیلے طوفان کا خطرہ ہے۔ ہم ان بہادر جوانوں کے یوں شہید ہونے پر اپنا غم ظاہر کرتے ہیں اور ان کے کنبے کے اس دکھ کی گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس سفید دہشت نے تو بھاری تباہی مچا رکھی ہے۔
(انل نریندر)

گووا اسمبلی چناؤ میں کئی رخی مقابلہ کا امکان

گووا میں 4 فروری کو اسمبلی کے لئے ووٹ پڑیں گے ، گووا میں اس مرتبہ کانگریس کی زیادہ امیدیں اس بات پر مرکوز ہیں کہ کئی رخی چناوی مقابلے میں کسی پارٹی کو اکثریت نہیں ملے گی۔ کانگریس کا اندازہ ہے کہ عام آدمی پارٹی اور آر ایس ایس سے الگ ہوا گروپ جو شیو سینا کیساتھ مل کر چناؤ لڑ رہا ہے ، چناؤ میں کافی اثر انداز ثابت ہوگا۔ ان پارٹیوں نے کھنن جوا گھر (کیسینو)کرپشن اور گووا کے سنمان کو اشو بنایا ہے جس پر کانگریس اور بھاجپا کوئی خاص جواب نہیں دے رہی ہیں۔ دراصل کرپشن کے الزام کانگریس کی پرانی حکومتوں اور بھاجپا سرکاروں پر یکساں طور پر لگتے رہے ہیں۔ اندرونی گروپ بندی کی شکار کانگریس خاص طور سے مقابلہ کرنے کے بجائے الگ الگ گروپوں میں تقسیم ہوکر چناؤ لڑ رہی ہے۔ بھاجپا کے اترپردیش چیف ونے تندولکر نے گووا کی اگلی سرکار کے منوہر پاریکر کی لیڈر شپ میں کام کرنے کے قومی صدر امت شاہ کے بیان کے ایک دن بعد دعوی کیا کہ لوگ چاہتے ہیں کہ وزیر دفاع منوہر پاریکر کو گووا واپس لایا جائے۔ تندولکر نے دعوی کیا ہے کہ آر ایس ایس چناؤ کے لئے بھاجپا کے ساتھ ہے۔ 40 ممبری گووا اسمبلی کے لئے 4 فروری کو پولنگ ہونی ہے۔ بھاجپا اور منوہر پاریکر نے اپنی پوری طاقت جھونک دی ہے لیکن انہیں اپنے پرانے ساتھیوں کی وجہ سے پسینہ آرہا ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر کمپین بھی کررہے ہیں کہ بھاجپا نے گووا میں اپنے ہی وزیر اعلی لکشمی کانت پرسیکر کو مسترد کردیا ہے اور وہ انہیں وزیر اعلی کا چہرہ بتاکر ووٹ نہیں مانگ رہی ہے۔ کانگریس محض چناوی حساب کتاب میں ہے اور اس کو اکثریت نہیں ملے گی اس لئے چھوٹی پارٹیوں کی اہمیت رہے گی اور جوڑ توڑ سے حکومت بنے گی۔ عام آدمی پارٹی بھی گووا میں ٹکر دے گی۔ پارٹی کے کنوینر اروند کیجریوال نے دعوی کیا کہ بھاجپا وزیر اعلی عہدے کے دعویدار ایلوس گومس کی مقبولیت سے گھبرا گئی ہے اس لئے بھگوا پارٹی منوہر پاریکر کو ان کی آبائی ریاست میں واپس لانے کے اشارہ دے رہی ہے۔ ایلوس ایک ذمہ داری، ایماندار صاف کردار والے اور انتظامی تجربہ رکھنے والے انسان ہیں۔ کیجریوال نے الزام لگایا ہے کہ کانگریس اور بھاجپا دونوں ہی لوگوں کی امیدوں پر کھرا اترنے میں ناکام رہی ہیں۔ ایسی حالت میں عاپ ووٹروں کے لئے ایک باقاعدہ متبادل بن کر سامنے آئی ہے اور ووٹر اب اس کے ساتھ آرہے ہیں۔ کانگریس نے گووا میں طلبا کو ہر مہینے 5 لٹر مفت پیٹرول دینے کا وعدہ کیا ہے اس کے ذریعے پارٹی نوجوانوں اور نئے ووٹروں کو لبھانا چاہتی ہے اس لئے اس نے یوتھ لیڈرجوتر ادتیہ سندھیا سے چناؤ منشور جاری کروایا ہے اس کا ووٹروں پر کتنا اثر ہوتا ہے یہ 4 فروری کو پتہ چل جائے گا۔ بھاجپا کیلئے گووا میں دوبارہ سرکار بنانا ٹیڑھی کھیر نظر آرہی ہے اور اپنے ہی گھر میں وہ گھری ہوئی ہے۔
(انل نریندر)

بند-کھلا-بند -ہرمز پر سسپنس

ہرمز جل ڈروم سنٹرل کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ انتہا پر پہنچ رہا ہے ۔امریکہ اور ایران کے بیچ پچھلے قریب 50 دنوں سے جاری کشیدگ...