Translater

15 اگست 2026

بھاگ ٹرمپ بھاگ !

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ پچھلے ماہ ترکیہ میں نیٹو سمٹ سے روانہ ہوتے وقت انہوں نے چپ چاپ جیمس بانڈ اسٹائل میں جہاز بدل لیا تھا ایسا امکانی خطرے کی وجہ سے کیا گیاتھا۔ ٹرمپ نے منگلوار کو اخبارنویسوں سے بات چیت میں کہا کہ میں سیکریٹ سروس اور فوج کی بات مانتا ہوں۔ وہ چاہتے تھے کہ میں دوسرے پرواز اور دوسرے جہاز سے جاؤں ۔مجھے وہی کرنا تھاجو انہوں نے کہا ۔ٹرمپ نے یہ اعتراف کیا کہ وہ چھپ کر اپنے جہاز ایئر فورس 1 سے بھاگ کر ایک دوسرے جہاز سے نکلے ۔یہ بتانا ضروری ہے کہ چھپ کر بھاگنے سے پہلے انہوں نے نہ تو مارکو روبیو ، دیگر سینئر حکام کو جہازبدلنے کا پلان بتایا اور نہ ہی ان کے ساتھ گئے اخباروں کو۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان کی نظروں میں ان کی قیمت ہے ؟ خیر میں آپ کو پرانی کہانی بتاتا ہوں کہ کیا ہوا؟ ڈونلڈ ٹرمپ پچھلے ماہ ترکیہ نیٹو سمٹ میں گئے تھے ۔نیٹو سمٹ سے نکلتے وقت ایران کے امکانی خطرے کو دیکھتے ہوئے ٹرمپ نے چپ چاپ طریقہ سے جہاز بدل لیا تھا ۔ واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ٹیلی ویژن کیمروں کی موجودگی میں ایئر فورس 1 میں سوار ہوئے پھر انہیں چپکے سے ایک اونچے ایئر پورٹ کیٹرنگ (ٹرک میں لے جایا گیا اور ایک دیگر فوجی جہاز تک پہنچایا گیا ۔اس دوران ایئر فورس 1 جہاز میں سوار اخبار نویسوں اور وائٹ ہاؤس کے کچھ ملازمین و امریکی نائب صدر مارکو روبیو کو اس کی جانکاری تک نہیں تھی ۔حکام نے سی بی ایس نیوز و وی بی سی کو بتایا کہ امریکہ نے جہاز پر میزائل داغنے کی امریکہ کی بھروسہ مند دھمکی کا پتایا لگایا تھا حالانکہ وائٹ ہاؤس نے اس خفیہ طریقہ سے جہاز بدلنے کی تصدیق نہیں کی ۔حالانکہ بعد میں خود ٹرمپ نے اس کی تصدیق کر دی۔ آخری وقت میں جہاز بدلنے کے اس فیصلے سے سوال اٹھے ہیں۔ کیا جس جہاز کو ریپلیس کے لئے استعمال کیا گیا تھااس میں موجود لوگوں کو خطرے میں ہی چھوڑ دیا گیا تھا؟ جہاز میں سوار اخبار نویسوں اور وائٹ ہاؤس کے حکام کو پتہ تک نہیں تھا کہ امکانی ایرانی خطرے کے جواب میں ایک پلان کے تحت امریکی صدر کو وہاں سے چپ چاپ نکال لیا گیا تھا ۔ٹرمپ پہلے کہہ چکے ہیں کہ انقرا میں ہوئی سمٹ کے دوران وہ ایران کے ٹارگیٹ نمبر 1 تھے ۔ٹرمپ نے منگلوارکو کہا میرا اندازہ ہے کہ کوئی خطرہ تھا میں نے اس کے بارے میں زیادہ جانکاری نہیں مانگی ۔مجھے بہت ساری دھمکیاں ملتی ہیں ۔جن کے بارے میںآپ کو شاید پتہ بھی نہیں ہے ۔پچھلے ماہ بھی یہ خفیہ کاروائی تب ہوئی جب جنگ ختم کرنے کی بات چیت ٹوٹنے کے بعدا مریکہ نے ایران پر پھر سے حملے شروع کئے تھے ۔اس کے ایک دن بعد ٹرمپ نے جہاز بدلاتھا۔ٹرمپ قطر کی طرف سے دیے گئے جہاز بوئنگ 747-8سے ترکیہ پہنچے تھے ۔لیکن انہوں نے کہا کہ وہ پرانے ایئر فورس 1 سے واپس جائیں گے ۔8 جولائی کو انہوں نے کیسے ڈر کے مارے جہاز بدلا۔یہ سب نے دیکھا ہی ہے ۔اخبار کے مطابق وزیر دفاع ہیک سیتھ بھی الگ سے باہری سیڑھیوں کے ذریعے سی -32Aمیں سوار ہوئے تھے اُدھر ایئر فورس 1 پر بیٹھے اخبار نویسوں سے کہا گیا کہ وہ کھڑکیوں کے پردے میں بند رکھیں ۔شاید اس لئے کہ وہ باہر کا منظر نہ دیکھ سکیں ۔وہ یہ نہ دیکھ سکیں کہ صدر ٹرمپ جہاز کے خفیہ دروازے سے جہاز چھوڑ چکے ہیں اس لئے کہا بھاگ ٹرمپ بھاگ ۔
(انل نریندر)

13 اگست 2026

ہرمز میں امریکی جہازوں کی تعیناتی

امریکہ نے ایران پر دبا ؤ بڑھاتے ہوئے مڈل ایسٹ میں 20 سے زیادہ جنگی بیڑے تعینات کر دیے ہیں اور ہرمز جل ڈروم سنٹرل میں ناکہ بندی سخت کر دی ہے ۔ایران نے آبی راستے کو کھولنے کے لئے معاوضہ ،پانبدی ہٹانے اور ناکہ بندی ختم کرنے جیسی شرطیں رکھی ہیں ۔عمان کے ساتھ امکانی معاہدہ آخری مرحلے میں ہے ، لیکن دونوں دیشوں کے بیچ کشیدگی ابھی بھی انتہا بنی ہوئی ہے ۔امریکہ نے مڈل ایسٹ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھاتے ہوئے 20 سے زیادہ جنگی بیڑے تعینات کر دیے ہیں ۔یہ قدم ایران پر ناکابندی کو سختی سے لاگو کرنے میں ہرمز میں بڑھتی کشیدگی کے بیچ اٹھایاگیا ہے ، جہاں کچے تیل سپلائی کی سب سے اہم لائن گزرتی ہے ۔امریکی سنٹرل کمانڈ ،سیٹکام ) نے پیر کے روز ایکس پر لوڈ کئے ایک پوسٹ میں بتایا کہ یہ جنگی بیڑا سیدھے طور پر ایران کے خلاف لگائے گئے بلاکڈ کو لاگو کرنے کے مشن میں لگے ہوئے ہیں ۔تعینات جہازوں میں امریکی بحریہ کا ڈیسٹ ٹو ڈائر یو ایس ایس راس بھی شامل ہے ۔جس کے ذریعے سعودی نگرانی اور انٹرویشن آپریشن چل رہے ہیں ۔سیٹکام نے اسی کی تصویر شیئر کی تھی ۔سنٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ 9 اگست تک 55 کمرشیل جہازوں کو راستہ بدلنے پر مجبور کیا گیا تھا ۔دو جہازوں کو روکا گیا اور اس پر چڑھ کر جانچ کی گئی یہ صاف اشارہ ہے کہ امریکہ صرف وارننگ نہیں دے رہا ہے بلکہ سیدھے سمندر میں اپنا کنٹرو ل کرنے کی کوشش کررہا ہے ۔اُدھر ایران امریکی جنگ میں سب سے بڑی لیکن نظر انداز یان بیج ٹریجڈیوں میں سے ایک سمندر کے بیچ پھنسے ہزاروں ملاح ہیں ۔اقوام متحدہ کی سمندری ایجنسی(آئی ایم او) کے مطابق قریب 6 ہزار ملاح اب بھی خلیج میں جہازوں پر پھنسے ہوئے ہیں کئی ملاح تو 4 ماہ سے گھر بھی نہیں لوٹ پائے ہیں ۔میں یو ایس ابراہم لنکن کے بارے میں ایک ایسی رپورٹ پڑھ رہا تھا اس میں بتایا گیا تھا کہ پچھلے تقریباً 200 دنوں سے زیادہ عرصہ سے یہ سمندری جہاز سمندر میں ہے جہاز کے اندر اب کھانے کی قلت ہو گئی ہے ۔دوائیں کم پڑ گئی ہیں ۔ٹوائلٹ خراب ہو چکے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔جہاز کے ڈاکٹر اب کہنے لگے ہیں کہ اگر جلد یہ فوجی گھر نہیں لوٹے تو راستے میں ہی کئی ذہنی اذیت کے شکار ہو جائیں گے ۔ویسے بھی دیکھاجائے جب لنکن جہاز میں ایسی خوفناک صورتحال بنی ہوئی ہے تواس پر تعینات تقریباً پانچ ہزار فوجی جنگ کیسے لڑیں گے ؟ کئی ملاحوں کا باہری رابطہ تقریباً ٹوٹ چکا ہے ۔انہیں ہر کچھ دن میں صرف تیس منٹ انٹرنیٹ ملتا ہے ۔کچھ جہازوں پر محدود راشن ہونے سے ملاح دن میں صرف ایک بار چاول اور دال کھا رہے ہیں ۔لگاتار میزائل اورڈرون حملے کے خوف میں نیند بھی پوری طرح نہیں لے پارہے ہیں ۔کئی لوگ اس تیاری کے ساتھ سوتے ہیں کہ حملہ ہوتے ہی بھاگ سکیں ۔ماہرین کے مطابق ملاح جہاز کو نہیں چھوڑ سکتے ۔محفوظ اخراج بے حد مشکل ہے اورکئی ملاح قلیل المدتی معاہدے پر کام کررہے ہیں ۔انہیں ڈر ہے کہ اگر وہ خطرناک ڈیوٹی چھوڑنے کی مانگ کرتے ہیں تو انہیں دوبارہ نوکری نہیں ملے گی ۔جنگ کے بیچ پھنسے ملاحوں کی ذہنی صحت اور نیند اور اقتصادی حالت پر بھی برا اثر پڑا ہے ۔جنگ کی شروعات میں 36 سے 38 ہندوستانی جہازوں پر 100 ہندوستانی ملاح ہرمز کے آس پاس پھنس گئے تھے ۔بعد میں زیادہ تر جہاز نکل گئے ۔ذرائع کے مطابق 125 ہندوستانی ملاح ابھی بھی ہندوستانی جہازوں پر خلیج فارس میں موجود ہیں ۔
(انل نریندر)

11 اگست 2026

اور اب اسلامی نیٹو!

حال ہی میں پاکستان ، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ پر دستخط ہوئے ہیں جس کے تحت اگر تینوں میں سے کسی ایک دیش پر حملہ ہوتا ہے تو اسے تینوں پر حملہ ماناجائے گا ۔اس معاہدے کا مقصد ڈیفنس اشتراک بڑھانا ،جوائنٹ سیکورٹی حکمت عملی بنانا اور خطہ میں بڑھتی کشیدگی کے بیچ اجتماعی طاقت دکھانا ہے ۔تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ یہ اتحاد مغربی ایشیا میں بدلتے حالات ،خاص طور پر ایران ،امریکہ اور اسرائیل کے مابین بڑھتے ٹکراؤ کے درمیان ایک نئے پاور بلاک کی شکل میں ابھر سکتا ہے ۔اسلامی نیٹو مسلم اکثریتی ملکوں کے بیچ ایک مجوزہ یا غیر خانہ پوری فوجی اتحاد کو دیا نام ہے جس کا موازنہ مغربی ممالک کی فوجی انجمن نیٹو سے کیاجاتا ہے ۔ اس معاہدے کے پیچھے اہم رول سعودی عرب کا ہے ۔وہ ایک طرف ایران کے حملوں سے پرشان ہے اور دوسری طرف یمن کے حوثیوں کا تعلق زبردست لڑائی چھڑنے سے ہے ۔ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں خلیجی سیکٹر میں جہاز رانی میں رکاوٹ ڈالنے اور لڑائی کو پورے خلیجی خطہ میں پھیلنے کے اندیشات نے سعودی عرب کی حفاظتی تشویشات بڑھا دی ہیں ۔دہائیوں تک ریاض اپنی حفاظت کے لئے خاص طور سے امریکہ پر منحصر تھا لیکن 28 فروری کے بعداس نے دیکھ لیا کہ امریکہ تو اپنے حفاظتی اڈوں کو بھی بچا نہیں پارہا ہے وہ سعودی عرب کو کیسے بچائے گا ۔رہا سوال پاکستان کا تو سعودی عرب کا پہلے سے ہی پاکستان سے دفاعی معاہدہ ہوا ہوا ہے ۔لیکن کیا پاکستان سعودی عرب کو ایرانی میزائلوں اور ڈرون سے بچا سکا ؟ کیا پاکستان سعودی عرب پر حملہ ہونے پر ایران پر حملہ کر سکتا ہے؟ یہ سب ڈرامہ بنا ہوا ہے ۔رہا سوال اسرائیل اور امریکہ کا تو اسرائیل اس معاہدے کی جم کر مخالفت کررہا ہے اور اسے اپنے لئے خطرہ مانتا ہے ۔ سوال یہ بھی پوچھا جانا چاہیے کہ اسرائیل سعودی یا ترکیہ پر حملہ کرتا ہے تو کیا پاک فوجی چیف جنرل عاصم منیر میں اتنی ہمت ہے کہ وہ امریکہ کے خلاف جاکر اسرائیل پر حملہ کرے ؟ یہ صرف پیسے اینٹھنے کا کھیل ہے ۔پھکڑ ہوا پاکستان کہیں سے بھی بھیک مانگنے کو تیار ہے ۔اور اس کے عوض میں جو چاہے وعدہ کروا لو ؟ رہا سوال ایران کا تو صدر مسعود پزشکیا ن نے مسلم اتحاد کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ شیعہ سنی کو ساتھ رہنا چاہیے ۔پزشکیا ن نے کہا امریکہ اور اسرائیل مل کر خلیج فارس کے دیشوں کو ایران کے خلاف کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔قابل غور بات یہ ہے سعودی ،ترکیہ اور پاکستان تینوں ہی ملک سنی اکثریتی ہیں ۔وہیں ایران شیعہ ملک ہے رہا یہ بھارت کے لئے تشویش کی بات ہے ؟ تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ اس ڈیفنس معاہدے کا بھارت پر سیدھے طور پر کوئی اثر نہیں ہوگا ۔ایسا اس لئے کیوں کہ سعودی عرب پہلے بھی کہتا رہا ہے کہ پاکستان ہمارا اہم ترین حکمت عملی ساجھیدار ہے لیکن کبھی اس نے بھارت سے جنگ کے موقع پر ساتھ نہیں دیا ۔ جہاں تک ترکیہ کا سوا ل ہے وہ تو آپریشن سندھور میں بھی کھلے عام پاکستان کے ساتھ تھا اور آگے بھی رہے گا ۔بھارت کے لئے تشویش کی بات نہیں ہے کیوںکہ بھارت ڈیفنس صلاحیت میں تینوں ملکوں سے آگے ہے ۔
(انل نریندر)

کاکروچ پیچھے نہیں ہٹیں گے

سرکار کی جانب سے 25 جولائی کو کئے گئے وعدوں پر کاروائی نہ ہونے پر کاکروچ پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اب پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔نیٹ پیپر لیک معا...